64.9K
56

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36

مصطفی ایک نمبر کے دھوکے باز فریبی اور مکار انسان ہیں۔۔۔۔ سب دکھاوا تھا انکی محبت نرم رویہ میری کیئر کرنا سب دکھاوا تھا۔۔۔۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک ظالم جابر اور بے حس انسان ہے۔۔۔۔ ہر شخص نے مجھے اپنے مقصد کے لئے استعمال کیا یہاں تک کہ مصطفی نے بھی۔۔۔۔ میں مصطفی کو کبھی معاف نہیں کروں گئ۔۔۔۔ اتنا ظلم۔۔۔۔ کوئی کسی پر اتنا ظلم کیسے کر سکتا ہے بھلا۔۔۔۔ پچھلے کچھ دنوں سے میری طبیعت کچھ خراب رہنے لگی تھی پھر یکدم میری طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئ میں تو اپنی طبیعت کے بارے میں کسی سے کچھ کہہ بھی نہ سکتی تھی۔۔۔۔ خالہ بی بھی گھر پر نہیں تھی۔۔۔۔ سارا دن میں نے نہایت اذیت میں کاٹا پل پل مصطفی کا انتظار کیا۔۔۔۔ اور بلآخر وہ آ ہی گیا۔۔۔ آتے ہی وہ مجھے ہسپتال لے گیا جہاں میں نے ایک خوبصورت بیٹے کو جنم دیا۔۔۔ پر اس دغا باز انسان کا ظلم دیکھو مجھ سے میرے ہی بیٹے کو چھین کر کہتا ہے کہ یہ بیٹا اسکا ہے وہ اسکے ساتھ جو مرضی کرے۔۔۔۔ میری گود اجاڑ کر اپنی بہن کی گود بھرنے چلا ہے وہ۔۔۔۔ مصطفی میرا سکون غارت کر کے کبھی سکون سے نہیں رہو گئے تم۔۔۔۔ صبر آہ صبر۔۔۔۔ میں جو دل پر پتھر رکھے اب تک صبر کرتی آ رہی تھی اب ٹوٹ گئ ہوں بری طرح ٹوٹ گئ ہوں۔۔۔۔ اب صبر نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ بہت مشکل ہے یہ کام۔۔۔ بدعائیں نکلتیں ہیں دل سے مصطفی کے لئے اسکی نجمہ آپا اور بھابھی کے لئے۔۔۔۔ میرا دل زخمی زخمی ہوا پڑا ہے حد تو دیکھو ظالموں کی کہ مجھے میرے بیٹے کو دیکھنے تک نہیں دیا۔۔۔۔ یا اللہ تو دیکھ رہا ہے نہ۔۔۔۔ یہ لوگ کتنا ظلم کر رہے ہیں مجھ پر ۔۔۔۔ بنا کسی قصور کے مجھے زندہ درگو کر رہے ہیں۔۔۔۔ کتنا صبر کروں اور میرے مالک۔۔۔۔ اب نہیں ہوتا صبر یا رب۔۔۔۔ میں تیری گنہگار بندی ہوں میرے مالک میری آزمائش ختم کردے مجھے سکون دے دے۔۔۔۔ عرصے سے میں سکون کی نیند نہیں سوئی مجھے پرسکون نیند سلادے میرے مالک۔۔۔ ٹھنڈی میٹھی آغوش نصیب کر دے۔۔۔ میرے مالک وہ ناطہ ہی تو توڑ دے جو مجھے ان اذیتوں سے جوڑے ہوئے ہے۔۔۔۔ اس دنیا کے دکھوں سے مجھے آزاد کر دے یا رب۔۔۔ یہ دنیا بہت ظالم ہے میں یہاں نہیں رہ سکتی یا اللہ۔۔۔ مجھ پر رحم کر ۔۔۔ یا اللہ بس میری ایک دعا رد مت کرنا میرے مالک مجھے نامحرموں کے حوالے مت کرنا۔۔۔۔ اس بھری دنیا میں کوئی میرا اپنا نہیں کوئی میرا محرم نہیں سوائے مصطفی کے۔۔۔ اور اس بے حس انسان سے اب میں نے کوئی بھی امید وابسطہ نہیں رکھی۔۔۔۔ مجھے اس ظالم انسان سے کوئی توقع نہیں۔۔۔ میری امید توقع سب تجھ سےوابسطہ ہے۔۔۔۔ خواہش بس اتنی سی ہے کہ میری میت کو کندھا میرا محرم دے مجھے لہر میں بھی میرا محرم مجھے اتارے۔۔۔۔ پر امید نہیں کہ مصطفی ایسا کچھ کرے گا ۔۔۔۔


ندا۔۔۔۔ ندا بیٹا تم رو رہی ہو۔۔۔ وہ گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھی سسک رہی تھی جب اسکے بابا نے شفقت سے اسکے سر پر ہاتھ پھیرا۔۔۔ بابا۔۔۔۔ کیوں اللہ نے مجھ سے میری ماں چھین لی۔۔۔۔ اسے مجھ پر ترس نہیں آیا کیا۔۔۔۔ کیوں اس نے مجھ پر رحم نہیں کیا۔۔۔۔ میں کیسے امی کے بغیر رہوں گئ۔۔۔۔ وہ اپنے باپ سے لپٹتی ہوئی سسک اٹھی۔۔۔۔۔ نہ میرے بچے یوں روتے نہیں۔۔۔۔ صبر سے کام لیتے ہیں۔۔۔۔ خدا کے کاموں کو یوں نہیں کہتے۔۔۔۔ بابا کیا میں اللہ کی اتنی ہی نا پسندیدہ بندی ہوں جو اس نے مجھ سے میری ماں ہی چھیں لی۔۔۔۔ وہ اپنے باپ کی قمیض کو سختی سے مٹھیوں میں جکھڑے ان کے کندھے سے لگی رو رہی تھی۔۔۔۔ ندا تمہیں پتہ ہے کہ اللہ کو اس پوری دنیا میں سب سے پیارا کون ہے۔۔۔۔ وہ شفقت سے
اسکے بالوں پر ہاتھ پھیرتے بول رہے تھے۔۔۔ کون وہ آنسو پونجھتی سیدھی ہو کر بیٹھ گئ۔۔۔۔۔ آخری نبی الزمان حضرت محمد۔۔۔۔ ان کی زندگی میں دو ایسے رشتے تھے جو انکی ہمت بندھاتے تھے۔۔۔ ان کے چاچا اور انکی زوجہ حضرت خدیجہ۔۔۔۔۔ کچھ عرصے کے وقفے سے اللہ نے ان سے انکی ان دونوں عزیز ہستیوں کو واپس لے لیا گھر میں حضرت خدیجہ انکی ہمت بندھاتی تھی اور باہر انکے چچا۔۔۔ پر دونوں کے پے در پے رخصت ہو جانے کے بعد وہ یکدم سے اکیلے ہو گئے کوئی غمگسار نہ رہا۔۔۔۔۔۔۔۔ آہل قریش نے انہیں شہر بدر کر دیا اور وہ اپنے شہر کی حدود سے دور بیٹھے کہہ رہے تھے کہ چچا تیرے جانے کی کمی جلد محسوس ہونے لگی۔۔۔۔ ندا بیٹا نعوذبااللہ کیا وہ خدا کے نا پسندیدہ بندے تھے جو ان پر یہ آزمائشیں آئی۔۔۔۔ نہیں بچے ایسا اس لئے ہوا کہ ان کے ذریعے میرے رب نے مثالیں قائم کئیں۔۔۔ کیا وہ خدا سے کوئی دعا کرتے یا کسی کو بد دعا دیتے تو کیا وہ رد ہوتی۔۔۔۔ اہل طائف نے ان پر اسقدر پتھر برسائے کہ انکے جوتے لہو لہاں ہو گئے۔۔۔۔ اور ایسے موقع پر اللہ نے خود فرمایا تھا کہ اے محمد اگر تو کہے تو ان دو پہاڑوں کو آپس میں ملادوں تاکہ اس بستی کا نام و نشان تک باقی نہ رہے۔۔۔ پر صدقے جائیں اس شخصیت پر کہ انہوں نے کہا یا رب میں ان کے لئے تجھ سے ہدایت کا طلب گار ہوں۔۔۔۔ انہوں نے درگزر کرتے ہوئے اہل طائف کو معاف کر دیا۔۔۔ بیٹا ہمارا مذہب ہمیں خدا کی رضا کے لئے درگزر کرنے معاف کرنے اور صبر سے کام کرنے کی تلقین کرتا ہے۔۔۔۔
آج اگر کوئی شخص دوسروں کے ظلم سہتے سہتے مر جاتا ہے تو لوگ کہتے ہیں بہت برا ہوا کیا اسکا خوشیوں پر حق نہیں تھا کیا اسکی قسمت میں آزمائشیں ہی تھیں جو وہ صرف دکھ سہتا سہتا ہی مر گیا۔۔۔۔ پر بیٹا یہ آج کی بات تھوڑی ہے اس زمانے میں بھی یزید تخت پر بیٹھا تھا اور امام حسن اور امام حسین کا سر نیزوں پر تھا۔۔۔۔ پر اسکا مطلب کیا کہ برائی جیت گئ۔۔۔۔ نہیں بیٹا کہتے ہیں یقین کی دولت زنجیریں کاٹ دیتی ہے ۔۔ یقین راسخ رکھو کہ جو اس دنیا میں جو بو رہا ہے وہی کاٹے گا۔۔۔۔ ظالم کو سزا ملتی ہے۔۔۔۔۔ تب بھی برائی نہیں جیتی تھی۔۔۔۔ بلکہ اسلام کے شہزادوں نے اپنے سر قلم کروا کر بھی دین اسلام کا پرچم بلند کیا۔۔۔۔ آج یزید کو دنیا کن الفاظ میں یاد کرتی ہے یہ مجھے تمہیں بتانے کی ضرورت تو نہیں۔۔۔اگر کوئی ظلم سہتے سہتے مر بھی گیا ندا بچے تو یہ اس شخص کا اختتام نہیں بلکہ یہ اس پر ہونے والے ظلم کا اختتام ہے۔۔۔۔ یہ دنیا تو عارضی ہے بچے اصل زندگی تو اگلی زندگی ہے بلکہ وہ شخص تو خوش قسمت ہے جس نے اس عارضی دنیا کے بدلے اس دائمی دنیا کو پا لیا۔۔۔۔
ندا بچے اس کائنات میں درخت کا ایک پتہ بھی خدا کے حکم کے بغیر نہیں ہلتا پھر تم کیسے کہہ سکتی ہو کہ وہی رب تمہاری حالت سے بے خبر ہے۔۔۔۔ وہ سب جانتا ہے ندا سبھی اسی کی حکمتیں ہیں۔۔۔۔ خود کو اسکے حکم کے مطابق ڈھال کر تو دیکھو اس کی رضا میں راضی ہو کر تو دیکھو۔۔۔۔۔ آواز کم سے کم ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔بابااااااا یکدم میں چلاتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گی۔۔۔ ماتھے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں چمکنے لگی تھی۔۔۔ رات میں اپنی ساری ہمت کھو بیٹھی تھی۔۔۔ مجھے لگ رہا تھا کہ سب ختم ہو گیا۔۔۔اور سسکتے ہوئے وہیں زمیں پر سو گئ
۔۔۔ پر وہ رب ہے نہ بے شک وہ ہر چیز سے آگاہ ہے۔۔۔۔ سب کا حال جانتا ہے۔۔۔ میں کسی صورت اسکا شکر ادا نہیں کر سکتی جس نے ایک بار پھر سے میری مشکل میں کتنے احسن طریقے سے مجھے راستہ دیکھایا۔۔۔۔ بے شک میرا رب ہر چیز پر قادر ہے۔۔۔۔۔


شاہان ہادیہ کے حد سے زیادہ قریب کھڑا تھا جبکہ ہادیہ ہونق بنی اسے دیکھ رہی تھی جب اسی وقت ارحمہ اندر داخل ہوئی۔۔۔۔۔ یہ منظر دیکھ کر ایک پل کو ارحمہ ٹھٹکی جبکہ دوسرے ہی پل وہ سر جھٹک چکی تھی کہ بھلا ہادیہ جیسی لڑکی کو شاہان جیسا ڈیشنگ اور گریس فل شخص کہاں گھاس ڈال سکتا ہے۔۔۔۔۔ ارحمہ کی موجودگی کا احساس کر کے ہادیہ ہربھرا کر حال میں پہنچتی شاہان سے فاصلہ قائم کر کے کھڑی ہو گئ۔۔۔۔ ارے یہ تو آپ نے خوامخواہ تکلف کیا۔۔۔ شاہان مسکراتا ہوا صوفے پر جا کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔ ارے تکلف کہاں ہے مسٹر۔۔۔ وہ بات کرتے کرتے رک گئ۔۔۔۔ شاہان۔۔۔ شاہان نے اپنا نام بتایا۔۔۔۔ جی مسٹر شاہان یہ تکلف کہاں ہے آپ نے بھی تو امی کی اتنی مدد کی ہے نہ۔۔۔۔ اور نہیں تو کیا۔۔۔۔ بڑا ہی بھلا بچہ ہے اگر آج یہ نہ ہوتا تو وہ موئے تو میرا پرس چھین کر بھاگ ہی گئے ہوتے۔۔۔۔ اس نے نہ صرف ان کے پیچھے لپک کر میرا پرس واپس لیا بلکہ مجھے خیر خریت سے گھر بھی چھوڑنے آ گیا۔۔۔۔ آج کل کے نفسا نفسی کے دور میں بھلا کون کسی کی اتنی مدد کرتا ہے۔۔۔۔ امی بھی واپس بیٹھک میں آ کر گویا ہوئی۔۔۔ شاہان شرافت اور معصومیت کا نمونہ بنے مسکراتے ہوئے سر جھکائے داد وصول کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔ ہادیہ نے تاسف سے اسے دیکھا وہ اسکا سارا پلان سمجھ گئ تھی اس نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پہلے اپنے آدمیوں سے امی کا پرس چھنوایا اور پھر خدائی فوجدار بن کر مدد کرنے کو میدان میں کود پڑا۔۔۔۔۔ اور اب اسکی بھولی ماں اس شیطان کی آنت کی تعریفیں کرتی نہیں تھک رہی تھی۔۔۔۔۔ ارے مس ہادیہ آپ بیٹھیئے نہ کب سے کھڑی ہیں۔۔۔۔ اسکے ہادیہ کو یوں سب کے سامنے بے تکلفانہ انداز میں بولانے پر جہاں ہادیہ گڑبڑائی وہیں ارحمہ بھی ٹھٹھکی تھی۔۔۔۔ آپ پہلے سے جانتے ہیں آپو کو۔۔۔۔ ارحمہ الجھتے ہوئے پوچھنے لگی۔۔۔ جی بالکل ہم دونوں ہی ایک دوسرے کو اچھے سے جانتے ہیں۔۔۔۔ شاہان کی بات سن کر ہادیہ گرتے گرتے بچی اسے اپنا سانس سینے میں اٹکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔ امی کے ماتھے پر بھی لا تعداد شکنوں کا اضافہ ہوا۔۔۔۔ ارحمہ حسد سے ہادیہ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔ اوپر سے اتنی نیک بی بی بنتی پھرتی ہیں اور اندر سے کرتوت دیکھو زرا۔۔۔۔ میری ارسلان سے دوستی پر کتنا اچھلی تھی اور اب اپنا آپ دیکھائی نہیں دے رہا جو یوں باہر دوستیاں پالتی پھر رہی ہے پر دیکھنا ہادیہ بی بی یہیں اسی دہلیز پر بیٹھی بیٹھی مر جاو گئ کوئی نہیں پوچھنے والا تمہیں ۔۔۔ وہ حقارت سے ہادیہ کو دیکھتے سوچی جا رہی تھی۔۔۔
جی آنٹی وہ دراصل مس ہادیہ یونیورسٹی میں میری لیکچرار ہیں اس لئے۔۔۔ شاہان نے مسکرا کر ہادیہ کی امی سے کہا۔۔۔۔ اوہ اچھا۔۔۔۔ جہاں ہادیہ کی امی شاہان کی بات سن کر ریلیکس ہوئی وہیں ہادیہ نے بھی سکون کا سانس لیا۔۔۔۔ اچھا آنٹی اب اجازت دیں۔۔۔۔ وہ جوس کا گلاس ختم کر کے ٹیبل پر رکھ کر ان کے سامنے جھک کر بولا۔۔۔۔ جیتے رہو بیٹا۔۔۔ وہ اسکے سر پر ہاتھ پھیر کر بولی۔۔۔۔ جاو ارحمہ بچے کو دروازے تک چھوڑ کر آو ۔۔۔ جی امی ۔۔۔ امی کے کہنے پر وہ خوشدلی سے اسے دروازے تک چھوڑنے گئ۔۔۔۔۔ آپ سے مل کر خوشی ہوئی شاہان ۔۔۔ ارحمہ ایک ادا سے ہاتھ اسکی طرف برھاتی ہوئی بولی۔۔۔ اور شاہان اس کے لئے یہ سب نیا نہیں تھا اس کھیل کا پرانا عادی تھا وہ ایک نظر میں دیکھ کر اگلے بندے کے کریکٹر کے بارے میں بتا سکتا تھا۔۔۔۔۔ ہادیہ جیسی لڑکی کی اس طرح کی بہن پر اسے دلی افسوس ہوا۔۔۔۔ آپ اپنی بہن سے بہت مختلف ہیں ارحمہ۔۔۔۔۔ شاہان نے در پردہ اس پر طنز کیا۔۔۔۔ بالکل ہم میں کوئی چیز بھی مشترک نہیں۔۔۔۔۔ وہ اترا کر بولی۔۔۔ بالکل۔۔۔۔ شاہان تاسف سے کہتا باہر چلا گیا۔۔


ارے ہادیہ بیٹا تم نے بتایا ہی نہیں کہ تمہاری یونیورسٹی میں اتنے بھلے بچے بھی پڑھتے ہیں۔۔۔۔ امی نے صحن میں بچھے تخت پر بیٹھ کر سبزی کاٹتے ہوئے ہادیہ سے استفسار کیا۔۔۔۔ امی اب میں یونیورسٹی کہ ایک ایک سٹوڈنٹ کا بائیو ڈیٹا تو گھر آ کر نہیں دے سکتی نہ۔۔۔۔ وہ صحن میں لگے نل کے پاس بیٹھی ٹب میں اپنا عبایہ دھو رہی تھی۔۔۔۔ امی کے چہرے پر موجود پراسرار سی مسکراہٹ اسے کچھ غلط ہونے کا پتہ دے رہی تھی۔۔۔۔
اب دیکھو نہ ہادیہ کیسے تمہاری بارات دروازے سے آکر واپس مڑ گئ ۔۔۔۔۔ تمہارا رشتہ تو پہلے ہی بہت مشکل سے طے ہوا تھا اب تو تمہارا اللہ ہی مالک ہے ویسے بھی اس کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں۔۔۔ اس کے گھر امید رکھنی چاہیے کہ تمہارا رشتہ بھی جلد ہی ہو جائے۔۔۔۔ اس ساری تمہید کا کچھ کچھ مطلب وہ سمجھنے لگی تھی۔۔۔۔ پر کب تک ہم اب تمہاری وجہ سے ارحمہ کو لٹکائے پھریں گئے اب اس انتطار میں ہم اسکی عمر بھی تو نہیں نہ بڑھاتے رہیں گئے۔۔۔ تو امی اگر کوئی مناسب رشتہ ہے آپکی نظر میں تو آپ پہلے ارحمہ کی شادی کر دیں۔۔۔۔۔ وہ عبایہ کو پانی سے نکال کر نچوڑ رہی تھی۔۔۔۔ وہی تو میں کہہ رہی ہوں …. تم بات چلاو نہ اس بارے میں تمہارا تو اسٹودینٹ ہے نہ وہ لڑکا۔۔۔۔۔ عبایہ کو سوکھنے ڈالنے کے لئے ہادیہ کے ہاتھ بری طرح کانپے تھے۔۔۔دل میں ایک سخت قسم کی درد کی لہر اٹھی تھی جیسے وہ خود بھی سمجھنے سے قاصر تھی۔۔۔۔۔ وہ صرف میرا ہے اور سس پر صرف میرا ہی حق ہے۔۔۔۔۔ دل بس یہ ہی راگ پکاڑ رہا تھا۔۔ ۔۔ ہادیہ بنا کوئی جواب دیئے اندر آ گئ۔۔۔۔۔
(جاری ہے )