Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

جذبے سچے ہوں تو منزل مل ہی جاتی ہے ۔دیکھا تم نے میں جیت گئی اور تم ہارے گئے ۔بتول اپنے کمرے میں بیٹھی نوید سے مخاطب تھی ۔
ویسے مجھے پہلے ہی چچا حیدر سے بات کرنی چاہیے تھی۔انہوں نے کتنے پیار سے میری بات سنی۔
” اللہ جی میرے چچا کو ان کی عدن سے ملا دے آمین “_ بتول نے معصومیت سے اوپر دیکھتے ہوئے دعا مانگی ایک زوردار دھماکے سے دروازہ کھلا بتول جو اپنی دھن میں مگن تھی یوشع کو لال انگارہ آنکھوں سے گھورتا دیکھ کر ڈر گئی۔ جب میں نے منع کیا تھا تو تم اپنی زبان منہ کے اندر نہیں رکھ سکتی تھی کر رہا تھا ناااا تمہاری “دو ٹکے” کی محبت کے لئے سب کچھ _ پھر کیا تکلیف تھی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ کسی اور کے آگے تمہاری زبان پر تالے پڑ جاتے ہیں مگر بابا سائیں کے سامنے یہ ” یو پی ایس” پر چلتی رہی بولو _ یوشع کے اس اچانک حملے کے لیے بتول ہرگز تیار نہ تھی اس لیے گھبرا گئی
اب بولتی کیوں نہیں ہو کیا تمہاری زبان کی بجلی کٹ گئی ہے یا “یو پی ایس” کی بیٹری ختم ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟ یوشع اس کے مزید قریب ہوا
میں نے کچھ نہیں کیا وہ چچا سائیں اپنے اور عدن آنٹی کے بارے میں بتا رہے تھے تو میں نے بھی کہہ دیا بتول نے دوسرا جملہ قدر آہستہ آواز میں کہتے ہیں ہوئے گردن جھکالی
یعنی تم نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے مناسب سمجھے اور بابا سائیں کا بھی “سولہ سال” کی لڑکیوں والا حال ہے ۔ جسے دکھا اسے اپنی پہلی محبت کے قصے سنانا فرض سمجھا۔
مجھے تو کبھی سنائے نہیں اور جس کو سنانا نہیں چاہیے تھے اسے بیٹھ کر پوری “رام کہانی” سنادی یوشع بڑبڑایا
بہرحال جو بھی ہے تم نے بڑی سرکار کو وہی کہنا ہے جو میں نے کہا تھا ۔اگر بڑی سرکار کے سامنے تم نے ذرا سی بھی غلطی کی تو میں خود اپنے ہاتھ سے تمہیں تہہ خانے میں دفنا دوں گا۔
ہاں مگر ایک وعدہ ہے تم سے کہ تمہاری “نماز جنازہ” میں نوید کو شرکت کی اجازت ہوگی یوشع جاتے جاتے پلٹا
نہیں آپ ایسا کچھ مت کیجئے گا بتول نے التجا کی
ہاں میں ایسا کچھ نہ کروں کیونکہ تم نے کرنا ہوتا ہے
واہ بتول بی بی تمہاری سائنس یوشع نے طنز کیا پکا وعدہ اب میں کچھ بھی اپنے پاس سے نہیں کروں گی۔ جیسا آپ نے کہا ہے ویسا ہی کروں گی بتول کے چہرے پر اس وقت خوف ، اداسی اور نوید سے بچھڑنے کا خطرہ صاف دکھائی دے رہا تھا
اگر آپ تم نے ذرا سی بھی گڑبڑ کی تو میں زبردستی تم سے شادی کر لوں گا اور اس کے بعد جو سلوک میں تمہارے ساتھ کروں گا تم بڑی سرکار کو بھی بھول جاؤں گی لہذا احتیاط یوشع نے بتول کے آگے چٹکی بجائی اور کمرے سے باہر نکل گیا
میری توبہ جو اب کسی کے آگے بھی اپنا منہ کھولو اچھا خاصہ فرشتہ (نوید) مل رہا ہے پھر گناہوں کی سزا کہیں اسی دنیا میں یوشع حیدر کی صورت میں نہ مل جائے ۔
بتول احتیاط
بتول نے خود کلامی کی اور اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتی بند دروازے کو دیکھنے لگی جو ابھی ابھی پوری قوت سے بند کیا گیا تھا
🪄🪄🪄🪄
اگر آئندہ میں نے تمہیں گاؤں میں بھاگتے ہوئے دیکھا تو تمہاری خیر نہیں مت بھولو میں “سردار یوشع حیدر آفندی” ہوں۔
بڑا آیا سردار
امثال گھر کے کام کرتے ہوئے مسلسل یوشع کی باتیں دہرا رہی تھی.
بیٹا کس سے باتیں ہو رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماسٹر صاحب کے اچانک آنے پر امثال کچھ شرمندہ سی ہو گئی۔
کچھ نہیں بابا وہ بس ذرا آج مجھے کسی پر بہت غصہ آیا ہوا ہے تو اس لیے _ خیر آپ بیٹھیں۔ امثال نے چارپائی پر چادر درست کرتے ہوئے ماسٹر صاحب کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود ان کے پاس بیٹھ گئ بیٹے یہ بچوں کے پرچے ہیں۔ جب تمہیں فرصت ملے تب چیک کر دینا _ ماسٹر صاحب نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی فائل امثال کو دیتے ہوئے کہا
آپ فکر نہ کریں میں چیک کر دوں گی ۔امثال نے فائل لیتے ہوئے محبت سے جواب دیا
اچھا تم نے کیا بات کرنی تھی۔ اس دن تم کچھ کہہ رہی تھی مگر مجھے ذرا جلدی تھی۔ آج اتوار ہے میں بالکل فارغ ہوں اب بتاؤ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماسٹر جی کے پوچھنے پر امثال کچھ پریشان سی ہوگی
اب بھلا میں اپنی شادی کے بات کیسے کروں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال نے دل میں سوچا
کچھ خاص نہیں بس ویسے ہی میرے دل میں یہ خیال آیا تھا کہ شادی
امثال نے ابھی لفظ شادی استعمال کیا ہی تھا کہ ماسٹر جی چونک پڑے
شادی _ کس کی شادی ۔۔۔۔۔؟؟؟ انہوں نے امثال کو دیکھتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں پوچھا بابا آپ کی شادی آپ شادی کرلیں۔ ہمیں بھی اب گھر میں کسی بڑی کی ضرورت ہے اور ویسے بھی سب سوتیلی مائیں بری تھوڑی ہوتی ہیں ۔
امثال کا حوصلہ ہی نہیں پڑا کہ وہ اپنی شادی کی بات کرے لہذا اس نے لفظ شادی کو ماسٹر جی ساتھ جوڑ دیا
عجیب بیوقوف لڑکی ہو۔جب میری عمر تھی تب تم نے ہی سب سے زیادہ مخالفت کی تھی اور اب میرے اللہ اللہ کرنے کے دن ہیں تو کیا واہیات مشورہ دے رہی ہو ۔جاؤ اپنا کام کرو۔ ماسٹر جی کو غصہ آیا
ابا پھر میرے جانے کے بعد چھوٹوں کا کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
ہممممم _ یہ تو خیر میں بھی سوچتا ہوں مگر تم پریشان مت ہو اللہ مالک ہے۔ ماسٹر جی کے جواب دے امثال نے سر ہلایا تبھی دروازے پر دستک ہوئی ننھی ذرا دروازے پر دیکھو کون ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال نے بیٹھے بیٹھے چھوٹی کو آواز لگائی رہنے دو میں خود ہی دیکھ لیتا ہوں
ماسٹر جی نے چار پائی سے اٹھتے ہوئے کہا
ابا آپ کچھ دیر تو آرام کر لیں یہ گاؤں والے تو آپ کو لوہے کی مشین سمجھتے ہیں امثال کو غصہ آیا
ابا وہ باہر کوئی آدمی آپ کو بلا رہا ہے کہتا ہے حویلی سے آیا ہوں
جیسے ہی ننھی نے آکر بتایا امثال اور ماسٹر جی کے چہرے کا رنگ اڑ گیا مگر دونوں ہی ایک دوسرے سے رخ موڑ گے
اچھا بیٹا میں بات سن کر آتا ہوں ۔دروازہ بند کر لو
۔ ماسٹر جی کہتے ہوئے باہر نکل گئے جبکہ امثال سوچنے لگی کہ کیا بات ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ 🪄🪄🪄🪄 تمہیں میرے بیٹے کا پیغام نہیں ملا تھا حیدر آفندی کے پوچھنے پر ماسٹر جی نے گلا صاف کرتے ہوئے ایک گہرا سانس خارج کیا
بڑے سائیں ملا تھا
ماسٹر جی نے ایک نظر کچھ فاصلہ پر کھڑے نوید کی طرف دیکھا
پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے ٹانگ پر ٹانگ رکھتے ہوئے وضاحت طلب کی
پھر سائیں میں نے نوید کو جواب دے دیا تھا کہ میری بیٹی “منگنی شدہ” ہے _ ماسٹر نے ایک نظر نوید کو دیکھا جو خود بھی انہیں دیکھ رہا تھا منگنی شدہ ہے تو کیا ہوا اگر وہ “شادی شدہ” بھی ہوتی تو میں “طلاق” دلوا دیتا ۔مجھے اپنے بیٹے کی خوشی عزیز ہے
فوراً اس لڑکی کی منگنی ختم کرو اور یہ بات اپنے دماغ میں اچھے سے بٹھا لو کہ اب وہ تمہارے گھر میں یوشع کی امانت ہے۔
تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ تمھاری بیٹی کی شادی اتنی اچھی جگہ ہو رہی ہے ۔الٹا تم ہمیں نخرے دکھا رہے ہو۔ کیا ہمارے باپ دادا کے احسان بھول گئے ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟
یہ سکول حکومت نے نہیں ہم نے بنا کر دیا ہے۔ تمہاری تنخواہ ہم دیتے ہیں ۔تمہارے اچھے برے وقت میں بڑی سرکار مدد کرتی ہیں اور تم “نہ” کرو گے ۔ تمہاری اتنی اوقات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے غصے سے کہتے ہوئے پاس پڑے پانی کے گلاس کو زور سے زمین پر مارا
یاد رکھو مجھے نمک حرام لوگ بالکل پسند نہیں۔ میں کسی ساتھ زیادتی نہیں کرتا مگر مجھے اپنے بچوں کی خوشیاں سب سے زیادہ عزیز ہیں۔
تم تو خود ماسٹر ہو وہ محاورہ سنا ہوگا کہ “ماس سے ناخن زیادہ پیارا ہوتا ہے” حیدرآفندی کی باتیں پر ماسٹر جی کا دماغ گھمانے لگا. جی سرکار
آپ کی تمام باتیں درست ہے مگر ایک تو اس کی عمر بہت کم ہے دوسرا میرے گھر کو وہی سنبھالتی ہے _ ماسٹر نے عذر پیش کیا ۔ تو کیا تم ساری زندگی اسے اپنے گھر بٹھائے رکھو گے۔ ماں اس نے ماری تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی کے جواب میں ماسٹر خاموش ہو گے ۔ نوید گاؤں میں پتہ کرو کتنی عورتیں بیوہ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ہم ماسٹر کی بیٹی کے ساتھ ساتھ اس کا گھر بھی بسا دیتے ہیں۔ آخر کو ماسٹر ہمارا ہے تو خیال بھی ہمیں ہی کرنا ہوگا حیدر آفندی کی بات پر ماسٹر جی نے سر اٹھا کر دیکھا
جیسا کہا جائے بالکل ویسا ہی کرنا مجھے خود سری کرنے والے لوگ پسند نہیں شکر کرو عزت سے رشتے کی بات کی ہے ورنہ ہمارے پاس اور بھی بہت سے طریقے ہیں جو ہم استمعال نہیں کرنا چاہتے۔ کیونکہ وہ تمہیں پسند نہیں آئیں گے ۔
حیدر آفندی نے دھمکی صرف ماسٹر کو خوفزدہ کرنے کے لیے دی تھی اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہو گے کیونکہ ماسٹر جی کے چہرے کا رنگ اڑ گیا تھا
جاؤ اور ہمارے اگلے پیغام کا انتظار کرو
ماسٹر جی کو جانے کا اشارہ کرتے ہوئے حیدرآفندی نے نوید کو بآواز بلند حکم دیا تاکہ ماسٹر جی بھی آسانی سے سن لیں۔
پورے گاؤں میں یہ بات پھیلا دو کہ ماسٹر نے اپنی بیٹی ہمارے یوشع کو دے دی ہے تاکہ کوئی اور اس بچی کی طرف دیکھنے کا سوچے بھی نہ نوید سر ہلاتا ماسٹر جی کے پیچھے پیچھے چل دیا
میں نے آپ کو سمجھایا تھا کہ یہ بڑے لوگ ہیں کبھی بھی کچھ بھی کرسکتے ہیں اور ویسے بھی یوشع سائیں بہت اچھے انسان ہیں۔ آپ پریشان نہ ہوں
نوید نے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے ماسٹر جی کو تسلی دی
نوید ماسٹر جی کو تسلی دیتے ہوئے گھر تک آیا تاکہ وہ امثال سے بات کر سکے
نوید بیٹا آپ کا بہت بہت شکریہ میں اب بالکل ٹھیک ہوں. اب تم جاسکتے ہو ایسے ہی تم نے اپنا وقت برباد کیا ماسٹر جی نے دروازے پر رکتے ہوئے نوید سے کہا
کوئی بات نہیں۔ استاد کا کام کرنے سے عزت ملتی ہے اور مجھے تو ویسے بھی آپ کا کام کرکے خوشی ہوتی ہے نوید کے جواب میں مسٹر جی کچھ افسردہ ہو گئے۔
آپ پریشان نہ ہوں سب ٹھیک ہو گا نوید کے کہنے پے ماسٹر جی سر ہلاتے جانے لگے تب نوید نے پکارا
ماسٹر جی ایک گلاس پانی مل جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے بہانہ بنایا
امثال بیٹا نوید کو ایک گلاس پانی دو
ماسٹر جی تھکے قدموں سے آواز لگاتے ہوئے اپنے کمرے میں چلے گئے
امثال نے پانی کا گلاس بھر کے نوید کی طرف بڑھا دیا
جو کہا تھا وہ یاد ہے ناااااا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے پانی کا گلاس پکڑتے ہوئے پوچھا
ہاں یاد ہے مگر امثال نے کمرے کی طرف دیکھا جہاں ابھی ابھی ماسٹرجی گئے تھے
کیا بڑے سائیں نے کچھ کہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال نے رازداری سے پوچھا
کچھ نہیں بہت کچھ کہا ہے فی الحال ماسٹر جی کو چھیڑنا نہ مگر تمہارے لئے ایک خوشخبری بھی ہے نوید نے گلاس پانی پیے بغیر ہی واپس کیا جس پر امثال کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا
تمہاری نئی اماں آرہی ہیں مجھے بڑی سائیں نے ماسٹر جی کی شادی کا کام سونپا ہے نوید کی بات پہ امثال نے حیرت سے اسے دیکھا
بالکل سچ کہہ رہا ہوں اب اگر تمہیں کوئی خاتون پسند ہے تو بتا دو مجھے آسانی رہے گی نوید کی بات پر امثال بالکل سن کھڑی اسے دیکھ رہی تھی
شاید تم کوئی اور خوشخبری بھی سننا چاہ رہی ہو
نوید نے سوچتے ہوئے پوچھا
جی نہیں مجھے کسی قسم کی کوئی خوشخبری نہیں چاہیے اب آپ جا سکتے ہیں امثال نے کہتے ہوئے باہر کی طرف دیکھا
ویسے آپ سوچ لیں کہ پہلے اپنے ابا کی شادی کرنی ہے یا اپنی
کیونکہ اب یوشع سائیں کے علاوہ بڑے سائیں بھی سیریس ہیں۔
نوید کہتا ہوا باہر نکل گیا جب کہ امثال نے دروازہ بند کیا اور ماسٹر جی کی طرف چلی آئی
ابا کیا ہوا ہے بڑے سائیں نے کیا کہا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال نے ماسٹر جی کو اپنا سر دباتا دیکھ کر پوچھا
کچھ نہیں میری بیٹی تم پریشان مت ہو اور مجھے ذرا آرام کرنے دو۔
ابا میں تو کہتی ہوں کہ ہم ملتان چلے جاتے ہیں خالہ جی کے پاس
وہیں رہیں گے. یہاں رہے تو کوئی نہ کوئی مصیبت آتی ہی رہے گی ۔
امثال کے مشورے پر ماسٹر جی پھیکا سا مسکرائے۔
اگر وہ اتنے اچھے ہوتے تو دکھ کس بات کا تھا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماسٹر جی کے جواب پر امثال کمرے سے باہر آ گئی
میں خود بات کروں گی اس سردار کے بچے سے _ صبح حویلی جاؤنگی بلکہ بڑی سرکار سے ان کے پوتے کی شکایت کروں گی کہ آپ کے پوتے کو ہم غریب ہی ملے ہیں. اپنے برابر والوں میں کیوں رشتہ نہیں کر رہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ پھر دیکھتی ہوں کہ کیسے کرتے ہیں مجھ سے شادی امثال نے ایک نظر اندر پریشان حال لیٹے ماسٹر جی کی طرف دیکھا اور دوسری نظر اوپر آسمان پر کی طرف پیارے اللہ جی میری مدد کرنا۔
🪄🪄🪄🪄🪄
عکاشہ اب تم واپس آرہے ہو یا پھر میں
عدن نے اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوئے پوچھا
آپ تو آ نہیں سکتیں لہذا مفت کی دھمکیاں اپنے پاس رکھیں عکاشہ چہکا
عکاشہ واپس آجاؤ
عدن کچھ نرم پڑیں۔
ہاں ایسے بولے ناااا تا کہ میرا دل بھی کرے ۔ آپ دھمکیاں لگا رہی ہیں تو پھر میں کیسے واپس آؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے واش روم سے نکلتے ہوئے یوشع کی طرف دیکھا
ماما آپ کو پتہ ہے بھائی کی شادی ہو رہی ہے
ابھی عکاشہ نے اتنا ہی بتایا تھا کہ یوشع نے گیلا تولیہ اس کے منہ پر مارتے ہوئے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا
آپ کو پتا ہے بھائی مجھ پر بہت تشدد کرتے ہیں آپ ہر وقت بھائی کی تعریفیں کرتی رہتی ہیں کہ وہ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔عکاشہ نے ایک دم اپنی آواز تبدیل کی جس پر عدن پریشان ہوگی اور یوشع کے برش کرتے ہوئے ہاتھ رکے
چھوٹی ماما یہ بکواس کر رہا ہے میں اسے مار ہی نہیں سکتا یوشع نےعکاشہ سے فون چھینا اور ہیئر برش اس کی طرف اچھال دیا جسے عکاشہ نے فورا کیچ کیا آپ کیسی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ یوشع کے حال پوچھنے پر عدن مسکرائیں میرے دونوں بیٹے ایک ہفتے سے غائب ہیں تو میں کیسی ہوں گی ۔۔۔۔۔۔؟؟ عدن کے کہنے پر یوشع کچھ شرمندہ ہوا سوری چھوٹی ماما بس میں اتوار تک اسے خود چھوڑنے آؤں گا یوشع نے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھتے ہوئے جواب دیا
عکاشہ زیادہ تنگ تو نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔؟ عدن کے پوچھنے پر عکاشہ نے کچھ کہنا چاہا جبکہ یوشع نے اس کے منہ پے ہاتھ رکھ دیا
نہیں چھوٹی ماما یہ تو بہت معصوم ہے یوشع نے اپنی ہنسی دبائی۔
اچھا اسے کچھ سمجھاؤ بھی تاکہ اس میں ذمہ داری پیدا ہو میں چاہتی ہوں کہ یہ تمہاری طرح ہوجائے
عدن نے اپنے دل کی بات کی جس پر عکاشہ چیخ پڑا
جی یہ تو اتنے ذمہ دار ہیں کہ گاؤں کی بکریوں کو بھی اکیلا گھومنے نہیں دیتے انھیں بھی گھر چھوڑ کر آتے ہیں عکاشہ کی بات کا مطلب عدن کو سمجھ نہیں آیا مگر یوشع نے اسے دو تین مکے رسید کیے
چھوٹی ماما آپ کو تو اس کی عادت کا پتا ہے۔ آپ چھوڑیں اسے اور اپنی طبیعت کا خیال رکھیں ۔
ہم اتوار کو آرہے ہیں اور ہاں آپ کے لیے ایک “سرپرائز” بھی ہے میرے پاس
یوشع کے لفظ سرپرائز پر عدن چونک پڑی
کیسا سرپرائز ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے بے ساختہ پوچھا
یہی کے بکری کے ساتھ ساتھ اس کی “مالکن” بھی انہیں پسند آگئی ہے _ ماما یہ لوگوں کی بچیوں پر آنکھ رکھتے ہیں
ان کے پیچھے جاتے ہیں _ کبھی میں نے ایسی حرکتیں کی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟ پھر بھی آپ میری تعریف نہیں کرتی یوشع نے عکاشہ کے منہ پر ہاتھ رکھا مگر وہ چیخ رہا تھا
ماما یہ بکواس کر رہا ہے آپ اس کی کسی بات پر دھیان مت دیں۔ میں ایسا نہیں ہوں یوشع نے کہتے ہوئے کال کاٹ دی۔
تیری تو کال بند کرتے ہی یوشع نے عکاشہ کی پٹائی شروع کر دی۔
🪄🪄🪄🪄🪄
عجیب شخص ہے پل میں تولہ پل میں ماشہ مگر میں کیوں اس کے بارے میں سوچ رہی ہوں کیا میں اسے مس کر رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟ ماہم نہ چاہتے ہوئے بھی عکاشہ کے بارے میں سوچ رہی تھی.
کس کے خیالوں میں گم ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ حرم نے چائے کی ٹرے کارپٹ پر رکھتے ہوئے ماہم کے آگے چٹکی بجائی.
کچھ خاص نہیں بس ویسے ہی ماہم کے جواب پر حرم نے اسے گھورتے ہوئے چائے کا کپ دیا.
میرے خیال سے بلکہ مجھے کافی حد تک یقین ہے کہ عکاشہ تمہیں سچ مچ پسند کرتا ہے مگر کہتا نہیں حرم کی بات پر ماہم کے چائے منہ سے باہر آ گئی.
اگر تم مزاق کر رہی ہو تو مجھے بلکل اچھا نہیں لگا لیکن اگر سیریس ہو تو ثبوت دو ماہم کی بات پر حرم کو حیرت ہوئی وہ تو سوچ رہی تھی کہ یہ برا منائے گی.
چاہے جانے کا احساس لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے ہی بہت خوش کن ہوتا ہے
حرم نے ماہم کو دیکھتے ہوئے کہا جس پر ماہم نے کندھے اچکا دیے.
دیکھو میں نے محسوس کیا ہے کہ وہ جب بھی مجھ سے بات کرتا ہے اس کی گفتگو کا محور صرف “تم” ہوتی ہو. آخر اسے تم میں دلچسپی ہے تو تب ناااااا حرم نے اپنا تجزیہ پیش کیا اگر ایسا ہے تو وہ مجھے اتنا ستاتا کیوں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ اور جان بجھ کر تمام وہ حرکتیں کرتا ہے جس سے مجھے تکلیف پہنچے جبکہ محبت کرنے والے شخص کو ہم تکلیف دے ہی نہیں سکتے. میں اس کے لیے صرف entertainment piece ہوں اور بس ماہم نے دکھ سے جواب دیتے ہوئے سر نفی میں ہلایا.
پتہ میرا بھی دل کرتا ہے کوئی ایسا ہو جس کے لیے میں بہت خاص ہوں.
جسے میرے ہونے نہ ہونے سے فرق پڑے _ جسے میں نخرے دکھاؤں تو وہ خوشی خوشی اٹھانے
جس سے میں جھوٹ بولوں تو وہ اسے سچ مانے مگر ماہم بولتے بولتے ایکدم خاموش ہو گئی.
مگر کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ حرم دلچسپی سے ماہم کے تاثرات نوٹ کر رہی تھی.
مگر میری زندگی میں ایسا کوئی نہیں ہے. ماہم نے منہ بناتے ہوئے چائے کا کپ ٹرے میں رکھا
یہ تو سب ہی چاہتے ہیں میں بھی
حرم نے کہا
نہیں تم میں اور مجھ میں بہت فرق ہے. میں شاید تمہیں سمجھا نہیں پا رہی ہوں.
تم اپنے والدین کو بہت یاد کرتی ہو. شاید اس لیے چھوٹی چھوٹی باتوں کو بہت محسوس کرتی ہو۔ حرم نے چائے کا گھونٹ بھرا۔
ورنہ اس دنیا میں سب ہی نامکمل ہیں۔ یقین مانو میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو بظاہر بہت زبردست زندگی بسر کر رہے ہیں. مگر جب ان سے بات کی جائے تو وہ اپنی زندگی سے مطمئن نہیں ہوتے.
اس لیے سب سے پہلے تم احساس کمتری سے باہر نکلو پلیزززز حرم کی باتوں پر ماہم نے سر ہلایا.
تم نے بات ہی ساری گھما دی میں یہ پوچھ رہی تھی کہ اگر عکاشہ تمہیں “پرپوز” کرے تو تمہارا جواب کیا ہو گا….؟
اچھا تو اتنے دنوں سے یہ سوال تمہارے دماغ میں گھوم رہا تھا….؟ ماہم نے اسے گھور کر دیکھا
ہاں بلکل
مجھے تمہارا ردعمل دیکھنا ہے. حرم پرجوش ہوئی.
تمہارے خیال سے میرا جواب کیا ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔؟ ماہم نے حرم کی دلچسپی دیکھتے ہوئے سوال کیا
یہ کوئی پوچھنے والی بات ہے. کنفرم “ہاں” حرم خوش تھی.
تو پھر میرا جواب “نہ” ہے ماہم نے اطمینان سے جواب دیا.
مگر کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ حرم کو شدید حیرت ہوئی
کیونکہ میں اس کے ساتھ اچھی نہیں لگوں گی. یہ ایک بےجوڑ شادی ہو گی اور جلد ہی ٹوٹ جائے گی
ماہم کے انتہائی سفاک تجزیہ پر حرم سکتے میں آ گئی.
تم صرف ایک ناشکری لڑکی ہو میں نے سوچا تھا کہ “ہم” دونوں کوشش کر کے تم دونوں کو ایک پیارے سے کپل کی شکل دیں گے مگر نہیں حرم افسوس سے سر ہلاتی ٹرے لے کر جانے لگی ہم سے کیا مراد ہے تمہاری ایک تو تم اور دوسرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ماہم کے لیے دوسرا شخص اہم تھا.
میں اور فائق حرم کا جواب ماہم کے لیے سرپرائز تھا. یہ سب کب ہوا
مجھے کیوں نہیں پتہ چلا _ مجھے بتائے بغیر ہی “ہم” ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم نے غصہ کیا ہم سنگل لوگوں سے بات نہیں کرتے. اگر تم ہم سے بات کرنا چاہتی ہو تو تمہیں بھی ہم ہونا پڑے گا حرم کے چہرے پر انوکھی خوشی تھی.
خیالی پلاؤ بنانا بند کرو. وہ جس کا نام عکاشہ ہے ناااا اسے آنے تو دو.
اس سے تم واقف نہیں ہو وہ خود تو ہم ہو گا نہیں الٹا تم سب کو بھی سنگل کر دے گا. ماہم نے ہنستے ہوئے انجوائے کیا.
ماہم کی بچی مجھے بددُعا دے رہی ہو
حرم جارحانہ عزائم سے واپس پلٹی
بددُعا نہیں دے رہی بتا رہی ہوں کیونکہ وہ ہر چیز کو الٹ پلٹ کر دیتا ہے اسے سیدھی چیزیں پسند نہیں.
اگر غلطی سے کسی دن اس سے کوئی سیدھا کام ہو گیا تو وہ معجزہ ہو گا _ ماہم دوبارہ اپنی کتابیں کھولنے لگی چلو دیکھتے ہیں کہ اس دفعہ کیا ہوتا ہے. محبت تو بڑوں بڑوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے یہ عکاشہ کس کھیت کی مولی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ حرم کی بات پر ماہم نے بےساختہ قہقہ لگایا یہ تمہیں اتنی ہنسی کس خوشی میں آ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ حرم نے پوچھا اگر عکاشہ سن لے کہ تم نے اس کا نام “مولی” رکھا ہے تو سوچو وہ تمہارے کیسے کیسے نام رکھے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ کیونکہ بنیادی طور پر یہ اس کی فیلڈ ہے بس مجھے یہ سوچ کر ہنسی آ رہی ہے. ماہم کے جواب پر حرم نے ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور کشن سے ماہم کو مارنے لگی. رہتی میرے ساتھ ہو اور ہمدردی دشمنوں سے غدار _ حرم کے بولنے پر ماہم سوری کہتی اپنے آپ کو بچانے لگی. 🪄🪄🪄🪄🪄 جو نیوز ابھی ابھی ٹی وی چینلز پر نشر ہو رہی تھی اس نے یوشع کے قدموں سے زمین کھینچ لی۔وہ ریموٹ پھینکتا ہوا بجلی کی تیزی سے اپنے کمرے سے نکلا بابا سائیں بابا سائیں زور زور سے باپ کو آوازیں دیتے ہوئے وہ ادھر ادھر دیکھنے لگا جس کی آواز پر بہت سے نوکر لیونگ روم میں اکٹھے ہو گئے تھے
نوید گاڑی نکالو عکاشہ کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ہم ابھی اسی وقت اسلام آباد جا رہے ہیں _
یوشع مسلسل موبائل پر کسی کا نمبر بھی ڈائل کر رہا تھا
کیا ہوگیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم کے پوچھنے پر یوشع نے ایک نظر اپنی ماں کو دیکھا جس کے پیچھے بڑی سرکار کی فکرمند شکل بھی نظر آ رہی تھی
مبارک ہو آپ لوگوں کی دلی مرادیں پوری ہوگئی ہے۔ عدن آنٹی کی یونی میں آگ لگی ہے اور ان کا فون رسپانس نہیں کر رہا ۔
جبکہ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی جو ابھی ابھی عکاشہ کے ساتھ ڈیرے سے گھر میں داخل ہوئے تھے یہ الفاظ سن کر سکتے میں آگئے۔
ماما کی یونی میں آگ
مگر کب _ کیسے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کے چیخنے پر حیدر آفندی کو ہوش آیا ۔ عکاشہ عدن کا نمبر ملانے لگا چلیں یوشع نے چلنے کا اشارہ کیا ۔ حیدر آفندی ابھی تک لیونگ روم کی دہلیز پر کھڑے تھے ۔
حیدر اور یوشع تم لوگ کہیں نہیں جاؤ گے۔ بڑی سرکار کی آواز پر یوشع پلٹا جبکہ عکاشہ نے کان ساتھ لگے فون پر زیادہ توجہ دی جو کسی نے اٹینڈ کر لیا تھا
ٹھیک ہے میں نہیں جاتا
یوشع کہتا ہوا صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گیا جب کہ حیدر آفندی نے حیرت سے بڑی سرکار کی طرف دیکھا
بڑی سرکار نے سب پر ایک مغرورانہ نظر ڈالی (جیسے جتلا رہی ہوں کہ میں کیا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟) اور اپنے کمرے کی طرف پلٹیں۔
میں جاؤں گا اور اگر آپ نے آج مجھے روکا تو میرا مرا ہوا منہ دیکھیں گی اسے میری دھمکی مت سمجھنا ۔
حیدرآفندی کی آواز نے گویا بساط ہی پلٹ دی یوشع داد دینے والے سٹائل میں صوفے سے اٹھا اور حیدر آفندی کے قریب پہنچا
امپریسو بابا جانی میں متاثر ہوا اور باپ کا کندھا تھپک کر باہر کی طرف بڑھ بڑھنے لگا ۔ اب تم بڑھاپے میں مجھے بلیک میل کروگے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی سرکار کی کاٹ دار آواز گونجی نہ میں نے آگے کبھی بلیک میل کیا ہے اور نہ اب کروں گا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مگر یہ سچ ہے کہ اگر آپ نے مجھے آج جانے سے روکا تو پھر آپ میرا مرا منہ دیکھیں گئی
حیدر آفندی کے جواب پر بڑی سرکار نے ایک نفرت بھری نظر عکاشہ پر ڈالی اور اپنے کمرے کی طرف چلی گئیں۔
یوشع مت جاؤ راشدہ بیگم نے سب کو جاتا دیکھ کر کمزور سی آواز میں اپنے بیٹے کو پکارا میں نہ جاتا مگر جتنا مان اس کے بیٹے نے آپ کو دیا ہے مجھے وہ لوٹانا ہے “یوشع حیدر آفندی” کسی کا ادھار نہیں رکھتا یوشع دروازے سے ہی جواب دے کر پلٹ گیا
یاررررر بھائی
آپ کو کم از کم بابا کی گاڑی میں آنا چاہیے تھا ۔وہ پریشان ہیں کہیں کچھ الٹا سیدھا نہ کردیں _ عکاشہ کو اپنے باپ سے ہمدردی ہوئی “سیدھے “ کا لفظ استعمال مت کرو۔ وہ ہمیشہ “الٹا”_ ہی کرتے ہے۔ مگر آج نہیں کریں گے۔ یوشع نے ڈرائیو کرتے ہوئے عکاشہ کو آنکھ ماری اگر میری ماں آپ کی وجہ سے “بیوہ” ہوئی تو میں “بکری کا بچہ” نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عکاشہ کی دھمکی پر یوشع نے قہقہ لگایا چھوٹی ماما آگے کون سی شادی شدہ زندگی گزار رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اور رہی بات “بکری کے بچے” کی تو اسے میں خود اپنے ولیمے پر ذبح کر دوں گا۔اب خوش یوشع نے عکاشہ کی گال پر چٹکی کاٹی
آپ کو سچ بتا دینا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کی بات یوشع نے مسکراتے ہوئے اسے دیکھا
تم چاہتے ہو کہ “فلم کا کلائمکس” خراب ہو جائے یار کم از کم ہیرو ہیروئن کا “ملن” تو زبردست ہونا چاہیے۔ یوشع نے کہتے ہوئے اپنی آنکھ ونک کی
ایسی حرکتیں کر کے آپ ثابت کر رہے ہیں کہ آپ بالکل(گدھے ہیں)
عکاشہ نے اپنی زبان کو لگام دی۔کیونکہ وہ پیدل یونی نہیں پہنچنا چاہتا تھا ۔
کہ میں بالکل تمہارا بھائی ہوں یوشع کے جواب پر عکاشہ ہنسنے لگا
دونوں گاڑیاں آگے پیچھے یونی پہنچیں۔ مگر وہاں کے حالات دیکھ کر حیدرآفندی حیران رہ گئے ۔
آگ کہاں لگی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدرآفندی نے انتہائی غصے سے یوشع کی طرف دیکھا جو عکاشہ کے ساتھ کھڑا انہیں کا انتظار کر رہا تھا ۔
یونی کے دوسرے کیمپس میں آگ لگی ہے مگر یہاں بھی ایک آگ ہے جسے صرف آپ بجھا سکتے ہیں۔
بابا سائیں میں نے عدن آنٹی سے وعدہ کیا تھا کہ میں آپ کو لے کے ان کی “دہلیز” پر آؤں گا مجھے بہت اچھا لگا کہ ابھی بھی آپ کے دل میں ان کی محبت زندہ ہے ورنہ آج آپ ایسے بڑی سرکار سے بات نہ کرتے ۔
یہاں تک آ ہی گئے ہیں تو ان سے مل لیں یوشع کہ جواب پر حیدر آفندی نے ایک زوردار تھپڑ اسے رسید کیا
شرم نہیں آتی ایسا مذاق کرتے ہوئے میں تمہارا باپ ہوں تم مجھے کیا سمجھتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یوشع نے خاموشی سے سر جھکا دیا کیونکہ اس وقت وہ حیدر آفندی کی ذہنی کیفیت سے بخوبی واقف تھا ۔
حیدرآفندی کچھ دیر سوچنے کے بعد یونی کے اندر چلے گئے۔جس پر عکاشہ شدید حیران ہوا
یہ ماما سے ملنے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ بے یقین تھا
نہیں اپنی بیگم سے
یوشع بالکل مطمئن گاڑی کے بونٹ پر چڑھ کر بیٹھ گیا
عکاشہ کچھ دیر یونی کے گیٹ کو دیکھتا رہا اور پھر خود بھی اندر جانے لگا
اب تم کہاں چل دیے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ؟؟ “دس سال” بعد جو دونوں مل رہے ہیں انہیں “دس منٹ” تو تنہائی کے دو _ یوشع کی آواز پر عکاشہ پلٹا بھائی یاررر وہ کیا ہے ناااا کہ ہمارے یہاں “بکری کا بچہ” نہیں ہوتا تو _
عکاشہ نے اپنی مسکراہٹ دبائی جبکہ یوشع اس کی بات کا مطلب سمجھ گیا۔
تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے نا سمجھی سے پوچھا
تو یہ کہ یہاں سگنلز نہیں آ رہے ہے عکاشہ نے اپنے موبائل کی طرف اشارہ کیا تیرے یا موبائل کے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کے پوچھنے پر عکاشہ قہقہ لگاتا ہوا یونی کی طرف بڑھ گیا کیونکہ آج اتنے دنوں بعد ماہم کو تنگ کرنا تھا ۔ کبھی کبھی محبت میں بندہ خامخواہ بدنام ہو جاتا ہے اب مجھے یہ ساری زندگی بکری کے بچے کا طعنہ دے گا. امثال بی بی بس کچھ دن اور
پھر میرا انتظار ختم اور تمہارا شروع _ اچھی لگو گی جب میں کمرے میں داخل ہوں گا تو تمہیں اپنا منتظر پاؤں گا. یوشع مسکراتا ہوا بونٹ سے چھلانگ مار کر اترا اور یونی کے گیٹ کی طرف چل دیا. عدن اپنے کام میں بری طرح مصروف تھی جب ایک جانی پہچانی سی خوشبو اس سے ٹکرائی ۔ حیدر بھی یہی پرفیوم استعمال کرتے ہیں کتنی پیاری خوشبو ہے عدن سوچتے ہوئے مسکرانے لگی
مگر پھر وہ خوشبو تیز سے تیز ہوتے ہوئے عدن کے قریب تر ہونے لگی جس پر عدن نے اوپر کی طرف دیکھا اور پھر دیکھتی ہی رہ گئی۔
“بس نظروں سے اوجھل ہونے کی دیر تھی لوگ یاداشت کے بڑےکمزور ثابت ہوئے” حیدر کی آواز پر عدن کو ہوش آیا
حیدر آپ __
عدن اپنی جگہ سے کھڑی ہو گئی ۔ جب کہ حیدر نے آگے بڑھ کے انہیں اپنے ساتھ لگا لیا
عدن کی آنکھوں سے پانی رواں تھا جس نے جلد ہی حیدر کی شرٹ بھگو دی۔بڑی لمبی مسافت تھی جو اب ختم ہوئی ۔
‏یونہی تو پلکوں پہ یاقوت نہیں آویزاں —
کچھ تو ہے جو میرے سینے میں پگھلتا ہوگا
🪄🪄🪄🪄🪄🪄