Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

جنوری کی شامیں دسمبر سے بھی زیادہ سرد ہوتیں ہیں اور آج تو ہوا کے ساتھ ساتھ بوندا باندی بھی جاری ہے بتول نے کھڑکی کے پاس کھڑے ہوتے ہوئے سوچا
آج صبح سے ہی میرا دل کچھ بےچین ہے. پتہ نہیں کیا ہونے والا ہے.
نوید بھی کتنے دن سے نہیں آیا ………. ؟؟؟ بتول دل میں سوچتی انگلیوں پر حساب لگانے لگی.
آہ پورے پانچ دن ہو گئے ہیں اس بےوفا کو دیکھے ہوئے. کیا پتہ آج آ جائے _ بتول نے سرد آہ بھرتے ہوئے کھڑکی کا پردہ سرکایا جہاں سے گیٹ اور اس کے آس پاس کا حصہ بلکل واضح نظر آتا تھا.
سارا دن کھڑکی پاس کھڑے ہو کر گزارا ہے. اب تو میری ٹانگیں بھی کھڑے ہو ہو کر تھک گئیں ہیں.
انتظار بہت ہی بری چیز کا نام ہے خاص طور پر جب اپنے محبوب کا ہو بتول سوچتی ہوئی پاس پڑے صوفے پر پاؤں اوپر کر کے بیٹھ گئی. جسم کو زرا سی حرارت ملی تو وہ کب نیند کی وادیوں میں نوید ساتھ سفر کرنے لگی اسے خود بھی پتہ نہ چلا. راشدہ بیگم کمرے میں داخل ہوئیں تو سرد ہوا کے جھونکوں نے ان کا استقبال کیا. عجیب پاگل لڑکی ہے. کھڑکی کھول کر سو رہی ہے _ راشدہ بیگم نے بڑبڑاتے ہوئے کھڑکی بند کی اور پردے گرا دیے. ہیٹر آن کیا اور بتول کو پیار سے پکارا.
بتول بیٹا یہاں کیوں سو رہی ہو ……… ؟؟؟
ارے تمہیں تو بخار ہو رہا ہے زرا اپنا چہرہ تو دیکھو _ کیسے بخار کی شدت سے دہک رہا ہے. راشدہ بیگم کی آواز پر وہ اپنی آنکھوں کو بمشکل کھولنے کی کوشش کرنے لگی. چچی آپ _ بتول نے انھیں دیکھتے ہی حیرت کا اظہار کیا.
صوفے پر سو رہی ہو ہیٹر بھی آن نہیں کیا اور کھڑکی بھی کھلی رکھی ہوئی تھی.
بیمار نہیں ہو گی تو اور کیا ہو گا ……… ؟؟؟
اپنے مرنے کا پورا بندوبست کیا ہوا ہے. ہم پر زرا رحم نہیں آتا کہ تمہارے بنا کءا کریں گے ……… ؟؟؟
راشدہ بیگم نے پیار سے بتول کو اپنے ساتھ لگایا.
چچی پتہ ہی نہیں چلا کب میری آنکھ لگ گئی بتول کچھ شرمندہ ہوئی.
تمہارا بخار تو تیز ہوتا جا رہا ہے اگر رات زیادہ طبیعت خراب ہو گئی تو
راشدہ بیگم کی بات پر وہ پھیکا سا مسکرائی.
میں یوشع کو کہتی ہوں تمہیں ہسپتال لے جائے چچی کی بات پر بتول نے بگڑے منہ ساتھ انھیں دیکھا میں بلکل ٹھیک ہوں. کچھ نہیں ہوا مجھے _ آپ فکر نہ کریں صبح تک بخار بھاگ جائے گا. بتول یوشع ساتھ کہیں بھی جانا نہیں چاہتی تھی.
میں صرف تمہاری چچی یا ساس نہیں ہوں میں تمہاری ماں بھء ہوں اور تم میری بیٹی چلو شاباش اٹھ کر چادر لو میں یوشع کو دیکھتی ہوں.
راشدہ بیگم نے الماری سے کالی شیشوں والی چادر نکال کردی.
مرے مرے قدموں سے وہ باہر آئی مگر ڈرائیونگ سیٹ پر کالے لباس میں ملبوس شخص کو دیکھ کر اس کے اندر زندگی کی لہر دوڑ گئی.
یوشع تو ابھی ابھی کسی کام سے باہر گیا ہے تو میں نے نوید کو کہہ دیا ہے _ تم پریشان مت ہو بڑا ہی نیک اور شریف بچہ ہے. راشدہ بیگم نے بتول کی آنکھوں میں حیرت دیکھ کر وضاحت دی اور اسے گاڑی کے اندر بٹھایا. بیٹا بی بی کو قریبی ہسپتال سے دوا لا دو. بہت بخار ہے اور احتیاط سے جانا _ راشدہ بیگم کی ہدایت پر نوید نے فرمانبرداری سے سر ہلایا اور بغیر پیچھے دیکھے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی.
تم بہت مغرور ہو ہم تمہاری جدائی میں بیمار پڑ گئے ہیں مگر تم نے عیادت کرنے کی زحمت نہیں کی. گاڑی کی خاموشی کو بتول کی آواز نے ختم کیا.
بی بی آپ کیوں مجھ غریب پر رحم نہیں کرتیں ………. ؟؟؟
آپ کیوں چاہتی ہیں کہ میرا جسم سائیں کے کتوں کی خوراک بنے ……… ؟؟؟
میرے گھر والوں کو سائیں اس گاؤں سے دھکے مار مار کر نکال دیں ……؟ ؟؟
آپ کیوں مجھ سے میری عزت، میری وفاداری اور میرا رزق چھیننا چاہتی ہیں.
میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے ……… ؟؟؟
میں انسان ہوں بہک جاؤں گا مت کیا کریں ایسا
نوید کے لہجہ میں شدید بےبسی تھی.
میں اپنی محبت کے ہاتھوں مجبور ہوں. تمہیں نہ دیکھوں تو میرا سر پھٹنے لگتا ہے.
پتہ آج صبح سے تمہارا انتظار کر کر کے مجھے سردی لگ گئی ہے. مگر تم نے ایک نظر دیکھنا بھی پسند نہیں کیا.
تمہیں بھی تو مجھ پر زرا ترس نہیں آتا اپنی بات کے آخر میں وہ خود ہی ہنسی
آپ بلکل غلط راستے پر چل رہیں ہیں. اس کی کوئی منزل نہیں. تھک جائیں گی. ابھی بھی وقت ہے لوٹ جائیں. نوید نے اب کی بار قدرے نرم لہجے میں سمجھایا
میں تمہیں اچھی نہیں لگتی ہوں پر میں کیا کروں ……… ؟؟؟
مجبور ہو جاتی ہوں
بتول کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ پانی بہنے لگا
(کون کافر ہے جو ایسی شریک حیات نہ چاہے گا ………. ؟؟؟مگر میں آپ کے قابل نہیں ہوں ہم سمندر کے دو کنارے ہیں کبھی مل نہیں سکتے. نوید نے بیک مرر میں اس پری وش کو روتا دیکھ کر سوچا)
آپ آگے ہی بیمار ہیں پلیززز روئیں نہیں طبیعت بگڑ جائے گی.
نوید کی بات پر بتول نے اپنے آنسو صاف کیے اور ایک شکوہ بھری نظر سے اس کی پشت کو دیکھا
اگر میرے آنسوؤں کی پرواہ ہوتی تو تم ایسے نہ ہوتے بتول اپنی سوچ پر خود ہی مسکرائی.
چلیں بی بی نیچے اتریں ہسپتال آ گیا ہے نوید نے مودبانہ انداز میں دروازہ کھول کر کہا
“‏علاج اس کا محبت ہے اور وہ لڑکی
فضول دوڑتی پھرتی ہے اسپتالوں میں”
🪄🪄🪄🪄🪄
امثال کب سے گیلی لکڑیوں کو آگ لگانے کی کوشش کر رہی تھی مگر ابھی تک وہ آگ لگانے میں ناکام تھی
بیٹا کیا بات ہے آج کھانا ملے گا یا نہیں ماسٹر اللہ داد نے پیار سے پوچھا
ابا کب سے کوشش کر رہی ہوں نگر آگ ہی نہیں لگ رہی
امثال نے رونی صورت ساتھ جواب دیا
تو اس میں رونے والی کیا بات ہے …….. ؟؟؟
ہم اپنے بیٹے کی مدد کر دیتے ہیں آگ جلانے میں آخر ہم نے بھی تو کھانا کھا کر سونا ہے. ماسٹر اللہ داد نے مسکرا کر امثال کو پیچھے کیا اور خود آگ جلانے لگے
ابا ایک بات پوچھوں
امثال کے دل میں جو سوال کافی دنوں سے پنپ رہا تھا وہ زبان پر آ ہی گیا
تمہیں بولنے کے لیے کب سے میری اجازت کی ضرورت پڑ گئی _ ؟؟؟ ماسٹر اللہ داد کی بات پر امثال نے منہ بنایا ابا یہ بڑی حویلی والے لوگ کیسے ہیں ……. ؟؟؟ امثال کے سوال پر ماسٹر اللہ داد کا ہاتھ ایک دم رک گیا اور انھوں نے عجیب نظروں سے امثال کی طرف دیکھا میں نے کچھ غلط سوال پوچھ لیا ہے شاید _ ابا کو یوں اپنی طرف دیکھتا دیکھ کر امثال نے بات بدلی
بیٹا آپ کا سوال کچھ غلط نہیں بلکہ پورا غیر ضروری ہے. جن چیزوں سے ہمارا کچھ لینا دینا نہ ہو اس کے بارے میں پوچھنا یا سوچنا فضول ہے.
سادہ الفاظ میں میرے بچے جس گاؤں جانا نہیں وہاں کا راستہ معلوم کرنے کا فائدہ _ ماسٹر صاحب نے پیار سے سمجھایا ابا میرا وہ مطلب نہیں تھا میں تو ویسے ہی سوچ رہی تھی کہ اتنی بڑی حویلی میں کتنے لوگ رہتے ہوں گے …….. ؟؟؟ امثال کو یوشع یاد آیا. جتنے بھی رہتے ہوں ہمیں اس سے کیا ……… ؟؟؟ ماسٹر صاحب نے پھونک مارتے ہوئے دھواں اڑایا جبکہ آگ بھڑکنے لگی ابا کیا یہ بڑے لوگ “رحمدل” ہو سکتے ہیں ……… ؟؟؟ امثال کے سوال پر ماسٹر صاحب خوب ہنسے یہ کیسا سوال ہوا …….. ؟؟؟ رحمدل تو کوئی بھی ہو سکتا _ رحمدلی کا تعلق امیری یا غریبی سے نہیں ہوتا اس کا تعلق دل سے ہوتا ہے. اچھے اور نرم دل والے دوسروں پر رحم کرتے ہیں جب کہ برے اور سخت دل والے دوسروں پر ظلم _ ماسٹر جی ساتھ ساتھ لکڑیوں کو پھونک بھی مار رہے تھے.
یہ لو بیٹا ہم نے آپ کو آگ جلا دی ہے اب آپ جلدی سے ہمیں روٹی بنا دیں ماسٹر جی نے چولہے کے پاس سے اٹھتے ہوئے امثال سے کہا
اگر تمہاری ماں آج زندہ ہوتی تو تمہیں اتنی مشقت نہ اٹھانی پڑتی مگر حکم اللہ کا
ماسٹر اللہ داد ایک دم اداس ہو گئے.
ابا ایسا مت کہا کریں. آپ ہماری امی بھی تو ہیں
امثال کی بات پر ماسٹر جی نے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا.
ابا آپ نے میرا نام بڑے لوگوں جیسا کیوں رکھا ہے …….. ؟؟؟ ہم تو غریب لوگ ہیں. کوئی عام سا نام رکھ دیتے.
امثال کی بات پر ماسٹر اللہ داد کھل کر مسکرائے.
کبھی نام بھی بڑے چھوٹے ہوتے ہیں آج کیسی باتیں کر رہی ہو ………. ؟؟؟
ماسٹر جی کی بات پر امثال تھوڑی شرمندہ ہوئی.
وہ کہتا ہے مجھے کیا پتہ …….. ؟؟؟ امثال نے بےساختہ اپنی زبان دانتوں میں لی. کون کہتا ہے …….. ؟؟؟ ماسٹر جی نے تعجب سے پوچھا کوئی نہیں آپ اندر چلیں میں روٹی بنا کر لاتی ہوں. امثال نے جلدی جلدی آٹے کے پیڑے کیے.
تمہارے پاؤں کا درد اب کیسا ہے ……. ؟؟؟ ماسٹر جی جانے لگے جب نظر پاؤں پر پڑی
پرانی بات ہے. وہ تو کب کا ٹھیک ہو گیا ہے نئی بات یہ ہے کہ میرے بازو پر چوٹ لگی ہے. امثال نے روٹی توے پر ڈالتے ہوئے مزے سے بتایا. بیٹا دیکھ کر کام کیا کرو اب کیسی طبعیت ہے …….. ؟؟؟ ماسٹر جی فکر مند ہوئے
ابا پریشان نہ ہوں میں بلکل ٹھیک ہوں. آخر میں امثال ہوں.
🪄🪄🪄🪄🪄
میں کب سے کہہ رہی ہوں کہ حارث کو فون کرو مگر مجال ہے جو زبیر صاحب کے کان پر جوں بھی ریگیں.
بچیاں ابھی تک نہیں آئیں مغرب ہونے والی ہے. کلثوم بیگم مسلسل زبیر صاحب کو کہہ کہہ کر ےنگ پڑ گئیں تھی اس لیے اب اپنے ساس سمیرا بیگم سے شکایت کرنے لگیں
بیٹا بہو بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے زرا پتہ تو کرو وہ لوگ کدھر رہ گئے ہیں آج سے پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا. سمیرا بیگم نے ٹی وی دیکھتے ہوئے زبیر صاحب کو مخاطب کیا.
اماں اس کا تو کام یہی ہے خود بھی پریشان ہونا اور دوسروں کو بھی کرنا.
جب حارث صبح کہہ رہا تھا کہ وہ آج لیٹ ہو جائے گا تب یہ سو رہی تھی ……؟ ؟؟
زبیر صاحب نے ایک غصیلی نظر سمیرا بیگم پر ڈالی
پھر بھی تم ایک دفعہ فون کر لو. زمانہ بہت خراب جا رہا ہے.سمیرا بیگم کے کہنے پر چارو نا چار زبیر صاحب نے حارث کو کال کی.
بیٹا کہاں رہ گئے ہو ……… ؟؟؟
تم جانتے تو ہو اپنی ماں کو _ اس نے ہم سب کا جینا حرام کیا ہوا ہے.
زبیر صاحب کی بات سن کر حارث نے گھڑی کی طرف دیکھا جہاں شام کے 6 بجنے والے تھے.
سوری بابا مجھے کام میں وقت گزرنے کا اندازہ ہی نہیں ہوا. میں ابھی نکلتا ہوں.
حارث باپ کو تو مطمئن کر چکا تھا مگر اب اس کے اپنے پسینے چھوٹنے لگے تھے.
یہ ابھی تک گھر نہیں پہنچیں حالانکہ میں نے حرم کو فون کر کے بتا دیا تھا کہ مجھے زیادہ دیر ہو جائے گی تم لوگ کیپ کرا کر گھر چلی جاؤ ___
حارث خود کلامی کرتا ہوا حرم کا نمبر ڈائل کرنے لگا.
🪄🪄🪄🪄🪄
جاری ہے.