Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

یوشع جب اکیلے ہوتا تو ڈرائیور گاڑی چلاتا تھا ۔مگر جب اس کے ساتھ حیدر آفندی ،عکاشہ یا اس کا کوئی اپنا پیارا ہوتا تو وہ ہمیشہ خود ڈرائیو کرتا تھا شاید یہ اس کی محبت کا ایک انوکھا انداز تھا ۔
پریشان ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے میں یوشع کو اپنا سر دباتا دیکھتے ہوئے پوچھا
بابا سائیں مسلسل آتے جاتے گاڑی چلانے کی وجہ سے میرا سر اب چکرانے لگا ہے ۔یوشع کے جواب پر حیدر آفندی مسکرائے ۔
جب میں تمہاری عمر میں تھا تو عدن کو لونگ ڈرائیو پر لے جاتا تھا مگر مجال ہے جو تھکاوٹ کا احساس بھی ہوتا پتہ نہیں تم پر کیسی جوانی آئی ہے کہ ڈرائیونگ سے ہی تھک جاتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے اپنے اچھے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا
اگر میرے ساتھ بھی آپ کی جگہ اس فرنٹ سیٹ پر عدن ماما جیسی کوئی لڑکی ہوتی تو مجھے بھی تھکاوٹ کا احساس نہ ہوتا _ یوشع نے مسکراتے ہوئے جواب دیا بڑا ہی کوئی بے غیرت بیٹا پایا ہے میں نے شاید ہی کسی اور کا ہو ‏باپ ساتھ سفر کرتے تھکاوٹ ہوتی ہے مگر لڑکی ساتھ _ حیدر آفندی نے اپنا سر افسوس سے ہلایا آپ شاید بھول رہے ہیں۔ عدن ماما کا بیٹا مجھ سے بھی چار ہاتھ آگے ہے مگر وہ تو اسے اتنا برا بھلا نہیں کہتی جتنا آپ مجھے کہتے ہیں مجھے برا لگتا ہے یوشع نے لاڈ سے گلہ کیا
تمہیں بھی کچھ برا لگتا ہے مجھے اس پر حیرت ہے حیدر آفندی نے باہر دیکھتے ہوئے کہا گاڑی جیسے ہی حویلی کے مین گیٹ پر پہنچی گارڈز نے ہارن سے پہلے ہی گیٹ کھول دیا ۔حیدر آفندی اور یوشع اپنی اپنی طرف کا دروازہ کھول کر باہر نکلے ۔ حیدر آفندی نے بڑی سرکار کے کمرے کا رخ کیا جبکہ یوشع چائے کا آرڈر دیتا ہوا اپنے کمرے میں آگیا ۔شال اتار کر صوفے پر پھینکی، جوتا ایک مشرق اور دوسرا کمرے کے مغرب میں قمیض کے بازو اکتاہٹ سے فولڈ کر ہی رہا تھا کہ راشدہ بیگم دروازے پر دستک دیتی اندر داخل ہوئیں۔
السلام علیکم اماں سائیں _ یوشع کہتا ہوا واشروم میں چلا گیا ۔مگر حیرت کا جھٹکا اسے تب لگا جب وہ فریش ہو کر باہر نکلا تو راشدہ بیگم اور بتول کو خلاف معمول اپنا منتظر پایا ۔ خیریت ہے آج آپ دونوں ایک ساتھ میرے کمرے میں _ یوشع نے تولیہ کرسی پر ڈالا اور خود ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑا ہوگیا ۔
یوشع وہ کسی لحاظ سے تمہارے قابل نہیں ہے۔مجھے اپنی اس حویلی میں وہ جاھل گوار لڑکی نہیں چاہیے راشدہ بیگم نے بے چینی سے اس کے قریب آتے ہوئے کہا وہ انتہائی بدتمیز بھی ہے وہ تو ہماری حویلی کا ماحول خراب کر دے گی بتول کی آواز پر یوشع اسے بال برش کرتے ہوئے کن انکھیوں سے دیکھا
تم میرے ایک ہی بیٹے ہو اور تمہاری شادی کے بہت ارمان ہے میرے دل میں _ میں اس معاملے میں تمہاری ضد برداشت نہیں کر سکتی مجھے وہ لڑکی بہو کے روپ میں قابل قبول نہیں ۔ وعدہ کرو اس سے شادی نہیں کرو گے ۔انکار کر دو تمہارے آگے بڑی سرکار کبھی بھی نہیں بولیں گی
راشدہ بیگم نے غمزدہ سے لہجے میں یوشع کے آگے التجا کی
اماں سائیں میرے سر میں اس وقت شدید درد ہو رہا ہے تھکاوٹ سے میری آنکھیں بند ہیں۔ کیا ہم اس بارے میں کل بات نہیں کر سکتے ۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے راشدہ بیگم کو کندھوں سے تھام کر کہا
یقین مانو وہ لڑکی پاگل ہے بتول نے فکر مندی سے کہا کون سی لڑکی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے راشدہ بیگم کو چھوڑتے ہوئے بیڈ کا رخ کیا وہی ماسٹر کی بیٹی
راشدہ بیگم کے جواب پر یوشع جو لیٹنے کا سوچ رہا تھا بیڈ پر بیٹھ کر دونوں کو دیکھنے لگا
بات کیا ہوئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے بے زاری سے پوچھا جس پر بتول نے اسے آج کی تمام کاروائی گوش گزار کر دی ۔
بس اتنا ہی یا اور کچھ ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کے اطمینان پر دونوں نے حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھا
یوشع تمہیں غصہ نہیں آیا ۔۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم کے پوچھنے پر وہ مسکرا دیا
کس بات پر ۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے اپنا سر دبایا
اس لڑکی کی حرکتوں پر _ راشدہ بیگم کی جگہ بتول نے کہا ابھی وہ اپنے باپ کے گھر ہے میرا اس سے کوئی رشتہ نہیں جب وہ اس حویلی میں آئے گی اور میری ملکیت ہوگی تو آپ مجھے شکایت لگائیے گا پھر میں نوٹس لونگا ابھی میں کچھ نہیں کر سکتا ۔ ویسے بھی مجھے اس کی کوئی حرکت بری نہیں لگی ۔ آپ زبردستی کسی کے گھر گھس جائیں ۔رعب جمائیں تو وہ آپ پر پھول نہیں پھینکے گا۔ بدتمیزی ہی کرے گا یوشع نے کندھے اچکائے
وہ اس حویلی میں نہیں آئے گی راشدہ بیگم نے تقریبا چیختے ہوئے کہا
اس بات کا فیصلہ بڑی سرکار کریں گی
یوشع کے جواب پر راشدہ بیگم کو بہت دکھ ہوا
تمہیں بھی تو کوئی لڑکی پسند تھی اس کا کیا ہوا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم کے یاد دلانے پر یوشع نے ہنکار بھرا
دفع کریں سب کو فی الحال مجھے نیند آرہی ہے یوشع نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کیں تو وہ دونوں مایوسی سے کمرے سے چلی گئیں۔ امثال بی بی کسی کو تو معاف کر دو یا سارا سسرال ہی دشمن بنا لینا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ اب پسندیدگی کی اتنی سزا تو نہ دو میں چاہتا ہوں تم میرا سکون بنو ، مان بنو مگر لگتا ہے کہ تم مجھے سچ مچ برباد کر دوں گی۔
میں تمہیں صرف پسند کرتا ہوں اگر میں تم پر مرتا تو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تو تم میرا کیا حشر کرتی ۔۔۔۔۔؟؟؟
مگر میں تم پر نہیں مرتا بلکہ تمہارے انداز گفتگو ، اپنی ذات پر اعتماد ، نام یوشع نے سوچتے ہوئے کروٹ لی اور آنکھیں پر اپنا بازو رکھ لیا ۔ “تم پر نہیں مرتے، مرتے ہیں تو ان چار پر ناز پر ، انداز پر ، رخسار پر، گفتار پر !!” میری تو خیر ہے مگر میرے بزرگوں ساتھ بدتمیزی کی سزا تو امثال بی بی تمہیں ملے گی وہ میں معاف نہیں کر سکتا یوشع نے بند آنکھوں ساتھ بڑبڑایا
🪄🪄🪄🪄🪄
چلو شکر ہے کچھ تو اچھا سننے میں آیا ۔میں بہت خوش ہوں اور یہ تمہاری طرف سے مجھے ملنے والی پہلی خوشی ہے _ عدن نے محبت سے عکاشہ کی طرف دیکھا جو میچ دیکھنے میں مصروف تھا کیا یونی والوں نے مجھے نکال دیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کے پوچھنے پر عدن نے اسے گھورا۔ یہ کوئی خوشخبری ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا میرے لیے تو یہی سب سے بڑی خوشخبری ہے عکاشہ نے کندھے اچکائے
پاگل ماہم کے گھر والوں نے “ہاں” کر دی ہے عدن نے خوشی سے بتایا جس پر عکاشہ تقریباً اچھل پڑا ماہم “پاگل” بھی ہے اور آپ ایک پاگل لڑکی کو بہو بنانے پر کتنی خوش ہو رہی ہیں عکاشہ نے افسوس کیا
میں نے پاگل تمہیں بولا ہے اسے نہیں _ عدن ناراض ہوئیں۔ کیا واقعی ہی وہ پاگل میری بیگم بن جائے گی مجھے تو کچھ عجیب سا محسوس ہورہا ہے بلکہ شرم آرہی ہے عکاشہ شرارت پر اترا
عکاشہ عدن سے گھورا
ماما کیا ہے آپ کم از کم آزادی رائے کو نہیں دبا سکتیں۔ ہم آزاد ملک کے آزاد شہری ہیں اور آزادی رائے کا حق رکھتے ہیں ۔عکاشہ کی دلیل پر عدن نے تالی بجائی۔
ویسے دیکھ تو تم میچ رہے تھے مگر لگتا ہے کسی سیاسی ٹاک شو کا اثر تم پر ہوا ہے ۔ عدن نے ٹی وی کی طرف اشارہ کیا
ماما اپنے حیدر صاحب کو بتا دیں کیونکہ خرچہ تو انہوں نے ہی کرنا ہے ۔ عکاشہ نے آواز آنکھ ماری
مجھے انہوں نے ہی بتایا ہے کیوں کہ زبیر صاحب کا فون حیدر کو ہی آیا تھا عدن نے منھ بنایا
کتنی خوش ہوتی ہیں آپ اس “موٹے انکل” کے نام پر _ عکاشہ نے دوبارہ اپنا رخ ٹی وی کی طرف کیا موٹے انکل عدن نے حیرت سے دہرایا
حیدر صاحب کو کہہ رہا ہوں _ عکاشہ نے بغیر مڑے جواب دیا شرم تھوڑی سی شرم باپ ہے وہ عدن نے شرم دلائی
آپ تو ایسے کہہ رہی ہیں
“باپ ہے وہ” _ جیسے باپ نہ ہوا ملک کا وزیراعظم ہو گیا۔ میری شادی ہونے دیں میں بھی باپ بن جاؤں گا کیا پھر آپ میری عزت کریں گی۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کے سوال پر عدن نے اپنا سر پکڑ لیا تمہارا باپ ہے میرا نہیں عدن نے تصحیح کی
اچھا تو پھر وہ آپ کا کیا لگتا ہے ۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے اب باقاعدہ عدن کی طرف منہ کر لیا تھا ۔
میرا وہ کیا نہیں لگتا ۔۔۔۔۔؟؟؟ بلکہ میرے وہ سب کچھ لگتے ہیں ۔ میرے بچے کا باپ ہے اور میرا سائیبان ۔سمجھے عدن کہہ کر جانے لگی
اچھا بس ایک آخری بات بتا دیں پلیز عکاشہ نے جلدی سے عدن کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا
کیا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے حیرت سے اسے دیکھا
کیا آپ کو ابھی بھی حیدر آفندی سے شرم آتی ہے ۔ میں نے دیکھا ہے آپ ان کے ذکر پر لال ہو جاتی ہیں مگر کیوں۔۔۔۔۔۔؟؟؟عکاشہ سے ایسے سوال کی عدن کو بالکل امید نہ تھی۔
عکاشہ یہ کیا بیہودگی ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے اپنا ہاتھ چھڑایا
اچھا تو آپ نے میک اپ کیا ہوا ہے میں سمجھا شرم کی لالی ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟
عکاشہ کہتا ہوا دوبارہ صوفے پر بیٹھ گیا جبکہ عدن نے افسوس سے اسے دیکھا اس سے پہلے کہ وہ اسے کچھ کہتیں ان کا موبائل بجنے لگا
جائیں انہیں بھی حویلی میں اور کوئی کام نہیں ہے اپنی طرف سے بڑے مصروف بنتے ہیں _ عکاشہ نے بڑبڑاتے ہوئے کہا جبکہ عدن کال رسیو کرتی کمرے میں آگئی۔ کیسی ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے ہمیشہ کی طرح پوچھا آپ کے بغیر میں کیسی ہو سکتی ہوں ظاہر سی بات ہے اداس ہو عدن نے صاف گوئی سے کام لیا
اب تو آپ کا اداس ہونا نہیں بنتا اتنی بڑی خوشخبری سنائی ہے میں نے آپ کو اور وہ گدھا خوش ہوا کہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے عکاشہ کا پوچھا
اس کی تو بات ہی مت کریں اللہ جانی شادی کے بعد کچھ فرق پڑے گا بھی کہ نہیں فی الحال تو دماغ چاٹنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ۔ عدن نے باہر بیٹھے عکاشہ کو دیکھ کر جواب دیا
ٹھیک ہو جائے گا آپ پریشان نہ ہوں ابھی بچہ ہے خیر میں نے آپ کو اس لیے فون کیا تھا کہ ہم جمعہ کو یوشع کی بارات لے کر جا رہے ہیں۔ حیدرآفنددی کی بات پر عدن اداس ہو گئی
کچھ بولیں نااااا آپ تو بالکل ہی چپ ہو گئی ہیں حیدر آفندی نے عدن کی خاموشی محسوس کرتے ہوئے پوچھا
حیدر میں بھی شادی میں آنا چاہتی ہوں ۔کیا میں اپنے بیٹے کی شادی میں نہیں آ سکتی۔ کیا یوشع میرے بغیر ہی شادی کرلے گا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن کے سوالوں کے جواب حیدر آفندی کے پاس نہیں تھے۔ کچھ دیر دونوں کے درمیان خاموشی کا راج رہا
چلیں کوئی بات نہیں آپ تو سیریس ہو گے میں مذاق کر رہی تھی عدن نے نم آواز میں خاموشی کو توڑا محبت انتہائی خطرناک بیماری ہے یہ بظاہر بہت سکون دیتی ہے مگر حقیقت میں یہ آپ کو کھوکھلا کر دیتی ہے ۔ ہم چاہے جو بھی ہوں اپنے محبوب کے آگے ہار جاتے ہیں۔ عدن میں آپ سے ہار گیا ہوں مگر آپ کے لیے کچھ کر نہیں سکتا ۔مجھے معاف کر دیں حیدرآفندی کے منہ سے معافی کا لفظ سن کر عدن کے ہوش اڑ گئے
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں نے مذاق کیا تھا ۔ میں جانتی ہوں کہ ممکن نہیں ۔ بس کیا کروں زبان سے پھسل گیا ۔آپ اس طرح نہ کہیں _ عدن نے فورا اپنی بات کی وضاحت دی۔ آپ کو مجھ سے نفرت ہوتی ہو گی کبھی تو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے نہ جانے کیوں یہ سوال کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نفرت اور وہ بھی آپ سے حیدر کمال کرتے ہیں ۔ نفرت مجھے اپنے آپ سے ہوتی ہے جس نے آپ کی اچھی بھلی زندگی خراب کردی ۔عدن خود پر ہنسی
آپ نے میری زندگی خراب نہیں کی آپ تو میری جنت ہیں حیدر آفندی نے جذبات سے چور لہجے میں کہا
سوری مسٹر حیدر آفندی یہ جنت میری ہے آپ کی نہیں
عکاشہ کب عدن ساتھ کھڑا ہوا اسے پتہ ہی نہیں چلا
عکاشہ میرا فون واپس کرو _ عدن نے غصے سے کہا پہلے آپ رونا بند کریں_ عکاشہ نے ہاتھ اوپر کیا جبکہ حیدر آفندی نے کال کاٹ دی ۔
یوں کسی کا بھی فون سننا اخلاقیات کے زمرے میں نہیں آتا۔ عدن نے فون کی بلیک سکرین دیکھتے ہوئے غصے سے کہا
یوں چھپ چھپ کر رونا اخلاقیات کے زمرے میں آتا ہے ۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے پوچھا
پتا نہیں کیوں آپ کو اس شخص سے نفرت نہیں ہوتی میں تو جب بھی آپ کو ان کے لیے روتا دیکھتا ہوں مجھے نفرت ہونے لگتی ہے عکاشہ غصے سے کہتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا
کبھی محبت کرو گے تو پتہ چلے گا ناااااا کہ محبوب سے نفرت ہو ہی نہیں سکتی عدن نے جواب دیا
جھولی اٹھا اٹھا کر بد دعائیں دیں۔ ہنستی کھیلتی میری زندگی تباہ کردیں _ ایک تو وہ ویسے بھی ابرباراں اور میں چمکتا سورج پتا نہیں کیا بنے گا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اوپر سے ماں کی دعا رکشہ چلا عکاشہ کے آخری جملے پر عدن ہنس پڑی
کہاں سے بات شروع کرتے ہو اور اسے اٹھا کر کہاں لے جاتے ہو۔ خیر تمہارے بابا بتا رہے تھے کہ ابھی عدن نے اتنا ہی کہا تھا کہ عکاشہ نے بات کاٹ دی ۔
بھائی یارررر کی شادی ہے اور میں شادی میں جاؤں گا کیونکہ مجھے جانا ہے _ وہ کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا ٹھیک ہے چلے جانا مگر ایک شرط پر مجھے ساری شادی کی تصویریں ویڈیو ساتھ ساتھ بھیجنا عکاشہ عدن کی بات پر سر ہلاتا یوشع کا نمبر ڈائل کرنے لگا
🪄🪄🪄🪄🪄
یونی میں معمول کے مطابق چہل پہل تھی ۔ عدن کے لاکھ منع کرنے کے باوجود وہ ماہم کی تلاش میں تھا ۔جو ہمیشہ کی طرح آج بھی آسان شکار ثابت ہوئی تھی اور اپنے ڈیپارٹمنٹ کے سامنے بیٹھی نوٹس بنا رہی تھی۔
مس موسلادھار آپ کی سول میٹ کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میرا مطلب ہے مس چونا _ عکاشہ نے گنگناتے ہوئے پوچھا پتا نہیں ماہم نے اوپر دیکھے بغیر جواب دیا
اچھا چلو یہ بتاؤ کہ “ہاں” تم سے پوچھ کر تمہارے گھر والوں نے کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے اسے مشکوک نظروں سے گھورا جو بالکل اس سے لاپرواہ اپنے کام میں مگن تھی ۔
نہیں ماہم نے پھر یک لفظی جواب دیا
مطلب تم اس شادی سے خوش نہیں ہو۔ ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
چلو ایک ڈیل کرتے ہیں میں اس شادی سے نہ کر دوں گا مگر
عکاشہ نے شرارت سے ماہم کی طرف دیکھا
ڈیل سے اچھا ہے کہ میں تم سے شادی کر لوں _ ماہم نے پہلی بار نظر اٹھا کر دیکھا نہیں یار قسم سے اس بار ڈیل بہت ہی آسان ہے۔ عکاشہ کہتا ہوا اس کے پاس بیٹھ گیا فاصلے سے بیٹھو، زیادہ چپکنے کی ضرورت نہیں ہے ماہم نے اسے اپنے برابر بیٹھا دیکھ کر کہا
کیوں تمہیں مجھ سے شرم آ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کے پوچھنے پر ماہم نے اپنا پن زور سے رجسٹر میں رکھا اور اس کی طرف گھوم گئی
نہیں بالکل بھی نہیں اب وہاں سے براہ راست دیکھ رہی تھی ۔
اچھا پھر ایک راز کی بات بتاؤں مجھے تم سے شرما رہی ہے
عکاشہ نے اپنے دونوں ہاتھ چہرے پر رکھے
عکاشہ اب یہ کیا ڈرامہ ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم کو سخت کوفت ہوئی ۔
یہ ڈرامہ نہیں بلکہ بذات خود عکاشہ ہے ۔ خیر چھوڑو تم مجھے ذرا اپنا ڈوپتہ دو میں نے اسے منہ میں ڈالنا ہے ۔ مجھے شرم آرہی ہے ۔ عکاشہ کی نئی فرمائش پر ما ہم نے غصے سے اپنی آنکھیں بند کیں
عکاشہ اگر تم نے کوئی بھی فضول حرکت کی ۔تو میں سیدھا کلرک آفس جاؤ گی کہ یہ مجھے تنگ کر رہا ہے اور جو جرمانہ تمہاری وجہ سے مجھے ہوا تھا اس سے ڈبل تمہیں نہ ہوا تو میرا نام بدل دینا _ ماہم نے وارننگ دی نام تو خیر تمہارا بدل ہی گیا ہے۔ اور خون کا اثر دیکھا ہے کہ ایسے شیر کی طرح دھاڑ رہی ہو۔ سوچو جب تم میرے ساتھ رہو گی تو کیا چیز بن جاؤں گی ۔۔۔۔۔؟؟؟ واہ عکاشہ تیری کیا بات ہے تو گونگے کو بھی زبان دے دیتا ہے عکاشہ نے خود ہی اپنا ہاتھ چوما
تم میں کچھ بھی پازیٹو نہیں ہے اور تو اور تمہارا خون بھی نیگیٹو ہے ۔اس لیے تم کبھی پوزیٹو کسی بندے کے بارے میں سوچ ہی نہیں سکتے _ ماہم جانے کے لیے کھڑی ہوئیں اور عکاشہ اس کے آگے آگیا آدھی بیگم صاحبہ آپ کا اپنا بلڈ گروپ بھی نیگیٹو ہے عکاشہ نے اسی انداز میں جواب دیا
آدھی بیگم صاحبہ ، یہ کیا بکواس ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میرا نام ماہم ہے ماہم نے جتلایا منگیتر تو سب ہی کہتے ہیں میں نے سوچا ذرا مختلف نام رکھا جائے کیوں تمہیں پسند نہیں آیا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ ایسے پوچھ رہا تھا جیسے دونوں میں بہت دوستی ہو ۔ بہت پسند آیا ہے اب میں جاؤں ماہم میں نے آگے سے ہٹنے کا اشارہ کیا
جاؤ مگر شادی پر کسی اچھی بیوٹیشن سے تیار ہونا۔ تمہیں خود سے میک اپ کرنا نہیں آتا۔ دیکھو کیا کارٹون بنی ہوئی ہو _ عکاشہ نے اس کے چہرے کا جائزہ لیا اگر میں تمہیں پسند نہیں تو کس پیر نے کہا تھا رشتہ بھیجنے کو ۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم اپنی تذلیل پر چیخ پڑی سوال تو تمہارا بہت اچھا ہے مگر مجھے اس کا جواب نہیں آتا اگلا پوچھو عکاشہ نے اسے زچ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی جس پر ماہم نے بے بسی سے ادھر ادھر دیکھا
تمہیں یقیناً اس وقت رونا آ رہا ہو گا ۔یار تھوڑا سا رو دو۔ قسم سے تم مجھے روتی ہوئی بہت اچھی لگتی ہو ۔صرف تبھی مجھے تم پر پیار آتا ہے ۔اتنے مزے کا روتی ہوں کہ کیا بتاؤں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کی فرمائش پر ماہم کا دل کیا اپنا سر دیوار میں دے مارے۔
🪄🪄🪄🪄🪄
پنڈال میں اس وقت ہر قسم کے لوگوں کا رش لگا ہوا تھا ۔گاؤں والوں کو الگ ایک حصہ دیا ہوا تھا ۔حیدر آفندی کے خاندان اور دوستوں کا علیحدہ انتظام تھا ۔سماجی اور سیاسی لوگوں کے علاوہ میڈیا کے لوگ بھی بہت بڑی تعداد میں موجود تھے ۔
سر آپ نے اپنی شریک حیات کے لیے ایک غریب لڑکی کا چناؤ ہی کیوں کیا جب کہ آپ کو اس سے کئی گناہ بہتر لڑکی مل سکتی تھی ۔۔۔۔۔؟؟؟ ایک میڈیا رپورٹر نے اچانک یوسع کے آگے مائیک کرتے ہوئے پوچھا
یہ آپ کو سیدھی سیدھی لائن دے رہی ہے _ عکاشہ نے یوشع کے کان میں سرگوشی کی ۔ ویسے تو یہ میرا ذاتی معاملہ ہے مگر آپ کی تسلی کے لیے بتا دوں۔ مجھے اپنے گاؤں اور یہاں کے لوگوں سے بہت محبت ہے ۔ ہماری دادی جنہیں ہم پیار سے بڑی سرکار بولتے ہیں انہوں نے ہمارے دل میں وطن کی محبت ڈالی ہے یوشع کہ جو آپ پر سب نے اسے ستائشی نظروں سے دیکھا اور کئی دوسرے میڈیا والے بھی اس کے گرد اکٹھے ہو گے۔
سر کیا آپ “ایم این اے” کی سیٹ جیت لیں گے جب کہ آپ کا یا آپ کے خاندان کا کوئی سیاسی بیک گراونڈ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ایک رپورٹر نے یوشع پر طنز کیا
یہ جو اتنے سارے آپ کو سیاسی لوگ یہاں دکھائی دے رہے ہیں یہ بغیر تعلق کے تو نہیں آ سکتے نااااا یوشع کی بجائے جواب عکاشہ نے دیا تو یوشع سے دیکھ کر مسکرا دیا
سر آپ کے گاؤں کے اتنے مسائل ہیں جن میں سب سے زیادہ تعلیم کا مسئلہ ہے آپ اس بارے میں کیا کریں گے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع اب مسلسل سوالوں سے تنگ پڑنے لگا تھا
میں نے آپ لوگوں کو اپنی شادی میں بلایا ہے پریس کانفرنس میں نہیں
جس دن میں پریس کانفرنس رکھوں گا اس دن میں آپ لوگوں کے تمام سوالات کے جوابات تسلی بخش دوں گا ۔
فلحال آپ شادی انجوائے کریں اور مجھے بھی کرنے دیں یوشع معذرت کرتا ہوا آگے بڑھ گیا۔
بھائی یار تیری شادی تو بڑی زبردست لگ رہی ہے لیکن اگر کھانا کم پڑ گیا تو
عکاشہ نے لوگوں پر نظر مارتے ہوئے پوچھا
تو مجبوراً مجھے اپنے بھائی کی قربانی دینا پڑے گی۔ تجھے دیگ میں ڈال دوں گا یوشع کے جواب پر عکاشہ نے اسے ناراض نظروں سے دیکھا
میری ماں کا پتا ہے نااااا عکاشہ کی بات پر یوشع کو عدن کا خیال آیا
ایک تو لوگوں نے تنگ کیا ہوا ہے اوپر سے تیری بکواس مسلسل جاری ہے میں نے سوچا تھا گھر سے نکلتے ہوئے ماما کو کال کروں گا مگر
یوشع نے فورا عدن کو ویڈیو کال کی
چھوٹی ماما دیکھیں کتنی رونق لگی ہوئی ہے مگر پھر بھی میرا دل آپ کے بغیر بہت اداس ہے کاش میں آپ کو یہاں لا سکتا _ یوشع نے پورے پنڈال پر کیمرہ گھماتے ہوئے کہا ماشااللہ میرا بیٹا تو پورا شہزادہ لگ رہا ہے ۔ اپنی نظر ضرور اتار دینا عدن نے محبت سے یوشع کی تعریف کی۔
زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے ماما میرے بارے میں کہہ رہی ہیں عکاشہ نے موبائل یوشع سے اپنی طرف کیا۔ سوری ماما کچھ دیر بعد یوشع نے نہایت عاجزی سے کہ کیونکہ وہ عدن کی اداس آنکھیں دیکھ سکتا تھا جن میں حسرت تھی۔
سوری کس بات کی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے حیرت سے پوچھا
آپ کی آنکھوں میں جو اداسی ہے اس کی وجہ پہلی بار میں ہوں یوشع کی وضاحت پر وہ پھیکا سا مسکرا دیں
انہیں حیدر صاحب دکھاؤ بھائی یار رررر ایک دم سین بدل جائے گا اداسی کی جگہ گالوں پر لالی آجائے گی _ عکاشہ کی بات پر یوشع نے اسے ایک تھپڑ رسید کیا اپنی دلہن بھی دکھانا میں دیکھو تو سہی کے کیسی ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن کی بات پر یوشع نے سر ہلایا میں آپ سے ملوانے لاؤنگا یوشع نے وعدہ کیا اور کال بند کر دی
یہ کاغذ اسے دے دو مجھے آج تک کسی قسم کا کوئی تماشا نہیں چاہیے _ اگر آج نکاح میں گڑبڑ ہوئی تو میں سچ مچ کسی کو نہیں بخشوں گا جس پر نوید سرہلاتا چلا گیا
اس میں کیا لکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید کی پشت کو دیکھتے ہوئے کاغذ کے بارے میں یوشع سے پوچھا
علاج یوشع کا جواب عکاشہ کو سمجھ نہیں آیا جب کہ یوشع مسکراتا ہوا لوگوں سے ملنے لگا
کچھ دیر بعد نکاح شروع ہوا تو بظاہر یوشع بالکل مطمئن نظر آ رہا تھا مگر اسے ایک ایک سیکنڈ اپنی دھڑکن ساتھ محسوس ہو رہا تھا
لڑکی کا ولی کہاں ہے اس سے دستخط اور اس کی اجازت لے آئے مولوی کے کہنے پر ماسٹر جی اپنی کچھ عزیزوں ساتھ امثال کی طرف چلیں گے ۔
اگر بکری کی مالکن نے انکار کردیا تو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے لوگوں پر نظر گھماتے آئے ہوئے پوچھا
اپنی تو ذرا سنبھال کر رکھو کیونکہ آج ایسا نہیں ہوگا یوشع نے اطمینان سے جواب دیا جب کہ اپنا دل بھی ڈر رہا تھا۔
اتنے لوگ اور میڈیا اگر کچھ گڑ بڑ ہوگئی تو یوشع نے ابھی دل میں سوچا ہی تھا کہ ماسٹر جی سامنے سے نکاح نامہ سائن کرا کر لے آئے۔
تھوڑی دیر بعد کھانے کا شور مچا تو سب کھانا کھانے میں مصروف ہوگئے ۔
کیا ہوا آپ تو نکاح کے بعد بالکل ہی خاموش ہوگئے ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے یوشع کو خاموش دیکھ کر پوچھا
ہممممم گڑبڑ ضرور ہے مگر کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بے خیالی میں یوشع نے کہا تو عکاشہ چونک پڑا
گڑبڑ __ شادی تو نام ہی گڑبڑ کا ہے۔ عکاشہ نے بات مذاق میں اڑا دی تو یوشع بھی مسکرا دیا ۔
🪄🪄🪄🪄🪄🪄