Do Dil By Amna Mehmood Readelle50150 Episode 18
Rate this Novel
Episode 18
اس وقت سبھی خوش گوار موڈ میں کھانا کھا رہے تھے. دس سال بعد آج پھر حیدر کی ہنسی عدن کے فلیٹ میں گونج رہی تھی.
وہ کھانا کھاتے ہوئے بار بار حیدر کو چور نظروں سے دیکھتیں جو یوشع اور عکاشہ کی باتوں پر ہنس رہے تھے.
اگر کوئی عدن سے اس وقت پوچھتا کہ کھانے کے دوران حیدر نے کتنے لقمے لیے _ یا پانی کے کتنے گھونٹ پئیے یا وہ کتنی بار ہنسے تو عدن بلاجھجک درست تعداد بتا سکتی تھیں.
ماما آج کھانا آپ نے اچھا بنایا ہے ورنہ روز تو عکاشہ نے شرارت سے حیدر آفندی کو دیکھتے ہوئے ٹشو سے ہاتھ صاف کیے.
آج سے کیا مراد ہے میں نے جتنی بار بھی چھوٹی ماما کے ہاتھ کا کھانا کھایا ہے وہ مزےدار ہی تھا. یوشع کی تعریف پر عکاشہ نے تاسف سے سر ہلایا
آپ نے اور انھوں نے میری ماں کو اس خوش فہمی میں مبتلا کر رکھا ہے کہ وہ ایک بہترین شیف ہیں. حالانکہ کے حقیقت اس کے بلکل برعکس ہے. یہ صرف سینڈوچ مزے کے بناتی ہیں. عکاشہ دستر خوان سے پیچھے ہٹتے ہوئے صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا.
خیر اب تم زیادتی کر رہے ہو عدن سے اچھا کھانا کوئی بنا ہی نہیں سکتا حیدر آفندی کی تعریف پر عدن کھل اٹھیں اور دسترخوان سے برتن سمیٹنے لگیں.
آپ تو کہیں گے بندہ دس سال بعد اتنا بھی نہ کہے تو بڑی شرم کی بات ہے مگر میں نہیں کہہ سکتا. عکاشہ نے معزرت کی.
اصل میں تمہارے ساتھ “گھر کی مرغی دال برابر” والی صورتحال ہے. روزانہ مزے مزے کے کھانے کھا کر تم ناشکری ہو گئے ہو. تمہیں قدر نہیں یوشع نے بھی کھانے سے ہاتھ اٹھا کر کارپٹ پر اپنی ٹانگیں سیدھی کیں اور عکاشہ کے برابر بیٹھ گیا.
میرے دونوں بچے ہی بہت پیارے ہیں بلکل اپنے بابا کی طرح آج کتنی رونق لگی ہوئی ہے ان کے دم سے عدن نے دل میں دونوں کی نظر اتاری.
آپ براہ راست حیدر صاحب کی تعریف کر سکتیں ہیں. ہمارا سہارا لینے کی ضرورت نہیں. ہم بلکل برا نہیں منائیں گے عکاشہ کے جواب پر حیدر مسکرا دیے.
بیٹا سائیں تم ہماری بیوی کے ساتھ کچھ زیادہ ہی سختی سے پیش آتے ہو زرا تمہاری بیگم صاحبہ آ جائے پھر بات کریں گے کہ کون کتنا سگھڑ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بھائی کی بیگم تو خیر آپ کی بیوی سے ہار جائے گی مگر میری تو پھر میری ہو گی وہ ضرور آپ کی بیوی کو ٹف ٹائم دے گئی. عکاشہ نے چہکتے ہوئے جواب دیا۔
ہاں یہ تو ہے۔ اب سارا دن بکریاں چراہنے والی کو کیا پتہ کہ سلیقہ اور گھرداری کیا ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مجھے یوشع کی پسند سخت ناپسند ہے مگر پتہ نہیں بڑی سرکار کا کیا درعمل ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
عدن اس لڑکی سے ہزار درجے بہتر ہے مگر ابھی تک انھوں نے اسے قبول نہیں کیا تو وہ لڑکی _ حیدر آفندی نے پر سوچ انداز میں کہا
آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں سب دیکھ لوں گا میری فکر چھوڑیں اور یہ سوچیں کہ نوید کو وہ کیسے قبول کریں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یوشع نے موضوع بدلا اسے حیدر آفندی کا یوں امثال کے بارے میں کہنا سخت برا لگ رہا تھا
یہ تو گاؤں چل کر پتہ چلے گا کہ بڑی سرکار کا موڈ کیسا ہے وہ مجھ سے ناراض ہوں گی. میں نے انھیں ابھی منانا بھی ہے. حیدر آفندی افسردہ ہوئے
عدن کچن میں قہوہ بناتے ہوئے سب کی گفتگو غور سے سن رہیں تھیں.
تمہیں جو لڑکی پسند ہے وہ کیسی ہے میرا مطلب اس کا خاندان، سٹیٹس وغیرہ حیدر آفندی نے عکاشہ سے پوچھا
مجھے تو کوئی لڑکی نہیں پسند میں تو اپنی ماما کی پسند سے کروں گا عکاشہ کے جواب پر حیدر آفندی کے ساتھ ساتھ پاس بیٹھے یوشع نے بھی اسے حیرت سے دیکھا
اچھاااااااااااااا _ یوشع نے اچھا کو خوب لمبا کیا.
میں کوئی آپ کی طرح نافرمان تھوڑی ہوں باوجود مسز آفندی کے ساتھ لاکھ اختلافات کے میں شادی انھی کی پسند سے کروں گا عکاشہ نے گردن موڑ کر کچن میں کھڑی عدن کو دیکھا جو قہوہ پیالیوں میں انڈیل رہیں تھیں.
دیکھا اسے کہتے ہیں تربیت حیدر آفندی کو عدن پر رشک آیا.
یوشع مجھے تمہارے فیصلے سے اختلاف ہے مگر حیدر آفندی مگر پر رک گئے کیونکہ یہ ان کا “فسادی بیٹا” تھا جس کی بات نہ ماننا فساد کو دعوت دینے کے برابر تھا.
آپ تو ابھی سے اس کے پیچھے پڑ گئے ہیں. پہلے آ تو لینے دیں پھر دیکھتے ہیں کہ آپ کو میرا فیصلہ کیسا لگے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
وقت سے پہلے بات کرنا فضول ہے _ یوشع کا اعتماد عدن کو بہت اچھا لگا
وہ لڑکی کتنی پڑھی لکھی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے قہوے کی ٹرے نیچے کارپٹ پر رکھی تو سب سیدھے ہو کر بیٹھ گئے
پڑھائی کا تو پوچھیں مت محترمہ بکریوں کی ڈاکٹر ہیں اور کھیلوں کا شوق بھی کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے. پہاڑوں پر یوں چڑھتی ہیں کہ دیکھنے والا حیران رہ جائے _ عکاشہ نے ابھی اتنا ہی بولا تھا کہ یوشع نے اس کی بازو مڑوڑ دی.
اب اگر تو نے “بکریوں یا بکری کے بچے” کا ذکر کیا تو میں نے تجھے “قربانی کا بکرا” بنا دینا ہے.
بول سوری کہہ آئندہ نہیں بولے گا یوشع اب سچ مچ غصہ میں تھا جبکہ عدن کی جان پر بن گئی تھی.
یوشع اسے چھوڑ دو اس کی بازو ٹوٹ جائے گی عدن نے یوشع سے کہا
پہلے یہ توبہ کرے گا پھر اس نے میرا دماغ کھا لیا ہے. یوشع کے زور دینے پر بھی عکاشہ انکاری تھا.
🪄🪄🪄🪄🪄🪄
مجھے اسی چیز کا ڈر تھا آخر وہ “دم کٹی مرغی” اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئی۔ پہلے اپنے بیٹے کو بہانے سے گاؤں میں بھیجا اور اب میرے بیٹے کو اپنے پاس بلا لیا ہے۔
حیدر نے کبھی اتنی نافرمانی نہیں کی جتنی وہ آج کر کے گیا ہے میں اسے ہرگز معاف نہیں کروں گی بڑی سرکار شدید غصے میں تھیں جبکہ راشدہ بیگم اور بتول خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے
جتنی محبت آج انھوں نے حیدر آفندی کی آنکھوں میں عدن کے لئے دیکھی تھی اس نے انہیں حیران کر دیا تھا ۔
زبردستی آپ کسی کے سر پر مسلط تو ہو سکتے ہیں مگر اس کے دل پر قبضہ نہیں کر سکتے راشدہ بیگم کو یہ بات آج بخوبی سمجھ آگئی تھی
کاش میں نے پہلے ہی اسے طلاق دلوا دی ہوتی ۔تو آج یہ نوبت نہ آتی۔ یہ عشق کا بھوت بڑھاپے میں بھی نہیں اترا بڑی سرکار نے ایک بات پھر چیزوں کو الٹ پلٹ کرتے ہوئے اپنا غصہ نکالا
اے لڑکی ذرا حیدر کو فون کر اور اس سے پوچھ کے آج واپس آنا ہے یا اسے دفنا کر ہی آئے گا بڑی سرکار کے کہنے پر بتول نے حیدر فندی کو کال کی مگر بلز جانے کے باوجود بھی کال اٹینڈ نہیں ہوئی۔
بالآخر اس نے میسج چھوڑ دیا کہ “آپ کو بڑی سرکار یاد کر رہی ہیں۔ شدید غصے میں ہیں۔ انہیں کال کر لیں _ بتول نے میسج کرنے کے بعد بڑی سرکار کی طرف دیکھا جو سامنے دیوار پر لگی دادا جی کی تصویر کو گھور رہی تھیں وہ چچا سائیں کال نہیں اٹھا رہے تو میں نے میسج بھیج دیا ہے بتول نے ڈرتے ڈرتے بتایا بڑی سرکار ماسٹر جی کی بیٹی آئی ہے۔ کہتی ہے آپ سے ملنا ہے اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتیں اتنی دیر میں ایک ملازم نے اندر داخل ہوتے ہوئے بڑی سرکار سے کہا جسے سن کر بڑی سرکار کے چہرے پر ایک شاطرانہ مسکراہٹ پھیل گئی
تم دونوں اندر جاؤ ۔میں ذرا اس لڑکی کو دیکھ لوں بڑی سرکار کے حکم پر راشدہ بیگم اور بتول نے شکر کا کلمہ پڑھا اور اندر کی طرف چل دیں۔
بھیجو اسے _ بڑی سرکار نے اپنے ازلی سخت لہجے میں حکم دیا
انتہائی معمولی کپڑے پاؤں میں پلاسٹک کی چپل سر پر ایک پرانی چادر جیسے ہی امثال نے لیونگ روم میں قدم رکھا بڑی سرکار نے اس کا تفصیلی جائزہ لیا
سلام بڑی سرکار امثال نے کسی بھی قسم کی شان و شوکت سے متاثر ہوئے بغیر بلند آواز میں کہا
میں تمہاری بہادری کی داد دیتی ہوں _ بڑی سرکار نے سلام کا جواب دیئے بغیر اس پر طنز کیا
بہادری امثال نے زیر لب دہرایا
ہاں بہادری اپنی اور ہماری حیثیت کا فرق تو تم نے گیٹ سے یہاں تک پہنچنے میں لگا ہی لیا ہوگا پھر بھی سر اٹھا کر کھڑی ہو۔بڑی سرکار کی بات پر امثال ہنسی
اگر یہی بات آپ اپنے پوتے اور بیٹے کو بھی بتا دیتیں تو میں آج یہاں نہ ہوتی امثال کا جواب بڑی سرکار کو آگ لگا گیا
لڑکی اپنی اوقات مت بھولو بڑی سرکار نے اپنی تخت نما کرسی سے کھڑے ہوتے ہوئے چیخ کر کہا
میں آپ کو اپنی اوقات ہی بتانے آئی ہوں ۔میں صرف غریب نہیں بلکہ انتہائی غریب ہوں۔ صدقہ اور زکوۃ کے پیسوں سے میری پرورش ہوئی ہے ۔
تعلیم صرف میٹرک ہے ۔کسی قسم کا کوئی سلیقہ مجھ میں نہیں اور ایک راز کی بات بتاؤں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میں بہت بد زبان بھی ہوں ۔کسی چھوٹے بڑے کی عزت کرنا مجھے نہیں آتی امثال اپنے جتنے گر بتا رہی تھی وہ بڑی سرکار کے لئے حیران کن تھے تو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی سرکار نے نخوت سے پوچھا تو یہ کہ میں کافی حد تک منحوس بھی ہوں اگر صبح کہیں جاتے ہوئے کوئی مجھے دیکھ لے تو اس کا کام نہیں ہوتا الٹا وہ مصیبت میں پھنس جاتا ہے _ امثال کی باتیں بڑی سرکار کے خدشے کو درست ثابت کر رہی تھی کہ وہ کیا کہنے والی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
سیدھی طرح بات کرو میرے پاس تم “کمی کمینوں” کے لئے وقت نہیں بڑی سرکار کی دھار پر ایک منٹ کے لئے امثال کا دل کانپا۔
اگر آپ کا بیٹا اور پوتا مجھے زبردستی اس حویلی میں لائے تو اپنی بربادی کے خود ذمہ دار ہوں گے آگے آپ کی مرضی ، سو منحوس مرے تھے تب کہیں جا کر میں پیدا ہوئی تھی امثال نے بہت ہمت جمع کرتے ہوئے انھیں ڈرایا
اچھا تو یہ بات ہے۔ لڑکی دن میں خواب دیکھنا چھوڑ دوں۔ تم سے تو اچھی حالت میں ہماری حویلی کی نوکرانیاں ہیں ۔بڑی سرکار نے طنز کیا جب کہ اندر ہی اندر وہ خود بھی ڈر گئی تھیں ۔
پھر بھی آپ کا پوتا میرے پیچھے پھرتا ہے کافی گندہ ذوق ہے امثال نے افسوس کیا
دفع ہو جاؤ اور دوبارہ اس حویلی کی طرف مڑ کر نہ دیکھنا رہی بات یوشع کی تو اسے میں خود دیکھ لوں گی ۔
سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ تم جیسی گندی لڑکی کی طرف دیکھے بھی میرے پوتے پر دوبارہ الزام لگایا تو جان لے لوں گی۔ بڑی سرکار کے جواب پر امثال نے خود کو دل میں داد دی ۔ وہ یہی چاہتی تھی۔
یوشع اور تم _ زمین آسمان کا فرق ہے۔ میری نظروں سے دور ہو جاؤ۔ بڑی سرکار کا آگے ہی دماغ خراب تھا جو کسر رہ گئی تھی وہ امثال نے پوری کر دی ۔
کاش میں اس “سردار کے بچے” کی بےعزتی بڑی سرکار کے ہاتھوں اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتی کتنا مزہ آتا ۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
مگر افسوس کہ میں اس چیز سے محروم رہوں گی حویلی سے باہر نکلتے ہوئے اپنے دل میں یوشع کی بے عزتی پر خوش ہوتی امثال گیٹ کی طرف چل دی اس بات سے بے خبر کے اب یوشع کے ہاتھوں اس کا کیا حال ہوگا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
🪄🪄🪄🪄🪄
اتنے عرصے بعد آئے ہیں۔ کچھ دن تو میرے پاس رہیں۔ ابھی تو مجھے یقین بھی نہیں آیا کہ آپ مجھ سے ملنے آئے ہیں حیدر کے منہ سے جانے کا سن کر عدن نے لاڈ سے ان کا ہاتھ پکڑا
دل تو میرا بھی نہیں کر رہا ۔مگر کیا کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ گاؤں میں بہت سے کام ادھورے پڑے ہیں اگر میں یہاں کچھ دن یہاں رہ گیا تو وہ بگڑ جائیں گے عدن کے ہاتھ پر حیدر نے اپنا ہاتھ رکھا
یعنی آپ جانے لگے ہیں عدن نے غصے سے اپنا ہاتھ چھڑایا
اب یہ تو غلط بات ہے _ ایک تو آپ کے لاڈلوں نے اتنی ایمرجنسی میں مجھے بلایا ۔ میرا دل کئی بار دھڑکتے دھڑکتے رکنے لگا تھا جو تھوڑی دھڑکن آپ کو دیکھ کر معمول پر آئی ہے ۔اب آپ کی ناراضگی سے پھر بگڑنے لگی ہے ۔ اس عمر میں دل ہماری نہیں سنتا ۔خاصا خود سر ہوگیا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ روٹھ جائے اور ہم آپ سے ہمیشہ کے لیے دور ہوجائیں حیدر نے زبردستی عدن کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا
حیدر آپ نہیں بدلے _ پہلے دن سے لے کر آج تک آپ اتنی ہی فضول باتیں کرتے ہیں جتنی تب کرتے تھے عدن نے نفی میں سر ہلایا
مجھے آپ کی طرح لفظوں سے کھیلنا نہیں آتا ۔اب میں کیا کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر نے کندھے اچکائے
آپ یہ کریں کہ جتنے دن عکاشہ کو اپنے پاس رکھا تھا کم از کم اتنے دن میرے پاس رہیں تاکہ میری تنہائی کا کچھ مداوا ہو سکے _ عدن کی بات پر حیدر مسکرانے لگے سادہ الفاظ میں آپ یہ چاہتی ہیں کہ بڑی سرکار مجھے حویلی سے نکال دیں اور میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آپ کے پاس آ جاؤں۔ کیوں کہ میرا اور کوئی ٹھکانہ نہیں ہے حیدر کی بات پر عدن نے زور زور سے سر ہلایا
حیدر کی جان یہ بہت غلط بات ہے۔ آپ مجھے جانے دیں پھر انشاءاللہ جلدی چکر لگاؤں گا ۔اب تو قسم ٹوٹ گئی ہے حیدر آفندی کہہ کر اٹھنے لگے مگر عدن نے انہیں اٹھنے نہیں دیا بلکہ اپنا سر ان کے کندھے پر رکھ دیا
آپ کہیں نہیں جا رہے اور بس اتنے لاڈ اور مان سے کہا گیا کہ حیدر کے پاس اب ماننے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں بچا۔
ٹھیک ہے جو آپ کا حکم حیدر کے کہنے پر عدن مسکرائیں تبھی حیدر کے موبائل پر بتول کا میسج آیا
ارے اتنی کالزززز مجھے کیوں نہیں پتا چلا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر نے میسج پڑھنے کے لئے موبائل نکالا تو کالزز دیکھ کر حیران رہ گے ۔
کیوں کہ آپ کا موبائل سائلینٹ پر تھا تو کیسے پتہ چلتا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن کے جواب پر حیدر نے انہیں گھور کر دیکھا جو کندھے کے ساتھ چپکی ہوئی تھیں۔
یہ دیکھو بڑی سرکار بلا رہی ہیں۔ اب بتاؤ کیا کروں ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر نے موبائل عدن کے آگے کیا
عدد نے ایک نظر موبائل پر ڈالی اور یوشع کو آواز دی جس پر حیدر حیران ہوئے
اس گدھے کو کیوں بلا رہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر کے الفاظ ابھی منہ میں ہی تھے کہ یوشع اور عکاشہ فورا کمرے میں داخل ہوئے
تم دونوں کیا دروازے ساتھ چپکے ہوئے تھے جو فورا ہی ایک آواز پر حاضر ہوگے ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
حویلی میں تو تمہیں دس بار نوکر بلانے جائیں تب آتے ہو حیدر نے آخری جملہ یوشع کو دیکھتے ہوئے کہا
شکر ہے آپ لوگوں نے ہمیں یاد کر لیا ۔ ورنہ دروازے ساتھ چپکے چپکے اب ہماری “گوند” بھی ختم ہونے لگی تھی مطلب ہم تھک گئے تھے ۔ عکاشہ نے عدن کے گھورنے پر اپنا جملہ فوراً درست کیا
یوشع میں نے آج حیدر کو اپنے پاس رکھ لیا ہے امید ہے آپ کو برا نہیں لگے گا عدن کی بات پر یوشع مسکرایا
اب آپ ایسا کرو کہ حویلی جاؤ اور اپنی بڑی سرکار کو سنبھالو کیونکہ میں حیدر کو فلحال جانے نہیں دوں گی عدن کی بات پر یوشع نے عکاشہ کی طرف دیکھا جو مسکراتے ہوئے داد وصول کر رہا تھا
یہ کمینہ مجھے اتنی دیر سے کہہ رہا تھا کہ اب آپ حویلی جائیں۔ یہاں آپ کی دال گلنے والی نہیں بابا سائیں ابھی کچھ دن یہاں رہیں گے ۔
مگر میں اس کی بات کا یقین نہیں کر رہا تھا کیونکہ بابا سائین تو کہیں رہتے ہی نہیں یوشع نے حیدر کی طرف مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
جتنی محبت یہ عورت آپ سے کرتی ہے اگر اتنی آپ کرتے تو ہم آسمان میں موجود ستاروں جتنے ہوتے عکاشہ کی بات پر یوشع نے قہقہ لگایا جبکہ عدن نے اس کے سر پر تھپڑ رسید کیا ۔
بکواس کرنے کے علاوہ پڑھائی بھی کر لیا کرو ۔اتنے دن یونی سے غیر حاضر رہے ہو ۔اپنا کام پتا کرو تمہارے امتحانات سر پر ہیں۔ تھوڑی پڑھائی پر بھی توجہ دو۔ اٹھو یہاں سے اور صبح یونی جانے کی تیاری کرو ۔
بندہ کبھی دو محبت کرنے والوں کو نہ چھیڑے ورنہ عدن کے اتنے لمبے چوڑے لیکچر پر عکاشہ کانوں کو ہاتھ لگاتا اٹھ کھڑا ہوا ۔
پھر میں جاؤں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے بھی کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا جس پر حیدر آفندی نے عدن کی طرف دیکھا
ہاں جاؤ عدن کے جواب پر یوشع نے ایک گہرا سانس خارج کیا ۔
بڑی سرکار کو دیکھ لینا اور نوید کو میں نے جو کام کہا تھا اس سے پوچھ کر مجھے اطلاع کرنا حیدرآفندی کی بات پر یوشع سر ہلاتا کمرے سے باہر نکل گیا
شکر ہے کہ آپ نے میری بات مان لی عدن نے خوشی سے حیدر کی طرف دیکھا
آپ کی یہ خوشی مجھے بہت بھاری پڑنے والی ہے ۔لیکن خیر بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔ پہلے آپ کو دیکھ لیں حیدر نے عدن کے گرد اپنا بازو حائل کرتے ہوئے محبت سے جواب دیا ۔
🪄🪄🪄🪄
عکاشہ تم نے آخر کیا لینا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
پوری مارکیٹ چھان ماری ہے ۔اب بس کرو اور اگر مزید گھومنے کا دل کر رہا ہے تو مجھے جانے دو۔ آگے ہی دیر ہو رہی ہے یوشع نے کلائی پر بندھی قیمتی گھڑی پر اک ادا سے وقت دیکھتے ہوئے کہا
بھائی یارررررر _ اب آپ شہر آئیں ہیں تو اپنی “اُن” کے لیے کچھ لیتے جائیں ناااااا انہیں اچھا لگے گا عکاشہ کہتا ہوا ایک گفٹ شاپ میں داخل ہوا ۔
یوشع نے جیسے ہی شاپ میں قدم رکھا اس کی نظر سامنے رینک پر پڑی رنگ برنگی چوڑیوں پر گئی ۔تبھی اسے احساس ہوا کہ امثال چوڑیاں نہیں پہنتی ۔
چوڑیاں مت لینا پلیز عکاشہ نے یوشع کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے بیزاری سے مشورہ دیا کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے شاپ میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا چوڑیاں نازک مزاج لڑکیوں کے لیے ہوتی ہے Atlantics کے لئے نہیں عکاشہ کے جواب پر یوشع نے اسے گھور کر دیکھا
عکاشہ یہ شاپ ہے اور میں تمہیں یہاں مارتے ہوئے خاصا برا لگوں گا _ یوشع نے دانت پیسے یوشع نے اپنی چادر کندھے پر درست کی تبھی اس کی نظر ایک بیل نما لاکٹ پر پڑی ۔ یہ دکھائیں شاپ کیپر کے دکھانے پر اس نے وہ لاکٹ اپنے ہاتھوں میں پکڑا
چھوٹا سا بل نما لاکٹ ایک موتی ساتھ بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا ۔
کیا بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کے اچانک بولنے پر یوشع نے اسے غصے سے دیکھا
اب آپ نے “بکری” پر پابندی لگا دی ہے تو مجھے مجبوراً “بلی” پر گزارہ کرنا پڑے گا ۔
ب سے بلی ب سے بکری ب سے بڑی سرکار عکاشہ ہنسا جبکہ یوشع نے وہ لاکٹ واپس کردیا اگر تم نے کچھ لینا ہے تو ٹھیک ورنہ میں نے کچھ نہیں لینا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یوشع کہتا ہوا داخلی دروازے کی طرف پلٹا
اگر آپ برا نہ منائیں تو میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ایک چیز ایسی ہے جو آپ کی ” اُن” کو بہت پسند آئے گی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کی مسکراہٹ گہری ہوئی جبکہ یوشع نے ابرو اچکائے
پائل عکاشہ نے قدرے رازداری سے کہا
پائل مجھے یہ جیولری کبھی بھی شریف لڑکیوں کے لئے مناسب نہیں لگی ۔ یوشع نے ناگواری سے منع کیا
تو میں نے کب کہا ہے کہ ان کے لئے لینا _ عکاشہ کے جواب پر یوشع چونکا تو پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بے ساختہ یوشع نے پوچھا حالانکہ اسے احساس ہو گیا تھا کہ پوچھنا نہیں چاہیے تھا۔ وہ اپنی بکری کے لیے اس طرح آپ کی” اُن ” کو اپنی بکری تلاش کرنے میں آسانی رہے گی اور آپ کو انہیں _ عکاشہ نے آنکھ ماری ہوگیا اب چلیں یوشع نے ہاتھ اٹھاتے ہوئے ہار مانی۔
نہیں ابھی مجھے میری پسندیدہ چیزیں سیل مین لا کر دے گا پھر عکاشہ نے سیٹی بجائی۔
تم نے کیا لیا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے پوچھا
وہ لاتا ہی ہو گا۔ دیکھ لینا ۔میں نے کونسی چھپانی ہیں عکاشہ مسکرایا
اتنی دیر میں انتہائی خوفناک شکل کی چھپکلی چوہا اور کاکروچ جو پلاسٹک کے بنے ہوئے تھے۔ سیل مین نے لا کر شوکیس پر رکھے ۔
اور ورائٹی نہیں ہے میرا مطلب سانپ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عُکاشہ نے انہیں الٹ پلٹ کرتے ہوئے پوچھا جب کہ یوشع کا حیرت کے مارے منہ کھل گیا۔
سانپ تو ہے مگر آپ نے کیڑے مکوڑے کہا تھا ۔میں ابھی لا دیتا ہوں _ سیل مین کہتا ہوا واپس سٹور کی طرف چلا گیا یہ کیا بکواس ہے کیوں اس کی جان لو گے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے ان چیزوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
اچھا وہ آپ کے اس اکلوتے ، ننھے منے ، معصوم بھائی کی جان لے _ تب ٹھیک ہے اور میں لوں تو غلط ۔۔۔۔۔۔؟ نہ بابا نہ اپنا تو اصول ہے جو جیسا کرے بالکل اس کے ساتھ ویسا ہی کرو عکاشہ نے کہتے ساتھ ہی یوشع کو پیمنٹ کا کہا
میں کیوں ان چیزوں کی پیمنٹ کرو۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے غصے سے پوچھا
تاکہ میں اس کے سامنے قسم کھا سکوں کہ میں نے یہ نہیں خریدے عکاشہ ہنسا جبکہ یوشع نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے اپنا کریڈٹ کارڈ نکال کر کاؤنٹر پر دیا
یہ لیں سر سیل مین نے دو کالے رنگ کے سانپ بھی ان کے سامان میں رکھ دئیے ۔
اگر سچ مچ اس کا “ہارٹ فیل” ہوگیا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ یوشع نے پیچھے بیٹھتے ہوئے ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا اشارہ کیا
اللہ کی مرضی جی ہم کیا کہہ سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ دلچسپی سے چیزوں کا معائنہ کر رہا تھا۔
تم بہت بے حس ہو لڑکیاں بہت حساس ہوتی ہیں۔ یوشع نے سمجھانا چاہا
اچھاااااااا عکاشہ نے یوشع کی نقل اتاری جس پر یوشع نے اسے زور سے مکا مارا ۔
تمہارے ساتھ بحث کرنا بالکل فضول ہے۔ کچھ دیر گاڑی میں خاموشی رہی ۔
اس کا نام کیا بتایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ پھر یوشع نے باہر دیکھتے ہوئے
پوچھا
بکواس نام رکھا ہے جس نے بھی رکھا ہے عکاشہ کے جواب پر یوشع نے اسے دیکھا
ویسے بھائی یار میں سوچتا ہوں جن مردوں کے نام ساتھ “ابو” کا لفظ آتا ہے جیسے ابو بکر ،ابو حنیفہ وغیرہ
انہیں باپ بننے کی تو کوئی خوشی نہیں ہوتی ہوگی کیونکہ وہ بچپن سے ہی اپنے لئے “ابو” کا لفظ سنتے ہیں ۔
بالکل ایسے ہی جن لڑکیوں کے نام “اُم” یا “ما” سے شروع ہوتے ہیں انہیں بھی ماں بننے کی کوئی خوشی نہیں ہوتی ہوگی ۔
آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کے سوال پر یوشع کی برداشت جواب دے گئی۔
تم اتنی بکواس کیسے کرتے ہو یہ ایک الگ مسئلہ ہے لیکن لوگ تمہیں برداشت کیسے کرتے ہیں کبھی وقت ملے تو اس بارے میں سوچنا ضرور یوشع نے ڈرائیور کو گاڑی روکنے کا کہا
یہ پکڑو کریڈٹ کارڈ اور کیپ لے کر گھر جاؤ۔ مجھے آگے ہی گاؤں سے دیر ہو رہی ہے یوشع نے کریڈٹ کارڈ عکاشہ کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے اسے نیچے اترنے کا اشارہ کیا
بھائی بھائی نہ رہا دوست دوست نہ رہا اللہ کرے ساری بکریاں مر جائیں۔ ان کی نسل ہی ختم ہو جائے ۔
مجھے پتا ہے آپ کو گاؤں پہنچنے کی اتنی جلدی کیوں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میں سب سمجھتا ہوں ۔بچہ نہیں ہوں عکاشہ اترتے ہوئے مسلسل بڑبڑا رہا تھا جب کہ یوشع نے ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا اشارہ کیا
بیک مرر میں عکاشہ کو ہاتھ ہلاتا دیکھ کر یوشع کے لب خود بخود مسکرانے لگے ۔
کمینہ ہے ایک نمبر کا ایک منٹ کے اندر اندر دماغ خراب کر دیتا ہے __ مگر اچھا لگتا ہے ۔یوشع نے اسے دیکھتے ہوئے سوچا
گاڑی اپنے راستے پر رواں دواں تھی مگر یوشع اس بات سے بے خبر تھا کہ گاؤں میں کیسی خبر اس کا انتظار کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
🪄🪄🪄🪄
جاری ہے.
