64.9K
56

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

دیکھو زہرا یہ بالکل بھی رسکی کام نہیں ہے۔۔۔۔ سارے انتظام میں کر چکا ہوں۔۔۔۔ اسکے تھوڑی نہ آگے پیچھے کوئی ہے جو ہمیں کسی کے سامنے جواب طلبی کا ڈر ہو گا۔۔۔۔ سارے ٹیسٹ بھی کلئیر ہیں اسکے تم بس ہانی بھرو تو جلد از جلد کام مکمل کیا جائے۔۔۔ کیونکہ دوسری پاڑتی کو بہت جلدی ہے۔۔۔۔ میں پانی پینے کے لئے کچن کیطرف جا رہی تھی جب امی کے کمرے سامنے سے گزرتے ہوئے شہباز کے الفاظ مجھے سنائی دیئے اور میں وہیں دیوار کی اوٹ میں ہو کر امی اور شہباز کی باتیں سننے لگی۔۔۔ ناجانے کیوں مجھے کسی انہونی کے ہونے کا خدشہ لاحق ہونے لگا تھا۔۔۔۔ ٹیسٹ کلئیر ہیں۔۔۔ پر کیسے امی زہرا الجھتے ہوئے بولی۔۔۔۔ ارے کل جب وہ سوئی ہوئی تھی تو میں نے اسکو کلوروفارم سونگھا کر اسکی بازو سے بلڈ سیمپل لے لیا تھا۔۔۔ اور ہماری خوش قسمتی دیکھو کہ آج ہی صبح اسکی رپورٹ آئی ہے اور سب کچھ کلئیر ہے۔۔۔۔ شہباز کی باتوں پر میں نے ایک بے اختیار نظر اپنی بازو پر ڈالی جہاں پر سرینج لگنے کا ایک چھوٹا سا نشان موجود تھا۔۔۔ وہ نشان دیکھتے ہی میرئ ریڑھ کی ہڈی تک سنسا اٹھی۔۔۔۔ کیا یہ محض اتفاق تھا یا وہ لوگ واقع میرے بارے میں بات کر رہے تھے۔۔۔۔ مجھے اب انکی معنی خیز باتوں سے خوف محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔۔ ہوں کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو شہباز یہ کام اتنا مشکل بھی نہیں پر اگر ہو جائے تو ہمارے تو واڑے نیارے ہو جائیں گے۔۔۔۔ میں اپنے کپکپاتے وجود کو بمشکل گھسیٹتے ہوئے واپس اپنے کمرے میں جا رہی تھی جب امی کی مدہم سی آواز میرے کانوں میں پڑی۔۔۔۔۔


اس نے آہستہ آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولیں تو نظر اوپر نقش و نگار سے مزیں چھت پر پڑی۔۔۔۔ کچھ پل لگے تھے اسے ہوش و ہواس میں واپس لوٹنے میں۔۔۔۔ جیسے ہی اسے اپنے ساتھ ہوا واقعہ یاد آیا وہ ایک جھٹکے سے بیڈ پر اٹھ کر بیٹھی تھی۔۔۔۔ اسنے گردن گھما کر چاروں طرف سے کمرے کا جائزہ لیا تھا۔۔۔۔ وہ ایک پر تعش کمرا تھا۔۔۔۔ جس کے بیچ و بیچ ایک جہازی سائز بیڈ پر وہ موجود تھی۔۔۔۔ اس نے پورے کمرے کا جائزہ لے کر وہاں پر وال کلاک کو ڈھونڈنا چاہا تاکہ وقت کا اندازہ لگا سکے کیونکہ یہ خیال ہی کہ وہ اغوا ہو چکی ہے بہت روح پرور تھا۔۔۔۔ ہر طرف سے ذہن پر زور دینے سے بھی کوئی ایسا اسکے ذہن میں نہ آیا تھا جو اس کے ساتھ ایسی گھٹیا حرکت کر سکتا تھا ۔۔۔۔۔ اچانک اسکی نظر داہنی سائید کی دیوار پر موجود وال کلاک پر پڑی جو کہ دوپہر کے تین بجا رہا تھا۔۔۔۔۔ ٹائم دیکھتے ہی اسکا دماغ بھک سے اڑ گیا۔۔۔۔ تین بج رہے تھے اور تقریباً گیارہ بجے کے قریب وہ اغواء ہوئی تھی یعنی کہ پچھلے چار گھنٹوں سے وہ یہیں پر تھی۔۔۔ اس کے ساتھ ہی کئ قسم کے خیال اسکے ذہن میں آنے لگے اور وہ ایک جھٹکے سے دروازے کی طرف بڑھی اور دروازہ دردھرانے لگی۔۔۔۔۔


شاہان تو کچھ بھی کہہ لے پر تو نے حرکت بہت معیوب کی ہے۔۔۔۔ شادی جیسے رشتے کے معاملات یوں طے نہیں ہوتے۔۔۔۔ سب جانتا ہوں میں احد شاہان ہاتھ اٹھا کر احد کی بات کاٹتا ہوا گویا ہوا۔۔۔ پر میں یوں ہاتھ پر ہاتھ دھڑ کر ہفتہ دس دن کے اندر اندر اسے کسی اور کی نہیں ہونے دے سکتا تھا پھر بلآخر مجھے جو سمجھ آئی جو بہتر لگا میں نے وہ کیا۔۔۔۔ شاہان نے اپنے سامنے موجود جوس کا گلاس اٹھا کر منہ سے لگایا۔۔۔۔ پر جب انہیں ہوش آئے گا تو کیا کہے گا تو ان سے۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ شاہان احد کی بات کا کوئی جواب دیتا اوپر سے ہانپتی کانپتی ملازمہ نیچے آئ۔۔۔۔ صاحب جی و
وہ بی بی جی کو ہوش آ گیا ہے وہ بہت زور سے دروازہ دھر دھڑا رہی ہیں ۔۔۔۔۔ وہ ملازمہ پھولے ہوئے سانس سے بولی۔۔۔۔ تم چلو میں دیکھتا ہوں۔۔۔ شاہان نے اپنا گلاس ٹیبل پر رکھا اور ایک گہرا سانس بھرتے ہوئے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ اس کے چہرے پر واضح تفکر کی لکیریں تھی۔۔۔۔۔۔


ساری رات میری زہرہ امی اور شہباز کی باتوں کو سوچتے ہوئے گزری اور اسی خوف کے باعث میں ساری رات سو نہیں سکی کہ اگر واقعی ان لوگوں نے ایک بار پہلے بھی میرے نیند میں ہونے کا فائدہ اٹھایا تھا تو پھر وہ لوگ دوبارہ بھی ایسی کوشش کر سکتے ہیں ۔۔۔۔ صبح فجر کے وقت کہیں جا کر میری آنکھ لگی پر جب میری آنکھ کھلی تو میں نے خود کو کسی ناموس جگہ پر پایا۔۔۔۔ پہلا احساس جو مجھ میں ہوش آنے کے بعد ہوا وہ یہ تھا کہ میں کہاں پر ہوں۔۔۔۔ میں نے اپنے ارد گرد نظر دوڑائی یہ ایک درمیانے سائز کا کمرا تھا جس کی دیواریں چھت غرض کے بستر اور میرے اوپر اوڑاھی گئ چادر تک سفید رنگ کی تھی۔۔۔ میں نے اپنے اوپر سے چادر ہٹائی اور نییچے اترنے لگی تھی کہ خوف سے میرے منہ سے ایک چیخ نکلی کیونکہ مجھے اپنے پیٹ سے نیچے حصے پر کوئی حرکت محسوس نہیں ہو رہی تھی جیسے میری ٹانگیں میرے وجود کا حصہ ہی نہ رہی ہوں۔۔۔۔ تبھی کمرے کا دروازہ کھلا اور سفید کپڑوں میں ملبوس ایک ادھیر عمر کی نرس ہاتھ میں دوائیوں والی ٹرے پکڑے کمرے میں داخل ہوئی اور تبھی ذرا مزید غور کرنے پر مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ میں ہسپتال کے ایک پرائیویٹ کمرے میں موجود ہوں۔۔۔ خوف سے میرے جسم میں موجود خون میری رگوں میں جمنے لگا کیونکہ میں تو اپنے کمرے میں سوئی تھی اور اب میں یوں ہسپتال میں۔۔۔ اور میری ٹانگیں۔۔۔۔ خدشات تھے کہ اژدھوں کیطرف دماغ میں سر ابھار رہے تھے۔۔۔۔ اب کیسا محسوس کر رہی ہو بیٹا۔۔۔ اس نرس نے دوائیوں والی ٹرے سائید پر رکھی اور ایک شیشی سے انجیکشن بھرنے لگی۔۔۔۔ سسٹر میری ٹانگیں۔۔۔۔ میں بمشکل نم آواز میں اتنا ہی بول پائی۔۔۔ وہ اس محلول سے بھرے انجیکشن کو اب میری بازو پر لگا رہی تھی۔۔۔۔ ارے بیٹا فکر کی کوئی بات نہیں ہے بیٹا۔۔۔ اتنے میجر اپریشن کے بعد تمہیں ہوش آیا ہے اس لئے جگہ سن ہونے کے باعث تمہیں اپنی ٹانگوں میں کوئی حرکت محسوس نہیں ہو رہی ہو گی۔۔۔۔ آپریشن۔۔۔۔ کیسا آپریشن سسٹر۔۔۔۔۔ مجھے اپنی ہی آواز کسی کھائی سے آتی ہوئی معلوم ہوئی۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ نرس کوئی جواب دیتی اس انجیکشن کے باعث میرا دماغ ایک بار پھر سے تاریکیوں میں ڈوب گیا۔۔۔۔


ہادیہ دروازہ بجا بجا کر بلآخر تھک ہار کر آ کے بیڈ کی پائنتی کے پاس بیٹھ کر سر بیڈ کے میٹرس پر ٹکا گئ۔۔۔۔ اسے اب اپنی ہمت جواب دیتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔ اس نے زندگی میں خود کو کبھی اتنا بے بس نہیں پایا تھا جتنا وہ اس وقت خود کو بے بس محسوس کر رہی تھی۔۔۔ سوچیں تھیں کہ آکٹوپس کی طرح اسے جھکڑے ہوئے تھیں۔۔۔۔ ابھی تک تو اسکے گھر میں کسی کو اسکی غیر موجودگی کا یا اسکے اغوا ہونے کے بارے میں نہیں معلوم ہوا ہو گا کیونکہ یونیورسٹی سے واپس گھر جاتے جاتے اسے اکثر و بیشتر پانچ تو بج ہی جاتے تھے اور اسے کسی بھی طرح کچھ بھی کر کے پانچ بجے سے پہلے پہلے گھر پہنچنا تھا ورنہ دوسری صورت نا قابل تلافی خسارہ اسی کے حصے آنا تھا۔۔۔۔
وہ ابھی انہیں سوچوں کے جال میں الجھی تھی کہ ایک کلک کی آواز کیساتھ دروازہ کھلا۔۔۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر ایک جھٹکے سے ہادیہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔ اور سامنے شاہان کو موجود پا کر اسے اپنی آنکھوں پر دھوکے کا گھمان ہوا۔۔۔ ۔۔ تم ۔۔۔۔ وہ بید کے سہارے سے کھڑی ہوئی۔۔۔ وہ بے یقین سی بے یقین تھی۔۔۔۔ شاہان میرے ساتھ اتنی گھٹیا حرکت تم نے کی ہے تم نے۔۔۔ وہ بے یقینی سے بولی۔۔۔۔ مجھے اس حرکت کے لئے آپ نے مجبور کیا ہے مس ہادیہ۔۔۔ اگر آپ سیدھے طریقے سے میری بات سمجھ جاتی تو پھر میں کیوں کوئی غلط راہ اختیار کرتا۔۔۔۔ شاہان کا اطمینان قابل دید تھا۔۔۔۔۔ وہ بہت ریلیکس انداز میں آ کر بیڈ کے پاس پری آرام دہ کرسی پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔۔ تم گھٹیا انسان۔۔۔۔ ہادیہ اپنے دانت پیس کر بولی۔۔۔ وہ اچھی خاصی کول مائنڈڈ لڑکی اس وقت اپنا ٹیمپر لوز کر رہی تھی۔۔۔۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا تھا کہ اس شخص کو تہس نہس کر دے جو اسکو رسوا کرنے پر تلا تھا۔۔۔۔ دیکھیں مس ہادیہ آج ہمارا نکاح ہے۔۔۔ وہ بات کرتے ہوئے اسکے پاس آ کر کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔۔ آپ خوشی سے اسے قبول کریں یا ناراضگئ سے بہرحال یہ ڈن ہے کہ آپ صرف میری ہیں۔۔۔ دیکھو شاہان میری بات سمجھنے کی کوشش کرو۔۔۔۔۔ شاہان کو اپنی ہی بات پر اٹکا دیکھ کر وہ لہجے میں نرمی لاتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔ کہ بحرحال وہ سمجھ چکی تھی کہ غصے کا یہاں کوئی فائدہ نہیں۔۔۔ تمہیں لڑکیوں کی کوئی کمی نہیں۔۔۔۔ جانتا ہوں پر ان میں کوئی بھی آپکے جیسی نہیں۔۔۔۔ شاہان ہادیہ کی بات کاٹتے ہوئے جلدی سے بولا۔۔۔۔ ہادیہ نے زبان ہونٹوں پر پھیر کر ایک ہاتھ کمر پر رکھے اور دوسرے ہاتھ سے اپنا ماتھا سہلا کر خود کو کمپوز کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔ تم اپنا اور میرا ایج ڈفرینس جانتے ہو لوگ کیا کہیں گئے۔۔۔۔ جانتا ہوں۔۔۔۔ محض گیارہ سال۔۔۔۔ اس نے ہادیہ کا اٹھایا ہوا دوسرا نقطہ بھی رد کیا۔۔۔۔ میری چھوڑیں آپ تو مجھ سے کہیں زیادہ دیندار ہیں۔۔۔ تو آپ یہ بتائیں کہ ہمارے آخرالزمان نبی محمد نے پہلی شادی کب اور کس سے کی تھی۔۔۔۔ شاہان کی بات پر ہادیہ غصے اور الجھن سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔۔ انہوں نے پہلی شادی پچیس سال کی عمر میں حضرت خدیجہ سے کی تھی جو کہ حضرت محمد سے پندرہ سال بڑی تھیں۔۔۔۔۔۔ اور پھر ہمارا ایج ڈفرینس تو پھر بھی گیارہ سال کا ہے۔۔۔۔ جب شریعت مجھے اس چیز کی اجازت دیتی ہے تو پھر مجھے لوگوں کی کوئی پرواہ نہیں۔۔۔۔ چاہیے وہ کچھ بھی کہیں کیونکہ انکا کام محض باتیں کرنا ہی ہے۔۔۔۔ آج وہ بھی اپنا ہوم ورک مکمل کر کے آیا تھا۔۔۔۔۔۔ اس کی باتیں سن کر ہادیہ ایک پل کو لاجواب ہو گئ۔۔۔۔ لیکن دوسرے ہی پل اسکا غصہ پھر سے عود کر ایا۔۔۔ تم بالکل غلط جگہ پر اس مثال کو فٹ کر رہے ہو کیا تم نہیں جانتے کہ کچھ دنوں میں میری شادی ہے میرے گھر میں میری شادی کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔۔۔۔ کارڈ سبھی بٹ چکے ہیں ایک دو دن تک مہمان بھی آنا شروع ہو جائیں گئے اور تم نے مجھے مذاق ہی سمجھ لیا ہے۔۔۔ لوگوں کی باتوں سے تمہیں فرق نہیں پرتا ہو گا شاہان۔۔۔ پر مجھے پڑتا ہے کیونکہ مجھے اسی معاشرے میں رہنا ہے۔۔۔ ہم لوگوں سے کٹ کر نہیں رہ سکتے اس لئے انکی باتیں سننی پڑتی ہیں۔۔۔۔ چند دن بعد میری بارات آنے والی ہے ایسے میں تمہاری الگ ہئ منطق۔۔۔۔ لوگ تو مجھے ہی غلط کہیں گئے نہ۔۔۔۔ میں کچھ نہیں جانتا مجھے صرف یہ پتہ ہے کہ ابھی کچھ دیر تک نکاح خواں اور گواہ آ رہے ہیں پھر ہمارا نکاح۔۔۔۔ چٹاخ۔۔۔۔ شاہان کے الفاظ کا گلا ہادیہ کے زوردار تھپڑ نے گھونٹا تھا۔۔۔۔۔ ہادیہ کا تو دماغ ہی گھوم گیا تھا شاہان کی بکواس سن کر اور شاہان وہ تو ابھی تک سکتے کی سی کیفیت میں تھا۔۔۔۔ اسے تو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ ہادیہ اسے تھپڑ بھی مار سکتی ہیں۔۔۔۔ دیکھیں مس ہادیہ۔۔۔۔ چٹاخ چٹاخ۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کر کرتا ہادیہ نے مزید دو تھپڑ اس مارے تھے۔۔۔۔ شاہان کا چہرا مارے اہانت کے سرخ ہو چکا تھا وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں کو زور سے میچے ضبط کے کڑے مراحل میں تھا۔۔۔۔ تم کمینے ذلیل انسان۔۔۔۔۔ ہادیہ کا بس نہ چل رہا تھا کہ کیا کر گزرے۔۔۔۔ مس ہادیہ آپ میرے لئے بہت قابل احترام ہیں۔۔۔۔ اس لئے میں غصے میں بھی غلطی سے کوئی ایسی حرکت یا کوئی ایسی بات آپ سے نہیں کہنا چاہتا جس کا پچھتاوا مجھے ساری عمر رہے۔۔۔ ابھی آپ غصے میں ہیں اس لئے بہتر ہے کہ ابھی آپ ہر لحاظ سے اس رشتے کے بارے میں بیٹھ کر سوچیں جب آپکا غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا تب ہم بات کریں گئے پر یہ بات فکس ہے کہ نکاح آپکا میرے ساتھ ہی ہو گا۔۔۔۔ وہ نہایت ضبط سے بولتا ہوا واپس پلٹا تھا۔۔۔۔ خوش فہمی ہے یہ تمہاری کہ میں تم جیسے بدکردار زانی اور شرابی سے شادی کروں گئ۔۔۔۔ ہادیہ بولی نہیں پھنکاری تھی۔۔۔۔ اوکے مرضی ہے آپکی۔۔۔۔۔ وہ کندھے اچکاتا ہوا اسکی طرف پلٹا تھا۔۔۔۔ جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ آپ میرے لیے بہت قابل احترام ہیں تو آپکی مرضی تو اولیں شرط ہے اسکے بغیر تو کچھ ممکن ہی نہیں۔۔۔۔ تو جب تک آپ اپنے آپ کو اس رشتے کے لئے آمادہ نہیں کر پاتی آپ یہاں پر میری مہمان ہیں۔۔۔ بلکہ اس گھر کو اپنا ہی گھر سمجھیے۔۔۔۔ کھائیے پیئے عیش کریں۔۔۔۔ اور اگر آپ اس رشتے کے لئے راضی ہو جائیں تو شنو (ملازمہ) کو بتا دیجئے گا وہ آپکا پیغام مجھ تک پہنچا دے گئ۔۔۔۔ اور بالفرض آپ اپنے آپ کو اس رشتے کے لئے امادہ نہ کر سکیں تو بھی کوئی مسلہ نہیں بے فکر رہیں آپ۔۔۔۔ اپنی بارات کے دن تک آپ یہاں میری مہمان ہیں اسکے بعد آپ واپس جاسکتی ہیں کیونکہ پھر تب میں سب کچھ تھرو پروپر چینل کروں گا۔۔۔۔ تم ۔۔۔ اس سے پہلے ہادیہ اسے کچھ کہتی یا پھر سے اس پر جھپٹتی وہ اپنی بات کہتا ہی وہاں سے جا چکا تھا۔۔۔۔ پیچھے یادیہ وہیں اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئ تھی۔۔۔۔
(جاری ہے)