Do Dil By Amna Mehmood Readelle50150 Episode 11
Rate this Novel
Episode 11
نوید نے حویلی کے باہر جیپ روکی اور کافی دیر بلاوجہ گیٹ پر ہارن دیا مگر آج کوئی بھی کھڑکی کے پاس اس کا منتظر نہیں تھا ۔
باؤ نوید کیا ہوگیا ہے ہم نے تو پہلے ہارن پر ہی گیٹ کھول دیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
گیٹ کیپر نے نوید کے بار بار ہارن دینے پر تعجب سے پوچھا جس پر نوید سر کھجاتا جیب سے باہر نکل آیا مگر نگاہ باربار بھٹک کر اوپر کھڑکی پر رک جاتی تھی
چاچا حویلی میں سب خیریت ہے ناااااا _ میرا مطلب بڑی سرکار وغیرہ نوید براہ راست بتول کا نہیں پوچھ سکتا تھا لہذا بڑی سرکار سے مراد حویلی کی عورتیں تھی
جی باؤ نوید سب خیریت ہے آج کل حویلی میں ویسے بھی بہت گہما گہمی ہے ملازم نے مسکراتے ہوئے جیب سے سامان نکالا گہما گہمی مطلب ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید چونکا
وہ اپنی بتول بی بی کی یوشع سائیں سے اگلے مہینے شادی ہے نااااا _ آپ کو نہیں پتا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ آپ تو سائیں کے بہت قریبی ملازم ہے ملازم نے تعجب سے نوید کی طرف دیکھا جو پریشان کھڑا تھا
بتول بی بی ٹھیک ہیں میرا مطلب ہے کہ وہ خوش ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے فورا جملہ ٹھیک کیا
خوش کیوں نہیں ہوں گی یوشع سائیں ہیں ہی اتنے اچھے اور پیارے ملازم پر جوش تھا
حیرت کی بات ہے بتول بی بی کے بھاگنے کا کیسے کسی کو پتا نہیں چلا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اور یوں شاہ سائیں نے انہیں کوئی سزا نہیں دی میرا دل نہیں مانتا کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہے جو “راز” ہے _
اگر یوشع سائیں بتول بی بی سے شادی کر رہے ہیں تو پھر امثال امثال کا خیال آتے ہی نوید کو یاد آیا کہ اس نے ماسٹر جی کا جواب یوشع کو دینا ہے
یوشع سائیں گھر پر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے ایک بار پھر کھڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
جی ملازم نے مختصرا جواب دیا
مگر آج وہ کسی سے نہیں مل رہے ہیں پتہ نہیں کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ مگر موڈ کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا ۔
صبح بغیر وجہ کے نوکروں کی پریڈ کروادی ملازم نے بےعزتی کے لئے لفظ پریڈ استعمال کیا جس پر دونوں ہی مسکرا دیئے ۔
چاچا میرے آنے کی اطلاع کردیں اگر وہ ملنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ورنہ پھر میں جاؤں نوید کے کہنے پر گیٹ کیپر نے “انٹرکام” پر نوید کے آنے کی اطلاع یوشع کو دی۔
نوید باؤ آپ کو کبھی پہلے یوشع سائیں نے منع کیا ہے جو آج کریں گے آپ اندر جا سکتے ہیں گیٹ کیپر کے کہنے پر نوید حویلی کے اندر داخل ہو گیا
ہلکے آسمانی رنگ کی شلوار قمیض پہنے پاؤں میں پشاوری چپل آستین اوپر چڑھائے وہ جیسے ہی سیڑھیاں چڑھنے لگا تو بتول کو ریلنگ ساتھ کھڑے پایا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔
یعنی وہ یہاں سے اسے مسلسل دیکھ رہی تھی یہ احساس ہی عجیب تھا نوید کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی ۔
بی بی کیسی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تھوڑے سے فاصلے پر کھڑے ہوکر نوید نے پوچھا
تم نے تو اپنی طرف سے دفنا دیا تھا زندہ دیکھ کر حیران تو ہوئے ہو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول نے سلگتی نظروں سے دیکھتے ہوئے جواب دیا
کیسی باتیں کرتی ہیں مجھے تو آپ کو ٹھیک ٹھاک دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے۔ نوید کو بتول کی بات پر دکھ ہوا ۔
اور اب تم اس خوشی میں یوشع سے میری شادی کا کارڈ لے کر پورے گاؤں میں تقسیم کرو گے ہے ناااااااا بتول بتا کم اور شرمندہ زیادہ کر رہی تھی
آپ کی ناراضگی سر آنکھوں پر _ مگر مجھے اپنے کئے پر ذرا بھی دکھ یا ملامت نہیں ہے۔ جو کچھ باہر لڑکیوں ساتھ ہورہا ہے وہ آپ سوچ بھی نہیں سکتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ آپ کو اپنے گھر میں محفوظ دیکھ کر مجھے بہت سکون ملا ہے۔ اللہ آپ کو بھی سکون دے _ نوید کہتا ہوا یوشع کے کمرے کی طرف بڑھ گیا
کسی کا سکون برباد کرکے یہ ڈرامے اچھے نہیں لگتے تم نے میری محبت ہی نہیں میری ذات کی بھی تذلیل کی ہے۔
تم تو کہتے تھے کہ اگر میں سب کے سامنے کہہ دوں تو ساتھ دو گے پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول اچانک نوید کے سامنے کھڑی ہو گئی جس کی اسے بالکل امید نہیں تھی
چلیں ٹھیک ہے پھر آپ میرے ساتھ بڑی سرکار کے سامنے جا کر کہہ دیں کہ آپ کو مجھ سے شادی کرنی ہے اس کے بعد میں جانو اور میرا کام نوید نے بتول کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا کیونکہ بڑی سرکار کے نام پر بتول کے چہرے کا رنگ اڑ گیا تھا۔
یہ کام شاید آپ کے لئے تھوڑا مشکل ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تو میں آسانی کر دیتا ہوں
آپ میرے ساتھ ابھی یوشع سائیں کے کمرے میں چلیں اور کہہ دیں جو ابھی مجھے کہا ہے۔
تب بھی میرا وعدہ ہے کہ آپ کی حفاظت میری ذمہ بشرطیہ میں خود زندہ رہوں نوید نے ایک اور مشورہ دیا جو کہ بتول کو کوئی خاص پسند نہیں آیا
کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم اس سب کے بغیر ہی مجھے یہاں سے لے جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول نے افسردگی سے سر جھکا لیا کیونکہ وہ یہ دونوں کام ہی نہیں کر سکتی تھی
نہیں جیسا آپ چاہتی ہیں ویسا میں نہیں کر سکتا ۔
میں آپ کو اس کی وجہ بھی بتا دیتا ہوں تاکہ آپ کے دل میں میرے لئے نفرت پیدا نہ ہو کیونکہ میں آپ کے دل میں اپنے لیے نفرت برداشت نہیں کر سکتا۔
میں اپنی بیوی کو معاشرے میں ذلیل ہوتا نہیں دیکھ سکتا ۔میں نہیں چاہتا لوگ اسے ایک بھاگی ہوئی لڑکی کہیں یا اس کی اپنے اس سے منہ موڑ لیں ۔
میں اپنی بیوی کو دھوم دھام سے ساری دنیا کے سامنے لے کر جانا چاہتا ہوں اور اس کی وہ تمام خواب پورے کرنا چاہتا ہوں جو ایک لڑکی اپنی شادی کے حوالے سے دیکھتی ہے۔
اور سب سے بڑی اہم وجہ میں کبھی یہ پسند نہیں کروں گا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے اپنی محبت ایک “خطا” لگے ۔
بلکہ میں یہ چاہتا ہوں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اپنی محبت نے “فخر” کرے _ جو کم از کم ایک بھاگنے والی لڑکی کو نہیں ہو سکتا ۔ ایک وجہ اور بھی ہے اور وہ یہ کہ مجھے اپنے آپ سے بھی بہت “محبت ہے “اور میں کبھی ایک “مجرم” کی طرح نہیں جی سکتا ۔
اگر میں آپ کو بھگا کر جاؤں تو مجھے ساری زندگی چھپ چھپ کر گزارنا پڑے گی جو میرے جیسے آزاد بندے کے لئے ایک “سزا” ہے ۔
آپ سب کے سامنے اقرار کریں پھر بے شک “ایک دن” کی زندگی ملے یا “ایک گھنٹے” کی سر اٹھا کر آپ کے ساتھ رہوں گا ۔
چلتا ہوں _ کوشش کروں گا آئندہ میرا آپ سے سامنا نہ ہو کیونکہ میں کسی کی “عزت” کو اپنی “محبت” میں برباد ہوتا نہیں دیکھ سکتا آپ اور یوشع سائیں خوش رہیں ۔ بتول کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے جو زیادہ دیر تک وہ نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ “اُن کی آنکھوں نے سہولت ہی نہیں دی ورنہ کتنا آسان تھا کہنا کہ انھیں چاہتے ہیں” 🪄🪄🪄🪄🪄🪄🪄 دستک کی آواز ساتھ نوید اندر داخل ہوا مگر خلاف توقع کمرہ خوشبو سے مہکا ہوا تھا۔ کل ڈیرے پر جو یوشع اسے ملا تھا اس کا کوئی عکس آج کے یوشع میں دکھائی نہیں دے رہا تھا یوشع شیشے کے آگے کھڑا پرفیوم کا چھڑکاؤ خود پر کر رہا تھا چمکتا چہرہ _ قیمتی لباس _ وہ بہت خوش دکھائی دے رہا تھا ۔
سرکار آج آپ بہت خوش نظر آ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے حیرت سے پوچھا جس پر یوشع ہنس دیا ۔
تم نے ہی کل لیکچر دیا تھا تو میں نے سوچا عمل کر لوں کہیں بھری جوانی میں اوپر کا ویزہ نہ لگ جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے جواب دیتے ہوئے قیمتی گھڑی کلائی پر باندھی۔
اللہ آپ کی عمر دراز کرے سائیں کیسی باتیں کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے برملا جواب دیا
پھر کمرے میں طویل خاموشی چھا گئی _ نوید شش و پنج میں مبتلا تھا کہ کیسے ماسٹر صاحب کا جواب بتائیں کہیں پھر موڈ خراب نہ ہو جائے سائیں تو بہت خوش نظر آ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ماسٹر نے “نہ” کر دی ہے یوشع نے موبائل اور اپنے بلیک گلاسس سائید ٹیبل سے اٹھاتے ہوئے نوید کی طرف دیکھا جو بالکل بت بنا کھڑا تھا ۔
اتنے حیران کیوں ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تم سوچ رہے ہو گے کہ مجھے کیسے پتہ چلا جب کہ تم نے ابھی مجھے بتایا بھی نہیں ۔
تو باؤ نوید مجھے تو اور بھی بہت کچھ ایسا پتا ہے جو تم نے نہیں بتایا یوشع نے نوید کے مقابل کھڑے ہوتے ہوئے گلاسس لگائے مگر نوید کو اپنا اب زمین میں گڑتا ہوا محسوس ہوا
سرکار نوید نے کمزور سی آواز میں مخاطب کیا۔
سر اٹھا کر بات کرو مجھے جھکے ہوئے سر پسند نہیں یوشع کی آواز پر نوید نے سر اٹھایا
اس وقت میرے لئے ماسٹر کا انکار کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ اگر میں شادی کرنا چاہو تو مجھے کوئی روک نہیں سکتا لہذا اس کا انکار بالکل بے معنی ہے تم اس کے لیے پریشان مت ہو۔
ہاں مگر بتول کا انکار میرے لئے بہت معنی رکھتا ہے تمہیں پتا ہے بتول نے مجھ سے یعنی “یوشع حیدر آفندی” سے شادی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
یوشع اب نوید کے سامنے کمرے میں چکر لگا رہا تھا جبکہ نوید کو اپنا آپ پسینے میں بھیگا محسوس ہونے لگا
پوچھو گے نہیں کہ کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے نوید کی خاموشی پر رک کر اسے دیکھا
سرکار مرضی آپ کی _ اگر آپ بتانا چاہتے ہیں تو میں سن رہا ہوں _ نوید کی آواز میں واضح لرزش تھی
بتول بی بی نے “یوشع حیدر آفندی” کو چھوڑ کر پتہ ہے کس کا انتخاب کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کا لہجہ ایک دم بدل گیا تھا
کس کا ؟؟؟ لرزتے ہاتھوں کو دباتے ہوئے نوید نے پوچھا
تمہارا _ یوشع نے اپنی جیب سے پستول نکال کر نوید کے ماتھے پر رکھ دی۔
تو آپ کو سب سے پہلے سے پتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید پہلے حیران ہوا مگر پھر سنبھل گیا
اگر ہم اتنے بے فکر ہوں تو سرداری کیسے کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے اب پستول ہٹا لی تھی
میرے لئے اب کیا حکم ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید کے پوچھنے پر یوشع مسکرا دیا
وہی حکم تم پر بھی لگتا ہے جو میں نے بتول پر لگایا ہے جب جرم ایک ہو تو سزا بھی ایک ہی ملنی چاہیے
میں نے کوئی جرم نہیں کیا میرا دامن بالکل صاف ہے ۔ مگر میں “سزا” کے لیے تیار ہوں۔ میرے خون میں “نمک حرامی” شامل نہیں نوید کے مستحکم لہجے پر یوشع نے اس کا کندھا تھپکا
ابھی تو میں اپنے شہزادے کو لینے جا رہا ہوں پھر شہر سے واپسی پر تم سے بات کرتا ہوں۔
تم نے اس کا کمرہ تیار کروا دیا تھا ناااااا یوشع نے دروازہ کھولتے ہوئے پلٹ کر پوچھا
جی سرکار مہمان خانہ بالکل تیار ہے یوشع سر ہلاتا باہر نکل گیا جب کہ نوید حیران پریشان یوشع کو دیکھتا رہ گیا
🪄🪄🪄🪄🪄
یوشع نہایت خوشگوار موڈ میں اپنے گارڈز کے ساتھ گاؤں کی کچی پکی سڑکوں سے گزر رہا تھا جب ایک جگہ کچھ بھیڑ دکھائی دی۔
یہاں کیا ہوا ہے لوگوں نے رش کیوں لگا رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے سرسری سا اپنے ڈرائیور سے پوچھا
ہونا کیا ہے سرکار یہاں پر ایک بڑا کنواں ہے آئے دن کوئی نہ کوئی جانور یا بچہ بیچ میں گر جاتا ہے اب بھی ایسا ہی ہوا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کتنی دفعہ لوگوں کو منع بھی کیا ہے کہ ادھر اپنی جانور لے کر مت آیا کریں یہ کنواں اب سوکھ چکا ہے مگر کیونکہ بہت بڑا اور گہرا ہے تو اس میں جانور گر جاتے ہیں ۔ مگر لوگ سنتے ہی نہیں ۔
ڈرائیور کے جواب پر یوشع نے سر ہلایا اور اپنے موبائل میں مصروف ہوگیا ۔
لگتا ہے ماسٹر کا کوئی بچہ گرا ہے یا اس کا جانور کیونکہ سکول کے بچے پاس کھڑے دکھائی دے رہے ہیں۔ جیپ جب بھیڑ کے قریب سے گزری تو گارڈ نے دیکھ کر اپنا تبصرہ کیا
جیپ ریورس کرو جلدی کرو یوشع جو پورے انہماک سے موبائل پر مصروف تھا گارڈ کی بات سن کر فوراً چونکا
عجیب بیوقوف لڑکی ہے کہیں نہ کہیں چوٹ لگا لیتی ہے یا خود گر جاتی ہے پاگل _ یوشع نے بڑبڑاتے ہوئے دل میں سوچا جاؤ پتہ کرو کہ کیا معاملہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ جیسے ہی جیپ بھیڑ کے پاس روکی ۔ یوشع کے حکم پر ملازم تیزی سے باہر نکلے جبکہ یوشع بے چینی سے موبائل اپنے ہاتھ پر مار رہا تھا ۔ سائیں زیادہ پریشانی والی بات تو نہیں ہے مگر نوکر نے ہچکچاتے ہوئے یوشع سے کہا
سیدھی طرح بکواس کرو گے کہ کیا بات ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ یہاں کھڑے ہو کر ضائع کروں مجھے شہر پہنچنا ہے۔ یوشع نے لاپرواہی سے اپنے موبائل پر ٹائم دیکھا
سائیں وہ بکری کے بچے کو بچاتے ہوئے ماسٹر کی بیٹی کنواں میں گر گئی ہے مگر اب باہر آنے کو تیار نہیں ملازم کی بات پر یوشع سر نفی میں ہلاتا جیب سے باہر نکل آیا
یوشع کو دیکھتے ہیں سب لوگ ادھر ادھر باادب انداز میں کھڑے ہو گے ۔
جب آپ لوگوں نے کچھ کرنا نہیں ہے تو یہ “میلہ” لگانے کا فائدہ فورا یہاں سے غائب ہو جائیں ۔
یوشع کے کہنے کی دیر تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے ساری بھیڑ ختم ہوگی۔
جیب سے رسی نکال کر لاؤ یوشع نے لوگوں کے جاتے ہی ملازم کو حکم دیا جو سر ہلاتا جیب کی طرف بھاگا
ملازم کے جاتے ہی یوشع نے کنواں میں جھانکا جو واقع ہی بہت بڑا اور گہرا تھا۔ کنواں کے ایک کونے میں امثال بکری کا چھوٹا سا بچہ گود میں لیے بیٹھی تھی
آپ پلیز میرے ابا کو بلا دیں امثال نے یوشع کو دیکھتے ہیں منت بھرے لہجے میں کہا
کیوں بی بی ہم تمہارے باپ کے نوکر لگے ہیں اور ہم نے مشورہ دیا تھا جھلانگ مارنے کا یوشع نے اس دن کا غصہ نکالا
تو پھر اندر جھانک کر کیا دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ویسے بھی اب تک میرے ابا کو پتہ چل گیا ہوگا وہ آتے ہی ہوں گے امثال نے کہتے ہوئے منہ پھیر لیا
تمہارا صرف نام ہی نہیں تمہاری حرکتیں بھی غریبوں والی نہیں ہے غریب لوگ اتنا نخرے نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
چلو شاباش جلدی سے رسی کو پکڑو اور باہر آجاؤ _ یوشع نے ملازم سے رسی پکڑتے ہوئے کنواں میں پھینکی
آپ تکلیف نہ کریں میرے ابا آتے ہی ہوں گے _ وہ ہمیں نکال لیں گے۔ امثال کو کچھ عجیب سا لگا تو اس نے انکار کر دیا میری اطلاع کے مطابق تمہارا ابا “ماسٹر” ہے ” سپر مین ” نہیں جو تمہیں ایک منٹ میں باہر نکال لے گا۔ اسی پکڑو اور چپ چاپ باہر آؤ یوشع کے کہنے پر امثال نے ایک نظر اپنے گود میں بیٹھے بکری کے بچے کو دیکھا
آپ اسے ( بکری کے بچے کو) باہر لے جائیں میں خود ہی نکل آؤ گی _ امثال نے رسی بکری کے بچے کے گرد لپیٹتے ہوئے کہا ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی یوشع کے اشارے پر نوکر نے رسی اوپر کھینچ لی۔
ٹھیک ہے اب ہم چلتے ہیں اپنے ابا کو بھیج کر ڈیرے سے یہ بچہ منگوا لینا یوشع نے اپنے ہاتھ میں پکڑے بکری کے بچے کی طرف اشارہ کیا
چلو یوشع کے حکم پر سب جیپ کی طرف بڑھ گئے جبکہ یوشع نے گود میں بکری کا بچہ رکھ لیا
سرکار گستاخی کی معافی چاہتا ہوں مگر وہ بچی ڈرائیور نے جیپ سٹارٹ کرتے ہوئے یوشع سے کہا
فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے وہ ابھی خود ہی دس منٹ میں باہر آ جائے گی اپنی تسلی چاہتے ہو تو جیپ تھوڑی دور جا کر روک دو ۔
یوشع کے کہنے پر ڈرائیور نے ایسا ہی کیا تھوڑی دور جا کر جیپ روک دی۔ جہاں سے کنواں صاف دکھائی دے رہا تھا جبکہ یوشع مسکراتے ہوئے بکری کو پیار کر رہا تھا ۔
تقریبا پندرہ منٹ کے بعد امثال کنواں سے باہر آتی دکھائی دی تو سب گارڈز اور ڈرائیور حیران رہ جائیں گے
زیادہ حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے کنواں میں اینٹوں کے “سٹپس” بنے ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ آرام سے باہر آ گئی ہے۔ صرف بکری کا بچہ اسے مشکل میں ڈال رہا تھا
یوشع کی بات پر سب ہاں میں سر ہلانے لگے اور جیپ دوبارہ اپنے راستے پر رواں دواں ہو گئی۔
لڑکی بہادر ہے ماننا پڑے گا _ یوشع نے دل میں سوچا اور بکری کا بچہ پیچھے گارڈز کو دے دیا ۔ عام سے چہروں پر بھی عشق اترتا ہے کہانیاں فقط شاہ زادیوں کی نہیں ہوتی۔
تم کسی سیارے کی ہجرت زدہ لگتی ہو _ ایسی آنکھیں زمیں زادیوں کی نہیں ہوتی۔
🪄🪄🪄🪄🪄🪄🪄🪄
جاری ہے۔
