Be Dard Piya By Umme Hania Readelle50176 Episode 6
No Download Link
Rate this Novel
Episode 6
انشاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔۔ شاہدہ بیگم نے اسکی پیٹھ سہلاتے اسے دلاسہ دیا۔۔۔۔
کیا ہوا ہے اور آپا آپ کب آئیں۔۔۔۔ دروازے کے بیچوں بیچ کھڑا وہ الجھن سے دریافت کر رہا تھا۔۔۔۔۔ مصطفی میرے بھائی۔۔۔ نجمہ تیر کی سی تیزی سے اسکی طرف لپکی اور اس کے گلے لگ کر ہچکیوں سے رو دی۔۔۔۔ بس آپا ہوا کیا ہے یہ تو بتا دیں۔۔۔ وہ انہیں سمبھالتا ہوا صوفے تک لایا اور صوفے پر بیٹھا کر انہیں پانی پیلانے لگا۔۔۔۔ مصطفی وہ دراصل بزنس میں مرتضی کا کافی نقصان ہو گیا ہے۔۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ کافی چڑچڑے ہو گئے ہیں۔۔۔۔ آگے کوئی بھی پراجیکٹ شروع کرنے کے لئے انکے پاس سرمایا نہیں ہے۔۔۔۔ مزید اس پر خاندان والوں کا اولاد کی خاطر ان پر دوسری شادی کا دباو اور اوپر سے وردا بھی اس بار تم سے بہت ناراض ہے ورنہ اسکی سپورٹ ہی پوری فیملی میں میرے لئے کافی ہوتی ہے۔۔۔۔ لیکن اس بار تمہاری شادی کیوجہ سے وہ بھی تم سے بہت متنفر ہے۔۔ پانی کا گلاس ختم کر کے وہ چہرا صاف کرتی بتا رہی تھی۔۔۔۔ آپ بلکل بھی فکر مت کریں آپا ابھی آپکا بھائی زندہ ہے اس لئے آپکو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔ میں مرتضی بھائی کی جتنی ہو سکا فائینینشلی ہیلپ کروں گا۔ اور اس کے علاوہ وردہ سے بھی بات کر کے اسے منا لوں گا کہ بحر حال اس شادی کی میری نظر میں کوئی اہمیت نہیں۔۔۔ وہ ابھی بات کر ہی رہا تھا جب ندا چائے کی ٹرالی گھسیٹتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔۔۔ اسے اندر آتا دیکھ ہی نجمہ پر ایک جنون سوار ہو گیا اور وہ سب کچھ بالائے طاق رکھے اس پر جھپٹ پڑی۔۔۔ یہ منحوس عورت۔۔۔۔ سارے حالات کی ذمہ دار یہ ہے۔۔۔۔ نجمہ اس کے چہرے پر ٹھپروں کی بوچھار کے بعد اب اسے بالوں سے پکڑے جھٹکے دے رہی تھی۔۔۔۔ ندا کی آہ و بکار اور فریادوں پر وہ کان نہیں دھڑ رہی تھی۔۔۔۔ مصطفی لب بھینچے خاموشی سے سب دیکھ رہا تھا وہ خود چاہیے اس پر جتنا بھی ظلم کرتا مگر کسی اور کے ہاتھوں اسکی ایسی حالت ہوتے دیکھنا اسکی برداشت سے باہر تھی یہ ہی وجہ تھی کہ وہ جلد از جلد منظر عام سے ہٹ گیا۔۔۔۔
ہادیہ نے یونیورسٹی کے گیٹ سے باہر نکلتے ہی کسی سواری کی تلاش ادھر ادھر نظریں گھمائیں لیکن اسے فلحال کہیں کوئی سواری وغیرہ نظر نہ آئی۔۔۔۔۔ اس نے رک کر سواری کا انتظار کرنے کی بجائے آہستہ آہستہ آگے بڑھنا شروع کر دیا کہ جہاں کہیں کوئی رکشہ وغیرہ نظر آیا وہیں سے رکشہ لے لے گئ۔۔۔۔ ابھی وہ یونیورسٹی سے نکل کر مین روڈ پر تھوڑا ہی آگے آئی تھی کہ اسکا فون بجنے لگا اس نے ہینڈ بیگ کی بیرونی زپ سے موبائل نکال کر دیکھا تو کال اسکی دوست کی تھی اس نے کال کاٹ دی کیونکہ وہ یوں راستے میں کسی کی بھی کال اٹینڈ نہیں کرتی تھی ارادہ گھر جا کر فرصت سے اس سے بات کرنے کا تھا۔۔۔۔ ابھی اس نے فون کاٹا ہی تھا کہ دو تین موٹر سائیکل سوار زن سے اس کے قریب آئے اور بائیک کی ریس پر ریس دیتے ہوئے اسکے گرد دائرے میں موٹر سائیکل گھمانے لگے۔۔۔۔۔ ہادیہ ٹھٹھک کر رکی تھی۔۔۔۔۔ ہاتھ میں موجود موبائل پر گرفت مزید مضبوط ہوئی تھی۔۔۔۔ وہ ہق دق سی صورتحال سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔ ارے رانی کہاں جا رہی ہو۔۔۔۔ آو ہمارے ساتھ آ جاو ہم چھوڑ دیتے ہیں ایک موٹر سائیکل سوار نے اسکے قریب موٹر سائیکل کرتے ہوئے اسکی گال کو چھوا ہادیہ تڑپ کر پیچھے کو ہٹی یوں یکدم پیچھے ہٹنے سے پیچھے موجود بائیک کا ہینڈل اسکی کمر پر لگا تھا درد کی ایک لہر پورے جسم میں سرایت کر گئی کر گئ تھی۔۔۔۔ اس نے اپنی سسکی روکتے نم آنکھوں سے جھٹکے سے مڑ کر پیچھے دیکھا۔۔۔۔ جھٹکا لگنے سے اسکے سر سے ڈوپٹہ کھسک چکا تھا۔۔۔۔۔ بے بسی کا احساس شدید تھا اسکا دل چاہ رہا تھا کہ کاش اس وقت زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔۔۔۔ یکدم ایک موٹر سائیکل سوار اسکے قریب آیا اور جیب سے چاقو نکال لیا۔۔۔ اس سے پہلے کہ ہادیہ کچھ سمجھ پاتی اس نے ہادیہ کے دائیں کندھے کے پاس موجود ہینڈ بیگ پر کٹ لگایا اس سے پہلے کہ ہینڈ بیگ زمین بوس ہوتا دوسرے لڑکے نے پھرتی سے اسے اچکا اور تینوں قہقے لگاتے اس پر فقرے کستے زن سے آگے بھاگ گئے۔۔۔۔ ہادیہ کے اعصاب مفلوج ہو رہے تھے۔۔۔۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ ابھی کچھ دیر پہلے اس کے ساتھ ہوا کیا ہے۔۔۔۔ میرا بیگ۔۔۔۔ اعصاب بیدار ہوتے ہی جو پہلا خیال اسے آیا تھا وہ یہی تھا۔۔۔۔ آج ہی تو اسے اسکی سیلری ملی تھی اور کتنے ہی کام اس نے اپنی سیلری پر پینڈنگ رکھے تھے۔۔۔۔ بجلی گیس کے بلز ارحمہ اور احمد کی فیسیں۔۔۔ ابا کی دوائیاں گھر کا راشن۔۔۔۔ غرض کہ سارا گھر ہی اس کے سہارے چلتا تھا۔۔۔۔ اور امی تو پچھلے ایک ہفتے سے اس سے تنخواہ کے متعلق پوچھ رہیں تھیں۔۔۔ اب کیا ہو گا۔۔۔۔ اس سے آگے ایک بڑا سا سوالیہ نشان تھا۔۔۔۔۔ پورا مہینہ کیسے گزرے گا۔۔۔۔ وہ امی کو کیا جواب دے گی۔۔۔۔ اسے لگ رہا تھا جیسے وہ ابھی گر جائے گئ۔۔۔۔۔ جانے کتنا وقت گزرا تھا وہ ابھی تک ایک ہی پوزیشن میں کھڑی تھی۔۔۔۔ اعصاب مفلوج ہو رہے تھے۔۔۔۔ تبھی ایک ریڈ اسپورٹس کار اسکے قریب آ کر رکی۔۔۔۔۔ ہادیہ نے خالئ خالی نظروں سے کار کی سمت دیکھا۔۔۔۔ کار کا دروازہ کھول کر بلیک ٹراوزر پر ریڈ سلیولیس شرٹ پہنے بالوں کو دونوں ہاتھوں سے پیچھے کو سیٹ کرتا شاہان اترا تھا۔۔۔ وہ مسکرا کر اسکی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔ اسکی چال میں واضح فتح کا نشہ تھا اس کے انگ انگ سے سرور ٹپک رہا تھا جیسے اسے ہادیہ کی یہ حالت بہت لطف دے رہی ہو۔۔۔۔
ارے کیا ہوا مس ہادیہ آپ یہاں کیا کر رہئ ہیں۔۔۔۔۔ چلیں کوئی بات نہیں آئیں میں آپکو ڈراپ کر دیتا ہوں۔۔۔۔ چمکتی آنکھوں سے اسے دیکھتا وہ اسکے زخموں پر نمک چھڑک رہا تھا۔۔۔۔ او ہو مس ہادیہ آپکو تو لگتا ہے کوئی گہرا صدمہ ہی لگ گیا ہے۔۔۔۔۔ ہادیہ کی طرف سے جواب نہ پا کر وہ خود سے مخاطب ہوا۔۔۔۔
شاہان۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ شاہان کچھ مزید بولتا ہادیہ اسے خالی خالی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔ ضروری نہیں کہ اگر ہمارے اندر خاموشیوں اور سناٹوں کا راج ہو۔۔۔۔ ادسیاں اور تنہائیاں ہماری ہمسفر ہوں تو ہم دوسروں کو بھی اسی سے روشناس کروا دیں۔۔۔۔ بعض اوقات کسی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کے پھول کھلانا کسی کے لئے کوئی اچھا کام کرنا یا کسی کی خوشی کے لئے کچھ کرنا بھی سکون قلب کا باعث بنتا ہے۔۔۔۔۔ نم آنکھوں سے اسے دیکھتی وہ سادہ سے لفظوں میں بھی اسے بہت کچھ باور کروا گئ تھی۔۔۔۔ ہمیشہ کی طرح اپنی بات کہہ کر وہ رکی نہیں تھی بلکہ اپنی تمام تر ہمت مجتمع کرتی آگے بڑھ گئ تھی۔۔۔ اور پیچھے شاہان بالکل گم صم کھڑا رہ گیا تھا وہ کیسے منٹوں میں اسکی پوری ذات کا تجزیہ کر گئ تھی۔۔۔۔۔ وہ کیسے اسے اتنی گہرائی سے جان گئ تھی۔۔۔۔۔ اسکی نم اور ویران آنکھوں میں آج شاہان کو اپنا آپ نظر آیا تھا۔۔۔۔ بار بار اسکی ویران آنکھیں اس کے تخیل کے پردے پر آ کر اسے مضطرب کئے جا رہی تھیں۔۔۔۔ اسے اب رہ رہ کر خود پر غصہ آ رہا تھا کہ کیا ضرورت تھی اسے اتنا گھٹیا کام کرنے کی۔۔۔۔ وہ اسکی ٹیچر تھی اس اس سے اتنی بڑی تھی اسکی رہبر و رہنما تھی۔۔۔۔ اس کے لئے قابل احترام تھی۔۔۔۔۔ اور یہ وہ احساس تھا جس سے وہ شائید زندگی میں پہلی بار روشناس ہوا تھا۔۔۔۔ ورنہ اس سے پہلے تو وہ اپنے باپ کا بھی احترام نہیں کرتا تھا۔۔۔۔۔ اور یہ احساس اس کے لئے بہت جان گسل تھا کیونکہ اس کے اندر توڑ پھوڑ جاری تھی۔۔۔۔ بیشک اندرونی توڑ پھوڑ کا عمل ہمیشہ ہی نہایت جان گسل ہوتا ہے۔۔۔۔
رات دیر سے وہ گھر لوٹا تھا گھڑی بارہ کا ہندسہ عبور کر رہی تھی جب اس نے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا۔۔۔۔ دروازہ کھولتے ہی پہلی نظر دیوار کے ساتھ لگ کر گھٹری بنے وجود پر پڑی۔۔۔۔ ندا نے بھی آواز پر سر اٹھا کر مصطفی کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔ مصطفی پر نظر پڑتے ہی وہ تیر کی طرح سیدھی ہوئی تھی۔۔۔۔ آپ کے لئے کھانا لاوں۔۔۔۔ مصطفی صوفے پر بیٹھا ٹائی کی ناٹ کھول رہا تھا جب ندا نے اسکے پاس جا کر جھکے سر سے آہستہ آواز میں دریافت کیا۔۔۔ مصطفی نے سر آٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔ وہ اسے پہلے سے بہت مضحمل دیکھائی دی۔۔۔۔ نہیں میں کھانا کھا چکا ہوں۔۔۔۔ جی اچھا۔۔۔۔ مصطفی کے جواب دے دینے پر بھی وہ وہیں ہاتھ باندھے سر جھکائے کھڑی رہی جیسے اسکی زر خرید غلام ہو۔۔۔۔ مصطفی کو ٹوٹ کر اس پر رحم آیا۔۔۔ لیکن وہ کر بھی کیا سکتا تھا مزید اسکی طرف داری کر کے وہ سارے خاندان کی مخالفت مول نہیں لے سکتا تھا۔۔۔۔ پہلے ہی وہ اس کی وجہ سے بہت کرائسز میں تھا۔۔۔۔ وردہ سے اسکی آج بھی بات نہیں ہو پائی تھی وہ اس سے اسقدر ناراض تھی۔۔۔۔ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ وردہ سے بات کرتا تو ضرور اسے قائل کر لیتا لیکن ساری بات ہی یہ تھی کہ وہ اس سے بات کرنے کو ہی تیار نہ تھی۔۔۔۔۔
تم جا کر سو جاو مجھے کچھ چاہیے ہو گا تو تمہیں بتا دوں گا۔۔۔۔ وہ اپنی سوچوں کو جھٹکتا اسے کہہ کر واش روم میں گھس گیا۔۔۔۔ واش روم میں اسکی ضرورت کا ہر سامان موجود تھا۔۔۔۔ اسکا نائٹ ڈریس اسکے دوسرے جوتے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ اسے دل سے ندا کے سگھڑاپے کا قائل ہونا پڑا۔۔۔۔۔
چینج کر کے جب وہ کمرے میں واپس آیا تو وہ اپنے مخصوص کونے میں بغیر بستر کے سکڑی سمٹی لیتی تھی۔۔۔۔۔ سنو۔۔۔ اس نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے اسے پکارا۔۔۔۔ دیکھو اگر کبڈ میں کوئی بستر وغیرہ ہے تو وہ لے لو۔۔۔۔ اپنی بات کہہ کر وہ اس کی آنکھوں سے پنپتی حیرانگی سے نظریں چراتا لیمپ آف کر کے لیٹ گیا۔۔۔۔۔۔
ٹریفک کا شور لوگوں کا ہجوم کچھ بھی اس پر اثرانداز نہیں ہو پا رہا تھا۔۔۔۔ وہ بس گم صم سی مفلوج اعصاب لئے ناک کی سیدھ میں چلتی جا رہی تھی ذہن میں جھکڑ سے چل رہے تھے کہ گھر جا کر امی سے کیا کہے گئ۔۔۔۔۔ کہ اچانک اسکی نظر سڑک پر ریڈ لائٹ پر کھڑی گاڑیوں میں سے ایک گاڑی پر گئ اور پھر جیسے وہیں جم گئ۔۔۔۔ اسے اپنی آنکھوں پر دھوکے کا گھمان ہوا۔۔۔۔ اس نے بار بار آنکھیں جھپک جھپک کر وہ منظر دیکھنے کی کوشش کی ایک بار دو بار پھر تین بار لیکن وہ منظر نہ بدلا۔۔۔۔
گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر کسی خوبرو نوجوان کے ساتھ بیٹھی کالج یونیفارم میں ملبوس ڈوپٹے کو گلے میں ڈالے کھلے بال شانوں پر بکھیرے وہ بلاشبہ ارحمہ ہی تھی۔۔۔۔
وہ لڑکا اس پر جھکا اس کے بال کانوں کے پیچھے ارستہ کوئی سرگوشی کر رہا تھا اور ارحمہ اسکی باتوں پر شرمیلی سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے مسکرا رہی تھی۔۔۔۔ اس منظر نے ہادیہ کے قدموں تلے سے زمین کھینچ لی تھی۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ ارحمہ تک پہنچتی ریڈ لائٹ سبز ہوئی تھی اور تمام گاڑیاں آگے بڑھ گئیں تھی۔۔۔۔۔
جس وقت وہ شکستہ قدموں سے گھر داخل ہوئی ارحمہ ابھی تک گھر گھر نہیں آئی تھی۔۔۔۔ گھر داخل ہوتے ہی امی نے سب سے پہلے اس سے تنخواہ کے بارے میں پوچھا تھا۔۔۔۔ مل جائے گی امی ایک دو دن تک۔۔۔۔ وہ کوفت سے کہتی جھنجھلا کر اندر چلے گئ۔۔۔۔ پیچھے امی اسے برا بھلا کہہ رہی تھیں جبکہ وہ سنی ان سنی کر گئ کیونکہ اس وقت وہ سوائے ارحمہ کے مسلے کے کچھ سوچنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔ اسکی بے چین نظریں بار بار دروازے پر ٹکی تھیں۔۔۔۔ اسی بے چینی میں اس نے چینج کر کے لنچ بنایا اور ابا کو انکا پرییزی کھانا بنا کر دیا۔۔۔۔ ابھی اس نے اپنے کھانے کا نوالہ تورا ہی تھا جب ارحمہ گرمی گرمی کا شور مچاتی گھر میں داخل ہوئی ہادیہ نے بغور اسکا جائزہ لیا بری چادر میں اچھی طرح خود کو کور کئے ہوئے تھی۔۔۔۔ اسے دیکھ کر کوئی اعتبار نہیں کر سکتا تھا کہ یہ وہی لڑکی ہے جیسے ہادیہ ابھی کچھ دیر پہلے دیکھ چکی تھی۔۔۔۔ ہادیہ بھی دھوکا کھا جاتی اگر اس نے بھی ارحمہ کو اپنی آنکھوں سے ابھی کچھ دیر پہلے دیکھا نہ ہوتا۔۔۔۔
وہ جلدی جلدی کا سور مچاتی کھانا کھا کر سو گئ۔۔۔۔ ہادیہ صرف اسے دیکھتی ہی رہ گئ۔۔۔۔ اب اسے ارحمہ کے اٹھنے کا انتظار تھا تا کہ اس سے سامنے بیٹھ کر بات چیت کرئ جائے۔۔۔۔یکدم ہی بیٹھے بیٹھے ہادیہ کو آج کا قصہ یاد آیا۔۔۔۔۔۔ غصہ ایک بار پھر سے عود کر آیا تھا۔۔۔۔۔ لیکن اب یہ ہی وقت تھا اس واقعہ کے متعلق ایکشن لینے کا۔۔۔۔ عورت کو ابھی تک کمزور سمجھنے والوں کو یہ بتا دینے کا کہ آج کے دور کی عورت کمزور نہیں۔۔۔۔وہ چاہیے تو کیا نہیں کر سکتی۔۔۔۔ یہ ہی سب سوچتے ہوئے اس نے اپنا لیپ ٹاپ اٹھایا سب کچھ اس سے چند کیز کی دوری پر تھا۔۔۔۔۔
(جاری ہے)
