Be Dard Piya By Umme Hania Readelle50176 Episode 28
No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
ہادیہ بیڈ کے کنارے پر نظریں اپنے ہاتھوں کی لکیروں پر ٹکائے کسی ہارے ہوئے جواڑی کی طرح بیٹھی تھی۔۔۔۔ آنسو پلکوں کی باڑ پھیلانگتے ہوئے بہہ رہے تھے۔۔۔۔ آج وہ خود کو بہت بے بس محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔ ابھئ کچھ دیر پہلے ہی وہ اپنے تمام جملہ حقوق شاہان کے نام کر چکی تھی۔۔۔۔ نکاح نامے پر دستخط کرتے وقت اسکے ہاتھ کپکپا رہے تھے دل اندر سے کانپ رہا تھا۔۔۔۔ چاہیے وہ جتنی بھی مضبوط اعصاب کی مالکن تھی بہادر تھی پر تھی تو ایک لڑکی ہی نہ۔۔۔۔ اسے اس موقع پر اپنے احساسات منجمند ہوتے محسوس ہو رہے تھے۔۔۔۔۔ اس فرار کی ہر راہ کو تلاش کر کے دیکھ لیا پر اس ستم گر نے تو بے بس ہی اس انداز سے کیا کہ وہ پر بھی نہ مار سکی۔۔۔۔ اسے کچھ دیر پہلے کے واقعات یاد آنے لگے تھے۔۔۔۔ شاہان کے کمرے سے جاتے ہی جیسے وہ ہوش میں آئی تھی اور بھاگتی ہوئی کمرے سے نکلی تھی۔۔۔۔۔ اس نے شکر ادا کیا تھا کہ شاہان جاتے ہوئے کمرے کا دروازہ بند کر کے نہیں گیا تھا۔۔۔۔ وہ ننگے پاؤں کمرے سے بھاگی تھی وہ ایک لمبی راہداری تھی جس کا اختتام سیڑھیوں کے دھانے پر ہوتا تھا۔۔۔۔ ایک پل کو اس نے سیڑھیوں کے دھانے پر رک کر اپنا پھولا ہوا سانس بحال کیا لیکن دوسرے ہی پل وہ پھر سے ماربل کی سیڑھیوں کے ساتھ لگی ہوئی لکڑی کی ریلنگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے سیڑھیوں پر اندھا دھند بھاگتے ہوئے نیچے لاوئنج میں آئی۔۔۔ وہاں کچھ دیر کے لئے رک کر اس نے چاروں اطراف کا جائزہ لیا اور لاوئنج کے دروازے کو دیکھ کر باہر کو بھاگی۔۔۔۔ کچن میں کھڑی ملازمہ نے حیرت سے یہ منظر دیکھا تھا۔۔۔۔ لاوئنج سے باہر آتے سامنے ہی ایک لوہے کا آہنی گیٹ موجود تھا جس کے پاس ایک چوکیدار بندوق پکڑے بیٹھا تھا۔۔۔۔ ہادیہ نے کچھ پل رک کر اپنا اعتماد بحال کیا اور متوازن چال چلتی ہوئی گیٹ تک آئی۔۔۔۔ گیٹ کھولو۔۔۔۔ وہ لہجے کو سرسری سا بناتی تحکم سے بولی۔۔۔۔ سوری میم صاب۔۔۔۔ صاب کا اکم اے جب تک وہ نئی کہتے ام گیٹ نہیں کھول سکتا۔۔۔۔۔ وہ چوکیدار نظریں جھکاتے ہوئے بولا۔۔۔ تبھی کتوں کے بھونکنے کی آواز پر ہادیہ نے اپنی بائیں جانب دیکھا جہاں دو موٹے تازے جرمن شیفٹ اپنی زبان باہر کو لٹکائے اسے دیکھ کر بھونک رہے تھے۔۔۔۔ وہ ان کتوں کو دیکھ کر چونک گئ۔۔۔ وہ اس چوکیدار سے لڑ سکتی تھی پر ان کتوں سے نہیں۔۔۔۔ اسکی ہمت جواب دیتی جا رہی تھی۔۔۔۔ اعصاب مفلوج ہو رہے تھے۔۔۔۔۔۔ وہ اپنے آپ کو گھسیٹتی ہوئی واپس لاوئج میں آئی اور وہیں پڑے صوفے پر ڈھے گئ۔۔۔
وہ ہر لحاظ سے اس واقعہ سے وقوع پزیر ہونے والے اثرات کو سوچنے لگی تھی۔۔ ابھی اگر وہ پانچ بجے تک گھر نہ پہنچتی تو کیا ہونا تھا۔۔۔۔ اس گھر میں تو جیسے قیامت ہی آ جانی تھی۔۔۔۔ روز محشر کا ساماں ہونا تھا وہاں۔۔۔۔ پوری دنیا نے اسے ہی غلط سمجھنا تھا۔۔۔۔ آج کے بعد وہ چاہے شاہان کو زیر کر کے بنا اس سے نکاح کئے بھی گھر واپس چلی جاتی تو بھی گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی ہی کہلائی جانی تھی۔۔۔۔ کسی نے یقین نہیں کرنا تھا کہ اسکے ساتھ غلط ہوا ہے کیونکہ وہ اس معاشرے سے تعلق رکھتی تھی جہاں گھر سے بھاگی ہوئی اور اغواء ہوئی لڑکی کو ایک برابر سمجھا جاتا ہے۔۔۔۔ پھر اس سب سے سب سے زیادہ اسکی بہن کی زندگی متاثر ہوتی اس معاشرے میں ایک گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کی بہن کا رشتہ کون لاتا۔۔۔ یا پھر عین ممکن تھا کہ ارحمہ اس واقعہ سے شہہ پکڑ کر خود بھی ایسی ہی کوئی حرکت کر جاتی۔۔۔۔ ہادیہ سر پکڑے بیٹھی تھی۔۔۔۔ اسے اس مصیبت سے نکلنے کی
کی کوئی راہ دیکھائی نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔۔ اور شاہان سے کسی بھلائی کی امید کرنا ہی عبث تھا۔۔۔ کیونکہ وہ ایک امیر باپ کی بگھری اولاد تھا جو مڈل کلاس فیملی کی ان باریکیوں کو نہیں سمجھ سکتا تھا۔۔۔۔ اب اسے ہی کوئی حل نکالنا تھا پر کیا۔۔۔۔ سوچ سوچ کر جب کوئی سرا ہاتھ نہ آیا تو بلآخر وہ ایک فیصلہ کر کے اٹھی بے ساختہ اسکی نظر وال کلاک پر گئ جو کہ پونے پانچ بجنے کا عندیہ دے رہی تھی۔۔۔۔ اس نے سب سے پہلے ملازمہ کو اپنی رضامندی ظاہر کر کے شاہان کو جلد از جلد وہاں بلانے کا کہا تھا اور خود وہ واپس اپنے اسی کمرے میں آ گئ تھی جہاں وہ پہلے موجود تھی۔۔۔۔ اسے اب جلد از جلد واپس اپنے گھر پہنچنا تھا۔۔۔۔۔ باقی کے معاملات آسان تھے۔۔۔ ہادیہ کی رضامندی کا سنتے ہی شاہان ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو کر آیا تھا۔۔۔۔ ہادیہ اپنے اسی کمرے میں تھی جب دو لڑکیاں اسکے لئے نکاح کا جوڑا اور زیب و آرائش کا سامان لے کر کمرے میں آئیں تھیں۔۔۔۔ میڈم آپ چینج کر لیں پھر ہمیں آپکو تیار کرنا ہے۔۔۔۔۔ اور ہادیہ کا تو دماغ ہی گھوم گیا تھا وہ سب سامان اور ان لڑکیوں کی باتیں سن کر۔۔۔۔ کہ یہاں وہ مر رہی تھی رسوائی کے ڈر سے اور وہ تھا کہ اسکے ارمان ہی پورے نہیں ہو رہے تھے۔۔۔ انتہائی غیض وغضب میں ہادیہ نے وہ سارا سامان کمرے کے باہر پھینکا تھا۔۔۔۔ آوٹ۔۔۔۔۔ نکلو یہاں سے اور اب اگر اس کمرے میں نکاح خواں کی جگہ کوئی بھی آیا تو آگے کا ذمہ دار وہ خود ہوگا۔۔۔۔ ضبط سے ہادیہ کی آنکھیں سرخ ہو گئ تھی گردن کی رگیں پھول رہی تھیں۔۔۔۔
اور پھر شاہان نے بھی اس بپھری ہوئی شیرنی کو چھیرنا مناسب نہ سمجھا کہ ابھی اتنا ہی بہت تھا کہ وہ نکاح کے لئے مان گئ تھی۔۔۔۔
ہادیہ گہری سانس بھرتے ہوئے جا کر کھڑی کھول کر کھڑی ہو گئ۔۔۔۔ باہر شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے وہ ایک بار پھر سے آگے کا لائحہ عمل سوچنے لگی۔۔۔۔ اسے اس وقت شاہان سے سب سے زیادہ نفرت محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔ وہ شخص اسے پاتال میں گرانے کا سبب بنا تھا۔۔۔۔۔ ہادیہ نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ اسکی زندگی میں کبھی ایسا مقام بھی آئے گا کہ وہ اسقدر بے بس ہو جائے گئ۔۔۔۔۔ تبھی دروازہ کھلنے کی آواز پر اسنے پیچھے مڑ کر دیکھا تھا۔۔۔۔ دروازہ کھول کر شاہان مسکراتا ہوا اندر داخل ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ اسکی چال میں واضح فتح کا نشہ تھا کچھ پا لینے کی خوشی تھی۔۔۔۔ اسے دیکھتے ہی غصے کی ایک سرد لہر ہادیہ میں دور گئ۔۔۔۔
دوبارہ جب میری آنکھ کھلی تو میں اپنے کمرے میں موجود تھی اب کی بار میں نے اپنی ٹانگوں کو ہلانے کی کوشش کی تو مجھے ان میں حرکت محسوس ہو رہی تھی میں نے آہستہ آہستہ اپنی دونوں ٹانگیں نیچے اتار کر کھڑی ہونے کی کوشش کی مگر دونوں ٹانگوں پر وزن ڈالتے ہی میری کراہ نکل گئ میرے پیٹ کے دائیں طرف ناقابل برداشت درد کی لہریں اٹھی تھی اور میں وہیں پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہی دہری ہونے لگی۔۔۔۔ میری کراہیں سنتے ہی زہرا امی میرے کمرے میں آئی تھی۔۔۔۔ ارے چندا کیا کر رہی ابھی تمہیں صرف آرام کرنا ہے کیونکہ ٹانکے ابھی کچے ہیں نا تمہارے وہ مجھے سہارا دے کر بیڈ پر بیٹھاتے ہوئے چاپلوسانہ انداز میں کہہ رہی تھی۔۔۔ ٹانکے کیسے ٹانکے کیا ہوا ہے مجھے میں نے روہانسی ہوتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔ ارے جان تمہارا آپریشن ہوا ہے۔۔۔۔ امی کے پیچھے ہی شہباز ہنستا ہوا اندر داخل ہوا تھا میں ہونق بنی ان دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ ارے سویٹ ہارٹ کسی بیچارے ضرورت مند کو ایک گردے کی ضرورت تھی۔۔۔۔ اور اتفاق سے تمہارے سارے ٹیسٹ اسکے ساتھ میچ ہو گئے ۔۔۔۔ تو ہم نے تمہارا ایک گردہ اس بیچارے کو دے دیا۔۔۔۔ اب تمہیں تو خوش ہونا چاہئے کہ تم کسی ضرورت مند کے کام ہی آگئ۔۔۔۔۔ شہباز قہقہ لگا کر ہنس دیا تھا۔۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔ اسکی بات سن کر تو گویا جیسے کمرے کی چھت میرے اوپر گر پڑی ہو۔۔۔۔ تم لوگوں نے میرا گردہ بیچ دیا۔۔۔۔ میں بے یقینی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبی پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔۔ اچھا بس بس اب زیادہ ڈرامے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ ایک گردہ ہی دیا ہے تمہارا ۔۔۔۔ قتل نہیں کر دیا تمہیں۔۔۔ بہت سے لوگ ہیں جو ایک گردے پر جیتے ہیں۔۔۔ ڈاکٹر سے بات ہوئی ہے میری اس سے تمہاری زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔۔۔ بس اپنی ڈائیٹ کا دھیان رکھو اور واک وغیرہ کرتی رہو تو پوری زندگی کو مسلہ نہیں بنے گا۔۔۔۔ زہرا امی میرے پاس بیٹھی بڑے اطمینان سے بتا رہی تھی۔۔۔۔ امی میری جگہ اگر آپکی سگی بیٹی ہوتی تو کیا آپ تب بھی اسکے ساتھ ایسا ہی کرتی۔۔۔۔ ارے جان کیا سگی اور کیا سوتیلی۔۔۔ تم بھی اگر شہباز کی بات مان جاتی اور آگے بھی میری بات ملانتی رہتی تو راج کرتی راج وہ میری ٹھوڑی کو چھوتے ہوئے بولی۔۔۔۔ پر تم تھی ہی الٹی کھوپڑی کی اس لئے مجبوری میں تمہارے ساتھ ٹیڑھا ہو کر چلنا پڑا۔۔۔۔ مجھے ان سے گھن آ رہی تھی۔۔۔۔ چلے جلائیں آپ دونوں یہاں سے اکیلا چھوڑ دیں مجھے۔۔۔۔۔ میں انکے ہاتھ جھٹک کر چینخ کر بولی تھی۔۔۔۔۔۔ بس تمہارا یہ ہی رویہ کبھی تمہیں عیش نہیں کرنے دے گا۔۔۔۔۔ کیا ہے میں نے تمہارے چاچا سے رابطہ کہ میں تمہارا بوجھ مزید نہیں اٹھا سکتی اس لئے تمہیں آ کر لے جائیں۔۔۔۔ ایک دو ہفتے تک آ کر لے جائے گا وہ تمہیں۔۔۔ وہ آج مجھے شاک پر شاک دے رہی تھی کہ جب پوری زندگی انہوں نے رابطہ نہیں کیا تو پھر اب کیسے۔۔۔۔ ابا کے جنازے پر بھی وہ بس کچھ دیر کے لئے ہی آئے تھے۔۔۔۔۔۔ میں کسی کے بھی ساتھ کہیں نہیں جاوں گئ۔۔۔۔ میں ترخ کر بولی تھی۔۔۔ ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی۔۔۔ اپنے چاچا کیساتھ جانا چاہو تو ٹھیک ورنہ اپنا کہیں بھی انتظام کر لو کیونکہ میں یہ گھر بیچ چکی ہوں مزید پندرہ بیس دنوں تک ہمیں اسے خالی کرنا ہے تب تک تم یہاں رہ سکتی ہو۔۔۔۔ باہر کی طرف جاتے ہوئے وہ میری بات سن کر تنفر سے پلٹی تھیں اور پھر اپنی بات کہہ کر بنا میری کوئی بات سنے باہر نکل گئ تھی۔۔۔۔ پیچھے میں ایک بار پھر سے قسمت کی اس ستم ظریفی پر پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔۔۔
اب میں تقریباً ٹھیک ہو چکی تھی۔۔۔۔ زہرا امی کو بھی شائید میرے ذریعے ملی نئ نئ لاٹری کی خوشی تھی یا پھر وہ چاچا کے ساتھ مجھے تندرست کر کے بھیجنا چاہتی تھیں اسی لئے وہ میرا بہت دھیان رکھ رہی تھیں اور شائید اسی وجہ سے میں بہت جلد روبہ صحت ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
آج میرے چاچا مجھے لینے آئے تھے اور مجھے نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے ساتھ جانا پڑ رہا ہے کیونکہ آج اگر میں انکے ساتھ نہ جاوں تو پھر کہا جاوں۔۔۔۔ آج اس گھر سے جاتے ہوئے اور اس گھر کو چھوڑتے ہوئے میری روح تک تڑپ رہی ہے کہ آخر کو میں نے اپنی زندگی کہ اٹھارہ سال اس گھر میں گزارے ہیں میرا بچپن یہاں اس گھر میں گزرا ہے۔۔۔۔ میری اچھی بری یادیں اس گھر سے وابسطہ ہیں۔۔۔۔ چچا مجھے ایک بڑی سی گاڑی میں لینے آئے تھے پر جب گاڑی جا کر انکے گھر رکی تو میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئ وہ ایک عظیم الشان بنگلہ تھا جس کے باہر راہداری میں ایک وقت میں کئ گاڑیاں کھڑی تھیں۔۔۔۔ مطلب میرے ددھیال والے اتنے امیر تھے۔۔۔۔ وہاں اس گھر میں مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔۔۔۔ مجھے یوں وی آئی پی پروٹوکول دیا گیا جیسے میں کہیں کی منسٹر ہوں۔۔۔ چاچا کے دو بچے ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔۔۔۔ چاچا کی بیٹی ردا سے تو میری کافی اچھی دوستی بھی ہو گئ ہے۔۔۔ چاچی بھی بہت اچھی ہیں۔۔۔۔
آج چاچا میرے پاس کچھ پیپرز سائن کروانے کے لئے لائے تھے۔۔۔۔ دراصل وہ بہت پشیماں تھے کہ وہ ابو کے حوالے سے بہت غافل رہے ۔۔۔ ابو کے مرضی سے شادی کرنے پر دادا نے انہیں جائیداد سے عاق کر دیا تھا۔۔۔۔ پر اب چاچا چاہتے تھے کہ مجھے میرا جائزہ حق ملے۔۔۔۔ اس لئے وہ مجھے قانونی طور پر اڈاپٹ کر رہے تھے اور اسی چیز کے بارے میں مجھ سے کچھ پیپرز سائن کروا رہے تھے۔۔۔۔ مجھے اپنی ولدیت تبدیل ہونے پر اعتراض تھا۔۔۔۔ پر چاچا کے پاس ہر بات کی دلیل موجود تھی۔۔۔۔ بیٹا یہ سب صرف کاغذوں تک ہی محدود رہے گا۔۔۔۔ پر اس کے بغیر میں تمہیں تمہارا جائز حق نہیں دے سکتا۔۔۔۔ چاچا میرے اعتراض کرنے پر مجھے سمجھانے لگے تھے۔۔۔۔ میرے بھائی کے بارے میں بہت بوجھ ہے میرے دل پر ۔۔۔۔ تمہیں تمہارا جائز حق دینے سے میری روح کو قرار آ جائے گا۔۔۔۔ بولتے بولتے انکی آواز رندھ گئ تھی اور یہیں پر میں ہار گئ تھی۔۔۔۔ اور بلآخر کچھ دنوں کی تگ و دود کے بعد آج میں آفیشلی اپنے چاچا کی بیٹی بن گئ ہوں۔۔۔۔۔
( جاری ہے)
