Do Dil By Amna Mehmood Readelle50150 Episode 23
Rate this Novel
Episode 23
تم میں احساس نام کی کوئی چیز ہے بھی کے نہیں _ آج تم نے مجھے بہت شرمندہ کیا ہے ۔ میں سمجھتی تھی کہ تم میرے سامنے یہ لا ابالی پن صرف مجھے تنگ کرنے کے لئے کرتے ہو جبکہ حقیقت میں تم ایسے نہیں ہو مگر میں غلط تھی عدن ہسپتال سے آنے کے بعد مسلسل عکاشہ پر غصہ ہو رہیں تھیں۔
تم سن رہے ہو کہ میں تم سے کیا کہہ رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بیڈ پر الٹا لیٹا عکاشہ کو بغیر کسی حرکت کے دیکھ کر عدن نے اس کا پاؤں ہلایا۔
یار ماما اچھی خاصا لوری دے رہی تھیں ۔قسم سے اتنی میٹھی نیند آئی رہی تھی جو پاؤں ہلا کر خراب کردی ۔
مائیں اپنے بچوں کو لوری دینے کے بعد ہلا ہلا کر نہیں دیکھتیں کے وہ سو رہا ہے کہ نہیں ۔اتنی سی بات آپ کو ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ۔
خیر اس میں آپ کی بھی کوئی غلطی نہیں آپ کو کیسے معلوم ہونگی یہ باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اگر ایک درجن بچے پیدا کر کے پالے ہوتے تو کوئی تجربہ بھی ہوتا اللہ نے ایک بچہ دیا وہ بھی بالکل شریف سیدھا سادہ _ عکاشہ بولنے لگا تو بولتا ہی چلا گیا اپنا منہ بند کرو شرم نہیں آتی ماں کے سامنے یوں زبان چلاتے ہوئے عدن نے زور سے اس کے پاؤں پر اپنا ہاتھ مارا
میں تو سمجھا تھا کہ آپ گھر آکر میری خوب “آؤ بھگت” کریں گی۔ آخر میں نے ایک فرماں بردار بیٹے کی طرح آپ کے “ایک دفعہ” کہنے پر ہی پوری دو عدد اپنے ذاتی خون کی بوتلیں اس موسلادھار کو دی ہیں۔
مگر یہاں تو کسی کو فرق ہی نہیں پڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تعریف کرنے کی بجائے الٹا بےعزت کیا جا رہا ہے ۔ اتنی جلدی احسان بھول گئیں ہیں _ عکاشہ اب اٹھ کر بیٹھ گیا تھا ۔ “ایک دفعہ پر” عدن نے حیرت سے اس کا جملہ دہرایا تو عکاشہ کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی ۔
چلے “ایک” کے ساتھ “ایک” اور لگا لیں بات تو “ایک” ہی ہے عکاشہ نے کان کھجاتے ہوئے جواب دیا
عکاشہ تم کب اپنے بھائی کی طرح زندگی کو سنجیدہ لو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تمہاری عمر میں لڑکے بہت سمجھدار ہو جاتے ہیں عدن کا لہجہ اب بہت نرمی لیے ہوئے تھا
بھائی کی طرح میں نے نہیں ہونا۔ آپ ان کو جانتی نہیں ہیں۔ ان کی حرکتیں اللہ معاف کرے عکاشہ نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگائے
عکاشہ اپنی ناکامیوں کو یوں دوسروں پر الزام لگا کر نہیں چھپاتے عدن نے ڈانٹا
ناکام اور میں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اماں سائیں آپ مجھے بہت ہلکا لے رہیں ہیں عکاشہ نے یوشع کی نقل اتاری جس پر عدن ہنس دی اچھا اب میری بات کا مجھے بالکل سنجیدہ جواب دینا عدن نے پیار سے عکاشہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا
ویسے ماما آپ بڑی کمال کی ہیں۔ ایک گھنٹے کے اندر اندر کتنی بار اپنا لہجہ تبدیل کر چکی ہیں۔ عورت جس مرضی عمر کی ہو مگر اس کا “ٹیلنٹ”_ وہ مرد کو بیوقوف بنا ہی لیتی ہے ۔ پھر چاہے وہ مرد اس کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ ہو عکاشہ نے آنکھ ماری ۔
اچھا پھر میں چلتی ہوں اگر تم نے میری بات سنجیدگی سے نہیں سننی تو عدن بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
بلیک میلنگ عکاشہ نے عدن کو روکا
اگر میں سچ مچ تمہاری شادی ماہم سے کرنا چاہوں تو کیا تم مان جاؤ گے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن کے سوال پر عکاشہ نے برا سا منہ بنایا
اگر آپ یہ سوال کل کرتیں تو میری طرف سے صاف جواب تھا۔ مگر اب اس کی رگوں میں میرا خون ہے تو سوچا جا سکتا ہے ۔
کیونکہ مجھے اپنے خون پر پورا اعتماد ہے کہ وہ مجھے دھوکا نہیں دے گا ۔ورنہ لڑکیاں تو دھوکے کا دوسرا نام ہوتی ہیں عکاشہ کی رائے لڑکیوں کے بارے میں عدن کو کچھ خاص پسند نہیں آئی۔
تو پھر میں “ہاں” سمجھوں عدن کے پوچھنے پر عکاشہ کچھ خاموش سا ہو گیا ۔
آپ کو اس عمر میں بےعزتی کرانے کا کیا شوق چڑھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ویسے میں آپ کے حوصلے کی داد دیتا ہوں عکاشہ نے عدن کو سراہتے ہوئے تالی بجائی۔
“بےعزتی” “داد” یہ کیا بکواس کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اچھی خاصی بات کرتے کرتے ایک دم بہک جاتے ہو۔ کہیں تم نے نشہ کرنا تو شروع نہیں کر دیا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے غصے سے پوچھا
اگر میرا آپ جیسا بیٹا ہوتا تو میں کبھی بھی اس کا رشتہ لے کر کسی لڑکی کے گھر نہ جاتا ۔خواہ مخواہ اپنی بےعزتی کروانے والی بات ہے ۔
سوچیں ذرا اگر لڑکی والوں نے پوچھا کہ لڑکا کیا کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تو آپ کیا بتائیں گی کہ آپ کی لڑکی کو تنگ عکاشہ اپنے سوال و جواب پر خود ہی ہنس ہنس کر بستر پر ہاتھ مار رہا تھا ۔
لڑکی والے شاک عکاشہ راک _ ویسے بہت مزہ آئے گا۔عکاشہ کی باتوں پر عدن نے افسوس سے اسے دیکھا میں تو ماہم کے لیے رشتہ لے کر جاؤں گی۔ آگے دیکھا جائے گا وہ کیا کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن کہتی ہوئی دوبارہ جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی میں یہ شادی صرف ایک شرط پر کرونگا عکاشہ کی ایک دم سنجیدہ آواز پر عدن نے اسے آئی برو اچکا کرتے دیکھا
آپ مجھے اس کے سامنے یوں بےعزت نہیں کیا کریں گی بلکہ ہم ایک ٹائم سیٹ کر لیں گے کیوں کہ اس “سیشن” کے بغیر تو ہم دونوں کا گزارا نہیں ہے۔
تمہاری شرط بھی تمہاری طرح ایک “نمونہ” ہی ہے عدن عکاشہ کی بات کا جواب دیتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی۔
اااافففففف میں اس موسلادھار سے شادی کروں گا ۔یہ دن بھی میں نے دیکھنا تھا کتنی شرمندگی ہوگی مجھے _ عکاشہ نے سوچتے ہوئے جھرجھری لی اور جلدی سے یوشع کو کال ملائی۔ ہاں بولو کال اٹینڈ کرتے ہی یوشع کی مصروف اور سنجیدہ آواز سپیکر سے ابھری
یار بھائی وہ تم سے یعنی تمہارے تجربے کی روشنی میں ایک بات پوچھنی تھی _ عکاشہ نے فوراً بولنا شروع کیا پوچھو مگر ذرا جلدی یوشع نے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
یوشع کے جواب پر عکاشہ نے موبائل کان سے ہٹا کر اس کی سکرین کو حیرت سے دیکھا جہاں اس وقت رات کے دس بج رہے تھے ۔
بولو بھئی _ یوشع نے مکمل خاموشی پر اسے پکارا اور خود پر پرفیوم چھڑکا۔ آپ اس وقت کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کے پوچھنے پر یوشع ہنس پڑا ۔ جو تم سوچ رہے ہو ویسا تو کچھ بھی نہیں ہے۔ میں اس وقت حویلی میں ہوں یوشع نے وال کلاک کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا
آپ کو کیسے پتا کہ میں کیا سوچ رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے سوال کیا
تم میرے بھائی ہو وہ بھی چھوٹے والے _ ہم دونوں ایک ہی باپ کی اولاد ہیں۔ ہم دونوں کی رگوں میں ایک ہی خون دوڑ رہا ہے تو ہم دونوں سوچتے بھی ایک ہی جیسا ہیں۔ یوشع کے جواب پر عکاشہ چونکا یہ تو بہت خطرناک بات ہے اس طرح تو مس موسلادھار بھی وہی سوچے گی جو میں سوچوں گا ۔بڑی غلطی کر دی میں نے اسے اپنا خون دے کر _ عکاشہ نے دل میں سوچتے ہوئے موبائل پر انگوٹھا مارا تو کال کٹ گئی۔
یہ کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے کال بیک کی
کونسی اور کون کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے معصومیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیتے ہوئے پوچھا
یہی کہ بات بتائے بغیر ہی کال کاٹ دی اور کون کر رہا ہے تم مجھ سے بہتر جانتے ہو یوشع نے جواب دیا یار بھائی اگر میں اس لڑکی سے شادی کر لو جس کو میں نے خون دیا ہے تو ہماری شادی زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم کتنا عرصہ چلے گی۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کے سوال پر یوشع کو شدید غصہ آیا کیا تمہیں یقین ہے کہ تم نے واقعی ہی یہی سوال پوچھنا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے تصدیق چاہی جی بالکل آپ بتائیں نااااااا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کہنی کے بل بیڈ پر لیٹتے ہوئے پوچھنے لگا عکاشہ میری جان ” اگر کوئی آپ پر مرتا ہے تو اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ آپ اسے مار ہی دیں “_ میرے خیال سے بات سمجھ آگئی ہوگی یوشع نے دانت پیستے ہوئے جواب دیا
جی آدھی تو آگئی ہے مگر آدھی _ عکاشہ نے سر کھجایا کتنی سمجھ آئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے پوچھا “آپ اسے مار ہی دیں” بس اتنی سمجھ آئی ہے عکاشہ کے جواب پر یوشع کو مزید غصہ آیا ۔
آدھا جملہ میں نے اپنے لئے اور ادھار تمہارے لئے بولا تھا یوشع کے جواب پر عکاشہ نے اپنی آنکھیں گھمائیں ۔
یعنی میں آپ پر مرتا ہوں اور آپ مجھے مارنا چاہتے ہیں _ عکاشہ کی تشریح پر یوشع نے اپنا سر پکڑ لیا
عکاشہ تم کوشش کرو کہ کچھ دن تک مجھ سے رابطہ نہ کرو ورنہ یوشع نے دھمکی دی
ورنہ آپ مجھے گلے لگا لیں گے ہے نااااااا عکاشہ کو اب مزا آنے لگا تھا
“گلے ” تک تو بات بالکل ٹھیک ہے مگر “لگانے” اور “دبانے” میں ابھی کنفیوژن باقی ہے یوشع مسکرایا
بکری پکڑی گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے یوشع کا موڈ بہتر دیکھ کر فوراً پوچھا
بات اب بکری سے بہت آگے بڑھ گئی ہے یوشع نے سنجیدگی سے جواب دیا
کیا اب “بکری” کے ساتھ ساتھ اس کی “بھینس” پر بھی نظر ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے حیرت سے پوچھا
بکری ، بھینس ،گدھے ، کتے اس کی ہر چیز پر نظر ہے اور کچھ یوشع چیخا اچھا ناراض مت ہوں۔ ویسے یہ “شخصیات” بھی محبت کے حقدار ہیں۔ میں آپ کے جذبے کو سراہتا ہوں عکاشہ کے جواب پر کال کٹ گئی ۔
ناراض تو مجھ سے ہو نہیں سکتے یقینا بیلنس ہی ختم ہو گیا ہو گا _ عکاشہ نے سوچتے ہوئے موبائل کی بلیک سکرین کو دیکھا آخر دو بوتلیں خون کی دی ہیں۔ بہت کمزوری ہو گئی ہے اور کمزور بندے کو نیند جلدی نہیں آتی۔ اب کس کو کال کروں کے رات گزر جائے یوشع نے ہتھیلی پر موبائل مارتے ہوئے سوچا اور پھر ایک دم اس کے چہرے پر ایک جاندار مسکراہٹ آئی ۔
اس کے لئے مجھے آدھی رات کا انتظار کرنا پڑے گا ۔ عکاشہ نے وال کلاک کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا اور موبائل بیڈ پر اچھال دیا۔
🪄🪄🪄🪄🪄🪄
عدن خیریت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ آپ نے آدھی رات کو مس کال کی۔یہ آپ کی عادت تو نہیں ہے ۔ حیدر آفندی نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھا
کیونکہ میں عدن نہیں ہوں _ عکاشہ کی چہکتی آواز رات کے اس پہر حیدر آفندی کو شدید بری لگی تم اپنے نمبر سے کال نہیں کر سکتے تھے اور تمہاری ماں کدھر ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ لہجے کی شِیرنی ایک دم غائب ہوئی ارے واہ بیگم کو تو “آپ جناب” اور اولاد کے لئے “تم تم” سردار جی یہ ڈبل معیار ہوا ۔ حالانکہ ہم جس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اس نے بچوں ساتھ شفقت اور محبت کا درس دیا ہے عکاشہ نے تپایا
بیوی کو سنگسار کرنے کا حکم نہیں دیتا اس کے لیے بھی محبت کا ہی حکم ہے۔
اور آئندہ اپنی ماں کے نمبر سے مجھے فون مت کرنا۔ سمجھے حیدر آفندی پہلے سے بھی زیادہ سنجیدہ لہجے میں بولے
آپ کی بیوی سوری دوسری بیوی میری شادی کرنا چاہ رہی ہیں عکاشہ نے بتایا
تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے پوچھا
تو میں شادی کرنے لگا ہوں عکاشہ نے قہقے لگائے
بس یہی بتانا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے اپنے پہلو میں لیٹی راشدہ بیگم کی طرف دیکھتے ہوئے آہستہ آواز میں پوچھا
آپ کو خوشی نہیں ہوئی۔ ماما تو کہہ رہیں تھیں آپ بہت خوش ہوں گے۔ مطلب ماما جھوٹ بول رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے افسوس کا اظہار کیا
اگر تم میری اولاد نہ ہوتے تو اب تک میرے ہاتھوں قتل ہوچکے ہوتے۔
مگر افسوس کہ تم میری اولاد ہو اور صد افسوس ہے کہ تمہاری ماں عدن ہے جسے میں دکھ نہیں دے سکتا۔
ورنہ اب تک تم یوں میرے ساتھ گفتگو نہ کر رہے ہوتے حیدر آفندی کو رات کے اس پہر عکاشہ کی باتیں زہر لگ رہی تھی ۔
یہ حویلی میں چل کیا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
آگے بھائی اس قسم کی گفتگو کر رہے تھے اور اب آپ عکاشہ نے حیرت کا اظہار کیا
کس قسم کی گفتگو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے اپنا سر دباتے ہوئے پوچھا
یہی مجھے قتل کرنے کی دھمکیاں وغیرہ دینا عکاشہ نے مظلومیت سے بتایا
عکاشہ میں صبح اسلام آباد آرہا ہوں حیدر آفندی نے آنکھیں بند کرتے ہوئے خود کو نارمل کیا
یہی تو میں کہنے لگا تھا کہ ماما اکیلی میرا رشتہ لے کر جاتی اچھی تو نہیں لگیں گی۔
آپ بھی آجانا اور یوشع بھائی کو بھی ساتھ لانا اور اگر آپ لوگ مصروفیت کی وجہ سے صرف “بڑی سرکار “کو ہی بھیج دیں تو عین نوازش ہوگی۔
لڑکی والوں کو پتہ چلنا چاہیے کہ عکاشہ کس دادی کا پوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے اپنی ہنسی دبا تے ہوئے کہا جب کہ حیدر آفندی نے فون سوئچ آف کر دیا
حویلی والوں کے صرف “دماغ” ہی نہیں بلکہ “فون” بھی خراب ہیں عکاشہ نے بلیک سکرین دیکھتے ہوئے کہا
اب کس کو تنگ کروں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کیوں ناااا اسے تنگ کیا جائے جو آگے ہی تنگ ہے مس موسلادھار اب تمہاری باری ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ہیلو مس چونا کیسی ہو ۔۔۔۔۔۔؟؟ جاگ رہی ہو تو ریپلائی کرو _ عکاشہ نے حرم کے نمبر پر میسج سینڈ کیا ہاں بولو رات کے اس پہر کیا تکلیف ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حرم نے غصے والے ایموجی کے ساتھ ریپلائی دیا
کچھ نہیں میں نے سوچا اپنے خون کی خیر خبر ہی لے لوں _ عکاشہ نے سمائلززز بھیجیں۔ بالکل ٹھیک ہے حرم کا جواب آیا
ٹھیک کیسے نہ ہوتی آخر خون کس کا لگا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
عکاشہ کے ریپلائی پر حرم نے اپنا سر پکڑ لیا پتہ نہیں کتنا عرصہ اب یہ خون خون کی رٹ لگائے گا ۔
احسان کرکے جتلاتے نہیں ہیں۔ مسٹر عکاشہ حیدر آفندی حرم کا میسیج سین ہوا۔
میں نے مس موسلادھار سے بات کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے فرمائش کی۔
سوری وہ سو رہی ہے ۔کوئی میسج ہے تو دے دو میں اسے دے دوں گی حرم نے معزرت کی۔
“الجھے ہے تیرے خیالوں میں ایسے افریقن بچے کے بال ہوں جیسے”
عکاشہ نے میسج ٹائپ کرکے سینڈ کیا۔جسے پڑھتے ہی حرم منہ پہ ہاتھ رکھ کے ہنسنے لگی کیوں کہ ماہم سو رہی تھی۔
🪄🪄🪄🪄🪄
سکول میں قدم رکھتے ہی ماسٹر جی کو آج ماحول میں غیر معمولی خاموشی کا احساس ہوا ۔
اس سے پہلے کہ وہ اپنی کلاس کی طرف چلتے کسی نے انہیں پکارا ۔
جی بیٹا آپ نے مجھ سے کچھ کہا ماسٹر جی نے مڑتے ہوئے ایک شاگرد سے پوچھا
جی ماسٹر جی آپ کو ہیڈ ماسٹر اپنے دفتر میں بلا رہے ہیں شاگرد کہتا ہوا چل دیا ۔
جیسے ہی ماسٹر جی نے ھیڈماسٹر کے کمرے میں قدم رکھا یوشع آفندی کو پوری شان و شوکت ساتھ ان کی کرسی پر دیکھا
آؤ ماسٹر آؤ رشتے داری نہ سہی مگر ہم تمہارے گاؤں کے سردار ہیں تو اتنا ہمارا حق بنتا ہے کہ تم ہمارا ایک چھوٹا سا کام کر دو یوشع نے اپنے سامنے پڑی کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
ہمیں تم سے کچھ ذاتی نوعیت کا کام پڑ گیا ہے اس لیے تمہیں یہاں اکیلے میں بلوایا _ امید ہے تمہیں برا نہیں لگا ہوگا ۔یوشع نے پیپر ویٹ ٹیبل پر گھماتے ہوئے ماسٹر جی کے تاثرات نوٹ کیے۔ سائیں میری کیا اوقات کے مجھے کچھ برا لگے۔ آپ ہمارے مائی باپ ہیں حکم کریں کہ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماسٹر جی نے دل کڑوا کرتے ہوئے عاجزی سے جواب دیا بندے سمجھ دار ہو مگر کام سمجھ داری والے نہیں کرتے یوشع کے طنز پر ماسٹر جی نے اپنی عینک درست کی۔
یہ خط پڑھ دیں۔ بڑی مہربانی ہوگی ۔ میری اردو کمزور ہے۔ آپ کو تو معلوم ہوگا کہ میں oxford کا پڑھا ہوں۔ مجھے اردو نہیں آتی یوشع نے کہتے ہوئے ایک پرچہ ماسٹر جی کے سامنے رکھا جسے پہچان کر ان کے ماتھے پر پسینہ چمکنے لگا ۔
پرچہ کھولتے ہی ماسٹر جی کی پوری آنکھیں بھی کھل گئی ان کے تاثرات ایک دم بدلے ۔جبکہ یوشع نے اپنے محافظوں کو باہر جانے کا اشارہ کیا
تم اسے پڑھ دو۔ ورنہ یہ خط مجھے جس نے دیا ہے مجبورا مجھے اسی سے پڑھوانا پڑے گا۔ جو کہ شاید تمہیں اچھا نہ لگے یوشع اپنی بےعزتی کا بدلہ امثال سے تو نہیں لے سکتا تھا اس لیے ماسٹر جی پر اپنا غصہ نکالنے لگا ۔
پڑھیں ناااااا کیا یہ اردو زبان میں نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے ماسٹر جی کی مسلسل خاموشی پر چوٹ کرتے ہوئے کہا
سائیں یہ ایک کہانی ہے _ ماسٹر جی نے ہچکچاتے ہوئے بتایا آپ سنائیں میں سن رہا ہوں یوشع نے سنجیدگی سے جواب دیا
پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک بادشاہ کو کسی فقیرنی سے محبت ہو گئی ۔بادشاہ اسے شادی کرکے اپنے محل میں لے آیا۔
اس فقیرنی کی حرکتیں کچھ عجیب سی تھیں۔ جو محل والوں کو اور خود بادشاہ کو بعض دفعہ شرمندہ کر دیتیں۔
محل میں ہر طرح کی آسائشیں اور سکون تھا مگر اس کے باوجود وہ فقیرنی خوش نہیں رہتی تھی ۔رفتہ رفتہ وہ بیمار پڑنے لگی جس سے اس کا حسن ماند پڑ گیا ۔بادشاہ کو اسی حسن سے محبت تھی اس لیے وہ پریشان ہو گیا
بادشاہ نے اس کے علاج کے لیے تمام حکیموں کو بلایا مگر کسی کے علاج سے اسے کچھ فرق نہ پڑا ۔
بالآخر ایک بزرگ نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ آپ اسے دوبارہ جنگل میں چھوڑ آئیں یہ بالکل ٹھیک ہو جائے گی ۔
بادشاہ کو حیرت تو بہت ہوئی مگر اس نے فقیرنی کی بہتری کے لیے اسے جنگل میں چھوڑ دیا
ایک ہفتے کے اندر اندر وہ فقیرنی پہلے کی طرح خوبصورت اور صحت مند ہوگی۔
بادشاہ نے اس بزرگ سے پوچھا کہ آخر جنگل میں ایسا کیا ہے جو محل میں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بزرگ نے جواب دیا کہ “جو چیز جہاں رہتی ہے وہ اسی ماحول میں خوبصورت لگتی ہے۔ اس لئے چیزوں کو ردوبدل نہیں کرنا چاہیے ورنہ ان کی خوبصورتی بدصورتی میں بدل جاتی ہے۔ “
ماسٹر نے کہانی ختم کرتے ہوئے یوشع کی طرف دیکھا جو کرسی ساتھ ٹیک لگائے مسکرا رہا تھا۔
امید ہے بات سمجھ آ گئی ہو گی لیکن اگر پھر بھی سمجھ نہیں آئی اور آپ کی تربیت میں دوسروں کی عزت کرنا شامل ہے تو آپ کو یوں چوروں کی طرح میرے گھر میں داخل ہونا زیب نہیں دیتا ۔
دن کے اجالے میں دھوم دھام سے بارات لے کر آئیں مگر اس سے پہلے اپنی بڑی سرکار جو حقیقت میں آپ کے “والدین” ہیں اور نقلی والدین یعنی سائیں حیدر آفندی اور بی بی سائیں کو رشتے کے لئے بھیجیں۔
ماسٹر جی کو پڑھتے ہوئے اپنے گلے میں کانٹے چبتے ہوئے محسوس ہوئے جبکہ یوشع دونوں کہنیوں کو ٹیبل پر رکھے بہت غور سے سن رہا تھا
حق مہر مجھے اپنی پسند کا چاہیے جو میرے بھائی اور بہنوں کا علاج ہے۔ ایک پُر آسائش گھر تاکہ وہ میرے بعد آسانی سے زندگی گزار سکیں۔
یہ تمام باتیں ماننے یا نہ ماننے کا آپ کو پورا اختیار ہے مگر زبردستی کی صورت میں نتائج کے آپ خود ذمہ دار ہوں گے کیونکہ کسی کو بھی بے وقوف یا کمزور سمجھنا سب سے بڑی بے وقوفی ہوتی ہے۔
ماسٹر جی نے خط ٹیبل پر رکھا اس وقت انہیں امثال پر شدید غصہ آ رہا تھا ۔
تم سے کئی گناہ زیادہ “عقل مند” اور “بہادر” تمہاری بیٹی ہے کیا واقعی وہ تمہاری بیٹی ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
خیر اب تم جاسکتے ہو یوشع کے تاثرات ماسٹر جی ساتھ ایک دم سخت ہوئے۔
امثال بی بی تم ضرورت سے زیادہ حقیقت پسند ہو۔ گو کہ یہ ایک اچھی بات ہے مگر مجھے اچھی نہیں لگی اور جو چیز مجھے اچھی نہیں لگتی میں اسے ختم کر دیتا ہوں __ یوشع نے کاغذ کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کردیا
🪄🪄🪄🪄🪄
جاری ہے
