Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

کیا یہ سب درست ہے جو میں نے سنا ہے بولو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی سرکار کے منہ سے وہ سب کچھ سن کر جو اس نے انہیں اپنے طریقے سے بتانا تھا خاصا برا لگا مگر وہ ضبط کر گیا
آپ کو مجھ پر کتنا اعتبار ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے نہایت احترام سے گھٹنے کے بل بڑی سرکار کے آگے بیٹھتے ہوئے ان کا ہاتھ تھاما
تم میرا مان ہو _ میری آنکھیں ہو میرے دل کی دھڑکن ہو بلکہ یوں سمجھو کہ تم سے میں ہوں اور جتنا مجھے اپنے آپ پر اعتبار ہے اس سے کئی گناہ زیادہ تم پر ہے۔
بڑی سرکار نے محبت سے یوشع کے بالوں پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے جواب دیا
تو پھر یقین رکھیں ایسا کچھ نہیں ہے جیسا آپ نے سنا ہے ۔ میں ایسا کچھ کر ہی نہیں سکتا جس میں آپ کی “انا” کو ٹھیس پہنچے۔
کیونکہ آپ کی “انا” دراصل میری “انا” ہے
یوشع اب ان کے برابر بیٹھ گیا تھا ۔
مجھے لگتا ہے کہ حیدر نے کوئی بے وقوفی کی ہو گی ۔ کیونکہ وہ لڑکی بہت پراعتماد تھی۔ جھوٹی تو مجھے بالکل نہیں لگی بڑی سرکار نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
یہ تو بابا سائیں کے آنے پر ہی پتہ لگے گا کہ کون جھوٹا ہے اور کون سچا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
مگر آپ پریشان نہ ہوں آپ کی مرضی کے بغیر میں کچھ نہیں کروں گا یوشع کے جواب پر بڑی سرکار کافی مطمئن ہو گئی
وہ کیسی ہے کیا ہوا تھا اسے کیا سچ مچ جل گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی سرکار کے پوچھنے پر یوشع نے نا سمجھی سے انہیں دیکھا
کون آپ کس کی بات کر رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کا ذہن اس وقت امثال کی باتوں میں الجھا ہوا تھا وہ سمجھ ہی نہیں سکا وہی “دم کٹی “
بڑی سرکار نے نخوت سے کہا
جی میں نے انہیں نہیں دیکھا۔ بابا سائیں ہی یونی گئے تھے۔ میں تو بس انہیں چھوڑ کر واپس آگیا ہوں ۔یوشع نے صفائی سے جھوٹ بولا
وہ ادھر کیا کر رہا ہے آیا کیوں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ بڑی سرکار کو تشویش ہوئی بابا سائیں ان کے پاس تو نہیں ہیں۔ شہر میں اپنے کسی دوست کے پاس رک گئے ہیں شاید اس سے کوئی کام تھا یوشع نے اپنے ساتھ ساتھ حیدر آفندی کو بھی بڑی سرکار کے غصے سے بچایا
یوشع میں نے ایک فیصلہ کیا ہے کہ بتول کی شادی اس نمونے سے نہ کی جائے بلکہ بڑی سرکار کی بات پر یوشع کو اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا بتول نامی تلوار ایک بار پھر اس کے سر پر لٹک رہی تھی۔
بڑی سرکار میں ابھی بہت تھکا ہوا ہوں ۔ اس بارے میں کل بات کریں گے۔ میں آرام کرنا چاہتا ہوں ۔ یوشع نے بات بدلی اس سے پہلے کہ بڑی سرکار کوئی ایسا فیصلہ کرتیں جو اس کی دنیا ہلا دیتا
ٹھیک ہے تم آرام کرو پھر کل اس بارے میں بات کرتے ہیں بلکہ صرف بتول ہی نہیں مجھے ماسٹر کی بیٹی کو بھی سزا دینی ہے ۔
تاکہ آئندہ گاؤں کی کوئی لڑکی بھی اتنی جرأت نہ کرے کہ میرے آگے بدتمیزی کر سکے۔
اگر ہمیں ان ” کمی کمینوں” کی باتوں کو نظر انداز کرتے رہے تو یہ ہمارے سر پر چڑھ جائیں گے ۔
بڑی سرکار کے کہنے پر یوسع سر ہلاتا اپنے کمرے کی طرف جانے لگا جب سیڑھیاں اترتی بتول پر نظر پڑی
آئیے آئیے آپ کا دیدار کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ اتنے دن ہوگئے دیکھے ہوئے
یوشع سیڑھیوں کی ریلنگ پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہوگیا
آپ واپس آگئے ہیں آخری سیڑھی پر رک کر بتول نے پوچھا
نہیں ابھی راستے میں ہوں یہ تو میرا بھوت ہے
یوشع کے طنز پر بتول نے اپنا ڈوپٹہ درست کیا
جو کہا تھا بالکل ویسا ہی کل بڑی سرکار کے آگے کہنا ۔ میں کل تمہیں ان کے سامنے بلاؤں گا سمجھی اور ہاں اگر ذرا بھی گڑبڑ کی تو تہہ خانے میں قبر بالکل تیار ہے۔ یوشع انگلی سے وارننگ دیتا ہوا اپنے کمرے کی طرف پلٹا جبکہ بتول نے سکھ کا سانس لیا
کمرے میں داخل ہوتے ہی یوشع نے پاؤں کی ٹھوکر سے دروازہ بند کیا اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہو گیا
امثال بیبی شکر کرو کہ بڑی سرکار نے مجھے یہ باتیں ابھی بتائیں ہیں۔ اگر رات کا وقت نہ ہوتا تو تم اب تک میرے ہاتھوں سے مر چکی ہوتیں۔
بڑی غلطی کر دی تم نے مجھے سمجھنے میں اب دیکھو میں کیا کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کوئی میرا کہنا نہ مانے یا میرے بنے بنائے کھیل کو خراب کرے یہ میں برداشت نہیں کر سکتا ۔
(یوشع نے ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی تمام چیزوں نیچے پھینکیں مگر اس کا غصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا ۔)
تمہاری سوچ ہے کہ اب میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا کیونکہ مجھے خود بھی نہیں معلوم کہ میں غصے میں کیا کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ؟
بس اتنا جانتا ہوں ۔جو بھی کروں گا بہت غلط کروں گا۔
میں یوشع حیدر آفندی بہت ہی برا انسان ہوں۔ تم نے سمجھنے میں غلطی کر دی یوشع نے پاؤں سے ٹھوکر مارتے ہوئے واش روم کا دروازہ کھولا
لگاتار تین چار بار منہ دھونے کے بعد اس نے شیشے میں اپنا عکس دیکھا تو حیران رہ گیا۔ آنکھیں شدت ضبط سے لال انگارہ ہو رہی تھیں۔
صبح تو بہت دور ہے ۔میں اتنی دیر اپنا غصہ نہیں سنبھال سکتا ۔ ویسے بھی مجھے نیند تو اب آئے گی نہیں تو کیوں نہ اس کی بھی اڑا دی جائے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
ایک بار پھر منہ پر پانی کے چھٹے مارتے ہوئے یوشع نے سوچا اور مسکرا دیا
” ‏میں تجھ کو چُھو کے تیری نیند تک اڑا دوں
یہ معجزہ میرے “دستِ ہنر” میں رہتا ہے”
🪄🪄🪄🪄🪄
رات کا پتا نہیں کون سا پہر تھا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ جب صحن میں کسی کے کودنے کی آواز سے ماسٹر جی کی آنکھ کھلی
کون ہے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ آنکھیں ملتے ہوئے وہ اپنے کمرے سے باہر آئے مگر سارے گھر کا چکر لگانے کے باوجود انہیں کوئی نہیں ملا
اپنے کمرے میں واپس جانے سے پہلے انہوں نے بچوں کے کمرے میں جھانکا اور دوبارہ اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گئے ۔
شاید بلی ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ خود کلامی کرتے ہوئے ماسٹر جی نے رضائی اوپر لی
سوتے میں امثال کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا ۔جیسے کوئی اس کا منہ دبا رہا ہو۔
جب گھٹن بڑھنے لگی تو اس نے اپنی آنکھیں کھولتے ہوئے جو آواز سنی وہ اس کے ہوش اڑانے کو کافی تھی ۔
اگر آواز نکالی تو میرا کچھ نہیں جائے گا مگر تمہارا کچھ بچے گا نہیں سوچ لو
یوشع نے سرگوشی کرتے ہوئے ہاتھ اٹھایا
آپ یہاں بمشکل ایک نظر اپنے اپنے پاس لیٹے بھائی بہنوں کو دیکھتے ہوئے امثال نے پوچھا
تم حویلی کس کی اجازت سے گئی تھی اور کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
جب میں نے منع کیا تھا تو اثر نہیں ہوا ۔کتنے پیار سے سمجھایا تھا مگر پیار کی بات تم لوگوں کو سمجھ نہیں آتی
یوشع اب اس سے فاصلے پر بیٹھ گیا تھا جب کہ وہ اپنے آپ میں سمٹی
جائیں یہاں سے امثال کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا
کیوں بکواس کی ہے بڑی سرکار کے سامنے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے دبا دبا سا غصہ کیا جس پر امثال خوفزدہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی
اگر میں ابھی اسی وقت تمہاری گردن دبا دوں یا تمہارے سر میں گولی مار دوں تو کون تمہاری مدد کے لیے آئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا اور تم اس دنیا سے اس دنیا میں پہنچ جاؤں گی سوچا اگر ایسا ہو تو کیا ہو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے اس کے آگے پسٹل لہراتے ہوئے پوچھا
مم مم مم میں نے کچھ نہیں کیا
پسٹل دیکھ کے امثال کے حواس معطل ہونے لگے
تم لڑکیاں کچھ بھی نہیں کرتی ہو ۔ نہ تم نے کچھ کیا ہے اور نہ ہی بتول نے مگر تم دونوں کو ایک ساتھ تہہ خانے میں دفن ہونا پڑے گا افسوس _ یوشع نے سر نفی میں ہلایا دیے کی مدہم روشنی میں یوشع کی لال سرخ آنکھیں اور خوفناک باتیں
امثال کے ہاتھوں میں پسینہ آنے لگا تھا
تہہ خانہ _ کون سا تہہ خانہ ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال کے پوچھنے پر یوشع مسکرایا جو شخص ہر وقت تمہارے ساتھ حویلی والوں کی برائیاں کرتا رہتا ہے کہ “حویلی والے اچھے لوگ نہیں ہوتے” یوشع نے نقل اتاری
اس نے یہ نہیں بتایا کہ حویلی کے اندر ایک بہت بڑا تہہ خانہ بھی موجود ہے ۔جہاں حویلی والے اپنی نافرمان عورتوں کو دفنا دیتے ہیں یوشع مزے سے پسٹل آگے پیچھے گھما رہا تھا
مگر میرا اس تہہ خانے اور آپ کی عورتوں سے کیا تعلق ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال نے اپنے آپ کو حوصلہ دیا
ابھی تو نہیں ہے مگر صبح تک بن جائے گا اور پھر میں تمہیں حویلی لے جا کے تہہ خانے میں قید کر دوں گا یہ تمہاری “منہ دکھائی” کا تحفہ ہوگا
یوشع کے چہرے پر مسکراہٹ آئی۔
نہیں آپ ایسا نہیں کر سکتے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال نے روتے ہوئے سر نفی میں ہلایا
تمہیں کیسے پتا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
جب کہ میں بالکل ایسا ہی کروں گا۔ مجھے اپنی نافرمانی کرنے والے لوگ بہت برے لگتے ہیں ۔میں بہت برا انسان ہوں امثال بی بی تمہاری سوچ سے بھی زیادہ یوشع نے گھمبیر آواز میں سرگوشی کی
مجھے موت سے بہت ڈر لگتا ہے اس طرح تو میں مر جاؤں گی
اس وقت امثال شدید خوفزدہ ہوگئی تھی
اچھا چلو پھر میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں اور تمہاری جگہ تمہارے کسی بہن بھائی کو مار دیتا ہوں اس بارے میں کیا خیال ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یوشع نے کہتے ہوئے اردگرد چارپائیوں پر لیٹےہوئے لوگوں کی طرف دیکھا
آپ یہ سب کیوں کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ امثال زچ ہوئی
ہاں اب تم نے اچھا بلکہ بالکل مناسب سوال کیا ہے ۔میں یہ سب اس لئے کر رہا ہوں کیونکہ تم نے حویلی میں “وہ” سب کیا تھا _
میری بات سمجھ میں تو آ رہی ہو گی یوشع نے پسٹل امثال کے ماتھے پر رکھی۔
بہت شوق ہو رہا تھا سسرال جانے کا
کچھ دن صبر نہیں کر سکتی تھی اور بڑی سرکار کے سامنے بدتمیزی کیوں کی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
جانتی ہو مجھے اس دنیا میں سب سے زیادہ محبت بڑی سرکار سے ہے اور جو ان کی عزت نہ کرے یا ان کے آگے بدتمیزی کرے تو میں ان کا وہ شروع کرتا ہوں جو اب تمہارا کروں گا یوشع کے انداز پر اب امثال کو اپنی بیوقوفی کا شدت سے احساس ہو رہا تھا
اچھا سوری
اس وقت معذرت کرنے میں ہی امثال کو اپنی عافیت محسوس ہوئی ۔
بات کیوں کہ سوری سے بہت بڑھ گئی ہے تو میں آپ کی سوری قبول نہیں کرسکتا اگر بات صرف میری ذات تک ہوتی تو شاید میں معاف کر دیتا مگر بڑی سرکار نہیں نہیں اب سوری نہیں مل سکتی ۔
میں نے سوچا تھا تمہیں دھوم دھام ساتھ پھولوں والی گاڑی میں بیٹھا کر حویلی لے جاؤں گا اور اپنے کمرے میں شہزادی بنا کر رکھوں گا مگر افسوس اب تمہیں تہہ خانے میں اپنی زندگی گزارنا ہوگی ۔
چلتا ہوں یوشع کہتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا جب کے پیچھے امثال کی حالت ایسی تھی جیسے اس کے جسم میں خون کا ایک بھی قطرہ موجود نہ ہو
🪄🪄🪄🪄🪄
کیا میں چور ہوں
نشئی ہو میرے باپ دادا اس گاؤں کی لڑکیوں پر بری نظر رکھتے تھے یا میں نے زنا کا اڈہ کھول رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کے سوال پر جہاں ماسٹر جی حیران ہوئے وہیں ڈیرے پر موجود ہر کام کرنے والا شخص حیرت سے اسے دیکھنے لگا یہاں تک کہ نوید نے بھی کبھی اسے اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا سائیں آپ ایسا کیوں بول رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماسٹر جی نے ڈرتے ڈرتے پوچھا میں بول نہیں رہا بلکہ تم سے پوچھ رہا ہوں میری بات کا جواب دو یوشع کی دھاڑ پر ڈیرے میں ایک دم سکوت چھا گیا ۔کام کرنے والے اپنی اپنی جگہ پر جم گئے۔
نہیں ایسا تو کچھ بھی نہیں ہے آپ تو بہت اچھے ہیں
ماسٹر جی کے جواب پر یوشع طنزا مسکرایا
اچھا پھر تم لوگ ہم سے زیادہ خاندانی ہوگے یا تمہاری بیٹی عرش سے اتری ہوئی ہے کوئی پری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
کس بات کا غرور ہے تم میں یوشع نے کھڑے ہوتے ہوئے پوچھا جس پر ماسٹر جی لال چہرے ساتھ سرجھکا گے
میں ابھی اور اسی وقت تمہاری بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں بقول تمہارے مجھ میں کوئی برائی نہیں ہے۔ تو انکار کی وجہ بنتی ہی نہیں
یوشع کے کہنے پے ماسٹر جی نے اپنا سر گھمتا ہوا محسوس کیا۔
سائیں کچھ وقت دے دیں _ ماسٹر جی کو سمجھ نہیں آئی کہ کیا کہے۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔یہ نکاح دھوم دھام سے نہیں بلکہ بالکل خاموشی سے تمہارے گھر پر ہوگا اور اس نکاح کا کسی کو پتا نہیں چلنا چاہیے
یوشع کی باتیں ماسٹر جی کو حیران کر گئیں۔
جی ماسٹر جی کے منہ سے شدید حیرت میں نکلا
فلحال یہ نکاح بالکل خفیہ رہے گا پھر میں وقت آنے پر دھوم دھام سے اسے حویلی لے جاؤں گا۔
تب تک تم اپنا منہ بند رکھو گے اور کسی کو بھی اس نکاح کے بارے میں کچھ نہیں بتاؤ گے ۔
اگر ذرا بھی ہوشیاری کرنے کی کوشش کی تو تم مجھے جانتے ہو اور اگر نہیں جانتے تو یہاں پہ کام کرنے والوں سے پوچھ لو یہ سب مجھے اچھی طرح جانتے ہیں یوشع نے ملازموں کی طرف اشارہ کیا
سائیں رحم کریں ۔ہم غریب لوگ ہیں ۔میری بچی بہت معصوم ہے ماسٹر جی نے دونوں ہاتھ جوڑے
پہلی بات کہ وہ معصوم نہیں ہے ۔کل وہ بڑی سرکار سے ملنے حویلی گئی تھی اور جو باتیں اس نے بڑی سرکار سے کیں وہ معصومیت کے زمرے میں نہیں آتیں
یوشع کی بات پر ماسٹر جی نے بے یقینی سے اس کی طرف دیکھا
دوسرا تمہارا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تمھاری بیٹی معصوم اور میں بدمعاش ہوں بولو یوشع ایک دم بھڑکا
ماسٹر جی اپنی ہی کہی بات پر بری طرح پھنس چکے تھے ۔
ہم سردار لوگ ہیں اور تم “کمی کمین” مگر پھر بھی میں تمہاری بیٹی کو اپنی عزت بنانا چاہتا ہوں اور تم جانتے ہو کہ میں اپنی عزت کا کتنا خیال رکھتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟ یوشع نے ماسٹر جی کے اڑے رنگ دیکھ کر تسلی بھی دی ۔
سائیں آپ کی سب باتیں حق سچ ہے مگر ماسٹر جی نے لاچارگی سے نوید کی طرف دیکھا
اسے کیا دیکھ رہے ہو جو بھی کہنا ہے مجھ سے کہو ورنہ گھر جا کے نکاح کی تیاری کرو بلکہ تم رہنے دو۔
نوید تم ماسٹر جی کے ساتھ جاؤ ۔کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونی چاہیے اور سارے بندوبست کرکے مجھے اطلاع دو یوشع کے حکم پر نوید سر ہلاتا ماسٹر جی کی طرف مڑا۔
سائیں میں نے ابھی تک اپنی بچی سے نہیں پوچھا کیا پتا وہ نہ مانے تو ماسٹر جی نے ایک اور کمزور دلیل دی
تمہاری بچی کی تو ایسی کی تیسی۔ ایک بچی کنٹرول میں نہیں ہے۔ اگر تم خود اسے راضی نہیں کر سکتے تو یہ کام بھی میں کیے دیتا ہوں یوشع کے جواب پر ماسٹر جی پھر پریشان ہوگئے
نہیں نہیں سائیں آپ کچھ مت کیجئے گا میں اپنی بیٹی سے خود بات کرتا ہوں ماسٹر جی نے نفی میں سر ہلایا اور نوید کے اشارے پر اس کے ساتھ باہر کی طرف چل دیے ۔
امثال بی بی نیک تمنائیں تمہارے لیے یوشع حیدرآفندی کی طرف سے
ماسٹر جی کی پشت کو دیکھتے ہوئے یوشع نے خود کلامی کی
🪄🪄🪄🪄🪄
تم ادھر بیٹھ جاؤ میں ابھی تمہارے لئے گرما گرم سموسے پلیٹ لے کر آتی ہوں وہ بھی فائق کے پیسوں سے جتنا مزہ دوسروں کے پیسوں سے چیز کھانے کا آتا ہے اتنا مزہ اپنے پیسوں میں کہاں ۔۔۔۔۔۔؟؟ حرم شرارت سے مسکراتے کیفیٹیریا کے اندر چلی گئی جب کہ ماہم وہی سیڑھیوں پر بیٹھ گئی
ہائے مس موسلادھار کیسی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اچانک عکاشہ کی آواز آنے پر وہ بھی اتنے قریب سے ماہم ڈر گئی ۔
ڈرو نہیں ، ابھی ڈرنے میں کافی وقت ہے عکاشہ نے ریلنگ سے چھلانگ لگائی اور بوتل کے جن کی طرح اس کے سامنے حاضر ہو گیا
انتہائی بدتمیز انسان ہو۔ کبھی تو انسانوں کی طرح سامنے آیا کرو ۔ جب دیکھو بندروں کی طرح اچھل کود کرتے رہتے ہو
ماہم نے اپنا سانس بحال کرتے ہوئے کہا
یہ تو ابھی فیصلہ ہونا ہے کہ کون بندروں کی طرح اچھل کود کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ شرارت سے کہتا ہوا اس کے قریب تھوڑے فاصلے پر بیٹھ گیا
ویسے تمہارا شمار ان لڑکیوں میں تو نہیں ہوتا ناااااا جو چوہے، کاکروچ یا چھپکلی وغیرہ سے ڈرتی ہیں ۔۔۔۔۔۔؟؟ عکاشہ کے پوچھنے پر ماہم نے اسے گھورا
تو اتنی جلدی میں صرف یہ پوچھنے آئے تھے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم نے طنز کیا
ظاہری سی بات ہے یہی پوچھنے آیا تھا میں نے سوچا کہ اگر کبھی اچانک یونی میں ایسی چیزیں نکل آئیں تو کم ازکم تمہاری چیخیں تو سننے کو نہیں ملے گی ناااااا ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
تم مانو یا نہ مانو مگر مجھے تمہاری فکر رہتی ہے
عکاشہ کی معصومیت پہ ماہم کو شک ہوا
تم اپنے ڈرامے بند کرو ۔تمہیں میری جتنی فکر ہے میں اچھی طرح جانتی ہوں۔ پھر کچھ نہ کچھ تمہارے اس دماغ میں میرے خلاف چل رہا ہوگا ۔
دوسروں کو تنگ کرنا تمہارا محبوب مشغلہ ہے خاص طور پر مجھے اتنے دنوں سے کسی کو تنگ نہیں کیا ہوگا تو وہ اٹھا کر میرے پاس آ گئے ہو ۔
ماہم کی باتوں پر عکاشہ نے ہنستے ہوئے سر ہاں میں ہلایا ۔
بندہ منہ اٹھا کر ہی چلتا ہے اب منہ تو بندے کو اٹھا کر لانے سے رہا لہذا آپ ایسا مت بولنا یہ جملہ بالکل غلط ہے ۔
اور رہی بات کہ تمہیں تنگ کرنے آیا ہوں تو ڈیئر کلاس فیلو بات کچھ یوں ہے کہ میں اپنے بھائی ساتھ ایک گفٹ شاپ میں گیا تھا ۔
وہاں مجھے تمہارے مطلب کی کچھ چیزیں نظر آگئیں سوچا لیتا جاؤں تم کیا یاد کرو گی ۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کی بات پر ماہم نے اسے شکی نظروں سے دیکھا
صرف میرے مطلب کی ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم نے اپنی طرف اشارہ کیا
نہیں ویسے تو وہ سب لڑکیوں کے مطلب کی ہیں۔ بلکہ فائق جیسے لڑکوں کو بھی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر میں اب سب کو گفٹ تو نہیں دے سکتا نااااا عکاشہ نے کیفے ٹیریا سے فائق اور حرم کو باہر آتا دیکھ کر کہا
اچھا پھر یہ نوازش صرف مجھ پر ہی کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم کو حیرت ہوئی
دیکھو میں نے تمہیں دو سال بہت تنگ کیا ہے ۔اب ہمارا آخری سمسٹر بھی ختم ہونے والا ہے ۔تو میں نے سوچا معذرت کے طور پر تمہیں گفٹ دوں۔
وہ کیا ہے ناااااا اااااا لوگ کہتے ہیں گفٹ دینے سے محبت بڑھتی ہے ۔اب پتہ نہیں میرے گفٹ دینے سے محبت بڑھتی ہے یا عکاشہ نے شرارت بھرے لہجے میں ماہم کو دیکھتے ہوئے کندھے اچکائے
اچھا دکھاؤ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم نے اپنا ہاتھ آگے پھیلایا جس پر عکاشہ مسکرا دیا
صبر کرو دیتا ہوں پہلے تم مجھ سے ایک وعدہ کرو کے گفٹ لینے کے بعد تم مجھ سے ناراض نہیں ہو گی کیونکہ وہ گفٹ زیادہ قیمتی نہیں ہے میں غریب بندہ ہوں ۔
عکاشہ نے نہایت مظلومیت سے کہا جبکہ نظر حرم اور فائق کے ہاتھوں میں سموسے کی پلیٹوں پر تھی۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ فائق نے عکاشہ کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا
اور اگر یہی سوال میں تم سے کروں تو ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ کے سوال پر فائق ہنسا
تو میں یہ کہوں گا کہ میں کیفے ٹیریا سموسے لینے گیا تھا ۔
اچھا اب سموسے اتنے وزنی ہو گئے ہیں کہ تم اکیلے اٹھا کر نہیں لا سکتے امیزنگ عکاشہ نے حرم کو دیکھتے ہوئے کہا پتہ عکاشہ ہم سب کے لیے گلفٹ لایا ہے
ماہم نے سموسہ کھاتے ہوئے حرم اور فائق کو حیران کیا جب کہ عکاشہ نے حیرت سے ماہم کی طرف دیکھا
یار میں جھوٹ نہیں بولوں گا گفٹ تو صرف ماہم کے لیے تھا مگر چلو کوئی بات نہیں ۔اب اس کی خواہش کا احترام کرنا بھی ضروری ہے تو تم تینوں اپنی آنکھیں بند کرو ۔
پھر عکاشہ نے سانپ فائق _ کاکروچ اور چوہا ماہم جبکہ چھپکلی حرم کے آگے رکھی چلو شاباش جلدی سے آنکھیں کھولو اور یہ بتاؤ کہ گفٹ کیسے لگے ۔۔۔۔۔۔؟؟؟
عکاشہ کی آواز پر سب نے آنکھیں کھولیں اور اپنے سامنے ان خوفناک نمونوں کو دیکھ کر ایک ساتھ چیخ اٹھے۔
جو سٹوڈنٹ ادھر ادھر موجود تھے وہ بھی سانپ ،چوہا، چپکلی کی آوازوں پر اکٹھے ہونے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے اچھا خاصہ مجمع لگ گیا ۔ ڈیوٹی انچارج پروفیسر شہاب الدین بھی آن پہنچے
یہ سب کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ انہوں نے انتہائی غصے سے پوچھا
سر وہ وہ حرم نے بتانا چاہا مگر عکاشہ وہاں کہیں نہیں تھا
سر وہ عکاشہ ماہم نے بھی ادھر ادھر دیکھا۔
اب یہ مت کہنا کہ یہ سب عکاشہ نے کیا ہے جبکہ وہ تو یہاں ہے ہی نہیں
توبہ ہے “بد سے بد نام برا “_
تم لوگ جب بھی کوئی تماشہ لگاتے ہو اسی کا نام لیتے ہو ۔ شرم آنی چاہیے پروفیسر شہاب الدین نے ڈانٹنے پر تینوں خاموش ہو گے
سوری سر
غلطی ہو گئی۔ فائق نے معذرت کی
یہ سب یہاں سے اٹھاؤ پروفیسر شہاب الدین کہتے ہوئے چل دیئے ۔
یہ اس کی محبت ہے ۔ہمیشہ شرمندہ ہی کرواتا ہے __
ماہم نے غصے اور دکھ کے ملے جلے تاثرات سے حرم کو دیکھا ہے جس پر وہ سرجھکا گی
🪄🪄🪄🪄
جاری ہے۔