64.9K
56

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

بول حجاب کدھر ہے۔۔۔ لال انگارا ہوتی آنکھوں سے احد نے شاہان کے دونوں ہاتھ اپنے بزوں سے جھٹک کر اپنی ٹانگ اسکے پیٹ پر ماری تھی۔۔۔
شاہان لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہٹا تھا پر اتنی ہی تیزی سے اسکی طرف بڑھتا ہوا فلائنگ کک کرتا اسکے سینے پر اپنے پاوں ثبت کرتا لہرا کر واپس زمین پر کھڑا ہوا۔۔۔
چیختے ہوئے دونوں ہی واپس ایک دوسرے پر جھپٹے تھے۔۔۔۔۔
لڑائی بڑھتی دیکھ کر ہادیہ کو بیچ میں کودنا پڑا۔۔۔
بس کر دو بس کر دو دونوں۔۔۔۔ وہ درمیان میں آتی چیخ کر بولی۔۔۔ پر وہ دونوں اسکی بات سننے کی حدود سے بہت آگے بڑھ چکے تھے ۔۔۔ دونوں ہی مرنے مارنے پر تلے ہوئے تھے۔۔۔۔
ان دونوں کو ایسے ایک دوسرے پر جھپٹے دیکھ کر انہیں روکنے کا کوئی بھی طریقہ ہادیہ کو سوجھ نہیں رہا تھا۔۔۔۔
ہادیہ نے بنا سوچے سمجھے ایک زوردار دھکا شاہان کو دیا۔۔۔۔
اسکا دھیان ہادیہ کی طرف نہ ہونے کی وجہ سے وہ سا ایک سائیڈ کو لڑکھڑایا۔۔۔ ہادیہ نے انہیں بنا کوئی سوچنے سمجھنے کا موقع دیئے ویسے ہی ایک زوردار دھکا لگا کر احد کو لاوئنج سے باہر نکالا اور خود بھی اسکے ساتھ باہر نکلتے ہوئے لاوئنج کا دروازہ باہر سے بند کر دیا۔۔۔۔
سب منٹوں کا کھیل تھا۔۔۔۔ جب تک دونوں کو سمجھ آتا کہ ہوا کیا ہے دروازہ لاک ہو چکا تھا۔۔۔۔
احد خدا کے لئے ابھی یہاں سے چلے جاو۔۔۔۔ وہ اپنے آپ میں نہیں ہے۔۔۔ وہ کس قدر جذباتی بندہ ہے تم جانتے ہو کہیں کچھ غلط نہ کر بیٹھے۔۔۔
یہ دیکھو ۔۔میرے بندھے ہوئے ہاتھوں کی لاج رکھ لو ۔۔۔۔۔ جاو یہاں سے۔۔۔۔ وہ حقیت میں اسکے سامنے ہاتھ جوڑ چکی تھی۔۔۔
بوکھلاہٹ میں کہیں کہیں ایک نظر وہ اپنے پیچھے دروازے کو بھی دیکھ لیتی جہاں شاہان اب غصے سے دروازہ بجاتا اسے توڑنے کے در پر تھا۔۔۔
مس ہادیہ آپ جانتی ہیں آپ کیا بول رہی ہیں۔۔۔۔
میری بیوی اس کے قبضے میں ہے اور آپ مجھے واپس جانے کو بول رہی ہیں۔۔۔۔
پاگل ہو گئ ہیں آپ۔۔۔۔ بے بسی سے گویا ہوتے وہ آخر میں چیخ پڑا تھا۔۔۔۔
مجھ پر یقین رکھو احد۔۔۔ حجاب میری چھوٹی بہن کی طرح ہے۔۔۔ اسے کچھ نہیں ہونے دوں گئ میں۔۔۔
وہ بالکل صحیح سلامت تم تک پہنچے گئ۔۔۔ پر ابھی تم واپس چلے جاو۔۔۔۔
شاہان کو تم جانتے ہو وہ ضد کا بہت برا ہے۔۔۔۔
ابھی اسے پیار سے سمجھانے کا وقت ہے۔۔۔۔ اس پر غصہ کر کے ہم اسکی ضد کو مزید بڑھائیں گئے۔۔۔۔ اور بدلے میں سوائے خسارے کے ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔۔۔۔
مجھ پر بھروسہ رکھو کل حجاب تمہارے پاس ہوگئ۔۔۔۔
ابھی وہ غصے میں ہے اسے مجھے اپنے طریقے سے ہینڈل کرنے دو۔۔۔
آگر حجاب کو کچھ ہوا نہ مس ہادیہ تو آپکو کبھی معاف نہیں کروں گا میں۔۔۔۔
بات اسکی سمجھ میں آ رہی تھی۔۔۔۔ اسی لئے بے بسی سے نم آنکھوں سمیت ہادیہ کو وارن کرتا واپس مڑ گیا۔۔۔۔
احد کو تو تسلی دے کر بھیج دیا تھا پر
آگئے ایک محاز تھا جو ہادیہ کو سر کرنا تھا۔۔۔۔
شاہان جیسے سر پھرے اور بدلے کی آگ میں اندھے ہوتے شخص کو قابو کرنا کوئی اتنا آسان کام بھی نہ تھا۔۔۔۔


دیکھ احد تو جانتا ہے میری پچھلی زندگی کو۔۔۔۔۔ بھلے ہی اب میں وہ سب کچھ چھوڑ چکا ہوں پر میں بڑے ڈھرلے سے گناہ کرتا رہا ہوں۔۔۔۔
اب اگر تو سچ میں چاہتا ہے کہ میں تیری بیوی کے ساتھ کوئی گناہ کا کام نہ کروں تو شرافت سے صبح تک اسے طلاق دے دے تاکہ میں اس سے نکاح کر سکوں۔۔۔۔
ورنہ بصورت دیگر میں نکاح کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔۔۔۔
صبح سے اب تک اسنے ہادیہ سے بھی بات نہیں کی تھی۔۔۔ وہ مسلسل کچھ سوچتا ہوا کمرے میں چکر لگا رہا تھا۔۔۔
اب کچھ سوچتے ہوئے اس نے احد کا نمبر ملایا تھا اور صوفے پر سکون سے بیٹھ کر پاوں جھلاتا ہوا وہ احد کا سکون غارت کر رہا تھا۔۔۔۔
طلاق پھر ایک نہیں بلکہ دو دو طلاقیں ہونگیں۔۔۔۔
ہادیہ نے اسکے قریب جا کر اسکے کان سے لگا موبائل کھینچا اور بند کر کے صوفے پر اچھالتی ہاتھ باندھ کر گویا ہوئی۔۔۔۔
اگر تم نے حجاب سے نکاح کرنا ہے تو تمہیں پہلے مجھے آزاد کرنا ہوگا۔۔۔
شاہان نے ایک غصیلی نگاہ اس پر ڈالی۔۔۔ دیکھو ہادیہ۔۔۔۔ اس وقت میری مینٹلی کنڈیشن کیا ہے تم اچھے سے جانتی ہو۔۔۔۔ ایسے میں میں نہیں چاہتا کہ کوئی ایسا بول یا کوئی ایسی حرکت نادانستگی میں کر جاوں جو تمہاری دل آزاری کا باعث بنے۔۔۔
اس لئے بہتر یہ ہی ہے کہ ابھی مجھ سے کوئی بھی بات مت کرو اور مجھے اکیلا چھوڑ دو۔۔۔۔
ٹھیک ہے اگر تم واقعی یہ ہی چاہتے ہو کہ میں تمہیں اکیلا چھوڑ دوں تو ایسے ہی صحیح۔۔۔۔ وہ غصے سے بولتی کمرے سے نکلنے کے در پر تھی جب شاہان نے بے بسی کی انتہاوں کو چھوتے ہوئے اسکی بازو پکڑ کر اسے جانے سے روکا۔۔
ہادیہ نے جھٹکے سے مڑ کر دیکھا پر شاہان کی آنکھوں میں تیرتی نمی کو دیکھ کر اسکا غصہ جھاگ کی مانند بیٹھ گیا۔۔۔۔
پلیز مجھ سے خفا مت ہونا ہادیہ۔۔۔۔ اسکی آواز میں ایسی التجا اور تڑپ تھی جو ہادیہ کا دل چیر گئ۔۔۔۔
وہ جانتی تھی کہ شاہان بہت جذباتی ہے اور ایسے لوگ ہمیشہ غصے میں نقصان اٹھاتے ہیں۔۔۔۔ اور اسے شاہان کو مزید نقصان سے بچانا تھا۔۔۔
اس لئے یہ وقت بالکل بھی نرمی اختیار کرنے کا نہیں تھا۔۔۔
تمہیں مجھ میں سے یا حجاب میں سے کسی ایک کو چننا ہو گا۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھتی ہوئی سنجیدگی سے گویا ہوئی۔۔۔۔۔
تمہارا اور اس لڑکی کا کوئی مقابلہ نہیں۔۔۔۔ جو میں کسی کو چنوں۔۔۔۔ وہ ہادیہ کی بازو کھینچتا اسے بھی اپنے ساتھ صوفے پر بیٹھا چکا تھا۔۔۔۔
لیکن میں سوتن برداشت نہیں کروں گئ۔۔۔ مجھے یہ شراکت گوارا نہیں۔۔۔۔۔ وہ شاہان کے ہاتھ جھٹکتی پیچھے ہو کر گویا ہوئی
تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے ہادیہ کہ تمہیں مجھے اسکے ساتھ شیئر کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔ تم میری من پسند بیوی ہو اور ہمیشہ رہو گئ۔۔۔۔ جبکہ وہ لڑکی پوری زندگی تمہاری نوکرانی بن کر خدمت کرے گئ تمہاری۔۔۔۔
ہادیہ کو اسکا طرز تخاطب بہت برا لگا وہ کہنا چاہتی تھی کہ حجاب کا کیا قصور جو وہ اسکے بارے میں یہ سب بول رہا ہے۔۔۔۔ پر خاموش رہی۔۔۔۔
کیونکہ وہ اسکا جواب جانتی تھی کہ میری ماں کا کیا قصور تھا جو حجاب کے باپ نے اسکے ساتھ یہ سب کیا۔۔۔۔
میری ماں پر ہوئے ظلم کا تاوان وہ بھگتے گئ ہادیہ۔۔۔۔
وہ اب اٹھ کر کمرے میں چکر لگانے لگا تھا۔۔۔۔ ہادیہ ریلیکس ہو کر صوفے پر بیٹھ گئ۔۔۔۔
کچھ لوگوں کو قدرت نے یہ وصف دیا ہوتا ہے کہ وہ اپنی باتوں سے دوسروں کو قائل کر لیتے ہیں۔۔۔ اور ہادیہ بھی انہیں لوگوں میں سے ایک تھی۔۔۔
وہ بہت اچھی سپیکر تھی۔۔۔ اور اسی وجہ سے اسنے پروفیشن کے طور پر بھی یہ ہی لائن منتخب کی تھی۔۔۔
ظالم اور مظلوم کا یہ قصہ کوئی نیا تو نہیں ہے شاہان۔۔۔۔۔ وہ سکون سے گویا ہوئی۔۔۔۔
شاہان نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔۔
اس زمانے میں بھی امام حسین کا مقدس خون بہا تھا۔۔۔۔
جانتے ہو حسین کون۔۔۔۔
وہ جنکی آنکھیں محمدؐ چومتے تھے۔۔۔۔
وہ جنہیں محمدؐ سینے سے لگاتے تھے۔۔۔
وہ جنکے ہاتھوں کے محمدؐ بوسے لیتے تھے۔۔۔
انکا مقدس خون بہا اور پانی کی طرح بہا۔۔۔۔۔
یزید تخت پر بیٹھ گیا۔۔۔۔ پر پھر بھی برائی کی جیت نہ ہوئی۔۔۔۔
انہوں نے سر کٹوا کر بھی حق کا پرچم بلند رکھا۔۔۔۔۔
یاد رکھنا ظلم کرو گئے تو یزید کے ساتھ کھڑے کئے جاو گئے۔۔۔۔
مظلوم ہو گئے تو اہل محمد میں شامل کئے جاو گئے۔۔۔۔
کیونکہ فرشتوں کو اللہ نے عقل دی اور جانوروں کو نفس۔۔۔۔
لیکن انسان کو اللہ نے عقل اور نفس دونوں دیا۔۔۔ اگر وہ نفس کو دبا کر عقل سے کام لے تو فرشتوں سے افضل کہلایا جاتا ہے۔۔۔۔ یعنی اشراف لمخلوقات اور اگر عقل کو چھوڑ کر نفس کو خود پر ہاوی کر لے تو جانوروں سے بھی بدتر۔۔۔۔
چوائس تمہاری اپنی ہے۔۔۔۔
اسکی باتوں سے شاہان کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔۔ وہ اسے چپ کروا دینا چاہتا تھا پر اسے اپنی آواز کنگ ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔۔
میں جانتی ہوں شاہان کہ ندا خالہ نے بہت ظلم سہے ہیں۔۔۔۔ پر انہوں نے خدا کو پا لیا تھا۔۔۔۔
اور جس نے خدا کو پا لیا وہ کبھی نہ ہارا۔۔۔۔ ایسا ندا خالہ کہتی تھیں۔۔۔۔
وہ کہتی تھیں۔۔۔۔ اگر تخت و تاج بھی تم نے پالیے پر اللہ کو کھو دیا تو تم نے سب کھو دیا۔۔۔ پر اگر اللہ کو پا لیا اور مر بھی گئے تو خدا کی قسم تم نے سب کچھ پالیا۔۔۔
کیونکہ یہ زندگی تو فانی ہے ۔۔۔۔ ابدی زندگی تو آگئے ہے۔۔۔۔
تم کیوں تاریخ کو دہرانا چاہتے ہو۔۔۔۔
کیوں ایک بے قصور مجبور بےبس اور لاچار لڑکی کو دوسری ندا بنانا چاہتے ہو۔۔۔۔
خود کیوں دوسرے مصطفی بننا چاہتے ہو۔۔۔۔
کیوں ایک اور شاہان کو جنم دینا چاہتے ہو۔۔۔ کیوں چاہتے ہو کہ کل کو تمہارا بیٹا بھی تمہاری طرح آ کر تمہارا گریبان پکڑ کر اپنی ماں پر ہوئی زیادتیوں کا حساب مانگے۔۔۔۔
کیوں ایک ختم ہو چکی کہانی کو دہرانا چاہتے ہو۔۔۔۔ کیوں پوری زندگی کے پچھتاوں اور بے سکونی کو اپنے نام کرنا چاہتے ہو۔۔۔۔
یاد رکھنا شاہان بدلے کا یہ چکر کبھی ختم نہیں ہوتا۔۔۔۔ کل ایک اور شاہان تمہارے سامنے دست سوال دراز کئے ہوگا پر تب اسکی زندگی میں کوئی دوسری ہادیہ ہوگئ جو اسے اسکے باپ سے ملائے اسکی گاڑنٹی کوئی نہیں دے سکتا۔۔۔۔
اسکی باتیں سن کر ساکت کھڑا شاہان بھربھری ریت کی دیوار کی مانند دھے گیا تھا۔۔۔۔
وہ اسکی بنیادوں تک کو ہلا کر خود کمرے سے جا چکی تھی۔۔۔


اپارٹمنٹ کے دروازے کے کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی تھی۔۔۔۔ پر احد ویسے ہی بے حس بنا بیٹھا رہا۔۔۔۔سردیوں کی یخ بستہ ہڈیوں کو ٹھٹھرا دینے والی رات میں وہ وہیں لاوئنج میں بغیر کسی گرم کپڑے کے ایک ٹراوزر شرٹ میں ملبوس تھا۔۔۔
رات میں شزا اسے ایک دو بار آ کر کمرے میں جانے کا بول چکی تھی۔۔۔
پر احد نے اسے کام کا کہہ کر خود اسے کمرے میں جانے کا بول دیا۔۔۔۔
رات سے اب صبح صادق کے آثار نمودار ہو گئے تھے۔۔۔۔ پر وہ وہیں پر بیٹھا بیٹھا اکڑ گیا تھا۔۔۔ کمر سیدھی ہونے سے انکاری تھی۔۔۔۔
ساری رات اسکی آنکھوں میں کٹی تھی۔۔ بار بار حجاب کا معصوم چہرا اسکی آنکھوں کے سامنے آ کر اسکا سکون غارت کر رہا تھا۔۔۔۔
اسکا بس نہ چل رہا تھا کہ شاہان کو تہس نہس کر دے۔۔۔۔ وہ خاموش صرف ہادیہ کے دیئے گئے وقت کی وجہ سے تھا۔۔۔
تبھی اسے شاہان سامنے سے اپنی طرف آتا دیکھائی دیا۔۔۔۔ یکدم ہی احد کا فشارِ خون بلند ہوا تھا۔۔۔۔
وہ تو ابھی تک اسکی رات والی بکواس ہی نہ بھولا تھا کجا کہ صبح ہی صبح اسکی شکل دیکھنا۔۔۔
وہ چیل کی سی تیزی سے اسکی طرف بڑھا تھا اور جاتے ہی اسنے پوری قوت سے ایک گھونسہ اسکے جبرے پر رسید کیا تھا۔۔۔ تو سالے کمینے بے غیرت انسان۔۔۔
احد کے یکدم کے حملے سے وہ لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے کو ہٹا تھا۔۔۔ پر اسنے کوئی جوابی کاروائی نہیں کی تھی۔۔۔
وہ ہاتھ گرائے سر جھکائے پشمان سا کھڑا تھا۔۔۔۔ پر احد تو اسکے بدلے ہوئے انداز تب دیکھتا جب ہوش میں ہوتا۔۔۔۔
شاہان کا گال بری طرح سوج گیا تھا۔۔۔۔
اگر حجاب کا بال بھی بیکا ہوا نہ تو تمہاری نسلوں کو تباہ کر دوں گا۔۔۔ اسنے پھنکارتے ہوئے دوسرا گھونسہ شاہان کے ناک پر رسید کیا تھا۔۔۔سیکنڈ کے ہزارویں لمحے میں خون کی دھار نکلتی ہوئی اپارٹمنٹ کے فرش پر نقش و نگار بناتی چلی گئ تھی۔۔۔
بھائی یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔۔۔۔ چھوڑیں شاہان بھائی کو۔۔۔
شور کی آواز سن کر شزا کمرے سے بھاگتی ہوئی باہر نکلی سے اور باہر کی صورتحال دیکھ کر حق دق سی احد کو پکڑ کر شاہان سے دور کرنے لگی۔۔۔۔
مت روکو اسے شزا۔۔۔۔ وہ حق پر ہے۔۔۔۔ اسے مجھے مارنے دو کہ میں اسی قابل ہوں۔۔۔۔ شاہان کی بات پر شزا نے الجھ کر اسے دیکھا۔۔۔
احد نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔۔ اسی قابل ہوں میں۔۔۔۔ کیونکہ میں ایک خود غرض انسان ہوں انتقام کی آگ میں اندھا ہو کر برسوں پرانی دوستی کو بھول گیا۔۔۔۔ بھابھی جیسے رشتے کے تقدس کو پامال کرنے چلا تھا میں ۔۔۔ میں اسی قابل ہوں۔۔۔
وہ پشمانی کے گہرے سمندر میں غوطہ زن انتہائی دقت سے بول رہا تھا
آحد ایک تاسف بھری نگاہ اس پر ڈالٹا واپس مڑ گیا۔۔۔۔
مجھ پر غصہ کر لو آحد چیخ لو چلا لو مار لو۔۔۔ چاہے تو جان سے مار دو۔۔۔۔ پر مجھ منہ مت پھیرنا یار۔۔۔۔ تیرے بنا میرا گزارا نہیں۔۔۔
اس سے پہلے کہ احد وہان سے نکل جاتا شاہان نے زندگی میں پہلی بار صلح کے لئے پہل کرتے ہوئے احد کو پیچھ سے گلے لگا کر اپنی نادانیوں سسک اٹھا۔۔۔
تو جانتا ہے کہ میں ایک جنونی انسان ہوں اپنے ساتھ زیادتی کرنے والے کو کفر کاردار تک پہنچا کر آتا ہوں۔۔۔ ہر بار تو مجھے سمبھالتا تھا اس بار تو ہی روٹھ گیا تو میرا کیا بننا تھا۔۔۔۔ احد نے آنکھیں زور سے میچ کر کھولی۔
ہادیہ ٹھیک کہتی تھی کہ وہ ایک جذباتی انسان تھا۔۔۔۔ غصے میں اپنا ہی نقصان کرنے والا
حجاب کہاں ہے۔۔۔ احد نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے خود سے الگ کیا۔۔۔۔ ہادیہ اسے اسکے گھر چھوڑنے گئ ہے۔۔۔۔
شزا فرسٹ ایڈ باکس لاو اس کمینے کی بینڈیج کروں۔۔۔۔ وہ شاہان کو دھکے سے صوفے پر گراتا شزا سے مخاطب ہوا۔۔۔۔ ایک ہلکی سی مسکراہٹ شاہان کے ہونٹوں کو چھو گئ۔۔۔۔


حجاب۔۔۔۔
احد ابھی ابھی حجاب کے گھر آیا تھا اور دادی سے اسکا پوچھ کر اسکے کمرے میں آیا تھا جہان وہ بیڈ پر تھوڑی گھٹنوں پر جمائے کسی غیر مرئی نقطے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
آواز پر بجلی کی سی تیزی سے سیدھی ہوئی اور احد کو دیکھ کر بنا جوتا پہنے بھاگتی ہوئی اسکے سینے س جا لگئ۔۔۔۔
احد مجھے اپنے ساتھ لیجائیں پلیز میں آپکے بنا نہیں رہ سکتی۔۔۔۔ مجھے لگ رہا تھا جیسے میں نے آپکو کھو دیا۔۔۔۔ میں مر جاوں گئ آپ کے بنا احد۔۔۔
وہ اسکے سینے سے لگی زارو قطار روتے ہوئے سسک رہی تھی۔۔۔۔
میں جانتا ہوں شاہان نے۔۔۔۔ وہ اسکے بال سہلاتا اسے کچھ کہنے کے در پر تھا جب وہ اسکی بات کاٹتی بول اٹھی۔۔۔
مجھے کسی سے کوئی گلہ نہیں ہے احد ۔۔۔ شاہان بھائی حق پر تھے۔۔۔۔ غصے میں تھے۔۔۔۔ غلط تو میرے باپ نے کیا نہ۔۔۔
میں تو شکر گزار ہوں انکی جنہوں نے بڑاپن دیکھاتے ہوئے مجھے نہ صرف عزت سے واپس بھیجا بلکہ مجھ سے معافی مانگ کر بڑا بھائی بن کر میرے سر پر ہاتھ بھی رکھا۔۔۔۔
وہ ابھی بھی اسکے سینے سے لگی دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں سے اسکی شرٹ کو زور سے پکڑے کانپ رہی تھی۔۔۔
چلو اس سب میں ایک یہ بات تو اچھی ہو گئ کہ مجھے میری بیوی سے اسقدر رومینٹک انداز میں اظہار محبت سننے کو ملا وہ اپنی مسکراہٹ دباتا شرارت سے گویا ہوا ۔۔ احد کی بات سے حجاب کو اپنی پوزیشن کا احساس ہوا تو وہ سٹپٹا کر اسکی بازوں کا حصار توڑتی پیچھے ہٹی پر اس سے پہلے کے وہ باہر جاتی احد نے اسکی نرم و گداز بازو کو پکڑا۔۔۔
اور میرے ساتھ جانے کی تو خوب کہی۔۔۔ انشااللہ بہت جلد تمہیں دھوم دھام سے پوری شان و شوکت سے اپنے ساتھ لے کر جانیوالا ہوں۔۔۔۔
ایک شرمگین مسکراہٹ نے اسکے چہرے کا طواف کیا اور وہ دھرکتے دل سے اپنی بازو اسکے ہاتھ سے چھڑاتی باہر بھاگ گئ۔۔۔۔
خوشیاں انکے دروازے پر دستک دیئے کھڑی تھیں۔۔۔۔


کیا ہو رہا ہے۔۔۔
شاہان ابھی ابھی آفس سے گھر آیا تھا۔۔۔ اور ہادیہ کو دھونڈتا ہوا سیدھا کچن میں ہی گیا۔۔۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس گھر میں ہادیہ کی پسندیدہ تریں جگہ وہی تھی۔۔۔
حسب توقع ہادیہ وہیں چولہے پر کچھ بنانے میں مصروف تھی۔۔۔ جب اسنے پیچھے سے جا کر اسے اپنی بانہوں کے حصار میں لیتے ہوئے تھوڑی اسکے شانے پر رکھی۔۔۔۔
ایک دھیمی سی مسکراہٹ نے ہادیہ کے ہونٹوں کا احاطہ کیا۔۔۔۔
کھانا بنا رہی تھی۔۔۔
یار گھر بھرا پڑا ہے نوکروں سے پر تم نے پھر بھی خود کو کاموں میں اسقدر الجھایا ہوا ہے۔۔۔
ہادیہ گھر کا سارا کام ملازموں کے سر پر کھڑی ہو کر کرواتی تھی۔۔۔۔ لیکن کچن اسنے خود ہی سمبھالا ہوا تھا۔۔۔ شام کی چائے ہوتی یا تینوں وقت کا کھانا وہ سب کچھ خود ہی بناتی تھی۔۔۔۔ اور شاہان اسکے کھانے بہت انجوائے کرتا تھا اور باقائدہ فرمائش کر کے اس سے ڈشز بنواتا تھا اور وہ بھی اسکے ایک بار بولنے پر اپنے سب کام چھوڑ خوشی خوشی کچن کا رخ کرتی تھی۔۔۔۔
مجھے اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ہے اور مجھے ایسے ہی سکون ملتا ہے وہ مسکراتی ہوئی گویا ہوئی۔۔۔۔۔
واو فرائڈ رائس۔۔۔
زبردست۔۔۔ وہ ایک ہی جسٹ میں ہادیہ کے سامنے آتا شلف پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔۔ اور پاس پڑے کٹر بورڈ پر کٹی ہوئی سبزیوں سے کئی ہوئی گاجریں اٹھا کر کھانے لگا۔۔۔۔
ہادیہ نے چولہے کی آنچ ہلکی کر کے پانی کا گلاس بھر کر اسکی طرف بڑھایا۔۔۔
چائے پیو گئے۔۔۔۔ وہ اب فرائڈ چکن میں باری باری سبھی سبزیاں ڈال رہی تھی۔۔۔
بالکل پیوں گا۔۔۔۔
تم فریش ہو جاو میں تب تک بناتی ہوں۔۔۔ وہ ساتھ ہی چائے کا پانی چولہے پر رکھنے لگی۔۔۔۔
یار وہ بعد میں پہلے میری بات سنو۔۔۔ وہ پانی پی کر گلاس سائیڈ پر رکھتا پھر سے اسکی طرف متوجہ ہوا۔۔۔
ہاں جی بولو۔۔۔ وہ اب ابلے ہوئے چاولوں کو سبزیوں میں ڈال رہی تھی۔۔۔۔
یار اب سب کچھ تمہارے سامنے ہے۔۔۔
وردہ عالم کو میری پھوپھو کہو یا کچھ بھی پر ہادی میرا بھائی ہے۔۔۔
پھر۔۔۔ ہادیہ نے چاولوں میں نمک کالی مرچ اور سرکہ ڈال کر بندگوبھی اور ابلے ہوِے انڈوں کی لیئر بنا کر چاولوں کو دم پر رکھا اور چائے چھان کر چائے ک کپ ٹیبل پر رکھ کر جار سے اسنیکس نکال کر ساتھ ٹیبل پر رکھے اور ساتھ ہی سبھی بکھیرا سمیٹنے لگی۔۔۔۔
تو یہ کہ وہ ارحمہ میں انٹرسٹڈ ہے۔۔۔۔ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔۔۔
میں تمہیں اسکی ہر طرح سے گاڑنٹی دے سکتا ہوں۔۔۔ باقی جو تم کہو ۔۔۔۔ وہ اپنی بات مکمل۔۔۔کر کے اب سکون۔ سے چائے پینے لگا۔۔۔
یہ تو بہت خوشی کی بات ہے شاہان کہ ارحمہ کا لائف پارٹنر اسکے ماضی کے سے آگاہ ہو۔۔۔ وہ ہاتھ خشک کرتی آ کر اسکے سامنے بیٹھ گئ۔۔۔۔
ٹھیک ہے اسے کہو کہ۔۔۔اپنے گھر سے رشتہ بھیجو میں امی اور ارحمہ سے بات کرتی ہوں۔۔۔
وہ واقعی ہی سچے دل سے ارحمہ کی خوشیوں کے لئے دعا گو تھی۔۔۔


تیرا سال بعد۔۔۔۔۔
مما۔۔۔ بابا کب تک آئیں گئے۔۔۔۔ ہادیہ فون پر کال سننے کے بعد لاوئنج میں آئی تو اسکی آٹھ سالہ بیٹی ندا صوفے پر نیم دراز فرنچ فرائز کھاتے ہوئے استفسار کرنے لگی۔۔۔
اسے دیکھ کر ہادیہ کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔۔۔
ندا یہ سب کیا ہے۔۔۔ صوفوں کے سبھی کشنز نیچے کارپٹ پر بکھڑے پڑے تھے۔۔۔۔
ایل ای ڈی کی آواز آسمان کو چھو رہی تھی وہ صوفے پر آڑی تڑچھی نیم دراز فرائز کھا رہی تھی۔۔۔
کتنی بار منع کیا ہے کہ لیٹ کر نہیں کھاتے۔۔۔ اٹھ کر بیٹھو۔۔۔۔
ہادیہ نے ریمورٹ اٹھا کر والیوم بند کیا۔۔۔
کچھ اندازہ ہے تمہیں کے آج جمعہ ہے اور ٹی وی کا والیوم دیکھو تم۔۔۔۔
ندا تم پر میری کسی بات کا اثر کیوں نہیں ہوتا۔۔۔۔ کتنا بکھیرا بکھیرتی ہو تم۔۔۔ ہادیہ وہیں صوفے پر سر ہاتھوں میں گرا کر بیٹھ گئ۔۔۔
مما میں بابا سے آپکی شکایت کروں گئ۔۔۔۔ ندا اپنی موٹی موٹی آنکھوں میں آنسو لاتی ہوئی بولی۔۔۔
اسی نے تمہیں اسقدر سر پر چڑھایا ہوا ہے۔۔۔۔
وہ غصے سے بولی۔۔۔ ندا میں شاہان کی جان تھی اسکے دونوں بچے شکل و صورت میں باپ کی کاپی تھے۔۔۔۔
ندا کو وہ ہر وقت ہاتھ کا چھالا بنائی رکھتا تھا۔۔۔ یہ ہی وجہ تھی کہ ندا پر باپ کا زیادہ رنگ چڑھا تھا ۔۔۔۔
اول تو شاہان ہادیہ کو اسے ڈانٹنے دیتا ہی نہ تھا اور اگر کبھی بادیہ اسے کچھ کہتی بھی تو اسکا ندا پر اثر کم ہی ہوتا تھا۔۔۔
یہ ہی وجہ تھی کہ وہ جہاں بیٹھتی وہاں خوب بکھیرا ہوتا۔۔۔۔ اور ہادیہ ہر بار سر پکڑ کر بیٹھ جاتی۔۔۔
بابا۔۔۔ تبھی شاہان اور سبحاں وائٹ کلف لگے کرتا شلوار پہنے جمعہ کی نماز ادا کرکے گھر واپس لوٹے۔۔۔۔
سبحان بارہ سال کا تھا پر قد کاٹھ میں وہ شاہان کے برابر ہی لگتا تھا۔۔۔
ہادیہ نے باپ بیٹے کو ایک ساتھ اندر داخل ہوتے دیکھ کر زیر لب ماشااللہ کہا۔۔۔
بابا ماما ڈانٹ رہی ہیں مجھے۔۔۔۔ ندا شاہان کو دیکھ کر روتی ہوئی اسکی طرف بڑھی۔۔۔
ہادیہ بہت بری بات۔۔۔۔ خبردار جو میری پرنسس کو کچھ کہا۔۔۔ شاہان ہادیہ کو کہتا ندا کو ساتھ لگائے صوفے پر آ کر بیٹھا۔۔۔
ماما کام ڈاوں میں کرتا ہوں۔۔۔
اس سے پہلے ہادیہ شاہان کو کوئی جواب دیتی سبحان نے ماں کو پانی کا گلاس بھر کر دیا اور خود سارا بکھیرا سمیٹنے لگا۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ اسکی ماں کو ندا پر سب سے زیادہ غصہ کس بات پر آتا ہے۔۔۔
ہادیہ اسے دیکھ کر مسکرا دی جو دکھنے میں ہو بہو شاہان کی کاپی تھا پر وہ ہادیہ کی فرما بردار تریں اولاد تھا۔۔۔۔
کھانا لگواوں۔۔۔ ہادیہ مسکراتے ہوئے گویا ہوئی۔۔۔
نہیں ماما ابھی پہلے قبرستان جانا ہے۔۔۔۔ چلیں بابا۔۔۔ پھر میری اکیڈمی کا وقت ہو جائے گا۔۔۔۔۔
ہاں چلو۔۔۔
بابا میں بھی۔۔۔ شاہان کے کھڑے ہوتے ہی ندا نے اسکی بازو پکڑ کر التجا کی۔۔۔
سوری پرنسز ۔۔۔۔ پر پکا واپس آ کر آپکو گھمانے لے کر جاوں گا۔۔۔ شاہان نے اسے پیار کرتے پچکار کر کہا۔۔۔
یہ وہ واحد بات تھی جو وہ ہادیہ کی ماننے پر مجبور تھا۔۔۔ وہ کہتی کہ عورتوں کا قبرستان جانا جائز نہیں۔۔۔ اور جو چیز بچپن سے بچوں کو بتائی جائے وہ انکے دماغوں میں اچھی طرح راسخ ہو جاتی ہے۔۔۔ آج یہ بچی ہے کل بڑی ہوگئ اس لئے بہتر ہے کہ یہ گھر میں رہ کر اپنے پیاروں کے لئے دعا کرے۔۔۔۔
دو سال پہلے مصطفی بھی انہیں چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔۔۔ پر اسکی روز ندا کی قبر پر جانے کی عادت کو من و عن شاہان نے اپنایا تھا پہلے وہ روز فجر کی نماز کے بعد وہ ندا کی قبر پر جا کر تلاوت کرتا تھا پر مصطفی کے بعد سے وہ ان دونوں کی قبروں پر جاتا تھا۔۔۔۔
روز وہ فجر کی نماز کے بعد جاتا پر جمعہ کے دن وہ جمعہ کی نماز کے بعد وہاں جاتا تھا۔۔۔
چار سال کی عمر سے وہ سبحان کو اپنے ساتھ لے کر قبرستان جاتا تھا پر پہلے پہل وہ سبحان کو محض جمعہ کے روز ساتھ لے کر جاتا پر مصطفی کے جانے بعد سے وہ سبحان کو روز بلا ناغہ اپنے ساتھ لے کر جاتا۔۔۔۔
پچھلے چونتیس سالوں سے کوئی دن ایسا نہ گیا تھا جب ندا کی قبر پر اسکی مغفرت کی دعا کے لئے کوئی گیا نہ ہو۔۔۔
پہلے شوہر بیٹا اور اب پوتا۔۔۔۔
شاہان نے اپنی بیٹی کانام بھی اپنی ماں کے نام پر ہی رکھا تھا۔۔۔۔
ارے میری شہزادی۔۔۔ یوں اداس تھوری نہ ہوتے ہیں ابھی بابا آ جائیں گِے پھر وہ اپنی پرنسز کو گھمانے لے جائیں گئے۔۔۔ ہادیہ ندا کو اداس بیٹھا دیکھ کر اسے بہلانے لگی۔۔۔
ہادیہ کے اسے گدگدانے پر وہ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔۔۔


ختم شدھ۔۔۔۔