64.9K
56

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

سات سال گزر جانے کے بعد اب جا کر کہیں مجھے بابا کی باتوں کا مطلب سمجھ آ رہا ہے یا یوں کہا جائے کہ میں نے پہلے کبھی ان باتوں کو سمجھنے کی یا انکی گہرائی میں جانے کی کوشش ہی نہیں کی۔۔۔۔ابا کہتے تھے کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے اور ہمیں ہر حال میں اپنے رب کا شکر گزار رہنا چاہیے کہ شکر ادا کرنے سے نعمت بڑھتی ہے۔۔۔۔ پر تب میں یہ سوچتی تھی کہ میری ماں مر گئ میرا سب کچھ ختم ہو گیا اس مشکل میں میرے لئے کیا آسانی ہے اور میں اپنی ماں کے مرنے پر بھی کس چیز کا شکر ادا کروں۔۔۔۔ پر اب سمجھ آ رہا ہے کہ اس مشکل میں آسانی میرے بابا تھے جو پل پل کسی مہربان سائے کیطرح میرے ساتھ موجود تھے لیکن آنسان فطرتاً ناشکرا واقعہ ہوا ہے۔۔۔۔ جو چیز بغیر کسی تردد کے حاصل ہو جائے اسکی قدر نہیں رہتی۔۔۔ میں نے بھی یہ ہی غلطی کی کہ باپ جیسے انمول رشتے کے ہوتے کبھی اپنے رب کا شکر ادا نہیں کیا۔۔۔ بلکہ اسے اپنی ملکیت اپنا حق سمجھتی رہی۔۔۔۔پر اب جب کہ ابا نہیں رہے تو لگتا ہے کہ جیسے زندگی ہی ختم ہو گئ کچھ بچا ہی نہیں کرنے کو۔۔۔۔ حالانکہ ابھی بھی اس مشکل کیساتھ میرے لئے کوئی آسانی موجود ہے لیکن کیا ابھی میں سمجھنے سے قاصر ہوں۔۔۔۔۔ پتہ نہیں کیوں مجھے باتیں وقت گزرنے کے بعد ہی کیوں سمجھ آتی ہیں۔۔۔۔ دعا گو ہوں اپنے رب سے کبھی زندگی میں ایسا مقام بھی آئے کہ جب مجھے مشکل کیساتھ اسکی مصلحت اور آسانی وقت پر سمجھ آجائے تا کہ میں اپنے رب سے اسکا شکر ادا کر سکوں۔۔۔۔۔


زہرا امی بہت اسمارٹ اور خوبصورت ہیں پر پتہ نہیں کیوں جب سے ابا کی وفات ہوئی ہے وہ مزید خوبصورت ہوتی جا رہی ہیں۔۔۔۔ اوپر سے امی کے کزن شہباز جو کہ ابا کے ہوتے ہوئے تو کبھی ہمارے گھر نہیں آئے پر اب تقریباً وہ ہر دوسرے دن یہاں پائے جاتے ہیں۔۔۔۔ مجھے ان سے بہت ڈر لگتا ہے۔۔۔۔ ان کی اندر تک چھید کرتی نظریں مجھے سہما دیتی ہیں۔۔۔۔ میں بچی نہیں ہوں جو انکی آنکھوں کا مطلب نہ سمجھوں کچھ مہینوں بعد پورے اٹھارہ کی ہو جاوں گئ میں۔۔۔۔ انکا بہانے بہانے سے میرے پیچھے کبھی میرے کمرے اور کبھی کچن میں آنا اور کبھی میرا ہاتھ پکڑنا یا جسم کے کسی اور حصے کو چھونا۔۔۔۔ میرا دل چاہتا ہے کہ زمیں پھٹے اور میں اس میں سما جاوں۔۔۔۔۔ کاش ابا کیساتھ میں بھی مر گئ ہوتی۔۔۔۔ زہرا امی نے تو سب جانتے بوجھتے آنکھیں اور کان بند کر رکھے ہیں۔۔۔۔ شہباز کے ہمارے گھر موجودگی میں میں نے اپنے کمرے سے نکلنا ہی چھوڑ دیا۔۔۔۔ پر امی پتہ نہیں کیا چاہتی ہیں کہ جان بوجھ کر انکی موجودگی میں مجھے بلا کر چائے کا یا کسی اور کام کا کہتی ہیں۔۔۔۔ کئ بار میں امی اور شہباز کو نازیبا حالت میں دیکھ چکی ہوں پر خاموش رہنے پر مجبور ہوں کہ ان سے کچھ کہہ نہیں سکتی۔۔۔۔۔ یار رہزا بیٹی تو تمہاری بڑی غضبناک ہے۔۔۔۔ آج جب امی نے مجھے شہباز کی موجودگی میں کمرے سے بلا کر چائے کا کہا تو میں تب بھی شہباز کی آڑ پاڑ ہوتی ایکسرے کرتی نظریں خود پر محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔ جب جلد از جلد وہاں سے نکلنے کے چکر میں شہباز کا یہ جملہ میری سماعتوں سے ٹکرایا۔۔۔۔۔ ہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔ غضبناک پے اسی لئے ابھی تک میرے پاس موجود ہے ورنہ شائید ابھی تک کسی ایدھی سنٹر میں سڑ رہی ہوتی۔۔۔۔ امی کے اسقدر سفاکیت بھرے جواب پر میں اندر تک لرز کے رہ گئ۔۔۔۔ ا
اور باقی کا سارا وقت بس یہ ہی سوچ کر رہ گئ کہ بھلا امی کی بات کا مطلب کیا تھا۔۔۔۔۔


آج بھی میں کچن میں شام کی ڑوٹیاں پکا رہی تھی جب شہباز نے دبے پاوں کچن میں آ کر میری کمر میں پیچھے سے ہاتھ ڈال کر مجھے اپنے شکنجے میں سختی سے جھکڑ کر میرے کندھے پر اپنی ٹھوڑی ٹکا دی۔۔۔۔ کیسی ہو جان من کیوں طلبگاروں کو اتنا تڑپا رہی ہو۔۔۔۔ اسکی اس حرکت نے تو یکدم میرے جسم سے جان کھینچ کر مجھے کپکپانے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔۔ یہ سب اتنا غیر متوقع تھا کہ میرے اعصاب ہی مفلوج ہو کر رہ گئے مجھے یوں لگا کہ جیسے میں کبھی اگلا سانس نہیں لے پاوں گئ۔۔۔ یکدم مجھے اپنی گردن پر اسکے ہونٹوں کا زہریلا لمس محسوس ہوا گویا کسی بچھو نے مجھے ڈس لیا ہو۔۔۔۔ تب ہربھرا کر میں ہوش میں آئی تھی۔۔۔۔ میرے نس نس میں شرارے بھر گئے تھے دل سے محض ایک ہی آواز آ رہی تھی کہ ابھی یا کبھی نہیں۔۔۔۔ پتہ نہیں مجھ میں اتنی ہمت کہاں سے ا گئ تھی کہ میں نے پورا زور لگاتے ہوئے اپنا ہاتھ گھمایا اور اس میں موجود بیلن سے ایک زوردار ضرب شہباز کے سر پر ماری۔۔۔۔ وہ درد سے بلبلا کر پیچھے ہٹا۔۔۔۔ اسکے سر سے خون کی ایک پتلی لکیر بہنا شروع ہو گئ تھی۔۔۔۔ پر مجھ پر اب جیسے ایک جنون سوار تھا میں پے در پے اسکے سر پر ضربیں لگا رہی تھی۔۔۔ اسکی دلخراش چینخوں کی آواز سن کر زہرا امی ننگے سر ننگے پاوں بھاگی آئی تھی اور آتے ہی انہوں نے میرے ہاتھ سے بیلن چھین کر دور پھینکا تھا۔۔۔۔ یہ کیا بے ہودگی ہے ندا وہ ایک دم سے غرائی تھی۔۔۔۔ بے ہودگی یہ نہیں بے ہودگی وہ ہے جو ہہ شخص ابھی میرے ساتھ کرنیوالا تھا۔۔۔ بے ہودگی وہ ہے جو تم دونوں روز بند کمرے کے پیچھے کرتے ہو۔۔۔۔ میں اگر خاموش ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں کچھ کر نہیں سکتی یا مجھے کچھ پتہ نہیں۔۔۔۔۔ میں یہاں اپنے باپ کے گھر رہتی ہوں تم لوگوں کے گھر نہیں جو یوں گھٹ گھٹ کر زندگی گزاروں۔۔۔۔۔ اب اگر اس شخص نے مجھے تیڑھی آنکھ سے بھی دیکھا تو میں اسکا وہ حال کروں گئ جو سوچ ہے تم لوگوں کی۔۔۔۔ میرا باپ ایک عزتدار شخص تھا جیسے تقریباً آدھا شہر جانتا تھا اور عزت کرتا تھا۔۔۔۔ اور اگر باہر جا کر ان لوگوں کیسامنے یا محلے والوں کیسامنے اس گھر میں چلتے شطانی کھیل کا میں نے ذکر کر دیا نہ تو تم دونوں کو چوک میں الٹا لٹکا کر سنگسار کر دیں کے محلے والے۔۔۔۔ میرے ایک دم بھپر کر بولنے پر وہ دونوں ہونق بنے مجھے دیکھ رہے تھے شائید انہیں مجھ سے اتنی بہادری کی توقع نہ تھی۔۔۔۔ پانی اب سر سے اوپر جا چکا ہے زہرا اب جلد ہی اسکا کچھ کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔ اپنی بات کہہ کر میں رکی نہیں تھی بلکہ باہر نکل گئ تھی جب انکی یہ باتیں مجھے سنائی دیں۔۔۔۔۔


گھر میں ہادیہ کی شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔۔۔۔ ابا اپنی اس بیٹی کی شادی پر کوئی بھی کمی نہیں رہنے دینا چاہتے تھے اس لئے بساط بھر پوری کوشش کر رہے تھے کہ ہادیہ کو جہیز میں سب کچھ دے سکیں۔۔۔۔ باپ کے اسقدر التفات پر ہادیہ کی آنکھیں بار بار بھر آتیں۔۔۔۔ہادیہ کے بار بار بازاروں کے چکر لگ رہے تھے ۔۔۔۔ آج بھی وہ امی کیساتھ بازار آئی ہوئی تھی کیونکہ گرمی کے باعث ارحمہ نے بازار آنے سے منع کر دیا تھا اس لئے مجبوراً ہادیہ کو صبح صبح امی کیساتھ آنا پڑا تھا۔۔۔۔ وہ بار بار اپنی گھڑی پر ٹائم دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ امی اور کیا رہ گیا ہے۔۔۔ اچھا جو بھی رہ گیا ہے پھر لے لیں گئے ابھی گھر چلتے ہیں کیونکہ اب دھوپ ب بھی زیادہ ہونے کے باعث گرمی بڑھ رہی ہے پھر آپکی طبیعت خراب ہو جائے گئ۔۔۔۔ ہادیہ گھڑی کیطرف دیکھ کر اپنی ماں سے کہہ رہی تھی جو کہ بالکل پسینے سے شرابور ہو چکی تھی۔۔۔۔ ہاں ٹھیک کہہ رہی ہو تم باقی کی خریداری کسی دن شام میں آ کر کر لیں گئے۔۔۔۔ انہوں نے بھی ہانپتے ہوئے اپنے ماتھے پر آیا پسینہ صاف کیا۔۔۔
امی آپ یہاں سے گھر جائیں میں اب یونیورسٹی جاوں گئ ساڑھے گیارہ میری کلاس ہے اور ابھی گیارہ بجے ہیں۔۔۔۔ ہادیہ نے وہاں سے گزرتے ایک رکشے کو روک کر اس میں سامان رکھا اور امی کو بیٹھاتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔۔ اچھا چلو ٹھیک ہے۔۔۔۔ امی کے روانہ ہوتے ہی وہ اپنے لئے رکشہ ڈھونڈنے لگی۔۔۔۔ جب اسے کوئی رکشہ نظر نہ آیا تو پھر پیدل ہی مین روڈ پر چلنے لگی۔۔۔۔۔ کہ وہیں سے کوئی کنوینس وغیرہ دیکھ لے گئ۔۔۔۔ ابھی اسے مین روڈ پر آئے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی جب اسے اپنے پیچھے سے ایک بلیک مرسڈیز فل سپیڈ میں اسکی طرف آتی دیکھائی دی جیسے ابھی وہ گاڑی اسے کچل کر آگے بڑھ جائے گئ۔۔۔۔ ہادیہ ڈر کر دو قدم پیچھے ہٹی۔۔۔ گاڑی کے ٹائر بالکل اسکے قریب آ کر چڑچڑا کر رکے تھے۔۔۔۔ ہادیہ کا دل دھک دھک کرنے لگا تھا۔۔۔۔ یکے بعد دیگرے گاڑی کے دونوں دروازے کھول کر دو نقاب پوش باہر نکلے تھے اور ہادیہ کو کوئی سوچنے سمجھنے کا موقع دیئے بغیر انہون نے کلوروفارم میں بھیگا رومال اسکے چہرے پر رکھا یکدم ہی ہادیہ کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا اس نے چیل کی سی تیزی سے رومال جھپٹ کر چہرے سے ہٹایا پر تب تک کلوروفارم اپنا اثر دیکھا چکا تھا اسکا دماغ تیزی سے اندھیروں میں ڈوب رہا تھا۔۔۔۔ ہوش و ہواس سے بیگانہ ہونے سے پہلے جو آخری منظر اس نے دیکھا وہ یہ تھا کہ وہ دونوں نقاب پوش اسے گاڑی میں ڈال رہے تھے اور ساتھ ہی اسکا دماغ تاریکیوں میں ڈوب گیا۔۔۔۔۔


شاہان یہ کیا بول رہا ہے تو۔۔۔ کہہ دے تو نے فون پر سب بکواس کیا ہے ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔ شاہان صوفے پر بیٹھا کسی گہری سوچ میں ڈوبا گھونٹ گھونٹ جوس پی رہا تھا جب احد دندناتا ہوا اس کے سر پر پہنچا۔۔۔۔ دراصل اسے یہاں بلایا بھی شاہان نے خود ہی تھا ابھی کچھ دیر پہلے فون پر ساری تفصیل بتا کر۔۔۔۔ نہیں میں نے تمہیں جو کچھ فون پر بتایا وہ سب حرف بہ حرف سچ تھا۔۔۔۔ شاہان نے اسی طرح بیٹھے بیٹھے کہا اسکا اطمینان اس وقت قابل رشک تھا۔۔۔ احد وہیں سر پکڑ کر صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔ اس سب کی کیا ضرورت تھی شاہان جب میں نے کہا تھا کہ ہم مل کر کوئی حل نکال لیں گئے کوئی نہ کوئی پلانینگ کر لیں گئے پھر۔۔۔۔ احد بے بسی سے گویا ہوا۔۔۔۔ مجھے اس معاملے میں کسی پر بھی اعتماد نہیں رہا کیونکہ یہ میری زندگی کا سوال ہے اور میں اس بارے میں کوئی رسک نہیں لے سکتا۔۔۔۔ وہ اب اٹھ کر لاوئنج میں چکر لگا رہا تھا۔۔۔۔ بلیک ٹراوزر اور سرمئ شرٹ میں وہ احد کو پہلے سے کئ گنا زیادہ معصوم اور پیارا لگا۔۔۔۔ کہاں ہیں وہ۔۔۔۔ کمرے میں ہیں۔۔۔۔ ملاقات ہوئی تمہاری ان سے۔۔۔۔ نہیں ابھی انہیں ہوش نہیں آیا۔۔۔۔۔ شاہان دوبارہ سے اسکے سامنے آ کر بیٹھ چکا تھا۔۔۔۔ اسی لئے ابھی تک تم مجھے صحیح سلامت دیکھائی دے رہے ہو۔۔۔ مطلب ۔۔۔۔ شاہان نے الجھ کر پوچھا۔۔۔۔ مطلب یہ کہ وہ مس ہادیہ ہیں اگر انہیں تمہاری اس حرکت کے بارے میں پتہ چل گیا نہ تو عین ممکن ہے کہ وہ تمہارا سر کھول کر رکھ دیں۔۔۔۔ احد نے ریلیکس ہو کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔۔ کوئی شک نہیں اس بات پر بلکہ تو ایک کام کر نکاح خواں اور گواہوں کے ساتھ ایک ڈاکٹر کا انتظام بھی کر رکھنا۔۔۔۔ اور ساتھ میں ایک پلاسٹر کا بھی۔۔۔ عین ممکن ہے کہ میری ٹانگ یا بازو کی کوئی ہڈی فیکچر بھی ہو جائے۔۔۔۔ شاہان کی بات پر احد کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔۔۔ ایک بات تو بتا تجھے اتنی امید کیوں ہے کہ وہ تجھ سے نکاح ضرور کریں گئ بلکہ عین ممکن ہے کہ وہ تمہیں زندہ درگو کر کے واپس اپنے گھر چلی جائیں۔۔۔۔ افف احد نکاح تو انکا میرے ساتھ ہی ہونا ہے کیسے وہ میں ہینڈل کر لوں گا۔۔۔۔ ہاں البتہ اگر مجھے زندہ درگو کرنے کی انکی خواہش ہوئی تو انکی ہر خواہش کا احترام کرنا مجھ پر لازم ہے۔۔۔۔ تو شاہان ہی ہے نہ کہیں کسی مجنوں کی روح تو تم میں نہیں آ گئ۔۔۔ احد کے کہنے پر دونوں کا قہقہ بے ساختہ تھا۔۔۔۔۔
(جاری ہے)