Be Dard Piya By Umme Hania Readelle50176 Episode 45
No Download Link
Rate this Novel
Episode 45
شام کے سائے گہرے ہو رہے۔۔۔۔ سورج اپنی میٹیالی کرنیں سمیٹے واپسی کے در پر تھا۔۔۔۔ ہادیہ تھوڑی دیر پہلے ہی یونیورسٹی سے واپس گھر لوٹی تھی امی ابھی تک واپس نہیں آئیں تھیں انہیں لوٹتے رات ہو جانی تھی اور یہ بات ہادیہ بخوبی جانتی تھی۔۔۔ ابا اپنے کمرے میں تھے جبکہ احمد اس وقت اپنی اکیدمی پر ہوتا تھا۔۔۔۔ ہادیہ نے سارا گھر دیکھ لیا پر اسے کہیں پر بھی ارحمہ دیکھائی نہیں دی۔۔۔۔ اسے اب حقیقتاں پریشانی ہونے لگی تھی ارحمہ کے بارے میں کہ وہ کہاں جا سکتی ہے۔۔۔ اس نے کچھ دیر سوچنے کےبعد ابا سے اس کے بارے میں استفسار کرنے کے بارے میں سوچا۔۔۔۔ ابھی وہ کمرے سے باہر نکلنے ہی والی تھی جب کمرے کا دروازہ دھار سے کھلا اور ارحمہ اندر داخل ہوئی ابھی ہادیہ صورتحال سمجھ بھی نہ پائی تھی کہ ارحمہ تیر کی سی تیزی سے ہادیہ کی طرف لپکی اور اس سے لپٹ کر بلک بلک کر رو دی۔۔۔۔
ہائے آپو مجھے معاف کر دیں۔۔۔۔ میں نے آپکی بات نہیں مانی۔۔۔۔ ارحمہ کا حلیہ چیخ چیخ کر اس پر گزری داستاں سنا رہا تھا۔ ۔۔۔۔۔ کئ سوال تھے جو کہ ہادیہ کے لبوں پر آنے کو مچل رہے تھے کہ وہ کہاں گئ تھی۔۔۔ کیسے گئ اس کا یہ حلیہ اور سب سے بڑھ کر کہ واپس کیسے آئی۔۔۔۔ پر وہ فلحال موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے لب سئیے ہوئے تھی۔۔۔۔ پر اسے زیادہ دیر اانتظار نہیں کرنا پڑا کیونکہ ارحمہ خود ہی روتے ہوئے اپنے اوپر گزری داستان حرف بہ حرف سنانے لگی تھی۔۔۔۔۔ اسکی باتیں سن کر تو کئ پلوں کے لئے ہادیہ کی قوت گویائی ہی سلب ہو گئ تھی۔۔۔۔۔
آپو میں بہک گئ تھی۔۔۔۔ میں اپنی اس غربت سے تنگ آ گئ تھی۔۔۔۔ جب میں لوگوں کو اتنی بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے دیکھتی تھی اور بڑے بڑے محلوں میں رہتے دیکھتی تھی تو میرا دل کرتا تھا میرے پاس بھی گاڑی ہو بڑا گھر ہو نوکر چاکر ہوں جو میری ایک آواز پر میرے سب کام سر انجام دے دیں۔۔۔۔ مجھے یوں ایک ایک روپے کے لئے ترسنا نہ پڑے۔۔۔ کوئی مہنگا جوڑا خریدنے کے لئے مہینوں اپنے بجٹ کا خیال نہ کرنا پڑے۔۔۔۔وہ ہادیہ کے سینے میں منہ چھپائے سسک رہی تھی۔۔ اور ہادیہ نے بھی اسے یوں اپنی آغوش میں چھپایا تھا جیسے مرغی اپنے بچوں کو اپنے پروں میں چھپا لیتی ہے۔۔۔۔ پر آپو اب مجھے ان بڑے محلوں کی اصلیت معلوم ہو گئ ہے۔۔۔۔۔ مجھے اب یہ دولت یہ عیش و عشرت کچھ نہیں چاہیے آپو۔۔۔۔ مجھے اب بس عزت سے اور آزادی سے سر اٹھا کر جینا ہے۔۔۔۔۔ غربت میں جیتے ہوئے یہ دو چیزیں عزت اور آزادی کس قدر قیمتی اور اہم ہیں یہ کوئی مجھ سے پوچھے۔۔۔۔ آپو میں ان کچھ گھنٹوں میں جن خار دار جاریوں سے گزری ہوں صرف میں جانتی ہوں یا میرا خدا۔۔۔۔۔ مجھے آپکی باتیں نہ ماننے کی سزا ملی ہے آپو۔۔۔۔ آپ نے مجھے کتنا سمجھایا تھا پر میں نہ سمجھی۔۔۔۔ لیکن آپو میں۔۔۔۔۔ بات کرتے کرتے اسکی آواز موٹی ہو رہی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ غنودگی میں چلی گئ ۔۔۔۔ ہادیہ نے اسے اختیاط سے بستر پر لٹایا اور امی کے آنے سے پہلے اسکے کپڑے تبدیل کرنے لگی۔۔۔۔ وہ اس پر گزری واردات کے نشان تک مٹا دینا چاہتی تھی۔۔۔
احد ایم سوری۔ ۔۔۔۔ رات کے اس وقت وہ سنجیدہ صورت لئے لب بھینجے سامنے نظر آتی تارکول کی سڑک پر نظریں جمائے کار ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ حجاب اسکے ساتھ سر جھکائے ہونٹ کچلتی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی۔ ۔۔۔ احد اسے اس وقت اسکے گھر ڈراپ کرنے جا رہا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔
اسکی یہ خاموشی حجاب کے دل میں انی کی مانند چھب رہی تھی۔ ۔۔۔۔۔ بہت ہمت کر کے ہاتھ مسلتی وہ بولی تھی۔ ۔۔۔ جبکہ دوسری طرف دبیز خاموشی تھی۔ ۔۔۔۔ اس نے ڈرتے ڈرتے چہرا اٹھا کر احد کیطرف دیکھا پر وہ اسکی طرف متوجہ ہی نہ تھا جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو۔ ۔۔ جیسے ساتھ بیٹھا وجود اسکے لئے کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتا تھا۔ ۔۔۔ حجاب کا دل بھر آیا۔ ۔۔۔ اس نے ضبط کی بے حد کوشش کی۔ ۔۔ پر پھر بھی کچھ باغی آنسو پلکوں کی بار پھیلانگ کر بہہ نکلے۔ ۔۔۔۔۔ احد جو کافی دیر سے اسکی بے چینی اور شرمندگی نوٹ کر رہا تھا۔ ۔۔ جان بوجھ کر اسے نظر انداز کئے بیٹھا تھا۔ ۔۔۔ کیونکہ وہ حجاب کو اب کوئی ریاعت دینے کے موڈ میں نہیں تھا۔۔۔۔ وہ چاہتا تھا کہ اب کی بار پہل وہ خود کرے اس لئے اسے مسلسل نظر انداز کرنے کے درپر تھا۔۔۔۔۔۔ پر اب اسے یوں روتا دیکھ کر وہ مزید خود پر ضبط نہ رکھ سکا تو گاڑی کو سائیڈ پر روک دیا۔۔۔۔۔
آخر مسلہ کیا ہے تمہارے ساتھ۔۔۔۔ وہ مضطرب سا بالوں میں ہاتھ پھیرتا بولا۔ ۔۔۔۔۔۔
سوری احد ایم ویری سوری۔ ۔۔۔۔۔ پلیز مجھے معاف کر دیں۔ ۔۔۔۔ میں جانتی ہوں میں نے غلط کیا ہے۔ ۔۔۔ بہت غلط۔ ۔۔۔ پر میرا خدا گواہ ہے کہ وہ سب مجھ سے غصے میں سرزد ہوا تھا۔ ۔۔۔۔۔ میں صرف آپکو خود سے متنفر کرنا چاہتی تھی۔ ۔ ۔
وہ چہرا نیچے جھکائے پشمان سی روتی ہوئی بول رہی تھی۔ ۔۔۔۔
کیا میں وجہ جان سکتا ہوں کہ تم کیوں مجھے خود سے متنفر کرنا چاہتی تھی۔ ۔۔۔ احد کہنی گاڑی کی اسٹیرنگ پر جمائے ہاتھ کی مٹھی ہونٹوں پر جمائے سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔ ۔۔۔
حجاب نے شرمندگی سے آنکھوں میں آس کے دیپ جلائے آہستہ سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔ ۔۔۔ اور یہ دیکھنا ہی غضب ہو گیا تھا۔ ۔۔۔ لہو رنگ قاتل آنکھیں ایک پل میں اسکا قرار لوٹ لے گئ تھیں۔ ۔۔۔۔ میں نے اپنی زندگی میں زیادہ رشتے نہیں دیکھے۔ ۔۔۔ صرف دو اہم اور قریبی رشتے تھے میرے ۔۔۔۔ ابا اور پھوپھو۔ ۔۔۔ میں نے ان دونوں کی ہی ناکام ازواجی زندگی دیکھی ہے۔ ۔۔۔۔ میری امی میرے باپ پر زرا سا برا وقت آنے پر انہیں چھوڑ گئ۔ ۔۔۔ اور پھوپھو کے بھی شوہر اور انکے سرالیوں نے انکے ساتھ بہت برا سلوک کیا اتنا کہ وہ اس وقت اسی شہر کے مینٹل ہسپتال میں ایڈمٹ ہیں۔ ۔۔۔۔ وہ ضبط کے کڑے مراحل سے گزرتے ہوئے بہت تکلیف میں یہ سب بول رہی تھی۔ ۔۔۔۔ احد نے دل کی زبان پر لبیک کہتے ہوئے اسے کھینچا اور خود میں سمو لیا۔ ۔۔۔ بس خاموش ہو جاو حجاب تمہارے یہ آنسو مجھے تکلیف دے رہے ہیں۔ ۔۔۔ وہ اسے خود میں سموئے اس کی پشت سہلا رہا تھا۔ ۔۔۔۔
پلیز احد مجھ سے خفا ہو جائیں چاہیے تو ڈانٹ لیں پر یوں خاموشی کی مار مار کر نظر انداز مت کریں۔ ۔۔۔ آپکا یہ رویا میری جان لے لے گا۔ ۔۔۔۔
وہ احد کے کندھے سے سر ٹکائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔ ۔۔۔
میں تم سے خفا نہیں ہوں حجاب۔ ۔۔۔ بس چاہتا تھا کہ اس بار پہل تم خود کرو۔ ۔۔۔۔۔ اور اس شادی کے حوالے سے تمہارے جو تحفظات ہیں انہیں دل سے نکال پھینکو۔ ۔۔۔۔
انشااللہ یہ شادی ایک کامیاب شادی ہوگئ۔ ۔۔۔۔ احد نے دونوں ہاتھوں کے پیالے میں اسکا چہرا بھر کر اسکے آنسو صاف کئے۔ ۔۔۔۔۔
دیکھو میں ایک پریکٹیکل سا بندہ ہوں جیسے کوئی بہت زیادہ وعدے وعید نہیں کرنے آتے۔ ۔۔۔ نہ تو میں تمہارے لئے آسمان سے تارے توڑ کر لا سکتا ہوں اور نہ ہی میں روز روز اظہار محبت ہی کرسکتا ہوں۔ ۔۔۔ بس اتنا جان لو کہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھوں گا۔ ۔۔۔۔
میری معیت میں زندگی کا یہ سفر پرسکوں گزرے گا۔ ۔۔۔۔۔ اور میری زندگی میں تمہاری اتنی ہی اہمیت ہے جتنی کہ زندہ رہنے کے لئے سانسوں کی۔ ۔۔۔۔
اسکی باتوں پر ارحمہ نے ہلکا سا مسکرا لر سر جھکا لیا۔ ۔۔۔۔۔ اس کی اس ادا سے احد بھی مسکرا دیا۔ ۔۔۔
احد اگر خدانخواستہ کل کو مجھ پر کوئی برا وقت پڑ گیا تو مجھے چھوڑ تو نہیں دیں گئے نہ میرا یقین کریں گئے نہ آپ۔ ۔۔۔۔
وہ پتہ نہیں کونسی یقین دہانی چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔ اسکے لہجے میں خوف کا عنصر تھا۔ ۔۔۔۔
تمہیں مجھ پر یقین ہے۔ ۔۔ وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔ ۔۔۔۔ خود سے بھی زیادہ۔ ۔۔۔ سیکند کے ہزارویں حصے میں جواب آیا۔ ۔۔۔ پھر اطمینعان رکھو میں تمہیں کچھ ہونے نہیں دوں گا۔ ۔۔۔۔ اور اترو پہلے کچھ کھا لو مجھے پتہ ہے اب تمہارے پیٹ میں بھوک سے چوہے دوڑ رہیں ہیں۔ ۔۔۔ احد مسکراتے ہوئے کار کا دروازہ کھولنے لگا۔ ۔۔۔۔ حجاب پورا منہ کھولے حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی۔ ۔۔۔۔
کیا محترمہ۔ ۔۔۔۔ میں کبھی بھی اپنی چیز سے غافل نہیں رہا۔ ۔۔۔ چلو اترو اب۔ ۔۔ احد کے مسکرا کر کہنے پر وہ بھی جی جان سے مسکرا دی۔ ۔۔۔
ارحمہ میں یونیورسٹی جا رہی ہوں۔۔۔۔ تم ناشتہ کر لینا۔ ۔۔۔ ہادیہ نے بیڈ پر نیم دراز ارحمہ کے پاس ناشتے کی ٹرے رکھی اور چادر اوڑھ کر باہر نکل گئ۔ ۔۔۔
ارحمہ کیساتھ پیش آئے واقعہ کو پورا ہفتہ گزر چکا تھا اور اس ایک ہفتے میں ہادیہ نے اسے ایک ماں کیطرح سمبھالا تھا۔ ۔۔۔۔ اس واقعہ نے ارحمہ پر بہت گہرے اثرات مرتب کئے تھے اس روز سے اس کا بخار ہی اترنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ ۔۔۔۔ وہ صرف بستر کی ہی ہو کر رہ گٙئ تھی۔ ۔۔۔ وہ جب جب اس واقعہ کے بارے میں سوچتی اسکے رونکھتے کھڑے ہو جاتے۔ ۔۔۔۔ وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتی نہیں تھکتی تھی جس نے اس جیسی گنہگار بندی کو بھی مشکل میں اکیلا نہیں چھوڑا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔ ابھی وہ ناشتہ کرنے کے لئے اٹھی ہی تھی کہ اسکا موبائل بجنے لگا۔ ۔۔۔ اس نے موبائل کی سکریں کی جانب دیکھا تو اس پر ارسلان کالنگ لکھا دیکھ کر اسکے ماتھے کی رگیں تن گئیں تھیں۔ ۔۔۔۔ کس قدر دھٹائی کا مقام تھا کہ وہ اپنی اصلیت سامنے آ جانے کے بعد بھی اس سے رابطہ کر رہا تھا۔ ۔۔۔۔۔ ارحمہ کا دل چاہا کہ وہ اسکا منہ نوچ لے۔ ۔۔۔ اس نے نفرت سے اسکی کال کاٹی۔ ۔۔۔۔
فون بند ہوتے ہی اسکے فون پر میسج کی بپ بجی۔ ۔۔۔۔ اس نے بے دلی سے میسج کھولا۔ ۔۔۔۔۔۔
ہیلو ارحمہ بے بی۔ ۔۔۔۔ تم تو ناراض ہی ہوگئ۔ ۔۔۔ اسی لئے تم اب میرا فون بھی نہیں اٹھا رہی اسی لئے تمہیں کچھ سرپرائز بھیج رہا ہوں امید ہے تمہیں پسند آئے گا اور پھر تم خود کو مجھ سے بات کرنے پر بھی آمادہ پاو گئ۔ ۔۔۔۔
میسج پڑھتے ہی ارحمہ ایک الجن میں گر گئ۔ ۔۔۔ پر جیسے جیسے وہ ارسلان کا بھیجا سرپرائز دیکھ رہی تھی اسے اپنے قدموں تلے سے زمین کھسکتی محسوس ہو رہی تھی۔ ۔۔۔
ارے ماموں آپ ابھی تک ویسے ہی بیٹھے ہیں۔ ۔۔۔۔ اور یہ اتنا اندھیرا کیوں کیا ہوا ہے۔ ۔۔۔۔
شاہان یکدم ہی دروازہ کھول کر احمد ماموں کے کمرے میں داخل ہوا تھا اور اندھیرے کو دیکھتے ہی کمرے کی ساری لائٹیں روشن کر دی تھی۔ ۔۔۔۔۔
ان گزرے چند دنوں میں وہ احمد ماموں کے بہت قریب آ گیا تھا۔ ۔۔۔۔۔ انکی اسقدر کیئرنگ عادت کیوجہ سے وہ ان کا گرویدہ ہو گیا تھا۔ ۔۔۔۔
احد اور شاہان کا پراجیکٹ کامیاب رہا تھا جس کی وجہ سے ان دونوں نے اکھٹے دنر کرنے اور ہلا گلا کرنا کا سوچا تھا۔ ۔۔۔
شاہان احمد ماموں کو بھی ساتھ لے کر جانا چاہتا تھا اسی غرض سے اس نے پہلے ہی ماموں کو فون کر کے انہیں آج کے پلین کے بارے میں انفارم کر دیا تھا۔ ۔۔۔۔ مگر اب انہیں یہاں اس طرح ریلیکس انداز میں بیٹھے دیکھ اسے بہت غصہ آیا۔ ۔۔۔ جس کا اس نے برملا اظہار بھی کر ڈالا۔ ۔۔۔۔۔
کیا کرتے ہو یار۔ ۔۔ تم دو جوانوں میں مجھ بڈھے کا کیا کام ۔۔۔ تم دونوں ہی چلے جاو۔ ۔۔۔ انہوں نے تجاہل عارفہ سے کام لیا۔ ۔۔۔۔
سیدھی طرح بولے نہ کہ آپکو میری کامیابی سے کوئی خوشی نہیں ہوئی۔ ۔۔۔۔ وہ منہ پھلا کر چہرا دوسری طرف موڑ گیا۔ ۔۔۔۔۔
احمد ماموں نے شاہاں کے یہ دل مو لینے والے انداز کو نم آنکھوں سے دیکھا۔ ان کے دل سے ایک ہوک سی اٹھی۔ ۔۔
تمہاری کامیابی کی خوشی نہیں ہونی تو کس کی کامیابی کی خوشی ہونی ہے۔ ۔۔۔
اتنی خوشی تو کبھی مجھے اپنی کامیابیوں پر نہیں ہوئی جتنی کہ اپنے بیٹے کی کامیابی پر ہو رہی ہے۔ ۔۔۔۔۔ انہوں نے بڑے جزب کے عالم میں شاہان کو گلے لگایا تھا۔ ۔۔۔۔۔ ارے بس رہنے دیں آپ یہ خالی خولی محبت کے دعوے۔ ۔۔۔ اس کے لہجے میں ایک مان تھا کہ اسکا ماموں اسکی بات کبھی نہیں ٹال سکتا۔ ۔۔۔۔
ضدی لڑکے چلو۔ ۔۔۔ انہوں نے اسکے مان پر اعتماد کی پکی مہر ثبت کر دی تھی۔ ۔۔۔ انکے طرز تخاطب پر شاہان کھلکھلا کر ہنس دیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
