Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

حیدر آفندی بڑی بے قراری سے بار بار ہلکی پھلکی بارش کے باوجود کی کا چکر لگا رہے تھے _ بے قراری تو راشدہ بیگم اور بڑی سرکار کو بھی تھی مگر تینوں کی بے قراری میں بہت فرق تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر فون دی کو اپنے لاڈلے بیٹے کی اور محبت کی نشانی سے ملنے کی بے قراری تھی وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ ان کی عدن کی جھلک ان کے بیٹے میں نظر آتی ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بڑی سرکار کو جائیداد میں یوشع کے علاوہ کوئی دوسرا حقدار پسند نہ تھا
وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ کیا وہ جائیداد کے لیے آیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
راشدہ بیگم کو بے قراری تھی کہ آج بیٹا آیا ہے تو کل ماں بھی آ سکتی ہے اور اگر ایک بار عدن اس حویلی میں آگئی تو ان کی کیا حیثیت رہ جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بے قراری ہی بے قراری تھی تینوں بار بار اپنی اپنی گھڑیوں پر لمحے گزرتے محسوس کر رہے تھے ۔
ایک خوش تھا تو دو اداس _
پھر جیسے یکدم وقت رک گیا ہو ۔جیسے ہی یوشع کی جیب کا ہارن سنائی دیا تینوں پر سکوت چھا گیا
یہ سب کیا ہے کیا آپ کے آنے پر ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
عکاشہ نے سجی سجائی حویلی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا اور یوشع کے اشارے پر جیپ سے باہر نکل آیا
نہیں ہمارے اتنے نصیب کہاں
یہ تو عدن کے بیٹے کے لئے ہے یوشع نے اپنے اور عکاشہ کے اوپر برستی پتیوں کو دیکھتے ہوئے جواب دیا
بلیو جینز سفید شرٹ
بازو پر لیدر کی جیکٹ ڈالے _ پاؤں میں جاگرز چہرے پر کچھ خوشی کچھ حیرانی کے تاثرات لئے وہ آگے بڑھ رہا تھا جبکہ حیدر آفندی کی نظر اس کی ایک ایک حرکت پر تھی ۔
یوشع نے محبت سے آگے بڑھ کر عکاشہ کو حیدر آفندی کے سامنے کھڑا کیا
(جیسے کہہ رہا ہو یہ لیں اپنی امانت میں نے وعدہ پورا کیا) ۔
باوجود شدید اختلاف کہ عکاشہ اپنے باپ کو پہلی بار اپنے سامنے دیکھ کر کنفیوز ہو گیا بلاشبہ حیدر آفندی کی شخصیت کسی کو بھی پہلی نظر میں متاثر کر سکتی تھی پھر عدن بی بی کس کھیت کی مولی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے دل میں سوچا
آپ کے ہاں مہمان کو ملنے کا فیشن نہیں
صرف دیکھنے پر ہی اکتفا کیا جاتا ہے۔حیدر آفندی کسی ٹرانس کی کیفیت میں تھے جب عکاشہ کی آواز پر چونکے ۔
عکاشہ صرف چند ماہ کا بچہ تھا جب بڑی سرکار کے ایک حکم پر وہ اسے اپنے سے دور کر آئے تھے اور اب وہ ان کے برابر سینہ تان کر کھڑا تھا ۔
حیدر نے آگے بڑھ کر عکاشہ کو گلے لگایا کیسے ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کافی دیر بعد بمشکل منہ سے نکلا ورنہ جذبات کا سیلاب اتنا تھا کہ صرف خاموشی بول رہی تھی ۔
اول تو آپ لوگ گلے ملتے نہیں اور اگر غلطی سے کسی کو گلے لگا لیں تو کیا اگلے کا دم نکال کر چھوڑتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
حیدر آفندی کی خود پر سخت گرفت محسوس کرتے ہوئے عکاشہ بڑبڑایا جبکہ یوشع نیچے کرکے ہنسنے لگا
خوش رہو
حیدر آفندی نے اسے اپنے سے جدا کیا ۔
اپنے گھر سے تو خوش ہی آیا ہوں اب آگے کا پتا نہیں ؟؟؟ عکاشہ نے کندھے اچکائے
اندر چلو _
حیدر نے عکاشہ کو راستہ دیا جبکہ یوشع بھی اس کے پیچھے چل پڑا ۔
تم نے آج مجھے بہت خوشی دی ہے جو میں نہ کر سکا وہ تم نے کر دیا ہے نہ چاہتے ہوئے بھی میں تمہارا شکرگزار ہوں یوشع جیسے ہی حیدر آفندی کے پاس سے گزرا وہ بول پڑے ۔
ایک وعدہ میں نے اپنے آپ سے کیا تھا وہ آج پورا کر دیا ہے۔
جبکہ ایک وعدہ عکاشہ کی ماں سے کر کے آیا ہوں اب سے پورا کرنا باقی ہے۔
یوشع کے جواب پر حیدر آفندی نے اسے چونک کر دیکھا جیسے پوچھ رہے ہوں کہ کیسا وعدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اب آپ کو عدن حیدر کی “دہلیز” پر لے کر جانا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح آج عکاشہ آپ کی دہلیز پر آیا ہے ۔
یوشع کہتا ہوا اندر بڑھ گیا جب کہ حیدر آفندی پیچھے زلزلوں کی زد میں تھے۔
🪄🪄🪄🪄🪄🪄
یار ویسے آج کل یہاں کتنی خاموشی ہے ناااااا لائبریری میں اسائنمنٹ بناتے ہوئے ماہم نے آہستہ آواز میں حرم سے کہا
میرے خیال سے لائبریری میں خاموشی ہی ہوتی ہے آج کل سے کیا مراد ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مصروف سے انداز میں کہتے حرم نے ایک نظر سامنے لگی وال کلاک کی طرف دیکھا ۔
میرا مطلب تھا عکاشہ کے بغیر کتنا سکون ہے ناااااا ماہم کو حرم پر سخت غصہ آیا ۔
مجھے تو اس کے بغیر بہت بوریت ہو رہی ہے
وہ ہوتا ہے تو کچھ نہ کچھ “ہوتا رہتا” ہے ۔
جس کی وجہ سےرونق رہتی ہے اب صرف پڑھ پڑھ کر سر درد رہ گیا ہے
حرم کی بات پر ماہم نے اسے گھورا۔
وہ کچھ نہ کچھ “کرتا رہتا” ہے “ہوتا نہیں” رہتا اگر ہوتا رہتا تو اب بھی اس کی غیر موجودگی میں ہو رہا ہوتا ماہم کا دل بالکل اسائنمنٹ بنانے کو نہیں کر رہا تھا ۔
تم کیوں فارغ بیٹھی ہو
کیا تمہارے نوٹس مکمل ہو گئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم کو فارغ پن سے کھیلتا دیکھ کر حرم نے تعجب سے پوچھا
اسائنمنٹ بنانے کو دل نہیں کر رہا ماہم نے بیزاریت سے جواب دیا
دل نہیں کر رہا ہے یا دل نہیں لگ رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حرم نے شرارت کی جس پر ماہم نے اسے ایک مکا رسید کیا
اچھا یہ بتاؤ کہ کل جو لوگ آئے تھے وہ کہیں ماہم نے گھر میں آئے مہمانوں کے بارے میں دریافت کیا۔
تم پریشان نہ ہو وہ میرے لئے آئے تھے حرم نے انتہائی آسانی سے ایک اہم بات اسے بتائی۔
مگر نانو تو کہہ رہیں تھیں کہ ماہم کو اپنا نام لینا عجیب لگا
ہاں ماما چاہتی تھی کہ میری جگہ تمہارا رشتہ ہو جائے مگر بابا نہیں مانے حرم نے انگلیوں میں پن گھماتے ہوئے جواب دیا
اور ممانی ایسا کیوں چاہ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم کو تجسس ہوا۔
تم چھوڑو ان باتوں کو اور یہ بتاؤ کہ کہیں تمہیں کوئی پسند تو نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حرم کے پوچھنے پر ماہم کو غصہ آگیا
میں دن رات تمہارے ساتھ ہی رہتی ہوں اور تم مجھ سے یوں پوچھ رہی ہو جیسے ماہم کے غصے پر حرم مسکرا دی۔
وہ بابا نے کہا تھا کہ تم سے پوچھ لوں۔ حالانکہ میں نے پہلے ہی بتا دیا تھا مگر وہ چاہتے تھے کہ میں پوچھ کر جواب دوں
تاکہ تمہارے ساتھ کسی قسم کی کوئی زیادتی نہ ہو۔
حرم کی وضاحت پر ماہم کو اپنے ماموں پر بہت پیار آیا ۔
ماں مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں ماہم کی آواز نم ہوگی۔
صرف ماموں سے کیا مراد ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں، حارث بھائی، دادو
تمہیں نظر نہیں آتے۔ حرم نے مصنوعی غصہ کیا
ابھی وہ دونوں آپس میں بحث کر رہیں تھیں کہ فائق نے ان کے قریب ٹیبل پر آکر اپنی کتابیں زور سے رکھیں ۔
تمہارا دوست آج کل نظر نہیں آرہا کچھ لوگ اسے بہت یاد کر رہے ہیں حرم نے شرارت سے ماہم کو دیکھا
کچھ لوگوں کو “اپنی شامت” بہت پسند ہے کیا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فائق نے مزاح کیا ۔
یہ بکواس کر رہی ہے میں نے ایسا کچھ نہیں کہا ماہم نے فوراً اپنی صفائی دی۔
وہ کچھ دنوں کے لیے گاؤں گیا ہے اب کی بار فائق نے حرم کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے جواب دیا۔
اللہ خیر کرے گاؤں سلامت رہے
حرم کی بات پر تینوں ہنسنے لگے تبھی لائبریرین نے ٹیبل بجایا
ششششششش _ چپ وہ تمہیں گھور رہی ہے فائق نے لائبریرین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا۔
لو جی اب یہ کسر رہ گئی تھی کہ لائبریرین بھی ہمیں گھورتیں حرم کی بات پر تینوں ایک بار پھر دبا دبا سا مسکرانے لگے
🪄🪄🪄🪄🪄
عُکاشہ نے جیسے ہی لاؤنچ میں قدم رکھا چاہنے کے باوجود بڑی سرکار اور راشدہ بیگم اس سے منہ نہ پھیر سکیں۔
یہ بڑی سرکار ہیں اور یہ میری ماما یوشع نے حیرت سے دیکھتیں بڑی سرکار اور اپنی ماں کا تعارف عکاشہ سے کروایا جس پر وہ سر ہلانے لگا۔
ماں نے کچھ تمیز بھی سکھائی ہے یا اس سے صرف یہ خوبصورتی ہی لی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بڑی سرکار کی بات پر اندر آتے حیدر آفندی کے اعصاب تنے وہیں عکاشہ مسکراتا ہوا ان کے قریب بیٹھ گیا جیسے دونوں میں بہت بے تکلفی ہو۔
خوبصورتی تو مجھے اپنی دادو سے وراثت میں ملی ہے میری ماما کہتی ہیں کہ “تم خوبصورتی اور حرکتوں میں بالکل اپنی دادو پر ہو ” عکاشہ کے جواب پر یوشع لفظ “حرکتوں” پر مسکرا دیا ۔
ہم سب انہیں ” بڑی سرکار” کے نامسے بلاتے ہیں تم بھی اسی نام سے بلاؤ یوشع نے عکاشہ کو تھوڑی آنکھیں دکھائیں۔ مجھے تو یہ کہیں سے بھی اتنی بڑی نہیں لگ رہیں
اچھی خاصی جوان ہیں۔
آپ ناراض کیوں نہیں ہوتیں _ ان لوگوں کے یوں ” بڑی سرکار” کے مخاطب کرنے پر ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے یوشع کی نقل اتاری یہ لقب مجھے تمہارے مرحوم دادا نے دیا تھا بڑی سرکار مسلسل عکاشہ کو دیکھ رہیں تھیں جو ان کے بالکل برابر بے نیازی سے بیٹھا ٹانگیں ہلا رہا تھا۔
خیر دادا کا تو بنتا تھا عکاشہ نے جس شرارت سے یہ بات کہی حیدر آفندی ، یوشع سمیت پہلی بار راشدہ بیگم بھی اپنی ہنسی چھپا نہ سکیں ۔
دیکھو لڑکے
بڑی سرکار نے عکاشہ کو مخاطب کیا ۔
میرا نام بقول میری ماما کے میرے بابا نے عکاشہ رکھا ہے آپ چاہیں تو اسی نام سے بلا سکتیں ہیں نہیں تو _ عکاشہ نے حیدر آفندی کی طرف دیکھا نہیں تو
بڑی سرکار کے ماتھے پر بل پڑے
نہیں تو عدن کا بیٹا کہہ لیں _ جو زیادہ مناسب لگتا ہے عکاشہ کی بات پر بڑی سرکار نے ایک غصیلی نظر یوشع پر ڈالی جو انہیں دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔
نام بھی اچھا ہے اور شکل بھی مگر تمیز نہیں ہے تم میں بڑی سرکار نے طنز کیا وہی تو سیکھنے آیا ہوں آپ پلیز اچھی طرح سکھا دیجئے گا میں نے سنا ہے جسے آپ تمیز سکھا دیں وہ مرتے دم تک بدتمیز نہیں ہوتا ۔
عکاشہ کے جواب پر یوشع نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے حیدر آفندی اور راشدہ بیگم کی طرف دیکھا جو اسے ہی گھور رہے تھے ۔
خیر گلے تو ملیں نااااا _ ہم زندگی میں پہلی بار مل رہے ہیں
عکاشہ نے اٹھ کر بڑی سرکار کو گلے لگایا ۔
پرفیوم کون سا لگاتیں ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟ بہت اچھا ہے عکاشہ نے پیچھے ہٹتے سرگوشی کی جس پر بڑی سرکار کے تیور بگڑ گئے۔
حق نواز چھوٹے کو مہمان خانہ دکھاؤ
یہ ذرا ہاتھ منہ دھو کر فریش ہو جائے پھر مل کر کھانا کھاتے ہیں حیدر آفندی کی آواز پر ایک ملازم فورن حاضر ہوا
عکاشہ نے جاتے جاتے راشدہ بیگم کو اپنے ساتھ لگایا اور ماتھے پر پیار کیا جس پر راشدہ بیگم کے ساتھ ساتھ لاؤنچ میں موجود ہر شخص حیران رہ گیا ۔
میں اپنی ماں کو ایسے ہی ملتا ہوں ۔ برا مت منائیے گا
عکاشہ کہتا ہوا ملازم کے ساتھ باہر نکل گیا جبکہ راشدہ بیگم کی آنکھیں نم ہو گئیں
انہیں آج تک یوشع کبھی ایسے نہیں ملا تھا۔ نہ اتنا مان اس نے بخشا تھا شاید بڑی سرکار کی تربیت تھی ۔عکاشہ کے جاتے ہی یوشع بھی اپنی جگہ سے اٹھا ۔
یوشع تم رکو
ہم نے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے بڑی سرکار کی آواز پر یوشع نے ایک گہرا سانس لیا جب کہ حیدر آفندی کے پیچھے پیچھے راشدہ بیگم بھی لانچ سے باہر نکل گئیں۔ 🪄🪄🪄🪄🪄 دیکھی تم نے تربیت عدن کی تربیت بولتی ہے اس کی غیر موجودگی میں بھی حیدر آفندی کے لہجے اور آنکھوں میں ایک غرور تھا وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے اپنے آپ کو دیکھ رہے تھے ۔
مجھے یوشع کی تربیت آپ ماں بیٹا نے کبھی کرنے ہی نہیں دی پھر اب گلہ کیسا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم بے ساختہ بول اٹھیں۔
بس کرو
تم ایک ناشکری عورت ہو _ اور آج میں کسی بحث کے موڈ میں نہیں ہوں ۔ جا کر کھانا لگواؤ مجھے آج بہت عرصے بعد بھوک لگی ہے _ حیدر آفندی کے حکم پر راشدہ بیگم نے ایک افسوس بھری نظر ان پر ڈالی اور کمرے سے باہر نکل گئی ۔ اپنے عکس کو آخری بار آئینے میں غور سے دیکھتے ہوئے وہ روم سے باہر جانے ہی لگے تھے کہ ان کے موبائل پر میسج ٹیون بجی۔ بغیر دیکھے بھی بتا سکتے تھے کہ یہ میسج کس کا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ پھر بھی مسکراتے ہوئے میسج پڑھا ۔ “عکاشہ خیریت سے پہنچ گیا ہے بڑی سرکار نے آپ پر زیادہ غصہ تو نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ “
عدن کے میسج پر حیدر نے انہیں کال کی جو پہلی بل پر ہی اٹھا لی گئی۔
آپ کو اپنے بیٹے کی زیادہ فکر ہے یا ہماری ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ایک مان سے پوچھا گیا
اس وقت بھی اور ہمیشہ _ آپ کی فکر مجھے زیادہ رہتی ہے عدن کے منہ سے وہ یہی سننا چاہتے تھے۔
آپ کو کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ میں اس وقت کیا سننا چاہ رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر کے پوچھنے پر عدن پھیکا سا مسکرا ئیں۔
میں آپ کو آپ سے زیادہ جانتی ہوں مگر فی الحال یہ بتا دیں کہ عکاشہ کے آنے سے حویلی میں کوئی گڑ بڑ تو نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن کو تشویش تھی
نہیں فی الحال تو کچھ نہیں ہوا اور اگر کچھ ہوگا تو میں سارا “ملبہ “یوشع پر ڈال دوں گا ۔
وہ جانے اور یہ حویلی مجھے تو اپنے بیٹے سے ملنا تھا جو میں نے مل لیا
حیدر کے لہجے میں ایک خوشی تھی جسے عدن نے واضح محسوس کیا ۔
آپ “ملبہ” ہمیشہ دوسروں پر کیوں ڈال دیتے ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن کے سوال پر حیدر کے چہرے سے خوشی ایک دم غائب ہوگئی ۔
کیا مطلب ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ وہ بات سمجھ کر بھی انجان بنے۔
کچھ نہیں بس ویسے ہی کہہ دیا تھا۔ آپ بتائیں بیٹے سے مل کر خوشی ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن پرانی باتوں کو دہرانا نہیں چاہتی تھی مگر پھر بھی زبان سے گلہ نکل ہی جاتا تھا
اب آپ بات کو بدل رہیں ہیں میں نے آپ سے کہا تھا کہ میں آپ کو آزاد کر دیتا ہوں مگر آپ باضد تھیں کہ آپ کو کچھ نہیں چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ آپ میرے نام ساتھ ہی ساری زندگی گزار دیں گئیں پھر اب کیوں بار بار مجھے میرے ضمیر کی عدالت میں کھڑا کر دیتی ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بولیں نااااا حیدر آفندی قدر سخت لہجے میں پوچھنے لگے تو عدن کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ سوری آفندی صاحب
عورت ہوں ناااااا _ وہ بھی کمزور دل والی اپنا خیال رکھیے گا اور عکاشہ کو جلد واپس بھیج دیجئے گا۔
عدن نے کہتے ہوئے فون بند کیا جبکہ حیدر آفندی کو اپنی سختی پر بہت غصہ آیا ۔
حیدر آپ کو میں کیسے بتاؤں کہ آپ ساتھ میں نے گزارہ نہیں کرنا تھا ۔
“کر تو لینا تھا تیرے ساتھ گزارا لیکن اب تیرے ساتھ بھی کرتے، تو گزارا کرتے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ” 🪄🪄🪄🪄🪄 یوشع تم کس کی اجازت سے اسے لینے گئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی سرکار نے پہلی بار یوشع کو اپنی عدالت میں کھڑا کیا۔ ہمیں تم پر بہت مان تھا جو آج تم نے توڑ دیا ہے ہم صرف تمہاری عزت کی خاطر سب کے سامنے خاموش رہے مگر _ بڑی سرکار کی بات پر یوشع نے مسکراتے ہوئے انہیں گلے لگایا پیچھے ہو جاؤ آج تم نے میرا دل جلا دیا ہے ۔ کیا ضرورت تھی ایک غیر عورت کے بچے کو حویلی لانے کی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میرا وارث صرف اور صرف “یوشع حیدر آفندی ” ہے میں اس لڑکے کو اپنے حیدر کا بیٹا نہیں مانتی۔ کیا پتا کس کا خون ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی سرکار کی زبان شعلے اگل رہی تھی
اچھا اچھا آپ غصہ نہ کریں میں ایک خاص مقصد کے لیے اسے حویلی لایا ہوں۔ آخر آپ کا بیٹا ہوں مذاق تھوڑی ہے _ یوشع کی بات پر جہاں بڑی سرکار نے اسے حیرت سے دیکھا وہیں ایک شخص دیوار ساتھ رکا۔ کیسا مقصد ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی سرکار نے یوشع کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا تھوڑا صبر کریں
سب کو معلوم ہو جائے گا اور مجھ پر اعتبار رکھیں میں آپ کا اعتبار کبھی نہیں توڑوں گا _ یوشع نے مسکراتے ہوئے بڑی سرکار کا ہاتھ عقیدت سے چوما۔ مجھے پہلے ہی یقین تھا میرا یوشع کچھ بھی میری مرضی یا مجھ سے پوچھے بغیر نہیں کرسکتا ۔ ٹھیک ہے جو تو کرنا چاہتا ہے کر مگر اس لڑکے کو حویلی سے جلدی رخصت کر دے ۔مجھے اس کا وجود زیادہ دیر یہاں برداشت نہیں بڑی سرکار نے پیار سے یوشع کے بال سنوارے۔
ایک بات اور بھی آپ سے کرنی تھی اس میں ہمارا بڑا فائدہ ہے یوشع نے موقع غنیمت جانا ۔
ہاں بولو بڑی سرکار نے ہمیشہ کی طرح اس کی حوصلہ افزائی کی۔
میں الیکشن لڑنا چاہتا ہوں جیسے ہی یوشع نے اپنی فرمائش بتائی بڑی سرکار کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
الیکشن بڑی سرکار نے زیر لب دہرایا
🪄🪄🪄🪄🪄
کھانے والی میز پر بہت سے کھانے سجے تھے جبکہ کھانے والے صرف چند لوگ
عکاشہ نے رنگ برنگے کھانوں پر ایک نظر ڈالتے ہوئے اپنی کرسی سنبھالی
بڑی سرکار ہمیشہ کی طرح سربراہی کرسی پر براجمان تھیں جبکہ حیدر آفندی کے سامنے یوشع اور اس کے برابر عکاشہ بیٹھا تھا
بھائی یار وہ کزن کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ جس کے چکر میں تم مجھے یہاں تک لائے ہو
عکاشہ کے سوال پر چاول کا چمچ منہ میں رکھتے ہوئے یوشع کو شدید پھندا لگا
کیا ہوا _ عکاشہ نے معصومیت سے کھانسی کرتے یوشع سے پوچھا بیوقوف انسان ابھی سب کے سامنے چپ کر جاؤ اور بعد میں تفصیل سے بات کرتے ہیں _ یوشع نے پانی کا گھونٹ بھرتے جواب دیا وہ جو تفصیل سے کریں گے وہ “بات” ہوگی تو قسم کہاں ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے یوشع کو مزید کھانے سے روکا
عکاشہ اب کوئی مزید بے وقوفی نہیں _ اپنا منہ بند کرو یوشع نے دانت پیستے ہوئے جواب دیا
بیٹا آپ کچھ لو حیدر نے عکاشہ کو کچھ نہ لیتے ہوئے دیکھ کر کہا ماما ٹھیک کہتی تھیں
آپ لوگ عجیب ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بیٹا کہتا ہے “منہ بند کرو” _ بند منہ ساتھ کیسے کھانا کھاؤں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ جبکہ باپ کہتا “کچھ لو ناااا” یعنی اتنے بڑے میز سے صرف “کچھ” لوں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
عُکاشہ نے اپنی کہنیاں میز پر رکھیں اور ہاتھوں کی V بنا کر اس پر اپنا منہ رکھ لیا ۔
یوشع نے عکاشہ کے تماشے پر اسے دیکھا اور مسکرایا ۔
داد دینے کا شکریہ مگر ابھی میں نے اپنا ڈرامہ شروع نہیں کیا ہے عکاشہ نے یوشع کے مسکرانے پر سرگوشی کی کمینے باز آجا ضروری نہیں کہ ایک ہی دن میں تو اپنا آپ سب کو دکھا دے یوشع نے اپنی پلیٹ میں کباب رکھتے ہوئے جواب دیا
میرا مطلب تھا کہ تم کھانا کھاؤ ایسے کیوں بیٹھے ہو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے اپنا جملہ درست کیا ۔
جی اچھا کوشش کرتا ہوں کہ “منہ بند” رکھ کر “کچھ کھا” سکوں
عکاشہ کے طنز پری حیدر اور یوشع نے ایک دوسرے کو دیکھا جبکہ بڑی سرکار نے نیپکن سے منہ صاف کیا۔
اسے کہتے ہیں تربیت “پروفیسر عدن حیدر” کی تربیت اس سے پہلے کہ بڑی سرکار طنز کرتے ہوئے کرسی چھوڑتیں عکاشہ کے جواب پر تیزی سے کھڑی ہوئیں۔
“اور اسے کہتے ہیں اصلیت __
بڑے لوگوں کی اصلیت “
🪄🪄🪄🪄🪄
جاری ہے