Do Dil By Amna Mehmood Readelle50150 Episode 7
Rate this Novel
Episode 7
میں کسی بھی صورت یوشع سے شادی نہیں کروں گی _ بتول اپنی کمرے میں چکر کاٹتے ہوئے مسلسل بڑبڑا رہی تھی۔ کاش آج میرے ماں باپ زندہ ہوتے ۔تو مجھے اتنی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑتا اب میری بات یہاں پر سننے والا کوئی نہیں ہے۔ میں کیا کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ایسا کرتی ہوں کہ نوید سے بات کرتی ہوں ۔مگر کوئی فائدہ نہیں بتول نے کچھ سوچتے ہوئے خود ہی اپنی بات کی نفی کی
میرے خیال سے مجھے یوشع سے بات کرنی چاہیے ۔بھلا اسے گاؤں کی لڑکی میں کیا دلچسپی ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ہاں یہ ٹھیک ہے۔ وہ سوچتی ہوئی یوشع کے کمرے کی طرف چل پڑی کیونکہ یہ ایک آخری امید تھی ۔
یوشع جو سلیپنگ ڈریس پہنے سونے کی تیاری کر رہا تھا۔ دروازے پر ہوتی دستک سے چونکا اور بے ساختہ گھڑی کی طرف دیکھا جہاں رات کے دس بج رہے تھے۔
آجائیں اجازت ملتے ہی بتول ڈری سہمی سی اندر داخل ہوئی۔ جسے اس وقت اپنے کمرے میں دیکھ کر یوشع کو شدید حیرت ہوئی کیونکہ آج سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا ۔
بتول آپ اور اس وقت خیریت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع جو بستر پر نیم دراز تھا اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
بتول کو اب اپنے آنے پر شرمندگی سی ہونے لگی شاید اس نے غلط فیصلہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
شدید سردی کے باوجود بھی اس کی ہتھیلیوں میں پسینہ آنے لگا۔ نگاہ مسلسل یوشع کے پاؤں پر تھی۔
آپ کی طبیعت ٹھیک ہے ناااااا آئیں بیٹھیں۔ یوشع نے بتول کی گھبراہٹ کو کم کرنے کے لئے دوستانہ لہجہ اپنایا۔
وہ دراصل میں ایک بہت ضروری بات کرنا چاہتی ہوں۔ آپ پلیز برا مت منائیے گا ۔یہ ہم دونوں کے فائدے کی بات ہے۔
بتول نے یوشع کو دیکھنے سے اجتناب کیا جبکہ یوشع بڑی دلچسپی سے اس کے تاثرات دیکھ رہا تھا جو پل پل بدل رہے تھے ۔
میں آپ سے شادی نہیں کرنا چاہتی۔ آپ پلیز اس شادی کے لئے منع کردیں بتول کی بات پر یوشع نے اسے مشکوک نظروں سے گھورا
یہ کام تو آپ خود بھی کرسکتی ہیں مشورہ دیا
اگر میں خود کر سکتی تو آپ کو کبھی نہ کہتی ۔اگر میں نے انکار کیا تو بڑی سرکار بتول نے بے چارگی سے پہلی بار یوشع کی طرف دیکھا
سوری مجھے افسوس ہے کہ آپ نے پہلی بار مجھے کوئی کام بولا ہے مگر میں آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتا ۔
اگر اس کے علاوہ کوئی کام ہو تو میں حاضر ہوں یوشع نے پاؤں ہلاتے ہوئے بے نیازی سے جواب دیا جو اب اس کے سامنے بیٹھا اسے گھور رہا تھا۔
دیکھیں پلیز میری مدد کریں ۔ ۔ آپ باہر سے اتنا پڑھ لکھ کر آئیں ہیں _ بھلا ایک گاؤں کی لڑکی سے شادی کرتے اچھے لگے گے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع پہلی بتول کی بات پر بےسختہ مسکرایا یہ کہاں لکھا ہوا ہے کہ آکسفورڈ کا پڑھا لکھا ایک گاؤں کی لڑکی سے شادی نہیں کرسکتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اور رہی بات اچھی لگنے کی تو “یوشع حیدر” ہر حال میں اچھا لگتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ میری کوئی مدد نہیں کریں گے _ بتول نے صوفے سے اٹھتے ہوئے آخری بار پوچھا
میرے خیال سے میں اردو ہی بولتا ہوں یوشع نے سر کھجایا۔
آپ کسی کو پسند کرتیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ پتول کے جاتے ہوئے قدم یوشع کی آواز پر رکے۔
نہیں ایسا کچھ نہیں ہے بتول کو اس وقت اپنے دل کی دھڑکن صاف سنائی دے رہی تھی۔
ایسا ہی ہے یوشع قدم قدم چلتا ہوا بتول کے برابر اکھڑا ہوا
میں نے کہا نہ ایسا کچھ نہیں ہے۔ آپ مجھ پر الزام لگا رہے ہیں بتول کا چہرہ لال دھواں دھواں ہو رہا تھا وہ تیزی سے نفی میں سر ہلانے لگی
اگر آپ مجھے سچ نہیں بتائیں گی تو میں وہ بات جو آپ نے ابھی تھوڑی دیر پہلے کہیں صبح بڑی سرکار کو بتا دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
آپ اچھی طرح جانتی ہیں کہ بڑی سرکار میری بات پر آنکھ بند کر کے ایمان لاتیں ہیں چاہے وہ جھوٹ ہی کیوں نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یہ تو پھر سچ ہے سوچ لیں یوشع کی بات ہے پر بتول کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا۔
آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے بتول نے مان سے کہا
میں بالکل ایسا ہی کروں گا اور پھر آپ کے ساتھ جو بڑی سرکار کریں گی وہ آپ مجھ سے بہتر جانتی ہیں یوشع کی بات پر بتول کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا
مجھے چکر آ رہے ہیں بتول نے بے ساختہ اپنا سر پکڑا۔
آپ چکر دے رہی ہیں یوشع اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہیں ہٹا
بتول آپ مجھے بتائیں بغیر اس کمرے سے باہر نہیں جا سکتیں _ اس سے پہلے بتول دروازہ کھولتی یوشع نے ہنڈل پر ہاتھ رکھ دیا۔ پلیزززز بتول نے بےبسی سے یوشع کو دیکھا
ٹھیک ہے اگر آپ کسی کو پسند نہیں کرتیں بقول آپ کے تو پھر آپ کو اس شادی پر کوئی اعتراض بھی نہیں ہونا چاہیے۔
اگر آپ کسی کو پسند کرتی ہیں تو بتا دیں شاید پھر میں اس شادی سے منع کر دوں۔
مگر شرط یہ ہے کہ وہ شخص مجھ سے بہتر ہو گا یوشع کی باتیں بتول کی حالت خراب کر رہی تھی۔
کچھ بھی تھا نوید بہرحال یوشع سے بہتر نہیں تھا مگر بتول نے دل میں سوچا
مجھے کوئی پسند نہیں ہے اور مجھے اس شادی سے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے وہ تو میں آپ کے لئے کہہ رہی تھی بتول کی بات پر یوشع نے ہنڈل سے ہاتھ اٹھا لیا
بڑی سرکار بالکل ٹھیک کہتی ہیں۔ یہ لڑکی اتنی معصوم نہیں جتنی نظر آتی ہے ۔
مگر سوچنے والی بات یہ ہے کہ اتنے سخت ماحول میں اسے “عشق” ہو کیسے گیا اور کس سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یوشع نے بتول کے جاتے ہی اپنی عقل کے گھوڑے دوڑائے۔
🪄🪄🪄🪄
عکاشہ تم دن بدن بتمیززز ہوتے جا رہے ہو آج پھر تم نے کمپیوٹر لیب میں کیا کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ مسز آفندی شدید غصے میں تھیں.
پیاری ماما جانی آپ اس وقت گھر میں ہیں اس لیے یونی کو چھوڑیں وہاں کیا، کب اور کیسے ہوا بعد میں پوچھ لینا.
ابھی مجھے شدید بھوک لگی ہے. سینڈوچ بنا دیں. میں تھک گیا ہوں. عکاشہ نے صوفے پر پھیلتے ہوئے کہا
بس ہر وقت سینڈوچ ہی کھاتے رہا کرو باقی کھانے تو تمہیں ڈاکٹر نے منع کر رکھے ہیں.
مسز آفندی بڑبڑاتی ہوئی کچن میں چلی گئیں.
اب آپ صرف سینڈوچ ہی مزے کا بناتیں ہیں تو اس میں میرا کیا قصور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
عکاشہ نے شرارت سے کہا اور ریموٹ سے ٹی وی آن کیا.
یوشع میرے کھانے کی اتنی تعریفیں کرتا ہے حیدر کو بھی میری کوکنگ بہت پسند ہے مگد تم مسز آفندی نے ایک افسوس بھری نظر عکاشہ پر ڈالی.
ماں کے بارے میں بکواس کرتے ہوئے شرم آتی ہے کم از کم ماں کو تو بخش دیا کرو. مسز آفندی نے غصے سے کہا
یوشع اور حیدر صاحب کا قیامت والے دن الگ سے حساب ہو گا _ دونوں تعریفیں کر کے خود سائیڈ پر ہو گئے ہیں اور مجھ معصوم کو پھنسا دیا ہے.
ان دونوں کو اگر صرف ایک مہینہ آپ کے ہاتھ کا کھانا کھانے کو ملے تو میں “حلفیہ قسمیہ” کہہ سکتا ہوں کہ ان کی رائے میرے جیسی ہو جائے گی.
عکاشہ مسز آفندی نے اسے ٹوکا
ویسے بڑے دن ہوگئے ہیں آپ کے محبوب کا فون نہیں آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
اللہ جانتا ہے اگر میں نے اپنی ان خوبصورت آنکھوں سے آپ دونوں کا نکاح نامہ نہ دیکھا ہوتا تو _ یوں آپ کو چھپ چھپ کر بات کرتا دیکھ کر کچھ اور ہی سمجھتا.
عکاشہ نے قہقہ لگایا جبکہ مسز آفندی نے کچن سے چمٹا پھینکا
خدا کے لیے یہ عادت تو بدل لیں کسی دن میں ان چیزوں کی ضد میں آ گیا تو یقیناً اپنی کسی خاص چیز سے محروم ہو جاؤں گا.
عکاشہ نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ مسز آفندی کا فون بجا.
دیکھو کس کا فون ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
میرے ہاتھ صاف نہیں مسز آفندی نے سینڈوچ کی طرف اشارہ کیا.
ایک تو آپ مجھے اپنا ڈرائیور، موچی، پلمبر، لانڈری والا، فون آپریٹر اور نجانے کیا کیا سمجھتیں ہیں.
نہیں سمجھتیں تو بیٹا نہیں سمجھتیں عکاشہ بولتا ہوا کال رسیو کرنے لگے مگر پھر رک گیا.
آپ کے محبوب کا فون ہے اٹھا لوں _ عکاشہ نے کچن کے دروازے میں کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا
تمہارے باپ کا بھی ہے بس سینڈوچ تیار ہونے والا ہے. میں زرا انڈہ فرائی کر لوں.
مسز آفندی نے خوشدلی سے جواب دیا مگر فون بج بج کر بند ہو گیا.
سوری میں نہیں اٹھا سکتا وہ اس وقت اپنی بیگم سے رومنس کرنے کے موڈ میں ہوں گے اور میری آواز سنتے ہی عکاشہ کہہ کر قہقے لگانے لگا
بہت بےشرم ہو مسز آفندی نے سینڈوچ کی پلیٹ عکاشہ کو تھمائی اور خود کیچپ پکڑ کر باہر آ گئیں.
آپ بھی کھائیں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ عکاشہ نے حیرت سے پوچھا
ظاہری سی بات یے اب میں اپنے لیے الگ سے تو کچھ بنانے سے رہی مسز آفندی نے کہتے ہوئے سینڈوچ اٹھا تبھی فون دوبارہ بجا
کہاں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟ ؟ وہی مہربان لہجہ
وہ عکاشہ کے لیے سینڈوچ بنا رہی تھی نہایت فرمانبرداری سے جواب دیا
اچھا وہ گھر پر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی حیران ہوئے.
جی _ یک لفظی جواب دیا
میری اس سے بات کرائیں حیدر آفندی کے کہنے پر مسز آفندی نے عکاشہ کی طرف دیکھا جو مسلسل نہ میں گردن ہلا رہا تھا.
عدن بات کرائیں دوسری طرف سے اصرار کیا گیا.
وہ ابھی واش روم گیا ہے آتا ہے تو بات کراتی ہوں مجبوراً مسز آفندی نے جھوٹ بولا جس پر عکاشہ نے داد دی.
عدن آپ نے اولاد کی خاطر جھوٹ بولنا سیکھ لیا ہے حیدر آفندی نے سرد لہجے میں کہا
نہیں وہ اصل میں مسز آفندی کو بہت افسوس ہوا
رہنے دیں میں جانتا ہوں وہ مجھ سے بات کرنا نہیں چاہتا حیدر آفندی کے جواب پر عکاشہ نے خاموش تالیاں بجائیں.
ایم سوری حیدر _ مسز آفندی دکھی ہو گئیں.
کوئی بات نہیں اپنا خیال رکھا کریں _مجھے ہر پل آپ کی فکر رہتی ہے. حیدر آفندی نے کہہ کر فون بند کر دیا.
وہ ناراض ہو گئے ہیں مسز آفندی نے آنسو بھری آنکھوں سے عکاشہ کو دیکھا
وہ راضی کب تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ عکاشہ نے منہ صاف کرتے ہوئے ٹشو پیپر پھینکا۔
پھر روتی ہوئی عدن کی طرف دیکھا _ آپ جیسے لوگوں کے لیے کسی نے کیا خوب کہا ہے
” ہم اکثر اپنے چاہنے والوں کی لمبی قطار کو چھوڑ کر اُس ایک شخص کے پاس ذلیل ہونے کو پُہنچ جاتے ہیں جِسے ہماری پرواہ تک نہیں ہوتی! ۔ “
اور لاؤنچ سے چلا گیا جبکہ عدن کی آنکھوں میں برسات جاری تھی۔
🪄🪄🪄🪄🪄🪄
باؤ نوید جیپ تیار کرو آج ہم سکول کا دورہ کریں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
یوشع کے حکم پر نوید نے بندے اور جیپ تیار تو کر لی مگر دل عجیب سی الجھن کا شکار تھا کہ یوشع سائیں کو اچانک سکول کے دورہ کا خیال کیسے آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
گاؤں کی کچی پکی گلیوں سے جیپ گرد اڑاتی جا رہی تھی.
سائیں سکول کی عمارت کافی بوسیدہ ہے. بچے زیادہ تر صحن میں لگے پیپل کی چھاؤں میں پڑھتے ہیں.
فرنیچر کے نام پر صرف ایک کرسی ہی ہے. جو ماسٹر جی اپنے بیٹھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں.
اگر آپ سکول کے لیے گرانٹ منظور کروا دیں تو آنے والی نسلیں آپ کو دعا دیں گی.
تمہیں کس نے کہا ہے کہ میں سکول کے مسائل حل کرانے کے لیے جا رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
یوشع کے جواب پر نوید حیران ہوا مگر بولا کچھ نہیں.
بڑی سرکار کو بلکل پسند نہیں ہے کہ سکول کو کسی بھی قسم کی گرانٹ دی جائے انھیں لڑکیوں کا پڑھنا سخت ناپسند ہے اور میں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتا جس سے وہ ناراض ہوں. میں صرف اس ماسٹر نامی مخلوق سے ملنا چاہتا ہوں. دیکھو تو سہی کہ کیا چیز ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ تمہارے سمیت سارے گاؤں والے ہی ماسٹر جی ماسٹر جی کی رٹ لگائے رکھتے ہیں.
سائیں سکول کی حالت اتنی اچھی نہیں ہے آپ کے جوتے اور کپڑے خراب ہو سکتے ہیں.
اگر آپ نے صرف ماسٹر جی سے ہی ملنا ہے تو ان کے گھر چلتے ہیں وہ قریب بھی ہے اور سکول سے بہتر بھی نوید کی بات پر یوشع مسکرا دیا.
چل باؤ نوید تیری بات مان لیتے ہیں _ اسی بہانے اس لڑکی سے ملاقات بھی ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟ ؟؟ یوشع نے دل میں سوچا
سائیں ماسٹر جی کا گھر آ گیا ہے. آگے کیا حکم ہے آپ اندر جائیں گے یا انھیں باہر بلا لوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ نوید نے جیپ کو روکتے ہوئے پوچھا
یوشع کو نوید کی بات پر حیرت کا شدید جھٹکا لگا
یہاں گھر کونسا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
یہ سب تو دیکھنے میں _ یوشع نے بمشکل سخت الفاظ استعمال کرنے سے گریز کیا.
سائیں یہ سامنے والا ان کا گھر ہے نوید نے انگلی سے جس طرف اشارہ کیا تھا یوشع نے اس سمت دیکھا
سنگل سٹوری، کچا مکان اور دروازے کے نام پر ٹین کی ایک چادر تھی.
ماسٹر کے حالات کافی پتلے لگتے ہیں یوشع نے تبصرہ کیا جس پر نوید نے سر ہلایا.
سرکار میرے خیال سے میں یہیں ماسٹر جی کو بلا لاتا ہوں نوید کہتا ہوا جیپ سے اتر گیا جبکہ یوشع کے بندے پچھلی جیپ میں تھا.
گلی میں دیکھتے دیکھتے ہی بچوں، بڑوں کی رش لگ گئی جبکہ عورتیں منہ ڈھانپے دروازوں سے لٹک رہیں تھیں.
دھوپ اور مکھیوں کی وجہ سے یوشع کو شدید کوفت ہو رہی تھی. تھوڑی دیر بعد دروازے سے اکیلے نوید کو نکلتا دیکھ کر یوشع کو غصہ آ گیا.
سائیں ماسٹر جی کی بیٹی بیمار ہے وہ اسے لے کر ہسپتال گئے ہیں نوید نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی.
خامخواہ تم نے میرا وقت ضائع کیا یوشع کا موڈ خراب ہو گیا
معزرت چاہتا ہوں سائیں مگر وہ ماسٹر جی کی بچی سے بھینس بندھ نہیں رہی تھی تو میں نے مدد کر دی. نوید کے جواب پر یوشع نے ایک غصیلی نظر سے اسے دیکھا مگر اگلے ہی پل چونکا
باؤ نوید تمہاری منگنی ہو گئی ہے _ ؟؟؟ یوشع کہ یوں پوچھنے پر نوید حیران ہوا
نہیں سائیں ابھی نہیں ہوئی. نوید نے سامنے سڑک پر دیکھتے ہوئے جواب دیا.
اچھا ایک بات بتاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یہ بتول بی بی کو کہیں بھی لانے اور لے جانے کا کام تم ہی کرتے ہو تو کبھی تم نے ان کے آس پاس کسی مرد کو دیکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
یوشع کے سوال پر نوید نے بےساختہ بریک لگائی جس پر جیپ گھوم گئی اور دونوں کے سر ڈیش بورڈ سے ٹکرائے۔
سوری سائیں میرا دھیان کہیں اور چلا گیا تھا. آپ کو چوٹ تو نہیں لگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
نوید نے فوراً معزرت کی اور یوشع کی طرف دیکھا جو اپنا ماتھا سہلا رہا تھا.
مجھے تو نہیں مگر تمہارے ماتھے سے خون نکل رہا ہے یوشع کے اشارے پر نوید نے اپنے ماتھے کو ہاتھ لگایا.
سائیں آپ کیا پوچھ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
نوید نے اپنے تاثرات نارمل کرتے ہوئے پوچھا
دفع کرو تم پہلے ہسپتال کی طرف جیپ موڑو ، اتنا خون بہہ رہا ہے. میرے خیال سے تمہیں ٹانکےلگیں گے _ یوشع کی بات پر نوید نے فوراً عمل کیا مگر دل کسی انہونی کی طرف اشارہ کر رہا تھا
“بتول بی بی آپ کی محبت کہیں میرے لیے سزائے موت نہ ٹھہرے.”
نوید دل میں بتول سے مخاطب ڈرائیونگ کر رہا تھا
🪄🪄🪄🪄🪄🪄
جاری ہے
