64.9K
56

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

وہ جو چھ مہینے کے کورس کے لئے امریکہ آیا تھا۔۔۔۔ وہاں جانے پر کچھ اسقدر مصروف ہوا کہ آٹھ نو ماہ بعد ہی واپس پاکستان جا سکا تھا۔۔۔۔ واپس جانے سے پہلے اسنے سبھی گھر والوں کے لئے شاپنگ کی تھی اور بالخصوص اس نے وردہ کے لئے دھیر ساری شاپنگ کی تھی کیونکہ یہاں آنے کے بعد اسکی وردہ سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی مطلب کہ وہ ابھی تک مصطفی سے ناراض تھی۔۔۔ اس لئے وہ شاپنگ کے دوران بالخصوص اسکی پسند کو مدنظر رکھ رہا تھا۔۔۔۔ شاپنگ کے دوران ہی اسے بلکل اچانک ہی وہ وجود بھی یاد آیا تھا جس کی ذات سے انکاری ہوتے ہوئے بھی وہ اسکے وجود پر اپنے نام کی مہریں ثبت کر آیا تھا۔۔۔۔ اور پھر اسنے بے خودی کے عالم میں اس کے لئے بھی چند ایک چیزیں خریدیں تھی کہ جب حق پورے استحقاق سے حاصل کر لیا تو پھر فرائض ادا کرنا بھی بنتا تھا۔۔۔۔۔
گھر میں سرپرائز دینے کی نیت سے وہ بنا کسی کو بتائے گھر آیا تھا۔۔۔۔ رات تقریباً ساڑھے آٹھ بجے وہ گھر پہنچا تھا۔۔۔۔ اور سبھی گھر والوں کی اسکو یوں اچانک دیکھ کر خوشی دیدنی تھی۔۔۔۔ سبھی ہال میں ہی اس کے گرد بیٹھے باتیں کرنے میں مصروف تھے۔۔۔۔ اس کے بھتیجے اور بھتیجی بے صبری کا مظاہرہ کرتے وہیں پر پیکنگ کھول کھول کر اپنے لیے لائی ہوئی شاپنگ دیکھنے لگے تھے۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا ان کو دیکھ رہا تھا پر نظریں بار بار ادھر ادھر بھٹک کر کسی کی تلاش میں سرگرداں تھیں۔۔۔۔۔
بیٹا تم فریش ہو لو پھر میں کھانا لگواتی ہوں۔۔۔۔ امی نے اسکی تھکن زدہ صورت دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔ نہیں امی میں بہت تھک چکا ہوں اس لئے کھانا میرے کمرے میں ہی بھجوا دیں۔۔۔۔ اسنے کہتے ہی اٹھ کر کمرے کا رخ کیا۔۔۔۔ چلو ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔۔۔
کمرے میں آکر وہ فریش ہونے کی نیت سے واش روم میں گیا تو وہاں پر اسکی ضرورت کا سبھی سامان موجود تھا۔۔۔۔ ایک ہلکی سی مسکراہٹ اسکے لبوں کو چھو گئ۔۔۔۔۔ تو مطلب تم میری آمد سے آگاہ ہو پر پھر سامنے کیوں نہیں آ رہی۔۔۔۔۔ وہ خود ہی سے مخاطب تھا۔۔۔۔ کچھ دیر بعد جب وہ فریش ہو کر کمرے میں آیا تو وہ عین اسی وقت ٹرالی گھسیٹتی کمرے میں آئی تھی۔۔۔۔۔ اسلام و علیکم۔۔۔۔۔ اسنے ہولے سے مصطفی کو سلام کیا۔۔۔۔ صوفے پر بیٹھے مصطفی نے نظرین اٹھا کر اسے دیکھا تو اسے لگا کہ گویا وہ پھتر کا ہو گیا ہو۔۔۔۔ساکت نظروں سے گم سم سا اسے نظریں جھکائے کھانا سرو کرتے دیکھتا رہا۔۔۔۔ کھانا سرو کرتے ایک بار بھی ندا نے اسے نظریں اٹھا کر دیکھا تک نہ تھا۔۔۔۔۔ کھانا سرو کرتے ہی وہ کمرے سے باہر چلے گئ۔۔۔۔ اسکے کمرے سے نکلتے ہی مصطفی ہربرا کر سوچوں کی یلغار سے باہر نکلا۔۔۔۔۔ اسے اپنی بے خبری پر رہ رہ کر تاو آ رہا تھا اسکی بھوک پیاس یکدم سے اڑ چکی تھی۔۔۔۔ لیکن پھر بھی چند نوالے زہر مار کر کے اسنے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔۔۔۔۔ اب اسکا ارادہ بھابھی کے پاس جا کر ان سے پوچھ تاچھ کرنے کا تھا کہ آخر کیوں اسے ابھی تک بے خبر رکھا گیا۔۔۔۔۔۔


ہادیہ کلاس لے کر واپس جا رہی تھی ابھی اسکی اگلی کلاس میں چند منٹوں کا وقفہ تھا ۔۔۔۔ وہ اپنے آج کے شیڈول پر نظر ثانی کرتی جا رہی تھی۔۔۔۔ جب اسے گراونڈ کے عقبی حصے سے پتوں کی سرسراہٹ کیساتھ کیسی کی ہلکی سی سرگوشی کی بھی آواز آئی۔۔۔۔ اسنے پورے گراونڈ میں نظریں دوڑائیں پر وہاں پر کوئی بھی نہ تھا۔۔۔۔۔ پر اب بھی آہستہ
آہستہ سرگوشیوں کی آواز آ رہی تھی اور ساتھ ہی کسی کی مدہم سی ہنسی کی جھنکار گھونجی تھی۔۔۔۔۔ وہ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوتی آواز کے تعاقب میں جانے لگی۔۔۔۔۔ پر درختوں کی اوٹ سے نظر آتے منظر کو دیکھ کر تو گویا اسکی آنکھوں کے سامنے زمین آسمان گھوم گئے ہوں۔۔۔۔ جیسے کسی نے اسکے قدموں کے نیچے سے زمین کھینچ لی ہو۔۔۔۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے سامنے کا منظر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ سامنے نظر آنے والا شخص بلاشبہ شاہان ہی تھا۔۔۔ ماورا کے ساتھ انتہائی قابل اعتراض حالت میں موجود۔۔۔۔۔ ماورا مسکراتی ہوئی درخت کے تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھی تھی جبکہ شاہان اسکے ہونٹوں کو فوکس کئے اس پر جھکا ہوا تھا۔۔۔۔ آہٹ پر اس نے پیچھے مڑ کر ہادیہ کی طرف دیکھا تھا۔۔۔۔ شاہان کے ہونٹ ماورا کے ہونٹوں پر لگی لپ اسٹک سے رنگے ہوئے تھے نیز اسکی شرٹ کے کھلے گریبان سے اسکے سینے پر بھی جابجا اسی لپ اسٹک کے نشانات نظر آ رہے تھے۔۔۔۔ جبکہ ماورا ہادیہ کو دیکھ کر تنے کی ٹیک چھوڑ کر سیدھی بیٹھتی اپنی مختصر سی سلیولیس شرٹ کی کندھے سے بازو پر ڈھلک آنے والی سٹرپ کو ٹھیک کر رہی تھی۔۔۔۔ یوں پکڑے جانے پر ان دونوں میں سے کسی کے بھی چہرے پر شرمندگی کے کوئی آثار نہ تھے۔۔۔۔ شدید غصے کے باعث ہادیہ کے جسم پر کپکپی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔۔ آنکھوں میں چھانے والی دھند کے باعث سامنے کے منظر دھندلانے لگے تھے۔۔۔۔ اس سے زیادہ کچھ دیکھنے کی تاب اس میں نہ تھی۔۔۔۔ وہ ایک جھٹکے سے مڑی تھی۔۔۔ اور تیز تیز قدم اٹھاتی واپس جا رہی تھی۔۔۔۔۔ شاہان سے اسکی کوئی ذاتی وابستگی نہ تھی نہ ہی اس سے اس کا کوئی خونی رشتہ تھا پر اسکے باوجود ہادیہ کو یہ سب برا لگا تھا انتہائی برا۔۔۔۔۔ اسے ماورا کے روپ میں اپنی بہن ارحمہ نظر آ رہی تھی۔۔۔۔ آنکھوں سے سیل رواں جاری ہوا تھا۔۔۔۔ یہ ہماری آج کی نسل تھی۔۔۔۔ مشرقی لڑکی۔۔۔۔۔ اسلام کی شہزادیاں۔۔۔۔۔ یہ کیوں اپنا اصل بھول گئیں۔۔۔۔ یہ کیوں خود کو ارازاں کر رہیں ہیں یہ ہی سب اسکے دماغ میں چل رہا تھا۔۔۔۔ آنسوں میں مزید روانی آ گئ تھی۔۔۔۔ اسے اس بڑھتی ہوئی بےراہروی کے لئے کچھ کرنا تھا۔۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ اسکی کوشش سمندر میں قطرے کے برابر ہوتی۔۔۔۔۔ پر پھر بھی وہ اپنے حصے کی کوشش کر لینا چاہتی تھی کہ روز حشر سرخرو ہو سکتی کہ اس نے بھی اس کارخیر میں بساط بھر حصہ لیا تھا۔۔۔۔۔


کھانے کے چند ایک نوالے زہر مار کرتا ہی وہ بھابھی کے کمرے کیطرف بڑھا تھا۔۔۔۔ دروازہ ناک کر کے وہ اندر داخل ہوا تھا اسکی ماں بھی وہیں پر موجود باتوں میں مشغول تھی۔۔۔۔ آو مصطفی بیٹا بیٹھو ہم تمہاری ہی باتیں کر رہے تھے۔۔۔۔۔ اسے اندر آتے دیکھتے ہی اسکی ماں نے اسکا خیر مقدم کیا۔۔۔۔ بھابھی مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔ وہ سنجیدگئ سے کہتا بھابھی کے مدمقابل جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔ ہاں بولو کیا بات ہے۔۔۔۔ اسکی سنجیدگی پر امی کیساتھ ساتھ بھابھی بھی ٹھٹھکی تھی۔۔۔۔۔ میری آپ سے تقریباً ہر دوسرے روز بات ہوتی تھی پھر آپ نے مجھے ندا کی حالت کے بارے میں کیوں نہیں بتایا۔۔۔۔ وہ انتہائی سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔ کیا نہیں بتایا بھئی میں نے۔۔۔۔ وہ بھی ماتھے پر تیوریاں چڑھائے کمر پر ہاتھ رکھے میدان میں اتری تھی۔۔۔۔ آپ اچھے سے جانتی ہیں بھابھی میں کس بارے میں بات کر رہا ہوں۔۔۔۔ اسکا لہجہ ہر قسم کی لچک سے بے بہرہ تھا۔۔۔۔ اب کیا بتاتی میں تمہیں۔۔۔۔ اب ہمیں کیا پتہ کہ کس کے ساتھ منہ کالا کر کے اسکی گناہ کی پوتھ اپنی کوکھ میں اٹھائے پھر رہی ہے۔۔۔۔ بھابھی کی کی اسقدر گھٹیا بات پر اسکا خون خول اٹھا۔۔۔۔ اس بات میں کوئی شک نہ تھا کہ اگر بھابی کی جگہ یہ بات کوئی اور بولتا تو وہ اسکا منہ توڑ دیتا۔۔۔پر بحرحال ابھی بھی احترام لازم تھا اس پر۔۔۔۔۔ وہ میرا بچہ ہے۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ بھابھی کی زبان مزید زہر اگلتی وہ ہاتھ اٹھا کر انہیں خاموش کرواتا سختی سے بولا۔۔۔۔ ارے واہ اب ہمیں کیا پتہ کہ جس سے اسقدر نفرت کرتے ہو اسی کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے رہے ہو۔۔۔۔ وہ بھی طیش میں ہاتھ نچاتے ہوئے بولی۔۔۔۔ بس بھابھی مزید ایک لفظ نہیں۔۔۔ بلاشبہ وہ ونی میں آئی لڑکی ہے پر وہ میرے نکاح میں بھی ہے۔۔۔ اس لئے میں نے ایسا کچھ بھی غیر فطری یا غیر اخلاقی نہیں کیا جس کے لئے مجھے کسی کو بھی صفائیاں دینی پڑیں۔۔۔۔ اپنی بات کہتا وہ رکا نہیں تھا بلکہ راستے میں آتی ہر چیز کو ٹھوکروں کی زد پر رکھتا باہر نکل گیا تھی۔۔۔۔۔۔۔


کیا بات ہے شاہان تم بڑے چپ چپ ہو۔۔۔۔ آج وہ بہت دنوں کے بعد احد کیطرف آیا تھا۔۔۔۔ اور جب سے آیا تھا تب سے ہی بہت چپ چپ تھا۔۔۔۔ بالآخر احد نے اسکی خاموشی اور اسکی غائب دماغی کو نوٹ کرتے اس سے پوچھ ہی لیا تھا۔۔۔۔ وہ اسکا بچپن کا دوست تھا اسکی رگ رگ سے واقف تھا۔۔۔۔ کچھ نہیں یار۔۔۔۔ کچھ کھانے کو لا وہ صوفے سے اتر کر فلور کشن صحیح کرتا کارپٹ پر نیم دراز ہو گیا۔۔۔۔ یار تو بول کیا کھائے گا ابھی آرڈر کر دیتا ہوں۔۔۔۔ دراصل شزا کالج ٹور پر گئ ہے تو اس لیے گھر پر تو آج کچھ نہیں ملے گا۔۔۔۔ احد فوراً سے موبائل اٹھا کر ہوم ڈلیوری کے لئے نمبر ملانے لگا۔۔۔۔ تجھ جیسے کنجوس دوست سے یہی امید کی جاسکتی ہے۔۔۔۔۔۔ میں خود ہی کچھ ڈھونڈ لوں گا۔۔۔۔ وہ بولتا ہوا ڈرائنگ روم سے نکل کر کچن میں جا کر فریج چیک کرنے لگا۔۔۔۔ احد بھی مسکراتے ہوئے اس کے پیچھے ہی آ گیا۔۔۔ چل اب جلدی سے بول کیا بات ہے جس نے تجھے اتنا چپ چپ کروا دیا ہے۔۔۔۔ احد نے شاہان کو دیکھ کر کہا جو کہ ایک ہاتھ سے سیب کی بائٹ لیتا دوسرے سے کولڈرنگ کا ٹن پکڑے اچک کر کاونٹر پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔۔۔ ہوںں ں ں۔۔۔۔ وہ ہوں کو لمبا کھنچتا اسے ہادیہ سے متعلق شروع سے اینڈ تک سب کچھ بتا چکا تھا۔۔۔۔ کیااااا۔۔۔۔ تو نے مس ہادیہ سے ایکسکیوز کیا۔۔۔۔ وہ چلا کر بولا تھا حیرت سے اسکی آنکھیں ابل پڑنے کو تیار تھا۔۔۔۔ کہ شاہان اور کسی سے ایکسکیوز کر لے دونوں ہی ایک دم متضاد باتیں تھیں۔۔۔۔ شاہان کو اسکی شکل دیکھ کر ہنسی آ گئ۔۔۔۔ ہاں نہ یار پر اب تو گڑبڑ ہو گی ہے مس ہادیہ کو اس وقت وہاں نہیں آنا چاہیے تھا نہ۔۔۔ اس بیچاری کا برٹھ ڈے تھا میں تو بس اسے اسکی برٹھ ڈے کا چھوٹا سا گفٹ دے رہا تھا۔۔۔۔ پر سب کچھ خراب ہو گیا نہ مس ہادیہ نے غلط موقع پر اینٹری دی۔۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے آنکھ مار کر احد کو بتا رہا تھا۔۔۔۔ احد نے تاسف سے اسے دیکھا۔۔۔۔ تو سدھر کیوں نہیں جاتا شاہان۔۔۔۔ وہ دکھ سے بولا۔۔۔۔۔ اچھا نہ یار اب سدھرنے پر لیکچر بعد میں۔۔۔۔ پہلے اس مسئلے کا حل بتا۔۔۔۔ مس ہادیہ تو پہلے ہی بہت موڈی ہے اوپر سے اب تو اور میرا امیج انکی نظروں میں خراب ہو چکا اب کیا کروں یار۔۔۔۔ اس نے ادھ کھائے سیب کو باسکٹ میں پھینک کر کولڈرنگ کے ٹن سے سپ لیا۔۔۔۔ تمہارے دماغ میں چل کیا رہا ہے یار۔۔۔ احد اسکی حرکتوں پر مشکوک ہوا تھا۔۔۔۔ کچھ خاص نہیں یار۔۔۔۔ دیکھ شاہان وہ تیری ٹائپ کی نہیں۔۔۔۔ احد کی بات پر شاہان کے منہ سے ہنسی کا فوارا چھوٹا تھا۔۔۔۔ اور منہ میں موجود ساری کولڈرنگ پھوار کی صورت اسکے منہ سے نکلی تھی۔۔۔ یہ بات تو کوئی دسویں لڑ دسویں لڑکی کے بارے میں بول رہے ہو۔۔۔۔۔ پر ہر بار میں نے تمہیں غلط ثابت کیا ہے۔۔۔ وہ بمشکل اپنی ہنسی کنٹرول کرتا بولا تھا۔۔۔۔ اور ماورا سے پہلی لڑکی کا کیا نام تھا یار۔۔۔ وہ زہن پر زور دیتا ہوا سوچنے لگا۔۔۔۔ ہاں یاد آیا سمیرا۔۔۔۔ وہ ایک دم چٹکی بجاتے ہوئے بولا۔۔۔۔ سمیرا کا نام لینے پر چھم سے ایک معصوم اور حجابی لڑکی احد کی نظروں سے گزری۔۔۔۔ کیا بولا تھا تو نے اسکے بارے میں۔۔۔ شاہان جمپ لگا کر شیلف سے اتر کر اسکے سامنے جا کر کھڑا ہوا۔۔۔۔ شاہان وہ شریف لڑکی ہے۔۔۔۔ شریف گھرانے سے تعلق ہے اسکا۔۔۔ وہ تیرے ٹائپ کی نہیں۔۔۔۔ اور تیری انہی باتوں نے مجھے چیلنج کیا تھا۔۔۔۔ اور پھر کتنی دیر لگی تھی اسے میرے بستر پر پہنچنے کے لئے۔۔۔۔ چھ مہینے۔۔۔۔ محض چھ مہینے۔۔۔۔۔ شاہان نے اسکے سامنے ہاتھوں کی چھے انگلیاں کر کے کہا۔۔۔۔ ہاں وہ ایک مشکل ٹاسک تھی میرے لئے کافی وقت ضائع کرنا پڑا مجھے اس چیلنج کو جیتنے کے لئے۔۔۔۔ وہ بولتا ہوا اب لاوئنج کے صوفے پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔۔ احد نے بھی اسکی تقلید کی۔۔۔۔ پر خدا گواہ ہے میں نے آج تک کسی لڑکی کیساتھ زبردستی نہیں کی وہ خود اپنی رضامندی سے میرے بستر تک پہنچتی ہیں اور پھر میں اتنا نیک پارسا تو ہوں نہیں کہ کفران نعمت کا مرتکب بنوں۔۔۔۔ وہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے گلاس ٹیبل پر پاوں رکھے ہونٹوں میں سگریٹ دبائے لائٹر سے اسے شعلہ دیکھاتا سگریٹ سلگا رہا تھا۔۔۔۔ وہ سمیرا بھی اپنی رضامندی سے میرے ساتھ ہوٹل کے اس روم تک گئ تھی۔۔۔۔ وہ اس لئے کہ تم نے اس سے شادی کے وعدے کئے تھے۔۔۔۔ احد کی آواز میں نمی گھلنے لگی تھی۔۔۔ کیونکہ وہ لڑکی شاہان کہ ہاتھوں اپنا سب کچھ لٹانے کے بعد منتیں ترلے کرنے احد کے پاس ہی آئی تھی کہ شاہان اسکا بیسٹ فرینڈ ہے تو وہ شاہان کو سمجھائے کہ وہ اسکو اپنے نام کی پناہ دے دے۔۔۔۔ پھر بھلے ہی وہ دوسری شادی کر لے پر اب اس موڑ پر اسے یوں نہ دھتکارے۔۔۔۔ پر شاہان کے لئے تو وہ ایک چیلنج تھی جو کہ پورا ہو چکا تھا۔۔۔۔ اب وہ جیتی یا پھر مرتی اسکی بلا سے۔۔۔۔ اس مقصد کے لئے اسنے شاہان کو بہت سمجھایا تھا بہت واسطے دیئے تھے۔۔۔ کیونکہ وہ خود بہنوں کا بھائی تھا۔۔۔ اور اس لڑکی کا دکھ سمجھ سکتا تھا۔۔۔۔ پر شاہان اس نے تو کبھی سگھے باپ کی نہیں سنی تھی اسکی کیسے سن لیتا۔۔۔۔
شادی کے وعدے کئے تھے نہ یار۔۔۔۔ شادی تو نہیں کر لی تھی جو وہ اپنی پارسائی تک بھول گئ۔۔۔۔ اور ویسے بھی محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے۔۔۔۔ اور یہ چیلنج بھی میرے لئے ایک جنگ ہی تھی۔۔۔۔ اور کیا کر لیا اس نے۔۔۔۔ دعوے تو بہت کر رہی تھی۔۔۔۔ کہ میں نے نہ اپنایا تو مر جائے گئ فلاں فلاں فلاں۔۔۔۔۔ اب ماں باپ کی عزت کی خاطر چپ چاپ اس مکینک سے شادی کروا کے خوشحال زندگی گزار رہی ہے۔۔۔۔ دھکوسلے ہوتے ہیں یہ ایموشنل بلیک میلنگ ان لڑکیوں کی۔۔۔۔ انفیکٹ تو کہے تو اب بھی وہ سر کے بل چلی آئے گئ میرے پاس ایک فون کال پر کیونکہ ہماری قربت کے ان حسین لمحوں کی ویڈیو ایز آ ثبوت موجود ہے میرے پاس۔۔۔۔ صرف ایک دھمکی ویڈیو اسکے شوہر کو دیکھانے کی اس کے بعد راتیں شب برات اور دن عید۔۔۔۔ ہاہاہاہا۔۔۔۔ کیوں بدعائیں لیتا ہے مظلوموں کی شاہاں۔۔۔۔ اب کی بار احد کی آواز مین واضح آنسوؤں کی امیزش تھی۔۔۔۔ چل یار اتنا ہائپر کیوں ہو رہا ہے میں صرف مثال دے رہا تھا ورنہ تو جانتا ہے کہ میں کسی سے زبردستی نہیں کرتا۔۔۔۔ تو پھر وہ ویڈیو دیلیٹ کر ابھی میرے سامنے۔۔۔ وہ اب جذباتی ہو رہا تھا۔۔۔۔ اوکے ڈن کر دوں گا۔۔۔۔ ابھی کر وہ بضد تھا۔۔۔۔ یار ویڈیو لیپ ٹاپ ٹاپ میں ہے اور لیپ ٹاپ گھر ہے۔۔۔۔۔۔
( جاری ہے )