Do Dil By Amna Mehmood Readelle50150 Episode 1
Rate this Novel
Episode 1
بارش کی ننھی منی بوندیں کب سے اس کی کھڑکی پر ہلکی ہلکی دستک دے رہیں تھیں.
سردی کی شدت تھی یا گرم کمبل اور ہیٹر کی مست حرارت _ وہ کسی بھی صورت آج بستر سے نکلنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا. میں اب آخری بار تمہیں اٹھانے آئی ہوں اور میں جانتی ہوں کہ تم جاگ رہے ہو. اس لیے بہتر ہو گا کہ جلدی سے ناشتے کی ٹیبل پر پہنچو ورنہ میں یونی جاتے ہوئے فلیٹ باہر سے لاک کر جاؤں گی اور گیس کا وال بند _ مسسز آفندی کی دھمکی پر عکاشہ نے منہ کمبل سے باہر نکالا
لوگوں کی مائیں انھیں پیار سے اٹھاتی ہیں اور آپ دھمکی سے وہ اونچی آواز میں چلایا.
جیسی روح ہوتی ہے ویسا ہی قبر میں فرشتہ آتا ہے مسسز آفندی کے جواب پر عکاشہ نے کمبل سائیڈ پر پھینکا اور سلیپر پہننے لگا. خدا آپ جیسی عورت کو اولاد نہ دے اور بیٹا تو بلکل بھی نہیں _ مسسز آفندی کے کندھے پر لاڈ سے عکاشہ نے سر رکھا
بلکل خدا تم جیسی اولاد تو واقعی ہی نہ دے. کل یونی میں کیا کیا تھا……؟
انھوں نے لاڈ سے اس کا سر پیچھے کیا اور سینڈوچ میکر سے سینڈوچ نکالے.
کیا مطلب کیا کیا تھا………. ؟ عکاشہ کندھے اچکاتا سینڈوچ پکڑنے لگا
مس شمع کو کیا کہا تھا……. ؟ مسسز آفندی نے مصنوعی گھوری سے نوازا
ایک تو میں لوگوں سے بہت تنگ ہوں. آپ زرا مجھے بتائیں کہ اگر کسی کو اُسی کے نام سے پکارا جائے تو اس میں کونسی بری بات ہے……. ؟
عکاشہ کی جواب پر مسسز آفندی نے اسے مسکرا کر دیکھا
تم نے نام سے پکارا تھا……؟ جواب کی بجائے سوال آیا.
میں نے انھیں “مس موم بتی” کہا تھا. شمع کا بھی یہی مطلب ہوتا ہے مگر وہ ناراض ہو گئیں حالانکہ ناراض ہونا نہیں بنتا تھا.
لیکن اگر ناراض ہونا ہی تھا تو اپنے ماں باپ سے ہوتیں جنھوں نے یہ نام رکھا ہے. مجھ سے تو انھیں ویسے ہی اللہ ویسے کا بیر ہے پتہ ہے کیوں ……. ؟
کیوں……. ؟ مسسز آفندی اب اس کے اور اپنے کپ میں چائے انڈیل رہی تھیں.
وہ مجھے اپنا “داماد” بنانا چاہتیں ہیں. مجھ پر ان کی نظر ہے بتا رہا ہوں میں آپ کو بچا لیں اپنے معصوم بچے کو عکاشہ کی ایکٹنگ پر مسسز آفندی مسکرا دیں.
جس کے تم داماد بنوں گے میں باقاعدہ اس سے “ہمدردی” کرنے جاؤں گی اور “شکریہ” علیحدہ مسسز آفندی نے کپ عکاشہ کے آگے رکھا جو شلف ساتھ کھڑا انھیں گھور رہا تھا.
آپ زیادتی کر رہی ہیں…… ؟ گلہ کیا
نہیں میں حقیقت بتا رہی ہوں. اگر تم میرے اپنے بیٹے نہ ہوتے تو میں تمہیں ایک منٹ بھی برداشت نہ کرتی مگر کیا کروں تم اولاد ہو میری اور بدقسمتی سے اکلوتی بھی مسسز آفندی اب سٹول پر بیٹھ کر چائے کا گھونٹ بھرنے لگیں.
آپ کو چائے کڑوی نہیں لگی……؟ عکاشہ نے پوچھا
نہیں تو…… ؟ مسسز آفندی نے جواب دیا.
حالانکہ کے جتنی کڑوی بات آپ نے ابھی بولی ہے اس حساب سے چائے کی دیگ بھی ہوتی تو کڑوی ہو جاتی یہ تو پھر ایک ننھا کپ ہے عکاشہ ناراض ہوا مگر ناشتہ نہیں چھوڑا.
عکاشہ میں تمہیں یوشع کی طرح دیکھنا چاہتی ہوں. وہ بلکل اپنے باپ کی فوٹو کاپی ہے. مسسز آفندی کی آنکھوں میں حسرت در آئی.
آپ دنیا کی واحد ماں ہیں جسے اپنے بیٹے سے زیادہ اپنا “سوتیلا بیٹا” پسند ہے عکاشہ نے طنز کیا
بیٹا _ بیٹا ہی ہوتا ہے سگا یاسوتیلا نہیں دوسرا وہ ہے ہی اس قابل کے اس سے محبت کی جائے.
ذمہ دار، ذہین، فرمانبردار اور اپنا باپ کی طرح خوبصورت مسسز آفندی نے سٹول سے اٹھتے ہوئے جواب دیا.
پتہ نہیں کیوں وہ شخص آپ کو اتنا اچھا لگتا ہے……. ؟
جس نے آپ کی زندگی برباد کردی. آپ سے آپ کے اپنے چھین لیے.
خود وہ اپنوں میں بیٹھا ہوا ہے. اپنی خاندانی بیوی اور بیٹے ساتھ اور آپ کو اس فلیٹ میں قیدِ تنہائی دے رکھی ہے.
عکاشہ نے بھی خالی کپ سینک پر رکھا
شرم کرو باپ ہے تمہارا _ مسسز آفندی نے ڈانٹا باپ ہے میرا سوائے ولدیت کے خانے کے میں نے اسے اپنے ساتھ کہیں نہیں دیکھا
اچھی خاصی خوش شکل تھیں شہر کی پڑھی لکھی بھی پھر کیا مصیبت آن پڑی تھی کہ اس جاگیردار کی دوسری بیوی بننا پسند کیا.
اس شخص نے آپ سے محبت نہیں کی دھوکا دیا ہے کبھی مسسز آفندی کی جگہ پر صرف “عدن حیدر” بن کر سوچیے گا.
عکاشہ کہتا ہوا کچن سے جانے لگا مگر دروازے میں کھڑا ہو کر پلٹا
اور میں صرف اپنی ماں کا بیٹا ہوں. بلکل اسی جیسا ہوں مگر اس کی طرح بےوقوف نہیں.
اب برتن تو آپ سے دھلیں گے نہیں لہٰذا منہ آنسوؤں سے دھو کر باہر آ جائیں. اکٹھے یونی چلتے ہیں.
عکاشہ کی باتیں مسسز آفندی نے بغیر مڑے سنیں.
دیکھو حیدر تمہاری محبت میں میرے اپنے تو اپنے اب تمہارا بیٹا بھی باغی ہو رہا ہے.
انھوں نے برتن دھوتے ہوئے دل میں حیدر آفندی کو مخاطب کیا.
🪄🪄🪄🪄🪄
یہ منحوس ہمارے لیے رہ گئی تھی کاش اس کی ماں مرنے سے پہلے اسے جنم نہ دیتی تو آج ہم سب کتنی ہنسی خوشی رہ رہے ہوتے حسب عادت صبح صبح ممانی جان پھر ماہم کی شان میں قصیدہ پڑھ رہیں تھیں جبکہ باقی اپنے اپنے کاموں میں مشغول تھے.
آپ خاموشی سے ناشتہ نہیں دے سکتیں میں تنگ آ گیا ہوں روز روز کی کھچ کھچ سے حارث تپا تپا سا کچن میں داخل ہوا.
ایک تو میری اولاد ہی میری نہیں ہے تو میں کیا کروں……. ؟ ؟ ؟ کلثوم بیگم نے دہائی دی
امی آپ سب کا ناشتہ بناتی ہیں اگر ایک اس کا بھی بنا دیتی ہیں تو کیا ہو جاتا ہے…… ؟؟؟
حرم نے بھی کچن میں قدم رکھتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کرنا ضروری سمجھا
تمہاری کسر رہ گئی تھی تم بھی اپنا حصہ ڈال لو کہیں بھائی کی محبت میں تم پیچھے نہ رہ جاؤ کلثوم بیگم نے سلائس، جیم اور آملیٹ سے بھری ٹرے اس کی طرف بڑھائی.
میں صرف چائے لوں گا. حارث نے اپنی کنپٹی سہلائی اور لاؤنچ کی طرف بڑھ گیا.
چلیں پاپا ، دادو اور مس ماہم آ کر ناشتہ کر لیں. حرم نے لاؤںچ سے ہی سب کو آوازیں دیں اور خود مزے سے سلائس پر جیم لگانے لگی.
اتنی دیر میں سب ٹیبل کے گرد اکٹھے ہونے لگے.
ماما چائے حارث نے ایک دفعہ پھر آواز لگائی.
میں لے کر آتی ہوں. ماہم نے حارث کو جواب دیا اور خود کچن می طرف بڑھ گئی.
یہ وقت ہے کچن میں آنے کا کتنی بار کہا ہے صبح جلدی اٹھا کرو مگر مجال ہے جو میڈم کو اثر ہو ماہم کو دیکھتے ہی کلثوم بیگم دل کی بھڑاس نکالنے لگیں.
ماما مجھے دیر ہو رہی ہے آپ پلیزز اسے چائے دے کر بھیج دیں. حارث نے ماہم کی جان بچانے کے لیے لاؤئچ سے آواز لگائی.
ایک تو کوئی اس مہارانی ککو کچھ کہنے ہی نہیں دیتا کبھی ماموں اس کا حمایتی کھڑا ہو جاتا یے اور کبھی حارث کو دورہ پڑتا ہے.
کلثوم بیگم اپنے طنز کے تیر چلاتی چائے کی ٹرے ماہم کی طرف بڑھانے لگیں.
ماہم بیٹا جلدی کرو یونی سے دیر ہو رہی ہے ماہم نے جیسے ہی ٹیبل پر چائے رکھی زبیر صاحب نے کہا
ماموں میں بھی بس چائے ہی لوں گی صبح صبح کچھ کھانے کو دل ہی نہیں کرتا ماہم کی بات پر حارث مسکرا دیا.
میں آج لیٹ ہو جاؤں گا اس لیے میرا انتظار کرنا منہ اٹھا کر خود ہی یا کسی کے ساتھ آنے کی ضرورت نہیں ہے حارث نے ماہم کو دیکھتے ہوئے کہا
ٹھیک ہے بھائی ہم انتظار کر لیں گے.( آج عکاشہ سے اپنے اگلے پچھلے بدلے لینے کا مزہ آئے گا.) حرم نے ماہم کے کان میں سرگوشی کی.
ان تینوں کے جاتے ہی زبیر صاحب نے ایک افسوس بھری نظر کلثوم بیگم پر ڈالی.
ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اس بچی کی وجہ سے ہی ہے.
جس گھر میں یتیم بچی یا بچے کی پرورش ہوتی ہے اللہ کو وہ گھر بہت محبوب ہوتا ہے.
آخر یہ بات تمہیں کب سمجھ آئے گی ……. ؟ ؟
کیوں صبح صبح اپنا اور اس کا دل جلاتی ہو …….. ؟؟؟
ایسا کریں یتیم خانہ کھول لیں تاکہ آپ اور آپ کی اولاد پکے جنتی ہو جائیں زبیر صاحب کی بات پر کلثوم بیگم کہتی ہوئیں برتن سمیٹنے لگیں.
🪄🪄🪄🪄🪄
بندوق کی نالی پر آنکھ رکھتے اس نے ٹرگر پر اپنی انگلی سے دباؤ ڈالا ایکدم فضا گولی کی آواز سے گونجی ساتھ ہی بےشمار پرندے پھڑپھڑاتے ہوئے اڑے.
باؤ نوید دیکھو شکار کہاں گرا ہے ؟؟؟ چہرے اور لہجے میں فتح جھلک رہی تھی.
کالا لباس پہنے ایک ہاتھ میں بندوق پکڑے وہ اس وقت ایک ماہر شکاری لگ رہا تھا جس کی دہشت ہی شکار کے لیے کافی تھی.
یوشع سائیں آپ کو کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ شکار کہاں ہے ……. ؟؟؟
باؤ نوید نے پوچھتے ہوئے نوکروں کو ہاتھ سے اشارہ کیا جو شکاری کتوں کو لیے حکم کا انتظار کر رہے تھے.
میں شکار کھیلتے ہوئے بڑا ہوا ہوں. اللہ بخشے میرے دادا کو کہتے تھے اگر تم ایک کامیاب انسان بننا چاہتے ہو تو شکار ضرور کھیلو.
اس طرح تمہیں اپنے دشمن کی چالوں کو سمجھنے میں آسانی رہے گی.
یوشع نے کندھے پر اپنی چال درست کرتے ہوئے بندوق نوید کی طرف بڑھا دی.
سائیں کتنی بار عرض کی ہے کہ کم از کم آپ تو مجھے باؤ مت کہا کریں. نوید نے مودب لہجے میں گلہ کیا
تم ہمارے گاؤں کے سب سے پہلے میٹرک ہولڈر ہو. سب ہی تمہیں باؤ کہتے ہیں اس لیے میرا بھی دل کرتا ہے تمہیں ابھی یوشع نے اتنا ہی کہا تھا کہ ایک زنانہ چیخ نے اس کی توجہ اپنی طرف متوجہ کرائی.
چیخ کی آواز سنتے ہی دونوں اس طرف پڑے. ایک طرف جھاڑی میں کچھ ہلتا ہوا محسوس ہوا.
یوشع نے نوید کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور خود بندوق پکڑ کر اسے جھاڑی کے اوپر تانا.
کون ہے …..؟ یوشع کی آواز ہر جھاڑی میں ہوتی ہوئی حرکت ایکدم رک گئی مگر جواب نہیں آیا.
میں پوچھ رہا ہوں یہاں کون ہے …….. ؟؟؟ یوشع نے سخت لہجے میں پوچھا
چند لمحے اسی طرح گزر گئے مگر جواب ندارد
میں آخری بار پوچھ رہا ہوں کہ کون ہے ………. ؟؟؟
اگر اب بھی جواب نہ دیا تو میں گولی چلا دوں گا. یوشع نے کہتے ساتھ ہی بندوق لوڈ کی.
لوڈ کی آواز سنتے ہی جھاڑیوں میں چھپی لڑکی اٹھ کر کھڑی ہو گئی. جسے دیکھتے ہی یوشع نےبندوق نیچے کر لی.
تم یہاں کیا کر رہی ہو …… ؟ نوید کے پوچھنے پر یوشع نے حیرت سے نوید کی طرف دیکھا
باؤ نوید تم اس لڑکی کو جانتے ہو ……. ؟ یوشع کے سوال پر باؤ نوید نے سر ہلایا.
جی یہ اپنے سکول ماسٹر اللہ داد کی بیٹی ہے نوید کے جواب پر یوشع سر ہلاتا دوبارہ لڑکی کا جائزہ لینے لگا.
جو شاید ڈر سے تھر تھر کانپ رہی تھی. چہرہ آنسوؤں سے تر تھا. آنکھوں میں لالی بھی تھی شاید کافی دیر سے رو رہی تھی.
یہاں کیا کر رہی تھی اور رو کیوں رہی ہو …….؟ یوشع نے بندوق کی نالی سیدھی لڑکی کی طرف کرتے ہوئے پوچھا
وہ جی وہ جی میرے پاؤں میں کانٹا لگ گیا ہے. میں یہاں لکڑیاں لینے آئی تھی. نم دار آواز میں جواب آیا جبکہ وہ یوشع کو دیکھنے سے گریز کر رہی تھی.
ہممممم _ یوشع نے ایک نظر اس کے پاؤں کی طرف دیکھا نام کیا ہے تمہارا ……. ؟ یوشع کی نظریں اس کے پاؤں پر تھیں. امثال لڑکھراتی آواز میں لڑکی نے جواب دیا.
بڑا مشکل نام رکھا ہے بیٹی کا ماسٹر نے یوشع نے ہنستے ہوئے بندوق دوبارہ نوید کو دے دی.
کیا مطلب ہے اس کا یوشع نے پوچھتے ہوئے قدم لڑکی کی طرف بڑھا دیے جبکہ وہ پیچھے ہونے لگی مگر پاؤں کی وجہ سے ہو نہیں پائی.
میں نے پوچھا کیا مطلب ہے اس نام کا _ یوشع اب بلکل لڑکی کے مقابل کھڑا تھا جو بمشکل اس کے کندھے تک آ رہی تھی. جس کی کوئی مثال نہ ہو ڈری سہمی سی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے لڑکی نے جواب دیا.
باؤ نوید اگر یہ لڑکی یہاں سے بھاگنے کی کوشش کرے تو اس پکڑ کر میرے کتوں کے آگے ڈال دینا یوشع کے حکم پر جہاں لڑکی کی روح فنا ہوئی وہیں نوید کو بھی حیرت کا شدید جھٹکا لگا.
سائیں جانے دیں اپنے گاؤں کی ہے نوید نے لڑکی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے ہلکی آواز میں کہا
باؤ نوید جو کہا کہ وہ کرو اور خود نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا.
لڑکی نے مزید تیزی سے روتے ہوئے سر نفی میں ہلانا شروع کر دیا.
چپ ایکدم چپ اگر زرا سی بھی آواز نکالی تو گولی سے کھوپڑی اڑا دوں گا یوشع کی دھاڑ پر وہ ایک دم سہم گئی اور مدد طلب نظروں سے نوید کی طرف دیکھا جو اب بلکل اس کے برابر کھڑا تھا
پاؤں اوپر کرو یوشع نے بغور اس کے پاؤں کو دیکھتے ہوئے کہا
میں خود ہی نکال لوں گی. مجھے جانے دیں _ امثال اب باقاعدہ آواز سے رونے لگی.
نوید میری بندوق دو یہ اس طرح چپ نہیں کرے گی یوشع کی دھمکی کافی کارآمد ثابت ہوئی اور آواز بند ہو گئی.
یوشع نے اس کا پاؤں پکڑ کر اوپر کیا اور کانٹے کا جائزہ لینے لگا جو کافی خاردار تھا
سکول جاتی ہو …..؟ یوشع کے سوال پر لڑکی ایک دم چپ ہو گئی.
میں نے پوچھا سکول جاتی ہو …..؟ یوشع نے پاؤں کو دیکھتے ہوئے رومال اپنی جیب سے نکالا
جی جاتی ہوں. بمشکل حلق سے آواز نکلی
دس تک الٹی گنتی گنوں مگر آنکھیں بند کر کے جلدی کرو _ یوشع نے اس کی لال آنکھوں میں دیکھتے ہوئے حکم دیا. امثال نے نوید کی طرف دیکھا جو اسے نظروں سے تسلی دے رہا تھا اور انکھیں بند کر لیں. امثال نے جیسے ہی گنتی پڑھنا شروع کی یوشع نے رومال سے پکڑ کر کانٹا زور سے باہر کھینچا. ایکدم امثال کے منہ سے ایک بھیانک چیخ نکلی اور پاؤں سے خون کا فوارہ. یوشع نے رومال اس کے پاؤں پر باندھ دیا اور ہاتھ جھاڑتا ہوا کھڑا ہو گیا. پتہ نہیں کون کہتا ہے کہ لڑکیوں کی اواز سُریلی ہوتی ہے …… ؟ میرے تو کانوں کے پردے پھٹے پھٹے بچیں ہیں یوشع کی بات پر نوید مسکرا دیا جبکہ امثال اپنے پاؤں کو دیکھنے لگی.
یہ کانٹا زہریلا تھا اگر نہ نکالا جاتا تو اس کا زہر تمہارے لیے نقصان دہ بھی ہو سکتا تھا.
دوسرا جب تک تم گھر پہنچتی تب تک یہ بلکل اندر دھنس جاتا.
ورنہ مجھے کبھی بھی یہ شوق نہیں رہا کہ میں لڑکیوں کے پاؤں پکڑوں _ یوشع نے ایک نظر امثال پر ڈالی اور واپس مڑ گیا. یوشع سائیں ہیں اپنے حیدر آفندی کے بیٹے، بڑی حویلی والے __ ماسٹر جی کو میرا سلام کہنا
نوید بتاتا ہوا چل دیا کیونکہ وہ امثال کی آنکھوں میں چھپے سوال کو سمجھ گیا تھا.
جبکہ امثال حیرت سے دور جاتے یوشع کو دیکھنے لگی.
🪄🪄🪄🪄🪄
