Do Dil By Amna Mehmood Readelle50150 Last Episode (Pt 2)
Rate this Novel
Last Episode (Pt 2)
اس وقت سب ہی بہت خوش بیٹھے چائے پی رہے تھے کیونکہ وہ ابھی ابھی زبیر صاحب کے گھر سے شادی کی تاریخ لے کر آئے تھے .
امثال زندگی میں پہلی بار شہر آئی تھی۔ وہ جو چیزیں اور عمارتیں صرف ٹی وی میں دیکھتی تھی آج اسے یوشع کی وجہ سے وہ سب دیکھنا نصیب ہو رہا تھا ۔جس کے لئے وہ محبت بھری نظروں سے یوشع کو دیکھ رہی تھی
امثال خوشی سے عدن ساتھ بیٹھی باتوں میں مصروف تھی جب یوشع حیدر آفندی اور عکاشہ کے پاس سے اٹھ کر ان کے ساتھ آ بیٹھا ۔
ماما آپ اسے کیا دکھا رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے البم پر نظر مارتے ہوئے پوچھا
میں اسے اپنی اور حیدر کی لندن والی تصویریں دکھا رہی ہوں۔ عدن کے جواب پر یوشع نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے سر ہلایا
امثال تم نے ماما کے پودے دیکھے ہیں بہت ہی نایاب پودے ہیں _ یوشع نے امثال کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جب کہ امثال کو پودوں میں کوئی دلچسپی نہ تھی مگر جو جگہیں وہ البم میں دیکھ رہی تھی وہ اس کے لئے دلچسپی کا باعث تھیں۔ عقاشہ ادھر آؤ امثال کو وہ پودے دکھاؤ جو ماما نے لگائے ہیں یوشع نے عکاشہ کو پکارا جب کہ امثال نے انتہائی ناگواری سے یوشع کی طرف دیکھا
چلو اٹھو امثال کو نہ اٹھتا دیکھ کر یوشع نے دوبارہ کہا تو وہ عدن کا لحاظ کرتی اٹھ گئی ورنہ اس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ وہ اس وقت غصے میں ہے ۔
کیا کوئی بہت ہی خاص بات کرنی ہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے البم بند کرتے ہوئے یوشع کی طرف دیکھا
آپ کو کیسے پتہ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے محبت سے انہیں اپنے حصار میں لیا ۔
جس طرح تم نے اپنی بیگم کو زبردستی یہاں سے بھیجا ہے مجھے اندازہ ہوگیا ہے۔ عدن کی وضاحت پر یوشع مسکرایا
میں اس کے ساتھ زبردستی نہیں کرتا میں تو ایک مظلوم سا شوہر ہوں۔ یوشع کے جواب دیا عدن نے اسے گھورا
وہ بہت معصوم اور سادہ مزاج لڑکی ہے ۔ اس کی خوشیوں کا خیال رکھا کرو فائدے میں رہو گے۔ عدن کی بات پر یوشع نے سر کو خم دیا ۔
اب بتاؤ تمہیں مجھ سے کیا کام ہے ۔کیا کہنا چاہتے ہو۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عڈن نے یوشع کی فرمابرداری پر خوش ہوتے ہوئے پوچھا
کہنا کچھ نہیں ہے معافی مانگنی ہے ۔ میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں۔ آپ پلیز مجھے معاف کر دیں ۔ یوشع ایک دم نہایت سنجیدہ ہوگیا تو عدن کو شدید حیرت ہوئی ۔
معافی معافی کیوں مانگ رہے ہو ۔۔۔۔؟؟؟
تم نے کیا کیا ہے۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے ناسمجھی سے یوشع کی طرف دیکھا
میں آپ کو حویلی میں آپ کا مقام چاہ کر بھی نہیں دلا سکتا _ یوشع نے سر جھکایا تو عدن کو پوری بات سمجھ آگئی ۔ یہ بات تم سے یقیناً عکاشہ نے کی ہوگی ۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے پوچھا تو یوشع عدن سے جھوٹ نہیں بول سکا مجھے حویلی میں کوئی مقام نہیں چاہیے ۔ جہاں مجھے مقام چاہیے تھا وہاں ملا ہوا ہے عدن نے اپنے سے دور بیٹھے حیدر آفندی کو دیکھ کر کہا
ہاں مگر کبھی کبھی دل کرتا ہے کہ حویلی میں مجھے بھی حیدر کی بیوی ہونے کے ناطے تھوڑا سا رتبہ ملے مگر کوئی بات نہیں _ عدن اداس ہوئی چھوٹی ماما میں اور بابا بڑی سرکار کو دکھی نہیں کر سکتے۔ وہ ہم سے بہت محبت کرتی ہیں۔ اسی لیے ہم ان کی محبت کے آگے چپ ہو جاتے ہیں۔ آخر وہ ہماری بڑی ہیں۔ ہم انہیں غلط نہیں کہہ سکتے یوشع کے جواب پرادند نے اس کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا
بڑی سرکار کا لاڈلا بول رہا ہے۔ عدن کے کہنے پر یوشع ہنسا
کیا کروں انہوں نے پالا ہی بہت لاڈ سے ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں_ یوشع نے کندھے اچکائے اتنی دیر میں امثال واپس آ کر بیٹھ گئی۔ ماما میں چاہتا ہوں آپ اسے بھی اپنی طرح بنا دیں۔ کچھ سکھائیں اسے یوشع نے امثال کی طرف دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا
یہ تو آگے ہی بہت سمجھدار اور اچھی بچی ہے۔ میرے خیال سے اسے نہیں تمہیں سمجھانے کی ضرورت ہے ۔عدن نے محبت سے امثال کو اپنے ساتھ لگایا تو یوشع نے مدد طلب نظروں سے عکاشہ کی طرف دیکھا
مجھے ایسے مت دیکھیں ابھی آپ نے انھیں مس موسلادھار کی حمایت کرتے ہوئے نہیں دیکھا ورنہ _ عکاشہ توبہ کرتے ہوئے حیدر آفندی کی طرف چل دیا ۔جب کہ عدن نے محبت سے یوشع اور امثال دونوں کو ہی اپنے ساتھ لگا لیا 🪄🪄🪄🪄🪄 شکر ہے اللہ نے مجھے یہ دن دکھایا ہے۔ حیدر میں آج بہت خوش ہوں ۔ عدن نے حیدرآفندی پرفیوم چھڑکتے کرتے ہوئے کہا اچھا جی اگر آپ خوش ہیں تو میں بھی بہت خوش ہوں ۔کیونکہ میری خوشی کی اصل وجہ ہی آپ ہیں۔ حیدرآفندی نے سفید شلوار قمیض کے اوپر بلیک واسکٹ پہنتے ہوئے جواب دیا بس آپ کو ہر وقت ان کی فکر رہتی ہے ۔کم از کم آج کے دن تو میری فکر کا لیں ۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے دروازہ بجاتے ہوئے دونوں کو ڈسٹرب کیا تم ابھی تک سیلون نہیں گئے ۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا سیلون تو تب جاؤ گا ناااااا جب کپڑے پہنوں گا عکاشہ نے دروازے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے جواب دیا
تو پہنو ناااا کپڑے کب پہنو گے ۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے غصے سے اسے دیکھا کیسے کیسے پہنو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا تو حیدر آفندی اسے دیکھ کر مسکرا دیئے ۔
اتنے بڑے ہو گئے ہو اور ابھی تک یہ نہیں پتہ کہ کپڑے کیسے پہنتے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
عکاشہ کسی وقت تو معاف کر دیا کرو _ عدن نے چڑتے ہوئے اسے ڈانٹا۔ مجھے کپڑے پہننا آتے ہیں اور میرے خیال سے میں خود ہی پہنتا ہوں ۔مگر اب یہ “شیروانی” تیار ہی نہیں کہ میں اسے پہنو۔ نخرے دکھا رہی ہے اب اس میں میری کیا غلطی ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے اپنی مجبوری بتائی۔ بات سیدھی اور جلدی کرو۔ وقت دیکھو کیا ہو رہا ہے بارات بھی لے کے جانی ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے اس کے قریب جاتے ہوئے پوچھا مجھے شیروانی تنک ہے۔ عکاشہ نے اپنا کان کھجایا تو عدن کو سارا مسئلہ سمجھ آنے لگا ٹھیک ہے جو مرضی پہن لو مگر کچھ پہن ضرور لینا عدن کہتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی تو عکاشہ نے آبرو اچکا کر حیدر آفندی کو دیکھا
ویسے ہر وقت مجھے کوستی رہتی ہیں اور آپ نے اپنی بیگم کی حرکتیں دیکھیں ہیں کیا کہہ کر گئی ہیں ۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ شکایت لگاتا یوشع کے کمرے کی طرف چل دیا ۔
امثال ادھر آؤ مجھے یہ کف لنک لگا دو _ یوشع نے جان بوجھ کو امثال کو مخاطب کیا جو اس وقت اپنی چپل پہننے میں مصروف تھی ۔ ایک تو مجھ سے یہ جوتے نہیں پہنے جا رہے تو میں ان چلوں گی کیسے ۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال نے گولڈن ہیل والی چپل کی طرف اشارہ کیا اچھا میں پہنا دیتا ہوں مگر ایک شرط پر کہ تم بھی مجھے کف لنک لگا کر دوں گی ۔ یوشع کہتا ہوں امثال کی طرف بڑھنے لگا جب دروازے پر عکاشہ نظر آیا۔ شادی میری ہے اور جدھر جاؤ سب نے اپنا ہی رومانس شروع کیا ہوا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ بڑبڑاتا ہوا اندر داخل ہوا کیا میں اندر آ سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے یوشع کے قریب آتے ہوئے پوچھا اب وہ کتنا اندر آؤ گے اب تو کمرے کی حدود بھی ختم ہونے والی ہے یوشع نے دیوار کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا۔
اچھے لگ رہے ہیں عکاشہ نے یوشع کا جائزہ لیتے ہوئے کہا تو امثال بھی مسکرا دی
یہ ڈائیلاگ ویسے میری بیوی کے تھے یوشع نے پلٹ کر امثال کو دیکھا جو دونوں بھائیوں کی گفتگو مزے سے سن رہی تھی۔
آپ ابھی تک تیار کیوں نہیں ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال نے عکاشہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
مجھے شیروانی نہیں پہننی _ عکاشہ منہ بناتا ڈریسنگ ٹیبل پر بیٹھ گیا ویسے تمہیں اس بات کا جلدی خیال نہیں آگیا ولیمہ کے بعد سوچ لیتے کہ بارات پر کیا پہننا ہے ۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کے طنز پر امثال ہنسنے لگی جبکہ عکاشہ دونوں کو گھور رہا تھا چلو پھر ایسا کرو جنز اور جاگرز ہی پہن لو بارات کا وقت ہو رہا ہے ۔ یوشع نے کلائی پر گھڑی باندھتے ہوئے کہا
شادی کے بعد آپ کی زبان خاصی مٹھی ہوتی جا رہی ہے ۔عکاشہ کی بات پر یوشع نے بھرپور قہقہہ لگایا جبکہ امثال کو بات سمجھ نہیں آئی ۔
طنز نہ کریں میرا مسئلہ حل کریں _ عکاشہ نے دونوں ہاتھوں میں موبائل گھمایا یہ میرا ہے یوشع نے عکاشہ کے ہاتھ سے موبائل لیتے ہوئے اپنی پاکٹ میں رکھا
امثال اگر تم نے چپل پہن لی ہے تو جاکر ماما سے پوچھو کوئی کام تو نہیں ہے۔ ویسے اس حالت میں تم کیا خاک کام کروں گی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ یوشع کی بات پر امثال چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی کمرے سے باہر نکل گئی۔
میرے خیال سے وہ ناراض ہو کر گئی ہیں۔ عکاشہ نے امثال کی پشت کو دیکھتے ہوئے تبصرہ کیا
اسے چھوڑو وہ میرا مسئلہ ہے اور تم بتاؤ کہ تمہارا مسئلہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یوشع نے شیشے میں اپنی تیاری پر آخری نظر ڈالی اور عکاشہ کو دیکھا جو بظاہر لاپرواہ بنا ہوا تھا ۔
اب اس منہ سے نکال بھی دو جو اس دماغ میں تیار ہو رہا ہے۔ یوشع کی شرارت سمجھتے ہوئے عکاشہ مسکرایا
مجھے آپ جیسے کپڑے پہنے ہیں جیسے آپ نے اپنی شادی پر پہنے تھے وہی روایتی لباس _ عکاشہ کی فرمائش پر یوشع نے پہلے اسے پھر گھڑی کو دیکھا اگر تمہارا ایسا ارادہ تھا تو پہلے بتا دیتے ۔اب اتنے کم وقت میں یہ سب کیسے ہو گا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کو سچ مچ حیرت ہوئی بھائی یار آپ لوگ بارات لے کر چلے جائیں میں بعد میں آجاؤں گا عکاشہ کے جواب پر یوشع کا دل کیا اپنا سر پیٹ لے۔
دولہے کے بغیر بارات ھوتی ھے یوشع نے پوچھا یا بتایا عکاشہ نے نوٹس لینا ضروری نہیں سمجھا میں نے آپ جیسے کپڑے پہنے ہیں ۔آخر میں بھی تو حیدر آفندی کا بیٹا ہوں۔ تو مجھے بھی اپنی شادی پر روایتی ڈریس پہننا چاہیے ۔ جو شروع سے آفندی خاندان میں چلتا آیا ہے ۔ دادا نے بھی پہنا بابا نے پہنا _ آپ نے پہنا اور اب میں بھی عکاشہ کی لوجک پر یوشع کا سر گھوم گیا
پہلے بتاتے نااااااا اب دیر ہو گئی ہے۔ چلو شاباش شیروانی پہن لو۔ وقت دیکھو کیا ہو رہا ہے وہ لوگ انتظار کر رہے ہوں گے ۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے موقع کی نزاکت کو مد نظر رکھتے ہوئے سمجھانا چاہا
انہیں انتظار کرنے دیں۔ آپ ان کی فکر نہ کریں ۔سسرال والوں کو زیادہ سر نہیں چڑھانا چاہیے۔ عکاشہ نے آنکھ ماری تو یوشع نے ہار مانتے ہوئے اپنا موبائل نکالا
نوید تم اس وقت کہاں ہو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کے پوچھنے پر نوید نے اپنے سامنے ناراض بیٹھی بتول کو دیکھا
سائیں ڈیرے پر ہوں۔ نوید کا جواب بتول کو حیران کر گیا
خیریت اس وقت ڈیرے پر ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے گھڑی کی طرف دیکھا جو صبح کے دس بجا رہی تھی ۔
سائیں وہ ایک “بھینس” کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی تو _ نوید نے اتنا ہی کہا تھا کہ یوشع نے اسے وہیں رکنے کا کہا اور کال بند کر دی میں بھینس ہوں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول نے شدید دکھ اور غصے سے پوچھا یہ ڈیرہ ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید نے بھی اسی انداز میں پوچھا نوید تم نے یہ بکواس میرے بارے میں کی ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول جو آگے ہی نوید سے ناراض تھی مزید بگڑ گئی ۔ بی پی اگر میں یہ نہ کہتا تو سائیں نے کوئی کام کہہ دینا تھا اور پھر آپ مجھ سے مزید ناراض ہوجاتیں نوید نے اپنے بہانے کی وجہ بتائی۔
بات مت کرو مجھ سے _ بتول دوبارہ منہ موڑ کر بیٹھ گئی۔ بیبی میں آپ کو کیسے سمجھاؤں کہ میں آپ کو یوں باہر نہیں لے جا سکتا ۔۔۔۔۔؟؟ حویلی میں اس وقت بڑے سائیں اور یوشع سائیں موجود نہیں ہیں اور ان کی غیر موجودگی میں حویلی کی ساری ذمہ داری مجھ پر ہے۔ نوید نے اپنی مجبوری بتائی۔ مجھے نہیں پتہ مجھے گھومنے پھرنے جانا ہے ۔ بتول نے ضد کی۔ اچھا یوشع سائیں آتے ہیں تو آپ ان سے اجازت لے لیجئے گا پھر آپ جہاں کہیں گی میں آپ کو لے جاؤنگا ۔ نوید نے ہار مانی میں نے شادی تم سے کی ہے اور میری خواہش پوری کرنا تمہاری ذمہ داری ہے کیسے یہ میں نہیں جانتی ۔۔۔۔؟؟ بتول غصے سے کہتی اٹھ کے جانے لگی اسی لئے آپ کو سمجھ آتا تھا کہ مجھ سے شادی نہ کریں پچھتائیں گی مگر آپ تو نوید کے بات پر بتول غصے سے پلٹی
میرے خون میں پچھتانا شامل نہیں ہے اور یہ جو تم ہر وقت سائیں سائیں بی بی کی رٹ لگائے رکھتے ہو اس کا حل بھی ہے میرے پاس _ بس ذرا چچا سائیں شہر سے واپس آجائیں۔ بتول دھمکی دیتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی جب کہ نوید کو آنے والے وقت سے خوف آنے لگا تھا 🪄🪄🪄🪄🪄 وہ دونوں کہاں رہ گئے ہیں یہ سب کیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے کوئی تیسری بار عدن سے پوچھا تھا مجھے کیا پتہ ان کی گاڑی پہلے نکلی تھی عکاشہ کہہ رہا تھا کہ ہم سیلون سے سیدھا ہوٹل پہنچ جائیں گے عدن نے قدر شرمندگی سے جواب دیا
اس وقت سب باراتی ہوٹل سے کچھ فاصلے پر رکے دولہے کی گاڑی کا انتظار کر رہے تھے جب کہ عکاشہ، یوشع کو لیے بازار میں گھوم رہا تھا _
بس کردے یاررررر _ بار بار بابا سائیں کی کال آرہی ہے ۔ یوشع نے بے بسی سے کہا بس یہ آخری شاپ ہے۔ یہاں سے پکا میں ڈریس خرید لوں گا عکاشہ کے جواب پر یوشع نے ایک گہرا سانس خارج کیا اور دکان کے اندر قدم رکھا
عکاشہ کپڑے پسند کرنے لگا جبکہ یوشع کا موبائل بری طرح چیخنے میں مصروف تھا۔
پھر بابا سائیں کی کال آرہی ہے یوشع نے عکاشہ کو موبائل سکرین دکھائی جس پر عکاشہ نے کوئی رسپانس نہیں دیا ۔
تم دونوں کب تک پہنچ رہے ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی کی گرجدار آواز سپیکر سے باہر سنائی دی۔
بابا سائیں بس دس منٹ یوشع پچھلے ایک گھنٹے سے انہیں یہی جواب دے رہا تھا ۔
تمہارے “دس منٹ” میں کتنے “گھنٹے” ہوتے ہیں بس مجھے یہ بتا دو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدرآفندی کے جواب پر یوشع نے عکاشہ کو غصے سے گھورا جبکہ وہ دانت نکال رہا تھا
بابا بس میں آ رہا ہوں یوشع نی دکان سے باہر قدم بڑھائے۔ تمہارا آنا ضروری نہیں ہے۔ اس “گدھے” کو لے کر آؤ جس کی آج “شادی” ہے ورنہ ہم لڑکی والوں کو کیا جواب دیں گے _ حیدر آفندی کا غصہ آسمانوں کو چھو رہا تھا۔
بھائی یار اتنا سیریس ہونے کی ضرورت نہیں ہے بڑوں کا کام ہی یہی ہوتا ہے بس میں ابھی تیار ہو کر آیا عکاشہ یوشع کا کندھ تھپکتا ڈریسنگ روم کی طرف چل دیا جبکہ یوشع نے بے بسی سے ہوا میں مکا مارا
کیا کہا یوشع نے عدن نے بے چینی سے پوچھا
تمہاری اور میری اولاد اصل میں ہم دونوں کی بالکل نہیں لگتی۔ حرام ہے کہ ایک بھی صفت ان میں ہمارے والی ہو حیدر آفندی کے جواب پر عدن نے ناراض نظر سے دیکھا
صحیح کہہ رہا ہوں چلو ہم لوگ چلتے ہیں ۔ زبیر صاحب کا بار بار فون آ رہا ہے کچھ تو انہیں تسلی ملے گی حیدر آفندی نے عدن کو جواب دیتے ہوئے ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا اشارہ کیا تو دوبارہ زبیر صاحب کی کال آنے لگی آپ ایک دفعہ کال اٹھا کر تسلی بخش جواب دے دیں ۔ آخر لڑکی والے ہیں۔ دیر پر پریشان ہو رہے ہوں گے۔ ہماری غلطی ہے بہت دیر ہو گئی عدن کے کہنے پر حیدر آفندی نے کال اٹینڈ کی۔ مگر جو خبر آگے سے سننے کو ملی اس نے حیدر آفندی کے ہوش اڑادئیے
یہ کب کی بات ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی نے بمشکل الفاظ ادا کیے ۔
اچھا اچھا میں دیکھتا ہوں آپ پریشان نہ ہوں۔ شاید کسی نے شرارت کی ہوگئی ۔ حیدر آفندی انھیں تسلی دیتے کال کاٹ گئے ۔
ابھی آپ مجھ سے ناراض ہو رہی تھیں کہ میں انہیں ایسا کیوں بول رہا ہوں۔ اب آپ خود ہی دیکھ لیں کہ عکاشہ نے کیا حرکت کی ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدرآفندی نے گاڑی کے دروازے پر مکا مارتے ہوئے کہا جس پر عدن تڑپ کر رہ گئیں۔
اس نے زبیر صاحب کو فون کرکے کہا ہے کہ دولہے کی گاڑی کا “ایکسیڈنٹ” ہوگیا ہے اس لیے بارات لیٹ آئے گی۔ وہ اسکی خیریت پوچھ رہے تھے _ حیدر آفندی کی بات سن کر عدن کو شدید غصہ آیا غکاشہ کو فون دو عدن نے فوراً عکاشہ کو کال کی جو یوشع نے اٹھائی۔
ماما وہ تیار ہو رہا ہے یوشع نے جواب دیا اسے کہو 10 منٹ کے اندر اندر ہوٹل پہنچے اور مجھے تم سے اتنی بے وقوفی کی امید کم از کم آج کے دن نہ تھی کہ تم اس گدھے کا ساتھ دو گے عدن نے غصے سے کہتے ہوئے کال کاٹ دی جبکہ یوشع موبائل کان ساتھ لگائے ابھی بھی کھڑا تھا ۔
یہ سب آج میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع خود بھی الجھ گیا تھا ۔
جیسے ہی عکاشہ تیار ہو کر نکلا یوشع نے اسے تاریفی کی نظروں سے دیکھا اپنے باپ دادا کے روایتی لباس میں وہ کسی جاگیر کا سردار لگ رہا تھا۔
چلو بھائی اب جلدی کرو ماما اور بابا دونوں ہی آج شدید غصے میں ہےمیں۔ یوںمشع کہتا ہوا سیلون سے باہر نکلا اور گارڈز کو گاڑی لانے کا اشارہ کیا ۔
بھائی یاررررر آرام سے گاڑی چلائیں مجھے کوئی “جلدی” نہیں ہے اور جب مجھے جلدی نہیں ہے تو پھر آپ سب کو کیوں ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے یوشع کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
تجھے جلدی نہیں ہے لیکن لڑکی والے تو انتظار کر رہے ہوں گے نااااا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یوشع نے تیزی کی وجہ بتائی۔
ان کی آپ فکر نہ کریں میں نے زبیر صاحب کو فون کر کے بتا دیا تھا کہ دلہے کی گاڑی کا “ایکسیڈنٹ” ہو گیا ہے بارات لیٹ آئے گی ۔۔۔۔۔۔؟ ؟
عکاشہ یوں بتا رہا تھا جیسے وہ اپنے بارے میں نہیں کسی اور کی بات کر رہا ہو۔
عکاشہ یوشع بس اتنا ہی کہہ سکا
وہ کیا ہے ناااااا مجھے مس موسلادھار “روتے” ہوئے بہت پیاری لگتی ہے ۔ دلہن بنی ہوئی ساتھ ہلکی پھلکی بوندا باندی سوچیں عکاشہ کی مسکراہٹ گہری ہوئی جبکہ یوشع نے نفی میں سر ہلایا
یوشع اپنے برابر بیٹھی ہوئی ہے اس “مخلوق” جس کا نام “عکاشہہ” تھا کو مسلسل دیکھے جا رہا تھا ۔اس کے بارے میں کوئی بھی اندازہ لگانا تقریباً ناممکن تھا یہ کبھی بھی کچھ بھی کر سکتا تھا اس بات کا اندازہ آج شام کو بخوبی ہو گیا تھا ۔
بس کر دیں اب نظر لگائیں گے کیا ۔۔۔۔۔۔؟؟ یوشع کے دیکھنے پر عکاشہ نے اسے شرارت سے کہا پھر گاڑی میں ایک سکوت چھا گیا کہ اچانک عکاشہ کا قہقہ گونج اٹھا اور اس نے یوشع کو گلے لگا لیا ۔
قیمتی گاڑیوں کی ایک لمبی قطار بارات کی صورت میں ہوٹل پہنچی تو زبیر صاحب اور ہارون نے ان کا پرتپاک استقبال کیا جبکہ عدن اور حیدر آفندی دونوں بھائیوں سے سخت ناراض تھے ۔ ہوٹل کا وقت ختم ہو رہا تھا لہذا نکاح کے بعد فورا کھانا لگا دیا گیا ۔
یوشع مجھے تم سے اتنی غیر ذمہ دار رویے کی امید نہ تھی۔ جیسے ہی یوشع نے عدن کو مبارک دی اس نے فورا گلہ کیا۔
اچھا اچھا گلہ بات کے لئے اٹھا رکھتے ہیں ابھی یہ بتائیں آپ کی بہو کہاں ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے ہال میں امثال کو ڈھونڈتے ہوئے پوچھا
وہ اندر ہے اور بہت خوش ہے۔ ایسا کرو اسے کچھ دنوں کے لیے میرے پاس ہی چھوڑ دو ۔عدن کی بات پر یوشع نے انہیں مسکرا کر دیکھا
پھر میں بھی ادھر ہی رک جاتا ہوں ۔ میں واپس جاکر اس کے بغیر کیا کروں گا۔۔۔۔۔۔؟؟ یوشع نے لاڈ سے عدن کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے جواب دیا۔
بہت اچھی لگتی ہے ۔ عدن نے پوچھا
“بہت” کا تو پتہ نہیں مگر اس کے بغیر مجھے کچھ اچھا نہیں لگتا _ یوشع کے اس قدر عجیب اظہار محبت پر عدن ہنس دیں۔
🪄🪄🪄🪄🪄
