Be Dard Piya By Umme Hania Readelle50176 Episode 29
No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
شاہان فاتحانہ چال چلتا ہوا اس کے پاس آیا تھا۔۔۔۔ مسکراہٹ تھی کہ اسکے چہرے سے جدا ہی نہ ہو پا رہی تھی۔۔۔ او مائے گاڈ۔۔۔۔ ہادیہ مجھے یقین دلاو کے تم میری ہو چکی ہو۔۔۔۔ وہ ہادیہ کے قریب پہنچ کر دونوں بازوں پھیلائے گول گول گھوم کر کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔ وہ بہت جلد تمام فاصلے سمیٹتا ہوا آپ سے تم پر آیا تھا۔۔۔۔۔۔ ہادیہ غصے اور تنفر سے اسے دیکھے گئ۔۔۔۔۔۔ نکاح ہو گیا نہ اب میرا ہینڈ بیگ مجھے لوٹاو مجھے جلد از جلد گھر پہنچنا ہے۔۔۔۔ وہ سپاٹ سے لہجے میں بولی۔۔۔۔۔۔۔ اففففف یار چلے جانا وہ بیڈ پر گرتے ہوئے اپنی کہنی بیڈ پر ٹکا کر ہاتھ سر کے نیچے رکھ کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔ ظاہر سی بات ہے تم وہاں جاو گئ تو ہی میں تمہیں وہاں سے رخصت کروا کر لاوں گا نہ۔۔۔۔ شاہان کی حرکتوں سے ہادیہ کا خون کھول رہا تھا
اسکا دل چاہ رہا تھا کہ وہ کچھ اٹھا کر اس ذلیل انسان کا سر کھول دے پر پھر خون کے آنسو پی کر رہ گئ کہ ابھی اسے اپنا مطلب مطلوب تھا اسے ابھی فلحال کسی بھی طرح اپنے گھر پہنچنا تھا۔۔۔۔ ویسے یار اتنی بھی کیا جلدی ہے۔۔۔۔ کل صبح چلی جانا آج کی رات تو میرے نام بنتی ہے نہ۔۔۔۔ ورنہ تمہیں نہیں لگتا کہ یہ میرے ساتھ زیادتی ہو گئ۔۔۔۔۔ وہ مخمور لہجے میں کہتا اس کے قریب آ کر اپنے ہاتھ کے انگوٹھے سے اسکا گال سہلانے لگا۔۔۔۔ شاہان۔۔۔۔ ہادیہ نے بے دردی سے اسکا ہاتھ جھٹکا تھا۔۔۔۔ شاہان اب اگر تم نے میری بات ماننے سے مزید کچھ پلوں کی بھی تاخیر کی تو خدا کی قسم میں اپنا یا تمہارا کوئی نا قابل تلافی نقصان کر بیٹھوں گئ۔۔۔۔ وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولی تھی۔۔۔۔ آہ۔۔۔ ظالم لڑکی۔۔۔۔۔ وہ ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا۔۔۔۔ ہادیہ اسے نظر انداز کرتی دوسری طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔ شاہان نے اسی کمرے کی کبڈ سے ہادیہ کا بیگ نکال کر اسے تھمایا جیسے اس نے جھپٹنے کے انداز میں شاہان سے چھینا تھا۔۔۔۔۔ ہادیہ نے جلدی سے بیگ کی زپ کھول کر اندر سے موبائل نکالا تو اس پر گھر والے نمبر سے پچیس مسڈ کالز موجود تھی۔۔۔۔ بے ساختہ اس نے موبائل کی اسکرین پر ٹائم دیکھا رات کے آٹھ بج رہے تھے۔۔۔۔ سب سے پہلے اس نے گھر فون کر کے اپنی خیریت سے آگاہ کرنے کے بعد بس کچھ دیر میں گھر پہنچنے کے بارے میں بتایا اب اسکا رخ شاہان کیطرف تھا۔۔۔۔۔۔ شاہان اسکے چہرے کے ایک ایک اتار چڑھاو کو غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔ پریشانی اسکے چہرے سے ہوادیدا تھی۔۔۔۔ چلو میں تمہیں ڈراپ کردوں۔۔۔۔ ہادیہ کی پریشانی دیکھ کر شاہان نے اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ترک کیا اور اسے ڈراپ کرنے کی پیشکش کرنے لگا۔۔۔۔ بہت شکریہ تمہارا شاہان جتنی تم نے میری مدد کرنی تھی کر چکے تم صرف مجھے گیٹ کے باہر تک چھوڑ دو باقی میں خود مینج کر لوں گئ۔۔۔۔ پتہ نہیں کیوں آج اسے بار بار غصہ آ رہا تھا اور دل چاہ رہا تھا کہ شاہان کا منہ نوچ ڈالے۔۔۔۔ جو حکم ملکہ عالیہ۔۔۔۔ وہ ایک ہاتھ سینے پر رکھے اسکے سامنے جھک کر کورنش بجا لایا۔۔۔۔ ہادیہ نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا تھا۔۔۔۔ نہ کرو یار اب اتنے پیار سے بھی نہ دیکھو مجھے ورنہ تم سے دور جانا مشکل ہو جائے گا میرے لئے۔۔۔ شرارت اسکی آنکھوں سے ٹپکٹی جا رہی تھی۔۔۔ وہ بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ کو روکے ہوئے تھا۔۔۔ ہادیہ سمجھ چکی تھی کہ وہ جان بوجھ کر اسے زچ کر رہا ہے اسی لئے بنا کچھ بولے چپ چاپ اسکے ساتھ چلنے لگی۔۔۔۔ ویسے یار تمہیں کسی نے کبھی بتایا ہے کہ تم غصے میں کتنی خوبصورت لگتی ہو۔۔۔۔۔ سی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے شاہان نے اسکے کندھے سے کندھا ٹکرا کر کہا۔۔۔۔ شاہان۔۔۔ ہادیہ انگلی اٹھا کر خونخوار تیور لئے اسکی طرف مڑی۔۔۔۔ اچھا سوری۔۔۔ سوری۔۔۔۔۔ شاہان مسکراہٹ روکتا دونوں ہاتھ اوپر کو کرتے ہوئے سرنڈر کرنے کے انداز میں بولا۔۔۔ ایک بار پھر سے سوچ لو ہادیہ رات ہو رہی ہے یار کہاں اکیلی جاو گئ میں ڈراپ کر دیتا ہوں۔۔۔۔ شاہان نے سڑک کنارے کھڑے ہو کر رکشے کی تلاش میں نظریں وراتے ہوئے ہادیہ سے کہا۔۔۔ وہ بنا اسکی بات کا اثر لئے ادھر ادھر دیکھتی رہی۔۔۔ ہادیہ کا رویہ دیکھ کر بلآخر شاہان نے ایک رکشہ روک کر ہادیہ کو اس میں بیٹھایا۔۔۔۔ اسے کبھی اپنی انگلی سے مت اتارنا ہادیہ۔۔۔۔ ہادیہ کو رکشے میں سوار کر کے شاہان نے جھک کر اسکے ہاتھ میں انگوٹھی پہنائی اور ساتھ ہی رکشہ چل پڑا۔۔۔۔ یہ اختیاطی تدابیر اس نے اس لئے کی تھی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ پہلے ہادیہ کو انگوٹھی پہناتا تو ہادیہ نے وہ انگوٹھی اسی وقت اتار کر اسکے سر پر مارنی تھی۔۔۔۔ ہادیہ کو کسی بھی قسم کے اعتراض کا موقع دیئے بغیر رکشہ چل پڑا تھا۔۔۔۔ ہادیہ نے اسی وقت غصے میں وہ رنگ انگلی سے اتاری تھی اور انتہائی تنفر سے وہ اسے باہر پھینکنے والی تھی جب کچھ سوچتے ہوئے اس نے انگوٹھی کو اپنے پرس میں پھینک دیا۔۔۔۔
اسکے رکشے کے پیچھے شاہان اپنی گاڑی لے کر تب تک ان کے پیچھے آتا رہا جب تک اس رکشے والے نے ہادیہ کو بحفاظت اس کے گھر کے آگے اتار نہ دیا۔۔۔۔ یہ اسکا اسکی بیوی کو تحفظ دینے کا اپنا ایک انداز تھا۔۔۔۔۔
چاچا کے ہاں آکر مجھے اس قدر اپنائیت کا احساس ملا ہے کہ لگتا ہی نہیں میں ان لوگوں سے پہلی بار مل رہی ہوں۔۔۔۔ زندگی اتنی بھی پر سکون ہو سکتی ہے میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔۔۔۔۔ بس کبھی کبھار میرے گردے والی جگہ پر درد ہونے لگتی ہے تو زہرا امی کو سوچ کر ایک آہ سی دل سے نکلتی ہے۔۔۔۔۔ کہ کیا کوئی دنیا میں اتنا بھی خود غرض ہو سکتا ہے۔۔۔۔ میں نے اپنا معاملہ خدا پر چھوڑ دیا ہے بے شک وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔۔۔۔
آج ردا کو کوئی لڑکے والے دیکھنے آئے تھے اس لئے سارا دن بہت مصروفیت میں گزرا۔۔۔ چاچی نے ان لوگوں کے لئے ہر طرح کا اہتمام کیا تھا۔۔۔۔۔
اف نثار تم سوچ نہیں سکتے وہ شخص مجھے کیا کیا کچھ بتا کر سمجھا رہا تھا۔۔۔۔ اگر میں نے کل صحیح فیصلہ نہ لیا تو وہ کیسے میری زندگی اجیرن بنائے گا وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ پندرہ منٹ پر مشتمل کال صرف انہیں باتوں پر مشتمل تھی۔۔۔۔ پھر تم نے کیا سوچا ردا۔۔۔۔ سوچنا کیا تھا نثار تم بس دیکھتے جاو میں کل وہاں پنچائیت میں کیا کمال کرتی ہوں۔۔۔۔۔ میں رات کو ردا کے کمرے میں اسے دودھ کا گلاس دینے آئی تو دروازے پر دستک دینے سے پہلے مجھے ان بہن بھائیوں کی یہ باتیں سنائی دی۔۔۔۔ میں دروازے پر دستک دے کر اندر داخل ہوئی تو مجھے دیکھ کر وہ دونوں خاموش ہو گئے۔۔۔۔ تم کل کونسی پنچائیت میں جا رہی ہو ردا۔۔۔ میں نے دودھ کی ٹرے سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر استفسار کیا۔۔۔ پنچائیت کونسی پنچایت میں تو نثار سے کل اپنے یونیورسٹی میں پلے ہونے والے ڈرامے کی بات کر رہی تھی۔۔۔۔۔ ردا ایک پل کو میری بات سن کر ٹھٹھک کر پھر کندھے اچکا کر بولی۔۔۔۔۔
آج گھر میں خلاف معمول کافی خاموشی تھی۔۔۔۔ ردا اور نثار کہیں گئے ہوئے تھے اور چاچی بھی اپنے کمرے میں تھیں۔۔۔۔ ندا بی بی آپکا فون ہے۔۔۔ میں باہر لان میں بیٹھی تھی جب ملازمہ نے آ کر مجھے بتایا۔۔۔۔ میں حیران سی ٹیلیفون اسٹینڈ تک آئی کہ بھلا مجھے کس کا فون آنا تھا۔۔۔۔ ہیلو ہیلو۔۔۔۔۔ ندا بیٹا کیسی ہو۔۔۔۔ میرے ہیلو کے جواب میں زہرا امی کی آواز سنائی دی تو میرے اندر تک تلخی اتر گئ کیونکہ آج صبح سے ہی مجھے بار بار درد ہو رہی تھی۔۔۔۔ معاف کیجئے گا اب میں مزید اپنا دوسرا گردہ بھی آپکو نہیں دے سکتی۔۔۔۔۔ میرے تلخی بھرے جواب کے بعد وہ سسک اٹھی تھیں۔۔۔۔ پلیز ایسے مت کہو ندا۔۔۔۔ میں نے تم سے معافی مانگنے کے لئے فون کیا ہے بیٹا۔۔۔۔ خدا کے لئے مجھے معاف کر دو۔۔۔۔ میں نے تمہارے ساتھ بہت غلط کیا۔۔۔۔ اور اسی چیز کی سزا مجھے ملی ہے۔۔۔ ایک مہینہ پہلے میرا ایکسیڈنٹ ہوا تھا جس میں میں نے اپنی دونوں ٹانگیں کھو دیں۔۔۔ اور شہباز بجائے اس مشکل وقت میں میرا ساتھ دینے کے میرا سب کچھ لے کر بھاگ گیا اب اس وقت میں ایدھی سنٹر کے ایک کمرے میں اپنی زندگی کے سانس پورے کر رہی ہوں بیٹا پلیز تم مجھے معاف کر دو شائید میری سزا میں کچھ کمی ہو جائے۔۔۔۔ وہ رو رہی تھی بے تحاشہ رو رہی تھیں۔۔۔۔ میں نے تمہیں بے گھر کرنا چاہا نہ ندا دیکھو خدا کا انصاف اس نے مجھے کیسے بے گھر کیا ہے۔۔۔۔ ان کی باتیں سن کر میرے کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔۔۔۔ فون بند ہونے کے کتنی دیر بعد بھی میں ایسے ہی کھڑی رہی جب باہر سے ردا بلیک عبایہ پہنے کھلکھاتی ہوئی نثار کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔۔۔۔ کمال کر دیا تم نے تو ردا۔۔۔۔ کمال کر دیا۔۔۔۔ اس شاہ کی شکل دیکھنے والی تھی وہاں پر۔۔۔۔ نثار اسے مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا۔۔۔۔ آپ لوگ کس کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔۔۔۔ میرے قریب پہنچنے پر میں نے ان دونوں سے استفسار کیا۔۔۔۔ ایک سرپرائز ہے تمہارے لیے ڈیئر۔۔۔ ردا میرے چہرے پر پیار کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔ کیسا سرپرائز۔۔۔۔ لگ جائے گا پتہ ابھی اتنی جلدی بھی کیا ہے۔۔۔۔ ایسا سرپرائز ملے گا نہ تمہیں کہ تم ماننے سے انکاری ہو جاو گئ کہ یہ ہم نے تمہیں سرپرائز دیا ہے۔۔۔۔ ردا معنی خیزی سے کہتی آگے بڑھ گئ تھی جبکہ میں ابھی تک اس کی باتوں میں ہی الجھی ہوئی تھی۔۔۔
( جاری ہے)
