Be Dard Piya By Umme Hania Readelle50176 Episode 43
No Download Link
Rate this Novel
Episode 43
گرمی کا زور کافی حد تک ٹوٹ چکا تھا۔۔۔ سردیوں کی آمد آمد تھی۔۔۔۔ دھاتی گولے کی روشنی کی تپش میں بھی اب وہ بات نہ رہی تھی۔۔۔۔
ایسی میں لائبری کے دروازے سے نکل کر وہ سیرھیاں اترتی آ رہی تھی۔۔۔۔۔ بالکل سامنے سے اس پر پرتی دھوپ سے وہ بہت اجلی اجلی مگر مضحمل سی لگ رہی تھی ۔۔۔۔ آج صبح سے ہی اسکا دل بہت گھبرا رہا تھا۔۔۔ ایک بے چینی سی اسکا احاطہ کئے ہوئے تھی۔۔۔۔
وہ ابھی سیڑھیاں اتر کر گراونڈ میں پہنچی ہی تھی کہ اسے اپنے پیچھے آہٹ سی سنائی دی۔۔۔۔ ہادیہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔۔ پیچھے شاہان ہی تھا۔۔۔۔ سرمئ اور وائٹ دریس پینٹ شرٹ میں ملبوس اس کے پیچھے پیچھے چلتا آ رہا تھا۔۔۔
ہادیہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر سے سامنے دیکھ کر چلنے لگی۔۔۔۔
اچھی بیویاں جب اپنے شوہر سے ملتی ہیں تو سب سے پہلے اپنے شوہر کا حال چال دریافت کرتی ہیں۔۔۔۔ ان سے چائے پانی کے بارے میں پوچھتی ہیں۔۔۔ ان کے دل بہلانے کا ساما۔۔۔۔۔
بشرطیکہ۔۔۔۔ شوہر میں شوہروں والے گٹس ہوں۔۔۔۔
وہ اب اسکے برابر میں چلتا ہوا بول رہا تھا جب ہادیہ اسکی بات کاٹ کر بولی۔۔۔ البتہ دیکھ ابھی بھی وہ سامنے ہی رہی تھی۔۔
اوہ ہ ہ۔۔۔ وہ ہونٹوں کو گول کرتا ہوا بولا۔۔۔۔ ہلکی ہلکی ہوا ان دونوں کو ٹکراتی ہوئی گزر رہی تھی۔۔۔۔
مطلب تم چاہتی ہو کہ مجھ میں شوہروں والے گٹس آئیں۔۔۔ پھر تو جلد از جلد کچھ نہ کچھ کرنا ہی پڑے گا۔۔۔۔ وہ بمشکل اپنی ہسی کا گلہ گھوٹے شرارت آنکھوں میں سموئے سر کجھاتا ہوا معنی خیزی سے بولا۔۔۔۔
آنتہائی فضول قسم کے انسان ہو تم۔۔۔۔ بے تکی بکواس جتنی مرضی کروا لو تم سے کام کی بات ایک ٹکے کی نہیں کرو گئے۔۔۔۔ اسکی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے وہ اپنی خجالت مٹانے کو اسی پر چڑھ دوری۔۔۔
لوووووو۔۔۔۔ میں تو کب سے کام کی بات کرنے کو تیار ہوں۔۔۔۔۔
آج کی تمہاری اسائمنٹ کہاں ہے۔۔۔۔ آج اساِئمنٹ جمع کروانے کی آخری تاریخ تھی تو تم نے آج کلاس ہی مس کر دی۔۔۔۔۔ وہ اسکی بات کو نظر انداز کرتی یکدم پلٹ کر بولی۔۔۔۔
یا خدا کسی پر اتنا ظلم مت کرنا۔۔۔۔ کسی کی بیوی کو اسکی ٹیچر نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔ پوری زندگی ناشتے کی جگہ پڑھائی کے تانے مقدر بن جاتے ہیں۔۔۔۔ وہ دونوں ہاتھ اوپر کو اٹھائے آسمان کی طرف دیکھتا ہوا دہائیاں دے رہا تھا۔۔۔۔ اسکی دہائیوں پر ہادیہ کو ہسی تو بہت آئی پر وہ ضبط کئے سنجیدہ صورت بنائے کھڑی رہی۔۔۔۔
تمہاری رنگ کہاں ہے ہادیہ۔۔۔ بات کرتے کرتے یکدم شاہان کی نظر اسکے ہاتھ پر گئ تو وہ اپنے ہاتھ نیچے کر کے گویا ہوا۔۔۔ پل میں اسکا موڈ بدلا تھا۔۔۔۔میں نے شائید تمہیں کچھ کہا تھا کہ وہ رنگ تمہاری انگلی سے نہیں اترنی چاہیے۔۔۔۔ وہ حد درجہ سنجیدگی سے بات کر رہا تھا اور میں نے بھی تم سے شاید کچھ کہا تھا ہادیہ اپنے دونوں ہاتھ سینے پر باندھتی ہوئی گویا ہوئی۔۔۔۔ کہ مجھے تمہارے باپ کی کمائی کی عنایات نہیں چاہیے۔۔۔۔ مجھ سے تم صرف اس گفٹ کی پوچھ گچھ کا حق رکھتے ہو جو تمہاری اپنی کمائی کا ہو گا۔۔۔۔ آئی بات سمجھ۔۔۔۔ ہادیہ نے اپنے ہینڈ بیگ کی زپ سے وہ رنگ نکال کر شاہان کا ہاتھ پکڑ کر اس پر رکھی اور بنااسکی کوئی بات سنے واپسی کو پلٙٙٹ گئ۔۔۔ جبکہ پیچھے شاہان سنجیدگی سے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔
دروازہ کھول کر ارسلان اندر داخل ہوا تھا۔۔۔ جبکہ ارحمہ ۔۔سامنے بت بنی کھڑی تھی۔۔۔ وہ تھوک نگلتی ایک نظر اسے دیکھ رہی تھی اور دوسری چور نظر عین اسکے پاس پری چابی کو ۔۔۔۔
تم۔۔ یہاں میرے کمرے میں۔۔۔۔ ایک پل کو تو ارسلان بھی اسکے بجلیاں گراتے سراپے کو دیکھ کر ہواس گم کر بیٹھا تھا۔۔۔۔۔
ایک پل میں ارحمہ نے اپنے چہرے کے تاثرات بدلے تھے۔۔۔ وہ جان چکی تھی کہ ارسلان نے چابی نہیں دیکھی۔۔۔۔
کیسی لگ رہی ہوں میں۔۔۔۔ وہ پل میں چہرے پر شاطرانہ مسکراہٹ سجائے اسکے گلے میں بازو حائل کرتی ایک ادا سے بولی۔۔۔۔ اور ایسا کرتے ہوئے اس نے نا محسوس انداز میں چابی پر اپنا پنسل ہیل میں مقید پیر رکھ دیا۔۔۔۔ ارسلان نے بنا اسکی بات کا کوئی جواب دیئے مخمور نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے اسکی کمر کے گرد شکنجہ تنگ کر کے اسے خود سے بالکل قریب کر دیا۔۔۔۔
اس کی اس حرکت سے ارحمہ اندر تک لرز گئ وہ اس سے ایسی کسی حرکت کی توقع نہیں کر رہی تھی۔۔۔ بس بس زیادہ فری نہیں ہونا۔۔۔۔ میں بس تم سے نکاح خواہاں کا پوچھنے آئی تھی۔۔۔۔ اور کتنی دیر ہے مجھ سے صبر نہیں ہو رہا۔۔۔۔
آرحمہ اس سے پیچھے ہٹتی ہوئی اپنے دونوں ہاتھ زور سے میچتی ہوئی ایکسائٹیڈ ہو کر بولی۔۔۔۔
افف ظالم لڑکی۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتا یا کوئی پیش رفت کرتا موبائل کی رنگ ٹیون نے بیچ میں خلل ڈالا تھا۔۔۔۔
لگتا ہے آگے وہ لوگ ارسلان نے جیب سے موبائل نکال کر اسکی سکرین کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔ اور فون اٹھا کر موبائل کان سے لگا لیا۔۔۔۔ اس کی بات پر ارحمہ کے چہرے کا رنگ یکدم بدلا تھا جیسے وہ فون سنتے ہوئے دیکھ نہ پایا۔۔۔۔ تم اپنے کمرے میں چلو۔۔۔۔ وہ فون پر بات کرنے کے دوران اس سے مخاطب ہوا اور فون سنتا ہوا باہر چلا گیا۔۔ اس کے باہر جاتے ہی ارحمہ نے سکون کا سانس لیا اور نیچے جھک کر چابی اٹھا لی۔۔۔۔۔ اسنے چابی والے ہاتھ کی زور سے مٹھی میچ لی جیسے اسے ڈر ہو کہ کوئی اسکے آزادی کے واحد پروانے کو دیکھ نہ لے۔۔۔۔
وقت بہت کم تھا اور اسے وقت رہتے ہی کچھ کرنا تھا۔۔۔ بچاو کے لئے آخری بار ہاتھ پیر مارنے تھے نہیں تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ذلت و بدنامی اور رسوائی کی دلدل میں پھنس جاتی۔۔۔۔ وہ لوگ یقیناں پہنچ چکے تھے۔۔۔۔۔ اسے اب باہر سے چند لوگوں کی باتوں کی بنبھناہٹ اور قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی وہ تھوک نگلتی بغیر کوئی لمحہ ضائع کئے کبڈ کے آخری دروازے کیطرف بڑھی۔۔۔۔۔
دادی یہ کیا ہے یار۔۔۔۔ میں کوئی نہیں جا رہی۔۔۔۔ حجاب دادی کے کمرے میں دائیں سے بائیں چکر کا ٹتی کبھی بے بسی سے ہاتھ پر ہاتھ مارتی تو کبھی اپنے ہونٹ کچلنے لگتی۔۔۔۔۔ دادی سامنے موجود بیڈ پر گاو ٹکیے کے سہارے نیم دراز تھی۔۔۔۔
دادی پلیز آپ کوئی بہانا کر دیں نہ میں کیسے جاوں۔۔۔۔ جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو وہ دادی کے پاس بیڈ پر بیٹھ کر انکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر لجاہت سے بولی۔۔۔۔
کہہ دیں۔۔۔ کہ۔۔۔ کہ وہ دادی کا ایک ہاتھ چھوڑ کر اس ہاتھ کو ہلاتے ہوئے کچھ سوچنے لگی۔۔۔ کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔۔ اس لئے میں نہیں آ سکتی۔۔۔۔ وہ اپنا خیال پیش کرنے کے بعد اب داد طلب نظروں سے دادی کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
ارے شاباش ہے بیٹا۔۔۔ شاباش۔۔۔۔ وہ تمہارے ہر برے وقت میں تمہارے کام آیا۔۔۔۔ آدھی رات کو طوفانی بارش میں بھی اپنا آرام سکون چھوڑ کر تمہارے باپ کو لئے ہسپتال پہنچا اور تو اسکے زرا سی ضرورت کے وقت کام نہیں آ سکتی۔۔۔۔۔
دادی کی باتیں سن کر حجاب بے بسی سے انہیں دیکھنے لگی۔۔۔۔ جانتی ہوں دادی پر آپ خود ہی سوچیے نہ کہ بھلا ایسے اچھا لگتا ہے کہ لڑکی رخصتی سے پہلے ہی اپنے سسرال چلی جائے۔۔۔۔۔ وہ شکست خوردہ لہجے میں بولی جیسے وہ دادی کی باتوں سے کائل ہوئی ہو۔۔۔۔
بیٹا اب مجبوری ہے۔۔۔ اسکی چھوٹی بہن کو لڑکے والے دیکھنے آ رہے ہیں ایک بہن ملک سے باہر ہے دوسری عین وقت پر لڑکے والوں کیساتھ آِے گی کہ لڑکے والے اس کے سسرالی رشتے دار ہیں۔۔۔ اب بیچاری شزا بیٹی کیسے سب کچھ سمبھالے گئ اور ایسے موقع پر تو ویسے ہی لڑکیاں بہت نروس ہوتی ہیں۔۔۔۔
کتنے احترام اور چاہت سے احد بیٹے نے مجھ سے تمہیں ساتھ لے کر جانے کی اجازت طلب کی تھی اور میں نے ہاں بھی کر دی۔۔۔۔ اب مجھ سے تو یہ بہانے وانے بننے سے رہے۔۔۔ ایسا کرو تم خود ہی اسے منع کردینا۔۔۔ جیسے تمہارا دل چاہے۔۔۔۔ دادی منہ بناتی ہوئی بولی اور رخ بدل کر اپنی دوائیاں چیک کرنے لگی۔۔۔۔۔۔ یہ انکی واضح ناراضگی کا اعلان تھا۔۔۔۔
کل بارہ بجے وہ تمہیں لینے آئے گا تو اسے یہ بہانے خود ہی بنا کر بتا دینا۔۔۔۔
رہنے دیں آپ انہیں لینے آنے کی ضرورت نہیں میں خود ہی یونیورسٹی سے وہاں چلی جاوں گئ۔۔۔۔ وہ منہ بنا کر کہتی ہوئی وہاں سے چلے گئ۔۔۔۔
دادی نے چہرا جھکا کر اپنی مسکراہٹ چھپائی۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ حجاب مان جائے گئ۔
اور حجاب وہ احد کے سامنے سے کترا رہی تھی۔۔۔۔ اپنے ہی کہے الفاظ کی باز گشت کانوں میں گونج کر اسے مزید شرمندہ کر رہی تھی۔۔۔۔ اور اب خود سے پہلی بار اپنے سسرال جا کر اس ستم گر کا سامنا کرنا اس کے ہاتھ پاوں پھلائے دے رہا تھا۔۔۔۔۔
ارحمہ نے کپکپاتے ہاتھوں سے پن ہول میں چابی لگا کر گھمائی۔۔۔۔ یہاں تو کوئی لڑکی نہیں۔۔۔۔ نہیں ہے؟؟؟ اسی کمرے میں ہے۔۔۔ اسے باہر سے کچھ لوگوں کی آوازوں کے ساتھ ارسلان کی جھنجھلائی ہوئی آواز سنائی دی۔۔۔۔ اسکے ہاتھوں میں تیزی آ گئ۔۔۔۔ دل زور زور سے دھرکنے لگا تھا۔۔۔ موت اس سے چند قدموں کی دوری پر تھی۔۔۔۔۔ بوکھلاہٹ میں اس کے ہاتھ سے چابی چھوٹ گئ۔۔۔۔ اس نے جلدی سے جھک کر چابی اٹھائی اور دوبارہ سے پن ہول میں لگا کر گھمانے لگی۔۔۔۔ باہر سے اب قدموں کی آواز قریب سے قریب تر ہو رہی تھی جیسے وہ لوگ اس کمرے کیطرف آ رہے ہوں۔۔۔۔
دروازہ شائید جام ہو چکا تھا جو کہ کھل کے نہ دے رہا تھا۔۔۔۔
باہر شاید وہ لوگ کمرے کے باہر پہنچ چکے تھے۔۔۔۔۔ اس نے اپنا پورا زور لگا کر دروازہ کھولا۔۔۔۔۔ دروازے کے کھلتے ہی بدبو کا ایک بھبھکا اسکے ناک سے ٹکرایا۔۔۔۔ آگے مکمل طور پر تاریکی تھی اس وقت سوئچ بورد ڈھوندنا سوائے حماقت کچھ نہ تھا۔۔۔۔ اس نے بیسمنٹ کا دراوازہ مکمل چاک کر دیا اور کپکپاتی ٹانگوں سے دو دو سیڑھیاں اکھٹے اترنے لگی۔۔۔ کئ بار وہ سیرھیوں سے اترتے ہوئے گرنے سے بچی تھی۔۔۔۔ارے بیسمنٹ کا دروازہ کھلا ہے۔۔۔۔ یہ کیسے ۔۔۔گالی۔۔۔۔ آوازیں سن کر اسکے قدموں میں مزید تیزی آ گئ تھی۔۔۔۔ سیرھیوں کے اختتام پر ایک بڑا حال تھا جسکے آخر پر لکڑی کا ایک بڑا سا منقش دروازہ نصب تھا ۔۔۔۔۔ وہ گرتی پرتی اس دروازے کی جانب بھاگی۔۔۔۔ دروازے تک اوپر کمرے سے آتی روشنی ناکافی تھی۔۔۔ اسے دروازے کے پن ہول کو دھونڈنے میں دشواری ہو رہی تھی۔۔۔۔ وہ ہاتھ سے ٹٹول کر پن ہول تلاش رہی تھی۔۔۔ ارے یہ دروازہ بند کرو ۔۔۔۔ گارڈ کو بولو کہ باہر سے گھیرا ڈالیں۔۔۔۔وہ لوگ سیڑھیوں پر پہنچ گئے تھے۔۔۔۔۔ اسے پن ہول مل گیا تھا ۔۔۔ پر ساتھ ہی اوپر سے دروازہ بند ہونے سے روشنی کا راستہ رک گیا تھا وہاں گھپ اندھیرا ہو گیا۔۔۔۔ اور ارحمہ کو لگا کہ اسکی ساری محنت اکارت گئ۔۔۔ اتنا سب کرنے کے بعد بھی وہ اندھیروں کی باسی بن گئ تھی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔ ) )
