Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

سارا دن گزر گیا ہے اور آج تم نے باہر قدم نہیں رکھا. پتہ تمہارے چچا کتنے پریشان ہو رہے تھے. راشدہ بیگم نے بتول کے کمرے میں آتے ہی اس کی حالت سے بے خبر بولنا شروع کیا مگر جیسے ہی نظر اس کے چہرے پر پڑی ایک دم ان کی زبان کو بریک لگی.
تمہیں تو بہت تیز بخار ہو رہا ہے
انہوں نے پتول کو چھوا تو حرارت کا احساس ہوا ۔
کل پھر کھڑکی کھول کر سو گئی ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ لاپرواہی کی بھی حد ہوتی ہے راشدہ بیگم نے اٹھ کر کمرے کی کھڑکیوں کو چیک کیا جو خلافِ معمول بند تھی مجھے سمجھ نہیں آتا میں اکیلی سب کچھ کیسے کروں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ شادی میں دن ہی تھوڑے سے رہ گئے ہیں سوچا تھا آج تمہیں ساتھ لے کر شہر جاؤں گی اور تمہاری پسند کے کپڑے تمہیں لے دوں گی۔ آخر کو تم نے پہننے ہیں۔ میں نے تھوڑی _ راشدہ بیگم کی بات پر بتول کی آنکھیں گیلی ہونے لگی مگر وہ خاموش رہی
مجھے اتنی خوشی ہے کہ تم میری بہو بند رہی ہو
میرا ایک ہی بیٹا ہے اگر کوئی تیز طراز سی شہر کی پڑھی لکھی لڑکی آجاتی تو میرا کیا ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
لیکن شکر ہے کہ میرے یوشع نے تم سے شادی پر کوئی اعتراض نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اب ہم دونوں ماں بیٹی ساری زندگی مل کر رہیں گی
راشدہ بیگم نے بتول کا ماتھا چوم ۔اپنی خوشی میں انہیں محسوس نہیں ہوا کہ بتول نے آج ایک بھی لفظ ان کی باتوں کے جواب میں نہیں بولا ہے
میں تمہارے لیے کچھ کھانے کو لے کر آتی ہوں۔ بتاؤ کچھ میٹھا بنوا دوں یا مرچ مصالحے والا _ ویسے بیماری میں تو چٹ پٹا ہی کھانا اچھا لگتا ہے ۔ چچی جان اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ مجھے یہ شادی نہیں کرنی تو _ بہت ہمت جمع کرکے بتول نے گویا راشدہ بیگم کے سر پر بم پھوڑا۔
یہ کیا بات ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم نے پوچھا
میں یوشع سے شادی نہیں کرنا چاہتی وجہ یہ نہیں کہ مجھے یوشع سے مسئلہ ہے وجہ کچھ اور ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اگر آپ وعدہ کریں کہ کسی سے ذکر نہیں کریں گی تو میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں _
بتول نے ایک دم حیران پریشان سی راشدہ بیگم کے ہاتھ کو اپنے حرارت والے ہاتھوں میں لیا
یہ تم کیا بول رہی ہو اگر کسی نے سن لیا تو راشدہ بیگم پریشان سی ہو گئی تھی
آپ ایک دفعہ میری بات سن لیں پھر جو آپ کہیں گی میں وہی کروں گی
بتول کے منت بھرے لہجے پر راشدہ بیگم نرم پڑ گئی
🪄🪄🪄🪄🪄🪄
نوید کی طبیعت آج صبح سے ہی بہت بوجھل تھی اور احساس جرم سکون نہیں لینے دے رہا تھا
کیوں آخر کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ میں نے بی بی کے ارمانوں کا خون کیا وہ کتنے مان سے کہہ رہی تھی۔ نوید کبھی ٹہلنے لگتا تو کبھی بیٹھ جاتا ۔
باؤ نوید آپ کو یوشع سائیں نے ڈیرے پر یاد کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
نوکر کے کہنے پر نوید مردہ قدموں ساتھ ڈیرےکی طرف چل دیا جو اس کے جھونپڑی نما گھر کے بہت قریب تھا
سائیں آپ نے یاد کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے با ادب کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا
ہاں _ بیٹھو آج خلافِ معمول یوشع سگریٹ پی رہا تھا جس پر نوید کو شدید حیرت ہوئی
سائیں آپ تو یہ استعمال نہیں کرتے پھر
نوید نے یوشع کی انگلیوں میں جلتی سگریٹ دیکھ کر کہا
باؤ نوید تم سے ایک ذاتی کام پڑ گیا ہے یوشع نے نوید کی بات کو یکسر نظر انداز کیا
حکم سائیں ہم تو آپ کے نوکر ہیں
نوید کی بات پر یوشع نے مسکراتے ہوئے سگریٹ ایش ٹرے میں مسلا
مجھے ماسٹر کی بیٹی سے شادی کرنی ہے یوشع کی بات پر نوید اپنی جگہ پر کھڑا ہوگیا وہ تو سمجھا تھا کہ بتول کے بارے میں بات کرنا ہوگی مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ نکلا
مگر سائیں نوید نے ڈرتے ڈرتے مخاطب کیا ۔
میں نے تم سے کچھ مشورہ نہیں مانگا لہذا یہ “میں میں” بند کرو اور میری بات تفصیل سے سنو۔
اس سے پہلے نوید مزید کچھ کہتا یوشع نے اسے ٹوک دیا
جی سائیں نوید اپنی بےعزتی پر خاموش ہو گیا
وہ جو اس دن ہمیں لڑکی جھاڑیوں میں ملی تھی یاد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے نوید کی طرف دیکھا
سائیں اس کا نام امثال ہے نوید نے اپنی طرف سے اطلاع دی
ہاں وہی مجھے اس سے شادی کرنی ہے تم میرا پیغام ماسٹر تک پہنچاؤ گے ۔
اور ہاں بڑی سرکار کو بالکل پتہ نہیں چلنا چاہیے نہ اس بات کا اور نہ ہی بتول والی _
یوشع نے تنبہہ کی
جی سائیں نوید نے سر ہلایا
ٹھیک ہے اب تم جاسکتے ہو اور ہاں
اس سے پہلے کے نوید جاتا یوشع نے اسے روکا
میرا چھوٹا بھائی کچھ دنوں کے لیے گاؤں آ رہا ہے اس کے لیے حویلی کا مہمان خانہ سجا دو مگر اس بات کا علم بھی بابا اور بڑی سرکار کو نہ ہو یوشع نے دوسری سگریٹ سلگائی
امثال تم نے مجھے بے غیرت بولا ہے
ان چھوٹے لوگوں کو منہ لگاؤ تو یہ اپنی اوقات ضرور دکھاتے ہیں ۔
مجھے _ مجھے
یعنی “یوشع حیدر آفندی” کو یوشع نے زور سے ہاتھ میں پکڑا لائٹر دیوار پر دے مارا
پہلے بتول بی بی ریجیکٹ کر کے چلتی بنی اور اب امثال
ان دونوں کا تو میں وہ حشر کروں گا کہ یہ یاد رکھیں گی _ یوشع نے خود کو ریلکس کرنے کے لیے گہرا سانس لیا بڑی سرکار نے ہی ان کو قابو کیا ہوا ہے ورنہ تو یہ عورتیں پاگل کر دیں یوشع اونچی آواز میں خود کلامی کر رہا تھا جب کے باہر کھڑے اس کے نوکر یوشع کی حالت پر حیران تھے
باؤ نوید _ سائیں کو کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ایک ملازم نے نوید کے باہر نکلتے ہی رازداری سے پوچھا بڑے لوگوں کا کیا پتا چلتا ہے ابھی تولہ ابھی ماشا _ چچا میں تو خود آپ کی طرح ایک نوکر ہوں۔ نوید چپ چاپ ڈیرے سے نکل گیا
پتا نہیں یوشع سائیں نے بتول بی بی ساتھ کیا سلوک کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اگر پوچھا تو خدا جانے کیا مطلب ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
نوید نے بری طرح چکراتا ہوا اپنا اثر پکڑا۔کل رات سے وہ سو نہیں پا رہا تھا ۔
بی بی مجھے معاف کر دیں مگر یقین مانے میں نے آپ کے لئے بہترین سوچا تھا
نوید کو بتول کی غم زدہ آنکھیں بار بار اذیت دے رہی تھی
ایسا کرتا ہوں کہ حویلی کا چکر لگا کر آتا ہوں شاید کوئی خیر خبر مل جائے ہاں یہ ٹھیک ہے۔ نوید نے اپنی بے چینی کو کم کرنے کے لئے حویلی جانے کا فیصلہ کیا
🪄🪄🪄🪄🪄
میں نے ایک بات کہہ دیا ہے دوبارہ نہیں کہوں گی _
تم گاؤں نہیں جاؤ گے ۔
سمجھے میں تمہیں کھو نہیں سکتی۔ عدن کی آواز افسردہ ہو گئی۔
ماما میں بس سیر کرنے جا رہا ہوں۔ واپس آ جاؤں گا
عکاشہ نے مسز آفندی کو کندھوں سے پکڑ کر بیڈ پر بیٹھایا۔
تم بات کو سمجھتے کیوں نہیں ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ جب تک تمہارے بابا خود نہیں کہیں گے میں تمہیں وہاں نہیں بھیجوں گی۔ عدن کا انداز دو ٹوک تھا
اچھا ٹھیک ہے آپ نے کہہ دیا سمجھو کہ ہوگیا۔ آپ ٹینشن مت لیں ورنہ آپ کا بی پی ہائی ہو جائے گا عکاشہ نے محبت سے انہیں ساتھ لگایا
نہ ہی میں تمہاری شادی آفندی خاندان میں کروں گی کبھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن کے کہنے پر عکاشہ ہنسا
اچھا آج ہم دونوں ماں بیٹا فری ہیں تو کچھ دل کی باتیں کر لیتے ہیں عکاشہ کی بات پر عدن نے اسے گھور کر دیکھا
صاحبزادے میری اطلاع کے مطابق تم تو ہمیشہ ہی فری ہوتے ہو
اوہو ایک تو آپ ہر وقت استاد بنی رہتی ہیں کبھی تو صرف عکاشہ کی ماں بن جایا کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ عکاشہ نے گلہ کیا
میں ہر وقت تمہاری ماں ہی ہوتی ہوں عدن نے جتلایا
جی نہیں
آپ ہر وقت مسز آفندی ہوتی ہیں۔ عکاشہ کی بات پر عدن کے چہرے پر اداسی چھا گئی
آپ کو مسٹر حیدر بہت اچھے لگتے ہیں عکاشہ کے پوچھنے پر عدن زخمی سا مسکرائیں۔
ایسا کرتا ہوں۔ آج میں آپ کا انٹرویو لیتا ہوں۔ کیسا آئیڈیا ہے ایک دم زبردست نااااا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ ایک دم پرجوش ہوا
مسز آفندی آپ یہ بتائیں کہ مرد اور عورت دونوں میں سے کون محبت جیسی بیماری کا جلد شکار ہو جاتا ہے اور کیوں……؟ ؟؟ عکاشہ کے غیر متوقع سوال پر عدن سے اسے حیرانگی سے دیکھا
بتائیں ناااااا _
وہ بضد ہوا.
میرے خیال سے فیملیز اس جزبے کو زیادہ محسوس کرتیں ہیں. کیونکہ وہ زیادہ حساس ہوتیں ہیں عکاشہ کو عدن کا جواب پسند نہیں آیا.
یہ تو غلط بات ہے. مرد بھی بہت حساس ہوتے ہیں. ان کے پاس بھی دل ہوتا ہے. انھیں بھی کسی کے ہرٹ کرنے پر اتنا ہی دکھ ہوتا ہے جتنا کہ فیملیز کو
عکاشہ کے ناراض چہرے کو دیکھ کر مسز آفندی ہنس دیں.
میں نے صرف اپنی رائے دی ہے. اگر تم اس طرح منہ بناؤ گے تو پھر میں کسی سوال کا جواب نہیں دوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
ایک تو آپ فوراً بلیک میلنگ پر اتر آتیں ہیں. خیر دوسرے سوال کا جواب دیں.
اس بات کا کیسے اندازہ ہوتا ہے کہ فلاح شخص آپ کو بہت اچھا لگ رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ عکاشہ کے سوال پر عدن نے اسے مشکوک نظروں سے دیکھا
یہ تم میرا انٹرویو کر رہے ہو یا اپنے کسی مسئلے کا حل تلاش مسز آفندی کی بات پر عکاشہ نے قہقہ لگایا
اسی لیے میں پڑھی لکھی ماں کے خلاف ہوں _
اور ہنستا چلا گیا.
عکاشہ مجھے اصل بات بتاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟ مسز آفندی اب بلکل سیریس تھیں.
جب کوئی بات ہو گی تو سب سے پہلے آپ کو ہی بتاؤں گا ابھی تو مجھے خود بھی کنفرم نہیں مگر عکاشہ نے سوچنے کی ایکٹنگ کی.
آپ کےخیال سے کیا مجھے ماہم سے محبت ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ عکاشہ نے کچھ دیر سوچنے کے بعد پوچھا
محبت تو کسی سے بھی ہو سکتی ہے مگر وہ لڑکی
مسز آفندی کچھ چپ سی ہو گئیں.
مجھے اسے تنگ کر کے سب سے زیادہ مزہ آتا ہے اور اگر وہ چھٹی کرے تو میرا دن اداس گزرتا ہے. مجھے اس کی کزن بہت بری لگتی ہے ہر وقت اس کے ساتھ چپکی رہتی ہے. کزن ہونا کا یہ مطلب تو نہیں کہ آپ دوسرے کی آکسیجن ہی بند کر دیں. یہ کزن لوگ بھی ناااااا _ عکاشہ کہتے کہتے رکا
میرے خیال سے ہم استاد شاگرد ماں بیٹا بعد میں ہیں اور ایک اچھے دوست پہلے لہذا یہ اگر مگر چھوڑ کر صاف بات کرو. یوں گھمانے پھرانے کی ضرورت نہیں آپ کا انجام دیکھ کر محبت کرنے کو دل نہیں کرتا مگر عکاشہ نے ایک گہرا سانس کھینچا
مگر کیا
مسز آفندی نے پیار سے اس کے ماتھے پر آنے بال پیچھے کیے.
مگر یوشع بھائی کہتے ہیں کہ میری حرکتوں سے لگتا ہے کہ میں اس لڑکی سے محبت کرتا ہوں جبکہ مجھے ایسا محسوس نہیں ہوتا _ عکاشہ الجھا ہوا تھا. تم خود کو تھوڑا وقت دو پھر سب کچھ کلئیر ہو جائے گا. مسز آفندی کی بات پر عکاشہ نے سر ہلایا. ایک اور مسئلہ بھی ہے ناااااا _ اگر ایک ساتھ مجھے دو لڑکیوں سے محبت ہو گئی تو……. ؟؟؟ عکاشہ ابھی بھی سیریس تھا.
عکاشہ اور کچھ نہیں تو محبت ڈھنگ سے کرنا. مسز آفندی نے ڈانٹا.
اب اتنی پیاری پیاری لڑکیاں ہیں اوپر سے “اللہ جی” نے بھی اجازت دے رکھی ہے تو آپ کا غصہ ناجائز ہے عکاشہ کی معصومیت پر عدن کا دل کیا اسے دو تھپڑ لگائے.
چلو ہٹو. مجھے کام کرنے دو تمہاری ٹرین پٹری سے نیچے اتر گئی ہے مسز آفندی اسے پیچھے کرتیں ہوئیں بستر سے کھڑی ہو گئیں.
🪄🪄🪄🪄🪄
ماسٹر جی میں ایک بہت ضروری کام سے آپ کے پاس آیا ہوں اگر کچھ وقت مل جائے تو
نوید نے آہستہ آواز میں سلام کرنے کے بعد کہا
برخردار آپ کھل کر بات کر سکتے ہیں ماسٹر جی کے جواب پر نوید نے کلاس میں موجود بچوں کی طرف دیکھا
نوید یہ معصوم بچے ہیں اور ایسا بھی کیا ہے جو تم اتنا کترا رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ ؟؟ ماسٹر جی تھوڑے حیران تھے.
ماسٹر جی یہ سب تقریباً ہمارے گاؤں کے بچے ہیں. جو بات میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں اگر ان میں سے کسی نے سن لی تو شام تک پورے گاؤں میں پھیل جائے گی. جو میں نہیں چاہتا
نوید کی بات پر ماسٹر جی کچھ پریشان سے ہو کر اسے کلاس سے دور لے آئے.
ہاں اب بولو کیا بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ ماسٹر جی نے بےتابی سے پوچھا
میں نے آپ کو بتایا تھا ناااا کہ اس دن بھی یوشع سائیں آپ سے ملنے آپ کے گھر گئے تھے مگر آپ سے ملاقات نہ ہو سکی.
نوید بات سیدھی کرو اور جلدی مجھے کام ہے دیکھو بچوں نے کتنا ادھم مچا دیا ہے. ماسٹر جی نے کلاس کی طرف اشارہ کیا جہاں بچے مستیاں کر رہے تھے.
یوشع سائیں آپ کی بیٹی امثال سے شادی کرنا چاہتے ہیں نوید کی بات پہلے ماسٹر جی پہلے ناسمجھی سے اسے دیکھتے رہے پھر اچانک بھڑک اٹھے.
یہ نہیں ہو سکتا امیر جب بھی کسی غریب گھر سے رشتہ کرتا ہے تو اس کے پیچھے “سازش” ہوتی ہے. اور تم اچھی طرح جانتے ہو مجھے اپنے سب بچوں میں سے امثال کتنی پیاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ ماسٹر جی ناراض ہو گئے. ارے آپ ناراض مت ہوں. میری اس میں کیا غلطی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ میں تو نوکر ہوں مجھے جو حکم ملا میں نے بس اس کی تکمیل کی ہے. اگر تم نے اپنے لیے رشتہ مانگا ہوتا تو خوشی خوشی ہاں کر دیتا کیونکہ تم مجھے بہت پیارے ہو مگر _ اب باری نوید کے پریشان ہونے کی تھی.
مجھے تم بہت بیٹوں کی طرح عزیز ہو. میں اپنی بیٹی کے لیے ایک ایسا ہی شخص چاہتا ہوں.
کاش تم نے اپنے لیے بات کی ہوتی تو آج میرے کندھوں سے ایک بوجھ اتر جاتا ماسٹر جی کی بات پر نوید نے سر جھکا لیا تم یوشع سائیں کو بول دینا کہ امثال کی بچپن میں منگنی ہو گئی تھی اس لیے میں معزرت خواہ ہوں __
ماسٹر جی نے ایک افسردہ نظر نوید پر ڈالی اور واپس کلاس کی طرف پمٹ گئے
🪄🪄🪄🪄
جاری ہے.