Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

یوشع تم دو دن سے کہاں تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ بڑی سرکار نے قدرے برہم لہجے سے پوچھا
کیوں ناراض ہو رہیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یہاں ہی تھا آپ کے آس پاس _ یوشع نے محبت سے ان کے گلے لگتے ہوئے جواب دیا. تو بھی اب اپنے باپ کی طرح مجھ سے جھوٹ بولنے لگا ہے بڑی سرکار نے اپنے سامنے بیٹھے حیدر آفندی کی طرف دیکھ کر کہا
میں کیوں جھوٹ بولوں گا اور آپ سے تو بلکل بھی نہیں یوشع نے لاڈ سے بڑی سرکار کی گود میں سر رکھا
آپ کو پتہ ہے ناااااا میں آپ سے کتنا پیار کرتا ہوں
مجھ پر شک نہ کیا کریں. یوشع کی بات پر بڑی سرکار کا غصہ ایک دم غائب ہو گیا.
پھر مجھ سے وعدہ کر کہ تو مجھے ہمیشہ سب سے زیادہ عزیز رکھے گا بڑی سرکار کی نظریں حیدر آفندی پر تھیں.
آپ وعدہ نہ بھی لیں تو میں ایسا ہی کروں گا
یوشع نے محبت سے ان کا ہاتھ چوما
تیرا باپ بھی اس “دم کٹی مرغی” کے ملنے سے پہلے ایسا ہی کہتا تھا مگر پھر بڑی سرکار کی بات پر ضبط سے بیٹھے حیدر آفندی نے وہاں سے جانے میں عافیت سمجھی.
ابھی تک اسے اتنی تکلیف ہوتی کہ اگر میں اسے کچھ کہہ دوں تو
بڑی سرکار نے منہ موڑا
اماں آپ بہت زیادتی کرتی ہیں.ہمیشہ آپ کی ہی بات مانی ہے پھر بھی گلہ کرتیں رہتیں ہیں.
اس بیچاری کی تو میں نے مدت سے شکل نہیں دیکھی. ابھی بھی مجھ پر الزام ہے کہ میں آپ سے محبت نہیں کرتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
حیدر آفندی کا چہرہ ضبط سے لال ہو رہا تھا جبکہ یوشع یوں لیٹا تھا جیسے اسے کوئی آواز سنائی نہ دے رہی ہو
دیکھا کیسے ماں کے آگے زبان چلا رہا ہے وہ بھی ایک عورت کی خاطر بڑی سرکار کی آواز نم ہونے لگی آپ جان بجھ کر مجھے غصہ دلاتی ہیں ورنہ میرا تو ایسا کوئی ارادہ نہیں ہوتا. میں اسی لیے اب کم کم آپ کے پاس بیٹھتا ہوں مگر جب بھی بیٹھتا ہوں آپ اسی طرح کرتیں ہیں. کیا ملتا ہے آپ کو میری دل آذاری کر کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ مجھے تکلیف دے کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ حیدر آفندی نے دکھ بھری نظر سے بڑی سرکار کو دیکھا اور جانے لگے مگر بتول کو داخل ہوتا دیکھ کر رک گئے. میری بیٹی کی اب کیسی طبیعت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ کچھ لمحے پہلے والا لہجہ اب بلکل شفقت میں ڈھل چکا تھا. چاچو میں ٹھیک ہوں بس زرا سا بخار ہو گیا تھا. بتول کی آواز پر یوشع بھی اٹھ بیٹھا اور اسے دیکھنے لگا میں دو دن باہر کیا رہا اسے تو میری جدائی میں بخار ہی ہو گیا یوشع نے مذاق کیا مگر بڑی سرکار نے اسے گھورا.
بتول تم جاؤ یہاں سے اور جہاں یوشع بیٹھا ہوتا ہے وہاں مت آیا کرو بڑی سرکار کی بات پر حیدر آفندی نے افسوس سے انھیں دیکھا جبکہ بتول اہانت کے احساس تلے وہاں سے چلی گئی. آپ نے خامخواہ اسے ڈانٹ دیا آگے ہی وہ سارا دن کمرے میں بند رہتی ہے. تھوڑی دیر ہنس بول لیتی تو کیا ہو جاتا _ حیدر آفندی نے گلہ لیا.
اس لڑکی کے حالات دیکھتے ہوئے میں نے ایک فیصلہ کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
بڑی سرکار کی بات پر حیدر آفندی نے چونک کر انھیں دیکھا جبکہ یوشع موبائل استعمال کرنے لگا تھا.
میرے خیال سے اب بتول اور یوشع کی شادی کر دینی چاہیے _ بڑی سرکار نے اونچی آواز میں کہا یوشع سے تو پوچھ لیں کیا پتہ وہ کسی اور کو کرتا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
حیدر آفندی کی بات پر یوشع نے مسکراتے ہوئے انھیں دیکھا
بابا سائیں میں صرف اپنی “دادو” کو پسند کرتا ہوں. اس لیے ان کی پسند ہی میری پسند ہے یوشع کے جواب پر بڑی سرکار کھل اٹھیں.
اللہ میرے بچے کو بری نظر سے بچائے. اسے کہتے ہیں ” بیٹا” _ بڑی سرکار نے کئی نوٹ نک کر یوشع کے سر سے گزارے اور ملازم کو اشارہ سے اندر بلایا.
یہ ماسٹر جی کے گھر دے آنا ملازم سر ہلاتا پیسے لے کر باہر نکل گیا مگر یوشع کے ماتھے پر ماسٹر کے نام سے بل پڑے.
ماسٹر جی کے گھر ہی کیوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟ یوشع نے بےساختہ پوچھا
بیچارے کی سات بیٹیاں ہیں اور ایک بیٹا _
مگر اللہ کی طرف سے بڑی آزمائش ہے۔
حالانکہ بیچارا خود اچھا انسان ہے مگر میرے حیدر کی طرح اسے بھی ایک چڑیل پسند آ گئی تھی.
ادھر اس منحوس نے ماسٹر کے گھر میں قدم رکھا ادھر ماسٹر کی بدبختی شروع ہوئی
پہلے بیٹیاں ہیں بیٹیاں پھر اللہ نے بیٹا دیا تو معذور پھر خود بیمار پڑگئی ماسٹر کی اچھی خاصی زمین تھی جو اس کے علاج پر خرچ ہوگی ۔ بس اچھے خاصے بندے کے دماغ کو یہ عورتیں زنگ لگا دیتی ہیں پھر یہ کہیں کے نہیں رہتے بڑی سرکار میں آہ بھرتے ہوئے ایک بار پھر حیدر آفندی کی طرف دیکھا جبکہ یوشع کافی سیریس نظر آ رہا تھا
تو ان کے گھر بار میرا مطلب ہے کہ بچوں کو کون دیکھتا ہے————-؟ ؟؟؟؟ یوشع کے سوال پر بڑی سرکار نے اسے حیرت سے دیکھا
اس کی بڑی بیٹی کافی سمجھدار ہے وہی گھر اور باہر کے کام کرتی ہے چھوٹی سی عمر میں بڑی ذمہ داری پڑ گئی ہے
بیچاری معصوم بچی اس کی ہم عمر لڑکیاں سارا دن کھیل کود کر گزارتی ہیں جبکہ وہ ابھی سے ایک ” ماں ” کی طرح اپنی چھوٹی بہنوں اور بھائی کا خیال رکھتی ہے۔ ماسٹر تو سکول اور ٹیوشن پڑھا کر شام کو گھر لوٹتا ہے بڑی سرکار کے بتانے پر یوشع نے سر ہلایا
خیر چھوڑ ان باتوں کو _ یہ بتا اگلے مہینے تیری شادی رکھ دوں۔ تجھے کوئی اعتراض تو نہیں ہے ————- ؟؟؟ بڑی سرکار نے ایک دم اپنا لہجہ مٹھاس بھرا کیا۔ جیسا آپ کو ٹھیک لگے مجھے کیا میری طرف سے کل ہی رکھ دیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع کے جواب پر وہ مسکرا دیں جب کہ حیدر آفندی خاموشی سے اٹھ کر چلے گے 🪄🪄🪄🪄🪄 عکاشہ گنگناتا ہوا کمپیوٹر لیب میں داخل ہوا ایک نظر پوری کلاس پر ماری تو آخری کمپیوٹر کے آگے وہ دونوں بیٹھی ہوئی نظر آگئیں۔ ہائے مس موسلادھار کیسی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ عکاشہ نے کمپیوٹر ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے ماہم سے پوچھا ویسے کتنے بے شرم ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ میں نے سوچا تھا کہ اب ہمارے سامنے آتے ہوئے تمہیں کچھ تو شرم آئے گی مگر نہیں ماہم کی بجائے حرم کے جواب پر اس کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی۔
شرط یہ محترمہ ہاری ہیں اور شرم نیں کروں _ ارے واہ یہ کیا بات ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تمہاری شرط گئی بھاڑ میں _ تمہاری شرط کی وجہ سے ہمارا کتنا نقصان ہوا اس کا کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
حرم نے کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے جارحانہ انداز سے پوچھا
ہمممممم اس نقصان کی ساری “ذمہ دار” تمہاری یہ دوست ہے عکاشانہ نے ماہم کی طرف اشارہ کیا
میرا نام “عکاشہ آفندی” ہے اور معاف کرنا میرے خون میں شامل نہیں ہے ماہم بی بی کو اس کے کیے کی “سزا” ملی ہے کیونکہ اس نے میری بات نہیں مانی تھی۔
عکاشہ کی بات پر جہاں حرم کو حیرت کا جھٹکا لگا وہیں ماہم نے اسے غصے سے دیکھا
ویسے تم جب چاہو غصہ کر کے محکمہ موسمیات کی تمام پیشنگوئیوں کو جٹلا سکتی ہو کہ کل بارش ہے ” یوشع نے ماہم کے غصیلے چہرے کو دیکھتے ہوئے تبصرہ کیا
بکومت اور یہ بتاؤ کہ میں نے کیا کیا تھا جو تم نے اپنی طرف سے مجھے سزا دی اور میرا اتنا نقصان ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ماہم نے دبا دبا سا غصہ کیا
جب میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ مس “موم بتی” کو نہیں بتانا کہ کوریڈور میں میرے ساتھ تھی۔
مگر نہیں تمہیں تو سچ بولنے کا بھوت چڑھا ہوا تھا اب جرمانہ دینے کے بعد امید ہے کہ وہ اتر گیا ہوگا ۔
اچھا تو تم نے اس بات کا بدلہ ہے لیکن میں سچ ہی بولوں گی ماہم کی بات پر عکاشہ نے کندھے اچکائے
دفع کرو ان باتوں کو
اب ہمارا یونی میں کوئی تین مہینے کا ساتھ رہ گیا ہے ۔اس لئے آج کے بعد لڑائی جھگڑا نہیں۔
اب ہم تین مہینے اچھے کلاس فیلوز کی طرح گزاریں گے۔ چلو میں دوستی میں پہل کرتا ہوں یہ ببل عکاشہ نے کہتے ہوئے اپنی جیب سے ببلز نکال کر حرم اور ماہم کے آگے کی۔
مجھے نہیں چاہیے تمہاری بل
اپنے پاس رکھو _ میرا دل تمہارا سر توڑنے کا کر رہا ہے ماہم کی بات پر عکاشہ دل کھول کر ہنسا
شیشہ تو تم سے توڑا نہیں جاتا سر تو بڑی دور کی بات ہے ۔
عکاشہ مجھے غصہ مت دلاؤ
یہ نہ ہو کہ میں سچ مچ کوئی چیز تمہارے سر پر دے مارو ماہم نے غصے سے کہتے ہوئے ادھر ادھر دیکھا
یہ لو مارو عکاشہ نے پیپر ویٹ اس کے ہاتھ میں دیا۔
ماہم چھوڑو یار حرم نے منع کرنا چاہا مگر صدا کی بے وقوف ماہم نے پیپر ڈیٹ عکاشہ کی طرف پھینکا۔
عکاشہ کے بروقت نیچے ہونے پر پیپر ویٹ دروازے سے اندر داخل ہوتے پروفیسرشہاب کے جا لگا
لیب میں ایک دم سناٹا چھا گیا
ماہم نے ایک نظر پروفیسرشہاب کو دیکھا اور دوسری سے عکاشہ کو جو اب پورے انہماک کے ساتھ کمپیوٹر پر کام کر رہا تھا جیسے اسے کسی بات کا پتہ ہی نہ ہو ۔
ماہم نے آنسو بھری آنکھوں سے حرم کی طرف دیکھا جو افسوس سے سر ہلا رہی تھی۔
ایک بات تو آج ماہم نے سیکھ لی تھی کہ “مصیبت” کا دوسرا نام “عکاشہ” تھا ۔
🪄🪄🪄🪄🪄
حیدر آفندی اپنے کمرے میں بڑی بے قراری سے چکر لگا رہے تھے جب دروازے پر دستک دیتے ہوئے یوشع اندر داخل ہوا ۔
بابا سائیں آپ نے مجھے بلایا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع پوچھنے والے انداز میں کہتا ہوا صوفے پر بیٹھ گیا
تم عدن پاس گئے تھے حیدر آفندی نے کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے یوشع سے پوچھا
تو آپ کو پتہ چل گیا ہے یوشع نے گہرا سانس خارج کرتے ہوئے صوفے سے ٹیک لگا لی۔
کیوں جاتے ہو اس کے پاس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی کے سوال پر یوشع نے انہیں ابرو اچکا کر دیکھا
نہ جایا کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ تصدیق کے لیے پوچھا گیا
بڑی سرکار کو پتہ چلا تو بہت برا منائیں گئیں۔ انہیں تم پر بڑا ناز ہے _ حیدرآفندی نے کہتے ہوئے اپنی کلائی سے قیمتی گھڑی اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی۔
آپ ان کی فکر نہ کریں اگر آپ نے نہ بتایا تو انہیں پتہ نہیں چلے گا اور یہ بتائیں کہ مجھے کیوں بلایا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع بھی اب جانے کے لیے کھڑا ہو گیا۔
تم بتول سے شادی کرنا چاہتے ہو یا صرف بڑی سرکار کی خاطر ایسا کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ حیدر آفندی اب براہ راست مدعا پر آئے تھے ۔
مجھے بتول سے کوئی مسئلہ نہیں ہے
اچھی خاصی لڑکی ہے ۔ میرے خیال سے شادی ہو سکتی ہے ۔ یوشع نے کندھے اچکائے
شادی مذاق نہیں ہوتی اس لیے جذبات سے کام نہیں لیتے ۔میرا مشورہ ہے تمہیں کہ اچھی طرح سوچ سمجھ کر فیصلہ کرو۔
اگر تمہیں کل کو کوئی اور پسند آ گئی تو اس ساتھ زیادتی ہوگی کیونکہ ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ بچی مجھے بہت پیاری ہے۔ میرے مرحوم بھائی کی نشانی ہے ۔حیدر آفندی نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہا
ارے واہ آپ کب سے اماں سائیں ساتھ زیادتی کر رہے ہیں اور پروا نہیں اور ابھی سے بھتیجی کی فکر ستانے لگی۔
کیا کہنے بابا سائیں آپ کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ ویسے بے فکر رہیں میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یوشع نے طنز بھراکر جواب دیا
مت بھولا کرو کہ میں تمہارا باپ ہوں حیدر آفندی نے جتلایا
اور اشدہ بیگم میری ماں ہے یہ بھی مجھے یاد رہتا ہے ۔کیا کروں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ یوشع نے اپنی مجبوری بتائی۔
آپ بھی آرام کریں اور مجھے بھی اب نیند آ رہی ہے شب بخیر یوشع کہتا ہوں جانے کے لئے مڑا ۔
کیسی تھی وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟ اچانک حیدر آفندی کا جملہ کانوں میں پڑا تو یوشع بےساختہ مسکراتا ہوا پلٹا
پتا ہے بابا سائیں میں کتنی دیر سے سوچ رہا تھا کہ آپ نے ابھی تک چھوٹی ماما کے بارے میں کیوں نہیں پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یوشع ، حیدر آفندی کے پاؤں پاس بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا
اور وہ “الو کا پٹھا”_
اشارہ عکاشہ کی طرف تھا۔
اس کا تو پوچھیں مت
پھر یوشع نے مختصراً عکاشہ کے کارنامے بتائے جن پر دونوں باپ بیٹا ہنسنے لگے ۔
یہ میں کیا سن رہی ہوں کہ تمہاری اور بتول کی شادی اگلے مہینے ہے اور مجھ سے کسی نے پوچھا تک نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بغیر دستک دیے راشدہ بیگم آندھی طوفان کی طرح کمرے میں داخل ہوئیں تو دونوں باپ بیٹا کی ہنسی کو بریک لگی۔
یقین مانیں اماں سائیں مجھ سے بھی کسی نے نہیں پوچھا صرف بتایا ہے _ یوشع کہتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔ جو کچھ بھی پوچھنا ہے صبح بڑی سرکار سے پوچھنا _ مجھے بھی علم نہیں ہے اور ہاں یہ لائٹ بند کر دو مجھے نیند آرہی ہے۔
حیدر آفندی کہتے ہوئے بیڈ پر دراز ہو گئے جبکہ ٹیرس پر گرتی ہوئی بارش کا شور انہیں عدن کے خیالوں میں لے گیا
جنوری کی سرد رات ہے
شال تو اس نے اوڑھی ہوگی
آدھی چائے پی لی ہوگی
آدھی عادتاً چھوڑی ہوگی
اور میری یاد ، ارے کہاں
اتنی فرصت تھوڑی ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🪄🪄🪄🪄🪄🪄
جاری ہے