Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن کی بات پر حیدر کو شدید حیرت ہوئی۔
میں نے آج تک آپ سے جھوٹ نہیں بولا میں بالکل سچ کہہ رہی ہوں _ یوشع ابھی ابھی آیا ہے اور بہت ضد کر رہا ہے۔ عکاشہ بھی ساتھ جانے کو تیار ہے مگر مجھے آپ کی اجازت کا انتظار ہے _ عدن نے ہمیشہ کی طرح آہستہ اور نرم لہجے میں پوچھا دونوں کے رشتے میں اب “محبت” سے زیادہ “احترام” رہ گیا تھا ۔
آپ اکیلی ہو جائیگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر کو فکر ہوئی ۔
میں تب بھی اکیلی تھی جب آپ مجھے چند ماہ کے دودھ پیتے بچے کے ساتھ اس فلیٹ پر چھوڑ گئے تھے ۔
اگر تب کچھ نہیں ہوا تو اب کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے گلہ کیا یا مثال دی مگر حیدر کو بہت بری لگی
آپ ایسی باتیں کیوں کرتی ہیں جس سے میرا دل دکھتا ہے _ آپ وہ تمام باتیں بھول نہیں سکتی _ ؟؟؟ حیدر نے افسردگی سے پوچھا
اور میرے دل کا کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
جو آپ کی دی گئی” قید تنہائی” کاٹ رہا ہے ۔اس کی سزا ختم یا کم نہیں ہو سکتی یا مرتے دم تک رہے گی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن کے سوال پر حیدر نے اپنے ماتھے کو بے دردی سے مسلا۔ اس کے پیپرز کب تک ہیں
بات بدلی
ابھی ایک مہینہ رہتا ہے _ عدن تلخی سے مسکرائی۔ حیدر کے پاس ہمیشہ ہی اس کی باتوں کا کوئی جواب نہیں ہوتا تھا چلو ٹھیک ہے بھیج دوں اسے سیر کر لے گا _ اور شاید مجھے اپنے سامنے دیکھ کر بات بھی کر لیں _ حیدر کے لہجے میں حسرت نمایاں تھی
اس کا خیال رکھیے گا دیکھنے میں جوان ہے مگر حقیقت میں بالکل چھوٹا سا بچہ ہے عدن کے الفاظ میں ممتا جھلک رہی تھی ۔
آپ بے فکر رہیں جتنا آپ کا اس سے رشتہ ہے اتنا ہی میرا بھی ہے پھر بھی آپ کی “نسبت” سے زیادہ خیال رکھوں گا حیدر کی یقین دہانی پر عدن پر سکون ہو گئی ۔
آپ کو میری یاد نہیں آتی _ مجھے دیکھنے کو دل نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کچھ دیر خاموشی کے بعد عدن نے پوچھا یاد انہیں کیا جاتا ہے جو بھول جائیں اور آپ تو خیر چھوڑیں اپنا خیال رکھیے گا اور اس کے لیے پریشان مت ہوئے گا ۔
حیدر نے تسلی دیتے کال بند کر دی وہ آج بھی عدن کے سوالوں کا جواب دینے سے کترا رہے تھے ۔
“کوئی فلسفہ نہیں عشق کا جہاں دل جھکے وہیں سر جھکا
وہیں ہاتھ جوڑ کے بیٹھ جا ،نہ سوال کر، نہ جواب دے”
🪄🪄🪄🪄🪄
یہ یوشع آج کل کہاں مصروف رہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم کو دیکھتے ہی بڑی سرکار نے بے صبری سے پوچھا
بڑی سرکار مجھے تو خود بھی معلوم نہیں شاید آفندی صاحب نے کہیں بھیجا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم کی لاعلمی پر بڑی سرکار نے انہیں نہایت ناگواری سے گھورا
تم کیسی عورت ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نہ تمہیں خاوند کے بارے میں کچھ معلوم ہوتا ہے اور نہ بیٹے کے کبھی کبھی مجھے اپنے فیصلے پر افسوس ہونے لگتا ہے۔
اگر جنگل سے کسی جانور کو پکڑ کر بھی اس حویلی میں چند دن رکھا جائے تو وہ بھی تم سے زیادہ سمجھدار ہو جائے گا ۔
خیر چھوڑو ان باتوں کو تمہیں کون سا اثر ہونا ہے _ کارڈ چھپنے کو دے دیے ہیں کہ وہ بھی تمہیں نہیں پتہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی سرکار نے اک ادا سے فروٹ کھاتے ہوئے راشدہ بیگم کی کلاس لی۔
میں معافی چاہتی ہوں مگر مجھے واقعی ہی کچھ معلوم نہیں میں بتول کو شہر شاپنگ پر لے جانا چاہتی تھی پر اسے بھی بخار ہے
راشدہ بیگم کی بات پر بڑی سرکار کے ماتھے پر کئی بل پڑ گئے
تم کبھی کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کر سکتی کیا ضرورت ہے اسے شاپنگ پر لے کر جانے کی اور بخار کس خوشی میں ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بڑی سرکار نے طنز کیا مگر راشدہ بیگم خاموش ہوگئی کیا کہتی کہ خوشی نہیں بلکہ غم میں ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ابھی راشدہ بیگم کچھ بولنے کا سوچ رہی تھی کہ حیدر آفندی اندر داخل ہوئے جو خلافِ معمول بہت خوشگوار موڈ میں لگ رہے تھے
بیوی کو دیکھ کر مسکرا رہے ہو یا کوئی اور خوشخبری ملی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کیونکہ اب ماں کو دیکھ کر مسکرانے کے دن نہیں رہے
عادت کے عین مطابق بڑی سرکار نے حیدر کو دیکھتے ہی طنز کیا ۔
آپ کا لاڈلہ “میرے چھوٹے” کو لے کر آرہا ہے۔ پہلی بار وہ اپنے باپ کی حویلی میں قدم رکھے گا حیدر کے انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی تھیں جو راشدہ بیگم اور بڑی سرکار کو ایک آنکھ نہ بھائی ۔
کیوں آ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی سرکار نے نہایت تلخ لہجے میں پوچھا
جو لا رہا ہے اس سے پوچھے میں آپ کو جواب دے نہیں ہوں ہاں مگر ایک خواہش ضرور ہے کہ وہ یہاں سے اچھی یادیں لے کر جائے ۔
چند دن سیر کرنے کے بعد واپس چلا جائے گا حیدر آفندی دونوں پر ایک نظر ڈالتے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گے ۔
🪄🪄🪄🪄🪄🪄
یارررررر بھائی یہ جو لوگ آپ کے پیچھے جیپ میں آ رہے ہیں میرے خیال سے یہ آپ کو واش روم تک چھوڑتے ہوں گے
عکاشہ نے ڈرائیونگ کرتے یوشع کی طرف جھک کر سرگوشی کی
یہ لوگ ہم جیسوں کے لئے بے حد ضروری ہیں _ ایک تو دشمن پر ہمارا “رعب” رہتا ہے دوسرا یہ ہماری حفاظت بھی کرتے ہیں تیسرا اپنا آپ ذرا “شہزادہ شہزادہ” سا لگتا ہے اپنی بات کے آخر میں یوشع نے آنکھ ماری
یارررر بھائی میں تو کنفرم شہزادہ ہوں ۔ شک تو آپ میں بھی نہیں ہے مگر
عکاشہ کی شکل اس وقت کسی شرارت کی پیشنگوئی کر رہی تھی
عکاشہ آفندی اگر آپ نے اس وقت میرے ساتھ ذرا سی بھی شرارت کرنے کی کوشش کی تو ہم دونوں “گاؤں” پہنچنے کی بجائے “ایمرجنسی” وارڈ میں پہنچ جائیں گے ۔
جو کہ ہم دونوں کی خوبصورتی کے لئے یقینی نقصان دہ جگہ ہے ۔ لہذا اپنی زبان اور ہاتھ قابو میں رکھنا یوشع نے تنبیہ کی
آنکھوں پر تو کوئی پابندی نہیں ہے ناااااا عکاشہ نے پوچھا
تم مجھ پر اپنی “مردانہ صلاحیت” مت ضائع کرو
انھیں سنبھال کر رکھو _ مستقبل میں تمہارے کام آئیں گی یوشع کے جواب پر عکاشہ کا پورا منہ کھل گیا
مردانہ صلاحیتیں کتنی غلط بات بولی ہے ۔میں تو معصوم ہوں اور آپ مجھے کیا کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کے دہائی دینے پر یوشع نے اسے ایک مکا رسید کیا
آپ مجھے تشدد کرنے کے لیے اپنے ساتھ لائے ہیں عکاشہ نے اپنا بازو سہلایا
نہیں تمہیں یہاں لانے کا “عام مقصد” گاؤں کی سیر جبکہ “خاص مقصد” کچھ اور ہے یوشع کی بات پر عکاشہ نے منھ بنایا
میں ” گاؤں کی سیر” پر مضمون لکھنے میں ذرا بھی دلچسپی نہیں رکھتا ہوں عکاشہ نے کندھے اچکائے
دیکھ بھائی ہی بھائی کے کام آتا ہے آخر میں تیرا بھائی ہوں
کیا تو نہیں چاہتا کہ تیرے بھائی کا گھر بس جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے مکھن لگایا
اور میں آپ کا کیا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے آبرو اچکا کر پوچھا
تو تو میری جان ہے یوشع کی بات پر عکاشہ خوب ہنسا
سوچ لیں میں جس کی” جان ” ہوں _ اس کا کیا حال ہونے والا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کی بات کا مفہوم سمجھتے ہوئے دونوں ہنسنے لگے سیدھا حویلی چلو گے یا پہلے ڈیرے کی سیر کراؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے گاؤں میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا جو دل چاہتا ہے کریں
میرا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میں تو دوسروں کی خوشی میں خوش ہوتا ہوں ۔ویسے بھی مجھے جانوروں سے زیادہ کزن دیکھنے میں دلچسپی ہے وہ کیا ہے نااااااا میں اس نعمت سے محروم رہا ہوں عکاشہ کی بات پر یوشع نے اسے حیرت سے دیکھا
محروم کا لفظ تو ایسے استعمال کر رہے ہو جیسے
پھر کچھ خیال آنے پر خاموش ہو گیا (کیونکہ وہ اس وقت حیدر آفندی کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا تھا )۔
جیسے میں باپ کی محبت سے محروم رہا ہوں عکاشہ نے جملہ پورا کیا اور پھر جیپ میں خاموشی چھا گئی ۔
حویلی میں ایک بڑی سرکار بھی ہیں۔ شاید چھوٹی ماما نے ان کے بارے میں تمہیں بتایا ہو _
ان کا احترام لازم ہے باقی سب چلے گا کوئی پروا نہیں یوشع نے خاموشی کو توڑا
میری تو ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے اور ماما نے بھی یہی سکھایا ہے کہ “بڑوں کا احترام کرو”
آگے جو خدا کو منظور عکاشہ نے اوپر کی طرف دیکھا اور پھر چونکا
یہ اتنے سارے رومال یہاں کیوں رکھے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے گاڑی کے ساتھ لگا رومال کا پیکٹ پکڑا
ان کی ضرورت بھی پڑ جاتی ہے آج کل لوگ عجیب ہیں۔ رومال واپس بھی نہیں کرتے ہیں رکھ ہی لیتے ہیں جیسے ان کے باپ کا مال ہو یوشع نے امثال کو سوچتے ہوئے جواب دیا
باپ کا مال ہو یا نہ ہو مگر _ عکاشہ نے رومالوں کو الٹ پلٹ کیا
اگر مگر کچھ نہیں ڈیرہ آگیا ہے چل تجھے اپنے پسندیدہ کتے اور گھوڑے بھی دکھاتا ہوں ۔ اس کے بعد حویلی چلیں گے یوشع کے کہنے پر عکاشہ نے جیپ سے باہر قدم رکھا
یوشع بہت جوش ساتھ عکاشہ کو پورے ڈیرے کی سیر کرا رہا تھا اپنے پسندیدہ گھوڑے، کتے _ جن میں عکاشہ کو ذرہ برابر دلچسپی نہیں تھی
اب بتا کیا پئے گا دودھ منگواؤں یا کچھ اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے چارپائی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا
ویسے لگتا نہیں ہے کہ آپ باہر سے پڑھ کر آئے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
آپ کی حرکتیں اور شوق بالکل پینڈو ہیں عکاشہ نے منہ بناتے ہوئے ادھر ادھر دیکھا تو اس کی نظر چھوٹے سے سفید بکری کے بچے پر پڑی۔ جسے اس نے فورا اٹھ کر گود میں اٹھا لیا پورے ڈیرے میں صرف یہی ایک کام کی چیز ہے
ویسے اس معصوم جانور کا ایک پورے ڈیرے میں ایک ہی پیس ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے اسے پیار کرتے ہوئے پوچھا
یہ میں نے نہیں پالا بلکہ کسی کی امانت ہے
یوشع کا دل اس وقت امثال سے ملنے کو کیا
کیوں اس کی ماں کی بددعا لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اسے اس کی ماں پہ چھوڑ دیں عکاشہ نے پیار سے اسے نیچے رکھا
ماں کی بد دعا لگے یا نہ لگے مالکن کی ضرورت لگے گی یوشع کے جواب پر عکاشہ نے اس کی طرف دیکھا صبح ملواؤں گا بہت ہی دلچسپ شخصیت ہے بےعزتی کرنے میں ایک دم ماہر اور رعب ایسے ڈالتی ہے جیسے ہم اس کے نوکر ہوں _ یوشع کی بات پر عکاشہ نے اسے مشکوک نظروں سے گھورا اس کی مالکن مستقبل قریب میں حویلی کی مالکن بننے والی ہے
بحیثیت نجومی نے پیشنگوئی کر دی ہے۔
اب آپ اپنے فراغ دل ہونے کا ثبوت دیں اور فی الحال میری دلی مراد پوری کر دیں عکاشہ کی ڈرامے بازی پر یوشع نے ہنستے ہوئے پوچھا
تمہیں کیا چاہیے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ہم تمہاری بات سے خوش ہوئے
تمہیں منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔
مجھے زیادہ نہیں بس واش روم کا پتہ بتا دیں اتنا لمبا سفر میں نے بہت صبر سے کیا ہے۔
عکاشہ کی خواہش فورا پوری کی جائے یوشع نے ہنستے ہوئے ملازم کو آواز دی اور خود محبت سے بکری کے بچے کو دیکھنے لگا
🪄🪄🪄🪄🪄🪄
حیدر آفندی نے پوری حویلی کو دلہن کی طرح سجایا تھا روشنی اتنی تیز تھی کہ دور دور تک پھیلی صاف دکھائی دے رہی تھی ۔
امثال جو اپنے گھر کی چھت سے حویلی کی سجاوٹ دیکھ رہی تھی دل میں سوچنے لگی
حویلی میں رہنے والے لوگ بھی بالکل ہمارے جیسے ہی ہوتے ہیں ۔پھر یہ کیا بات ہوئی وہ خاص اور ہم عام
امثال نے آسمان کی طرف دیکھا
بیٹا اتنی سردی میں ادھر کیا کر رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نیچے اپنی بہنوں اور بھائی کے پاس جاؤ
ماسٹر صاحب نے پیار سے امثال کو نیچے بلایا
ابا کیا ایسا نہیں ہوسکتا ہم بھی آج حویلی چلیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ سارا گاؤں گیا ہے _ مجھے حویلی دیکھنے کا بہت شوق ہے امثال کی خواہش پر ماسٹر جی نے نظریں چرائیں
بیٹا یہ دھوم دھام ایک دھوکا ہے تم نے سنا ہو گا “ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی” _ ماسٹر جی نے امثال کا دھیان حویلی سے ہٹایا ابا آپ ڈیرے سے میری بکری کیوں نہیں لائے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ایک دم امثال کو اپنی بکری کا خیال آیا تو وہ اداس ہو گئی میں گیا تھا مگر یوشع سائیں کی غیر موجودگی میں نوکروں نے دینے سے انکار کردیا اب صبح جاؤں گا ماسٹر جی خود بھی یوشع کا سامنا نہیں کرنا چاہتے تھے
ابا ایسا کرتے ہیں ہم دونوں ابھی بکری کا بچہ لینے جاتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ حویلی بھی دیکھ آئیں گے امثال نے ایک بار پھر کوشش کی امثال بیٹا آپ حویلی اور حویلی والوں سے دور رہا کرو یہ لوگ اچھے نہیں ہیں ماسٹر جی نے سمجھایا
مگر وہ تو اچھا خاصا ہے پتہ نہیں کیوں ابا کہتے رہتے ہیں امثال کو اپنی اور یوشع کی آخری ملاقات یاد آئی بیٹا میں نے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے اگر تمہاری والدہ زندہ ہوتی تو شاید مجھے اتنی مشکل پیش نہ آتی مگر اب
ماسٹر صاحب نے ایک گہرا سانس لیا
میں چاہتا ہوں کہ تمہارا رشتہ کر دوں۔ حالانکہ تمہارے جانے سے میرا گھر ویران ہوجائے گا اور ذمہ داریاں بہت بڑھ جائیں گی۔
مگر کچھ سخت فیصلے بندے کو اپنی بہتری کے لیے کرنے پڑتے ہیں __ ماسٹر صاحب کو امثال کا بار بار حویلی جانے کے لیے ضد کرنا سخت برا لگ رہا تھا
یہ کیا بات ہوئی میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گی اور نہ ہی شادی کروں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ آپ دوبارہ ایسی بات نہیں کریں گے ورنہ میں آپ سے ناراض ہو جاؤں گی ۔
امثال غصے سے کہتی ہوئی نیچے چلی گئی جب کہ ماسٹر جی کسی گہری سوچ میں ڈوبے جگمگ کرتی حویلی کو دیکھنے لگے
🪄🪄🪄🪄🪄🪄
جاری ہے