Be Dard Piya By Umme Hania Readelle50176 Episode 14
No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
رات کا تقریباً دوسرا پہر تھا ۔۔۔۔ ہر طرف بارش یوں چھاجوں چھاج برس رہی تھی کہ جیسے سبھی کچھ اپنے ساتھ بہا لے جائے گئ۔۔۔۔۔ کیونکہ بارش یکدم شروع ہوئی تھی اس لئے ہر طرف ایک ہڑبونگ مچ گئ تھی اپنے گھر کے چھوٹے سے صحن میں سوئی حجاب بھی یکدم بارش کے تواتر سے برسنے سے ہربرا کر اٹھی تھی۔۔۔۔ سب سے پہلے اس نے جوتا پہنتے ہی اپنے فالج زدہ باپ کی چارپائی (جس کے نیچے انہیں اندر باہر لانے لیجانے کی آسانی کی خاطر ٹائر لگوائے ہوئے تھے) اسے دھکیل کر اندر کمرے میں پہنچایا اتنے میں دادی بھی اٹھ کر صحن سے چھوٹی موٹی چیزیں اٹھا کر اندر رکھنے لگی تھیں۔۔۔ حجاب نے ان کے ساتھ مل کر سب کچھ سمیٹا اور پھر بند ہوتی آنکھوں کیساتھ وہیں برامدے میں بچے تخت پر لیٹ کر سو گئ۔۔۔۔ ابھی اسے سوئے بمشکل آدھا گھنٹہ ہی ہوا تھا جب دادی نے اسے جھنجھور کر اٹھایا۔۔۔۔ کیا ہوا دادی ۔۔۔۔ یکدم دادی کے جھنجھورنے سے وہ نیند سے ڈر کر جاگی تھی۔۔۔۔ باہر بارش نے مزید زور پکڑ لیا تھا موسلادھار بارش کیساتھ چلتی تیز طوفانی ہوائیں جو کہ لگتا تھا کہ لوگوں کے گھروں کے دروازے تک اکھیڑ کر ساتھ ہی لے جائیں گئ اور گرجتی چمکتی شدید بجلی ماحول کو مزید ہیبت ناک بنا رہی تھی۔۔۔۔
بیٹا تمہارے ابا کو پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے آکر اسے دیکھو۔۔۔۔ دادی کی گھبرائی ہوئی آواز حجاب کی سماعتوں سے ٹکرائی تو وہ ننگے سر ننگے پاوں اندر کو بھاگی۔۔۔۔۔ اندر اسکے ابا کی طبیعت واقع بہت خراب تھی منہ سے جھاگ نکل رہی تھی جبکہ سر ایک طرف کو دھلک رہا تھا۔۔۔۔ آنکھیں الٹی ہونے کو تھیں۔۔۔۔۔ انکی ایسی حالت دیکھ کر حجاب کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئ۔۔۔۔ بے ساختہ اسکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے تھے۔۔۔۔ پورے بدن پر کپکپی طاری ہو گئ تھی۔۔۔۔ یا اللہ میں اس وقت کیا کروں۔۔۔۔ وہ اپنے منہ پر دونوں ہاتھ جمائے اپنی سسکیاں روکنے کی کوشش میں تھی۔۔۔۔ ایک تو وہ دونوں اکیلی عورتیں اوپر سے باہر موسم کے تیور۔۔۔ حجاب کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ابا کو ایسے موسم میں کیسے ہسپتال لے کر جایا جائے۔۔۔۔ اور اوپر سے سونے پر سہاگہ یہ تھا کہ مہینے کا آخر ہونے کے باعث اسکے پاس محض یونیورسٹی آنے جانے کا کرایہ ہی بچا تھا۔۔۔۔ اسنے کچھ سوچتے ہوئے الماری سے اپنا کلچ نکلال کر پیسے چیک کئے۔۔۔۔ اس میں محض دو سو تیس روپے تھے۔۔۔۔ آنکھوں سے ایک بار پھر سے بے بسی کے آنسو چھلک پڑے تھے۔۔۔۔ اس نے ایک نظر اپنے ہاتھ میں پکڑے پیسوں کی طرف دیکھ کر دوسری نظر اپنے باپ پر ڈالی جو کہ حال سے بے حال ہوتا چارپائی پر تڑپ رہا تھا۔۔۔۔ پچھلے دو دن سے ابا کی دوائیاں ختم تھی اور ابھی اکیڈمی سے سیلری ملنے میں کچھ دن رہتے تھے اس لئے جیسے تیسے کام چل ہی رہا تھا پر آج کے واقعہ نے حجاب کے اوسان خطا کر دیئے تھے۔۔۔ یا اللہ مجھے اتنا لاچار اور بے بس نہ بنا کہ میرا باپ یوں میرے سامنے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑ دے۔۔ اس نے پیسے واپس کلچ میں ڈالنے کے لئے کلچ کھولا ہی تھا کہ اسکی نظر کلچ کی سائیڈ سے چپکے کارڈ پر پڑی۔۔۔۔ اس نے کارڈ باہر نکال کر دیکھا وہ اس روز والا احد کا کارڈ تھا جس روز اس نے حجاب کو اکیڈمی سے اسکے گھر ڈراپ کیا تھا اور واپسی پر اسے اپنا کارڈ تھمایا تھا۔۔۔۔ ایک پل لگا تھا اسے فیصلہ کرنے میں۔۔۔۔ وہ بہت خودار لڑکی تھی کبھی کہیں پر بھی اسے اپنی خوداری کے ساتھ سمجھوتہ منظور نہ تھا پر اب حالات ایسے تھے کہ وہ یا تو اپنی خوداری بچا بچا سکتی تھی یا پھر اپنے باپ کی جان۔۔۔۔ اور نے اپنے باپ کی خاطر اپنی خوداری کو قربان کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔۔۔۔ اس نے برق رفتاری سے سامنے ٹیبل پر پڑا اپنا موبائل اٹھایا تھا اور کارڈ سے دیکھ کر اس پر نمبر ڈائل کرنے لگی۔۔۔۔۔
آج کل کام کے سلسلے میں مصطفی کچھ زیادہ ہی مصروف تھا۔۔۔ اس لئے اسکے گھر آنے جانے کا کوئی معقول وقت نہ تھا کبھی کبھی تو دو دو دن گھر نہ آتا۔۔۔ نہیں تو رات گئے لوٹتا اور صبح فجر کی اذان کیساتھ ہی واپس چلا جاتا۔۔۔۔ آج بھی وہ پورے ایک دن بعد رات کے ایک بجے گھر واپس آیا تھا۔۔۔۔ حال سے بے حال تھکن سے چور بدن اور شکن آلود کپڑے۔۔۔۔ جیسے ہی اس نے کمرے میں قدم رکھا وہیں پر ٹھٹک گیا تھا۔۔۔۔ سامنے ہی بیڈ کے پاس نیچے کارپٹ پر بیٹھی ندا درد سے بےحال دوہری ہوتی کراہ رہی تھی۔۔۔۔ تیر کی سی تیزی سے مصطفی اسکی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔ کیا ہوا ندا تم ٹھیک ہو۔۔۔ وہ ندا کے پاس ہی بیٹھ کر اسکی کمر سہلانے لگا تھا۔۔۔۔ مم مص مصطفی۔۔۔ آہ۔۔۔ درد سے کراہتی اسکی آواز بھی نہیں نکل رہی تھی۔۔۔۔ ابھی ڈاکٹر کی دی گئ تاریخ میں کچھ دن باقی تھے۔۔۔ پر اب یکدم ہی اسکی طبیعت خراب ہو گئ تھی۔۔۔ کچھ دیر تک سوچنے کے بعد مصطفی نے الماری سے بچے کی پیدائش کی غرض سے تیار کردہ بیگ جو کہ اسنے احتیاطاً پچھلے ہفتے ہی خرید کر رکھا تھا اٹھایا۔۔۔۔ اور ساتھ ہی ندا کو اپنے بازوؤں میں اٹھاتا کمرے سے باہر لے کر بھاگا۔۔۔۔ اسنے گاڑی کے قریب پہنچ کر ندا کو اختیاط سے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹایا اور خود گاڑی کو ہواوں میں اڑاتا ایک سو بیس کی سپیڈ سے لے کر ہاسپٹل کی طرف دوڑایا۔۔۔۔۔ پچھے اس سناٹوں میں گھری حویلی کے مکینوں کو کوئی ہوش نہ تھی کہ یہاں کیا ہو رہا تھا۔۔۔۔
آج خلاف معمول دوپہر کے بارہ بجے شاہان اپنے گھر میں موجود تھا۔۔۔۔ ہال میں پڑے مخملیں صوفے پر بیٹھے پاوں سامنے پڑے گلاس ٹیبل پر رکھے نیم دراز ہوا وہ سامنے دیوار پر نسب ساٹھ انچ کی ایل ای ڈی پر کوئی ٹاک شو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ اسکے پاوں مسلسل ہل رہے تھے جو کہ اسکے اندر کے خلفشار کی نشاندہی کرتے تھے۔۔۔۔۔ وہ بیٹھا وہیں پر تھا پر ذہنی طور پر اسکی سوچ کے پنچھی کہیں اور ہی پرواز کر رہے تھے۔۔۔۔ ارے بھائی خیریت آج آپ گھر پر کیسے۔۔۔۔ وہ کسی گہری سوچ کے سمندر میں غوطہ زن تھا جب اسکے پندرہ سالہ بھائی ازہان نے آ کر اسے سوچ کی وادی سے باہر کھینچا۔۔۔۔۔ مجھے چھوڑو تم یہ بتاو کہ تم آج گھر کیسے ہو افلاطون کے جانشین کو پتہ ہے کہ تم آج گھر پر ہو سکول نہیں گئے۔۔۔ شاہان نے اپنے ساتھ جڑ کر بیٹھے بھائی کو پیار سے دیکھ کر مسکرا کر استفسار کیا۔۔۔۔۔ آہستہ بولیں بھائی بابا ہیں وہ ہمارے اور اگر انہوں نے سن لیا نہ تو آپ جانتے ہیں کہ قیامت آ جائے گئ۔۔۔۔ ازہان نے شاہان ک طرف جھک کر رازدرانہ انداز میں کہا۔۔۔۔ کیا وہ بھی گھر پر ہیں اس وقت۔۔۔۔ شاہان کو ٹھیک ٹھاک شاک لگا تھا۔۔۔۔ آپکو نہیں پتہ آج پھپھو اور ہادی بھائی آ رہے ہیں اس لئے۔۔۔۔۔ اوہ اچھا تو یہ بات ہے افلاطون کے جانشین کی اس وقت گھر موجودگی کی۔۔۔۔ شاہان جی بھر کر بدمزا ہوا تھا۔۔۔ اپنے باپ سے اسکی کبھی نہیں بنی تھی۔۔۔۔ ہاں ماں کی ضرور وہ بات سنتا تھا پر اپنے باپ کو کسی خاطر میں نہیں لاتا تھا۔۔۔۔۔ وہ باپ سے وابسطہ رشتے بھی اسے کسی صورت پسند نہ تھے کیونکہ وہ بھی اسے بالکل اپنے باپ جیسے ہی لگتے تھے۔۔۔۔ اس کا دل گھر سے اکتا چکا تھا اس لئے وہ کچھ سوچتا ہوا کار کی چابی اٹھا کر ہال سے باہر نکلا تھا۔۔۔۔ بی بی جی اس مہینے میری
میری بیٹی کی شادی ہے اگر آپ میری تنخواہ کے علاوہ میری کچھ مدد کر دیتی تو میں پوری زندگی آپ کی خدمت کرتے گزار دوں گئ۔۔۔ بس ایک بار میں خیر خیریت سے اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاوں ۔۔۔۔۔شاہان باہر نکلنے ہی والا تھا جب اسے ایک سائیڈ پر خستہ حال لباس میں ملبوس اپنے گھر میں صفائی کرنے والی عورت اپنی ماں کے سامنے گڑگڑاتی ہوئی دیکھائی دی۔۔۔۔ دیکھو مائی سکینہ اگر تو سکون سے کام کرنا ہے تو کرو ورنہ مجھے کام کرنیوالیوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔۔۔۔ تم ۔لوگوں کے تو نخرے ہی ختم نہیں ہوتے۔۔۔۔ کبھی تم لوگوں کو ایڈوانس تنخواہ چاہیے تو کبھی کوئی مسلہ اب تمہیں بیٹی بیاہنی ہے۔۔۔ اب کیا بندہ کماتا صرف تم ہی لوگوں کے لئے ہے۔۔۔۔۔ اسے اپنی ماں کی گرجدار آواز سنائی دی۔۔۔ ساتھ ہی اسے ایک اور آواز سنائی دی۔۔۔۔ یقین مانو شاہان اپنی وجہ سے کسی دوسرے ضرورت مند کے چہرے پر مسکراہٹ بکھرتی دیکھنا جس قدر سکون قلب کا باعث بنتی ہے نہ دنیا کی کوئی اور چیز آپکو اسقدر سکون مہیا نہیں کر سکتی۔۔۔۔ شاہان نے ایک نظر مائی سکینہ کے اترے ہوئے چہرے کو دیکھا اور دوسری نظر اپنی ماں کے غرور ٹپکاتے چہرے کیطرف۔۔۔۔۔ اور فوراً سے ہال کا دروازہ کھول کر باہر نکل آیا۔۔۔۔ سنو مائی سکینہ اس نے روش پر چلتی باہر کو جاتی مائی سکینہ کو دیکھ کر آواز دی۔۔۔۔ وہ عورت اپنے دوپٹے کے پلو سے اپنی نم آنکھیں پونجھتی پیچھے کو مڑی تھی۔۔۔ جی چھوٹے صاحب۔۔۔۔ وہ مودبانہ بولی۔۔۔۔ تمہاری بیٹی کی شادی ہے نہ۔۔۔ جی صاحب جی۔۔۔۔ وہ عورت سر جھکا کر یوں گویا ہوئی جیسے کسی بہت بڑے جرم کی مرتکب ہو۔۔۔۔ یہ لو یہ کچھ پیسے رکھ لو تمہارے کام آئیں گئے۔۔۔۔ شاہان نے اپنے والٹ سے پانچ پانچ ہزار کے کئی نوٹ نکال کر اس عورت کو تھمائے جو کے ہونق بنی شاہان کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ یکدم ہی اسکی نم آنکھوں سے ایک الوہی خوشی کی لہر پھوٹی تھی۔۔۔ چھوٹے صاحب آپکا بہت بہت شکریہ خدا آپکو بہت خوش رکھے آپکی ہر دلی مراد پوری کرے۔۔۔۔۔ وہ عورت مسکراتے چہرے کے ساتھ اسے پے در پے دعاؤں سے نواز رہی تھی۔۔۔۔ شاہان کو اپنے ہی احساسات سمجھ نہیں آ رہے تھے۔۔۔۔ آج تک وہ ملازموں کو ستاتا ہی آیا تھا۔۔۔ سب مالزمین اس سے ناک تک عاجز آئے ہوئے ہوتے تھے۔۔۔۔ پر آج یوں اس عورت کا اسے دعائیں دینا۔۔۔۔۔ شاہان سمجھنے سے قاصر تھا کہ وہ اس وقت کیا محسوس کر رہا ہے۔۔۔۔ وہ بھاری دل کیساتھ گھر سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
ہسپتال پہنچتے ہی مصطفی کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا تھا اور فوراً سے ہی ندا کا ٹریٹمنٹ شروع کر دیا گیا تھا۔۔۔۔ ندا کی کنڈیشن بہت خراب تھی اندر اسکا ٹریٹمنٹ چل رہا تھا اور آپریشن ٹھیٹر کے باہر مصطفی جلے پیر کی بلی بنا گھوم رہا تھا۔۔۔۔۔۔ اس کے اعصاب شل ہو رہے تھے۔۔۔۔ پہلے ہی بزنس کی کچھ ٹینش کی وجہ سے وہ دن رات باہر رہا تھا اور اب بھی آرام کی نیت سے ہی گھر لوٹا تھا اور اب ندا کی ایسی اتنی سیریس کنڈیشن۔۔۔۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔۔۔۔ وہ اکیلا یہاں پر ہینڈل نہیں کر پا رہا تھا۔۔۔ اسے اپنے ساتھ یہاں پر کسی اور کی بھی ضرورت تھی۔۔۔۔ لیکن گھر کی خواتین میں سے کسی سے بھی اتنی بھلائی کی امید کرنا عبث تھا۔۔۔ اچانک ہی اسے اپنی پرانی ملازمہ کا خیال آیا۔۔۔۔۔ اس نے فوراً ہی ڈرائیور کو فون کر کے ساری بات سمجائی اور اسے خالہ بی کو لے کر ہسپتال آنے کو کہا۔۔۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد خالہ بی ڈرائیور کے ہمراہ وہاں موجود تھی۔۔۔۔۔۔
فجر کی اذانوں کے قریب جا کر کہیں آپریشن ٹھیٹر کا دروازہ کھلا تھا اور اندر سے ڈاکٹر باہر نکلی۔۔ نکلی۔۔۔ مصطفی تیزی سے انکی طرف بڑھا۔۔۔۔۔ مبارک ہو مسٹر مصطفی بیٹا ہوا ہے۔۔۔ ڈاکٹر نے پیشہ ورانہ انداز میں مسکرا کر بتایا اور مصطفی۔۔۔۔ مصطفی کو یوں محسوس ہوا جیسے اسے زندگی کی نوید مل گئ ہو۔۔۔۔ ساری کثافت دھل گئ ہو۔۔۔۔ اور ندا۔۔۔۔ کچھ دیر بعد خیال آنے پر اسنے ڈاکٹر سے ندا کے بارے میں استفسار کیا۔۔۔ ویکنیس کے باعث انکی کنڈیشن بہت سیریس تھی۔۔۔ لیکن اب اللہ کا شکر ہے کہ وہ خطرے سے باہر ہیں کچھ دیر تک انہیں کمرے میں شفٹ کر دیا جائے گا۔۔۔۔ ابھی وہ دوائیوں کے زیر اثر بے ہوش ہیں انہیں ہوش میں آنے کے لئے ابھی کچھ وقت درکار ہے۔۔۔۔۔ ڈاکٹر کے جانے کے کچھ عرصہ بعد خالہ بی نے نیلے کمبل میں لپٹا ایک گول مٹول اور ننھا سا وجود مصطفی کو تھمایا۔۔۔۔ بچے کو پکڑتے ہی بے ساختہ مصطفی کی آنکھیں بھیگی تھیں۔۔۔۔ سرخ وسپید روئی کے گالوں سا بچہ ہو بہو ندا کی کاپی تھا۔۔۔۔۔ بے ساختہ ہی مصطفی نے اس کے چہرے پر پیار کیا۔۔۔۔۔ آج اسے دنیا کی ایک انمول نعمت سے نوازا گیا تھا اور وہ بے انتہا خوش تھا۔۔۔۔۔
دیکھو حجاب یہ کچھ کھانا کھالو ۔۔۔۔ اگر تم خود ہی یوں بچوں کیطرح ری ایکٹ کرو گئ تو انکل کی کئیر کون کرے گا۔۔۔۔ احد نے سامنے ہسپتال کے بینچ پر پھتر کا مجسمہ بن کر بیٹھی حجاب کو کہا۔۔۔ جس کے بے آواز ایک تواتر سے برستے آنسو اسکے جیتے جاگتے ہونے کی واحد نشانی تھے۔۔۔۔ احد ابھی ابھی دادی کو انکے گھر چھوڑ کر آیا تھا۔۔۔
رات اپنی انا اور خودارئ کا گلا گھونٹتے ہوئے حجاب نے احد کو فون کیا تھا اور اسے ساری بات سے آگاہ کیا تھا اور احد نے بھی اسکا مان رکھا تھا کہ فون بند ہوتے ہی وہ بنا طوفانی بارش کی پرواہ کئے اگلے پندرہ منٹوں میں وہاں موجود تھا۔۔۔۔۔ احد کی موجودگی میں حجاب کو تحفظ کا احساس ہو رہا تھا۔۔۔ کیونکہ ہسپتال آنے کے بعد سے احد نے تمام کام خوش اسلوبی سے سر انجام دیئے تھے۔۔۔۔۔۔۔ ساری رات ہسپتال میں گزارنے کے بعد اب دادی کہ طبیعت بھی بگھرنے لگی تھی۔۔۔ جس کے پیش نظر احد انہیں ابھی ابھی گھر چھوڑ کر آیا تھا تا کہ وہ کچھ دیر تک آرام کر لے۔۔۔۔اھد کی بات پر حجاب نے جھجھکتے ہوئے احد سے سینڈوچ اور جوس لے لیا کہ بحرحال وہ اسکا محسن تھا اور کل رات سے اسکے ساتھ خوار ہو رہا تھا۔۔۔ اس لئے اب اسے مزید تنگ کرنے کو حجاب کا دل نہ چاہا ھالانکہ اسکی بھوک پیاس سب ختم ہو چکی تھی۔۔۔۔ اسے بار بار رہ رہ کر یہ ہی خیال آ رہا تھا کہ اگر کل رات احد نہ وقت پر آتا تو کیا ہوتا۔۔۔۔
( جاری ہے)
