64.9K
56

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

صبح جب مصطفی کی آنکھ کھلی تو نظر بے ساختہ ہی اس کونے کی جانب گئ جہاں اسنے کل رات ندا کو سونے کا حکم دیا تھا اور جہاں اسنے بغیر بستر اور سرہانے کے ماربل کے چمکتے فرش پر گھٹری بن کر رات گزاری تھی۔۔۔۔ لیکن اب وہ وہاں نہیں تھی وہ مصطفی کے اٹھنے سے پہلے ہی اس سے روپوش ہو چکی تھی۔۔۔۔ رات کے تمام واقعات ذہن میں آتے ہی مصطفی سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ کسی کے ساتھ اسقدر انسان سوز سلوک کر سکتا ہے وہ بھی کسی لڑکی کیساتھ۔۔۔ وہ ہر بار خود سے عہد کرتا کہ وہ اس لڑکی کو کچھ نہیں کہے گا صرف اسکی ندا سے قطع تعلقی ہی اسکی سب سے بڑی سزا ہو گئ۔۔۔ کیونکہ کسی بھی لڑکی کی اس سے زیادہ بد نصیبی کوئی نہیں ہو سکتی کہ اسکا شوہر اسے منہ نہ لگاتا ہو۔۔۔ لیکن ہر بار ندا سے سامنے پر وہ اپنے عہد بھولنے لگتا تھا۔۔۔۔ وہ اس سب کا ذمہ دار خود اسی کی ذات کو گرداننے لگتا تھا۔۔۔۔۔جس نے خود اپنی ذات کو اتنی مصیبت میں پھنسایا تھا۔۔۔۔ مصطفی کو لگتا کہ اسکے دماغ کی کوئی نس پھٹ جائے گئ۔۔۔۔ اسکا بڑا بھائی اسکا بہتریں دوست تھا وہ بلا جھجک اپنی ہر بات اس سے شیئر کرتا تھا
۔۔۔ اسکے باپ کی ڈیٹھ اسکے بچپن میں ہی ہو گئ تھی اسکے بڑے بھائی نے اسے کبھی باپ کی کمی محسوس نہیں ہونے دی تھی۔۔۔۔ اسکے بھائی نے ہی اسکی دلچسپی کو محسوس کرتے ہوئے اسکا رشتہ وردا سے طے کروایا تھا۔۔۔۔ پر اب اس لڑکی کی وجہ سے اسے سب ختم ہوتا لگتا تھا۔۔۔ اسکی زندگی کی سب خوشیاں اس سے روٹھتی جا رہی تھی۔۔۔ وہ دونوں ہاتھوں سے سر تھام کر رہ گیا۔۔۔۔۔ کیونکہ وہ عجیب دوراہے پر کھڑا تھا کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کرے۔۔


موسم نے یکدم ہی رت بدلی تھی۔۔۔۔ صبح سے جس قدر گرمی پڑ رہی تھی شام ہوتے ہی یکدم کالی گھٹاوں نے آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔۔۔۔۔ شام وہ جس وقت گھر سے نکلی تھی تب صرف ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا ہی چل رہی تھی لیکن پھر یکدم ہی موسم نے کروٹ بدلی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے کالی گھٹاوں نے آسمان کے گرد گھیرا ڈالا تھا اور اب چھاجوں چھاج مینہ برسنے لگا تھا۔۔۔ وہ پریشان سی اس وقت اکیڈمی کی سیڑھیوں کے سائیڈ پر بنے شیڈ کے نیچے کھڑی تھی۔۔۔۔ صورتحال اسکی سمجھ سے باہر ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔ وہ جس کام کے لئے گھر سے نکلی تھی وہ بھی نہیں ہو پایا تھا۔۔۔۔ اور اب موسم کے تیور مزید اسے سہما رہے تھے۔۔۔۔ وہ تو تھی ہی ازلی ڈرپوک ذرا ذرا سی بات پر رو دینے والی۔۔۔۔ اور اب تو سچویشن بھی ایسی تھی موسم کے باعث رات آٹھ بجے ہی ہر طرف ہو کا عالم ہونے لگا تھا۔۔۔۔ سڑک پر اکا دکا گاڑیاں ہی آ جا رہی تھیں۔۔۔۔ تیز بارش کے تھپیڑے اور بار بار کڑکتی بجلی اسکی جان نکال رہی تھی۔۔۔۔ کچھ بعید نہ تھا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیتی۔۔۔۔ جب اسے اپنے عقب سے ایک مانوس سی آواز سنائی دی۔۔۔۔
ارے مس حجاب آپ یہاں اس وقت۔۔۔۔ خیریت ۔۔۔۔۔ آواز کے تعاقب میں حجاب نے ہوائیاں اڑے چہرے سے پیچھے مڑ کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔
آپ۔۔۔ اپنے سامنے بلیک پینٹ اور سرمئ شرٹ میں ملبوس احد کو دیکھ کر وہ محض یہ ہی بول پائی۔۔۔۔
جی مجھے کچھ کام تھا یہاں پر آپ کیسے۔۔۔ احد بغور اسکا جائزہ لے رہا تھا۔۔۔۔۔ وہ کچھ بولے بغیر سر جھکائے کھڑی رہی۔۔۔۔ چلیں آپ آئیں میں آپکو آپ کے گھر ڈراپ کر دوں۔۔۔۔۔ احد کی بات پر حجاب نے جھٹکے سے سر اٹھا کر حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔ اسکی آنکھوں سے پنپتی پنپتی حیرانگی وہ بھی اچھے سے محسوس کر چکا تھا۔۔۔۔ دیکھو حجاب تم مجھ پر یقین کر سکتی ہو یہاں اس وقت یوں اکیلے کھڑے رہنا سوائے حماقت کے کچھ نہیں۔۔۔۔ فلحال تمہیں یہاں سے کوئی بھی سواری نہیں ملے گئ اس لئے بہتر یہ ہی ہے کہ تم میرے ساتھ چلو۔۔۔۔ باقی جیسے تمہاری مرضی۔۔۔۔ اپنی اتنی لمبی بات کے اختتام پر بھی اسے ٹس سے مس نہ ہوتے دیکھ کر وہ سب کچھ اس پر چھوڑ کر آگے بڑھ گیا۔۔۔۔ حجاب شش و پنج میں مبتلا تھی کہ کیا اسے اس پر یقین کرنا چاہیے کہ نہیں۔۔۔ اس کے ساتھ اسے اپنی پہلی ملاقات یاد آتی تو وہ مزید کپکپا اٹھتی۔۔۔۔ مگر یہاں اکیلے میں کھڑے رہنا بھی نری حماقت تھی۔۔۔۔ کیا کرے کیا نہ کرے وہ اسی الجھن میں گرفتار تھی۔۔۔ اسے رہ رہ کر خود پر غصہ آ رہا تھا کہ اسے ایسے موسم میں گھر سے باہر نکلنا ہئ نہیں چاہیے تھا۔۔۔۔ ابا کی دوائیاں پچھلے دو دن سے ختم دی اور انکی طبیعت پھر سے بگھرنے لگی تھی۔۔۔۔ اسی لئے وہ آج انتہائی مجبوری کے عالم میں گھر سے نکلی تھی کیونکہ محض گھر پر بچوں کو ٹیوشن دینے سے گھر کے تمام اخراجات پورے نہیں ہو پا رہے تھے۔۔۔ احد نے ابھی گاڑی میں بیٹھ کر اگنیشن میں چابی گھمائی ہی تھی کہ وہ جلدی سے ہوش کی دنیا میں آتے چلتے ہوئے گاڑی کے دروازے تک پہنچی۔۔۔۔ لیکن زبان سے اسے اپنے ساتھ لیجانے کی التجا کرنے کی ہمت وہ خود میں مفقود پاتی تھی۔۔۔۔ وہ وہیں دروازے کے پاس سر جھکائے کھڑی بری طرح سے اپنے ہاتھ مسل رہی تھئ۔۔۔۔ احد نے اسکی طرف دیکھا تو ایک جاندار مسکراہٹ اسکے لبوں کو چھو گئ۔۔۔۔ وہ اسکی الجن سمجھ سکتا تھا وہ اس پر اعتبار کرنے سے ہچکچا رہی تھی۔۔۔۔ احد نے اسکے بولنے کا انتظار کئے بغیر ہاتھ بڑھا کر گاڑی کا دروازہ وا کیا اور اشارے سے اسے بیٹھنے کو کہا۔۔۔ حجاب ہچکچا کر اندر بیٹھ گئ۔۔۔ اسکا ایک ہاتھ دروازے کے ہینڈل پر تھا اور وہ بالکل دروازے کیساتھ چپک کر بیٹھی تھی جیسے کسی بھی ناگہانی صورتحال کے تحت فوراً سے گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر کود جائے گئ۔۔۔۔۔
تمہیں کسی بھی صورت میں اس قدر خراب موسم میں گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہیے تھا۔۔۔۔ احد نے موڑ کاٹ کر گاڑی کو مین روڈ پر ڈالا۔۔۔۔ بارش کے تھپیڑے زور زور سے ونڈ اسکرین سے ٹکرا رہے تھے۔۔۔۔ وہ دراصل میں نے اس اکیدمی کے پمفلٹ پر ضروت برائے انگلش ٹیچر دیکھا تھا اس لئے میں وہاں جاب کے لئے گئ تھی۔۔۔۔ پر وہاں تو اور ہئ بہت سے امیدوار موجود تھے۔۔۔۔ وہاں بھی کام نہیں بنا اور اوپر سے یکدم ہی موسم اتنا خراب ہو گیا۔۔۔۔ حالانکہ جب میں گھر سے نکلی تھی تب تو صرف ہلکی ہلکی ہوا ہی چل رہی تھی۔۔۔۔۔
احد نے اس سے اڈریس پوچھ کر گاڑی اسکے گھر کی گلی کی نکڑ پر کھڑی کی تو حجاب نے اسے ممنون نظروں سے دیکھا۔۔۔۔ تھینک یو۔۔۔ وہ ہولے سے بولی۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ دروازہ کھول کر باہر نکلتی احد نے اپنی پینٹ کی جیب سے ایک کارڈ نکال کر اسکی طرف بڑھایا ۔۔۔۔ یہ میرا کارڈ ہے حجاب۔۔۔۔ جس اکیڈمی میں تم آج گئ تھی وہ میرے دوست کے بڑے بھائی کی اکیڈمی ہے۔۔۔۔ کچھ عرصہ پہلے میں بھی وہاں پڑھا چکا ہوں۔۔۔۔ یہ میرا کارڈ ہے اسے حدید بھائی(اکیڈمی کے آنر) کو دیکھا دینا مزید میں خود بھی ان سے بات کر لوں گا۔۔۔۔ تمہیں یہ جاب مل جائے گئ۔۔۔۔ حجاب منہ کھولے حیرت سے اس شخص کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔


اس دن کے بعد سے شاہان نے ہادیہ کے لئے مزید مشکلات بڑھانا شروع کر دی تھیں۔۔۔۔۔ پہلے تو وہ بس کلاس روم میں ہی اسے تنگ کرتا تھا پر اب وہ ہر ط ہر طرح کا لحاظ بالائے طاق رکھے آتے جاتے اس پر جملے کستا تھا۔۔۔ بلیک بیوٹی اور الا بلا ایسے بہت سے خطابات تھے جس سے وہ وقتاً فوقتاً ہادیہ کو نوازتا رہتا۔۔۔۔۔۔۔ ہادیہ اس سے ناک تک عاجز آ چکی تھی۔۔۔۔ وہ اندر ہی اندر کڑہتی رہتی مگر وہ سب کچھ صبر سے برداشت کر رہی تھی۔۔۔۔ اس روز بھی وہ ابھی یونیورسٹی میں داخل ہوئی ہی تھی کہ پارکنگ میں کھڑے شاہان نے اسے دیکھتے ہی اپنے گروپ کے لڑکوں کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر اس پر جملے کسنے شروع کر دیئے۔۔۔۔
یار واٹ آ بلیک بیوٹی۔۔۔۔ جیسی صورت ویسی رنگت اور نہلے پہ دھلہ ڈریسنگ بھی ویسی ہی۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی وہاں قہقہوں کا ایک فوارا پھوٹا تھا۔۔۔۔ ہادیہ نم آنکھوں سمیت تیز تیز قدم اٹھاتی وہاں سے آگے بڑھی تھی۔۔۔۔ دل کو ہر طرح سے سمجھا لینے کے باوجود بھی دل میں ایک آگ لگی ہوئی تھی کہ وہ ہوتا کون ہے یوں سر عام اسکی تزلیل کرنے والا۔۔۔۔ وہ جب کلاس میں داخل ہوئی تو پہلی نظر ہی شاہان پر پڑی صبح سے اندر لگی آگ ایک بار پھر سے بھڑک اٹھی تھی۔۔۔۔ آج میں آپکو کوئی لیکچر نہیں دوں گئ۔۔۔۔ آج میں آپ سے کچھ باتیں کلئیر کروں گئ۔۔۔۔ اس کے دماغ میں اس وقت ایک جوارع بھاٹا پھٹ رہا تھا۔۔۔۔ انگ انگ میں جیسے شرارے ڈور رہے تھے۔۔۔۔ بہت کچھ سوچتے ہوئے وہ ایک نتیجے پر پہنچی تھی اور اسی لئے وہ اس وقت کلاس سے مخاطب تھی۔۔۔۔
سب لوگ پوری طرح سے اسکی طرف متوجہ ہوئے یہاں تک کہ شاہان بھی اپنی سرگرمیاں ترک کئے اس کی طرف متوجہ تھا۔۔۔۔
اس کلاس میں تین طرح کے لوگ موجود ہیں۔۔۔۔ پہلے وہ بیس فیصد لوگ ہیں جو خود کچھ نہیں بس باپ کے پیسے اور سفارشات کی بنا پر ابھی یہاں پر موجود ہیں۔۔۔
نمبر دو پر وہ تیس فیصد اسٹودینٹس ہیں جو کہ اسکالرشپ پر یہاں آئیں ہیں
اور نمبر تین پر وہ اسٹودینٹس ہیں جن کو یہاں تک پہنچے کے لئے اکثر و بیشتر اپنے گھر کا قیمتی سامان تک بھی بیچنا پڑا۔۔۔۔ تب کہیں جا کر وہ اس یونیورسٹی کی فیس ادا کرنے میں کامیاب ہو پائے ہیں۔۔۔۔
کیوں ایسا ہی ہے نہ کلاس۔۔۔۔ بات کے دوران رک کر اس نے کلاس کی رائے جانی ۔۔۔۔
یہ تو ہو گیا میری بات کا ایک پہلو اب آتے ہیں اسکے دوسرے پہلو کی طرف۔۔۔۔
اس کلاس میں یقینی طور پر لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے زیادہ ہے۔۔۔۔ اور ان میں سے بھی پیشتر وہ لڑکیاں ہیں جنہیں اپنے گھر والوں سے کئ کئ دنوں کی منتوں اور واسطوں کے بعد کہیں جا کر یہاں اس یونیورسٹی میں پڑھنے کی اجازت ملی ہے۔۔۔۔ کیونکہ ہمارے ہاں ایک نظریہ یہ بنا ہوا ہے کہ جتنا پڑھانا ہے بیٹے کو پڑھاو اس پر پیسے لگاو اس پر انویست کرو کیونکہ اس نے بڑھاپے کا سہارا بننا ہوتا ہے۔۔۔۔ وہ الگ بات کے انہیں بیٹوں میں سے پچاس فیصد بیٹے بڑھاپے میں ماں باپ کو پوچھتے تک نہیں۔۔۔۔ اور یہ کہ بیٹی کو پڑھا کر کیا ملے گا۔۔۔۔ اس نے پرائے گھر چلے جانا یے پھر اس پر اتنا خرچ کرنے کا فائدہ۔۔۔۔ تو بات یہ ہے کہ یہاں پر جو اس وقت پچاس لڑکے ایم بی اے کی ڈگری لینے کے لئے بیٹھے ہیں نہ وہ محض پچاس افراد ہیں جبکہ جو یہاں پر پچاس لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بیٹھی ہیں نہ وہ پچاس لڑکیاں نہیں بلکہ پچاس نسلیں ہیں۔۔۔۔ کیونکہ ہر لڑکی نے آگے ایک نسل کو پروان چڑھانا ہوتا ہے۔۔۔۔۔ پڑھی لکھی ماں اپنے بچوں کی جو تربیت کر سکتی ہے اسکا اس دنیا میں کوئی نعمل البدل نہیں۔۔۔۔
پر بات یہ ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے کلاس میں موجود کچھ شر پسند اور بگڑے ہوئے رئیس زادوں کے باعث زیادہ تر یا تو الیکچرز ہوئے ہی نہیں اور اگر ہوئے بھی ہیں تو آدھے ادھورے۔۔۔۔ تو اب میرا میرا موقف یہ ہے کہ میرا تو کچھ نہیں جا رہا میں نے تو ایک دن کا جو اور جتنا الیکچر سوچا ہے اتنا دینا ہی ہے۔۔۔۔ اب آپ لوگ وہ لیکچر لیتے ہو یا نہیں یہ مکمل طور پر آپکا درد سر ہے۔۔۔۔ میں نے اگلے دن اگلا ہی الیکچر دینا ہے۔۔۔ میں یہاں پر اپنی سیلری حلال کرنے کے لئے آپ لوگوں کو لیکچر دینے آتی ہوں پر اگر آپ لوگ مجھے بغیر محنت کے فری میں سیلری دلوانہ چاہتے ہیں تو بھی کوئی مسلہ نہیں۔۔۔۔ وہ کندھے اچکا کر مسکرا کر بولی۔۔۔۔ سمیسٹر کے اختتام پر فل کورس سے جب پیپر آئے گا تب برائے مہربانی کوئی سر پکڑ کر اس وقت کو نہ کوسے کہ کاش تب ہوش کے ناخن لئے ہوتے۔۔۔ کیونکہ تب وقت گزر چکا ہوگا۔۔۔۔ کیونکہ اس کلاس میں موجود بیس پرسنٹ اپنے باپ کے پیسوں پر عیش کرنے والوں کو یہاں پر بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ باپ کا پیسہ انکی ڈگریاں کلئیر کروانے کے لئے کافی ہوگا جبکہ واٹ تو کلاس میں موجود اس اسی فیصد اسٹودینٹس کی لگ جائے گئ جو اپنی آنکھوں میں کئ طرح کے خواب سجا کر یہاں تک آئے تھے۔۔۔۔۔ لیکن بگرا ابھی بھی کچھ نہیں جو گزر گیا اس پر مٹی ڈالیں اگر آگے آپ لوگ اب بھی ہر مصلحت کو بالائے طاق رکھے اپنی پڑھائی کیساتھ سنجیدہ ہو جاتے ہیں تو انشاءاللہ کامیابی آپکا مقدر ضرور بنے گئ۔۔۔۔ کیونکہ ہمارا ایک ایک منٹ ایک ایک لمحہ قیمتی ہے بڑا آسان ہے اپنے قیمتی وقت کو یوں ضائع کرنا پر اسے صیحح طریقے سے استعمال کرنا ہر انسان کے لئے ایک چیلنج ہوتا ہے اور ہمیشہ کامیاب وہی ہوتے ہیں جو زندگی میں چیلنجز قبول کرتے ہیں۔۔۔۔
زندگی میں ہمیشہ بوجھ اتنا ہی اٹھانا چاہیے جتنی آپ میں سکت ہو۔۔۔۔ اگر آگے بڑھنا ہے تو غیر ضروری بوجھ اور رشتوں کو خود سے کاٹ کر پھینک دیں۔۔۔۔ جو رشتہ یا جو دوستی آپ کسی سے متعارف کرواتے ہوئے شرم محسوس کریں وہ رشتہ اچھا ہے ہی نہیں یا جو رشتہ آپکے لئے باعث نقصان ہو اسے خود سے الگ کر دیں تبھی آپ کامیاب ہو سکتے ہیں۔۔۔۔ شاہان غصے سے لال انگارہ آنکھیں لئے دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں کو زور سے میچے غصے سے ہادیہ کو دیکھ رہا تھا جو کہ ان ڈائریکٹ اسکی ذات پر حملے کر رہی تھی۔۔۔۔ اس کی کلاس فیلو کے ساتھ دوستی کو غیر ضروری اور باعث شرمندگی کہہ رہی تھی۔۔۔۔
فزکس میں میزائل کے بارے میں آپ نے پڑھا ہوگا تو میزائل اوپر کی طرف جب اڑنا شروع ہوتا ہے نہ تو اپنے غیر ضروری شیلز کو نیچے پھینک دیتا ہے تاکہ ہلکا ہو سکے اور اونچی اوڑان بڑھ سکے۔۔۔۔ بلکل اسی طرح اگر آپ اپنے خوابوں کیساتھ اونچی اوڑان بڑھنا چاہتے ہیں تو آپکو اپنے اوپر سے غیر ضروری ذمہ داریوں اور غیر ضروری رشتوں کے بوجھ کو اتارنا ہوگا ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ لوگ مروت میں ہی مارے جائیں۔۔۔۔ اپنی بات مکمل کرتی وہ کب کی جا چکی تھی پر جانے انجانے میں ہی سہی وہ شاہان کو کسی انتہائی قدم کے لئے اکسا چکی تھی۔۔۔۔


امی میں کیا کروں امی۔۔۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔۔۔۔ مرتضی اس بار بہت غصے میں ہیں۔۔۔۔ مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس بار وہ خاندان والوں کے دباو میں آ کر کوئی انتہائی فیصلہ نہ کر لیں۔۔۔۔ ورنہ میں۔۔۔۔ میں مر جاوں گئ امی۔۔۔۔ اگر خدا نے مجھے ابھی تک اولاد نہیں دی تو کیا اس میں میرا قصور ہے۔۔۔۔۔
وہ تیار ہو کر کمرے سے نکلا ہی تھا جب اسے امی کے کمرے سے بڑی آپا کی ہچکیوں سے روتے ہوئے آواز آئی۔۔۔۔ اسکے ماتھے پر واضح شکنوں کا جال بنا تھا قدم خود بخود اس کمرے کی جانب اٹھنے لگے تھے۔۔۔۔۔صبر کر میری بچی صبر۔۔۔۔۔ انشااللہ