Be Dard Piya By Umme Hania Readelle50176 Last updated: 22 August 2025
Rate this Novel
Be Dard Piya
By Umme Hania
سسس۔۔۔!! وہ سسکی بھرتی ہوئی پیچھےکو ہوئی آنسو ایک بار پھر سے پلکوں کی بار پھیلانگ کر بہہ نکلے مصطفی لب بھینچےاسے دیکھے گیا۔۔۔۔
تم نے اپنے لئے یہ زندگی خود منتخب کی ہے میرے بار بار وارن کرنے کے بعد بھی اب بولو اپنے اس غیرت مند بھائی کو آکر بچالے تمہیں میرے عتاب سے۔۔۔۔!!!
وہ سر سوفے کی بیک سے ٹکائے آنکھیں مونڈے ضبط سے بول رہا تھا۔۔۔۔
جس کے لئے اس عذاب سے مترادف زندگی کو قبول کیا تم نے وہ کہاں کا غیرت مند ہے جو اپنی جان بخشی کے لئ اپنی بہن کو سولی چڑھا رہا ہے ہمدردی ہے مجھے تم سے جو اس جیسےگھٹیا شخص کے لئے تم نے ایسا فیصلہ کیا۔۔۔۔۔!!!
میں۔۔۔ ن۔۔۔ نے۔۔۔ کچھ۔۔۔ نہیں۔۔۔ کیا۔۔۔۔ مجھے۔۔۔۔ نہیں پتہ۔۔۔۔!!!!
بس۔۔۔۔۔!!!!
مصطفی کے تھوڑے نرم رویے پر وہ ہمت پکڑتی کچھ بولنے والی تھی جب مصطفی نے یکدم سیدھے ہوتے ایک ڈھار سے اسے چپ کرنے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔۔
کوئی مظلومیت یا دباو کی داستان نہیں میں نے تمہیں واضح الفاظ میں باور کروایا تھا کہ بغیر کسی دباو کے پنچایت میں اپنا فیصلہ سنانا باقی سب میں خود سمبھال لوں گا ورنہ دوسری صورت انجام کی زمہ دار تم خود ہو گی میرے اندر آگ لگی ہوئی ہے۔۔۔۔!!!
مصطفی نے چیختے ہوئے ہاتھ میں تھاما پانی کا کلاس زمین پر پھینکا۔۔۔۔
ندا دونوں ہاتھ منہ پر رکھے پھٹی پھٹی آنکھیں لئے دو قدم پیچھے کو ہٹی۔۔۔۔
میرے بھائی کا قاتل کھلے عام ڈھرلے سےسر اٹھائے جی رہا ہے اور میں کچھ نہیں کر سکتا صرف تمہاری وجہ سے میرا دل چاہتا ہے تم پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دوں تمہیں۔۔۔۔!!وہ غصے سے ایک بار پھر سے ندا کی طرف بڑھا وہ خوف سے چینختئ ہوئی مزید پیچھے کو بھاگی یہاں تک کے پچھلی دیوار نے اسکی مزید فرار کے راستے بند کر دیئے وہ آنکھوں میں رحم کی التجا لئے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
