Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ تم کس چکر میں اتنا رو رہی ہو ……… ؟
ماہم کو مسلسل روتا دیکھ کر حرم کو اب غصہ آنے لگا تھا.
یاررررر مس شمع نے کمپلین کی ہے اگر انھوں نے مجھے یونی سے نکال دیا تو ماہم نے لال سرخ ناک اور آنکھوں سمیت اسے دیکھا
اول تو وہ تمہیں نہیں نکالیں گےکیونکہ تم ایک لائق سٹوڈنٹ ہو دوم اگر کچھ بھی ایسا ہوا تو ہم حارث بھائی سے بات کریں گے وہ سب سنبھال لیں گے. کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہو گئ. حرم نے تسلی دی.
کیسے کانوں کان خبر نہیں ہو گئی ………. ؟؟؟
میرے ہوتے ہوئے بلکہ میرے جیتے جی تو یہ ممکن نہیں ہے عکاشہ نے بیک سی چھلانگ لگائی اور دونوں کے سامنے کھڑا ہو گیا
دفع ہو جاؤ یہاں سے
کیوں اس کو ڈرا رہے ہو ……….. ؟
حرم نے اپنی فائل زور سے اسے ماری مگر وہ بچ کر گھاس پر بیٹھ گیا.
فائق اسے سمجھاؤ نااااااا
حرم نے فائق کو مدد کے لیے پکارا
اسے سمجھانے والا ابھی اس دنیا میں نہیں آیا. اس لیے میری معزرت قبول کریں _ کچھ دور بیٹھے فائق نے ایک نظر عکاشہ کو دیکھتے ہوئے جواب دیا. تمہیں کیا ملے گا اس بیچاری کو پریشان کر کے ؟ ؟ ؟
حرم نے ماہم کا چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا
مزہ جب یہ روتی ہے نااااا قسم سے مجھے بڑا اچھا لگتا ہے. عکاشہ کی شرارت کو سمجھتے ہوئے حرم نے سر نفی میں ہلایا. میرے ساتھ ساتھ تم بھی یونی سے آؤٹ ہو گے سمجھے اپنے طور پر ماہم نے سوں سوں کرتے دھمکی دی.
بروقت اطلاع دینے کا شکریہ _ مگر ماہم عرف “مس موسلادھار” جب تک میری ماں HOD ہیں مجھے کوئی اس یونی سے نکال نہیں سکتا. دوسرا یہ جو اپنا شابو ہے نااااا _ یہ میری ماں پر بری طرح فدا ہے.
اکیلے میں مجھے ڈانٹتا ہے مگر جیسے ہی میری ماں سامنے آتی ہے فوراً بدل جاتا ہے.
“بچہ ہے ٹھیک ہو جائے گا” عکاشہ نے پروفیسر شہاب کی نقل اتاری اور قہقہے لگانے لگا
توبہ ہے حرم نے جھرجھری لی.
خیر اگر تم چاہو تومیں تمہاری شفارش کر سکتا ہوں ………. ؟؟؟ مگر ایک شرط پر
عکاشہ کی بات پر ماہم کے رونے کو بریک لگی
کیسی شرط …… ؟؟؟
ماہم اس کی باتوں پر دھیان مت دو اس کا کام ہی بکواس کرنا ہے _ حرم نے ماہم کے پوچھنے پر اسے سمجھایا. تم تو اپنا منہ بند ہی رکھو تو اچھا ہے اتنی بھی تمیز نہیں کہ دو لوگ جب آپس میں ڈیلنگ کر رہے ہوں تو خاموش بیٹھتے ہیں. عکاشہ اپنے کپڑے جھاڑتا اٹھ کھڑا ہوا.
اچھا بتاؤ ………. ؟؟؟ ماہم نے سنجیدگی سے پوچھا
مشکل کام نہیں ہے بس تم مجھے لائبریری سے یہ والی کتاب لا دو عکاشہ نے ماہم کے ہاتھ سے اس کا پن لیتے ہوئے اسی کے رجسٹر پر نام لکھا بس یہی اب کی بار ماہم کے ساتھ ساتھ حرم بھی حیران تھی.
ہاں تو میں نے کونسا تم سے دودھ کی نہر کھدوانی ہے لیکن تمہیں اکیلا ہی جانا ہو گا عکاشہ بلکل سیریس تھا.
ہم اس کمینے کو پچھلے ڈیڈھ سال سے جانتے ہیں اور یہ ہر دفعہ ہمیں بےوقوف بنا جاتا ہے.
لہذا مفت مشورہ ہے کہ اس کی باتوں میں مت آنا
فائق بھی ڈیل سن کر اب ابنکے قریب آ گیا تھا
ایک تو تیرے والدین نے باقیوں کی طرح تیرا نام انتہائی عجیب رکھا ہے.
لائق لفظ کا “بیڑہ غرق” کرو تو فائق بن جاتا ہے دوسرا تجھے بھی حرم والی بیماری لگ گئی ہے اس سے دور رہا ہے. عکاشہ نے ذومعنی شرارت سے فائق کو دیکھا اچھا میں جاتی ہوں مگر وعدہ کرو کہ میری کمپلین کینسل کرا دو گے
ماہم نے اٹھتے ہوئے انگلی اٹھا کر تصدیق چاہی جس پر عکاشہ نے سینے پر ہاتھ رکھ کر سر کو خم دیا.
بیٹا تو جا تو سہی تجھے لگ پتہ جائے گا
عکاشہ نے ماہم کو لان سے باہر جاتا دیکھ کر دل میں سوچا
جب دس منٹ تک ماہم واپس نہیں آئی تو حرم کو پریشانی ہونے لگی.
لائبریری تو پچھلے بلاک میں ہے اب تک ماہم کو آ جانا چاہیے تھا
میں اسے دیکھ کر آتی ہوں.
وہ کتاب لائبریری کے دوسرے پوشن کے آخری ریک میں سب سے اوپر پڑی ہے اس لیے وقت لگے کا اس کو آنے میں تم آرام سے بیٹھ جاؤ.
عکاشہ نے موم پھلی کھاتے ہوئے اطمینان سے حرم کو جواب دیا.
تمہیں کیسے پتہ کہ کتاب وہاں پڑی ہے …………. ؟؟؟ جبکہ اکاؤنٹس کی تمام کتابیں پہلے ریک میں ہی ہیں حرم کو اب عکاشہ پر شک ہوا.
اس لیے کہ وہ وہاں میں نے خود رکھی ہے بزات خود
عکاشہ ابھی بھی مزے سے موم پھلی کھانے میں مصروف تھا.
جب مزید دس منٹ گزرگئے تو حرم سے برداشت نہ ہوا.
تمہاری شرط جہنم میں گئی میں اسے دیکھنے جا رہی ہوں
حرم کہتی ہوئی وہاں سے پیر پٹختی نکل گئی.
تم بھی جاؤ _ ظاہری سی بات ہے تمہارا جانا بھی بنتا یے فائق کو حرم کے پیچھے جاتا دیکھ کر عکاشہ نے کمنٹس پاس کیے.
ویسے تمہارے لیے میرے پاس ایک مفت مشورہ ہے عکاشہ کی بات پر فائق نے پلٹ کر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا
یہ جو تمہارے اور حرم کے درمیان series connection ہے نااااا
ایک کا موڈ خراب ہو تو دوسرے کا بھی خودبخود ہو جاتا ہے.
اسے parallel connection میں تبدیل کر لو تاکہ ایک کا فیوز اڑنے پر دوسرے کا قائم رہے.
اپنی بات کے آخر میں عکاشہ نے فائق کا کندھا تھپکا اور چل پڑا.
مجھے آگے ہی تجھ پر شک ہو رہا تھا کہ تو کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور کرے گا فائق بھی اس کے پیچھے چلتا ہوا کہنے لگا
تو روک لیتے ناااااا اپنی “سالی” کو
عکاشہ کی بات پر فائق نے اسے ایک زوردار مکا رسید کیا اور لائبریری کی طرف چل پڑا.
میں کیا کروں لوگ خود ہی میری بات مانتے ہیں میں زبردستی تو نہیں کرتا ………… ؟؟؟
چل بیٹا عکاشہ آج کا دن کافی مزےدار ہونے والا ہے وہ خودکلامی کرتے ہوئے اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف چل دیا
🪄🪄🪄🪄🪄
یوشع کو گاؤں کی زندگی اور ماحول شروع سے ہی بہت پسند تھا. اسی لیے وہ اپنی تعلیم مکمل کرتے ہی واپس لوٹ آیا تھا.
آج بھی وہ گاؤں کی سیر کے لیے جیپ لے کر نکلا تھا. آس پاس پھیلے ہوئے سرسوں کے کھیت اپنی خوبصورتی سے اس کی آنکھوں کو خیراں کر رہے تھے. جب اس کا موبائل-فون بجا.
ڈش بورڈ سے فون اٹھاتے ہوئے ایک انجان نمبر سکرین پر جگمگا رہا تھا اسے دیکھ کر یوشع نے جیپ آہستہ کرتے ہوئے کال اٹینڈ کی.
اسلام علیکم _ سلام کیا. وعلیکم السلام پہچانا …….. ؟؟؟ بڑے ہی مان سے پوچھا گیا.
ایک بیٹے اپنی ماں کو ہر حال میں پہچان لیتا ہے تو میں کیوں نہیں پہچانو گا. یوشع کے جواب نے عدن کا دل خوش کر دیا.
اچھا اگر پہچان لیا ہے تو یہ بھی یاد ہو گا کہ تم نے اتوار کو آنے کا وعدہ کیا تھا.
اوہ سوری چھوٹی ماما میں بھول گیا تھا. یوشع نے معزرت کی.
کوئی بات نہیں بس تمہیں دیکھنے کو دل کر رہا تھا. عدن کی محبت پر یوشع کو مزید شرمندگی ہوئی.
آپ مجھ سے اتنا پیار کیوں کرتیں ہیں ……… ؟؟ مجھے شرمندگی ہوتی ہے.
حیدر آفندی جس جس سے “محبت” کرتا ہے چاہے وہ کوئی انسان ہو حیوان ہو
یا بےجان اشیاء مجھ پر لازم ہے کہ میں ان سے محبت کروں.
دوسرا تم بلکل اپنے باپ جیسے ہو. اس لیے بھی بہت اچھے لگتے ہو. عدن ہمیشہ ہی یوشع کو لاجواب کر دیتی تھی.
مگر بابا تو مجھے پیار نہیں کرتے ……..؟؟؟ یوشع نے شرارت سے کہا
ایک تو تم دونوں بھائی پتہ نہیں کیوں میرے حیدر کے پیچھے پڑے رہتے ہو عدن نے مصنوعی غصہ کیا.
عکاشہ کیسا ہے ………. ؟؟؟ یوشع نے موزوں بدلہ جانتا تھا اب وہ سیریس ہو جائیں گی.
اس کا تو پوچھو مت. پتہ نہیں کیا کیا کرتا رہتا ہے ……….. ؟؟؟
میں چاہتی ہوں تم اسے سمجھاؤ عدن کی بات پر یوشع نے حامی بھر لی. مان بھی تو رکھنا تھا.
(کون کہتا ہے سوتیلی ماں اچھی نہیں ہوتی ………. ؟؟؟ یوشع دل میں سوچنے لگا)
کال بند کرتے ہی اس نے فون ڈش بورڈ پر رکھا ایک پل کے لیے اس کا دھیان سڑک سے ہٹا تو ایک بھیانک زنانہ چیخ نے اس کے کانوں کو جلا بخشی. فورا بریک لگائی.
یوشع جلدی سے جیپ کا دروازہ کھول کر باہر نکلا تو سڑک پر کچھ لکڑیاں بکھری پڑیں تھی اور ایک لڑکی گری ہوئی.
سوری
آپ کو چوٹ تو نہیں لگی ……؟؟؟
یوشع نے اس کے قریب بیٹھتے ہوئے پوچھا جس پر اس نے خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھا
تم تم وہی ہو نااااا جسے اس دن یوشع نے کہتے ہوئے اس کے پاؤں کی طرف دیکھا جہاں آج بھی وہی رومال بندھا تھا
“چیخنے” اور “چوٹ کھانے” کے علاوہ تیسرا کونسا کام ایسا ہے جو تم اچھے سے کرتی ہو ؟ ؟ ؟
یوشع نے جیپ کے بونٹ پر بیٹھتے ہوئے اس کا جائزہ لیا جو اب اپنی لکڑیاں اکٹھی کر رہی تھی.
تم نے میری بات کا جواب نہیں دیا
جب وہ لڑکی مکمل خاموشی سے اپنا کام کرتی رہی تو یوشع نے اسے دوبارہ مخاطب کیا
میں الٹی گنتی ایک سانس میں گن سکتی ہوں وہ بھی بلکل ٹھیک اس کا معصومانہ جواب یوشع کو مسکرانے پر مجبور کر گیا.
نام کیا تھا تمہارا ……. ؟؟؟ یوشع نے بونٹ سے اترتے ہوئے پوچھا
اس دن بتایا تو تھا
لڑکی نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا
مجھے یاد نہیں رہا یوشع نے اپنی چادر کندھے پر ڈالی
امثال، امثال اللہ داد
لڑکی اب اپنی لکڑیاں باندھ رہی تھی.
امثال تک تو ٹھیک ہے مگر “اللہ داد” کچھ عجیب سا لگتا ہے. تمہارے نام ساتھ کوئی زبردست سا نام ہونا چاہیے جیسے یوشع نے سوچنے کی ایکٹنگ کی
میرے ابا جی کا نام ہے
عجیب نہیں بہت پیارا لگتا ہے لڑکی اب لکڑیاں سر پر رکھنے لگی تھی. ارے تمہارے بازو پر چوٹ لگی ہے _ یوشع کی نظر اس کے بازو پر پڑی.
میں انکھیں بند کر کے الٹی گنتی نہیں پڑھوں گی امثال نے زور زور سے نفی میں گردن ہلائی. جس پر یوشع کے ہونٹ مسکرا دیے. میں ایسا کرنے کو کہوں گا بھی نہیں
یہ رومال باندھ لو تاکہ گھر جانے تک خون رکا رہے. یوشع نے اپنی جیب سے ایک خوشبودار رومال اس کی طرف بڑھایا.
لے لو _ امثال کے ہچکچانے پر یوشع ایک قدم آگے بڑھا. شکریہ امثال نے رومال پکڑتے ہوئے کہا
تمہارا کوئی بھائی نہیں ہے …… ؟؟؟ یوشع کے پوچھنے پر امثال کو حیرت ہوئی
ہے بلکل ہے. مگر آپ کیوں پوچھ رہے ہیں. تو پھر تم کیوں لکڑیاں لے کر جاتی ہو…….. ؟؟؟ یوشع کے سوال پر امثال نے سر پر لکڑیاں رکھی اور چل دی. عجیب بتمیزززز لڑکی ہے مگر ہے دلچسپ
یوشع کہتا ہوا واپس جیپ کی طرف مڑ گیا.
🪄🪄🪄🪄🪄
حیدر آفندی اپنے کمرے میں بیٹھے زمینوں کا حساب کتاب دیکھ رہے تھے جب راشدہ بیگم چائے کا کپ تھامے اندر داخل ہوئیں.
زرا یوشع کو بلا دو _ اگر وہ نواب صاحب اپنے کمرے میں ہیں تو حیدر نے ایک نظر راشدہ کو دیکھتے ہوئے کہا
بڑی سرکار حد سے زیادہ اس کے نخرے اٹھاتیں ہیں اور آپ ضرورت سےزیادہ سختی کرتے ہیں. اس طرح اس کی شخصیت متاثر ہو رہی ہے راشدہ بیگم نے چائے کا کپ حیدر آفندی کے قریب رکھا
راشدہ بیگم کی بات پر حیدر آفندی نے ایک ناگوار نظر ان پر ڈالی.
مجھ سے بحث نہ کیا کرو
مجھے غصہ آتا ہے. بس یوشع کو بلا دو اور جاؤ یہاں سے حیدر آفندی نے ہاتھ کے اشارے سے انھیں جانے کا کہا
عدن سے تو آپ بڑے پیار سے بات کرتے ہیں وہ بھی بیوی ہے آپ کی اور میں بھی پھر اتنا فرق کیوں ……… ؟؟؟
عدن کے نام پر حیدر آفندی کا ہاتھ تھما.
اچھا تو اب میں اس گھر میں فون پر بھی بات نہیں کر سکتا ……. ؟؟؟ انداز “پوچھنے والا” تھا یا “بتانے والا” راشدہ بیگم کو پتہ نہ چل سکا
میں صرف “محبت” کی بات کر رہی ہوں . راشدہ بیگم نے جتایا.
اس کے حصے میں حیدر آفندی کی “محبت” آئی ہے تو تمہیں پورا حیدر آفندی _ نقصان میں تو نہ رہی تم حیدر کی بات راشدہ بیگم کو کچھ خاص پسند نہیں آئی.
میرے پاس ہوتے ہوئے بھی آپ اسی کے پاس ہوتے ہیں گلہ زبان سے نکلا
یہ فیصلہ بھی تمہارا تھا __
یاد کرو، میں نے اختیار دیا تھا. حیدر آفندی کے جواب پر وہ چپ چاپ کمرے سے نکل گئیں.
🪄🪄🪄🪄🪄
جاری ہے