Be Dard Piya By Umme Hania Readelle50176 Episode 53
No Download Link
Rate this Novel
Episode 53
باقی جتنی بھی لڑکیاں میری زندگی میں آئیں سب نے خود مجھے گناہ پر اکسایا سوائے ایک کہ جیسے میں نے شادی کے خواب دیکھا کر بعد میں چھوڑ دیا۔۔۔
وہ سر جھکائے شرمندگی سے گویا ہوا۔۔۔۔
میں اس سے بھی ملا ہوں۔۔۔ میں اسکے سامنے بھی گڑگڑایا ہوں۔۔۔۔ پر اسکا کہنا ہے کہ اسکے ماضی میں جو ہوا وہ سب بھول جانا چاہتی ہے۔۔۔۔
اس نے اپنے رب کے حضور گڑگڑا کر اپنے گناہ کی معافی مانگی ہے اور شاید اسکی دعائیں قبول ہو گئیں ہیں جو آج وہ ایک آسودہ ازواجی زندگی گزار رہی ہے۔۔۔۔
اسکا کہنا ہے کہ۔۔ وہ نہیں جانتی میں کون ہوں۔۔۔۔ وہ اپنی ازواجی زندگی پر اپنے ماضی کا سایہ بھی نہیں چاہتی۔۔۔۔
اس لئے اس نے مجھ سے التجا کی ہے کہ اگر میں واقعی نادم ہوں تو دوبارہ کبھی اس کی راہ میں نہ آوں۔۔۔۔ نہ ہی کبھی اس سے ملنے کی کوشش کروں۔۔۔
میں پچھلے دو دنوں سے اسی کام میں مصروف تھا ہادیہ۔۔۔۔
شاید سدھرنے کے بعد بھی میں کبھی اپنے گناہوں کا احساس نہ کرتا جو بات میری بیٹی پر نہ آتی۔۔۔۔
نادانیوں میں کبھی اتنا آگے کا سوچا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔آنسو اسکی پلکوں کی بار پھیلانگتے بہے جا رہے تھے۔۔۔۔
یہ خدا کی کیسی قدرت ہے کہ جب گناہ باپ نے کیا ہے تو سزا بھی تو باپ کو ہی ملنی چاہیے نہ سزا کی حقدار اولاد کیوں۔۔۔۔
وہ بے بسی سے سر دائیں بائیں پٹخ رہا تھا۔۔۔۔۔
وہ اس لئے کہ اس دنیا میں ماں باپ کو سب سے زیادہ تکلیف اولاد کا غم دیتا ہے۔۔۔۔ شائید اتنی تکلیف وہ اپنی چوٹ پر محسوس نہیں کرتے جتنی کہ اولاد کو چوٹ لگنے پر کرتے ہیں۔۔۔۔ وہ کھوئے کھوئے انداز میں بولی۔۔۔۔
خدا سے رحم طلب کرو۔۔۔۔ اپنی مغفرت کہ دعا کرو وہ بڑا کارساز ہے۔۔۔۔
وہ معاف کر دیتا ہے بہت جلد معاف کر دیتا ہے صرف ایک توبہ سے ہی ایک سچے دل کی توبہ سے ہی۔۔۔۔۔
وہ تو منتظر بیٹھا ہوتا ہے کہ کب میرا بندا میری طرف پلٹے اور میں اسکا نامہ اعمال صاف کروں۔۔۔۔
وہ دکھی دل کی دعا کبھی رد نہیں کرتا۔۔۔۔ وہ کسی غیر مری نقطے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
دنیا کے ہر گناہ کی معافی ہے سوائے شرک کی۔۔۔۔ وہ اللہ رب العزت معاف کرنے والا ہے۔۔۔۔۔
اللہ معاف کر دیتا ہے ہادیہ میں جانتا ہوں وہ بہت جلد معاف کر دیتا ہے۔۔۔۔ پر بندے معاف نہیں کرتے۔۔۔
خدا کے لئے ہادیہ خدا کے لئے تم مجھے معاف کر دو۔۔۔۔۔
میں نے اس روز تمہاری آنکھوں میں اپنے لئے اجنبیت دیکھی ۔۔ نفرت دیکھی تھی ہادیہ۔۔۔۔
میں نہیں سہہ سکتا یہ سب ۔۔۔۔ خدا کے لئے کبھی مجھ سے نفرت مت کرنا ہادیہ۔۔۔ پلیز۔۔۔۔
وہ اسکی گود میں منہ چھپائے سسک اٹھا تھا۔۔۔۔
ہادیہ کی اپنی آنکھیں نم ہونے لگیں تھیں۔۔۔۔
نہیں کر سکتی میں تم سے۔۔ کبھی نفرت۔۔۔ اس چہرے سے مجھے عشق ہے شاہان۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھوں کے پیالے میں اسکا چہرا بھرتی گویا ہوئی۔۔۔۔
جانتے ہو کیوں۔۔۔۔
شاہان کے چہرے پر نا سمجھی کے تاثرات ابھرے۔۔۔۔
کیونکہ یہ چہرا میری ندا خالہ کا ہے۔۔۔۔ اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔۔۔۔۔
مطلب۔۔۔ وہ اچھا خاصہ الجھ گیا۔۔۔۔۔
یاد ہے تمہیں ہماری پہلی ملاقات۔۔۔۔ جب میں نے تمہیں پہلی مرتبہ دیکھا تو دیکھتی ہی رہ گئ کہ اتنی مماثلت۔۔۔۔
بھلا اتنی مماثلت بھی کسی کے چہروں میں پائی جا سکتی ہے۔۔۔
جب میں تمہیں دیکھتی الجھ جاتی۔۔۔۔ پر میری الجھن کو سرا اس روز ملا جس روز نجمہ بی بی ہمارے گھر مجھے دھمکی لگانے آئیں کہ میں انکے بیٹے سے دور رہوں ورنہ میرے حق میں بہتر نہیں ہوگا۔۔۔۔
وہ طنزیہ ہنسی ہسی۔۔۔۔۔۔۔
کیا۔۔۔ مام تمہارے گھر گئ تھی۔۔۔۔ وہ ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔۔۔
حیرانگی سی حیرانگی تھی۔۔۔۔۔ شاید کہ آج دن ہی انکشافات کا تھا۔۔۔
تب میری الجھن کے سبھی سرے سلجھنے لگے تھے کہ کیوں تمہاری شکل اسقدر ندا خالہ سے ملتی ہے۔۔۔۔۔
وہ زارو قطار رونے لگی تھی۔۔۔۔
کیا ہوا ہے ہادیہ۔۔۔۔ یار تم اس طرح کیوں رو رہی ہو۔۔۔۔ اور کون ہیں یہ ندا خالہ۔۔۔۔۔ بھلا میرا ان سے کیا کنکشن ۔۔۔۔ وہ حق دق سا ہادیہ کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسکے دونوں ہاتھ پکڑ کر پوچھنے لگا۔۔۔۔۔
ظالموں نے ان پر بہت ظلم کئے شاہان۔۔۔۔۔ پر انکی چپ نہ ٹوٹی۔۔۔ پر وہ شاہان کو سن کہاں رہی تھی وہ تو کسی اور ہی جہان پہنچی بولی جا رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ ترپٹی تھی تمہیں دیکھنے کے لئے شاہان۔۔۔۔ تمہیں چھونے کے لئے تم سے پیار کرنے کے لئے۔۔۔۔۔
کاش کے وقت واپس مڑ جائے یا کسی طرح ندا خالہ میرے پاس واپس آ جائیں تو میں انہیں انکا بیٹا انکا شاہان واپس کردوں۔۔۔۔
وہ بے خودی کے عالم میں اسکے چہرے کا ایک ایک نقش چھو رہی تھی۔۔۔۔
بیٹا۔۔۔۔ ہادیہ کی بات پر اسے دو سو چالیس والٹ کا کرنٹ لگا تھا۔۔۔۔
کاش میں انہیں بتا سکوں کہ مں انکی زندگی انکے پیارے بیٹے کی بنا شرکت غیرے مالکن ہون ۔۔۔۔۔
وہ میری آئیڈیل تھی شاہان۔۔۔۔ مجھے اس چہرے سے عشق ہے شاہان۔۔۔ وہ اسکے کندھے پر سر رکھے رونے لگی۔۔۔۔۔
ہادیہ تمہیں خدا کا واسطہ یار۔۔۔۔ مجھے کھل کر بات بتاو ورنہ میں پاگل ہو جاوں گا۔۔۔۔
شاہان نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا۔۔۔۔ اسے واقعی اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔۔
ہادیہ اسکی طرف دیکھتی چپ چاپ اٹھ کر دیوار گیر الماری تک ۔۔گئ اور اسے کنگال ۔۔کر اس میں سے ایک ڈائری نکال کر اس تک لائی ۔۔۔
تمہارے ہر سوال کا جواب اس ڈائری میں ہے شاہان۔۔۔۔۔۔ یہ ڈائری میری انسپائریشن ہے۔۔۔۔۔
زندگی میں جب کبھی میں خود کو اکیلا محسوس کرتی ہوں یا تھکنے لگتی ہوں تو اسے پڑھتی ہوں۔۔۔۔ زندگی گزارنے کا اصل مقصد یاد آ جاتا ہے شاہان۔۔۔۔
وہ کہتی تھی گڑیا ۔درگزر کرو۔۔۔۔۔ صبر کرو۔۔۔۔
غصے کو پی جاو۔۔۔۔۔ اسے نکلنے سے روکو۔۔۔۔ کیونکہ اگر اسے پی جاو گئے اور صبر سے کام لو گئے تو خدا کی قسم اتنے مضبوط بن جاو گئے کہ پہاروں سے ٹکرا جاو گے۔۔۔۔ کوئی تمہارا کچھ بگار نہیں پائے گا۔۔۔۔
اور میں آج ان سب چیزوں کی زندہ مثال ہوں تمہارے سامنے۔۔۔۔
انکا کہا ایک ایک لفظ سچ تھا ۔۔۔۔ کاش کہ وہ اس وقت ہوتی تو شاید مجھ سے ۔بھی زیادہ مضبوط ہوتیں۔۔ پر زندگی نے انکے ساتھ وفا نہ کی۔۔۔۔
وہ اس ڈائری کو شاہان کی طرف بڑھاتی ہوئی بولی۔۔۔۔
یہ کیا ہے۔۔۔ اس نے الجھ کر پوچھا۔۔۔۔۔
یہ ندا خالہ کی ڈائری ہے شاہان۔۔۔ انکی ڈیٹھ کے بعد مجھے ہر پل انکی یاد ستاتی تھی۔۔۔ اس لئے میں بار بار انکے کمرے میں جاتی تھی۔۔۔۔ کیونکہ اس گھر کے دوسرے تو شائید کسی بھی فرد کو ان کے ہونے یا نہ ہونے سے فرق نہیں پرتا تھا۔۔۔۔
تب ایک دن وہاں مجھے یہ ڈائری ملی تھی اور تب سے اب تک میں نے کسی متاع جان کی طرح اسے اپنی ندا خالہ کی آخری نشانی سمجھ کر سمبھال کر رکھا ہے۔۔۔۔
مجھے اس میں سے انکی خوشبو آتی ہے۔۔۔
،تم کہاں جا رہی ہو ہادیہ۔۔۔۔ شاہان نے اسے کوئی فائل لئے باہر کی طرف جاتے دیکھ کر کہا۔۔۔
مجھے یونیورسٹی میں کچھ کام ہے۔۔۔۔۔ میں کچھ دیر تک واپس آ جاوں گئ۔۔۔۔ تم تب تک اسے پڑھو۔۔۔۔
اس نے شاہان کے ہاتھ میں موجود ڈائری کی طرف اشارہ کر کے کہا۔۔۔۔
شاہان نے اس ڈائڑی کو کھولا۔۔۔۔ پہلے ہی صفحے پر ایک خوبصورت۔ سی لڑکی کی تصویر چسپاں تھی۔۔۔۔
وہ کئ پلوں کے لئے ساکت سا اس تصویر کو دیکھے گیا۔۔۔۔۔
اگر ہادیہ اسے دیکھنے پر بار بار چونک جاتی تھی تو اسکا چونکا اتنا بھی بے جا نہ تھا۔۔۔۔
واقعی وہ تصویر ہو بہو شاہان کی کاپی تھی یا پھر یہ کہا جائے کہ شاہان ہو بہو اس تصویر کی کاپی تھا۔۔۔۔۔۔
شاہقن کے لئے حیرتوں کے کئ نئے در وا ہوئے تھے۔۔۔۔۔
)جاری ہے۔۔۔۔۔
