Be Dard Piya By Umme Hania Readelle50176 Episode 46
No Download Link
Rate this Novel
Episode 46
میسج پڑھتے ہی ارحمہ کے ماتھے پر کئ شکنیں نمودار ہوئی تھیں۔ ۔۔۔۔ اس نے غصے سے اگلا میسج کھولا ۔۔۔۔۔۔ پر جیسے جیسے وہ اسے دیکھ رہی تھی اسکے چہرے کی رنگت غیر ہوتی جا رہی تھی۔ ۔۔ اسے سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔
وہ سب اسکی وہی نیم برہنہ تصویریں تھیں جیسے وہ اپنی بے وقوفی میں خود اپنے ہی ہاتھوں سے ارسلان کو بھیجتی رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔
اسے اپنا سر چکراتا محسوس ہوا۔۔۔۔۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا اور تبھی دوبارہ فون رنگ کرنے لگا تھا۔ ۔۔۔
اس نے بہت جبر کر کے دکھتے دل کیساتھ فون اٹھایا تھا ۔۔۔
کیسی ہو جان ارسلان۔۔۔۔
بات کیوں نہیں کر رہی کیا اپنے ارسلان سے ناراض ہو۔ ۔ فون اٹھاتے ہی وہ شروع ہو گیا تھا۔ ۔۔۔ جیسے انکے بیچ کچھ ہوا ہی نہیں۔ ۔۔۔۔
کیوں فون کیا ہے تم نے۔۔۔۔ وہ اسکی بات کاٹتی درشتی سے بولی۔ ۔۔۔۔
اررےےے۔ ۔۔۔ اتنا غصہ۔ ۔۔۔
میری ایسی تصویریں مجھے سینڈ کرنے کا کیا مقصد ہے تمہارا۔ ۔۔۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ ارسلان اسکے سامنے ہوتا اور وہ اسکا حشر کر دیتی۔ ۔۔۔۔
اب اتنی بچی تو نہیں ہو تم کہ تمہیں اس سب کا مطلب سمجھ نہ آئے۔ ۔۔۔ وہ یکسر اپنا لہجہ بدلتا ہوا گویا ہوا۔ ۔۔۔
،۔ مطلب۔ ۔۔۔۔ ایک نامعلوم سا خوف تھا جو ارحمہ کو اپنے سکنجے میں لے رہا تھا۔ ۔۔۔۔
مطلب کہ تمہارے اس طرح سے وہاں سے بھاگ آنے سے میرا بہت نقصان ہو گیا ہے۔ ۔۔ میں تمہارے ڈیلرز سے ایڈوانس رقم لے چکا تھا پر۔ ۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی۔ ۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتا ارحمہ اس پر دھاری تھی۔ ۔۔۔۔
تمہیں زرا شرم نہیں آ رہی یہ بکواس کرتے ہوئے۔ ۔۔۔۔
لو شرم کیسی۔ ۔۔۔ میں تو تمہارا ہی بھلا کرنے چلا تھا۔ ۔۔۔ تمہیں بھی تو ایک پر آسائش زندگی چاہیے تھی نہ۔ ۔۔۔ تو وہ عربی تمہیں بہت خوش رکھتا۔ ۔۔۔
میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تم سے محبت کرنا تھا ارسلان۔ ۔۔آنسو پلکوں کی بار پھیلانگ کر بہہ نکلے تھے۔ ۔۔۔
فضول کی باتوں کے لئے میرے پاس وقت نہیں ہے۔ ۔۔ کام کی بات پر آتے ہیں۔ ۔۔۔۔ اس عربی نے تمہاری ایک جھلک دیکھی ہے اور وہ پاغل ہو گیا ہے تمہارے حصول کے لئے۔ ۔۔۔۔ تم نے بس کرنا یہ ہے کہ کچھ وقت اسکے ساتھ گزار کر اسکا وقت رنگین بنانا ہے۔ ۔۔۔ اور اسکا دل بہلانا ہے۔ ۔۔۔ اس کے وہ تمہیں منہ مانگے دام دے گا۔ ۔۔۔ وہ بھی خوش۔ ۔۔۔۔۔ تم بھی خوش۔ ۔۔۔
بے غیرت انسان میں ۔۔ تمہارا قتل کر دوں گئ۔ ۔۔۔ تم نے سمجھ کیا رکھا ہے ہاں۔ ۔۔۔۔ میں تمہیں کوئی طوائف دیکھتی ہوں جو ان حوس کے پجاریوں کی حوس بجھاوں۔ ۔۔۔۔
زیادہ ہائپر ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ۔۔۔ میری بات ماننے میں ہی تمہاری بھلائی ہے۔ ۔۔۔۔۔ اس طرح تم بھی خوش وہ عربی بھی خوش اور سب سے بڑھ کر کسی کو کان و کان خبر نہیں ہو گئ ۔۔۔ معاشرے میں تمہارا وہی مقام ہو گا جو کہ اب ہے۔ ۔۔۔ ورنہ دوسری صورت میں تمہاری تصویریں سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دوں گا کچھ نہ کرتے ہوئے بھی یہ معاشرہ تمہیں سالم نگل جائے گا۔ ۔۔۔ تم سے جینے تک کا حق چھین لے گا۔ ۔۔۔۔۔ لوگ تھوکیں گے تم پر۔ ۔۔۔۔ اب چوائس تمہاری ہے کہ تم کس چیز کا انتخاب کرتی ہو۔ ۔۔۔۔دو دن ہیں تمہارے پاس سوچنے کے لئے اگر تو جواب مثبت ہوا تو ٹھیک ورنہ تیسرے دن اس شہر کے بچے بچے کے ہاتھ میں تمہاری عزت کا جنازہ ہوگا۔ ۔۔۔
اس کے کانوں میں صور اسرافیل پھونک کر وہ کب کا فون بند کر چکا تھا۔ ۔۔۔۔۔ کتنے ہی لمحے ارحمہ بت بنی بیٹھی رہیِنیمطلب ابھی آزمائش ختم نہیں ہوئی۔ ۔۔۔۔ یا رب مجھے معاف کر دے۔ ۔۔۔ وہ چہرا ہاتھوں میں چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔ ۔۔۔
ہادیہ کلاس لے کر نکل رہی تھی جب کسی نے اسکی بازو کھینچ کر اسے ایک کلاس میں کھینچا۔ ۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ اس کے حلق سے چینخ برآمد ہوتی ایک مضبوط مردانہ ہاتھ نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسکی چینخ کا گلہ گھونٹا۔ ۔۔۔۔
وہ ایک خالی کلاس روم تھا۔ ۔۔۔ اس نے ہادیہ کے دونوں بازو پکڑ کر اسے دیوار کے ساتھ لگایا۔ ۔۔۔۔
ہادیہ متوحش سی سامنے والے کو دیکھ رہی تھی۔ ۔۔۔ دل کی دھرکن زرا اعتدال پر آئی تو خوف کی جگہ غصے نے لے لی۔ ۔۔۔۔
کیسے بھول سکتی ہوں کہ ایسے چھچھوڑے کام تمہارے سوا کون کر سکتا ہے۔ ۔۔۔ وہ اسکی بازوں کو جھٹکتی دور ہو کر کھڑی ہوئی۔ ۔۔
کوئی اور ایسی حرکت کر کے تو دیکھے منہ نہ توڑ دوں اسکا۔ ۔۔۔۔ شاہان مسکراتی نگاہوں سے اسے دیکھتا اس کے پاس جا کر ہادیہ کے ماتھے پر آئے بالوں کو ہاتھ سے پیچھے ہٹانے لگا۔ ۔۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ۔۔۔۔۔ زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں۔ ۔۔۔ اور مجھ سے فاصلے پر رہ کر بات کیا کرو۔ ۔۔۔۔۔ وہ اسکا ہاتھ ہتاتی تیوریاں چڑھا کر بولی۔ ۔۔۔
ہائے ظالم لڑکی اپنے قریب آنے نہیں دیتی۔ ۔۔۔اور کسی دوسری لڑکی کے قریب بھی نہیں جانے دیتی۔ ۔۔۔ اب میں بچارا کروں تو کیا کروں۔ ۔۔۔ وہ بالوں پر ہاتھ پھیرتا مظلوم سی صورت بنا کر بولا۔ ۔۔۔
تف ہے تم پر۔ ۔۔۔۔ ہادیہ نے تاسف سے اسے دیکھا۔ ۔۔۔۔
شاہان نے مسکراتے ہوئے اسکا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور ایک طرف سے اسکا ڈوپتہ اتار کر ایک کندھے پر کر دیا۔ ۔۔۔
کیا بےہودگی ہے یہ۔ ۔۔۔ ہادیہ نے ترپ کر اسے دیکھا۔ ۔۔۔۔۔ شاہان نے بہت مشکل سے اپنی مسکراہٹ کا گلہ گھونٹا۔ ۔۔۔۔ بے ہودگی ابھی کی کب ہے یار۔ ۔۔۔۔۔
اس نے ہادیہ کی بازو گھما کر اسکی پشت اپنی جانب کی اور اپنی پینٹ کی جیب سے ایک ڈبی نکال کر اس سے ایک سونے کی ہلکی مگر نفیس سی چین نکال کر اسکے گلے میں پہنانے لگا۔ ۔۔۔۔
ہادیہ نے تعجب سے اپنے گلے کی طرف دیکھا۔ ۔۔۔۔۔ یہ تمہارے شوہر کی پہلی کمائی سے تمہارے لئے ایک ۔ ادنی سا تحفہ۔ ۔۔۔۔
التجا ہے کہ اسے کبھی خود سے دور نہ کرنا۔ ۔۔۔۔۔ وہ اسکے کان کے قریب جھک کر سرگوشی کر رہا تھا۔ ۔۔۔۔ شاہان کے ناک کی نوک ہادیہ کے کان کی لو سے مس ہو رہی تھی۔ ۔۔۔۔ ہادیہ کا دل زور سے ڈھرکا۔ ۔۔
وہ فوراں سے اس سے دور ہوتی فاصلہ قائم کرتی اپنا سر سے اتر چکا ڈوپتہ ٹھیک کرنے لگی۔ ۔۔۔۔۔
ویسے یار اتنی محنت کر رہا ہوں تمہارے لئے۔ ۔۔۔ اپنے سارے کمفرٹس چھوڑ دیئے میں نے۔۔۔۔ ساری ساری رات جاگ کر سٹڈی اور آفس ورک کرتے کرتے آنکھیں رہ گئیں میری۔ ۔۔۔۔ تو تمہیں نہیں لگتا کہ اتنی محنت کے بعد کچھ پھل مجھے بھی ملنا چاہیے۔ ۔۔۔۔
مطلب۔ ۔۔۔ وہ ناسمجھی سے بولی۔ ۔۔۔
مطلب یہ کہ۔ ۔۔۔وہ ایک۔ ۔۔ہی جست میں ۔۔اس تک پہنچا اور اسے اپنے حصار میں لیتے ہوئے اسکے ماتھے پر بوسہ لیا۔ ۔۔۔ شاہان کی اس حرکت سے ہادیہ کئ پلوں تک کچھ بول ہی نہ پائی پھر یکدم ہوش میں آتے ہی اسکا حصار تور کر پیچھے ہٹی۔۔۔۔۔۔
انتہائی فضول انسان ہو تم۔ ۔۔۔۔ وہ اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرتی خود کو کمپوز کرتی بنا اسکی طرف دیکھے باہر چلی گئ۔ ۔۔۔۔ اسے اپنے پیچھے دور تک شاہان کا قہقہ سنائی دیا۔ ۔۔۔۔ اس نے اپنے گلے میں پہنی چین کو زور سے اپنی مٹھی میں بھینچا۔ ۔۔۔ جیسے وہ اسکے لئے کوئی متاع جان ہو۔ ۔۔۔۔۔۔۔
یہ احساس ہی اس کے لئے بہت روح افزا تھا کہ وہ کسی کے لئے اس قدر اہم ہے۔ ۔۔۔۔
کب اسکے احساسات بدلے تھے وہ خود بی نہ جانتی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔ یا شائید کہ نکاح کے دو بولوں میں ہی اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ دو اجنبیوں کو ایک کر دیتا ہے۔ ۔۔۔ دل خود بخود ایک ہی لے پر دھرکنے لگتا ہے۔ ۔۔۔۔
آپو۔ ۔۔۔ مجھے بچا لیں پلیز۔ ۔۔۔۔ خدا کے لئے اپنی ارحمہ کو بچا لیں۔ ۔،،۔۔۔۔ ہادیہ نے ابھی یونیورسٹی سے آ کر چادر اتاری ہی تھی کہ ارحمہ بیڈ سے اتر کر دوڑتی ہوئی اس تک پہنچی اور اس سے لپٹ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ ۔۔۔۔
ارحمہ میری جان کیا ہوا۔ ۔۔۔ ہادیہ اسکی اس حرکت سے یکدم بوکھلا گئ تھی۔ ۔۔۔۔
اس نے جلدی سے ارحمہ کے کانپتے وجود کو ساتھ لگایا اور اسے اپنے ساتھ لا کر بیڈ پر بیٹھایا۔ ۔۔۔
ریلیکس ہو جاو ارحمہ۔ ۔۔۔۔۔۔ ہادیہ نے جگ سے پانی انڈیل کر اسے پلایا اور اسے ساتھ لگا کر اسکی کمر کو سہلا یا ۔۔۔۔۔ آپو وہ۔ ۔۔۔۔۔ وہ سسکتے ہوئے اسے آج ارسلان کی آنے والی کال کے متعلق بتانے لگی۔ ۔۔۔۔۔۔
اسکی باتیں سن کر ہادیہ کے ماتھے کی رگیں تن گئ تھیں۔ ۔۔۔۔۔
بس ارحمہ خاموش ہو جاو۔ ۔۔۔ بہت اچھا کیا تم نے جو مجھے سب کچھ بتا دیا۔ ۔۔۔۔
وہ تیزی سے کچھ سوچ رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔ پہلے مجھے وہ تصویریں دیکھاو۔ ۔۔۔
ہادیہ کی بات پر ایک بار پھر سے ارحمہ کے آنسو بہہ نکلے تھے۔ ۔۔۔۔۔ نہیں آپو۔ ۔۔۔ پلیز۔ ۔۔۔۔ وہ میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ ۔۔۔ میں آپکو نہیں دیکھا سکتی۔ ۔۔۔ وہ پشمانی میں گھیری ہوئی تھی۔ ۔۔۔۔۔
دیکھو ارحمہ۔ ۔۔۔ کل کو پوری دنیا ان تصویروں کو دیکھے اس سے بہتر ہے تم ابھی انہیں مجھے دیکھاو۔ ۔۔۔۔۔
ارحمہ نے کانپتے ہاتھوں سے فون ہادیہ کو پکڑایا۔ ۔۔۔۔ تصویریں دیکھ کر کئ پلوں تک ہادیہ کا دماغ ہی سن ہو گیا۔ ۔۔۔۔۔ اسے اب حقیقت میں معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہوا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
آپو۔ ۔۔۔ جب کافی دیر تک ہادیہ گم صم سی زمین پر کسی غیر مری نقطے کو دیکھتی رہی تو ارحمہ نے ہمت کر کے اسے آہستہ سے پکارا۔ ۔۔۔۔۔
فکر مت کرو ارحمہ اس نے تمہیں دو دن کا وقت دیا ہے نہ۔ ۔۔۔ کچھ کرتے ہیں۔ ۔۔۔۔ تم بس اس سے دو دنوں تک کوئی بات نہ کرنا۔ ۔۔۔۔ باقی اللہ نگہبان۔ ۔۔۔۔۔
اس کے چہرے پر واضح سوچ کی پرچھائیاں تھی۔ ۔۔۔۔۔
ارے آج ہماری یاد کیسے آ گئ۔ ۔۔۔ جو اتنے روز بعد چکر لگایا تم نے۔ ۔۔۔ مسز خان نک سک سی تیار سلک کی نفیس سی ساڑھی میں اونچا جوڑا کئے کانوں میں ڈائمنڈ ایئر رنگ پہنے ڈرائنگ روم میں داخل ہوتی سامنے صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر بیٹھی ماورا کو دیکھ کر بولیں۔ ۔۔۔
بس آنٹی کچھ مصروفیات تھیں۔ ۔۔۔۔ اس نے ایک ادا سے اپنے شولڈر کٹ بالوں کو پیچھے جھٹکا۔ ۔۔۔۔
کیا لو گئ۔ ۔۔۔۔ مسز خان وہیں پر اس کے قریب براجماں ہو گئ۔ ۔۔۔۔۔
کچھ نہیں آنٹی۔ ۔۔۔۔ دراصل مجھے آپ سے ایک بات کرنی تھی۔ ۔۔۔۔
کیسی بات۔ ۔۔۔
کیا آپ جانتی ہیں کہ شاہان آج کل کن چکرو میں ہے۔ ۔۔۔۔
مطلب کیا ہے تمہاری بات کا۔ ۔۔۔۔۔
مسسز خان کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے۔ ۔۔۔۔
مطلب یہ آنٹی کے۔ ۔۔۔ شاہان آج کل ایک کالی کلوٹی اوور ایج لوئر مڈل کلاس لڑکی کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ اور یہ صرف ایک وقتی اٹریکشن یا ٹائم پاس نہیں بلکہ وہ اس کے بارے میں سیریس ہے۔ ۔۔۔۔۔
اور وہ بلیک بیوٹی اولڈ لیڈی ایک نمبر کی لالچی عورت ہے اسے شاہان سے کوئی مطلب نہیں بلکہ وہ اسکے سٹیٹس کے پیچھے ہے۔ ۔۔۔۔
وہ انتہائی حقارت سے ہادیہ کے متعلق قطرہ قطرہ زہر مسز خان کے اندر بھر رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔
ایڈریس کیا ہے اس کلموہی کا۔ ۔۔۔۔ مسز خان کے چہرے پر سوچ کی پرچھائیاں تھی۔ ۔۔۔
فکر مت کرو تم۔ ۔۔۔ ایسی بازاری عورتوں کو نکیل ڈالنا مجھے خوب آتا ہے۔ ۔۔۔۔۔
(جاری ہے
