Be Dard Piya By Umme Hania Readelle50176 Episode 38
No Download Link
Rate this Novel
Episode 38
آج وہ اپنی شادی کی چھٹیوں کے بعد پہلے دن یونیورسٹی جا رہی تھی۔۔۔۔
جب سے امی نے اس سے ارحمہ کے لئے شاہان کی بات کی تھی تب سے وہ خود ہی اپنے احساسات سمجھنے سے عاری تھی۔۔۔۔۔۔
کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کرے۔۔۔۔
دل اسقدر مضطرب تھا کہ دل کو کسی پل چین نہ تھا۔۔۔۔۔
اسی ادھیر پن میں اس نے یونیورسٹی میں اپنی پہلی کلاس لی۔۔۔۔
وہ اپنی کلاس لے کر نکل رہی تھی جب اسکی نظر شاہان پر پڑی جو کہ کوریڈور کی سیڑھیوں پر اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا ہنسی مذاق کر رہا تھا۔۔۔۔
ایک پل کو اسکی نظر شاہان پر سے ہٹنے کو انکاری ہو گئ۔۔۔۔
کشادہ پیشانی پر سلیقے سے سجے بال۔۔۔۔
ذہانت سے بھرپور آنکھوں میں بلا کی شرارت۔۔۔۔۔۔
ستواں ناک۔۔۔۔ احمریں لب۔۔۔۔۔ وہ بے خودی کے عالم میں اسے تکے گئ۔۔۔۔
دل ایک الگ ہی لے پر دھڑکنے لگا تھا۔۔۔۔
خدا نے اتنا شاندار سخص اسکی قسمت میں لکھا تھا اسے اپنی قسمت پر یقین نہیں آ رہا تھا۔۔۔۔۔
تبھی شاہان کے ذرا سا مرنے پر اسے شاہان کے عقب میں کھڑی ماورا صاف دیکھائی دی جس نے مسکراتے ہوئے شاہان کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔۔۔
ہادیہ سے یہ بے تکلفی قطعا برداشت نہیں ہو رہی تھی۔۔۔۔
اسکی آنکھوں میں مرچی لگنے لگی تھی۔۔۔۔
دل میں رقابت کے احساسات جنم لینے لگے تھے۔۔۔۔۔
دو منٹوں میں مجھے کیفے کے پچھلے گراونڈ میں ملو۔۔۔۔ دو منٹ مطلب دو منٹ۔۔۔۔
ہادیہ نے وہیں سائیڈ پر ہو کر کھٹا کھٹ میسج ٹائپ کیا اور شاہان کو سینڈ کرنے کے بعد خود کیفے کے پچھلے گراونڈ کیطرف چلے گئ۔۔۔۔
کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اب وہ گھٹنوں کے بل بھاگتا ہوا وہاں پہنچے گا۔۔۔۔
شاہان جو کہ ہادیہ سے اپنے فلیٹ پر ملنے اور اسکی ڈیمانڈز جاننے کے بعد اپنی اسٹڈیز میں تھوڑا بہت سنجیدہ ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
اب اپنے فائنلز سے پہلے پہلے اپنا لوس کور کرنے کی تگ و دود میں تھا۔۔۔۔
اسی غرض سے وہ اب باقائدہ احد کے ساتھ شام میں کمبائن سٹڈی کرتا تھا۔۔۔۔
احد اسے دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا تھا کہ چلو کسی طرح ہی صحیح۔۔۔۔
شاہان کی دم سیدھی تو ہوئی۔۔۔۔۔
اب بھی وہ لائبریری کی طرف ہی جا رہا تھا جب اسکے پرانے گروپ کے دوستوں نے اسے روک لیا۔۔۔۔
وہ ان سے باتیں کر رہا تھا لیکن اسکے ہر انداز سے عجلت جھلک رہی تھی۔۔۔۔۔
وہ جانتا تھا کہ آج ہادیہ یونیورسٹی آنے والی ہے۔۔۔۔ اور صبح سے ابھی تک اسکی ہادیہ سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ جلد از جلد اس سے ملنا چاہتا تھا۔۔۔۔
پر اسکا گروپ اسے چھوڑنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔
تبھی ماورا وہاں آئی۔۔۔۔۔
وہ سب اسکا ماورا سے پیچ اپ کروانا چاہتے تھے۔۔۔۔ انکی باتیں سن کر شاہان کے ماتھے پر ناگواری کی شکنیں بڑھنے لگی۔۔۔
شاہان پلیز تم مجھے میری غلطی تو بتاو۔۔۔۔
ماورا بے تکلفی سے سب کے سامنے ہی تمام فاصلے سمیٹتی اس کے قریب آئی اور ایک ہاتھ اسکے کندھے پر رکھتی دوسرے ہاتھ سے اسکا چہرہ اپنی طرف کرتی مخاطب ہوئی۔۔۔۔
شاہان نے بے دردی سے اسکے دونوں ہاتھ جھٹکے۔۔۔۔۔
عین اسی وقت اسکے موبائل پر میسج کی بپ بجی۔۔۔۔
میسج پڑھتے ہی اسکے چہرے پر ایک الوہی چمک ابھر آئی۔۔۔۔
وہ فوراً ہی سب سے ایکسکیوز کرتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
پیچھے ماورا پیچ وتاب کھا کر رہ گئ۔۔۔
ہادیہ وہاں پر موجود اپنا غصہ ضبط کرنے کی ناکام کوشش میں سرگرداں تھی۔۔۔
جب اسے سامنے سے ہستا مسکراتا شاہان اپنی طرف آتا دیکھائی دیا۔۔۔۔۔
شاہان نے اسے دور سے دیکھتے ہی اسکی طرف ہا ہلایا۔۔۔۔
ہادیہ نے اسے غصے سے گھور کر چہرے کا رخ دوسری طرف موڑ لیا۔۔۔۔
اوئے تیری دی۔۔۔۔ اب کیا کر دیا میں نے۔۔۔۔۔
لگتا ہے پھر سے کلاس لگنے والی ہے۔۔۔۔۔
چریل نہ ہو تو کیسے اتنی بڑی بڑی آنکھیں نکال کر بچے کو کنفیوز کر دیا۔۔۔۔
شاہان ہادیہ کے غصے سے گھورنے پر بالوں پر ہاتھ پھیرتا دل ہی دل میں جل تو جلال تو کا ورد کرتا منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا ہوا جا رہا تھا۔۔۔۔۔
پر شاہان بیٹا یہ کام تو اب روز کا ہے تو نے دل ہی اتنی غلط جگہ لگایا ہے۔۔۔۔
زہے نصیب سویٹ ہارٹ کیسے آج آپ نے مجھ نا چیز کو خدمت کا موقع دیا۔۔۔۔
وہ اس تک پہنچنے تک پھر سے اپنے موڈ میں واپس آ گیا تھا۔۔۔۔
ہمارے رشتے کو لے کر کیا تم واقعی سیریس ہو شاہان۔۔۔۔
وہ اسکی بات کو نظر انداز کرتی سنجیدگی سے گویا ہوئی۔۔۔۔۔
کیا مطلب میں سمجھا نہیں۔۔۔۔
ہادیہ کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے اسے بھی سنجیدہ ہونا پڑا۔۔۔۔۔
مطلب یہ کہ میں نے تمہیں کچھ بہت کلئیر الفاظ میں بتایا تھا کہ اگر تم واقعی اس رشتے کے لئے سیریس ہو تو تمہیں خود کو ثابت کرنا ہو گا۔۔۔۔۔
وہ ہاتھ باندھتے ہوئے بالکل اسکے سامنے آ کر کھڑی ہو گئ۔۔۔۔
تو۔۔۔۔
وہ الجھا۔۔۔۔
تو یہ کہ تمہارے پاس چھے مہینے کا وقت ہے دو مہینے بعد تمارے فائنلز ہیں۔۔۔۔ تمہارا ایم بی اے بھی مکمل ہو جائے گا۔۔۔۔
اگر ان چھے مہینوں میں تم خود کو اسٹیبلش نہ کر پائے تو میں پھر اسی شخص سے شادی کر لوں گئ جسے میرے باپ نے میرے لئے چنا ہے۔۔۔۔۔
واٹ۔۔۔۔ شاہان کو چار سو چالیس والٹ کا جھٹکا لگا تھا ہادیہ کی بات سن کر۔۔۔۔
ہادیہ نے شادی والی بات محض شاہان کو راہ راست پر لانے کے لئے کہی تھی۔۔۔۔
اور ہاں ماورا تمہارے ساتھ کیا کر رہی تھی۔۔۔
وہ تیکھے چتونوں سمیٹ شعلہ جوالہ بنی اس سے مخاطب تھی۔۔۔۔
او ہو تو یہ بات ہے۔۔۔۔۔
میری مسز جلیسی فیل کر رہی ہے۔۔۔۔
ایک منٹ لگا تھا شاہان کو بات کی تہہ تک جانے میں۔۔۔۔
مطلب کے ہادیہ ماورا کو اسکے ساتھ بے تکلف ہوتا دیکھ چکی تھی اور آج کی کلاس اسی کا نتجہ تھی۔۔۔۔
میں کیوں جیلس ہونے لگی بھلا۔۔۔۔
پر میری ایک بات کان کھول کر سن لو۔۔۔۔ میں بہت فیئر بندی ہوں۔۔۔۔
اور مجھے میرا پارٹنر بھی ایسا ہی چاہیے۔۔۔۔
اگر واقعی مجھ سے تعلق رکھنا چاہتے ہو تو تمہیں صرف مجھ تک محدود رہنا پڑے کا۔۔۔۔
اب اگر اسے تم جیلسی سمجھو یا کچھ بھی پر ایٹ لسٹ میں اس معاملے میں کوئی کمپرومائز نہیں کر سکتی۔۔۔۔
مجھے میرا پارٹنر بلا شرکت غیرے مکمل طور پر میرا ہی چاہیے۔۔۔۔۔
وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولی تھی ۔۔۔۔۔
اپنی بات مکمل۔۔ ہوتے ہی وہ وہاں رکی نہیں تھی بلکہ شاہان کی سائیڈ سے گزرتی ہوئی چلے گئ تھی۔۔۔۔۔
پیچھے شاہان اسکی باتوں سے مسرور سا کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
تو اسکا مطلب تم بھی اس رشتے کو دلی طور پر قبول کرنے لگی ہو۔۔۔۔
وہ مسکراتا ہوا سوچ رہا تھا۔۔۔
مصطفی نے دھڑکتے دل سے ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر کمرے کا دروازہ کھولا۔۔۔۔
اندر مکمل ۔ طور پر تاریکی کا راج تھا۔۔۔۔
اسنے آگے بڑھ کر کمرے کی لائت جلائی۔۔۔۔
سامنے ہی وہ لیٹی ہوئی تھی دنیا و مافیہا سے بے خبر۔۔۔۔
پرسکون چہرا لئے۔۔۔۔ جیسے وہ اسے سوتا چھوڑ کر گیا تھا۔۔۔۔
ندا ابھی تک سو رہی ہو یار دیکھو روزہ افطار ہوئے کتنا وقت ہو گیا۔۔۔۔ اور تم نے ابھی تک روزہ افطار ہی نہیں کیا۔۔۔۔
یوں کرنے سے روزہ مکرو ہو جاتا ہے۔۔۔۔
وہ بولتا روم ریفریجریٹر سے پانی کی بوتل نکال کر گلاس میں انڈیلنے لگا۔۔۔۔
چلو اٹھو شاباش۔۔۔
وہ بیڈ پر اسکے سرہانے بیٹھا گیا ۔۔۔۔
اسنے گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اسکے سر کے نیچے ہاتھ رکھ کر اسکا سر تھوڑا سا اوپر اٹھایا۔۔۔۔
ابھی اس نے پوری طرح سے گلاس بھی نہیں اٹھایا تھا کہ ندا کا
سر اسکے ہاتھ سے ریشم کے تھان کی طرح پھسل کر دوسری طرف لڑھک گیا۔۔۔۔
گلاس مصطفی کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر گیا۔۔۔
وہ یوں بدک کر پیچھے ہٹا جیسے اسے بچھو نے کاٹ لیا ہو۔۔۔۔
مصطفی نے لرزتا ہاتھ اسکے ناک کے نیچھے رکھا۔۔۔
پھر دو قدم آگے آ کر اسکے دل کی دھڑکن چیک کی۔۔۔
پھر ہاتھ سے اسکی نبض چیک کی۔۔۔۔
پر ہر چیز خاموش تھی۔۔۔۔
ہر طرف جامد سناٹا تھا۔۔۔۔
مصطفی کی صرف آنکھوں ہی نہیں چہرے پر بھی ویرانی نے پنجے گاڑھ لئے تھے۔۔۔۔
وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسکے طمانیت جھلکاتے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
آج اسکے چہرے پر وہ سکون کی داستان رقم تھی جو مصطفی کو اپنی دو سالہ ازواجی زندگی میں کبھی ڈھونڈنے سے بھی اسکے چہرے پر نظر نہیں آئی تھی۔۔۔۔
“میرے مالک میری آزمائش ختم کر دے مجھے سکون دے دے”
مصطفی کو محسوس ہوا جیسے آواز اسکے بہت قریب سے ابھری ہو۔۔۔۔
وہ متوحش نظروں سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔۔۔۔
“عرصے سے میں سکون کی نیند نہیں سوئی مجھے پر سکون نیند سلادے میرے مالک”
مصطفی ساکت نظروں سے ندا کے بے جان وجود کو دیکھتے ہوئے قدم قدم پیچھے کو ہٹ رہا تھا۔۔۔
“میرے مالک وہ ناطہ ہی توڑ دے جو مجھے ان اذیتوں سے جوڑے ہوئے ہے”
“اس دنیا کے دکھوں سے مجھے آزاد کر دے یا رب”
الٹے قدم اٹھاتے ہوئے پیچھے جگہ ختم ہو گئ تھی اور مصطفی دیوار سے جا ٹکرایا۔۔۔۔
“اگر کوئی ظلم سہتے سہتے مر بھی گیا ندا بچے تو یہ اس شخص کا اختتام نہیں بلکہ اس شخص کے اوپر ہونے والے ظلم کا اختتام ہے۔۔۔۔
حویلی کے بڑے سے صحن کے وسط میں ہجوم میں گھری ہوئی وہ سفید کفن پہنے چارپائی پر لیتی تھی۔۔۔۔
دنیا دکھاوے کو کافی لوگ جمع ہو چکے تھے وہاں۔۔۔
خوش قسمت ہے وہ شخص جس نے اس عارضی دنیا کی جگہ اس دائمی دنیا کو پا لیا۔۔۔۔
وہ چھوٹی سی گیارہ سالہ بچی اس چارپائی سے لپٹی دھاڑے مار مار کر رو رہی تھی۔۔۔۔
خالہ بی نم آنکھوں سے اس بچی کو خود میں بھینچے اس کا سر تھپتھپا رہی تھی۔۔۔
خواہش بس اتنی سی ہے میرے مالک کہ میری میت کو کندھا میرا محرم دے۔
مصطفی اپنے بے جان ہوتے وجود سے اسکی چارپائی کو کندھا دیئے خود کو گھسیٹ رہا تھا۔۔۔۔
مجھے لہر میں بھی میرا محرم ہی اتارے۔۔۔
اب وہ اسے لہر میں اتار رہا تھا۔۔۔۔
لہر کی گہرائی دیکھ کر ایک بار مصطفی کی روح تک کانپ اٹھی۔۔۔۔
کہ کہاں وہ اس بے ضرر سی لڑکی کو اکیلا چھوڑ کر جانے والا ہے۔۔۔
کہاں وہ اسکی زندگی کی تمام تشنگیاں دور کر کے اسکے ہر دکھ کا مداوا کر کے اسے ایک پر آسائش زندگی دینے والا تھا اور اب۔۔۔۔
وہ لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہٹا۔۔۔۔
لوگ اب آہستہ آہستہ اس پر مٹی ڈال رہے تھے۔۔۔۔
اپنے ہاتھوں اس بے ضرر سی لڑکی کو منو مٹی تلے دباتے مصطفی کا دل کر لا رہا تھا۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے ندا کا تا قیامت سورج سے پردہ ہو گیا۔۔۔
سب لوگ واپس جا رہے تھے وہ وہاں تنہا کھڑا رہ گیا۔۔۔۔
مصطفی خدا کے لئے میرے لئے کوئی آسان موت تجویز کر دیں۔۔۔ میں مزید یہ سب نہیں سہہ سکتی۔۔۔۔
اور تب سے پہلی بار وہ اسکی قبر سے لپٹ کر تڑپ کے رویا تھا۔۔۔۔
وہ لڑکی روزے کی حالت میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملی تھی۔۔۔۔
کیسے نہ وہ کہتا کہ وہ ایک بے ضرر لڑکی تھی۔۔۔۔
اتنی جلدی ندا اتنی جلدی۔۔۔۔
ایسا نہیں کر سکتی تم یار۔۔۔۔ معافی کو موقع تو دیتی مجھے۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھوں میں قبر کی مٹی اٹھائے بچوں کی طرح سسک رہا تھا۔۔۔۔
کیسے جیوں اب پرنسس۔۔۔۔ کیسے رہوں۔۔۔۔ معاف کر دو یار۔۔۔۔ دیکھو ندامت میں گھرا کھڑا ہوں۔۔۔۔
ایک بار بول دو کہ معاف کیا۔۔۔۔۔
مجھے اپنا عادی بنا کر تم یوں نہیں کر سکتی پرنسس۔۔۔۔
تم وقعی پرنسس تھی آسمان سے اتری
کوئی حور۔۔۔۔
بد بجت تو میں ہوں جو تمہاری قدر نہ کر سکا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
