Do Dil By Amna Mehmood Readelle50150 Episode 24
Rate this Novel
Episode 24
ماہم بیٹا میں نے اور تمہاری نانو نے تمہارے لیے ایک فیصلہ کیا ہے اگر تمہیں کوئی اعتراض نہ ہو تو ….؟ زبیر صاحب نے انتہائی شفیق لہجے میں کہا
ماموں آپ مجھے کیوں شرمندہ کر رہے ہیں …..؟
آپ نے آج تک جو کچھ بھی میرے لیے کیا ہے اس میں میری بہتری ہی تھی. مجھے آپ کے کسی فیصلہ سے کوئی اعتراض نہیں _ ماہم کے جواب پر زبیر صاحب مسکرائے. بیٹا ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پیپرززز کے بعد تمہاری شادی کر دی جائے. اس طرح تم ڈپریشن سے باہر آ جاؤ گی. نیا ماحول، نئے لوگ تمہاری طبیعت پر اچھا اثر ڈالیں گے. میں جانتا ہوں تمہیں اس گھر میں کلثوم نے ذہنی اذیت دے رکھی ہے. مگر میں مجبور ہوں. عمر کے اس حصے اگر میں انھیں گھر سے نکال دوں تو یہ معاشرہ اور میرے بچے مجھے معاف نہیں کریں گے زبیر صاحب نے ندامت سے سر جھکایا
نہیں، نہیں ناموں یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں …؟
ممانی کے بغیر یہ گھر بلکل ویران ہو جائے گا. میں کبھی پسند نہیں کروں گی کہ آپ ان ساتھ ایسا کریں ماہم کے جواب پر وہ مسکرائے
تمہارے لیے کچھ رشتے آئے ہوئے ہیں ان کی تمام تفصیل اور تصویریں میں نے حرم کو دی ہیں. ان میں سے جو تمہیں زیادہ مناسب لگے وہ بتا دو کیونکہ میرے لیے تمہاری رائے بہت اہمیت رکھتی ہے. زبیر صاحب کہتے ہوئے کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے
مجھے نہ کسی کو دیکھنا ہے اور نہ ہی ملنا ہے. آپ کو جو ٹھیک لگے وہ کریں ماہم کے جواب پر زبیر صاحب مڑے.
شادی تم سے ہونی ہے ہم سے نہیں. اس لیے اچھی طرح سوچ سمجھ کر فیصلہ کرو. میں جانتا ہوں میری بیٹی بہت سمجھدار ہے.
جذبات سے کام نہیں لینا چاہیے. جذباتی فیصلے زندگی میں بہت نقصان پہنچاتے ہیں زبیر صاحب کی بات پر ماہم نے سر ہلایا
میری دلی خواہش تھی کہ تم ہارون کی دلہن بن کر اسی گھر میں ہمیشہ میرے پاس رہو مگر وہ نواب زادہ ہمارا “چین” تباہ کر کے خود “چین” جا بیٹھا ہے زبیر صاحب کے لہجے میں نامکمل حسرت کا دکھ بول رہا تھا
ٹن ٹن ٹن ٹی ٹائم حرم نے چائے کی ٹرے اندر لاتے ہوئے با آواز بلند کہا جس پر ماہم اور زبیر صاحب مسکرائے.
تم دونوں بہنیں مل کر چائے پیو مجھے زرا کام ہے. زبیر صاحب معزرت کرتے ہوئے کمرے سے باہر چلے گئے.
یارررر مجھے بتانا یاد ہی نہیں رہا کل اس” نمونے” کا رات ایک بجے تمہارے لیے “خاص پیغام” آیا تھا حرم نے شرارت بھری آواز میں کہتے ہوئے ماہم کو میسج نکال کر دیا.
دنیا پہلے ہی نمونوں سے بھری پڑی تھی. اس کا آنا ضروری تھا کیا ….؟ ماہم نے ناگواری سے میسج پڑھتے ہوئے موبائل رکھ دیا
یارررر مجھے شعر تو بہت پسند آیا تھا. کاش میرے پاس بھی اسے جواب دینے کے لیے جوابی شعر ہوتا تو میں جواب ضرور دیتی مگر تمہیں تو معلوم ہے اپنی شاعری کتنی کمزور ہے _ حرم نے چائے کی پیالی ماہم کو پکڑائی تو مجھ سے پوچھ کر بھیج دیتی. میرے پاس تو اس کے شعر کا جواب ہے ماہم نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے جواب دیا.
سچی تو بتاؤ ناااااا ….؟
تاکہ میں اس کمینے کو جواب سینڈ کر سکوں حرم نے جوش سے کہتے ہوئے اپنی پیالی ٹرے میں رکھی اور ماہم کے یاتھ سے موبائل پکڑا.
“رہے سلامت تُو تا قیامت
میرے لیے تو مر گیا ہے”
ماہم کے کہنے پر حرم نے اسے بےیقینی سے دیکھا
نہیں یارررر یہ سینڈ کرنے کے قابل نہیں کچھ غیر اخلاقی ہے. حرم ہچکچائی
میری طرف سے اسے یہی جواب ہے. ویسے بھی اخلاق سے اس کا کچھ لینا دینا نہیں وہ ایک بداخلاق پلس بےشرم شخص یے _ ماہم نے گلاس وال سے ٹیرس پر پڑتی بارش کو دیکھتے ہوئے جواب دیا سوچ لو کہیں لینے کے دینے ہی نہ پڑ جائیں حرم نے پوچھا
سوچ لیا _ ماہم نے گرم پیالی دونوں ہاتھوں میں پکڑتے ہوئے لاپرواہی سے جواب دیا. ساری رات لوگوں کو ستانے کے بعد خود کس قدر سکون سے سو رہے ہو اور یہ اپنے باپ کو میرے نمبر سے کیوں فون کیا تھا ….؟ عکاشہ برستی بارش میں گرم بستر کے مزے لے رہا تھا مگر عدن کی آواز اسے بار بار ڈسٹرب کر دیتی جو مسلسل اسے ڈانٹ رہیں تھیں. آپ مجھے اپنی “ماں” کم اور حیدر آفندی کی “بیوی” زیادہ لگتی ہیں _ عکاشہ نے کمبل کے اندر سے ہی جواب دیا.
پہلی بار سچ بولنے پر میں تمہیں ناشتہ دے رہی ہوں ورنہ جو حرکتیں تم نے رات کو کی ہیں میرا ارادہ تمہیں بھوکا رکھنے کا تھا عدن نے کچن سے آواز لگائی سست عورت کو کبھی ماں نہیں بننا چاہیے عکاشہ بیڈ ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے بڑبڑایا
بتمیزززز بیٹے بھی نہیں ہونے چاہیے _ عدن نے اسے بیڈ ٹی دیتے ہوئے جواب دیا تبھی اس کے موبائل پر میسج ٹون بجی. ایک تو تم ویسے ہی ماشاءاللہ بہت “نکمے” ہو رہتی کسر یہ موبائل نکال دیتا ہے عدن کہتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی جبکہ عکاشہ نے میسج پڑھتے ہی ہنسنا شروع کر دیا.
کیا پاگل ہو گئے ہو …… ؟ بس اسی ایک چیز کی کسر باقی تھی. عدن نے کمرے میں جھانکتے ہوئے پوچھا
پاگل تھا میں پہلے یا اب ہو رہا ہوں ….؟ عکاشہ نے گنگناتے ہوئے عدن کو آنکھ ماری جس پر وہ سر نفی میں ہلاتی چل دی.
حرم بی بی یہ شعر تم نہیں لکھ سکتی. جس نے لکھا ہے اسے کہو مجھے بھی “جون ایلیا” کی شاعری آتی ہے. اگر میں جواب دینے پر آیا تو جناب جون ایلیا نے ایسے ایسے شعر کہیں ہیں کہ وہ “بےہوش” ہو جائے گی پھر اسے ہوش میں لانے کے لیے میرے ہی خون کی ضرورت پڑے گی لہذا احتیاط _ کیونکہ احتیاط علاج سے بہتر ہے. عکاشہ کا میسج پڑھتے ہی حرم دبا دبا سا مسکراتی موبائل ماہم کے آگے کر کے برتن سمیٹنے لگی. یہ تو ہے ہی بےغیرت، بےشرم، ذلیل، اس کے منہ لگنا ہی فضول ہے ماہم نے خالی پیالی حرم کو دیتے ہوئے کہا
میرے خیال سے تم دونوں ہی ایک جیسے ہو اسے یہ شعر بھیج کر تم نے اسے خود چھیڑا ہے. حرم کہتی ہوئی ٹرے اٹھانے لگی.
🪄🪄🪄🪄🪄
یوشع اتنی جلدی میں کہاں جا رہے ہو. ہمیں تم سے بات کرنی ہے …؟
کالی شلوار قمیض، سر پر پشاوری ٹوپی، کندھے پر علاقائی شال، بارعب شخصیت _ بےشک میرا پوتا میری طرح بہت خوبصورت ہے. بڑی سرکار نے دل میں یوشع کا جائزہ لیتے ہو اقرار کیا. جی یوشع نے مصروف سے انداز میں بڑی سرکار کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا
بڑی جلدی میں لگ رہے ہو ………؟ بڑی سرکار کے سوال پر یوشع مسکرایا
آج بابا سائیں ساتھ شہر جانا ہے. ان کی کوئی کاروباری میٹنگ ہے مجھے بھی ساتھ چلنے کا کہا ہے ؟
یوشع نے عدن اور عکاشہ کے لیے لفظ “کاروباری میٹنگ” استعمال کیا تو سیڑھیاں اترتے حیدر آفندی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی. بے شک بڑی سرکار کو وہی صحیح سمجھتا تھا.
سلام بڑی سرکار _ حیدر آفندی نے سلام کرتے ہوئے ملازم کو اپنا بیگ گاڑی میں رکھنے کو کہا شہر میں تمہیں کیا کام ہے …. ؟ بڑی سرکار نے مشکوک نظروں سے حیدر آفندی کو دیکھا تو وہ سنجیدہ ہو گئے یوشع تم نے بڑی سرکار کو بتایا نہیں کہ ہمیں کیا کام ہے …… ؟ حیدر آفندی نے گیند یوشع کے کوٹ میں پھینکی بڑی سرکار ابھی تو بتایا یے کہ بابا سائیں شہر میں اپنا بزنس شروع کر رہے ہیں. اب اس سلسلے میں ہمارا وہاں آنا جانا لگا رہے گا آپ پریشان مت ہوں یوشع نے مستقبل کے لیے بھی ساتھ ہی راہ ہموار کر دی.
اچھا جیسا تم لوگوں کو مناسب لگے ویسا کرو مگر میرے خیال سے گاؤں میں رہ کر بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے بڑی سرکار اب براہ راست حیدر سے مخاطب تھیں.
آپ کی ہر بات درست ہے آپ غلط کہہ ہی نہیں سکتیں مگر اب وقت بہت بدل گیا ہے ہمیں شہر میں بھی اپنی جڑیں پھیلانا ہوں گی. وہاں ہمارا ایک مضبوط بزنس ایمپائر ہونا بہت ضروری ہے. حیدر کی جگہ جواب پھر یوشع کی طرف سے آیا.
رہی بات گاؤں کی تو آپ بلکل بےفکر ہو جائیں میں الیکشن اسی لیے لڑ رہا ہوں کہ یہ گاؤں ہمارے اثر سے باہر نہ نکلے.
یوشع کے دلائل جہاں بڑی سرکار کو قائل کر گئے وہاں حیدر آفندی نے بھی اسے تعریفی نگاہوں سے دیکھا
بےشک ان کا بیٹا خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ذہانت میں بھی اپنی مثال آپ تھا. مگر اس کی فسادی طبیعت اسے چین نہیں لینے دیتی تھی.
تمہارے سر پر الیکشن لڑنے کا بھوت کیوں سوار ہو گیا ہے …… ؟
ہمارے خاندان میں کبھی کسی نے سیاست میں حصہ نہیں لیا حیدر آفندی کے ہوچھنے پر یوشع نے گھور کر انھیں دیکھا
سنا نہیں وہ اسی گاؤں کی خاطر اور اپنے باپ دادا کی عزت کو بڑھانے کے لیے ایسا کر رہا ہے.
تمہارا اعتراض نہیں بنتا کیونکہ اس خاندان میں تم نے ایسے کام بھی کیے ہیں جو پہلے تمہارے باپ دادا نے نہیں کیے تھے بڑی سرکار کا اشارہ عدن کی طرف تھا جس پر حیدر آفندی نے اپنا موبائل نکال لیا جبکہ یوشع کے ہونٹ مسکرانے لگے
آپ نے کیا بات کرنا تھی …..؟ یوشع نے مسکراتے ہوئے پوچھا
وہ میں نے تمہیں یہ بتانا تھا کہ میں تمہاری خاطر اس ماسٹر کی بیٹی کا رشتے مانگنے کے لیے تیار ہوں مگر شادی ہماری شرائط پر ہو گی بڑی سرکار کی بات پر یوشع کے تاثرات ایک دم تبدیل ہوئے جبکہ حیدر آفندی کو اپنے سر پر بم پھٹتا ہوا محسوس ہوا.
بڑی سرکار آپ ماسٹر کے گھر جائیں گی ….؟ حیدر آفندی نے بےیقینی سے پوچھا کیوں کہ عدن کے معاملے میں ایسا کچھ نہیں ہوا تھا اور امثال ہر لحاظ سے عدن سے پیچھے تھی.
ہاں میں اپنے شہزادے کے لیے جاؤں گی مگر بڑی سرکار نے ایک مکرو مسکراہٹ سے اپنے انگلیوں میں پہنی انگوٹھیوں کو گھمایا.
آپ جو بھی کرنا چاہتی ہیں وہ کریں. اور ہمیں اجازت دیں دیر ہو رہی ہے. یوشع نے سنجیدگی سے اپنی کلائی پر بندھی قیمتی گھڑی میں وقت دیکھا
شاباش میرے بچے خوش رہو. مجھے معلوم ہے کہ تم میری کسی بات سے اختلاف نہیں کروں گے. مگر پھر بھی کچھ باتیں میں کلئیر کرنا چایتی ہوں. تاکہ بعد میں مسئلہ نہ ہو.
بڑی سرکار نے کہتے ساتھ ہی بتول اور راشدہ بیگم کو بلوانے کے لیے ملازم کو بھیجا
ایک طرف امثال بی بی کی شرائط اور دوسری طرف بڑی سرکار کی یوشع آفندی کچھ کرو ورنہ یہ دونوں عورتیں تمہیں گیند بنا دیں گئیں.
یوشع نے دل میں سوچا اتنی دیر میں بتول اور راشدہ بیگم بڑی سرکار جو سلام کرتیں صوفے پر بیٹھ گئیں.
ہم یوشع کا رشتہ لے کر ماسٹر کے گھر جا رہے ہیں. یہ شادی جہاں ہمیں بہت سے سیاسی فائدے دے گی وہاں ہمارے بدلے کا ذریعہ بھی بنے گی
بڑی سرکار نے بولنا شروع کیا جس پر سب سے پہلا جھٹکا بتول اور راشدہ بیگم کو لگا حیدر آفندی حیران جبکہ یوشع بلکل نارمل تھا.
مگر بڑی سرکار راشدہ بیگم نے بولنا چاہا بہو ابھی ہماری بات مکمل نہیں ہوئی. آپ نے جو بھی سوال کرنا ہے ہمارے خاموش ہونے پر کیجیے گا جس کا آپ کو تسلی بخش جواب ملے گا بڑی سرکار نے ہاتھ کے اشارے سے چپ رہنے کا اشارہ کیا.
وہ لڑکی اس حویلی میں یوشع کی “دلہن” بن کر آئے گی مگر حقیقت میں وہ میری ذاتی “نوکرانی” ہو گی. اس کا یوشع سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور نہ ہی اس سے ہماری “نسل” چلے گی.
وہ ساری زندگی اس حویلی میں ایک غلام کی طرح زندگی گزارے گی. تاکہ اس کی طرف دیکھ کر باقیوں کو نصیحت ہو کہ آفندی خاندان سے بتمیزی کرنا کتنا مہنگا پڑتا ہے.
یوشع اپنی مرضی سے جب چاہے جہاں چاہے شادی کر سکتا ہے ہم اس کی فرمانبرداری سے خوش ہو کر اسے اس کی پسند سے شادی کرنے کی اجازت دیتے ہیں. _ بڑی سرکار نے حیدر آفندی کی طرف دیکھا جو حیرت کی مورت بنے ہو ئے تھے. وہ لڑکی کسی بھی طرح یوشع کی بیوی بننے کے لائق نہیں. مجھے تو اس سے گھن آتی ہے. بکریوں کی بدبو الگ بڑی سرکار کے لہجے میں امثال کے لیے واضح حقارت تھی
مگر یہ تو سرا سر ظلم ہے. مانا وہ لڑکی ہمارے یوشع کے قابل نہیں مگر یوں کسی کی بچی کو رکھنا حیدر آفندی نے سب سے پہلے اعتراض کیا.
تم تو اپنا منہ بند ہی رکھو. یوشع تم بتاؤ کوئی اعتراض …..؟ بڑی سرکار نے یوشع کی طرف دیکھا
مجھے کوئی اعتراض نہیں آپ جانیں اور وہ مگر شادی اسی ہفتے ہو گی اور بس _ یوشع سنجیدگی سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا جبکہ باقی سب اسے حیران و پریشان دیکھ رہے تھے. تم ایسے تو نہ تھے ….؟ راشدہ بیگم نے یوشع کو افسوس سے دیکھا میں اس سے بھی زیادہ “ایسا” ہوں آپ پریشان نہ ہوں یوشع جواب دیتا لاؤنچ سے باہر چلا گیا جبکہ بڑی سرکار نے اسے فخر سے جاتے ہوئے دیکھا
دیکھا تم لوگوں نے یہ “پیر بانو” کا جانشین ہے. بلکل میری طرح، مزاق تھوڑی ہے اور تم دونوں کل میرے ساتھ یوشع کا رشتہ لے کر ماسٹر کے گھر جاؤگی. سارا گاؤں دیکھے گا جس طرح میں اپنے شہزادے کا رشتہ لے کر جاؤں گی کسی کی بارات بھی ایسے نہیں گئی ہو گی بڑی سرکار اپنی چادر درست کرتی پلٹ گئیں.
حیدر سائیں یہ سب کیا ہے ……. ؟ راشدہ بیگم کے پوچھنے پر حیدر آفندی نے ایک پرسوچ سانس خارج کیا
میری سمجھ سے یہ سب باہر ہے اپنے صاحبزادے سے پوچھیں …؟ حیدر آفندی کہتے ہوئے کھڑے ہو گئے ان کے ساتھ ہی بتول اور راشدہ بیگم بھی کھڑی ہو گئیں.
اب آپ کہاں چل دیے …؟ حیدر آفندی کو جاتا دیکھ کر راشدہ بیگم نے پوچھا
شہر میں کچھ کام ہے کل تک آ جاؤں گا. حیدر آفندی نے بغیر مڑے جواب دیا
مجھے کم از کم یوشع سے یہ امید نہیں تھی وہ تو بلکل بڑی سرکار کی پرچھائی بن گیا ہے. پہلے میں حیدر کے لیے روتی تھی اب یوشع راشدہ بیگم نے بےبسی سے بتول کو دیکھا جس پر بتول سر جھکا گئی
🪄🪄🪄🪄🪄
اس وقت زبیر صاحب کے چھوٹے سے گھر میں بڑی رونق لگی ہوئی تھی. عدن، حیدر آفندی، یوشع اور عکاشہ ان کی سادہ سی بیٹھک میں موجود تھے. وہ اپنے ساتھ فروٹ اور مٹھائی کے ٹوکرے بھی لائے تھے. گھر سے باہر لمبی لمبی تین گاڑیاں کھڑی تھیں. حفاظتی گارڈز ان گاڑیوں کی قیمت مزید بڑھا رہے تھے.
کلثوم بیگم کو جب سے پتہ چلا تھا کہ یہ لوگ ماہم کے لیے آئے ہیں وہ مسلسل جلی کٹی سنا رہیں تھیں.
اماں آپ کیوں اس طرح کر رہیں ہیں …؟ بلآخر تنگ آ کر حرم نے کہا
وہ سدا کی بےوقوف، اتنا امیر اور خوبصورت لڑکا پٹانے میں کامیاب ہو گئی. مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا کہ یہ رشتہ اس کے لیے آیا ہے کلثوم بیگم کچن میں برتنوں کو پٹخ رہیں تھیں.
اماں آپ اس لڑکے کو نہیں جانتی وہ ایک نمبر کا حرم نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ کلثوم بیگم چیخ پڑیں. چپ بلکل چپ تم نے مجھے بےوقوف سمجھ رکھا ہے. میں اس لڑکے کو بہت اچھی طرح جانتی ہوں یہ وہی ہےجو ہسپتال میں اسے خون دینے آیا تھا. مرا جا رہا تھا منحوس کے لیے زبیر نے مجھے بتایا تھا پتہ نہیں کب سے چکر چل رہا تھا. تبھی تو اس نے اپنی کلائی کاٹی تھی. کلثوم بیگم کی باتوں پر حرم کو بہت افسوس ہوا اور وہ چپ چاپ کچن سے نکل کر باہر بیٹھ گئی.
ہارون بھیا کاش آپ یہاں ہوتے میں آپ کو آج بہت مس کر رہی ہوں. حرم نے اداسی سے دل میں سوچا
آپ لوگ ہمارے گھر آئے. ہمیں عزت دی جس کے لیے میں اور میری ماں آپ کی بہت مشکور ہیں مگر _ زبیر صاحب نے خاصی پریشانی سے پہلے سمیرا بیگم اور پھر عدن کی طرف دیکھا مگر کیا ….؟ عدن نے بےقراری سے پوچھا مگر ہم نے اس کا رشتہ کہیں اور کر دیا ہے زبیر صاحب کے بولنے سے پہلے ہی عکاشہ بول پڑا تو سب نے مڑ کر اسے حیرت سے دیکھا
آپ لوگ مجھے ایسے کیوں گھور رہے ہیں. عموماً ایسی صورتحال میں یہی یوتا ہے. عکاشہ نے کندھے اچکائے
جی بس کچھ ایسی ہی بات ہے. میں نے اس کا رشتہ اپنے دوست کے بیٹے ساتھ کرنے کا ارادہ کیا ہے. رسم وغیرہ تو نہیں ہوئی مگر ہم دونوں راضی ہیں زبیر صاحب کی بات پر حیدر آفندی نے سکھ کا سانس لیا.
دراصل آپ کی بچی ہماری بیگم صاحبہ کو بہت پسند ہے اور ہمیں ان کی پسند حیدر آفندی کی بات پر زبیر صاحب مسکرائے.
یاررررر بھائی آپ کے گاؤں میں بھی لفظ “بچی” استعمال ہوتا ہے …؟ عکاشہ نے سرگوشی کی.
نہیں ہمارے گاؤں میں لفظ “بکری” استعمال ہوتا ہے یوشع نے جس سنجیدگی سے جواب دیا عکاشہ ہکا بکا رہ گیا.
یاررررر بھائی اتنی سنجیدگی سے مزاق نہیں کرتے. میں تو سمجھ ہی نہیں سکا. عکاشہ اب چائے پینے لگا تھا.
ویسے آپ کا لڑکا کیا کرتا ہے … ..؟ سمیرا بیگم نے محبت بھرے لہجے میں عکاشہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا تو عکاشہ کے ہاتھ سے چائے کا کپ چھوٹتے چھوٹتے بچا.
یہ لوگ میرے کپڑے خراب کرنے لگے تھے عکاشہ کی سرگوشی پر یوشع ہنسا
میرا جو کچھ بھی ہے وہ ان دونوں بھائیوں کا ہی ہے. ہماری اتنی جاگیریں اور بزنس ہے. یہ کچھ نہ بھی کریں تو ان کی نسلیں بیٹھ کر کھا سکتیں ہیں. لیکن پھر بھی اس کی تعلیم مکمل ہوتے ہی میں اپنا بزنس اس کے حوالے کر دوں گا.
حیدر آفندی کی بات پر جہاں زبیر صاحب اور سمیرا بیگم مطمئن نظر آئیں وہاں کلثوم بیگم جل بھن گئیں.
اگر یہ بیان بڑی سرکار سن لیتیں تو حیدر آفندی کی ہمت پر حیران ہوتیں “دونوں بھائیوں کا ہے” عکاشہ نے نقل اتاری.
اگر بڑی سرکار یہاں ہوتیں تو حیدر آفندی کی ہمت ہی نہ ہوتی یوشع کے جواب پر دونوں ہنسنے لگے
وہ دونوں وہاں موجود ہر شخص کی بات ہر یوں تبصرہ کر رہے تھے جیسے کرکٹ کی کمنٹری کر رہے ہوں.
بیٹا آپ خاموش طبعیت محسوس ہوتے ہیں. ہم سے بھی بات کر لیں کہ صرف بھائی ساتھ ہی دوستی ہے سمیرا بیگم نے عکاشہ سے کہا تو عدن، حیدر آفندی اور یوشع کو ایک ساتھ پھندا لگا اور وہ کھانسنے لگے جبکہ عکاشہ شرارتی سا مسکرا رہا تھا.
تیرے کپڑے تو بچ گئے مگر ہمارے خراب کرا دئیے یوشع نے عکاشہ کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے کپڑے جھاڑے
گھر کی مرغی دال برابر تم لوگوں کو میری قدر ہی نہیں ہے. دیکھو وہ کس طرح میری تعریفیں کر رہا ہے. عکاشہ نے اپنی جیکٹ سیدھی کی.
زرا اپنی بچی سے تو پوچھ لیں پھر ہم سے پوچھیے گا ویسے پھر ضرورت ہی نہیں رہے گی یوشع نے آہستہ آواز میں زبیر صاحب کو مخاطب کیا تو عکاشہ نے اس کے ہاتھ سے بسکٹ لے لیا
اپنے سسرال سے مجھے بکری کا دودھ تک نہیں پلایا اور یہاں کیسے ان غریبوں کا راشن ختم کر رہے عکاشہ نے اپنے منہ میں بسکٹ ڈالتے ہوئے کہا
میرا سسرال یوشع نے کھوئے سے لہجے میں دہرایا
کیوں اب کیا ہوا..؟ عکاشہ نے پوچھا
ہوا تو کچھ نہیں مگر بہت کچھ ہونے والا ہے یوشع کو اچانک بڑی سرکار کی باتیں یاد آ گئیں
پھر بھی اگر چاہیں تو میرے ساتھ اپنا مسئلہ شئیر کر لیں شاید میں آپ کی کچھ مدد کر سکوں عکاشہ نے اپنا کپ خالی کرتے ہوئے سامنے میز پر رکھا اور خود ٹیک لگا کر بیٹھ گیا.
پگلے اب رلائے گا تو مسئلے حل کرنے نہیں مسئلے پیدا کرنے والا ہے. اس لیے مدد کا لفظ تیرے منہ سے خاصا عجیب لگتا ہے. یوشع نے سر نفی میں ہلاتے اپنا کپ میز پر رکھا
مجھے آپ کی بیٹی دیکھنی ہے. عدن اس کی بہت تعریفیں کرتیں ہیں. آپ اسے بلا دیں پلیززززز حیدر آفندی نے زبیر صاحب سے ماہم کو بلانے کا کہا
لو جی وہ کوئی دیکھنے کی چیز ہے. راستہ میں اتنی پیاری پیاری لڑکیاں آ جا رہیں تھیں. انھیں دیکھا نہیں اور اس کو دیکھنا ہے. یہ اپنے حیدر آفندی بھی نااااااا عکاشہ نے افسوس کیا
بےغیرت باپ ہے تیرا، شرم کر یوشع نے گھورا.
مجھ اکیلے کا ہے آپ کا بھی تو ہے…..؟ اور آپ تو جیسے بہت عزت دیتے ہیں.
گاؤں میں جو سلوک آپ ان ساتھ کرتے ہیں میں نے دیکھا ہے. اس سے زیادہ تو آپ بکری کو عزت دیتے ہیں عکاشہ کے جواب پر یوشع نے دانت پیسے
اگر تو اس وقت یہاں نہ بیٹھا ہوتا تو یقیناً میں تیری پٹائی کر رہا ہوتا یوشع نے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے عکاشہ کو جتلایا
دونوں بھائیوں میں ماشاءاللہ بہت پیار ہے. جب سے آئے ہیں آپس میں ہی بات کر رہے. ہمیں بھی تو موقع دیں. زبیر صاحب نے دونوں کو مخاطب کیا
جی بہت زیادہ محبت ہے میرے دونوں بیٹوں میں ایک چاند تو دوسرا سورج یے. عدن نے محبت سے دونوں کی طرف دیکھا
میں چاند ہوں اور بھائی سورج عکاشہ نے طنز کیا.
محبت کا تو پتہ نہیں مگر ایک دوسرے سے بات کیے بنا ہمارا گزارا نہیں ہوتا ہے یوشع نے خوش مزاجی سے جواب دیا
بات یا پٹائی __ عکاشہ بڑبڑایا
🪄🪄🪄🪄🪄🪄
