Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

ہاں بولو کیا کہنا چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ بڑی سرکار نے یوشع کی سفارش پر بتول سے پوچھا ورنہ وہ بتول سے بات نہیں کرنا چاہتیں تھیں جبکہ بتول نے یوشع کی طرف دیکھا جو آنکھوں سے بولنے کا اشارہ کر رہا تھا.
وہ میں عکاشہ یا یوشع _ میرا مطلب ہے کہ میں ان دونوں کو پسند نہیں کرتی اس لیے میں ان میں سے کسی سے بھی شادی نہیں کر سکتی ہوں. بتول کی بات پر بڑی سرکار نے اسے ایسے دیکھا جیسے یقین کرنا چاہ رہی ہوں کہ یہ بات کون کہہ رہا ہے..؟ تمہارا دماغ تو درست ہے . یہ کیا بکواس کر رہی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ اول تو ہمارے خاندان کی لڑکیاں اپنی شادی کے بارے میں بلکل خاموش رہتیں ہیں. دوسرا یوشع اور اس بندر میں کیا کمی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ؟ بڑی سرکار ایک دم سانپ کی طرح پھنکاری. کمی تو مجھ میں بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول کے جواب نے بڑی سرکار کو پتنگے لگا دیے. گستاخ _ بتمیززز اب اس لڑکی کو سزا ملے گی کیونکہ اس نے اپنے مرحوم باپ کی خواہش سے انکار کیا ہے.
کیا تجھے معلوم نہیں کہ اس کی کیا خواہش تھی. خاندانی روایات کیا ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ بڑی سرکار کے چیخنے پر راشدہ بیگم بھی وہاں آ گئیں.
آپ جو مرضی سمجھیں مگر یہ میری زندگی ہے اور اسے میں اپنے من پسند شخص ساتھ گزارنا پسند کروں گی. بتول کا جواب بڑی سرکار کے ساتھ ساتھ راشدہ بیگم کو بھی حیران کر گیا.
کہاں وہ ڈرپوک سی لڑکی اور کہاں یہ بتول جو ان کے سامنے کھڑی بڑی سرکار ساتھ بحث کر رہی تھی راشدہ بیگم کو اپنی سماعتوں پر شک ہوا. تم کیوں سر جھکائے بیٹھے ہو یہ سب تمہاری نرمی کا نتیجہ ہے اب بولو
بڑی سرکار نے سر جھکائے یوشع کو مخاطب کیا وہ اپنی ہنسی کنٹرول کرتا بتول کو داد دے رہا تھا.
اچھا اگر آپ کو لگتا ہے کہ یہ سب میری نرمی کا نتیجہ ہے تو اب فیصلہ بھی میرا ہو گا _ یوشع نے زبردستی چہرے پر سختی لاتے ہوئے کہا )(توبہ یہ ایکٹنگ کتنا مشکل کام ہے عکاشہ کیسے کر لیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟) یوشع نے دل میں سوچا اسے اتنی بتمیزی پر اب نہ میں ملوں گا اور نہ ہی عکاشہ بلکہ اس کی شادی اب کسی “کمی کمین” ساتھ ہو گئی. تاکہ یہ ساری زندگی آپ کی نظروں کے سامنے رہے اور آپ اپنی آنکھوں سے اس کی بربادی دیکھ سکیں.
یوشع کے فیصلہ پر بڑی سرکار نے ایک حقیر نظر بتول پر ڈالی (جیسے جتلا رہیں ہوں دیکھ لیا مجھ سے ٹکر لینے کا انجام ۔۔۔۔۔۔۔؟) جبکہ راشدہ بیگم کے دل کو کچھ ہوا.
خبردار جو کوئی ایسی حرکت کی. یہ میری بیٹی ہے. یوشع تم اس سے شادی کرو گے اور بس راشدہ بیگم نے پیار سے بتول کو اپنے ساتھ لگایا.
بس زیادہ رونے ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے. جو میرے شہزادے نے کہہ دیا وہی ہو گا. یہ لڑکی اسی قابل ہے.
جب کتے کو کھیر مافق نہیں آتی تو جو سلوک اس ساتھ کیا جاتا ہے وہی اب بتول ساتھ ہو گا.
بڑی سرکار کی بات پر یوشع اور بتول نے سکھ کا سانس لیا جبکہ راشدہ بیگم شدید غصے میں آ گئیں.
آپ دونوں اس طرح بتول ساتھ نہیں کر سکتے میں حیدر سے بات کروں گی
راشدہ بیگم نے لاچاری سے کہا
بہو اپنی اوقات مت بھولو اور یہ دھمکی کسے لگا رہی ہو..؟
ابھی میں زندہ ہوں اور اس حویلی میں وہی ہو گا جو میں چاہوں گی. حیدر کی ہمت نہیں کہ میرے سامنے بول سکے بڑی سرکار نے طنز میں ڈوبا ہوا جواب راشدہ بیگم کو دیا.
اچھا اگر یہ بات ہے تو وہ ابھی تک آپ کی مرضی کے خلاف اس پاس بیٹھے ہیں. راشدہ بیگم نے بھی پہلی بار طنز کا جواب طنز سے دیا
وہ اس پاس نہیں بلکہ اپنے کسی دوست پاس ٹھہرا ہوا ہے. مردوں کے اپنے کاروباری معاملات ہوتے ہیں جو تم جیسی کم عقل عورتیں نہیں سمجھ سکتیں
بڑی سرکار کے منہ سے اپنے لیے توہین آمیز الفاظ سن کر راشدہ بیگم بتول کو لے کر اندر چلی گئیں جبکہ یوشع نے مسکراتے ہوئے بڑی سرکار کو دیکھا
آپ کبھی کبھی اماں سائیں سے بہت سخت بول جاتیں ہیں _ یوشع کی بات پر بڑی سرکار نے اسے گھورا تو وہ ہنس دیا. میں ان کی حمایت نہیں کر رہا بس آپ کے لیے کہہ رہا ہوں غصہ نہ کیا کریں یوشع نے اٹھ کر بڑی سرکار کو اپنے ساتھ لگایا
یہ مسئلہ تو تم نے بہت اچھے سے سنبھالا ہے اب ماسٹر کی بیٹی کے بارے میں کیا خیال ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ بڑی سرکار نے یوشع کا کندھا تھپکتے ہوئے اسے داد دی.
اس کے بارے میں میرے خیالات زیادہ اچھے نہیں ہیں مت پوچھیں کچھ پردہ رہنے دیں. یوشع نے مسکراتے ہوئے شرارت سے جواب دیا اور پیچھے ہو کر بیٹھ گیا.
یوشع بڑی سرکار نے غصے سے پکارا
بڑی سرکار میرے ہوتے ہوئے آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے. میرے پاس ایک آئیڈیا ہے اس پر عمل کرنے سے مجھے الیکشن میں کافی مدد ملے گی. لوگوں کی ہمدردیاں اور ووٹ بھی ملیں گے.
رہی بات اس لڑکی کی تو وہ یر وقت آپ کی خدمت میں حاضر رہے گی پھر آپ جی بھر جر بدلہ لے لیجیے گا یوشع کی پرجوش نظروں کا مفہوم بڑی سرکار کو سمجھ آ رہا تھا.
تم کھل کر بات کرو. کیا کہنا چاہتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ بڑی سرکار کے پوچھنے پر یوشع نے سانس خارج کرتے ہوئے اسے دیکھا کیونکہ بڑی سرکار کو چکر دینا کافی مشکل تھا.
🪄🪄🪄🪄🪄
حیدر بس اتنے سے دن مجھے تو ان دنوں کے گزرنے کا پتہ بھی نہیں چلا اور آپ جانے لگے ہیں. عدن نے شکایتی نظروں سے ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑے حیدر آفندی سے گلہ کیا.
عدن اب آپ بلکل نئی نویلی دلہن یا بچوں جیسی حرکتیں کر رہی ہیں. میں صرف اور صرف آپ کے لیے ہفتہ ادھر رکا ہوں ورنہ مجھے گاؤں میں اتنے کام ہیں کہ کیا بتاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
میں آپ کو ناراض چھوڑ کر جانا نہیں چاہتا تھا مگر اب آپ پھر وہی کام کر رہیں ہیں.
اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ہفتہ بعد بھی آپ یونہی کریں گی تو میں رکتا ہی نہ
حیدر آفندی نے بالوں میں برش کرتے ہوئے جواب دیا.
یعنی آپ کو میری ناراضگی کی کوئی پرواہ نہیں عدن نے گھورا
چلو جی یہ جو میں نے ابھی اتنا بھاشن دیا ہے یہ “فارسی” میں تھا حیدر آفندی نے زور سے برش ٹیبل پر رکھا
فارسی یا عربی کی نہیں مجھے صرف محبت کی زبان سمجھ آتی ہے اور آپ ابھی محبت سے بات نہیں کر رہے یہ بات بھی مجھے بری لگ رہی ہے عدن کے روٹھے چہرے کو دیکھتے ہوئے حیدر آفندی ان کے برابر آ بیٹھے
میں آپ سے ملنے آتا رہوں گا بشرطیہ آپ مجھے اب جانے دیں. حیدر آفندی نے عدن کا ہاتھ پکڑا.
اچھاااااااا آپ جائیں. میں کب روک رہی ہوں ویسے بھی میرے روکنے سے کونسا آپ نے رک جانا ہے. عدن نے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے رخ موڑا
اپنا خیال رکھیے گا. میں اب آتا جاتا رہوں گا. میری مجبوری سمجھیں میں اب مزید نہیں رک سکتا.
حیدر آفندی نے عدن کے سر پر پیار کرتے ہوئے کہا اور کمرے سے باہر نکل گئے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اب اگر وہ رونے لگیں تو پھر وہ جا نہیں سکیں گے.
🪄🪄🪄🪄🪄
تم جیسا ذلیل اور کمینہ انسان میں نے ساری زندگی نہیں دیکھا ۔اتنے دن بعد آئے تھے ہم نے سوچا کچھ تو فرق پڑا ہوگا
حرم نے عکاشہ کے قریب جاتے ہوئے چیخ کر کہا
میں گاؤں گیا تھا حج کرنے نہیں کہ مجھے فرق پڑا ہوگا _ دوسرا لوگ حج کر کے بھی آ جائیں تو سوائے سر گنجا کرنے کے ان کی طبیعت پر کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ تم لوگوں کو میرا شکرگزار ہونا چاہیے تھا کے میں تمہارے لئے گفٹ لے کر آیا مگر یہ عورت ذات تو ہوتی ہی ناشکری ہے ۔ مجھے حیرت صرف فائق پر ہے کہ اسے کیا ہوا وہ تو تمہاری برادری سے تعلق نہیں رکھتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ عکاشہ کے جواب پر حرم کا پارہ مزید چڑھ گیا۔ اپنی بے غیرتی پر فخر کرنا صرف تم ہی زیب دیتا ہے پت میری بہت دلی خواہش تھی کہ تم اور ماہم _ مگر تم نے میری ساری محنت پر پانی پھیر دیا حرم نے افسوس سے سر ہلایا
پانی نہیں میں نے کیڑے مکوڑے چھوڑے ہیں اور تم نے میری اجازت کے بغیر میرے ساتھ ماہم کا نام کیوں لیا ۔کس چکر میں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ اب حرم کے برابر کھڑا پوچھ رہا تھا
کچھ نہیں ویسے ہی میرے منہ سے نکل گیا تھا حرم کہتی ہوئی چل دی جب کہ عکاشہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر ماہم کی تلاش میں نکلا جو اسے جلدی ہی لان میں بیٹھے مل گئی ایک سہیلی باغ میں بیٹھی پڑھ رہی ہے اس کو پڑھانے والا کوئی نہیں ہے اٹھ کر اپنا استاد چونگ لو عکاشہ زور زور سے بولتا اس کے سامنے بیٹھ گیا
عکاشہ میرا موڈ بہت سخت خراب ہے آگے ہی تمہاری وجہ سے میری حرم سے لڑائی ہوگئی ہے اب مزید مجھے غصہ مت دلاؤ۔ جاؤ یہاں سے _ ماہم کہتی ہوئی دوبارہ اپنے پیپرز پر جھک گئی میں بھی ٹھیک کہوں آج اکیلی کیوں ہو۔۔۔۔۔۔؟؟ جب کہ صبح تو بڑا سموسوں کے ساتھ “لویو
لویو” چل رہا تھا ۔عکاشہ نے سوچنے کی ایکٹنگ کی جبکہ ماہم اپنی چیزیں سمیٹ کر جانے کے لیے کھڑی ہوئی۔
اک عربی شاعر لکھتا ہے کہ اگر علمِ فلکیات نہ ہوتا تو لوگ سمجھتے رہتے کہ سورج تمہارے چہرے کی وجہ سے چمک رہا ہے _ عکاشہ نے ماہم کے غصیلے تاثرات دیکھتے ہوئے شرارت کی۔ عکاشہ میرے آگے سے ہٹو ماہم نے ہاتھ سےے اشارہ کیا اور خود آگے بڑھ گئی
اتنا غصہ کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اور اگر تم مجھ سے شرم آ رہی ہو تو کم از کم تمہیں مجھ سے شرمانا بالکل نہیں چاہیے ہم دونوں دو سال سے اکٹھے پڑھ رہے ہیں _ عکاشہ نے ماہم کے ساتھ چلتے ہوئے کہا جبکہ لفظ “شرمانا” پر ماہم نے رک کر اس کی طرف دیکھا میں تم سے کیوں شرماؤں گی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم نے تیوری چڑھا تے ہوئے پوچھا کیونکہ تم مجھے پسند کرتی ہو ۔مجھ سے محبت کرتی ہو اور اب مجھ سے شادی بھی کرنا چاہتی ہو تو شرم آنا ایک فطری بات ہے عکاشہ نے جیکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے مزے سے جواب دیا
اور یہ سب بکواس تمہارے ساتھ کس نے کی ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم کا چہرہ اس وقت اپنی بےعزتی اور غصے سے لال ہو رہا تھا
تمہاری “رازدان” آج میرے پاس آئی تھی کہنے لگی “پلیز ماہم سے شادی کر لو وہ تم سے بہت محبت کرتی ہے تمہارے بغیر مر جائے گی” عکاشہ ابھی اور بھی کچھ بولتا مگر ماہم چیخ پڑی
بس اب ایک لفظ اور نہیں اگر اب ایک لفظ بھی منہ سے نکالا تو میں تمہارا منہ نوچ لوں گی
ماہم نے اسے بیچ میں سختی سے ٹوکا
اچھا میں سمجھا کہ منہ چوم لو گی میں بھی حیران تھا یہ ایک دم مشرق کی لڑکی کو کیا ہو گیا سر عام ایسی باتیں یہ تو مجھے شرمانے پر مجبور کر رہی ہے عکاشہ کی بکواس اب ماہم کی برداشت سے باہر ہو رہی تھی۔
میں جانتا ہوں یہ سب حرم کو بہت مہنگا پڑ نے والا ہے مگر پلیز اسے کچھ مت کہنا وہ تو تمہاری ہمدرد ہے نااااا
عکاشہ نے معصومیت کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے کہا
عکاشہ اب بس کرو ماہم نے بغیر مڑےتیز تیز چلتے ہوئے جواب دیا
ویسے یارررر اگر تم خود مجھ سے اقرار محبت کرتی تو مجھے بہت اچھا لگتا مگر اب مزہ نہیں آیا پھر بھی میں ماما سے پوچھ کر جواب دوں گا ۔
وہ کیا ہے نااااا میں ایک مشرقی مرد ہوں اپنی ماں کی اجازت کے بغیر شادی نہیں کر سکتا ۔عکاشہ اپنی دھن میں بول رہا تھا کہ اچانک ماہم پلٹی
اگر تم آج رات ہسپتال میں گزارنا نہیں چاہتے ہو تو چپ چاپ یہاں سے چلے جاؤ ورنہ میں اپنے مستقبل کی پرواہ کیے بغیر تمہارا سر پھاڑ دوں گی
ماہم نے کریڈور میں پڑے گملے کی طرف اشارہ کیا
اوکے اوکے _ عکاشہ نے “ہینڈز اپ ” کرتے ہوئے الٹے قدم لیے ۔ ماہم اسے دیکھتی ہوئی واپس پلٹی حرم تم نے اچھا نہیں کیا مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی ۔ماہم نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے خود کلامی کی اب حرم بی بی تمہیں مزا آئے گا کہ کیسے عکاشہ حیدر آفندی کی سرعام کلاس لیتے ہیں تمہارا تو مس موسلادھار وہ حال کرے گی کہ بس
عکاشہ مسکراتا ہوا راستے میں پڑے پتھر کو پاؤں سے ٹھوکر لگانے لگا
🪄🪄🪄🪄🪄
میں تمہیں کس طرح یقین دلاؤں کے میں نے اس کے ساتھ کوئی بکواس نہیں کی وہ تو ہے ہی ایک نمبر کا جھوٹا _ حرم کوئی دسویں بار یہی جملہ دہرا رہی تھی حرم تم اب جھوٹ بول رہی ہو میں جانتی ہوں کہ یہ بات تمہارے دماغ میں پچھلے کئی دنوں سے چل رہی تھی مگر اسے بتانے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اس نے مجھے سرعام پتہ نہیں کیا کیا کہا ہے اففففف میرے خدایا ماہم نے اپنا سر پکڑا۔
جب سے وہ یونی سے آئی تھی اسی طرح رو رو کر چیخ رہی تھی اب تو اس کا سر چکرانے لگا تھا اور آنکھیں مسلسل رونے کی وجہ سے بھاری ہو رہی تھیں۔
ماہم تمہیں اس پر یقین ہے اور مجھ پر نہیں حرم نے سوالیہ نظروں سے ماہم کی طرف دیکھا
تم نے میرا اعتماد توڑا ہے مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی ۔چلی جاؤ اور مجھے اکیلا چھوڑ دو _ ماں ہم نے روتے ہوئے جواب دیا
ٹھیک ہے اگر تم بات سننے اور یقین کرنے کے موڈ میں نہیں ہو تو میں کیا کر سکتی ہوں ویسے بھی تم صرف نیگیٹیو سوچنا جانتی ہو حرم کہتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی جبکہ ماہم اور شدت سے رونے لگی
دادو آپ اسے سمجھاتی کیوں نہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حرم پاؤں پٹختی دادو کے پاس بیٹھ گئی
کیا سمجھاؤں اور کس کس کو سمجھاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یہاں تو سارے ہی نا سمجھ ہیں۔ سمیرا بیگم نے سامنے سے آتی کلثوم بیگم کی طرف دیکھ کر کہا
دادو میں اس وقت بہت سنجیدہ ہوں
حرم نے پاؤں پر کیے اور آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی
اچھا تو یقینا ماہم کی بات کر رہی ہوں سمیرا بیگم مسکرائیں
کیا میرے چوزوں میں لڑائی ہوگئی ہے جو اتنا غصہ آیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ زبیر صاحب اپنے کمرے سے لاؤنچ میں داخل ہوتے ہوئے پوچھنے لگے
پاپا وہ دوسروں کی باتوں پر اتنی جلدی یقین کر لیتی ہے ۔ہماری کلاس کے ایک شرارتی لڑکا نے میرے نام سے اس کے ساتھ آج ایک شرارت کی ہے ۔
میں بار بار کہہ رہی ہوں کہ میں نے کچھ نہیں کیا وہ لڑکا جھوٹ بول رہا ہے تھا مگر یہ بے وقوف میری بات سننے کو تیار ہی نہیں
حرم نے جلدی سے اٹھ کر زبیر صاحب کے پاس جاتے ہوئے شکایت لگائی
اچھا اچھا زیادہ پریشان مت ہو میں خود اس سے بات کرتا ہوں ۔ویسے بھی وہ تم سے زیادہ دیر ناراض تو رہ نہیں سکتی زبیر صاحب نے حرم کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے تسلی تبھی ماہم کی چیخوں سے پورا گھر گونج اٹھا
اللہ رحم کرے یہ بچی کو کیا ہوا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔؟ سمیرا بیگم نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے خیر مانگی جبکہ زبیر صاحب اور حرم نے تیزی سے کمرے کی طرف دوڑ لگائی
حرم نے جیسے ہی کمرے کا دروازہ کھولا آگے ماہم کی کلائی خون سے لت پت دیکھی
پاپا خون
ماہم نے اپنی نس کاٹ لی ہے ۔ حرم نے بولتے ہوئے جلدی سے آگے بڑھ کر ماہم کی کلائی پکڑی جبکہ زبیر صاحب بھی اس صورتحال سے پریشان ہوگے
ایسا کیا گل کھلایا ہے جو یوں خودکشی کرنی پڑ گئی مجھے تو اس لڑکی پر پہلے ہی شک تھا _ کلثوم بیگم نے حسب عادت زہریلی گفتگو کی مگر پھر وہ ہوا جو کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا۔ چٹاخ زبیر صاحب نے ایک زور دار تھپڑ رسید کیا جس پر وہ ہکا بکا رہ گئی
زبیر _ خبردار جو بہو پر ہاتھ اٹھایا تو ،یہ بات ہماری خاندانی روایات کے خلاف ہے۔ سمیرا بیگم نے روکا اور تم بھی سوچ سمجھ کر بولا کرو اب بچی نہیں ہو بلکہ بچوں والی ہو
پھر کلثوم بیگم کو بھی ڈانٹا
اماں اگر میں نے پہلے اس پر ہاتھ اٹھا لیا ہوتا تو اس کی زبان آج اتنی لمبی نہ ہوتی _ زبیر صاحب نے حقارت سے کلثوم بیگم کو دیکھا جو اپنی گال پر ہاتھ رکھے انہیں کو دیکھ رہی تھی دفع ہو جاؤ یہاں سے اور مجھے اپنی شکل مت دکھانا زبیر صاحب کہتے ہوئے دوبارہ ماہم کی طرف متوجہ ہوئے
حرم بیٹا میں گاڑی نکالتا ہوں تم اسے باہر لے کر آؤ ۔زبیر صاحب کی بات پر حرم سر ہلاتے ہوئے ماہم کی کلائی پر کپڑا باندھنے لگی جبکہ ماہم بالکل خاموش تماشائی تھی
🪄🪄🪄🪄🪄
عدن اور عکاشہ شام کے وقت لیونگ روم میں ڈرامہ دیکھتے ہوئے مزے سے پکوڑے کھا رہے تھے
مسز آفندی آپ کو ان ڈراموں سے کیا سبق حاصل ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ عکاشہ نے عدن کی محویت کو نوٹ کرتے ہوئے سوال کیا
عکاشہ کچھ دیر خاموش رہو بعد میں ہم بات کرتے ہیں عدن پورے طریقے سے ڈرامے میں کھوئی ہوئی تھی میرے خیال سے آپ کو ہر ڈرامے کا ہیرو حیدر اور ہیروئن عدن لگتی ہوگی ۔ ویسے آپ نے حیدر صاحب کو اتنی جلدی کیسے جانے دیا ۔۔۔۔۔۔؟؟ عکاشہ نے شرارت سے عدن کے آگے پڑی کیچپ کی بوتل اٹھائی۔ عکاشہ پلیزز تنگ مت کرو عدن نے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا جس پر اس نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ لی مگر اس کے چپ ہوتے ہی اس کا موبائل بجنے لگا
جاؤ تمہارے کسی آوارہ دوست کا فون ہوگا عدن نے نخوت سے فون کی طرف اشارہ کیا جو چارجنگ پر لگا ہوا تھا
میرے دوست آوارہ نہیں بلکہ میری طرح قابل ، لائق اور فائق ہیں
عکاشہ آنکھ مارتا ہوا فون اٹھانے لگا مگر نمبر دیکھ کر خاموش ہو گیا
کس کا فون ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے اسے کال اٹینڈ نہ کرتا دیکھ کر پوچھا
کلاس فیلو کا ہے _ عکاشہ جواب دیتا ٹیرس پر آگیا جی مس چونا کیسی کلاس لی آپ کی مس موسلادھار نے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ویسے آپ نے کال کرنے میں بہت دیر کر دی میں تو دوپہر سے آپ کی کال کا انتظار کر رہا تھا عکاشہ نے ڈوبتے سورج کو دیکھ کر کہا
عکاشہ اگر تمہاری وجہ سے ماہم کو کچھ ہوا تو میں تمہارا قتل کر دوں گی سمجھے _ اس نے تمہاری بکواس کی اتنی ٹینشن لی ہے کے اپنی نبض کاٹ لی ہے۔ شرارت ضرور کرنی چاہیے مگر کسی کی جان نہیں لینی چاہیے
حرم کی روتی آواز ساتھ جو کچھ عکاشہ نے سنا وہ اسے سچ مچ پریشان کر گیا
یہ کیا بات ہوئی اس میں خودکشی کرنے والی بھلا کیا بات تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ عکاشہ نے بلیک موبائل کی سکرین کو گھورتے ہوئے کہا
کہیں مجھے یہ دونوں بے وقوف تو نہیں بنا رہیں عکاشہ نے خود کلامی کرتے ہوئے فائق کو کال کی۔
سنو مجھے جلدی سے یہ بتاؤ کہ حرم اور ماہم اس وقت کہاں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ عکاشہ نےجلدی سے فائق کی بات سنے بغیر ہی کال کاٹ دی
ایسا کیسے ہو سکتا ہے مس موسلادھار اتنی بہادر ہو ہی نہیں سکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ بڑبڑاے ہوئے لیونگ روم میں داخل ہوا تو عدن ٹی وی بند کر چکی تھیں۔
آپ کا ڈرامہ ختم ہوگیا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے سوالیہ نظروں سے پوچھا اور صوفے پر بیٹھ گیا
ہاں ہوگیا عدن نے پلیٹ سے پکوڑا اٹھاتے ہوئے جواب دیا
مگر اب آپ کی سٹوڈنٹ نے ڈرامہ لگا لیا ہے ۔پھر عکاشہ نے سب سچ سچ عدن کو بتا دیا
عکاشہ تم نے کتنی گندی حرکت کی ہے ۔ایسے کرتے ہیں ۔تمہیں جھوٹ بولتے ہوئے شرم کیوں نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن کو حیرت ہوئی
ماما مذاق تھا
عکاشہ نے کندھے اچکائے اسی وقت فائق کا واٹس ایپ آیا جس میں اس نے ہسپتال کا ایڈریس سینڈ کیا تھا
کس کا میسج ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے پوچھا
فائق نے ہسپتال کا ایڈریس بھیجا ہے عکاشہ نے بتاتے ہوئے موبائل دوبارہ پاکٹ میں رکھا
چلو اسے دیکھ کر آتے ہیں
عدن نے ٹشو پیپر سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا
کیا مطلب ہے میں اسے دیکھنے جاؤں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے اپنی طرف اشارہ کیا
جی بالکل تم نا صرف اسے دیکھنے جاؤ گے بلکہ (شرارت کی سزا کے طور پر ) شاید اس کی بارات بھی لے کر جاؤ عدن مسکرائی
آپ کو اچانک کیا ہوگیا ہے۔ کیسی باتیں کر رہی ہیں۔۔۔۔۔۔؟؟؟
آپ اسے جانتی نہیں ہیں مگر میں جانتا ہوں ایک نمبر کی ڈرامے باز ہے ۔ذرا ذرا سی بات پر رونے لگتی ہے مجھے نہیں چاہیے ایسی بیوی
عکاشہ نے کانوں کو ہاتھ لگایا
فی الحال تو تم میرے ساتھ ہسپتال جاؤ گے اور پھر ہم سوچتے ہیں کہ کیا کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ویسے اگر تمہیں یاد ہو تو تم نے حیدر کے سامنے کہا تھا کہ تم شادی میری پسند سے کرو گے عدن نے اپنا پرس لیتے ہوئے عکاشہ کو چلنے کا اشارہ کیا
وہ تو میں حیدر صاحب کو امپریس کر رہا تھا ورنہ مجھے آپ کی پسند بالکل پسند نہیں ۔
آگے ایک نمونہ “حیدر آفندی” پسند کیا تھا اور اب دوسرا “ماہم”
نہیں عکاشہ چیخا
اپنی بکواس بند کرو اور گاڑی نکالو
عدن نے پرس سے گاڑی کی چابی نکال کر اسے دی اور خود فلیٹ لاک کرنے لگیں۔
🪄🪄🪄🪄🪄
اس وقت ماسٹر جی کے صحن میں یوشع اور نوید کے علاوہ مولوی صاحب اور کچھ یوشع کے خاص بندے گواہوں کی صورت میں موجود تھے
مولوی صاحب نکاح شروع کریں یوشع کی آواز پر سب نے اسے دیکھا اور پھر مولوی صاحب نے نکاح پڑھانا شروع کیا ۔
کچھ دیر بعد انہوں نے دلہن کی اجازت اور سائن کی غرض سے نکاح نامہ ماسٹر صاحب کی طرف بڑھایا ۔
ماسٹر جی ذرا جلدی کیجئے گا مجھے اور بھی بہت کام ہیں یوشع نے ماسٹر جی کی سستی کو دیکھتے ہوئے طنز کیا
ماسٹر جی ، مولوی اور گواہوں کے ساتھ امثال کے کمرے میں داخل ہوئے جہاں اس کے باقی بچے بھی موجود تھے ۔
بیٹا آپ کو یوشع حیدر آفندی ولد حیدر آفندی اپنے نکاح میں منظور ہیں۔
نہیں __
مولوی صاحب کے پہلی بار پوچھنے پر ہی امثال نے با آواز بلند انکار کیا جس پر کمرے میں سناٹا چھا گیا
امثال کی انکار پر یوشع نے کمرے کی طرف دیکھا جبکہ نوید منہ نیچے کرتا ہوا مسکرانے لگا
🪄🪄🪄🪄🪄
جاری ہے۔