64.9K
56

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

ہلکی ہلکی بوندا باندی ہورہی تھی۔۔۔ تیز سرد ہوائیں درختوں کے پتوں سے سرسرا کر ٹکڑاتی ہر زی روح انسان کو کپکپانے پر مجبور کر رہی تھی۔۔۔ تبھی ایک بلیک کرولا قبرستان کے احاطے میں آ کر رکی۔۔۔۔ دروازہ کھول کر ایک بارعب شخصیت ہاتھ میں ایک مضبوط بیگ لئے باہر نکلی اور قبرستان کے اندر جانے لگی۔۔۔ اسکے قدموں میں واضح شکستگی اور آنکھوں میں ندامت تھی۔۔۔ چلتے چلتے وہ ایک مخصوص قبر کے قریب پہنچا اور معمول کے مطابق بیگ سے تازہ پھولوں کا شاپر نکال کر قبر پر ڈالنے لگا اسکے بعد اس شخص نے وہاں کھڑے ہو کر فاتحہ پڑھی اور ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے لگا دعا مانگ کر وہ وہیں قبر کے پاس زمیں پر بیٹھ کر سسکنے لگا۔۔۔۔
مجھے معاف کردو پرنسس۔۔۔ خدا کے لئے معاف کردو۔۔۔۔ حالانکہ میرا گناہ معافی کے قابل نہیں۔۔۔ بہت برا کیا میں نے تمہارے ساتھ بہت برا۔۔۔۔ اب سوچتا ہوں تو میری اپنی روح کانپ اٹھتی ہے۔۔۔۔ تمہارے رونے تڑپنے اور گرگرانے کے باوجود میں نے تمہارے لئے ایک پر اذیت موت کا انتظام کیا۔۔۔۔ یہ دکھ مجھے راتوں کو سونے نہیں دیتا۔۔۔۔ اور تم نے بھی مجھے چھوڑنے کی اتنی جلدی کی کہ مجھے معافی کا ایک موقع تک نہ دیا۔۔۔ اب کہاں سے ڈھونڈوں میں دل کا سکون کہ میرا سکون تو تم اپنے ساتھ لے گئ۔۔۔۔۔۔ تم مجھے معافی کا مژدہ سنا دو تو شائید میری بے قرار روح کو کچھ سکون مل جائے۔۔۔۔ وہ اونچا لمبا مضبوط ڈیل ڈول کا حامل شخص اس وقت وہاں قبر پر ہاتھ پھیرتا بچوں کی طرح سسک رہا تھا۔۔۔ دور کھڑے گورگن نے تاسف سے یہ منظر دیکھا۔۔۔ اسکے لئے یہ ممظر نیا نہیں تھا۔۔۔۔ یہ شخص پچھلے اکیس سالوں سے یونہی روز بلاناغہ موسم کی پروا کئے بغیر وہاں آتا تھا کوئی طوفان کوئی بارش کسی بھی قسم کا موسم اس کی روٹین پر اثرانداز نہیں ہو پایا تھا۔۔۔۔ اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ اس قبر پر آنے والا وہ واحد شخص تھا اسکے سوا وہاں اس قبر پچھلے اکیس سالوں میں کوئی نہیں آیا تھا۔۔۔۔ کچھ دیر وہ ایسے ہی وہاں دنیا و مافیہا سے بے خبر رازونیاز میں لگا رہا پھر کچھ دیر بعد وہ جس طرح آیا تھا اسی شکستگی سے واپسی کے لئے مر گیا۔۔۔۔۔۔۔


اسے اپنے نرم و ملائم گداز بازوں پر اس جلاد صفت عورت کے ہاتھ کی سخت گرفت کراہنے پر مجبور کر رہی تھی اسکی سخت انگلیوں کی گرفت اسے اپنے بازو کی جلد کے اندر تک دھنستی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔ وہ عورت اسے اسکی بازو سے سختی سے دبوچے تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی ندا کو اس عورت کی رفتار سے ملنے کے لئے باقاعدہ بھاگنا پڑ رہا تھا۔۔۔۔۔ کمرے کے دروازے کے پاس رک کر اس عورت نے دروازہ دھکیلا اور ندا کی بازو کو ایک جھٹکے سے کھینچ کر یوں اندر دھکیلا جیسے دفعہ 302 کے تحت مجرم کو سزا سنانے کے بعد قید خانے میں دھکیلا جاتا ہے۔۔۔ اس عورت کے کمرا بند کر کے جانے کے بعد ندا نے اپنا کب کا رکا ہوا سانس بحال کیا۔۔۔۔ اس نے آہستہ سے اپنا گھونگھٹ ہٹایا اور گھبرائ نظروں سے اردگرد کا جائزہ لیا۔۔۔۔ کمرا صفائی اور نفاست کا منہ بولتا ثبوت تھا لیکن وہ کہیں سے بھی شادی کی پہلی رات کا کمرا نہیں لگتا تھا۔۔۔۔ اس نے اپنی پوری زندگی میں ایسی شادی اور دلہن کا ایسا استقبال نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔ کتنی امنگیں اور نئی زندگی کے خوش نما لمحات کے جگنو آنکھوں سجائے وہ اس نئے بندھن میں بندھی تھی۔۔۔ لیکن یہاں پر سب کے اتنے سرد رویے اور پتھریلے تاثرات دیکھ کر اسکی روح فنا ہونے لگی تھی جیسے وہ کوئی پہلے دن کی دلہن نہیں بلکہ کوئی مقتول ہو۔۔۔۔ نہ ہی اسے اس گھر میں گھر میں کوئی شادی والے گھر کی طرح چہل پہل دکھی اور نہ ہی کوئی مہمان یا رشتے دار وغیرہ۔۔۔۔ یہ کیسی شادی تھی۔۔۔۔ نہ دلہن کی کوئی ناز برداری اور نہ ہی کوئی خاطر داری ۔۔۔۔ بس سرد مہری ہی سرد مہری تھی۔۔۔۔ اب تو بس اس سے توقع تھی جس سے یہ بندھن بندھا تھا۔۔۔ نجانے اسکا رویہ کیسا ہوتا۔۔۔ وہ یہ ہی سب سوچتی اپنا لہنگا سمبھالتی بیڈ کی طرف بڑھی۔۔۔۔ دن بھر کی تھکاوٹ اتنا لمبا سفر اور گھر والوں کا عجیب اور سرد رویہ اسکی طبیعت پر ایک بوجھل پن سوار ہونے لگا تھا۔۔۔ وہ بیڈ کراون سے ٹیک لگائے دونوں گھٹنے پیٹ سے لگائے انکے گرد ہاتھ باندھ کر گھٹنوں پر سر رکھ کر بیٹھ گئ۔۔۔۔ اسکا جسم کپکپا رہا تھا اسے آنے والے وقت سے خوف محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔


ارے بلبل اتنا ڈر کیوں رہی ہو یار۔۔۔۔ اتنا بھی کوئی مشکل کام نہیں کہا میں نے چلو جلدی سے کس کرو یہاں۔۔۔۔ پھر کلاس لینے بھی جانا ہے نہ تم نے۔۔۔۔ یونیورسٹی کے پچھلے گراونڈ میں جہاں اس وقت اکا دکا سٹوڈینٹس کے سوا کوئی موجود نہ تھا وہ لڑکا اپنے شانوں تک آتے لمبے بالوں کو بینڈز میں جھکڑے گھٹنوں سے پھٹی جینز پر سلیولیس شرٹ پہنے ہاتھوں میں مختلف رنگوں کے بینڈز پہنے گلے میں موٹی سونے کی زنجیر پہنے شوخ سی نظروں سے اپنے سامنے کھڑی شلوار قمیض اور ڈوپٹے میں ملبوس اس معصوم سی ڈری سہمی سی بلبل کو دیکھ کر کہہ رہا تھا جو کہ فریشر تھی یونیورسٹی میں ریکنگ کے لئے سختی سے منع کیا گیا تھا لیکن پھر بھی سینیئرز کے کچھ اسٹودینٹس اس کار خیر میں پیش پیش تھے جن میں شاہان کا گروپ سب سے آگے تھا۔۔۔۔ وہ لڑکی اب خود کو کوس رہی تھی جو کہ بد قسمتی سے یونیورسٹی کے پہلے ہی دن اپنی کلاس دھونڈنے کے لئے شاہان کے گروپ میں سے ہی ایک طرحدار لڑکی سے ہیلپ مانگ بیٹھی تھی۔۔۔۔ اپنی دانست میں تو اس نے کسی لڑکے سے مدد لینے کی بجائے لڑکی کا انتخاب کر کے عقلمندی کا کام کیا تھا۔۔۔۔ پر نہیں جانتی تھی کہ وہ ایسا کر کے مزید اپنے لئے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔۔۔۔ ماروا نے اسے جان بوجھ کر غلط سمت میں بھیجا تھا جہاں پر سٹوڈینٹس اکا دکا ہی ہوتے تھے۔۔۔۔ اس لڑکی کے وہاں سے جاتے ہی ماورا نے شاہان کو میسج کر کے اگلے شکار کے بارے میں بتایا تھا اور وہ اپنی گینگ کو لے کر یونیورسٹی کے پیچھلے گراونڈ میں پہنچ گیا تھا۔۔۔ جہاں اب وہ اس فریشر کو ہراساں کئے کھڑے تھے۔۔۔۔ شاہان کے بائیں اور دائیں جانب احد اور زید کھڑے تھے۔۔۔۔۔ اس لڑکی کا چہرا ہر پل خوف سے زرد پڑتا جا رہا تھا مزید شاہان اور اسکے دوستوں کا مطالبہ خوف سے اسکے جسم پر لرزا طاری ہو گیا تھا ۔۔۔اسکی اس قدر غیر ہوتی حالت سے وہ تینوں بہت مشکل سے اپنے قہقہوں کا گلا گھونٹے ہوئے تھے۔۔۔ ارے کیا ہوا بلبل تم تو کانپنے لگی شاہان نے اسکی غیر ہوتی حالت سے خط اٹھاتے ہوئے مسکرا کر اسکی گال کو چھوا تو وہ لڑکی یوں اچھل کر پیچھے ہٹی جیسے بجلی کی کسی ننگی تار نے اسے چھو لیا ہو۔۔۔۔ اسے ایسے بدک کر پیچھے ہٹتے دیکھ کر ان تینوں کا کب سے روکا ہوا قہقہ فضا میں بلند ہوا۔۔۔۔ اس لڑکی کے آنسو بے اختیار بہنے لگے تھے۔۔۔۔ مم۔۔۔ مجھے جانا ہے۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔ تو ہم نے کب روکا ہے جانے سے یار۔۔۔۔ شاہان پھر سے قہقہ لگا کر دو قدم اس لڑکی کی طرف بڑھا۔۔۔۔ اس لڑکی کا رنگ خطرناک حد تک سفید پڑ چکا تھا۔۔۔۔۔ قریب تھا کہ وہ غش کھا کر گر جاتی۔۔۔ جب عقب سے آتی آواز پر اسنے کچھ حوصلہ پکڑا۔۔۔۔۔ کیا ہو رہا ہے یہاں۔۔۔۔ غضبناک نسوانی آواز پر سبھی نے آواز کی سمت دیکھا۔۔۔۔۔


یا اللہ۔۔۔۔۔ یونیورسٹی کا پہلا دن او
دن اور پہلے ہی دن میں لیٹ ہو گئی۔۔۔۔ امی کو بھی نہ آج کا ہی دن ملا تھا سب کروانے کے لئے۔۔۔۔ افف۔۔۔۔ میرا ہی یہ حال ہے تو پھر اسٹودینٹس کیا کریں گئے۔۔۔۔ وہ خود سے ہی بڑبڑاتی ہوئی تیز تیز چلتی یونیورسٹی میں داخل ہوئی آج اسکی پہلی کلاس ساڑھے نو بجے تھی۔۔۔۔ اور ٹھیک ساڑھے نو ہو چکے تھے جب وہ یونیورسٹی میں داخل ہوئی۔۔۔۔ باقی سبھی کاروائی وہ کل ہی مکمل کر چکی تھی اپنی کلاسز بھی وہ کل ہی دیکھ چکی تھی۔۔۔۔ اسکی کلاس یونیورسٹی کے آخر میں تھی وہ تیز تیز قدم اٹھاتی کلاس کی جانب بڑھ رہی تھی۔۔۔۔ جب اسے پچھلے گراونڈ سے کسی کے قہقے کی آواز سنائی دی۔۔۔ وہ نظر انداز کرتی آگے بڑھ رہی تھی جب اسے کسی لڑکی کی بے بسی بھری آواز سنائی دی۔۔۔ مم۔۔۔۔ مجھے جانا ہے ۔۔۔۔ پلیز اور ساتھ ہی اسے کوئی مردانہ قہقہ سنائی دیا۔۔۔۔ وہ خود کو روک نہ سکی اور آوازوں کے تعاقب میں جانے لگی۔۔۔۔ سامنے کا منظر دیکھ کر اسکا خون کھولنے لگا۔۔۔۔ وہ تین لڑکے ایک معصوم سی لڑکی کو تنگ کر رہے تھے۔۔۔۔ جو کہ بے بسی کی انتہا کو چھوٹے کسی بھی پل بس ہوش و ہواس سے بیگانی ہونے کو تھی۔۔۔۔ کیا ہو رہا ہے یہاں۔۔۔۔ غیض و غضب سے اسکی آواز پھٹ پڑی تھی۔۔۔۔ سبھی نے حیرت سے آواز کے تعاقب میں دیکھا تھا۔۔۔۔ وہ قدم قدم چلتی اس لڑکی کے قریب پہنچی اور اسے کندھوں سے تھام لیا۔۔۔۔ تم ٹھیک ہو۔۔۔ اس نے اپنائیت سے اس لڑکی سے پوچھا۔۔۔۔۔ جو کہ ممنونیت سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ ہراسمینٹ ایک جرم ہے۔۔۔۔ اور اس جرم کی پاداش میں تم لوگوں پر کیس بنتا ہے۔۔۔۔ اس لڑکی سے مطمعیں ہو کر وہ اب ان تینوں کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔۔ شاہان ناک سے مکھی اڑاتے ہوئے طنز سے مسکرا کر رخ موڑ گیا۔۔۔۔۔ ہم اسے ہراس نہیں کر رہے تھے بلکہ ہم تو فریشر سے ریکنگ۔۔۔۔ احد۔۔۔۔ ان تینوں میں سے احد نے ہی عقلمندی سے کام لیتے صفائی دینی چاہی۔۔۔۔۔ جب شایان نے اسے بیچ میں ٹوکتے ہوئے مزید بولنے سے روکا۔۔۔۔ چیل یار۔۔۔۔ چلو یہاں سے وہ واپس رخ موڑ کر لاپرواہ انداز میں بولا۔۔۔۔ لائبہ نے غصے اور حیرت سے اس شخص کی طرف دیکھا جیسے یہاں پر کچھ دیر پہلے ہونے والے واقعہ سے کوئی فرق ہی نہ پڑتا تھا۔۔۔۔ اسے غور سے دیکھنے پر لائبہ کئ پلوں تک اپنی نگاہیں اس سے ہٹا ہی نہ پائی۔۔۔۔ اتنی مماثلت۔۔۔۔ اتنی مماثلت بھی بھلا کسی کے چہرے میں پائی جا سکتی ہے۔۔۔۔ ہو بہو وہی نین نقشہ۔۔۔ اسے یکدم کیا کچھ یاد نہ آیا تھا۔۔۔ دل کرلا اٹھا تھا۔۔۔۔۔ محترمہ میرا ایکسرے کر لیا ہو تو کیا میں جاوں۔۔۔۔ وہ کافی دیر سے بے خودی کی کیفیت میں اسے دیکھے جا رہی تھی۔۔۔ جب وہ تمسخرانہ مسکرا کر بدتمیزی سے گویا ہوا۔۔۔۔ لائبہ نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا۔۔۔۔ وہ لڑکی اسکا سہارا پا کر کب کی جا چکی تھی۔۔۔۔ شاہاں تنفر سے سر جھٹکتا آگے بڑھ گیا۔۔۔۔ لائبہ کو اپنی بے خودی پر جی بھر کر تاو آیا۔۔۔۔ وہ اندر ہی اندر پیچ و تاو کھا کر رہ گئ۔۔۔۔


دروازہ ایک ڈھار سے کھلا تھا وہ جو تھکن سے چور بدن لئے ابھی بیڈ کراون سے ٹیک لگا کر بیٹھی ہی تھی۔۔۔دروازہ کھلنے کی آواز پر بجلی کی سی تیزی سے سیدھی ہو کر بیٹھ گئ۔۔۔ نوارد تیر کی سی تیزی سے اسکی طرف لپکا تھا اور اسکے دلہن بنے چاندنی بکھیرتے سراپے کو نظر انداز کرتے اسے بے دردی سے اسکی بازو سے دبوچ کر کھینچتے ہوئے بیڈ سے نیچے اتارا تھا۔۔۔وہ جو پہلے ہی تھکن سے چور بدن لئے بمشکل ہواس سلامت لئے بیٹھی تھی۔۔۔۔ اس اچانک افتاد پر بوکھلا گئ اور لڑکھڑاتے ہوئے اپنا توازن برقرار نہ رکھنے کی صورت مصطفی کے کندھے سے جا لگی۔۔۔۔ تم گھٹیا عورت۔۔۔ مصطفی مصطفی نے ایک جھٹکے سے اس کے چہرے پر لڑھک آنے والے گھونگھٹ کو بےدردی سے نوچ کر اتنی زور سے کھینچا تھا کہ ڈوپٹے پر لگی پنیں ٹوٹ کر اسکے چہرے اور گردن پر کئ خراشیں پیدا کرتیں دور جا کر گری تھیں۔۔۔۔ آہ ہ ہ۔۔۔ وہ کراہ کر رہ گئ تھی۔۔۔۔ تکلیف ناقابل برداشت تھی۔۔۔۔ ننھی ننھی خون کی بوندیں چہرے اور گردن پر چمکنے لگیں تھیں۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ لڑکھڑا کر دور جا گرتی مصطفی نے اسے بالوں سے جھکڑ کر اپنے مقابل کھڑا کیا تھا۔۔۔۔ بھوری کانچ سی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تیرنے لگے تھے۔۔۔ کوئی باہوش انسان ہوتا تو اس وقت اسکے ہو شربا سرلاپے کے آگے اپنے ہوش کھو بیٹھتا لیکن یہ ہی تو بات تھی کہ وہ اس وقت ہوش میں نہیں تھا بلکہ اس پر ایک جنون سوار تھا۔۔۔۔ کہا تھا میں نے کہ شادی سے انکار کر دو ورنہ پوری زندگی پچھتاو گئ کہا تھا نہ میں نے مصطفی نے اسکا منہ اپنے سخت ہاتھ کی گرفت میں جھکڑ کر کئ جھٹکے دیئے پر مقابل تو بس حیرت اور خوف سے پوری آنکھیں کھولے یک ٹک اسے دیکھی جا رہی تھی۔۔۔۔ بڑا شوق ہے نہ تمہیں مدر ٹریسا بننے کا۔۔۔۔ ساری زندگی تمہیں سسک سسک کر ایریاں رگڑ رگڑ کر جینے پر مجبور نہ کیا تو میرا نام بھی مصطفی نہیں۔۔۔۔ اپنے اوپر ہونے والے ہر ظلم کی وجہ تم خود ہو گئ کیونکہ میں تمہیں ہر چیز کے لئے وارن کر چکا تھا۔۔۔۔ بہرحال اس زندگی کا انتخاب تمہارا اپنا ہے اور میں پوری کوشش کروں گا اسے بد سے بد تریں بنانے میں۔۔۔۔ مصطفی نے اسے ایک جھٹکے سے دور پھینکا تھا اور وہ اوندھے منہ نیچے جا کر گری تھی سائیڈ ٹیبل کا کونہ لگنے سے اس کے ماتھے سے خون کی ایک پتلی لکیر بہہ نکلی تھی جیسے اس نے کراہتے ہوئے اپنے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔۔ مصطفی نفرت سے یہ منظر دیکھتا ہوا سر جھٹک کر جس طرح آیا تھا ویسے ہی باہر چلا گیا۔۔۔۔۔ مصطفی کا خون خول رہا تھا۔۔۔۔ سر درد سے پھٹا جا رہا تھا۔۔۔۔۔ اسکی اس لڑکی سے کوئی عداوت نہیں تھی اسکی دشمنی اسکے بھائی سے تھی جو کہ اسکے جان سے پیارے بھائی کا قاتل تھا۔۔۔۔ مصطفی اس سر پھیرے شخص کو بھی اتنی ہی دردناک موت دینا چاہتا تھا جتنی دردناک موت اس نے مصطفٰی کے عزیز از جان بھائی کو پہنچائی تھی۔۔۔۔ پنچایت کے فیصلے کے مطابق خون بہا کے بدلے میں دلآویز خان اپنے بیٹے کی جان بخشی کے لئے اپنی لاڈلی بیٹی کو ونی کی رسم کے مطابق مقتول کے بھائی مصطفٰی کے نکاح میں دیتا۔۔۔ لیکن مصطفی کو یہ فیصلہ قبول نہ تھا۔۔۔۔ وہ شروع سے ہی ونی کی رسم کے سخت خلاف تھا جس میں قاتل کھلے عام بے دھڑک ہو کر گھومتا اور ایک معصوم اور مظلوم جان بے قصور ہوتے ہوئے اپنے بھائی کے گناہوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھاتے اٹھاتے زندگی کی جنگ ہار جائے۔۔۔۔ اسی لئے اسنے پنچایت میں بھرے مجمے میں کھڑے ہو کر پنچایت کے فیصلے پر اعتراض کیا تھا۔۔۔ پہلی بار کسی نے پنچایت کے فیصلے سے انحراف کیا تھا کوئی پنچایت کے فیصلے کے خلاف گیا تھا۔۔۔۔ لوگ منہ میں انگلیاں دابے وہاں پنچایت میں لگنے والے تماشے کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔ مصطفی یہ بات جانتا تھا کہ کوئی بھی لڑکی اپنی مرضی سے یا خوشی سے خود کو ونی کی رسم کے لئے پیش نہیں کرتی بلکہ اسے زبردستی اس کام کے لئے مجبور کیا جاتا ہے۔۔۔۔ اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ دلآویز خان کی بیٹی شہر کی یونیورسٹی میں پڑھتی ہے مطلب ایک پڑھی لکھی لڑکی ہو کر وہ کبھی بھی اپنے ساتھ ایسی زیادتی نہ ہونے دیتی اسی لئے اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نے پنچایت میں اپنی ایک شرط رکھی تھی وہ پنچایت کے اس فیصلے کو فیصلے کو تبھی قابل قبول سمجھے گا اگر وہ لڑکی خود اپنی مرضی سے اس رسم پر خود کو قربان کرنے کو تیار ہو تو۔۔۔یعنی دوسرے لفظوں میں اس لڑکی کا فیصلہ حرف آخر مانا جاتا۔۔۔ ورنہ دوسری صورت اسے قتل کے بدلے قتل کا فیصلہ چاہیے تھا۔۔۔۔ پنچایت کو نہ چاہتے ہوئے بھی اسکا فیصلہ ماننا پڑا تھا کہ بہرحال گاوں میں وہ ایک مضبوط حیثیت رکھتا تھا۔۔۔ کل ٹھیک اسی وقت دوبارہ وہاں پنچایت میں اس لڑکی کی رائے پوچھی جانی تھی۔۔۔۔ اور مصطفی اپنے فیصلے سے مطمعیں تھا کہ وہ لڑکی کسی صورت بھی پنچایت کے حق میں فیصلہ نہیں دے گئ۔۔۔۔ اسی مقصد کے تحت اس نے بڑی مشکلوں سے شہر میں موجود دلآویز خان کی بیٹی ندا کا نمبر حاصل کیا تھا۔۔۔۔ اور رات بڑی مشکل سے ندا کے نمبر پر اس سے بات کر کے وہ اسے اپنا نقطہ نظر سمجھا پایا تھا۔۔۔۔ جس کے تحت وہ پنچایت میں بنا کسی دباو کے بے جھجھک ہو کر خود کو ونی کی رسم کے لئے قربان ہونے سے منع کر دے آگے وہ سب کچھ خود سمبھال لے گا۔۔۔۔ کیونکہ اسکی دشمنی ندا کے بھائی سے تھی۔۔۔۔ ورنہ دوسری صورت اگر وہ ایک قاتل کو اس کے جرم کی پاداش میں ملنے والی سزا سے اسکو بچانے کے لئے کوئی غلط فیصلہ کرتی ہے تو اسکے نتائج کی مکمل طور پر ذمہ دار وہ خود ہو گئ۔۔۔۔ مصطفی اسکی زندگی اجیرن بنا دے گا۔۔۔۔۔ اتنے کھلے الفاظ میں اپنا مدعا بیان کر دینے کے بعد وہ پر یقین تھا کہ فیصلہ اسکے حق میں ہی ہوگا اسکے بعد وہ اپنے عزیز از جان بھائی کی موت کا بدلا لے سکتا تھا لیکن اسکا غصہ سوا نیزے پر تب پہنچا جب اس لڑکی نے پنچایت میں اپنا بیان کچھ ان الفاظ میں بیان کیا۔۔۔۔ مجھے پنچایت کا ہر فیصلہ منظور ہے میرے لئے اس پوری دنیا میں میرے بھائی سے بڑھ کر کوئی نہیں یہ زندگی تو کیا اگر خدا مجھے ایسی دس زندگیاں بھی عطا کرے تو میں خوشی خوشی اپنے بھائی پر سے وار دوں۔۔۔۔ بس میری ایک التجا ہے کہ میری رخصتی میرے شہر والے گھر سے ہو۔۔۔۔ عام طور پر ونی ہونے والی لڑکیوں کو یوں خواہش ظاہر کرنا تو دور بلکہ بولنے تک کی اجازت نہیں ہوتی لیکن یہاں پر حساب الٹ تھا کیونکہ مصطفی خود کہہ چکا تھا کہ اس لڑکی کا فیصلہ ہی حتمی مانا جائے گا اس لئے پنچائیت اسکا فیصلہ ماننے پر مجبور تھی۔۔۔۔ بہن کے بیان پر نثار علی کی چمکتی آنکھیں اور تنی گردن مصطفی کا خون کھولا رہی تھی۔۔۔۔۔ وہ بے بسی کی تصویر بنا ضبط کی آخری حدود کو چھو رہا تھا۔۔۔۔۔ اسکا بس نہ چل رہا تھا کہ اس لڑکی کو تہس نہس کر ڈالے جس کے باعث اسکے بھائی کا قاتل سرعام یوں سر اٹھا کر کھڑا اسے طنزیہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ اور تو اور سبھی لوگ مصطفی پر ہنس رہے تھے جو انکی برسوں سے چلی آ رہی ریت کے خلاف آواز اٹھانے آیا تھا۔۔۔۔۔ وہ خود سے وعدہ کر چکا تھا کہ اس لڑکی کی زندگی اسقدر بد سے بدتر بنا دے گا کہ وہ اپنی ہر سانس کے بدلے پچھتائے گئ کہ اسنے ایسا فیصلہ کیوں کیا۔۔۔۔ اور وہ داد دیتا تھا اس لڑکی کی جرات کو جو اتنا سب کچھ ہو جانے کے بعد بھی اسکی سیج سجائے اسکے انتظار میں بیٹھی تھی۔۔۔۔ کیا اسے اتنا ہی زعم تھا اپنے حسن پر کہ اسے لگا مصطفٰی اسکے حسن کے آگے بے بس ہو جائے گا۔۔۔ پر وہ غلط تھی۔۔۔۔ مصطفٰی کو نفرت تھی اسکے حسن سے اسکا بس چلتا تو وہ اسکے چہرے کو تیزاب سے جلا دیتا۔۔۔۔ پر وہ اس لڑکی کے لئے اتنی آسان موت تجویز نہیں کرنا چاہتا تھا بلکہ وہ اسے تڑپا تڑپا کر مارنا چاہتا تھا تاکہ اسکی روح تک بلبلا اٹھتی۔۔۔۔۔


شاہان چل یار کلاس کا ٹائم ہو ٹائم ہو رہا ہے۔۔۔۔ احد نے شاہان کو ماوراء کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسکے کان میں سرگوشی کرتے دیکھ کر کہا۔۔۔۔ شاہان کی سرگوشیوں سے ماورا کے چہرے پر قوس قزح کے رنگ کھلنے لگے تھے۔۔۔۔ ماورا اسکی نئ گرل فرینڈ تھی۔۔۔۔ شاہان کی کوئی بھی گرل فرینڈ ایک مہینے سے زیادہ اسکے ساتھ نہ ٹکتی تھی وہ بہت جلد ایک چہرے سے اکتا جاتا تھا اور ہر مہینے اسکے ساتھ اسکی ایک نئی گرل فرینڈ ہوتی تھی پر ماورا وہ واحد لڑکی تھی جیسے پچھلے چھ مہینوں سے اسکی گرل فرینڈ ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔۔۔۔
تو شائید بھول رہا ہے احد کہ میں سال میں نوے فیصد کلاسز اٹینڈ نہیں کرتا۔۔۔۔ شاہان نے منہ بنا کر کہا اور دوبارہ سے اپنے مشغلے میں مشغول ہو گیا۔۔۔۔ یار میں تو اس لئے کہہ رہا تھا کہ آج فنانس کی نئی لیکچرار آنے والی ہے تو پھر ملنے میں کیا قباحت ہے۔۔۔۔ احد جانتا تھا کہ شاہان کو کلاس اٹینڈ کروانے کے لیے کیسے لے کر جانا ہے اسی لئے اسنے چہرے پر ایک پراسرار سئی مسکراہٹ سجا کر کہا۔۔۔ وہ شاہان کا بچپن کا دوست تھا اور انکی دوستی اگر ابھی تک برقرار تھی تو اس میں سو فیصد ہاتھ احد کا ہی تھا۔۔۔۔ شاہان جتنا غصے کا تیز تھا احد اتنا ہی تحمل مزاج تھا۔۔۔۔۔ وہ ہر دفعہ معاملہ بگڑنے پر سیز فائیر کرتا اپنی متحمل مزاجی سے معاملہ رفع دفع کر دیتا تھا یہ ہی وجہ تھی کہ انکی دوستی ابھی تک قائم تھی۔۔۔۔
ہاں یہ ٹھیک رہے گا۔۔۔۔ شاہان نے خوش ہوتے چٹکی بجا کر کہا۔۔۔۔ احد نے اسکے اتنی جلدی مان جانے پر دل ہی دل میں رب کا شکر ادا کیا۔۔۔۔۔ کلاس میں پہنچ کر وہ حسب معمول سب سے چھیڑ چھاڑ میں مصروف تھا جب نئ لیکچرار نے کلاس میں قدم رکھا۔۔۔۔ نئی لیکچرار کو دیکھ کر شاہان اور احد نے بے ساختگی سے ایک دوسرے کیطرف دیکھا۔۔۔۔ شاہان کے شیطانی دماغ نے ایک منٹ میں کام کیا۔۔۔۔ اور ایک پراسرار سی چمک اسکی آنکھوں میں لہرائی۔۔۔۔ دیکھ تو وہ نئی لیکچرار بھی انہیں چکی تھی پر کمال مہارت سے انکو نظر انداز کرتی کلاس کیطرف متوجہ ہوئی۔۔۔ دراصل یہ لیکچرار وہی لڑکی تھی جس نے صبح ریکنگ کرتے ہوئے شاہان کے گروپ سے اس لڑکی کو بچایا تھا۔۔۔۔ اسلام وعلیکم کلاس میں ہادیہ غضنفر آپکی نیو فنانس لیکچرار ہوں۔۔۔۔ وہ ششتہ انگریزی میں بولتی اپنا تعارف کروا رہی تھی۔۔۔۔۔ ابتدائی تعارف کے مراحل طے کر کے وہ اپنے آج کے لیکچر کی طرف آئی۔۔۔۔ وہ بڑی تندہی سے اپنا لیکچر دے رہی تھی جب یکدم ہی کلاس سے شور اٹھا۔۔۔ ہادیہ نے حیرت سے پیچھے مڑ کر کلاس کو دیکھا۔۔۔ شاہان پین کا مائیک بنائے اپنی سیٹ پر سٹائل سے کھڑا لہک لہک کر گانا گا رہا تھا جبکہ اسکا باقی گروپ ڈیسک بجا بجا کر اسکا ساتھ دے رہا تھا۔۔۔۔ ان کی دیکھا دیکھی پوری کلاس ہوٹنگ کرتی اور تالیاں بجاتی انکا ساتھ دے رہی تھی۔۔۔ ہادیہ کے لئے یہ ساری صورتحال عجیب تھی یونیورسٹی میں پڑھانے کا یہ اسکا پہلا تجربہ تھا اس سے پہلے وہ گرلز کالج میں پڑھاتی تھی اور اب کنٹریکٹ بیس پر یونیورسٹی پڑھانے آئی تھی۔۔۔۔۔۔ لیکن پہلے ہی دن ایسی صورتحال۔۔۔۔۔ وہ کچھ پل خاموشی سے انہیں یہ سب کرتا دیکھتی رہی۔۔۔۔ وہ سمجھ چکی تھی کہ یہ ایلیٹ کلاس کا بگڑا سپوت ہے۔۔۔۔ وہ تاسف سے شاہان کو دیکھ رہی تھی اسنے کلاس کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی دو تین بار کوشش کی لیکن بے سود۔۔۔۔ یہ لڑکا اسے کافی ٹف ٹائم دینے والا تھا وہ کچھ دیر تک کھڑی کچھ سوچتی رہی پھر اپنا ہینڈ بیگ اٹھاتی کلاس سے باہر نکل گئ شاہان کے جاندار قہقے نے اسکا پیچھے تک تعاقب کیا۔۔۔۔۔


وہ ساری رات سگریٹ پر پر سگریٹ پھونکتا اپنی اندر کی کھولن کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا پر اضطراب تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔۔۔۔ کسی طور دل کو سکون میسر نہیں آ رہا تھا اسقدر بااختیار ہوتے ہوئے بھی وہ اپنے عزیز از جان بھائی کی موت کا بدلہ نہیں لے پایا تھا اور یہ سب اس چھٹانک بھر کی لڑکی کی وجہ سے ہوا تھا وہ جتنا اسکی زندگی عذاب بناتا کم تھا۔۔۔ صبح کا سورج طلوع ہو گیا تھا پر اسکی زندگی میں تو ہر طرف تاریکی ہی تاریکی تھی وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا اپنے اندر اٹھتے اشتعال کی لہروں کو ضبط کرتا اپنے کمرے کیطرف بڑھ گیا۔۔۔۔ وہ فلحال اس لڑکی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا اور شومئ قسمت وہ اسے کمرے میں کہیں دیکھائی بھی نہیں دی۔۔۔۔ اسنے الماری سے اپنا لباس نکالا اور فریش ہونے کے لئے واش روم میں چلا گیا۔۔۔۔ فریش ہو کر وہ آرام کی غرض سے بیڈ پر آیا اور ساری رات کی بے سکونی کے باعث لمحون میں غافل ہو گیا۔۔۔۔ دوبارہ اسکی آنکھ دو گھنٹوں بعد تقریباً نو بجے کھلی۔۔۔۔۔ وہ وال کلاک کو دیکھتا اٹھ کر کمرے سے باہر آگیا۔۔۔۔۔ باہر بھی معمول کی زندگی اپنی ڈگر پر چل رہی تھی۔۔۔۔۔ سبھی ڈائنینگ ٹیبل پر ناشتے کے لئے اسی کے منتظر تھے وہ چپ چاپ جا کر سربراہی کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔۔ اسے ابھی تک کہیں پر بھی وہ نظر نہیں آئی تھی جس سے اسقدر قریبی رشتہ جڑ چکا تھا۔۔۔۔ ایک طرف سے وہ مطمئین تھا کہ وہ کسی صورت اس گھر سے بھاگ نہیں سکتی تھی۔۔۔ اس کے دائیں جانب شاہدہ بیگم (اسکی ماں) جبکہ بائیں جانب شازیہ (اسکی بھابھی ) بیٹھی تھی۔۔۔ اس کے ساتھ ہی اسکی چھ سالہ بھتیجی فاطمہ اور دس سالہ بھتیجا علی اکبر بیٹھا تھا۔۔۔ اور تبھی اسے وہ نظر آئی تھی لان کے پرانے سے لباس میں ملبوس کچن سے لا لا کر ڈائینینگ ٹیبل پر ناشتے کے لوازمات چنتی۔۔۔۔ ستا ہوا چہرا نیچے کو جھکائے کسی اور طرف دھیان کئے بغیر اپنے کام میں مشغول سوجھی ہوئی آنکھیں رتجگے اور اشک باری کی غماز تھی ۔۔۔۔ رونے کے باعث ناک اور گال کر کنارے سرخ ہونے لگے تھے جو کہ اسکے حسن سوز میں مزید اضافے کا باعث بن رہے تھے۔۔۔ مصطفی نے اسکا مکمل جائزہ لیا اور اس بات کا اعتراف کیا کہ اس کا حسن اچھے اچھوں کے ایمان ڈگمگا سکتا ہے۔۔۔ مصطفی بھی اپنی منزل سے راستہ بھٹک جاتا اگر وہ مضبوط اعصاب کا مالک نہ ہوتا۔۔۔۔ اسے دل سے اس لڑکی کی حالت پر افسوس ہوا پر یہ جذبہ محض ایک پل کا تھا اگلے ہی پل اس لڑکی سے اسکی نفرت عود کر آئی کہ اس کے ساتھ جو بھی کچھ ہو رہا ہے اسکی ذمہ دار وہ خود ہے اپنے لیے یہ زندگی اس نے خود ہنسی خوشی قبول کی ہے اور وہ یہ سب ڈیزرو کرتی ہے۔۔۔ وہ کچن سے چائے کا فلاسک لے کر آ رہی تھی جب راستے میں ہی علی اکبر نے اسکے پاون کے آگے اپنا پاوں کیا۔۔۔ وہ جو اپنے دھیان آگے بڑھ رہی تھی راستے میں آنے والی اس رکاوٹ کو دیکھ نہ سکی اور اٹک کر لڑکھڑا کر گرتے گرتے بچی لڑکھڑانے سے اسکے ہاتھ میں موجود چائے کے فلاسک سے چائے کے کچھ چھینٹے پاس بیٹھی شازیہ کے لباس کو داغدار کر گئے۔۔۔۔۔گھٹیا عورت۔۔۔۔ اس نے آو دیکھا نہ تاو چینختی ہوئی کھڑی ہوئی اور اگلے ہی پل اس پر جھپٹ پڑی۔۔۔۔اور یکے بعد دیگرے اس کے چہرے پر کئ تھپڑ رسید کرنے لگی۔۔۔۔ مصطفی نے لب بھینچے یہ منظر دیکھا اور بنا ناشتہ کئے ہی کرسی دھکیل کر منظر سے ہٹتا چلا گیا۔۔۔۔۔


گرمیوں کی خاموش اور طویل دوپہر میں سورج تو مانو جیسے سوا نیزے پر پہنچ چکا تھا۔۔۔۔ ایسے میں اس رکشے والے نے اسے مین سڑک پر اتارا اور فراٹے فراٹے بھرتا دھول اڑاتا اگے بڑھ گیا۔۔۔۔ آگے دو اندرونی لمبی گلیوں کی مسافت اسے پیدل طے کرنی تھی۔۔۔ ان دو گلیوں کی پیدل مسافت نے ہی گرمی سے اسکا حال برا کر دیا تھا۔۔۔۔ ماتھے سے پسینے کی بوندیں یوں زمین بوس ہو رہی تھیں جیسے آسمان سے بارش کے قطرے۔۔۔۔ وہ بار بار ماتھے سے پسینہ صاف کرتی تیز تیز قدم اٹھاتی اپنی منزل کیطرف گامزن تھی۔۔۔۔ پیاس سے سوکھ کر حلق میں جیسے کانٹے اگ آئے تھے۔۔۔۔ اپنی گلی میں داخل ہوتے ہی سامنے اسے گھر کا دروازہ دیکھائی دینے لگا۔۔۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتی گھر کا دروازہ دھکیلتی اندر داخل ہوئی سامنے ہی امی برامدے میں بچھی چارپائی پر خالہ صغرا کے ساتھ بیٹھی باتوں میں مشغول تھی۔۔۔۔ خالہ صغرا کو دیکھ کر اسکا منہ بن گیا۔۔۔۔ وہ جب بھی آتی تھی دو چار دل جلاتے جملے بول ہی جاتی تھی۔۔۔۔ وہ سر جھٹکتی ان دونوں کو سلام کرتی اندر کمرے میں چلے گئ خالہ صغرا کی ایکسرے کرتی نظروں نے پیچھے تک ہادیہ کا پیچھا کیا تھا۔۔۔۔ ارے کچھ بنا ہادیہ کے رشتے کا۔۔۔ کہیں کوئی بات چلی کہ نہیں۔۔۔ خالہ صغرا نے ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ جما کر پوچھا۔۔۔۔ کھوجتی نظریں ابھی بھی اسی کمرے کے دروازے کیطرف تھیں جہاں سے ہادیہ اندر گئ تھی۔۔۔۔ ارے کہاں آپا۔۔۔جو بھی آتا ہے ارحمہ کو پسند کر جاتا ہے مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔۔۔۔ رضیہ بی نے انگلیوں کی پوروں سے اپنے دکھتے سر کو دبایا۔۔۔۔
رشتے کروانے والی تو تم ہو آپا۔۔۔۔ اس کے لئے بھی کوئی رشتہ دھونڈو نہ ۔۔۔۔ دیکھو رضیہ برا نہ منانا تم۔۔۔۔ میرا نہیں خیال کہ اب اسے کوئی اچھا رشتہ ملے گا۔۔۔۔ ایک عمر اتنی بڑھ چکی ہے۔۔۔۔ بتیس تیتیس سال تو ہوگئ ہی۔۔۔ صغرا خالہ دائیں گال تلے انگلی ٹکائے سوچ سوچ کر بول رہی تھی۔۔۔۔ اوپر سے نہ شکل نہ صورت نہ ہی کوئی زیادہ جہیز ملنے کی آس۔۔ خالی خولی تعلیم کا کوئی اچار ڈالے گا کیا۔۔۔۔ تمہیں نہیں پتہ آج کل کے لڑکوں کی ڈیمانڈ بہت زیادہ ہے سب سے پہلے تو لڑکی خوبصورت ہونی چاہیے۔۔۔۔ پھر کم عمر ہو وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔ ہاں اگر ارحمہ کے لئے کہو تو ایک سے بڑھ کر ایک رشتہ ہے میرے پاس۔۔۔۔ وہ ہے بھی تو پوری کی پوری چاند کا ٹوٹا۔۔۔۔ جو ایک بار دیکھ لے رال ٹپک پڑتی ہے اسکی۔۔۔۔ خالہ بات کرتی خباثت سے مسکرائی۔۔۔۔ اندر اپنی چادر طے کرتی ہادیہ کے ہاتھ خالہ کی باتوں پر ٹھٹھکے تھے۔۔۔۔ بے اختیار ہی اسنے آئینے میں اپنا عکس دیکھا دراز قد پر بڑی بڑی ذہانت سے بھرپور چمکدار آنکھیں سانولی رنگت جو کہ دھوپ سے آنے کے باعث مزید سنولا چکی تھی۔۔۔۔ یہ باتیں تو اب روز کی تھی۔۔۔۔ ہر آنے والے رشتے کا اسے پسند کرنے کی بجائے ارحمہ کو پسند کر جانے کے بعد اسکے اور ارحمہ کے یونہی موازنے ہوتے تھے۔۔۔۔۔ وہ کوئی ٹین ایجر نہیں تھی جو ان سب باتوں کو دل پر لیتی ایک باشعور اور میچور لڑکی تھی۔۔۔۔ لیکن کیا کرتی ایک ہوک سی تھی جو کہ ان باتوں سے دل سے اٹھتی تھی۔۔۔۔ ویسے ایک رشتہ ہے میری نظروں میں۔۔۔۔ آدمی کی بیوی کا پچھلے سال انتقال ہو گیا ہے۔۔۔۔ چار چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔۔۔۔ پانچ مرلے کا پکا مکان ہے اور بازار میں