Do Dil By Amna Mehmood Readelle50150 Episode 27
Rate this Novel
Episode 27
بابا آپ سیال فیملی کے بارے میں جانتے ہیں ، کیسے لوگ ہیں..؟
اچھے ہیں کافی مالدار ہیں مطلب ہماری طرح جاگیردار بھی ہیں اور سیاست میں بھی ٹانگ اڑائی ہوئی ہے. مگر تم کیوں پوچھ رہی ہو…؟
اپنی بات کے آخر میں زریاب نے تفتیشی نظروں سے زرناب کو گھورا.
بابا بتائیں ناااا آپ اور ان کے بارے میں کیا جانتے ہیں..؟
شوکت علی سیال آپ کے دادا کے بہت اچھے دوست تھے. ان کے دو بیٹے تھا. بڑا بیٹاجس کا نام غالباً حمزہ تھا بہت ہی لائق تھا وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ گیا پھر وہیں کا ہو کر رہ گیا مطلب اس نے وہاں کسی گوری سے شادی کر لی اور دوبارہ پاکستان نہیں آیا.
دوسرا بیٹا خاصا نالائق تھا اُنن کا نام زبیر تھا مگر جب انھوں نے سیاست میں قدم رکھا تو ان کی قسمت کا ستارہ چمک گیا بہت عزت کمائی انھوں نے سیاست میں ، دو بار نیشنل اسمبلی کے ممبر بھی رہے.
اس سے زیادہ مجھے معلوم نہیں ، ویسے کافی عرصے سے میں نے انھیں دیکھا نہیں پتہ نہیں سیاست کیوں چھوڑ دی….؟
اپنی بات کے آخر میں زریاب نے خود کلامی کرتے ہوئے آہستہ آواز میں کہا
میرے خیال سے ، نہیں بلکل کنفرم وہ دونوں فوت ہو گئے ہیں کیونکہ زبیر صاحب کے بیٹے مہر علی سیال میرے پاس آئے تھے ایک کیس کے سلسلے میں ، انھوں نے بتایا تھا مجھے کہ اُن کےبابا اور تایا کا قتل ہو گیا تھا جائیداد کے تنازعہ پر….
زرناب کی بات پر زریاب نے اسے حیرت سے دیکھا.
میں نے تمہیں ایسے کیسس لینے سے منع کیا ہوا ہے پھر….
بابا پریشان مت ہوں میں نے منع کر دیا تھا اب شاید حمین سے بات کریں کیونکہ کیس کافی الجھا ہوا ہے مجھے تو بےحد پیچیدہ ہی لگا تھا.
زرناب نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے
ٹھیک کیا تم نے ، ایسے لوگوں کے منہ نہیں لگنا چاہیے ، ویسے تو حمین کو بھی ایسے کیسس نہیں لینے چاہیں ، میں بات کروں گا حنین سے…..
بابا آپ خامخواہ پریشان ہو رہے ہیں حمین جیسا آپ لوگوں کولگتا ہے ویسا تو بلکل بھی نہیں ہے وہ انتہائی…..
شرم کرو ، کیوں ہر وقت اس کے پیچھےپڑی رہتی ہو مجھے تو بہت ہی اچھا لگتا ہے.
ماہ نور نے سٹڈی روم میں داخل ہوتے ہوئے زرناب کو ڈانٹا
ماما سب آپ کے لاڈلے ہیں سوائے میرے….
زرناب نے مصنوعی ناراضگی کا اظہار کیا
آپ میری جو لاڈلی ہیں آپ میری بیٹی نہیں بیٹا ہیں اور مجھے آپ پر فخر ہے.
زریاب نے پوار سے زرناب کے سر پر ہاتھ پھیرا.
تمہاری طرح کے والدین ہوتے ہیں جو اپنی بیٹیوں کے دماغ ایسی باتوں سے خراب کر دیتے ہین اور بعد میں پچھتاتے ہیں
بیٹیاں بیٹیاں ہیں بیٹےنہیں ، کبھی بکری بھی شیر کا مقابلہ کر سکتی ہے حد ہے بےوقوفی کی……
ماہ نور کی باتوں پر دونوں باپ بیٹی نے ایک دوسرے کو دیکھا اور زریاب نے آنکھوں کے اشارےسے اسے باہر جانے کے لیا کہا
حد ہے ماہ نور یوں کہتے ہیں…
زرناب کا دل توڑ دیا تم نے ، اپنی احساس محرومی پلیززز اپنےپاس رکھو میری بیٹی میں منتقل نہ کرو.
زریاب کہتے ہوئے سٹڈی روم سے باہر آ گیا.
🌸🌸🌸🌸
حذیفہ کو بہت دنوں بعد آج پھر نیچے بیس آنے کا موقع ملا. وہ جتنا مس معصومہ کے بارے میں سوچنے سے گریز کر رہا تھا اتنا ہی اس کا خیال اسے بےچین کر رہا تھا.
کیا بات ہے کچھ پریشان نظر آ رہے ہو…؟
حذیفہ اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامے بیٹھا تھا جب اسد کمرے میں داخل ہوا.
جچھ خاص نہیں بس سمجھ نہین آ رہی کہ کیا کروں اور کیا نہ کروں فیصلہ کرنے میں دشواری ہو رہی ہے….؟
کس بات کی سمجھ نہیں لگ رہی کپٹن…؟
اسد نے استفادہ کیا
میں ایوی ایشن میں جانا چاہتا ہوں تو بتا چلا جاؤں..؟
چلو جی ، بیٹھے بیٹھائے یہ اڑنے کا خیال کیسے آیا….؟
آج OC نے کہاتھا کہ جو جو اپلائے کرنا چاہتا ہے اپنا نام لکھوا دے ٹیسٹ کے لیے ، سوچ رہا ہوں کہ ٹرائی کروں.
ٹھیک ہے کرٹرائی ، مجھے پورا یقین ہے کہ تو ضرور سلیکٹ ہو جائے گا بہت لکی ہے تو…!!!
اسد نے حوصلہ افزائی کی.
ہاں ٹھیک ہےصبح اپلائی کروں گا اور سنا تُو کیسا ہےکیا چل رہا ہے …؟
مجھے چھوڑ اور تُو بتا تیرے ساتھ کیا چل رہا ہے کیونکہ جو مسئلہ تو نے ابھی مجھ سے شئیر کیا ہے اصل مین وہ مسئلہ نہیں ہے اس لیے جو ہے وہ بتا…؟
اصل مسئلہ…؟؟
حذیفہ نے ابرو اچکا کر اسد کو دیکھا
جی ہاں ، اصل بات جس کی وجہ سے شکل لٹکی ہوئی ہے.
یار وہ فون والی لڑکی نے میرا جینا حرام کر دیا ہے ہر وقت یاد آتی رہتی ہے بقول سستے شاعر
دل سے نکل کر وہ میرے…
اکثر سر پر سوار رہتا ہے…
حذیفہ نے مزید ایکٹنگ کرنا بیکار سمجھی.
اچھا توفون کر لے اس میں پریشان ہونے والی کون سی بات ہے….؟
یار وہ میرے حواسوں پر سوار ہے اور یہ اچھی بات نہیں ہے وہ میری عادت بنتی جا رہی ہے . تجھے پتہ ہے کچھ عادتیں اور خاص طور پر گندی عادتیں بہت نقصان دہ ہوتیں ہیں یہ بندے کو نشے کی طرح اندر ہی اندر کھا لیتیں ہیں.
ویسے بھی میں خود کواس کی عادت نہیں ڈالنا چاہتا پتہ نہین کون ہے کیسی ہے…؟؟
کیا خاص ہے اس میں کہ شیر جیسے حذیفہ کو بلی بننے پر مجبور کر دیا ہے…؟
اسد حیران تھا.
کچھ خاص نہیں ، یہی خاص ہے اس میں…!!!
خیر اب وہ خاص ہے یا عام مگرمیری مان تو ایک دفعہ بات کر لے کچھ تو تسلی ہو گئی تیری اسد کو بات پر حذیفہ نے سر ہلایا.
چل حذیفہ فون کرلے دیکھی جائے گی جو ہو گی
“توڑ دو نا وہ قسم جو کھائی ہے۔۔۔۔۔۔!
کبھی کبھی یاد کرنے میں کیا برائی ہے؟”
اور معصومہ کا نمبر ڈائل کیا خوش قسمتی سے دوسری بیل پر کال اٹینڈ ہو گئی.
🌸🌸🌸🌸
دبیر آفس میں کافی بزی تھا جب حنین کے آنے کی اطلاع انٹر کام پر ملی.(PA اطلاعکر دیرا تھا مگر حنین کو روکتا نہین تھا).
میں نے سوچا تھا کم از کم رشتےداری کے بعد ہی مگر تجھےمیری قدر اور احترام آ جائے گا پر یہاں تو صورت حال پہلے سے بھی زیادہ مخدوش ہو گئی ہے.
حنین نے گلہ کرتے ہوئے صوفے کی طرف بڑھ گیا.
کیا ہو گیا ہے ، نہ سلام نہ دعا ، اتنا غصہ…؟
دبیر نے مسکراتے ہوئے اپنی کرسی چھوڑی اور حنین کی طرف بڑھ گیا.
پہلے مجھے دیکھتے ہی تو سب کام چھوڑ چھاڑ دیتا تھا. میرا خیال تھا اب تو میراپہلے سے بھی زیادہ احترام کرے گا آخر میں لڑکی والا ہوں .
تیرے نالائق اور معمولی شکل والے ڈاکٹرکا نہایت خوبصورت ، ہینڈسم اور ذہین “سسر” بھی ، مگر تو نے میری تمام امیدوں پر ہمیشہ کی طرح بالٹی بھر کر نہیں بلکہ موٹر چلا کر پانی پھیر دیا ہے.
حنین کا پھولا منہ دیکھ کر دبیر کی ہنسی نکل گئی.
یار تو کیا لڑکوں کی طرح ناراض ہو رہا ہے.
تو کیا لڑکیوں کی طرح ناراض ہوں اپنے کرتوت نہیں دیکھتا اور مجھے کہہ رہا ہے…
اچھا عالی جاہ…!!!
حکم کریں کیا خدمت کی جائے.
دبیر نے مودبانہ انداز میں ہاتھ باندھ کر حنین کے سامبے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
“خدمت” اور وہ بھی “تُو” اور میری کرے گا ، سوچ لے…؟
اچانک حنین کی گول مٹول آنکھوں میں چمک اور ہونٹوں پر ” پُراصرار ” مسکراہٹ ابھری.
دیکھ شرارت نہ کریں باقی تو جو بھی کہے گا میں کروں گا.
دبیر نے واپس صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا
ٹھیک ہےپھر تو میری شان میں قصیدہ سنا اور خود ٹانگ پرٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا.
🌸🌸🌸🌸
