Do Dil By Amna Mehmood Readelle50150 Episode 31
Rate this Novel
Episode 31
امثال جیسے ہی گاڑی میں بیٹھی نوید کو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا دیکھ کر چونکی۔
آپ ان کے ڈرائیور ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال کے پوچھنے پر نوید ہنسا
نہیں میں ان کا “داماد” ہوں _ نوید کے چہرے پر ایک عجیب خوشی تھی۔ اچھا تو آپ اس “نک چڑی” کے میاں ہیں امثال نے منہ بناتے ہوئے باہر دیکھا
کیا ہوگیا ہے بی بی تو بہت ہی اچھی ہیں ۔۔۔۔۔؟؟ نوید کو پہلی بار کسی کے منہ سے بتول کے بارے میں ایسا سننے کو ملا تھا
آپ کو اچھی لگتی ہوں گی مگر مجھے نہیں _ حقیقت یہ ہے کہ مجھے اس حویلی میں کوئی بھی اچھا نہیں لگتا ۔ امثال نے افسردہ سے لہجے میں کہا تو نوید نے اس کی اداسی کو بیک مرر سے نوٹ کیا یوشع سائیں بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے اسے جانچتی نظروں سے دیکھا ان کی تو مجھے سمجھ ہی نہیں آ رہی ابھی بالکل ٹھیک ہوتے ہیں اور ایک سیکنڈ کے اندر اندر یوں بدل جاتے ہیں جیسے پہلے والا بندہ کوئی اور ہو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال نے منہ میں بڑبڑایا
مگر میرے خیال سے یوشع سائیں نہ صرف تمہارے بلکہ تمہارے گھر والوں کے ساتھ بھی بہت اچھے ہیں۔ بہت زیادہ نوید نے پر اعتماد لہجے میں جواب دیا
کیا خاک اچھے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
آپ کے کہنے پر میں نے انہیں اپنی شرائط بتا دی تھیں مگر کیا انہوں نے اُن پر عمل کیا نہیں نا ااااا امثال خود ہی سوال و جواب والا کام کر رہی تھی۔
بدگمانی بہت بری چیز ہے۔ ویسے جو انہوں نے تم سے کہا تھا کیا تن ان پر عمل کر رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے نکاح سے پہلے والے کاغذ کا حوالہ دیا
کوشش تو کرتی ہوں مگر اس حویلی کے لوگ خاص طور پر عورتیں بہت ہی بد تمیز ہیں _ امثال کچھ شرمندہ سی ہوئی یعنی تم اپنا وعدہ پورا نہیں کر پا رہی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے نتیجہ اخذ کیا تو انہوں نے کون سا اپنا وعدہ پورا کردیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال کی بات پر نوید نے ہنستے ہوئے گاڑی ایک گھر کے قریب روکی ۔ آپ کو یہاں کچھ کام ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال نے ایک نظر گیٹ پر دیکھتے ہوئے پوچھا مجھے تو نہیں مگر آپ کو یقیناً ہو گا نوید نے نیچے اترتے ہوئے گیٹ کی گھنٹی بجائی اور امثال کی طرف کا دروازہ کھولا۔
امثال ہکا بکا گیٹ سے نکلتے ماسٹر جی کو دیکھنے لگی۔ جو نوید سے مل رہے تھے پھر آگے بڑھ کر امثالکو پیار کرنے لگے ۔
امثال بی بی میں شام کو آ جاؤں گا ابھی چلتا ہوں _ نوید کہتا ہوا دوبارہ گاڑی میں بیٹھ گیا ۔ میں آج یہاں ہی رکوں گی۔ آپ کل آئیے گا امثال کہتی ہوئی ماسٹر جی ساتھ اندر جانے لگی
مگر یوشع سائیں نے تو نوید نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ امثال نے زور سے گیٹ کا دروازہ بند کیا ۔
کیا حویلی میں آگے ہی پاگلوں کی کمی تھی جو اسے بھی اٹھا لائے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟نوید کہتا ہوا گاڑی سٹارٹ کرنے لگا
ابّا یہ سب کیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ایک ہفتے کے اندر اندر امثال کے گھر کا نقشہ بلکل بدل گیا تھا ۔ سادے فرشوں کی جگہ ٹائلیں لگی تھیں۔ کمرے بھی لکڑی کے کام سے آراستہ تھے ۔خوبصورت کچن جگمگا رہا تھا ۔گھر میں ہر طرح کی جدید مشینری ( واشنگ مشین , ٹی وی , فریج , روم کولر )موجود تھی.
بیٹا یہ سب اللہ کے بعد یوشع سائیں کی مہربانی ہے ۔انہوں نے ہی یہ سب کیا ہے۔
بلکہ نہ صرف یہ سب انہوں نے تو تمہاری دونوں بہنوں اور بھائی کا علاج بھی شروع کرادیا ہے۔ماسٹر جی خوشی ہی خوشی سب بتا رہے تھے جبکہ امثال کو اپنے رویے پر دکھ ہونے لگا
“وہ” اپنا وعدہ پورا کر رہا ہے جبکہ “میں” اس کے بڑوں سے مسلسل بدتمیزی کر رہی ہوں۔ کیا میں اس کے لئے ذرا سی ڈانٹ برداشت نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کیا ہوا بیٹا تم کیوں اداس ہو گئی ہو۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کیا یوشع سائیں تمہارے ساتھ اچھے سے پیش نہیں آتے ۔ کوئی مسئلہ ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مجھے یوشع سائیں سے زیادہ بڑی سرکار کی فکر رہتی ہے وہ تمہارے ساتھ کیسی ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟ ماسٹر جی نے فکر مندی سے پوچھا
(امثال گھر سے تو یہی سوچ کر آئی تھی کہ سب کی خوب شکایتیں لگائی گئی۔ مگر اب اس کے منہ پر یوشع کی عناعتوں کا تالا لگ گیا تھا )
ابا میرے ساتھ سب بہت اچھے ہیں بھلا کوئی سردار یوشع حیدر آفندی کی بیوی کو کچھ کہہ سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال پھیکا سا مسکرا ئی ۔
اچھا تم اب آرام کرو یا اپنے بھائی بہنوں سے باتیں میں ابھی آتا ہوں ماسٹر جی کہتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے ۔
باقی سب ماسٹر جی کے جاتے ہی امثال کے گرد جمع ہو گے اور حویلی کے بارے میں پوچھنے لگے کہ وہ اندر سے کیسی ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
جب کہ امثال کا دل و دماغ یوشع پر اٹکا ہوا تھا۔
🪄🪄🪄🪄🪄
یوشع آپ نے ابھی تک اپنا وعدہ پورا نہیں کیا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن کے گلے پر یوشع مسکرایا
چھوٹی ماما ابھی میں بہت مصروف ہوں۔ دعا کریں کہ میں الیکشن جیت جاؤں۔ پھر عکاشہ کی شادی پر اپنی فیملی ساتھ شرکت کروں گا یوشع اس وقت اپنی گاڑی میں بیٹھا گاؤں کی طرف سفر کر رہا تھا۔
میرے خیال سے تم جیت گئے ہو اور رہی بات “دعا” کی تو میں تمہاری کامیابی کے لیے تمہارے کہے بغیر ہی دعائیں کرتی ہوں عدن کا جواب یوشع کو سرشار کر گیا
پتہ چھوٹی ماما میں بہت کچھ نصیب ہوں۔ کیونکہ میرے لیے تین تین مائیں ایک ساتھ دعائیں کرتیں ہیں۔ میری جیت تو پکی ہے یوشع کا جواب عدن کو کچھ اداس سا کر گیا
باپ بھی ماں سے کم نہیں ہوتے۔ میرے خیال سے ان کا بھی اولاد کی کامیابیوں میں اتنا ہی حصہ ہوتا ہے جتنا ماں کا عدن کا جواب یوشع کو قہقہ لگانے پر مجبور کر گیا
آپ بابا سائیں کو نہیں بھول سکتیں یوشع نے شیشے سے باہر بدلتے منظر دیکھتے ہوئے پوچھا
وہ مجھے ہر معاملے میں یاد رہتے ہیں ۔ بس مجھے تم دونوں سے یہی شکایت ہے کہ تم دونوں بھائی اس طرح اپنے باپ کو عزت نہیں دیتے جو ان کا حق ہے۔
حیدر ایک چراغ کی مانند ہیں۔ جو ان کے قریب جائے گا روشنی پائے گا اپنی ضد اور انا میں روشنی سے محروم مت ہو جانا۔
عدن نے قریب بیٹھے عکاشہ کی طرف دیکھ کر کہا جو بور ہونے کی بھرپور ایکٹنگ کر رہا تھا ۔
ٹھیک ہے میں پوری کوشش کروں گا کہ بابا سائیں ساتھ میری طرف سے کوئی زیادتی نہ ہو یوشع کا جواب عدن کو خوش کر گیا وہ عکاشہ کی طرح ان سے بحث نہیں کرتا تھا بلکہ فورا بات مان لیتا تھا ۔
عکاشہ کہاں ہے _ آج بڑی خاموشی ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کے پوچھنے پر عدن نے سر نفی میں ہلایا میرے پاس ہی ہے مگر نوابزادے کا موڈ کچھ خراب ہے لہذا خاموشی کا راج ہے ورنہ تو عدن کے جواب پر عکاشہ نے ناراضگی سے ماں کو گھورا
اچھا ذرا اسے فون دیں۔ میں بھی تو پوچھو کہ موڈ کیوں خراب ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کے کہنے کے عدن نے فون عکاشہ کو دیا
آگئی یاد مل گئی فرصت ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے فون پکڑتے ہی کہا مجھے تو پھر بھی یاد آ جاتی ہے مگر تمہیں تو وہ بھی نہیں آتی۔ کہاں غائب تھے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے گھڑی پر وقت دیکھا جہاں رات کے نو بج رہے تھے ۔ ایک تو آپ “شادی” کو پیارے ہو گے ۔ اوپر سے جو کسر بچی تھی وہ آپ کی “سیاست” نے نکال دی۔ اچھا خاصا میرا بھائی ہوتا تھا مگر اب شادی اور سیاست کی نظر ہو گیا عکاشہ نے سرد آہ بھرتے ہوئے افسوس کیا
اچھا اچھا اب زیادہ ڈرامے کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔بس دعا کرو کہ میں جیت جاؤں۔ پھر تمہاری شادی میں دھوم دھام سے شرکت کروں گا یوشع نے اسے منانا چاہا
یہ بھی ٹھیک ہے دوسرے کا کام بنے یا نہ بنے آپ اپنا الو ضرور سیدھا کر لیں۔ ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یعنی میں آگے ہی مصروفیت کا گلہ کر رہا ہوں۔ اوپر سے فرما رہے ہیں دعا کرو میں جیت جاؤں میں کوئی پیر ہوں جو میری دعا فوراً قبول ہو جائے گی۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اگر میں اتنا ہی اللہ کا ولی ہوتا تو آج میری چوتھی شادی کا کارڈ آپ کو ملتا عکاشہ کے جواب پر یوشع کا بھرپور قہقہ گاڑی میں گونجا
اچھا یار تو دعا نہ کرنا میں پھر بھی تیری شادی میں شرکت کروں گا یوشع نے ہار مانی۔ ہائے کتنا برا لگے گا اگر آپ ہار گئے تو سب کہیں گے ہارنے کے بعد کیسے خوشی خوشی بھائی کی شادی میں شریک ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے منہ بنایا ۔ یا اب کہیں تو خوش ہوجا کسی بات پر تو رضامندی ظاہر کر دے _ یوشع کی گاڑی اب حویلی میں داخل ہورہی تھی۔ آپ کہاں ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے ہارن سنتے ہوئے پوچھا گاڑی میں یوشع نے جواب دیا
اور گاڑی اس وقت کہاں ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کو تجسس ہوا۔
حویلی میں یوشع سر ہلاتا ہوا ملازموں کے سلام کا جواب دیتا سیڑھیاں چڑھنے لگا
چلیں پھر آپ بڑی سرکار کے حوالے عکاشہ کے جملے پر یوشع نے قہقہ لگایا
فی الحال تو میں اپنی بیگم پاس جا رہا ہوں یوشع نے جواب دیتے ہوئے کال بند کی اور اپنے کمرے کا دروازہ آہستہ کھولا تاکہ امثال کی نیند خراب نہ ہو ۔
مگر خالی بستر اس کا منہ چڑھا رہا تھا ۔ یوشع نے ایک دفعہ پورا کمرہ اور ٹیرس چھان مارا مگر امثال ہوتی تو ملتی ناااا ۔۔۔۔۔
نوید یوشع نے تقریبا چیختے ہوئے موبائل پر نوید کا نمبر ڈائل کیا۔
جب میں نے تمہیں کہا تھا کہ اسے شام تک واپس لے آنا تو تم گئے کیوں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے کال اٹینڈ ہوتے ہی تیز لہجے میں پوچھا
وہ تو سو گیا ہے ۔ کس کو کہاں سے لانا تھا کیا آپ کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی ڈرائیور نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید کی جگہ بتول نے کال اٹینڈ کی۔
زیادہ باتیں بنانے کی ضرورت نہیں ہے میرا آگے ہی دماغ خراب ہے ۔ اسے فون دو میں جانتا ہوں وہ اتنی جلدی نہیں سوتا۔
جب تک ڈیرے پر ایک بھی کتا جاگ رہا ہوتا ہے اسے نیند نہیں آتی۔ یہ تمام جانوروں کو سلانے کے بعد سوتا ہے ۔ میں اسے تم سے بہتر جانتا ہوں یوشع نے ٹائی ڈھیلی کرتے ہوئے کہا
جی سائیں فوراً ہی نوید کی فرمانبردار آواز سنائی دی۔
اگر آئندہ تمہارا فون بتول نے اٹھایا تو تم خود بھی اس دنیا سے اٹھ جاؤ گے سمجھے یوشع کی دھاڑ فون سے باہر بتول نے بھی آسانی سے سنی۔
سائیں میں واش روم میں تھا نوید نے صفائی دی۔
یہ کونسا وقت ہے واش روم جانے کا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کے پوچھنے پر نوید نے حیرت سے گھڑی کو دیکھا
بی بی کو کیوں نہیں لائے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع اصل بات پر آیا کیونکہ اسے احساس ہوگیا تھا کہ وہ فضول سوال کر گیا ہے۔
سائیں بی بی نے منع کیا تھا نوید کبھی بتول کو دیکھتا اور کبھی فون پر توجہ دیتا ۔
تم کس کے نوکر ہو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کے پوچھنے پر نوید کا حلق خشک ہوا ۔
سائیں آپ کا ہوں نوید کی آواز اب بہت آہستہ تھی۔
تو پھر کس کا حکم ماننا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے ایک ایک لفظ چباتے ہوئے ادا کیا
سائیں میں سزا کے لیے تیار ہوں نوید نے ہتھیار ڈالے ۔
کل تم سارا دن بھینسوں کا چارہ کھاؤ گے _ یوشع کہتا ہوا فون بند کرنے لگا آگے کون سا کھانا کھا رہا ہوں ۔ اچھا ہوتا اگر ایک باورچی بھی اتنے ڈھیر سارے سامان کے ساتھ دیتے نوید کے خیال میں کال کٹ گئی تھی ۔
اس بات کا جواب میں تمہیں صبح دوں گا۔ ابھی ذرا جلدی میں ہوں یوشع کی آواز پر نوید نے چونک کر فون کو دیکھا 🪄🪄🪄🪄🪄 عدن اور حیدر آفندی اس وقت زبیر صاحب کے گھر بیٹھے ہوئے تھے ۔ تو پھر یہ تاریخ ٹھیک ہے حیدر آفندی نے دوبارہ کلینڈر دیکھتے ہوئے زبیر صاحب سے پوچھا
جی میرے خیال میں یہ بالکل ٹھیک رہے گی_ زبیر صاحب نے ہارون کی طرف دیکھتے ہوئے حمایت کی ۔ ویسے تو مجھے یقین ہے کہ آپ لوگ میری ماہم کا بہت خیال رکھیں گے مگر پھر بھی وہ ایک یتیم بچی ہے اگر اس سے کوئی غلطی ہو جائے تو معاف کر دیجیے گا زبیر صاحب نے حیدر آفندی کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے نم آواز میں کہا
ارے آپ کیسی باتیں کر رہے۔ ہیں اب وہ ہماری بیٹی ہے تو ہم اس کا خیال کیوں نہیں رکھیں گے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدرآفندی نے فورا زبیر صاحب کی ہاتھ پکڑے
بس میرے کندھوں پر ایک بوجھ تھا جو اب اتر گیا ہے زبیر صاحب نے مسکراتے ہوئے اپنی آنکھیں صاف کیں
ماہم حرم نے دروازہ کھولتے ہوئے تقریبا چیخ کر اسے پکارا
حرم کی بچی تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا ہے _ ماہم نے اسے دیکھتے ہوئے غصہ سے کہا ماہم تیرا تو بابا نے پکا بندوبست کر دیا ہے۔ اب تجھے پیپرز کی پریشانی نہیں لینی چاہیے حرم بیڈ پر گرتے ہوئے بولی۔
سچی ماہم کی حیرت سے آنکھیں پھیل گئیں ۔
ہائے کتنی خوشی ہو رہی ہے مگر ہم کیا کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ہمارا ہیرو تو بے۔ روزگار ہے بس نام کا ہی ” لائق فائق” ہے _ حرم کی دہائی دینے پر ماہم مسکرانے لگی یار ویسے میں تیرے جانے سے اداس ہو جاؤں گی حرم ایک دم سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔
ہاں یہ تو ہے میرا بھی تیرے بغیر دل نہیں لگے گا اداس تو میں بھی ہوں گی ماہم نے فورا اس کی ہاں میں ہاں ملائی
چھوڑ یار تو کہا اداس ہو گئی ۔ ہم نے تجھے اچھا خاصا جوکر لے کر دیا ہے بلکہ وہ تو جوکروں کا سردار ہے وہ بھلا تجھے اداس ہونے دے گا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حرم کی بات پر ماہم نے سر ہلایا
مگر پھر بھی ماہم نے محبت سے حرم کی طرف دیکھا تو اس نے اٹھ کر اسے اپنے گلے لگا لیا 🪄🪄🪄🪄🪄 اس وقت رات کے دس بج رہے تھے۔ ہر طرف خاموشی کا راج تھا ۔ سوائے امثال کے گھر میں سب سو چکے تھے مگر اسے نیند نہیں آ رہی تھی۔ اپنے گھر کو دیکھتے ہوئے اس کا دیھان مسلسل یوشع کی طرف تھا۔ تبھی گیٹ پر ہارن کی آواز سنائی دی ۔ یوشع بے اختیار اس کے منہ سے نکلا پھر دوسرا، تیسرا اور مسلسل ہارون بجنے لگا
ماسٹر صاحب نے گیٹ کھولا تو آگے یوشع کو کھڑا پایا ۔
معذرت چاہتا ہوں اتنی لیٹ آپ کی نیند خراب کی مگر جب آپ کسی کی بیوی کو اپنے پاس زبردستی روک لیں گے تو اسے آنا پڑے گا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کہتا ہوں اندر داخل ہوا
سائیں میں نے اسے نہیں روکا وہ اپنی پسند سے یہاں رُکی ہے _ ماسٹر جی نے ڈرتے ڈرتے عرض کی ۔ وہ تو بے وقوف ہے مجھے نہیں جانتی مگر آپ تو جانتے ہیں نااااا بتانے کی ضرورت ہے کیا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کے “آپ” مخاطب کرنے پر ماسٹر جی ویسے ہی حیران تھے اوپر سے اس کی دھمکی ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
بھلا دیجئے مجھے دیر ہو رہی ہے یوشع کے کہنے پر ماسٹر جی فورا امثال کے کمرے میں داخل ہوئے ۔
بیٹی آپ کو اگر یوشع سائیں نے رکنے سے منع کیا تھا تو آپ کو چلے جانا چاہیے تھا امثال کو چارپائی سے اٹھتا دیکھ کر ماسٹر جی نے کہا
ابا آپ پریشان نہ ہوں اور آرام سے سو جائیں امثال نے اپنی چادر اوڑھی اور باہر نکل آئی۔ یوشع نے امثال کو باہر آتا دیکھ کر قدم گیٹ کی طرف بڑھا دیئے ۔
اب گیٹ بند کر لیں اور پریشان نہ ہوں امثال نے ایک بار پھر ماسٹر جی کے چہرے کو دیکھتے ہوئے تسلی دی ۔
گاڑی میں بہت خاموشی تھی پھر اچانک یوشع نے امثال کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ گئیر پر رکھا ۔
تمہیں کہنا ماننا نہیں آتا خاص طور پر میرا یوشع کا لہجہ بالکل نرم تھا جس پر امثال نے اسے حیرت سے دیکھا
کیا تھا یہ شخص اکیلے میں اور اور سب کے سامنے اور _ امثال کی نظر خود پر محسوس کرتے ہوئے یوشع نے ایک نظر اسے دیکھتے ہوئے سامنے سڑک پر دیکھا کیا ہوا اتنی خاموش کیوں ہو کل تو بڑی زبان چل رہی تھی ۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے اسے بولنے پر اکسایا آپ صل میں کیا ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال کا لہجہ عجیب سا تھا ۔ میں اصل اور نقل دونوں میں یوشع ہی ہوں یوشع نے امثال کی بات ہنسی میں اڑا دی۔
میں سنجیدہ ہوں امثال کو اس وقت یوشع کی ہنسی سخت بری لگی
دیکھو فی الحال تو میں بہت تھکا ہوا ہوں۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم کچھ دن آپس میں الجھے بغیر گزار دیں ۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے امثال ساتھ بحث سے اجتناب کیا۔
نہیں آپ ایک نہیں ہیں۔ حویلی کے اندر جو یوشع ہے وہ حویلی کے باہر والے یوشع سے بالکل مختلف ہے امثال نے یوشو کو دیکھتے ہوئے کہا
تبھی اسے احساس ہوا کہ آج یوشع اپنے روایتی لباس میں نہیں ہے یوشع نے گاڑی حویلی کے اندر روکی اور باہر نکلتے ہوئے ملازم کو چابی دی پھر دونوں آگے پیچھے ایک ساتھ کمرے میں داخل ہوئے ۔ کہاں سے آرہ ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال نے یوشع کو کف لنک نکالتے دیکھ کر پوچھا سارا دن شہر میں گزرا ہے کچھ دیر پہلے واپس آیا تو آپ جناب گھر پر نہیں تھیں۔ اس لیے آپ کو لینے آ گیا قسم سے جو میں نے ایک گھونٹ پانی بھی پیا ہو _ یوشع نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے جواب دیا ۔ جس پر امثال کو تھوڑی سی شرمندگی ہوئی اور وہ چھوٹے قدم لیتی ہوئی یوشع کے سامنے آ رکی ۔ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے آبرو اچکا کر پوچھا شکریہ امثال کہتی ہوئی یوشع کے سینے ساتھ جا لگی تو یوشع نے محبت سے اسے اپنے حصار میں لیا
کس لئے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حالانکہ وہ جانتا تھا کہ کس بات کا شکریہ ادا کیا جا رہا ہے۔
میں نے لوگوں کو محبت پر بہت بولتے دیکھا ہے محبت پر دلائل دیتے دیکھا ہے محبت کیلیے لڑتے دیکھا ہے مگر محبت نبھاتے نہیں دیکھا آپ واحد انسان ہیں جنہیں محبت نبھانا آتی ہے اور آپ نے بہت اچھے سے نبھائی ہے مگر مجھے سمجھ دیر سے آئی ۔ امثال نے آہستہ آواز میں یوشع سے کہا اس کی آواز اور لہجہ اس کی شرمندگی کے عکاس تھے۔ جس پر یوشع نے ایک گہرا سانس خارج کیا ۔ تم بھی مجھے معاف کر دو۔ بے شک میری طرف سے بھی بہت کوتاہی ہوئی ہے مگر میں آئندہ خیال رکھوں گا یوشع نے محبت سے اس کے سر پر بوسہ دیا ۔
🪄🪄🪄🪄🪄
