Be Dard Piya By Umme Hania Readelle50176 Episode 47
No Download Link
Rate this Novel
Episode 47
آپو اب کیا ہو گیا۔۔۔۔۔۔ ایک دن گزر گیا۔ ۔۔۔۔ کل کا دن بھی ایسے ہی گزر جائے گا۔ ۔۔۔۔۔ پھر۔ ۔۔۔۔۔ پھر کیا ہو گا آپو۔ ۔۔۔
ارحمہ ہادیہ کی گود میں سر رکھے لیتی تھی۔۔۔۔۔
حوصلہ رکھو ارحمہ۔ ۔۔۔ خدا پر توکل رکھو۔ ۔۔۔ وہ بڑا کارساز ہے۔ ۔۔۔۔
اس سے مدد مانگو وہ دکھی دل کی دعا کبھی رد نہیں کرتا۔ ۔۔۔ دعا کرنے میں جتنی شدت ہو۔ ۔۔ جتنا توکل اور تیقن ہو دعا اتنی ہی جلدی قبول ہوتی ہے۔ ۔۔
تم بالکل بھی پریشان نہ ہو ارحمہ ابھی کل کا دن ہے۔ ۔۔۔ تم نماز پڑھ کر سو جاو میں آتی ہوں۔ ۔۔۔
وہ ارحمہ کے سر کا بوسہ لے کر چھت پر آ گئ۔ ۔۔۔۔۔
ارحمہ کو تو اس نے تسلی دے دی پر خود اب وہ مسلسل ٹینشن میں گھری تھی۔ ۔۔۔
بہت سوچ بچار کے تحت بلآخر اس نے شاہان سے مدد لینے کا سوچا۔ ۔۔۔
اسی غرض کے تحت اسنے شاہان کا نمبر ڈائل کیا۔ ۔۔۔ پہلی ہی بیل پر فون اٹھا لیا گیا تھا۔ ۔۔۔
وہ جو اپنے کمرے میں صوفے پر بیٹھا سامنے پڑے گلاس ٹیبل پر لیپ ٹاب رکھے اپنی پریزٹیشن بنانے میں مصروف تھا اور اب خاصی تھکاوٹ محسوس کر رہا تھا۔ ۔۔۔ جب اسکے پاس پڑے فون کی بیل بجی۔ ۔۔۔
اسکرین پر نظر پڑتے ہی وہ کھل اٹھا تھا۔ ۔۔ پہلی ہی بیل پر اس نے بنا تاخیر کے فون اٹھا لیا تھا۔ ۔۔۔۔
زہ نصیب۔۔۔۔۔ آج تو بڑے بڑے لوگوں نے یاد فرمایا ہے ہمیں ۔۔۔۔
وہ بڑے ریلیکس انداز میں لیپ ٹاپ سائیڈ پر ہٹا کر خود صوفے سے ٹیک لگاتا ٹانگیں سامنے ٹیبل پر رکھ کر ایک ہاتھ صوفے کی پشت پر پھیلائے دوسرے سے فون کان کو لگائے باتیں کر رہا تھا۔ ۔۔۔۔
ویسے تمہیں پتہ ہے کہ لوگ کہتے ہیں اگر شوہر تھکا ہارا گھر آئے اور اسے سامنے بنی سنوری بیوی نظر آئے تو اسکی آدھی تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے۔ ۔۔۔۔ پر پتہ ہے کیا۔۔۔۔۔۔ مجھے تو لگ رہا ہے کہ میں اپنی بیوی کی محض آواز سن کر ہی فریش ہو گیا ہوں۔ ۔۔۔
شاہان کیا تم پلیز تھوڑی دیر کے لئے سیریس ہو کر میری بات سن سکتے ہو۔ ۔۔۔
ہادیہ کے لہجے سے اسے بات کی سنگینی کا علم ہوا تھا۔ ۔۔۔۔
ہاں بولو میں سن رہا ہوں۔ ۔۔۔ وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔ ۔۔۔۔۔
مجھے تمہاری مدد چاہیے۔ ۔۔۔ کرو گئے۔ ۔۔۔ وہ اب بھی شش و پنج میں مبتلا تھی۔۔۔
تمہارے لئے تو جان بھی حاظر ہے پھر مدد کیا چیز ہے۔ ۔۔۔ وہ پھر سے پٹری سے اترا تھا۔ ۔۔
ہادیہ آہستہ آہستہ کچھ سوچتے ہوئے اسے ساری بات بتا رہی تھی۔ ۔۔۔
اب تم مجھ سے کیا چاہتی ہو۔ ۔ وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔ ۔۔۔
وہ تصویریں۔ ۔۔۔ وہ بات کرتی کرتی رک کر دیوار کی مندیر پر ہاتھ سے لکیریں کھینچنے لگی۔ ۔۔۔
ہوں۔ ۔۔۔ ارحمہ کو تو میں نے دیکھ رکھا ہے ۔۔۔۔۔ تم اس لڑکے کی کوئی تصویر مجھے سینڈ کر دو باقی میں دیکھ لوں گا۔ ۔۔۔
کل تک تمہارا کام ہو جائے گا۔ ۔۔۔۔
ایک اور بات کہنی تھی۔ ۔۔۔ وہ آہستہ سے بولی۔ ۔ ۔
جی فرمائیں۔ ۔۔۔ ہم تو ہمہ تن گوش ہیں۔ ۔۔۔۔
تم ارحمہ کی ان تصویروں کو نہیں دیکھو گئے۔ ۔۔۔۔ پلیز۔ ۔۔۔ اسے میری ریکویسٹ سمجھ لو۔ ۔۔۔
خدا کو مانو لڑکی۔ ۔۔۔ کتنا سسپینس کریٹ کرتی ہو۔ ۔۔۔ مجھے لگا کہنے والی ہے۔ ۔۔۔ آئی لو یو۔ ۔۔۔۔
مطلب کھودا پہارا نکلا چوہا۔ ۔۔۔
مجھے بھلا تمہاری بہن میں کیا دلچسپی جو میں اسکی تصویریں دیکھوں گا۔ ۔۔۔
مجھے تو تمہیں دیکھنے میں دلچسپی ہے ہو سکے تو اپنی کوئی تصویر سینڈ کر دو۔ ۔۔۔۔۔
ہادیہ کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ رینگ گئ۔ ۔۔ شاہان کی نا ختم ہونے والی باتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ ۔۔۔۔ اور وہ جانتی تھی کہ اسکی باتیں اتنی جلدی ختم۔ ۔۔ہونے والی نہیں۔ ۔۔۔۔
“““
ایک بلیک کلر کی مرسڈیز اس چھوٹے سے محلے کی نکر پر آ کر رکی ۔۔۔۔۔۔ کیونکہ گاڑی مزید اندر نہیں جا سکتی تھی۔ ۔۔۔
کونسا گھر ہے۔ ۔۔۔ مسز خان نے اندر بیٹھے بیٹھے ہی درائیور سے پوچھا۔ ۔۔۔۔
گھر کی نشاندہی ہوتے ہی وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر نکلی تھیں اور نزاکت سے چلتی ہوئی اس گھر کے دروازے پر جا کر دستک دینے لگیں۔ ۔۔۔ وہ آس پاس کے ماحول اور لوگوں پر ایک حقارت زدہ سی نظر ڈال کر دوبارہ سے دروازے کی جانب متوجہ ہوئی جو کہ اب کھل چکا تھا۔ ۔۔۔۔
دروازہ کھولنے والی ہادیہ تھی۔ ۔۔۔۔ جو کہ سامنے والی عورت کو یک ٹک سی دیکھ رہی تھی۔ ۔۔۔۔
مجھے ہادیہ سے ملنا ہے۔ ۔۔ وہ نخوت سے بولی۔ ۔۔۔۔
جی میں ہادیہ ہی ہوں۔ ۔۔۔ آئیے آپ اندر تشریف لائیے۔ ۔۔۔
میں شاہان کی ماں ہوں۔ ۔۔۔۔ شاہان کو تو جانتی ہی ہو گئ نہ۔ ۔۔۔۔
وہ بیٹھک کا طائرانہ جائزہ لیتی طنزیہ بولی۔ ۔۔۔۔۔
جی۔ ۔۔۔ میں اسے بھی جانتی ہوں اور آپکو بھی بہت اچھے سے جانتی ہوں۔ ۔۔۔ وہ انکے سامنے موجود سنگل صوفے پر بیٹھ گئ۔ ۔۔۔
دیکھو لڑکی۔ ۔۔۔ مجھے جانتی ہو تو بہت ہی بہتر ہے۔ ۔۔۔ پھر تو یہ بھی جانتی ہو کہ میں بڑانڈڈ چیزوں کے سوا کوئی چیز استعمال نہیں کرتی۔ ۔۔۔ پھر تم نے یہ سوچ بھی کیسے لیا ۔۔۔۔
کہ میں تم جیسی گلی گلی منہ مارنے والی لوئر مڈل۔ کلاس کم ذات اور بد۔شکل۔ ۔۔ لڑکی۔ ۔۔کو اپنے بیٹے کے لِئے پسند کروں گئ۔ ۔۔۔۔
ارے تم تو میرے گھر کی۔ ۔۔نوکرانی بننے لائق نہیں ہو اور بات کرتی ہو بہو بننے کی۔ ۔۔۔
الفاظ تھے یا نشتر جو کہ انی کی مانند ہادیہ کے دل میں پیوست ہوئے تھے۔ ۔۔۔۔
بہت اونچی اڑان بھر رہی ہو لڑکی۔ ۔۔۔ منہ کے بل گرو گئ۔ ۔۔۔۔۔
کیونکہ میرے بیٹے کو عادت ہے آئے دن اپنے منہ کا ٹیسٹ بدلنے کی۔ ۔۔۔
میں تم جیسیوں کی فطرت کو بخوبی جانتی ہوں۔ ۔۔۔
تم اپنے لئے کوئی اور امیر زادا دیکھ لو۔ ۔۔۔ میرے بیٹے کی جان چھوڑو بی بی۔ ۔۔۔۔
یہ لو بلینک چیک۔ ۔۔۔ جتنا جی چاہے اس میں اماونٹ بھر لو۔۔۔ پر میرے بیٹے کا خیال ۔ دل ۔سے نکال دو۔ ۔۔۔
انہوں نے پرس کی زپ کھول کر بلینک چیک ہادیہ کے منہ پر مارا جو کہ اسکے چہرے سے پھسل کر نیچے زمین پر گر گیا۔ ۔
ہاں تم کچھ دنوں تک اسکا دل بہلا کر اسکی تسکیں کا سامان کر سکتی ہو۔ ۔۔۔۔
اس کے لئے میں تمہیں اپنے بیٹے سے الگ سے بھی خوش کر دوں گئ۔ ۔۔۔۔۔ لیکن میرے بیٹے کا دل بھر جانے کے بعد تم اپنے لئے اور شکار دھونڈ سکتی ہو کیونکہ میں جانتی ہوں تم۔ ۔۔جیسیوں کا تو کام ہی یہ ہے۔ ۔۔۔
ّہادیہ نے اپنی آنکھیں زور سے میچ لی دو آنسو ٹوٹ کر اسکے گال پر پھسلیں۔ ۔۔۔
پر جب بولی تو آواز مستحکم تھی۔ ۔۔۔
چلیں سوچتے ہیں کچھ اس بارے میں بھی۔ ۔۔۔
پہلے تو میں ابھی سنجیدہ نہیں ہوئی تھی اس معاملے میں۔ ۔۔۔ پر اب لگتا ہے کہ سنجیدہ ہونا پڑے گا۔ ۔۔۔
وہ ضبط کی انتہاوں کو چھوتے ہوئے تحمل سے۔ بولی تھی۔ ۔۔۔
گہری رات چار سو اپنے پر پھیلائے ہوئے تھی۔ ۔۔۔۔۔
سردی کر باعث رات کے دس بجے ہی آدھی رات کا گمان گزرتا تھا۔ ۔۔۔
سردی کی شدت کے باعث بنی روح سر شام ہی انے لحافوں میں دبک جاتے تھے۔ ۔۔۔
ایسے میں اس کمرے کے وسط میں موجود پلنگ کی ایک سائیڈ پر ارحمہ لحاف میں دبکی سسو رہی تھی۔ ۔۔۔
جبکہ اسی پلنگ کے دوسرے سرے پر نیم دراز ہادیہ کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔ ۔۔۔۔
بار بار اس کے کانوں میں مسز خان کے الفاظ گھونج رہے تھے۔ ۔۔۔۔
تبھی اسے کھڑکی کے باہر کھٹکے کی آواز سنائی دی۔ ۔۔۔
ہادیہ نے چونک کر اس جانب دیکھا۔ ۔۔۔ ابھی وہ کچھ سمجھ بھی نہیں پائی تھی کہ کوئی کھڑکی کود کر اندر داخل ہوا۔ ۔۔
اس سے پہلے کہ خوف کے باعث ہادیہ کے حلق سے ایک دلخراش چینخ برآمد ہوتی آنے والے نے سختی سے اس کے منہ پر ہاتھ جما کر اسکی چیخ کا گلا گھونٹا۔ ۔۔۔
تم۔ ۔۔۔۔ تم کس مٹی سے بنے ہو۔ ۔۔۔ ہمیشہ ایسے ہی کام کر کے میرا دل ڈھرکاتے ہو۔ ۔۔
ہادیہ نے اپنے سامنے مسکراتے کھڑے شاہان کو خوف اور دہشت سے پھیلی آنکھوں سے دیکھ کر اس کا ہاتھ پیچھے ہٹایا اور اپنا سانس بحال کر کے وہ ایک چور نظر بے خبر سوئی ارحمہ پر ڈال کر آہستہ سے غرائی تھی۔ ۔۔۔
وہ دراصل۔ ۔۔۔۔
شش۔ ۔۔۔۔ شاہان سر کھجاتا ابھی محض اتنا ہی بولا تھا کہ ہادیہ نے اسے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ کر چپ رہنے کا اشارہ کیا۔ ۔۔۔
ہادیہ گھبرائی نظروں سے ادھر ادھر دیکھتی بلی کی چال چلتی شاہان کا ہاتھ پکرتی کمرے سے باہر نکلی۔ ۔۔۔۔
باہر سردی اور دھند کے باعث ہو کا عالم تھا۔ ۔۔۔
باہر نکلتے ہی ایک سرد یک بستہ ہوا کا جونکھا ہادیہ سے ٹکرا کر اسے کپکپانے پر مجبور کر گیا۔ ۔۔۔۔
اسکا کمرا بند ہونے کے باعث باہر کی نسبت کافی گرم تھا۔ ۔۔۔
دوسرا وہ گرم لحاف سے اٹھ کر بنا گرم شال کے سادہ سے ڈوپٹے کے ساتھ باہر نکلی تھی۔ ۔۔۔
تم یہاں اس وقت کیا کرنے آئے ہو۔ ۔۔ ہادیہ بیٹھک میں پہنچ کر اسکا ہاتھ چھوڑتی اس پر غرائی تھی۔ ۔۔۔
کیا تم نے قسم کھا رکھی ہے ہر پل میری جان ہلکان کئے رکھنے کی۔ ۔۔۔۔۔
افف یار۔ ۔۔۔ کتنا بولتی ہو تم۔ ۔۔۔ دوسرے بندے کو تو بولنے کا موقع دیا کرو۔ ۔۔۔
وہ بنا اسکی باتوں کا اثر لئے صوفے پر نیم دراز ہوتا بولا تھا۔ ۔۔۔
جی فرمائیے۔ ۔۔۔
ہادیہ اپنے دونوں ہاتھ باندھتی اسکے مقابل آئی۔ ۔۔۔۔۔
تمہارا کام کر دیا تھا میں نے اس لئے یہ تصویریں دینے آیا تھا۔ ۔۔۔
اس نے منہ بناتے ہوئے ایک خاکی لفافی ٹیبل پر رکھا۔ ۔۔۔
اسکی بات سن کر ہادیہ کے تنے اعصاب دھیلے پڑے۔ ۔۔۔۔ اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس لفافے کو اٹھایا۔ ۔۔۔
تم نے یہ سب کیسے کیا۔ ۔۔۔۔ اسکی آنکھیں تک مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔ اس کے چہرے پر یکدم پھوٹنے والی روشنی بتا رہی تھی کہ وہ بہت خوش ہے۔ ۔۔۔
تم آم کھاو گھٹلیاں نہ گنو۔ ۔۔۔ وہ پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالتا اس کے بالکل مدمقابل ہوا۔ ۔۔۔
یار کزن سے ہیلپ لی تھی۔ ۔۔۔ باقی تمہیں کل صبح نیوز سے پتہ چل جائے گا۔ ۔ ۔۔۔
اس کی کوئی اور کاپی تو اس لڑکے کے پاس نہیں۔ ۔۔۔
اس کی سبھی ہارڈ اور سوفٹ کاپیز میں ڈیلیٹ کر چکا ہوں۔ ۔۔۔ یہ پرنٹس میں آخری کاپی ہے جو کہ میں تمہارے پاس لے آیا۔ ۔۔۔
ویسے انہیں ابھی تک میں نے دیکھا نہیں ہے۔ ۔۔۔ شاہان معصوم سی صورت بنائے بولا۔ ۔۔۔
سچ کہہ رہے ہو۔ ۔۔۔ وہ مشکوک ہوئی۔ ۔۔۔
یار تمہاری قسم۔ ۔۔۔ شاہان نے ہادیہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی۔ ۔۔۔
دور ہٹو۔ ۔۔۔ ہادیہ کو تو جیسے کرنٹ لگ گیا ہو فوراں سے دو قدم پیچھے ہٹی۔ ۔۔۔۔
خبردار جو میرے سر کی قسم کھائی تو۔ ۔۔۔
اچھا یار پھر ہمارے ہونے والے بچوں کی قسم۔ ۔۔۔۔ وہ مسکراتی آنکھوں سے گویا ہوا۔ ۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ۔ ۔۔۔ ہادیہ کے ماتھے پر بل پڑے۔ ۔۔۔ وہ جا کر سامنے موجود صوفے پر بیٹھ گئ۔ ۔۔۔
کیا ہوا بچے نہیں چاہیے۔ ۔۔ ایسے تو بڑی مشکل ہو جائے گئ۔ ۔۔۔ وہ مضنوئی پریشانی سے ہادیہ کے ساتھ آ کر بیٹھ گیا۔ ۔۔
بچوں کے لئے تو مجھے پھر دوسری شادی کرنی پڑے گئ یار۔ ۔۔ وہ ہادیہ کا ہاتھ تھام کر پریشانی سے گویا ہوا۔ ۔۔۔
بکواس نہیں شاہان۔ ۔۔۔ ہادیہ ایک جھٹکے سے اس کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑاتی خونخوار نگاہوں سے اسے دیکھتی ہوئی بولی۔ ۔۔۔
ہاہاہا۔ ۔۔ شاہان کا جاندار قہقہ فضا میں بلند ہوا۔ ۔۔۔
یار اب ایک دم لڑاکا بیوی لگ رہی ہو۔ ۔۔۔ وہ یکدم ہی صوفے پر ہادیہ کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔ ۔۔۔۔
شاہان کی اس حرکت سے ہادیہ دم سادھے بیٹھی رہی۔ ۔۔۔
شاہان یہ تمہارا بیڈ روم نہیں میرے باپ کا گھر ہے۔ ۔۔۔ فوراں سے اٹھو۔ ۔۔ ورنہ تم مجھے جانتے ہو۔ ۔۔۔
دل کی منتشر ہوتی نظروں سے آنکھیں چڑاتے ہوئے وہ اسی پر چڑھ دوری۔ ۔۔۔
افف ظالم لڑکی۔ ۔۔۔ حسرت ہی رہی میری کہ کبھی تم بھی مجھ سے محبت کرو۔ ۔
اگر واقع تم اس رشتے کو لے کر سنجیدہ ہو تو اپنے گھر سے کسی بڑے کو بھیجو۔۔۔۔ جو یہاں آ کر عزت سے میرے باپ سے تمہارے لئے میرا ہاتھ مانگے۔ ۔۔۔ اور اگلے جمعے مجھے یہاں سے رخصت کروا کر لے جاو۔ ۔۔۔ اور اگر ایسا نہ کر سکو تو اگلے جمعے مجھے طلاق کے کاغذات بھجوا دینا۔ ۔۔۔ ورنہ دوسری صورت مجھے کورٹ سے رجوع کرنا پڑے گا۔ ۔۔۔
وہ صوفے سے کھڑی ہوتی کھڑکی کے پاس جا کر کھڑی ہو گئ۔ ۔۔۔
اس کے لہجے میں چٹانوں سی سختی تھی۔ ۔۔۔
مسز خان کے صبح والے الفاظ ابھی تک اسکے کانوں میں بازگشت کر رہے تھے۔ ۔۔۔۔
یہ فیصلہ اتنی اچانک کیسے لے لیا تم نے۔ ۔۔۔ ابھی تو مجھے خود کو ثابت کرنے کے لئے دی گئ تمہاری مدت بھی پوری نہیں ہوئی۔ ۔ پھر تم۔ ۔۔
وہ بھی سنجدگی سے بولتا ہوا اس کے پاس ہی آ کر کھڑا ہو گیا جب اس نے شاہان کی بات کاٹی۔ ۔۔
پھر یہ کہ پہلے بھی وہ سب میں نے ہی کہا تھا۔ ۔۔ اور اب میں ہی اپنے بیان میں ترمیم کر رہی ہوں۔ ۔۔۔
لیکن یار اتنی جلدی میں مام ڈیڈ کو کیسے راضی کروں گا۔ ۔۔۔
یہ میرا مسلہ نہیں۔ ۔۔ تمہیں میں سب کچھ بتا چکی ہوں۔ ۔۔۔ باقی انتخاب کا اختیار تمہارا ہے۔ ۔۔۔
اپنی بات کہہ کر وہ وہاں رکی نہیں بلکہ بیٹھک سے باہر نکل گئ۔ ۔۔
شاہان کے چہرے واضح پریشانی ہوادیدہ تھی۔ ۔۔۔۔
جاری ہے۔ ۔۔
