Do Dil By Amna Mehmood Readelle50150 Episode 29
Rate this Novel
Episode 29
یوشع تم اپنی زندگی میں اس لڑکی کو کیوں لائے ہو ۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم نے نفرت سے امثال کی طرف دیکھا
ماما آپ کو اس سے اتنی نفرت کیوں ہے ۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کے پوچھنے پر راشدہ بیگم ایک دم صوفے سے اٹھیں اور باہر جانے لگیں
آپ کہاں جا رہی ہیں _ بتائیں نااااا آخر کیا مسئلہ ہے اس سے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے راشدہ بیگم کا ہاتھ پکڑ کر روکتے ہوئے پوچھا مجھے اس لڑکی ساتھ مسئلہ نہیں مسائل ہیں۔ مجھے اس کے وجود سے ہی نفرت ہے راشدہ بیگم کا لہجہ زہر میں ڈوبا ہوا تھا
اماں سائیں سب سے پہلی بات تو یہ کہ آپ اسے لڑکی کہنا بند کریں ۔ اس کا نام امثال ہے ۔
امثال یوشع آفندی _ دوسرا جس لہجے میں آپ سے بڑی سرکار بات کرتی ہیں اور آپ کو وہ شدید برا لگتا ہے۔ تو کیا اسی لہجے میں آپ امثال سے بات کریں گی تو اسے اچھا لگے گا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کے آخری جملے پر راشدہ بیگم نے اسے شکایتی نظروں سے دیکھا “اُس” کی فکر ہے “ماں” کی نہیں راشدہ بیگم نے دکھ سے کہا
یہ چیز بالکل یہی چیز تھی جس نے بڑی سرکار سے بابا سائیں کو بدگمان کیا اور وہ عدن ماما کے قریب ہو گے ۔ آپ بھی وہی سب میرے ساتھ کر رہی ہیں اس طرح میں آپ سے دور ہو جاؤں گا کیوں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں آپ کا بیٹا ہوں “اُس” کا نہیں آپ کا خون ہو “اُس” کا نہیں پھر کیسے سوچ لیا کہ مجھے “اُس” کی فکر ہے آپ کی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
یوشع کی وضاحت پر کچھ دیر کے لیے راشدہ بیگم خاموش ہوگئیں۔
وہ تو جاھل ہے بقول آپ کے ماں جو تربیت کرتی ہے (یہ الگ ایشو ہے اچھی یا بری ) وہ اسے ملی ہی نہیں۔
اس کی مثال ایسے پودے کی ہے جس کا کوئی مالی ہی نہیں تو وہ پودا گھاس پھوس اور کانٹوں سے ہی بھرے گا نااااا۔ ۔۔۔۔۔؟
آپ اسے توجہ دیں وہ بھی بتول جیسی ہو جائے گی یوشع نے امثال کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
یہ بتول کبھی نہیں بن سکتی راشدہ بیگم کی بات پر یوشع نے اپنا سر جھکا لیا
جو باتیں آپ بڑی سرکار کے بارے میں کہتی ہیں کیا وہ اپنے بارے میں سننا پسند کریں گی ۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے سوالیہ نظروں سے دیکھا
میں بڑی سرکار نہیں ہوں تم کیوں مجھے ان ساتھ ملا رہے ہو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم نے فورا ٹوکا
آپ مانیں یا نہ مانیں مگر آپ بالکل بڑی سرکار کا “عکس” لگ رہی ہیں _ نہ اپنی ضد چھوڑنے کو تیار ہیں اور نہ بات ماننے کو یوشع نے افسوس کا اظہار کیا
تم اس لڑکی کو چھوڑ دو بس راشدہ بیگم نے ایک بار پھر تکرار کی
میرے خیال سے عدن ماما سے بابا کو کچھ خاص محبت نہیں تھی مگر بڑی سرکار کے بار بار کہنے پر وہ ضد میں آ گئے اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے ۔
جس محبت کو وہ ختم کرنا چاہتی تھیں۔ وہ مزید جڑ پکڑ گئی۔ اب آپ میرے ساتھ بھی ایسا ہی کر رہی ہے یوشع نے سمجھانے کی کوشش کی
مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ تمہیں آخر اس لڑکی میں نظر کیا آتا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
حیدر کی عدن ساتھ محبت پھر بھی سمجھ میں آتی تھی کیونکہ بہرحال وہ عورت میرے سے لاکھ درجے بہتر ہے مگر یہ راشدہ بیگم نے جملہ ادھورا چھوڑا
ٹھیک ہو جائے گی آہستہ آہستہ یوشع کے لہجے میں امید تھی
مطلب یہ کہ یہ لڑکی اب اس حدیلی کا حصہ ہے _ راشدہ بیگم نے بے یقینی سے پوچھا اس حویلی کا تو مجھے پتا نہیں مگر یہ اب آپ کے بیٹے کی ذات کا حصہ ہے یوشع کے حتمی لہجے پر راشدہ بیگم خاموش ہو گئیں۔
سمندر کے کنارے کھڑے ہو کر اس کی گہرائی کا اندازہ لگانا صرف بےوقوفی ہے ۔یہ بہت سمجھدار اور اچھی لڑکی ہے ۔
آپ یقین کریں آپ کی اس سے بہت اچھی دوستی ہو سکتی ہے اگر آپ کوشش کریں تو یوشع نے امید دلائی بدتمیز ہے راشدہ بیگم کا لہجہ اب کی بات قدرے نرم تھا
ہاں وہ تو ہے _ یوشع پہلی بار مسکرایا تھا جس پر اسے راشدہ بیگم نے مشکوک نظروں سے گھورا دیکھی جو غلطی ہے “اُس” میں وہ مان تو رہا ہوں اب بھی آپ مشکوک نظروں سے دیکھ رہی ہیں یوشع راشدہ بیگم کی طرف دیکھ کر کھلکھلا کر ہنس دیا
“اِسے” کہو کہ مجھ سے بدتمیزی نہ کیا کرے اور اپنے پرانے رویے کی معافی مانگے تو پھر صرف تمہارے لئے میں کوشش کروں گی۔۔۔۔۔؟ راشدہ بیگم کی بات پر یوشع نے سکھ کا سانس لیا
(چلو شکر ہے اماں سائیں اور بڑی سرکار تو مان گئیں ہیں۔ اب صرف امثال بچی ہے ۔ یوشع نے دل میں خود کو تسلی دی )
چلیں ٹھیک ہے _ یوشع نے فورا حامی بھری تو پھر جگاؤ ایسے اور بولو کہ مجھ سے معافی مانگی ابھی اسی وقت راشدہ بیگم کی فرمائش پر یوشع نے ایک نظر گھڑی کی طرف دیکھا جیسے جتلا رہا ہوں کہ “وقت تو دیکھیں “۔۔۔۔؟؟؟
کیوں اب “اُس” کی نیند خراب ہونے کا تمہیں زیادہ خیال ہے ماں کی بات سے ۔۔۔۔۔؟؟ راشدہ بیگم نے پھر طنز کیا
آپ خود جگا لیں اور کہہ دیں جو بھی کہنا ہے _ یوشع صوفے پر ٹیک لگا کر نیم دراز ہوا اور اگر اس لڑکی نے میرے ساتھ بدتمیزی کی تو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم نے پوچھا تو میں دیکھ لوں گا۔ یہاں پر ہی ہوں۔ آپ بے فکر رہیں۔ (جب کے اندر یوشع کا دل پریشان تھا ۔ ابھی اس نے امثال کو اپنے طریقے سے سمجھانا تھا اب رات کے اس پہر ایک نیا ڈرامہ لگے گا ) یوشع نے مسکراتے ہوئے سوچا اور ماں کا “مان” رکھا ۔ اٹھو لڑکی اگر اس حویلی میں اور خاص طور پر اس کمرے میں رہنا ہے تو مجھ سے معافی مانگو راشدہ بیگم کے دو تین بار ہلانے پر امثال نے اپنی نیند سے بوجھل آنکھیں کھولیں سمجھ تو کچھ نہ آیا کہ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔؟؟؟ اسی لیے اس نے نا سمجھی سے راشدہ بیگم کی طرف دیکھا
زیادہ ڈرامہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے مجھ سے معافی مانگو ابھی اسی وقت راشدہ بیگم کو یقین تھا کہ امثال اب بدتمیزی کرے گی تو وہ یوشع سے اسے ذلیل کرا کر اپنی بےعزتی کا بدلہ لیں گئی۔
معافی آئندہ نہیں کروں گی خمار آلودہ لہجے میں کہتی ہوں امثال دوبارہ کمبل میں گھس گئی جب کہ راشدہ بیگم نے بے یقینی سے یوشع کی طرف دیکھا جو کندھے اچکا گیا
جیسے کہہ رہا ہوں اب میں نے تو کچھ نہیں کیا ۔۔۔۔؟؟؟ سب آپ کے سامنے ہے ۔
یہ لڑکی بہت چالاک ہے تمہاری وجہ سے اس سے معافی مانگی ہے ورنہ اس کی زبان زمین پر لٹک رہی ہوتی ہے _ راستہ بیگم نے بدحواسی سے فورا کہا میں نے کہا تھا نااااا کہ یہ بہت سمجھ دار ہے۔ “اُس” نے پہل کی ہے اب آپ بھی اپنے بڑے ہونے کا ثبوت دیں اور “اُسے” دل سے معاف کر دیں یوشع اب مطمئن انداز میں چلتا ہوا بیڈ کے پاس راستہ بیگم کے قریب ہوا ۔
امثال اٹھو _ یوشع نےکمبل پیچھے ہٹاتے ہوئے امثال سے کہا جس پر وہ سخت ناگوار موڈ ساتھ اٹھی ۔ اب کیا مسئلہ ہے معافی تو مانگ لی ہے ۔ سکون سے سونے بھی نہیں دیتے ۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال بڑ بڑاتی ہوئی بیڈ سے نیچے اتر آئی۔
دیکھا تم نے اسے _ راشدہ بیگم نے امثال کے بڑبڑانے پر یوشع کی طرف شکایتی نظروں سے دیکھا اسے دیکھنے کے لئے میرے پاس پوری رات پڑی ہے مگر آپ فی الحال بڑے ہونے کا ثبوت دیں اور اسے اپنے گلے لگائیں یوشع نے امثال کو بازو سے پکڑ کر راستہ بیگم کے آگے کیا ۔
راشدہ بیگم نے انتہائی بددلی کے ساتھ امثال کو اپنے گلے لگایا جب کہ امثال نے ان کے کان میں سرگوشی کی۔
آپ نے مجھے خود اپنے گلے ڈال لیا ہے _ امثال کی سرگوشیاں اتنی تھی کہ پاس کھڑا یوشع بھی باآسانی سن سکتا تھا یہ اور عکاشہ “پنگے” لئے بغیر رہ ہی نہیں سکتے یوشع نے امثال کے لبوں پر شرارتی مسکراہٹ دیکھ کر سوچا
🪄🪄🪄🪄🪄
نوید اٹھو دیکھو میں نے تمہارے لئے ناشتہ بنایا ہے وہ بھی اپنے ہاتھوں سے بتول کی آواز پر نوید ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا
بی بی آپ کو کس نے کہا تھا یہ سب کرنے کو۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے اپنی آنکھیں ملتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کیا
ایک تو تم یہ بی بی کہنا بند کرو دوسرا صبح جلدی اٹھا کرو مجھے صبح بھوک جلدی لگ جاتی ہے بتول کی بات پر نوید سر ہلاتا ہوا گود میں تکیہ رکھنے لگا مگر ناشتے پر نظر پڑتے ہی وہ چونکا
ٹرے میں بس بریڈ اور دو کپ چائے تھے۔ یہ ناشتہ ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید کو سمجھ نہیں آئی کہ تعریف کرے یا منع ۔۔۔۔؟؟؟
ہاں تو اور کیا ہے ۔۔۔۔۔؟؟ بتول نے ایک سلائس نوید کے آگے کرتے ہوئے جواب دیا
بی بی آپ آئندہ زحمت کیجئے گا میں آپ لوگوں والا ناشتہ نہیں کرتا مگر آج آپ کی خاطر کھا لیتا ہوں _ نوید نے ہچکچاتے ہوئے بریڈ کا سلائس پکڑا یہی نقصان ہوتا ہے محبت کرنے والے کو اگر تم نے مجھ سے محبت کی ہوتی تو احساس ہوتا کہ میں نے کتنی مشکل سے بریڈ گرم کر کے صرف تمہارے لیے چائے بنائی ہے بتول ناراض ہو کر رخ موڑ گئی۔
افففف بی بی اپ میں نے ایسا کیا کہا ہے صرف اپنی پسند بتائی ہے کہ میں یہ نہیں کھاتا اور آپ محبت کا طعنہ دینے لگی نوید نے فورا اپنے اور بتول کے درمیان سے ٹرے سائیڈ پر کی
بات مت کرو مجھ سے _ میں یوشع کو شکایت لگاؤں گی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول کی بات پر نوید نے اسے حیرت سے دیکھا اب آپ گھر کی باتیں یوشع سائیں کو بتایا کریں گی ۔۔۔۔۔؟؟؟ حد ہے نوید نے بتول کو اپنی طرف کھینچا
چھوڑو مجھے اتنی محبت سے بنائی ہے اور تم _ بتول شدید ناراض ہوئی۔ اچھا پی رہا ہوں نوید کہتا ہوا چائے کا کپ اٹھانے لگا مگر وہ دیکھنے سے چائے کم اور “فرنیچر پالش” زیادہ لگ رہی تھی ۔
دودھ نہیں ڈالا اس میں ۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے کب پکڑتے ہوئے پوچھا
ڈالا ہے _ بتول نے ناراض ناراض سا جواب دیا ۔ اور چینی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے کب کو غور سے دیکھا وہ بھی ڈالی ہے بتول نے ناراضگی سے کہا
بی بی میرے حساب سے اپنے صرف پتی ڈالی ہے وہ بھی دل کھول کر _ باقی دونوں اشیاء مجھے تو ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہیں نوید نے کب میں موجود چائے ہلائی
نوید تمہیں تو اب چچا سائیں ہی پوچھیں گے بتول غصے سے اٹھنے لگی مگر نوید نے اپنا بازو اس کے گرد حائل کر کے اسے روکا اچھا پہلے ایک گھونٹ آپ بھریں پھر میں پیوں گا کیوں کہ آپ کی جھوٹی چائے کا مزہ ہی کچھ اور ہوگا ۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے اپنی جان چھڑائی کیونکہ وہ چائے نہیں پیتا تھا اگر کبھی بخار کی وجہ سے پینی بھی پڑتی تو ہلکی سی پتی دودھ میں ڈال لیتا ۔ نوید نے اپنے دوسرے ہاتھ سے چائے کا کپ بتول کے لبوں ساتھ لگایا مگر ایک گھونٹ بھرتے ہی بتول کو شدید کرواہٹ کا احساس ہوا جبکہ نوید نے اس کے بدلتے تاثرات بہت غور سے دیکھے کیسی ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے اپنی مسکراہٹ دباتے ہوئے پوچھا بہت اچھی ہے ۔ آخر میں نے بنائی ہے ۔ اب تم اگر مجھ سے محبت کرتے ہو تو پی لو ورنہ رہنے دو بتول نے نوید کو دیکھتے ہوئے کہا جبکہ اس کی بات پر نوید کے ہوش اڑ گئے
کہاں پھنس گیا ہوں محبت کوئی کرے اور چائے کوئی پئے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے سوچتے ہوئے ایک ہی سانس میں سارا قہوہ اپنے اندر انڈیلا
مزہ آیا ۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول نے شرارت سے پوچھا مگر اس کے چہرے پر ایک انوکھی سی خوشی تھی مان تھا جو نوید نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا
بہت اب آپ کو میرے لئے روز ایسی چائے بنانا پڑے گی نوید کی فرمائش پر بتول نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا
بی بی “ذائقہ” معنی نہیں رکھتا میرے لئے آپ کی “محبت” معنی رکھتی ہے ۔ جائے ملا کرے گی نا روز _ ؟؟؟ نوید کے پوچھنے پر بتول نے ہنستے ہوئے سر ہلایا میٹھی چائے کے بھی اپنے ہی نخرے ہیں اگر پہلے کچھ میٹھا کھا لو تو غصے سے پھیکی ہوجاتی ہے نوید نے محبت سے بتول کا ماتھا چومتے ہوئے کہا
🪄🪄🪄🪄🪄
اگر عکاشہ کے سسرال والے بھی تاریخ دے دیتے تو میں اپنی ذمہ داریوں سے فارغ ہوتا حیدر آفندی نے عدن کے ہاتھ سے چائے کا کپ لیتے ہوئے کہا
اچھا آپ اتنی جلدی فارغ ہو کر کیا کریں گے۔۔۔۔۔؟؟ عدن نے دلچسپی سے پوچھا
“کیا کروں گا” سے کیا مطلب ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے حیدر آفندی نے پوچھا
میرا مطلب ہے کہ آپ فرصت میں کیا کریں گے کیا آپ مجھے دنیا کی سیر پر لے چلیں گے ۔۔۔۔۔؟؟ عدن کی فرمائش پر وہ مسکرائے
ہاں کبھی کبھی میرا بھی یہی دل کرتا ہے کہ ہم دونوں دوبارہ لندن چلیں۔ وہ بھی کیا دن تھے جب ہم ملے تھے ۔۔۔۔۔؟؟ حیدر آفندی نے حسرت سے آہ بھرتے ہوئے کہا
ہاں یہ تو ہے میرا بھی کبھی کبھی دل کرتا ہے اپنی محبت کو review کرنے کا عدن نے دلچسپی سے ان کے قریب بیٹھتے ہوئے کہا
پتہ نہیں سب کو ہی اپنی سٹوڈنٹس لائف اتنی اچھی لگتی ہے یا صرف میرے ساتھ ہی یہ مسئلہ ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ میں اپنی سٹوڈنٹس لائف کو بہت مس کرتا ہوں ۔
میرا نہیں خیال کہ سب ساتھ ایسا ہے _ عدن نے حیدر آفندی کو دیکھتے ہوئے جواب دیا آپ یہ بات کیسے کہہ سکتی ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی کے پوچھنے پر عدن نے عکاشہ کے کمرے کی طرف دیکھا یہ آپ کے سامنے ایک زندہ مثال موجود ہے۔ باپ اتنا لائق ماں خود یونی میں ٹیچر مگر جناب کو کسی چیز سے کوئی دلچسپی ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟
بس سارا دن سو لیا یا دوستوں ساتھ آوارہ گردی کر لی صاحبزادے فرما رہے تھے کہ “آپ کی یونی اگر مجھے نکال دے تو بڑا مزہ آئے گا” عدن نے افسوس سے سر ہلایا جب کہ حیدر آفندی ہنس دیے
اب آپ زیادہ ہی تعریف کر رہی ہیں اس کے باپ ورنہ سچ تو یہ ہے کہ وہ اس سے بھی زیادہ نالائق تھا وہ تو ایک پری مل لگی اور ہم پاس ہوگئے حیدرآفندی نے اپنی جوانی کے دن یاد کرتے ہوئے کہا
حیدر آپ میں اور عکاشہ میں بہت فرق ہے۔ ہاں البتہ یوشع مجھے آپ جیسا لگتا ہے _ عدن نے فورا سے تردید کی عدن سچ پوچھو تو یوشع مجھ سے زیادہ سمجھدار ہے۔ کبھی کبھی تو وہ مجھے حیران کر دیتا ہے ۔ جس طرح وہ بڑی سرکار کو سنبھالتا ہے میں کبھی اس طرح انھیں نہیں سمجھ سکا۔ اپنے سے جڑے ہر رشتے کا خیال رکھتا ہے ۔عدن وہ میری طرف کمزور یا جذباتی مرد نہیں ہے ۔اسے چیزوں کو اپنی جگہ بیلنس کرنا آتا ہے حیدر آفندی کے لہجے میں بیٹے کی محبت بول رہی تھی
یہی تو میں کہہ رہی ہوں کہ وہ بہت سمجھدار ہے ۔کچھ تو اسے آپ سے وراثت میں ملیں ہیں اور کچھ آپ کی بیوی نے اس کی بہت اچھی تربیت کی ہے ۔
میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں میں عکاشہ کی تربیت نہیں کر سکی کیونکہ میں تو خود محبت و توجہ کو ترستی رہی ہو ۔عدن نے اپنا سر جھکا لیا
ایک تو آپ ہر چیز کا الزام اپنے اوپر لے لیتی ہے۔ مجھے آپ کی یہ بات بہت بری لگتی ہے _ حیدر نے محبت سے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا عکاشہ لا ابالی ضرور ہے مگر اس میں کوئی ایسا عیب نہیں کہ آپ کہہ سکیں کہ آپ نے اس کی تربیت اچھی نہیں کی ۔ رہی بات یوشع کی تو سچ پوچھو وہ بڑی سرکار کے سائے میں پلا ہے بڑی سرکار نے اسے شروع سے ہی اپنے بہت قریب رکھا ہے ہر انسان کی شخصیت کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ہمارے ساتھ ان کا جو بھی رویہ ہے مگر یوشع کے لئے وہ ایک God mother ہے . میرے خیال سے شاید وہ اس دنیا کا واحد شخص ہے جو ان کی محبت کا “اکلوتا حقدار” ہے کبھی کبھی مجھے اپنے ہی بیٹے سے جیلسی ہونے لگتی ہے حیدر آفندی اپنی بات کے آخر میں پھیکا سا مسکرائے
حیدر آپ تو مجھے کبھی کبھی حیران ہی کر دیتے ہیں آپ اور یوشع کا بھلا کیا مقابلہ ۔۔۔۔۔؟؟؟
میری نظر میں آپ جیسی پرسنلٹی آپ کے بات کرنے کا طریقہ کپڑے پہننے کا ڈھنگ آپ کی مسکراہٹ اٹھنا بیٹھنا میں نے آج تک کسی میں نہیں دیکھا
یاد ہے یونی میں کتنی لڑکیاں آپ کے پیچھے پاگل تھیں اور آپ انھیں لفٹ ہی نہیں کراتے تھے عدن نے جوش سے حیدر کو یاد کرایا وہ اچھی رہ گئیں جو ان کے پیچھے تھیں کیونکہ جو ساتھ ہے وہ سچ میں پاگل ہو گئی ہے حیدر کی بجائے عکاشہ نے اندر داخل ہوتے ہوئے جواب دیا
کبھی تو انسانوں کی طرح گھر میں داخل ہوا کرو نہ سلام نہ دعا _ میں نے تو تمہیں باہر کے دروازے کی چابی دے کر غلطی کی ہے ۔ عدن غصے سے بولتی ہوئی کچن میں جانے لگی “جِن کی مرضی جہاں سے نکلے” ویسے میں نے آپ دونوں کو ڈسٹرب تو نہیں کیا عکاشہ نے حیدر کے برابر بیٹھتے ہوئے پوچھا
کیا بھی ہو تو تمہیں کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔۔۔؟؟ حیدر آفندی نے نارمل سے انداز میں جواب دیتے ہوئے اپنا موبائیل نکالا
فرق سارے مجھے ہی پڑتے ہیں حیدر صاحب آپ کی یہ لاڈلی بیگم ہر وقت مجھ پر بولتی رہتی ہے ۔ اس کام کو پورا کرو ذمہ داری سے کرو وقت پر کرو مگر آپ کے آگے بولتی بند ہو جاتی ہے حالانکہ آپ کون سا اپنا کام پورا کرتے ہیں۔۔۔۔۔؟؟؟
عکاشہ کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے حیدر آفندی خاموش ہو گے جب عدن نے کیچن سے اسے آواز لگائی ۔
“عکاشہ سوچ سمجھ کر بولا کرو”
دیکھا اس عورت کا “دوغلہ پن” خاوند کے لئے اور اور اکلوتے بیٹے کے لئے اور عکاشہ نے ٹانگیں سامنے پڑے ٹیبل پر رکھیں کیا بکواس کرتے جا رہے ہو۔ اب بس بھی کرو عدن نے کچن سے باہر آتے ہوئے اسے ڈانٹا
شادی کی تاریخ کیوں نہیں رکھی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
پیپرز کی تاریخ تو فورا رکھ دیتی ہیں چاہے سٹوڈنٹس کی تیاری ہو یا نہ ہو _ اور میری دفعہ آپ سے ایک تاریخ نہیں رکھی جا رہی واہ لیکچرار صاحبہ واہ عکاشہ نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا
زبیر صاحب نہیں مانے تو ہم کیا کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے عکاشہ کو عدن سے الجھتا دیکھ کر کہا
ہاں تو آپ کا کام تھا انہیں راضی کرنا آخر انہوں نے اپنی بیٹی دینی ہے کوئی ماچس کی ڈبیہ نہیں کہ ایک دفعہ مانگنے پر دے دیتے کہ یہ لے تو رکھ ۔ عکاشہ کے جواب پر عدن نے بے بسی سے حیدر آفندی کو دیکھا
انہیں کیا دیکھ رہی ہیں میری طرف دیکھ کر بات کریں عکاشہ نے عدن کے آگے اپنا ہاتھ ہلایا
تمہاری کیوں اتنی جان نکل رہی ہے۔ کل تک تو تمہیں یہ رشتہ ہی پسند نہیں تھا اور آج _ عدن نے غصے سے پوچھا میں کیوں مرنے لگا مگر وہ مس موسلادھار کو بہت جلدی ہے ہمارے گھر کا سکون برباد کرنے کی ظاہری سی بات ہے ہمارے گھر جیسا کہ کوئی گھر کہاں ہوگا ۔۔۔۔۔؟؟ عکاشہ نے مسکراتے ہوئے عدن کی طرف دیکھا
جھوٹ کم بولا کرو وہ بچی ایسی نہیں ہے عدن کہتی ہوئی جانے لگی جب تیزی سے عکاشہ نے انہیں پکڑ کر اپنے اور حیدر آفندی کے درمیان بیٹھایا
آپ اس کی آواز تو پہچانتی ہیں ناااا اس نے آپ کے لئے ایک میسج کر دیا ہے۔
پہلے وہ سن لیں پھر فیصلہ کیجئے گا ۔ بےشرم صرف میں ہی نہیں اوروں کی اولاد بھی ہے ۔ مگر آپ کو بس میں ہی نظر آتا ہوں _ عکاشہ نے کہتے ہوئے ماہم کا وائس نوٹ عدن کو سنایا جس پر عدن کے ساتھ ساتھ حیدر آفندی بھی حیران ہوئے ہاں اب کیا ہوا اب کیوں چپ کر گئی ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
میری مانیں تو اتنی بے شرم لڑکی کو بہو بنانے سے انکار کر دیں۔ ابھی بھی وقت ہے ورنہ کل جب آپ دونوں جب آپس میں لڑیں گی تو میں ایک سائیڈ پر ہو جاؤں گا عکاشہ ہاتھ جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا یہ اس کی آواز ہی نہیں ہے تم نے ضرور کچھ گڑبڑ کی ہوگی ۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے موبائل سائیڈ پر رکھا اسی کی ہے قسم لے لیں عکاشہ نے اپنا موبائل اٹھاتے ہوئے کہا
میں نہیں مانتی _ عدن مسلسل انکاری تھی قسم سے ماما میں نے خود اس کے گھر جاکر یہ ریکارڈنگ کی ہے جلدی میں عکاشہ کے منہ سے سچ نکل گیا جبکہ عدن نے اسے افسوس سے دیکھا
آپ کو لیکچرار نہیں بلکہ پولیس میں ہونا چاہیے تھا ۔ آپ تو میرے منہ میں ہاتھ ڈال کر ہر بات باہر نکال لیتی ہیں عکاشہ بولتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا دیکھا ہے آپ نے اس بیچاری کو تنگ کر کے آرہا ہے اور مانتا بھی نہیں عدن نے شکایتی نظروں سے حیدر آفندی کی طرف دیکھا
آپ پریشان نہ ہوں ۔ ابھی تو میں گاؤں کے لیے نکل رہا ہوں کیونکہ یوشع نے الیکشن کمیشن کے آفس جانا ہے ۔ پھر کچھ دنوں بعد دوبارہ ان کی طرف جائیں گے ۔
اب کیا کیا جائے آپ کے لاڈلوں کو شادی کا شوق جو چڑھا ہوا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی مسکراتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔
حیدر آپ جانے لگے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن ایک دم اداس ہو گئی
جاؤں گا نہیں تو واپس کیسے آؤنگا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر نے پیار سے انہیں اپنے ساتھ لگایا
کل چلے جائیں پلیزززز فرمائش کی
کل بھی جب جانے لگا تو آپ ایسا ہی کریں گی ۔میں جانتا ہوں آپ کو _ حیدرآفندی نے مسکراتے ہوئے ان کا ماتھا چوما اور باہر کی طرف بڑھ گئے۔
