Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 28

یوشع مجھے تم سے یہ امید نہ تھی کہ تم میرے خلاف بھی جا سکتے ہو _ صبح صبح ہی بڑی سرکار نے یوشع کو اپنے پاس بلا لیا تھا ۔ میں اور آپ کے خلاف سورج آج کیا مغرب سے نکلا ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے مصنوعی حیرت سے پوچھا
یوشع _ بڑی سرکار نے اسے گھورا مگر ان کی نگاہ میں اس کے لئے غصہ نہیں تھا تم نے اس لڑکی کو رات اپنے کمرے میں کیوں آنے دیا جبکہ میں نے اسے سزا دی تھی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی سرکار کی بات پر یوشع بے ساختہ مسکرایا آپ کیا چاہتی ہیں کہ آپ کے لاڈلے بیٹے کو جسے آپ نے بہت پیار سے پالا ہے جیل ہو جائے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کی بات سنتے ہی بڑی سرکار نے ایک دم اپنے سینے پہ ہاتھ رکھا اللہ نہ کرے کیا صبح صبح بد شگونی کی باتیں منہ سے نکال رہے ہو بڑی سرکار نے فورا یوشع کے سر پر ہاتھ پھیرا
اگر وہ رات جل کر مر جاتی تو کیس مجھ پر بنتا ناااااا _ پھر میڑے مخالفین کو موقع بھی مل جاتا اور آج کل اس قسم کے کیس میڈیا پر خوب شہرت پاتے ہیں۔ آپ میری بات سمجھ رہی ہیں ناااا کہ میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں ۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے بڑی سرکار کی طرف لجاجت سے دیکھتے ہوئے پوچھتا آپ اسے فی الحال میرے کمرے میں ہی رہنے دیں کیا پتا اس حویلی میں کوئی میرا دشمن ہو ۔۔۔۔؟؟؟ اگر کسی نے یہ باتیں میڈیا پر پھیلا دیں تو میرے الیکشن کی کمپین کو بہت نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ رہی بات آپ کی کہ میں آپ کے خلاف گیا ہوں تو ایک بات آج آپ میری غور سے سن لیں بلکہ میں آپ کو لکھ دیتا ہوں کہ میری زندگی میں آپ کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا ۔ کوئی بھی رشتہ مجھے آپ سے عزیز نہیں ہے ۔ جس طرح لاڈ پیار سے آپ نے مجھے پالا ہے میری ہر خواہش پوری کی ہے۔ مجھے اس کا پورا احساس ہے۔ آپ میں میری جان بستی ہے ۔آپ کے دم سے ہی اس حویلی کی رونق ہے یوشع نے عقیدت سے بڑی سرکار کا ہاتھ چوما
ٹھیک ہے مگر تم اس لڑکی کو اپنے کمرے میں ایک میڈ بنا کر رکھو گے اس کے پاس بالکل نہیں جاؤ گے _ بڑی سرکار کی اس بچکانہ خواہش پر یوشع دل کھول کر ہنسا توبہ کریں جی جیسا آپ چاہتی ہیں ویسا ہی ہوگا مگر تھوڑا سا صبر کر لیں مجھے ایم این اے کی سیٹ جیت لینے دیں۔
(ویسے آپ اس لڑکی سے خوفزدہ نہ ہوں میں نے کہا ناااا آپ کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا اور اس کی اپنی جگہ ہے۔
ماؤں کو بیٹوں کی شادی کا شوق بھی بہت ہوتا ہے اور پھر وہ بیٹوں کی محبت کو بانٹ بھی نہیں سکتی ۔ عجیب بات ہے یوشع نے دل میں سوچا مگر بڑی سرکار سے کہا نہیں ) یوشع میں تجھے بہت اوپر دیکھنا چاہتی ہوں۔ میرا بس چلے تو میں تجھے وزیراعظم بنا دوں بڑی سرکار کی محبت پر یوشع نے انہیں اپنے ساتھ لگا لیا
آپ کی موجودگی میں ، میں کسی وزیراعظم سے کم ہوں کیا ۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کے پوچھنے پر انہوں نے اسے پیار سے تھپکا
اچھا باقی باتیں بعد میں۔ اب تم جا کر ولیمے کے لئے تیار ہو جاؤ اور مجھے بھی دیکھنے دو کہ حویلی میں کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔؟
تیری ماں تو بلکل ایک بیکار عورت ہے _ بڑی سرکار کے کہنے پر یوشع نے ان سے جدا ہوتے ہوئے انہیں گھورا ۔ جو عورت مجھ جیسا بیٹا پیدا کرسکتی ہے وہ بے کار کیسے ہوئی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کے کہنے پر بڑی سرکار خوب ہنسی اسی وجہ سے تو وہ اب تک اس حویلی میں ہے ورنہ میں نے کب کا اسے نکال دینا تھا بڑی سرکار نے نہایت سخت جواب دیا
یہ تو زیادتی ہے یوشع نے گلا کیا
اب تم کوئی ایسا گل نہ کھلانا کہ مجھے اس بدتمیز کو برداشت کرنا پڑے بڑی سرکار کی تنبیہہ پر یوشع ہنستا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا ۔
🪄🪄🪄🪄🪄
کمرے میں اس وقت مکمل خاموشی کا راج تھا حالانکہ سب ہی زبان رکھتے تھے ۔
پھر تم نے کیا سوچا ہے ۔۔۔۔؟؟؟ بالآخر راشدہ بیگم نے اس خاموشی کو توڑتے ہوئے نوید سے پوچھا
میں نے آگے بھی عرض کی تھی کہ جو آپ کا حکم نوید نے عاجزی سے کہا حالانکہ دل بچھڑنے کے دکھ رو رہا تھا ۔
ہم بتول کو اس حویلی سے رخصت نہیں کرنا چاہتے۔ اس لیے تم اسے یوشع نے نوید کو دیکھتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں کہا
جی سائیں میں سن رہا ہوں
نوید کو اپنا سانس بند ہوتا ہوا محسوس ہوا۔
اس لیے تم اس کے ساتھ ہی اس حویلی کی “انیکسی” میں رہو گے ۔منظور کوئی اعتراض تو نہیں_ یوشع کے جملے نے گویا نوید کو نئی زندگی دی ۔ آپ نے مجھے ڈرا ہی دیا تھا میں سمجھا شاید نوید بولتے بولتے رکا ۔
کیا سمجھے تھے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم بھی مسکرائیں۔
کچھ نہیں آپ کہیں نوید اب ہشاش بشاش ہو گیا تھا۔
انیکسی کو ہم نے تم دونوں کے لیے سیٹ کروا دیا ہے۔ آج یوشع کے ولیمے پر ہم بتول کو بھی رخصت کر دیں گے حیدر آفندی نے نوید کو خوشیوں کی “نوید” سنائی۔
میں آپ لوگوں کا دل سے شکر گزار ہوں۔ آپ نے مجھ غریب پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ نوید کچھ غمزدہ سا ہوا ۔خوشی سے اس کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے۔
ہم نے تم پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ سچ پوچھو تو تم نے ہماری عزت کی حفاظت کر کے ہم پر احسان کیا ہے ۔
اس دن اگر تم بتول کی بیوقوفی پر اس کا ساتھ دیتے ہوئے اسے جانے دیتے یا خود اس کے ساتھ کچھ برا کرتے تو ہم کیا کر سکتے تھے ۔۔۔۔۔۔؟؟
نبی تم بے شک ایک اچھے انسان ہو ہمیں تم پر فخر ہے یوشع نی نوید کے پاس کھڑے ہوکر دوستانہ لہجے میں اس کا کندھا تھپکا۔
ٹھیک ہے بس پھر آج ہی یوشع کے ولیمے پر ہم بتول کو بھی رخصت کر دیں گے حیدر آفندی کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے
پھر آہستہ آہستہ سب ہی کمرے سے نکل گئے اس سے پہلے کہ نوید باہر قدم رکھتا بتول کی پکار پر رکا
باقی سب کچھ تو میرے گھر والے مجھے دے رہے ہے لیکن منہ دکھائی مجھے تمہارے پیسوں سے چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بتول کی فرمائش پر نوید مسکراتے ہوئے پلٹا
اچھا پھر یہ بھی بتا دیں کہ کیا لیں گی تاکہ مجھے خریدنے میں آسانی ہو ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ نوید کے پوچھنے پر بتول کی مسکراہٹ اور گہری ہوئی
میں تمہیں اتنا احمق نہیں سمجھتی تھی خیر میری شکل تمہیں جس چیز کے قابل لگتی ہے وہ خرید لینا _ بتول کے جواب پر نوید نے پریشانی اس سے اپنی ٹھوڑی پرہاتھ پھرا اب میں چاند تارے تو لانے سے رہا مجھ غریب پر کچھ احسان کریں اور کوئی آسان حل بتائیں نوید کی مسکین سی شکل پر بتول کو ترس آیا
اچھا چلو اپنی پسند کا تحفہ خرید لینا میرے لیے وہی بہت ہے _ بتول نے نوید کی مشکل آسان کی۔ بیبی میں آپ کا احسان مند ہوں ۔نوید نے آہستہ آواز میں کہا 🪄🪄🪄🪄🪄 بھائی یاررررر تیری تیسری شادی تو پہلی سے بھی زیادہ زبردست لگ رہی ہے عکاشہ نے ارد گرد گہماگہمی ، سجاوٹ اور کھانوں کی تیاری دیکھتے ہوئے کہا جبکہ یوشع نے ایک دم پلٹ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھا ۔
یہ کیا بکواس ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع غرایا
اب اگر تم نے کوئی فضول بات کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے دبا دبا سا غصہ کیا
اب میں نے کیا کیا ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کی معصومیت پر یوشع نے اسے ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو” آپ کبھی بھی کچھ نہیں کرتے”
یہ میری پہلی شادی ہے اور تم تیسری کہہ رہے ہو اگر کسی میڈیا کے بندے نے سن لیا تو میرا سکینڈل بن جائے گا یوشع نے سرگوشی نما لہجے میں سمجھایا ۔
اچھا ااااااا
مگر میں تو مہندی کو پہلی ، بارات کو دوسری اور ولیمہ کو تیسری شادی ہی کہتا ہوں عکاشہ نے سوچتے ہوئے جواب دیا
تو مہربانی فرماکر اپنی ڈکشنری بند رکھ۔ اگر تیری ان حرکتوں کی وجہ سے میں کسی مصیبت کا شکار ہوا تو میں تجھے بھی ساتھ گھیسٹوں گا یوشع نے اسے ڈرایا
مجھ پر بکری کا غصہ نکالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اپنے ذاتی غصہ سے مجھ سے دور رکھیں شکریہ _ عکاشہ کی بات پر یوشع کے ہونٹ خود بخود مسکرائے دنیا کا واحد بندہ ہے جو بکری کے ذکر پر مسکراتا ہے
عکاشہ کہتا ہوا دوسری طرف دیکھنے لگا جبکہ یوشع اب کی بار کھلکھلا کے ہنس دیا
یا کیا بتاؤں یہ بکری کا چکر تو مجھے بہت مہنگا پڑ رہا ہے یوشع نے محبت سے عکاشہ کے کندھے پر اپنا بازو پھیلاتے ہوئے کہا
میں نے واشنگ مشین میں کپڑوں کا چکر دیکھ کر ایک بات سیکھی ہے کہ جو چکروں میں پڑتا ہے اس کی “دھلائی” ضرور ہوتی ہے
عکاشہ کے جواب پر یوشع نے اسے ایک مکا رسید کیا
شرم نہیں آتی بڑے بھائی کے لیے دھلائی کی خواہش رکھتے ہو ۔۔۔۔۔؟ یوشع نے افسوس سے کہا
بھائی یاررررر برا محسوس مت کرنا مگر تیری دھلائی پکی ہے ایک طرف بڑی سرکار ہے اور دوسری طرف بھابی عکاشہ نے چڑاتے ہوئے جواب دیا تبھی یوشع کا موبائل بجنے لگا
عدن ماما کیسی ہیں آپ ۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے عکاشہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا
میں تو ٹھیک ہوں تم اپنی سناؤ کیسے ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟ عدن نے ہمیشہ کی طرح دوستانہ لہجے میں جواب دیا
میں بھی بالکل ٹھیک ہوں ۔ یوشع کے جواب میں اطمینان واضح تھا
خوش ہو ۔۔۔۔؟؟؟ عدن کے پوچھنے پر یوشع کھلکھلا کر ہنس دیا۔
آپ کو کیا لگتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے پوچھا
مجھے تو میرا بیٹا بہت خوش لگ رہا ہے
عدن کی پیشن گوئی پر یوشع نے سر ہلایا
ایک بات ہے چھوٹی ماما آپ کی آبزرویشن بہت زبردست ہے _ یوشع نے کی آخر ماں کس کی ہوں خیر یہ بتاؤ کہ میرا نالائق کدھر ہے۔۔۔۔۔؟؟؟
اسے آج یاد سے رخصت کر دینا اور اگر ہو سکے تو خود بھی ان کے ساتھ آنا عدن کی بات پر پاس کھڑے عقاشہ نے منہ بنایا
یہ لوگ تو آج فارغ ہوتے ہی اسلام آباد کے لئے نکل پڑیں گے مگر میرا آنا فیلحال کافی مشکل ہے ۔پھر بھی صرف آپ کے لئے پوری کوشش کروں گا
یوشع نے عدن کو تسلی دی اور فون بند کر دیا
بھائی یار ویسے آپ کو سیاست دان ہی ہونا چاہیے کیا گالیاں دیتے ہیں عکاشہ کے ریمارکس یوشع کو سخت برے لگے
یہ “گولیاں دینا ” خاصا برا لفظ ہے یوشع نے ناگواری سے کہا
ہمارے ہاں جو شخص اچھے طریقے سے جھوٹ بولتا ہے اسے گولیاں دینا ہی کہتے ہیں _ عکاشہ نے فورا وضاحت دی۔ میں نے جھوٹ نہیں بولا میں کوشش کروں گا کہ تم لوگوں ساتھ جا سکوں مگر شاید بڑی سرکار اجازت نہ دیں ذیشان نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے جواب دیا
کون سی بڑی سرکار جو کل آئیں ہیں یا جو پہلے سے حویلی میں موجود ہیں۔ ۔۔۔۔؟؟؟
کیونکہ آپ کی تو اب دو دو بڑی سرکار ہیں _ عکاشہ نے آنکھ ماری کاش تو کیوں چاہتا ہے کہ میں تیری کوئی نہ کوئی ہڈی توڑ دوں
یوشع نے عکاشہ کا بازو مڑوڑا تو وہ چیخ پڑا ۔
🪄🪄🪄🪄
ماہم اپنے نوٹس بنانے میں مصروف تھی جب اسے کھڑکی کے بجنے کا احساس ہوا۔ اس سے پہلے کہ وہ اٹھ کر دیکھتی عکاشہ نے کھڑکی کے ذریع اندر چھلانگ لگائی۔
پتہ نہیں یہ کھڑکی ایجاد کرنے والا “دمے” کا مریض تها ،”چور” تھا یا کوئی” عاشق “تها وہ جو کوئی بھی تھا مگر مجھے اس سے اچانک شدید محبت ہو گئی ہے عکاشہ نے اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے کہا
تم اس طرح میرے کمرے میں کیا ضرورت تھی ایسے آنے کی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟ ماہم نے بند دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے عکاشہ سے پوچھا
ظاہری سی بات ہے جب تم سیدھے راستے سے نہیں آنے دوں گی تو کھڑکی سے ہی آؤں گا ناااااا _ عکاشہ اب چلتے ہوئے اس کے قریب آ گیا تھا ۔ کیا مطلب ہے اس بات کا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم کے پوچھنے پر عکاشہ نے اس کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا “میں جوانی میں یوں خوار نہ ہوتا تم جو بچپن میں مر گئی ہوتی”
زیادہ ناک چڑھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ میں نے بالکل ٹھیک کہا ہے _ اگر تم بچپن میں اپنے ماں باپ کے ساتھ ہی مر گئی ہوتی تو یوں مجھے تمہارے پیچھے خواری نہ کرنا پڑتی ۔ عکاشہ اپ صوفے پر پھیلا کر بیٹھ گیا تھا تم پھر بھی اسی طرح خوار ہو رہے ہوتے کسی اور کے پیچھے ماہم کے طنز پر عکاشہ نے حیرت سے اسے دیکھا
پہلے تو نہیں مگر اب تم سمارٹ ہوتی جا رہی ہو پتہ نہیں یہ خون کا اثر ہے یا کسی کریم کا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے سوچنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا اپنے آنے کی وجہ بتاؤ اور نکلو یہاں سے ماہم نے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
میں یہ پوچھنے آیا ہوں کہ تم لوگوں نے شادی کی تاریخ کیوں نہیں دی۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کوئی خاص وجہ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کیا تکلیف ہے تم لوگوں کو حالانکہ میرے حساب سے تمہاری ممانی کو تو بہت جلدی ہونی چاہیے۔ عکاشہ اب ماہم کے مقابل کھڑا پوچھ رہا تھا۔ مجھے ابھی شادی نہیں کرنی۔ پہلے اپنی پڑھائی مکمل کرنی ہے ماہم نے عکاشہ کی طرف دیکھتے ہوئے آہستہ آواز میں جواب دیا
پڑھائی مکمل ہونے میں کون سے سو سال پڑے ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ابھی ایک مہینے بعد تو ہمارے پیپرز ہیں اور پڑھائی ختم عکاشہ نے ماہم کے آگے چٹکی بجائی
بس مجھے ابھی شادی نہیں کرنی ۔بات ختم اب تم جاؤ ماہم نے کھڑکی کی طرف اشارہ کیا
اچھا چلو ایک ڈیل کر لیتے ہیں۔ میں ابھی شادی کر لیتا ہوں تم پیپرز کے بعد کر لینا عکاشہ کی پیشکش پہ ماہم نے اسے حیرت سے دیکھا
یہ کیا بات ہوئی۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم کے پوچھنے پر عکاشہ رازداری سے آگے جھکا
پہلے میں شادی کر لیتا ہوں تم اس میں میری دلہن بن جانا
پھر جب تم پیپرز کے بعد شادی کرو گی تو میں اس میں تمہارا دولہا بن جاؤں گا کیسا ۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ اپنے آئیڈیا پر خود ہی ہنسا جبکہ ماہم نے اسے دیکھ کر افسوس سے سر ہلایا پہلے مجھے شک تھا مگر اب یقین ہے کہ تمھارے دماغ میں یا تو کوئی پرزہ کم ہے یا پھر زیادہ یہ کیسے بیوقوفوں والی باتیں کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تمہارے ساتھ کچھ نہ کچھ غلط ضرور ہے _ ماہم کی فکر مندی پر عکاشہ مسکرایا اب میں اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ اگر ایسا کوئی مسئلہ میرے ساتھ ہے تو یہ میرا Manufacturing fault ہے ۔تم کمپنی سے رابطہ کرو عکاشہ اب پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے مزے سے ٹانگ ہلا رہا تھا
تمہاری “کانپیں ٹانگ” جا رہی ہے _ ماہم کے کہنے پر دونوں ہی کھلکھلا کے ہنس دیے ۔ تبھی دروازے کی دستک پر ان کی ہنسی کو بریک لگ گئی ۔ دستک سنو
ماہم نے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سرگوشی کی۔
کوئی مسئلہ نہیں۔ ایک ، دو ، تین عکاشہ نے انگلیوں پر گننا شروع کیا
یہ کیا کر رہے ہو ۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم نے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے پریشانی سے پوچھا
خود ہی تو کہا ہے کہ “دس تک گنو” عکاشہ کے جواب پہ ماہم نے اسے بے بسی سے دیکھا
تم نے دونوں کو الگ کر دیا ہے میں نے “دس تک” نہیں “دستک” بولا تھا جسے انگریزی میں knock کہتے ہیں سنائی نہیں دے رہی۔ماہم نے دوبارہ ڈستک کی آواز سنتے ہوئے کہا
میرا آج کل سب کو ملانے کا دل کر رہا ہے ۔بھائی اور اس کی بکری مل گئی ۔ اب مجھے بھی اپنی بھیڑ چاہیے عکاشہ ماہم کو تنگ کر کے خوش ہو رہا تھا ۔
اچھا جو بھی ہے ۔ابھی جاؤ یہاں سے ورنہ تماشا لگ جائے گا ماہم نے منت بھرے لہجے میں کہا اتنی دیر میں دستک کے ساتھ ساتھ حرم کی آواز بھی آئی ۔
ارے یہ تو اپنی مس چونا ہے پریشانی والی کوئی بات نہیں ۔ آنے دو اسے _ عکاشہ جاتے جاتے دوبارہ پلٹا نہیں نہ تم جاؤ پلیز ماہم نے دوبارہ اسے کھڑکی کی طرف اسے اشارہ کرتے ہوئے جلدی سے کہا
اچھا ایک شرط پر کہ ہم شادی پیپر سے پہلے کریں گے ۔اوکے عکاشہ کے کہنے پر ماہم نے جان چھڑانے کے لیے سر ہلایا
چلو پھر جلدی سے میری ماما کو میسج کرو کہ تم شادی پیپرز سے پہلے کرنا چاہتی ہو عکاشہ نے اس کے آگے اپنا موبائل کیا
عکاشہ ماہم کے پکارنے پر اس نے کندھے اچکائے۔
میڈم میں شادی پیپرز سے پہلے کرنا چاہتی ہوں ماہم نے جلدی جلدی وائس نوٹ سینڈ کیا اور موبائل عکاشہ کے حوالے کر دیا۔
مس موسلادھار آپ نے میری بہت بڑی مشکل آسان کر دی ہے ۔اب دیکھیں آپ کی طرف بارش کب شروع ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ دل میں سوچتا ہوا کھڑکی کی طرف بڑھ گیا۔ 🪄🪄🪄🪄🪄 یوشع نے سب کام نمٹانے کے بعد جیسے ہی اپنے کمرے میں قدم رکھا تو گویا ساری تھکاوٹ اس ایک وجود کو دیکھ کر ختم ہوگی ۔ امثال مزے سے یوشع کے نرم گرم بستر میں سو رہی تھی ۔سوتی ہوئی وہ یوشع کو بہت پر سکون لگی۔ یوشع نے آہستہ سے دروازہ بند کیا اور اس کے پہلو میں آ بیٹھا۔ ایک طرف یہ لڑکی ہے جسے میری زندگی میں آئے ہوئے ابھی چند دن ہوئے ہیں۔ اور دوسری طرف بڑی سرکار جو میری پیدائش سے لے کر اب تک میرے تمام ناز نخرے اٹھاتی آئیں ہیں۔
بڑی سرکار کو مجھ سے محبت ہے اور مجھے امثال سے _ عجیب سا ٹرائی اینگل ہے ۔یوشع نے اسے دیکھتے ہوئے سوچا ابھی وہ سوتی ہو امثال سے بہت باتیں کرنا چاہ رہا تھا کہ دروازے کی دستک نے اسے ڈسٹرب کیا ۔ میں نے تمہیں ڈسٹرب تو نہیں کیا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ دروازہ کھولتے ہی راشدہ بیگم نے طنز سے پوچھا جس پر یوشع نے نفی میں سر ہلایا اندر آ جائیں یوشع نے راستہ دیا
نہیں اب یہ صرف تمہارا کمرہ نہیں رہا ہے _ راشدہ بیگم نے بستر پر سوتی امثال کو دیکھ کر ناگواری سے جواب دیا یہ کمرہ اب بھی میرا ہے اور آپ میری اماں سائیں ہیں یوشع نے زبردستی بازو سے پکڑ کر انہیں اندر کیا
عدن بہت خوش قسمت ہے کہ اسے اپنے بیٹے کے ساتھ ساتھ میرے بیٹے کا بھی پیار ملا اور حیدر کی بے لوث محبت خسارہ صرف میرے حصے میں آیا ہے ہر طرف سے راشدہ بیگم نے افسوس سے یوشع کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
آپ یہاں آرام سے بیٹھیں اور میری بات سنیں اتنا غصہ نہ کیا کریں۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے انہیں صوفے پر بیٹھایا اور خود ان کے برابر بیٹھ گیا میرے خیال سے کسی شخص ساتھ بدگمانی کرنا ایسا ہی ہے جیسے اس کا قتل کرنا۔ آپ بلاوجہ عدن ماما سے بدگمان ہیں جبکہ وہ ایک نہایت اچھی طبیعت کی مالک خاتون ہیں۔ وہ آپ کو صرف اس لئے اچھی نہیں لگتی کیونکہ وہ آپ کی “سوتن” ہیں اور ہمارے معاشرے میں سوتن یا سوتیلے کے لفظ سے نفرت کرنا ہم پر فرض ہے یوشع کی بات پر راشدہ بیگم طنزا مسکرائیں
اماں سائیں ہم نے نفرت کے معنی میں یہ لفظ رکھے ہوئے ہیں ۔حالانکہ ان میں ایسا کچھ نہیں ہے یوشع نے نرمی سے سمجھایا تم تو مجھے اپنے بیٹے ہی نہیں لگتے ہو ۔بڑی سرکار اور عدن بس یہ دو عورتیں اور اب ان میں یہ لڑکی بھی شامل ہوگئی ہے جن کے گرد تمہاری زندگی گھومتی ہے ۔ میری زندگی میں صرف ایک بتول ہی تھی جو مجھے سمجھتی تھی ۔مجھ سے پیار کرتی تھی۔ آج وہ بھی پرائی ہو گئی _ راشدہ بیگم غمزدہ سے ہوئی
وہ پرائی کہاں ہے ۔۔۔۔؟؟؟ آپ یہاں کھڑے ہو کر آواز دیں تو اسے سنائی دے گی ۔ یوش نے انیکسی کی طرف اشارہ کیا
یوشع تم اپنی زندگی میں اس لڑکی کو کیوں لائے ہو ۔۔۔۔؟؟؟ راشدہ بیگم نے نفرت سے امثال کی طرف دیکھا
ماما آپ کو اس سے اتنی نفرت کیوں ہے ۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کے پوچھنے پر راشدہ بیگم ایک دم صوفے سے اٹھیں اور باہر جانے لگیں