Do Dil By Amna Mehmood Readelle50150 Episode 5
Rate this Novel
Episode 5
آج لائیبریری نے تین بجے بند ہونا تھا اس بارے میں ایک ہفتہ پہلے ہی تمام سٹوڈنٹس کو مطلع کر دیا گیا تھا. ہر ڈیپارٹمنٹ کے نوٹس بورڈ پر یہ نوٹ لگا ہوا تھا.
کتاب تلاش کرنے کے چکر میں یہ بات ماہم کے ذہن سے بلکل نکل گئی. جب وہ کتاب ملنے کے بعد نیچے لائبریری میں آئی تو خلاف معمول لائیبریری بلکل خالی تھی.
یہ آج ابھی سے لائبریری خالی کیوں ہو گئی ہے ……… ؟؟؟ ماہم بڑبڑاتی ہوئی “مین ڈور” کے قریب آئی تو caution ribbon کو گلاس ڈور سے باہر لگا دیکھ کر ساکت رہ گئی.
یا اللہ میں کیسے بھول گئی ……… ؟؟؟
اس عکاشہ کے بچہ پر میں نے کیسے یقین کر لیا ………. ؟؟؟
ماہم وہیں گلاس ڈور کے پاس نیچے زمین پر بیٹھ کر باہر دیکھنے لگی جب اسے دور سے حرم آتی ہوئی دکھائی دی.
منع کیا تھا نااااااا کہ اس “الو کے پٹھے” کی بات مت مانو اب دیکھ لیا انجام _ حرم نے غصے اور دکھ کی ملی جلی آواز میں ماہم سے کہا جس پر وہ موٹے موٹے آنسوؤں آنکھوں میں لاتی اسی دیکھنے لگی. اب رونے سے کیا ہو گا ………. ؟؟؟ چپ کرو اور سوچنے دو کہ کیا کرنا ہے ………. ؟؟؟ حرم نے خود کو نارمل کرنے کے لیے لائبریری کے آگے چکر کاٹنا شروع کیے مگر دماغ مسلسل سوچ رہا تھا. میں نے منع کیا تھا کہ اس کی باتوں میں نہ آؤ مگر _ فائق نے حرم کے قریب آتے ہوئے کہا
اگر مدد کر سکتے ہو تو ٹھیک ورنہ نکلو یہاں سے _ حرم کی بات پر فائق نے سر نفی میں ہلایا. ہم سیکورٹی اہلکار کو نہیں بلا سکتے کیونکہ نوٹیفکیشن کتنے دنوں سے ڈیپارٹمنٹ میں چمک رہا ہے. فائق کی بات پر حرم نے سر ہلایا اور دونوں چلتے ہوئے ماہم کے سامنے آ رکے. پلیزززز کچھ کرو، مجھے ڈر لگ رہا ہے. شام ہو رہی ہے ماہم کی آواز بمشکل نکل رہی تھی.
تم بےفکر رہو ہم تمہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے حرم نے تسلی دی. گھر میں سب پریشان ہو رہے ہوں گے ………… ؟؟؟ ماہم کو اچانک ممانی کاخیال آیا. تم ریلکس کرو کسی کے بارے میں مت سوچو ہم زرا ڈیپارٹمنٹ کا چکر لگا کر آتے ہیں.
حرم کی بات پر ماہم نے سر ہلایا مگر اکیلے رہنے کا خوف اسے ڈرا رہا تھا.
حرم میرے خیال سے “میم آفندی” سے بات کرتے ہیں اب وہی ہماری مدد کر سکتیں ہیں فائق کی تجویز پر حرم نے سر ہلایا.
ماہم گلاس ڈور ساتھ لگ کر نیچے زمین پر بیٹھ گئی اور گھٹنوں میں سر دے کر رونے لگی.
کاش میں اس “منحوس” کی بات نہ مانتی دیر سے گھر پہنچنے پر ممانی تو مجھے طعنے دیں گی اوپر سے جرمانے کے پیسے یا خدا میں کیا کروں ………. ؟؟؟
ہاں تو “مس موسلادھار” تم شرط ہار گئ ہو اب میں تمہاری مدد نہیں کر سکتا. میری طرف سے معزرت قبول کرو.
عکاشہ کی آواز کان میں پڑتے ہی ماہم نے اسے سر اٹھا کر خونخوار نظروں سے دیکھا
میں باہر آ کر تمہارا سر توڑ دوں گی. بکواس بند کرو اور یہاں سے دفع ہو جاؤ _ ماہم نے چیختے ہوئے جواب دیا جس پر وہ دونوں ہاتھ پینٹ کی جیب میں ڈالے مسکرا رہا تھا. ایک تو نیکی کا زمانہ ہی نہیں ہے. میں تو تمہاری مدد کرنے آیا تھا مگر چلو تمہاری مرضی چلتا ہوں. عکاشہ کندھے اچکا کر جانے لگا.
مجھے تمہاری مدد کی ضرورت نہیں ہے. فائق اور حرم آتے ہی ہوں گے ……… ؟؟؟ ماہم نے کوریڈور میں نظر گھمائی جہاں دور دور تک کوئی نہیں تھا.
میں یہی تو بتانے آیا تھا کہ انھیں “کشور حسین شاد باد” یعنی میم کشور نے سزا دی ہے. کیونکہ وہ لائبریری والے بلاک سے نکالتے ہوئے دیکھے گئے ہیں اور یہاں کانسٹرکشن کی وجہ سے سٹوڈنٹس کا آنا منع ہے تو “خلاف ورزی” پر وہ سزا کے مستحق ٹھہرے ہیں.
اور ان کی شکایت بھی تمہی نے لگائی ہو گی ماہم نے تصدیق کے لیے پوچھا جس پر عکاشہ کھل کر مسکرا دیا.
مجھے تو کوئی روک نہیں سکتا کیونکہ میں مسز آفندی کا بیٹا ہوں. اچھا پھر چلتا ہوں دعا ہے کہ صبح تک تم ٹھیک ہو ………… ؟؟؟
عکاشہ ہمدردانہ لہجہ میں مخاطب ہوا اور جانے لگا.
سنو مجھے باہر نکلنا ہے پلیززز کچھ کرو ہمیشہ کی طرح وہ اس بار بھی ماہم کو بےوقوف بنانے میں کامیاب رہا تھا جس پر اس نے خود کو شاباش دی.
یوں کرو کرسی اٹھا کر گلاس ڈور توڑ دو عکاشہ کی بات پر ماہم ہکا بکا رہ گئی.
مجھے سے یہ نہیں ہو گا کیسے توڑوں …….. ؟؟؟ ماہم کی آواز نم دار تھی.
ٹھیک ہے پھر بیٹھ کر روؤں میں کیا کر سکتا ہوں عکاشہ نے آبرو اچکا کر کہا
اس سے زیادہ میں تمہاری مدد نہیں کر سکتا مگر یہ بات ذہن میں رکھنا کہ شام ہو رہی ہے. اندھیرا چھا جائے گا.
اس بلاک میں لائٹ بھی نہیں ہے اور اگر شام تک تم باہر نکلی تو گھر کیسے جاؤ گی ……. ؟؟؟
عکاشہ چسکے لے لے کر اسے خوفناک صورتحال سے آگاہ کر رہا تھا. ماہم کو رونے اور ٹنشن کی وجہ سے اپنا سر گھمتا ہوا محسوس ہوا.
ماہم نے ٹھنڈے پڑتے ہاتھوں سے کرسی اٹھا کر شیشے پر ماری مگر کچھ نہیں ہوا. جس پر اس نے بیچارگی سے عکاشہ کو دیکھا جو سامنے سیڑھیوں پر بیٹھا مسکرا رہا تھا.
روٹی نہیں کھاتی ہو زور سے مارو عکاشہ کی بات پر اس نے ایک دفعہ پھر کوشش کی مگر نتیجہ صفر اب وہ چپ کر کے کرسی پر بیٹھ گئی اور آنسو ابل ابل کر اس کی آنکھوں سے گرنے لگے.
چل عکاشہ اب تجھے ہی کچھ کرنا پڑے گا آخر تو صدا کا “رحمدل” جو ٹھہرا عکاشہ اونچی آواز میں کہتا گلاس ڈور پاس آیا.
پھر اچانک اس نے پوری طاقت سے کوئی چیز جیب سے نکال کر شیشے پر دے ماری. شیشہ ٹوٹتے ہی سیکورٹی الارم بجنے لگے.
مزے تو “ماہیا” اب آئیں گے عکاشہ مسکراتا ہوا وہاں سے یوں غائب ہوا جیسے کبھی تھا ہی نہیں. جیسے ہی شیشہ ٹوٹا سیکورٹی والوں کی دوڑیں لگ گئیں. فائق اور حرم جو مسز آفندی کو اپنی بات بتا رہے تھے فوراً لائبریری بلاک کی طرف بھاگے. بےوقوف لڑکی تم نے شیشہ کیوں توڑا ………. ؟؟؟
اتنا زیادہ جرمانہ کون بھرے گا ……… ؟؟؟
ہم آ رہے تھے ناااااا تھوڑا صبر تو کرتی ……… ؟؟؟ حرم کو سچ مچ اس وقت ماہم پر سخت غصہ آ رہا تھا جبکہ ماہم کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو چکی تھی. یعنی اس بار بھی عکاشہ اسے بےوقوف بنا گیا تھا. وہ اتنی بےوقوف کیوں تھی ………. ؟؟؟ حرم اور فائق کی منت سماجت کے باوجود بھی سیکورٹی والے ماہم کو چانسلر پاس لے گئے. فائق اور حرم نے مسز آفندی سے ندد کے لیے کہا دیکھو بچوں بےشک عکاشہ کی غلطی ہے مگر ہمیشہ کی طرح تم لوگوں کے پاس اس کے خلاف کوئی ثبوت نہیں. میں تو یہ بات مان لیتی ہوں مگر آپ لوگ باقیوں کو کیسے یعین دلائیں گئے ……… ؟؟؟ جبکہ وہ وہاں موجود بھی نہیں تھا مسز آفندی کی بات پر حرم نے مایوسی سے فائق کو دیکھا
میم آپ سی سی ٹی وی کی فوٹیج چیک کر لیں. ہم بلکل درست کہہ رہے ہیں. فائق کی بات پر مسز آفندی ہلکا سا مسکرائیں
اس بلاک میں کام ہو رہا ہے. وہاں سے فلحال سب کیمرے اتارے جا چکے ہیں.
مجھے سمجھ نہیں آتی تم لوگ اسے مجھ سے بہتر جانتے ہو پھر بھی اس کی باتیں مان لیتے ہو خیر میں چلتی ہوں جو مجھ سے ہو سکا میں کروں گی مگر زیادہ کی امید مت رکھنا. جرمانہ تو ہو گا لیکن میں کوشش کروں گی کہ کم سے کم ہو مسز آفندی ان دونوں کے پاس سے گزرتی ہوئیں چانسلر صاحب کے روم کی طرف بڑھ گئیں.
حارث کوئی دسویں بار حرم کا نمبر ٹرائی کر رہا تھا مگر بلزززز جا جا کر بند ہو جاتیں _ اللہ خیر کرے. حارث نے ایک بار پھر نمبر ڈائل کیا میرے خیال سے اب تمہیں گھر ضرور بات کرنی چاہیے ویسے مسئلہ حل نہیں ہو گا فائق کے مشورے پر حرم نے بیگ سے موبائل-فون نکالا تو اس پر حارث کی missed calls دیکھ کر حیران ہو گئی. اتنی دیر میں پھر کال آنے لگی.
سوری بھائی کلاس لیتے ہوئے موبائل-فون سائیلنٹ پر کیا تھا اس وجہ سے کالززز کا پتہ نہیں چلا حرم نے فون اٹھاتے ہوئے معزرت کی.
جب میں نے تمہیں بولا تھا کہ گھر چلی جاؤ تو اب تک گئی کیوں نہیں …….. ؟؟؟ حارث نے دل میں شکر ادا کرتے ہوئے پوچھا
وہ بھائی ایک مسئلہ ہو گیا ہے _ پھر حرم نے مختصراً سارا واقعہ حارث کو سنایا مگر شرط والی بات کھا گئی. بس میں پہنچ گیا ہوں پریشان مت ہو. میں خود چانسلر صاحب سے بات کر لوں گا تم گھر جا کر کسی سے بھی ذکر مت کرنا حارث کی بات پر حرم نے سکھ کا سانس لیا.
آپ نے نہ صرف یونی rule کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ یونی کی پراپرٹی کو نقصان بھی پہنچایا ہے _ چانسلر صاحب کی بات پر ماہم سر جھکائے رونے میں مصروف تھی. دیکھیں میں مانتا ہوں کہ اس سے غلطی ہوئی ہے مگر اس کے فیوچر کا سوال ہے. اس کا آخری سمسٹر ہے اور یہ آپ کی یونی کی ایک لائق سٹوڈنٹ ہے. اس لیے پلیززززز اسے معاف کر دیں. میں جرمانہ بھرنے کو تیار ہوں حارث نے ایک نظر ماہم کے گرتے آنسوؤں کو دیکھا اور چانسلر صاحب سے کہا
سر میں بھی ان سے اتفاق کرتی ہوں. یہ بچی بہت لائق اور فرمانبردار ہے. اس لیے اسے یونی سے مت نکالیں ورنہ اس کا فیوچر برباد ہو جائے گا مسز آفندی نے بھی ناہم کی حمایت کی.
ٹھیک ہے میں صرف مسز آفندی کے کہنے پر آپ لوگوں کو رعایت دے رہا تھا.
جرمانہ تو ہر حال میں بھرنا ہو گا لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ معافی نامہ بھی جمع کرائیں گئیں.
چانسلر کی بات پر حارث نے سکھ کا سانس لیا
🪄🪄🪄🪄🪄
بھائی قسم سے آپ اُس وقت اس لڑکی شکل دیکھتے عکاشہ ہنس ہنس کر یوشع کو اپنا کارنامہ سنا رہا تھا جبکہ کچن میں کھڑی عدن یوشع کی آنکھوں ہی آنکھوں میں نظر اتار رہیں تھیں.
بھائی وہ روتی ہوئی اتنی پیاری لگتی ہے کہ میرا دل چاہتا ہے بغیر وجہ کے ایک دو تھپڑ اسے لگا دیا کروں.
سوں سوں کرتی ناک لال سرخ گیلی آنکھیں کیا بتاؤں آپ کو …….. ؟؟؟
استغفراللہ عکاشہ کے بیان پر یوشع اور مسسز آفندی نے ایک ساتھ کہا
دیکھا تم نے کس قدر بےشرمی سے اپنا کارنامہ سنا رہا ہے اور سوچ دیکھو اس کی مسز آفندی نے کچن سے باہر آتے ہوئے یوشع سے کہا
اس میں کوئی شک نہیں کہ تم نے کام” مزے والا” کیا ہے مگر چھوٹی ماما کی بات بعد اپنی جگہ بلکل درست ہے یوشع نے عکاشہ کے ہاتھ سے پاپ کارن لیتے ہوئے کہا یوشع مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی کونسا مزے کا کام کیا ہے اس نے ………. ؟؟؟
وہ بیچاری یتیم بچی ہے پتہ نہیں کیسے اپنی فیس دے رہی ہو گی _ اور اس کی وجہ سے اسے اتنا جرمانہ ہوا ہے. مجھے تو شرم آتی ہے اسے اپنا بیٹا کہتے ہوئے. مسز آفندی نے دکھ سے کہا یہ تو کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے. میرے پاس آپ کے مسئلہ کا قدرے مناسب حل موجود ہے. اگر آپ کو مجھے اپنا بچہ کہتے ہوئے شرم آتی ہے تو “حیدر آفندی” کا کہہ لیا کریں پھر یقیناً میں آپ کو بہت اچھا لگوں گا. عکاشہ کی بات پر مسز آفندی نفی میں گردن ہلاتی کچن میں واپس چلی گئیں. بتمیزززز کیوں سب کو تنگ کرتے ہو ……….. ؟؟؟ یوشع نے پیار سے اس کے سر پر تھپڑ رسید کیا. سب کو کہاں تنگ کرتا ہوں کبھی آپ کو تنگ کیا ہے ………. ؟؟؟
عکاشہ کی بات پر یوشع مسکرا دیا.
مت تنگ کیا کرو خاص طور پر چھوٹی ماما کو یوشع نے محبت سے کچن میں کھانا پکاتی عدن کو دیکھا جو تھکاوٹ کے باوجود اس کے لیے کھانا بتا رہیں تھیں.
اچھااااااا یہ جو مجھے تنگ کرتیں ہیں وہ کس کھاتے میں ……… ؟؟؟
ہر وقت طعنے دیتی رہتیں ہیں. مجال ہے جو میری تعریف کریں. عکاشہ نے منہ بنایا.
جب ہر وقت الٹے کام کرے گا تو تعریف کیسی …….. ؟؟؟
جسے دیکھو اسی کے کارنامہ سنا رہا ہوتا ہے. مسز آفندی نے کچن سے ہی جواب دیا.
آپ زرا اپنے بھائی کی شہرت چیک کریں. دشمن بھی معترف ہیں _ عکاشہ نے کچن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یوشع کو آنکھ ماری عکاشہ مسز آفندی نے کچن سے ہی اس کی طرف چمچہ اچھالا.
یہ عورت آپ کو کہیں سے بھی پڑھی لکھی لگتیں ہیں عکاشہ نے چمچہ کیچ کرتے ہوئے یوشع سے پوچھا اپنی بکواس بند کرو اور کچن میں آ کر برتن لے جاؤ کھانا تیار ہے. مسز آفندی کی بات پر عکاشہ نے سر ہلایا. میرے بغیر اس عورت کا گزارا نہیں ہے مگر پھر بھی ہر وقت مجھے لتاڑتی رہتی ہے یوشع کے کان میں سرگوشی کرتا کچن میں چلا گیا.
ہماری پانچ کنال کی حویلی میں وہ رونق نہیں جو اس پانچ مرلے کے فلیٹ میں ہے _ یوشع نے کچن سے آتی آوازوں کو محسوس کرتے ہوئے سوچا
🪄🪄🪄🪄🪄🪄
جاری ہے.
