Be Dard Piya By Umme Hania Readelle50176 Episode 22
No Download Link
Rate this Novel
Episode 22
ارے آپکے ایئر رنگز تو بہت یونیق ہیں میم کیا میں انہیں دیکھ سکتی ہوں۔۔۔۔ وردہ نے اپنے سامنے پوری طمطراق سے بیٹھی اپنے قیمتی موبائل کی ٹچ اسکرین پر انگلی پھیرتی اس گوری کو دیکھ کر ششتہ انگریزی میں کہا۔۔۔۔ شیور۔۔۔ دراصل یہ میرے بہت اہم ہے یہ مجھے میرے فیانسے نے گفٹ کئے تھے۔۔۔ اور اسے میں اپنا لکی چیمپ مانتی ہوں اسی لئے ہر اہم موقع پر اسے پہن کر جاتی ہوں جینیفر نے اپنے ڈائمنڈ ایئر رنگز اتار کر وردہ کو تھمائے۔۔۔۔ سو نائس۔۔۔۔ وردہ نے اسے الٹ پلٹ کر دیکھا اور اسے واپس کر دیئے۔۔۔ عیں اسی وقت ندا چائے کی ٹرالی گھسیٹی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی اور سب کو اکھٹا سلام کرتے ہوئے ان دونوں کو چائے سرو کرنے لگی۔۔۔۔ اسے دیکھ کر جینیفر نے ایئر رنگز پہننے کی بجائے وہیں ٹیبل پر رکھے اور چائے پینے لگی۔۔۔۔ چائے پیش کر کے ندا وہاں رکی نہیں بلکہ جیسے آئی تھی ویسے ہی واپس پلٹ گئ۔۔۔۔ واو ریئلی ایشین بیوٹی۔۔۔ جینیفر نے ندا کو دیکھ کر تبصرہ کیا تھا۔۔۔۔
ٹھاہ کی زوردار آواز سے دروازہ بند ہونے پر دادی دہلتی ہوئی دل پر ہاتھ رکھے ہوئے ہانپتی کانپتی صحن میں آئی تھی۔۔۔۔ سامنے ہی غصے سے لال بھبھوکا چہرا لئے حجاب کھڑی تھی۔۔۔۔ اس نے غالباً اکیدمی سے آج چھٹی کی تھی۔۔۔۔ اور یونیورسٹی سے سیدھی گھر ہی آئی تھی۔۔۔۔ دادی کو دیکھ کر وہ انہیں نظر انداز کرتی آگے بڑھی اور اپنے ہینڈ بیگ اور فائلز کو بے دردی سے برآمدے میں بچھے تخت پر پھینکا نوچ کر خود پر سے چادر اتاری اور جھٹکے سے فریج کا دروازہ کھول کر ٹھنڈے پانی کی بوتل نکالی اور گلاس کا تکلف کرے بغیر وہیں کھڑی ہو کر غٹاغٹ پانی پینے لگی یہ اسکی شدید تریں ناراضگی کی علامت تھی۔۔۔ کچھ فاصلے پر کھڑی دادی خاموشی سے یہ ساری کاوائی ملاخطہ فرما رہی تھی۔۔۔۔ پانی پی کر اسنے پانی کی بوتل فریج میں پٹخی اور تن فن کرتی شاور لینے واش روم میں گھس گئ ۔۔۔۔۔ اسکے جانے کے بعد دادی نے ایک گہرا سانس خارج کیا اور کمرے سے اپنا موبائل اٹھا کر ایک نمبر ملانے لگی۔۔۔۔۔
بھائی آپکے لئے کھانا لاوں۔۔۔ آج احد یونیورسٹی سے جلدی گھر آ گیا تھا اور اس وقت اپنے گھر کے لاوئنج میں صوفے سے ٹیک لگائے ٹانگیں سامنے موجود گلاس ٹیبل پر رکھے گود میں موجود لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کرنے میں مصروف تھا جب شزا نے آ کر اس سے پوچھا۔۔۔۔۔ ارے نہیں گڑیا ابھی مجھے ایک بہت ضروری میٹنگ کے لئے نکلنا ہے کھانا وہیں کھالوں گا میں۔۔۔ تم ایک کام کرو مینگو شیک لے آو۔۔۔۔ وہ مصروف سے انداز میں لیپ ٹاپ پر ٹائپ کرتا ہوا بولا ۔۔۔۔ جی بھائی۔۔۔۔۔ وہ اپنے کام میں بری طرح غرق تھا جب اسکے موبائل کی گھنٹی نے اسکا ارتکاز ٹورا۔۔۔۔۔۔ نمبر دیکھ کر اسنے ایک منٹ کی بھی دیر کئے بغیر کال اٹھائی۔۔۔ جی اسلام و علیکم دادی کیسی ہیں آپ احد بات کرتا ہوا لاوئج سے نکل کر بالکونی میں آ گیا تھا۔۔۔۔ شکر اللہ کا بیٹا تم سناو یونیورسٹی میں تمہارے اور حجاب کے درمیان کوئی بات ہوئی ہے کیا۔۔۔۔ دادی محتاط سے لہجے میں پوچھ رہی تھی۔۔۔۔ دادی کی بات پر حجاب کا غصے سے لال بھبھوکا چہرا احد کے تخیل کے پردے پر لہرایا۔۔۔۔ خیریت دادو آپ یہ کیوں پوچھ رہی ہیں۔۔۔۔ بیٹا وہ آج اکیڈمی بھی نہیں گئ اور جب سے وہ گھر آئی ہے اسکے مزاج ہی نہیں مل رہے۔۔۔۔ دادی کی بات سن کر احد نے ایک گہری سانس خارج کی اور دادی کو آج کا واقعہ من و عن سنا ڈالا۔۔۔۔ احد کی بات سن کر دادی سر پکڑ کر بیٹھ گئ۔۔۔۔ ۔۔۔ دیکھو احد بیٹا وہ پاگل ہے نادان ہے اسے ابھی اتنی سمجھ نہیں وہ ابھی اپنا اچھا برا نہیں جانتی تم خدارا اسکی باتوں کو دل پر نہ لینا۔۔۔۔ بولتے بولتے دادی کی آواز نم ہونے لگی تھی۔۔۔۔ ارے دادی آپ فکر کیوں کر رہی ہیں۔۔۔ اچھا ہوا کہ آپ نے کل ہی مجھے فون کر کے ساری بات کلئیر کر دی تھی ورنہ شائید آج کوئی غلط فہمی پیدا ہو جاتی۔۔۔۔ اور بالکل بھی پریشان مت ہوں آپ اس شادی کے حوالے سے اسکے جو بھی تحفظات ہیں وہ میں ایک ایک کر کے دور کر دوں گا۔۔۔۔ بس بیٹا اب تو تم ہی سے امید ہے۔۔۔۔ اسی لئے میں جلد از جلد اسکا نکاح کرنا چاہتی ہوں کہ اس کے دماغ سے شادی نہ کرنے کا فتور تو اترے۔۔۔۔ آپکو امید ہے دادی کہ وہ نکاح میں کوئی ہنگامہ نہیں کرے گئ۔۔۔۔ یہ بات تم مجھ پر چھوڑ دو اسے کیسے راضی کرنا ہے یہ میں جانتی ہوں۔۔۔۔ جی بہتر دادی۔۔۔۔
ارے آئیے جینفر میم میں آپکو آپکا روم دیکھا دوں آپ کچھ دیر ریسٹ کر لیں۔۔۔۔ شیور۔۔۔۔ وردہ کے کہنے پر جینیفر اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی سکرٹ سمبھالتی اپنے بالوں کو ایک ادا سے پیچھے کرتی کھڑی ہوئی۔۔۔ کھڑے ہوتے ہی اسنے سامنے پڑے گلاس ٹیبل سے اپنی ہیٹ اٹھا کر اپنے سر پر رکھی اپنا موبائل اٹھایا اور اب وہ جھک کر اپنے ائیر رنگز اٹھانے والی تھی۔۔۔۔ لیکن یہ کیا وہاں تو کوئی ایئر رنگ موجود ہی نہ تھا۔۔۔۔ میرے ایئر رنگز کہاں ہے اسنے اپنی زبان یعنی شستہ انگریزی میں ماتھے پر بل ڈالے تنک کر کہا۔۔۔۔۔ جی اسکی بات سن کر وردہ بھی یکدم گھبرا گئ۔۔۔۔ میں نے تو آپکو اسی وقت دے دیئے تھے وردہ نے بوکھلاتے ہوئے اپنی صفائی دی۔۔۔۔ ہاں پکڑائے تھے پر میں نے یہیں رکھے تھے۔۔۔ پھر وہ ایسے کیسے کہیں جا سکتے ہیں۔۔۔۔ آپ اپنے مہمانوں کو یہ پروٹوکول دیتے ہیں کیا۔۔۔۔ جینیفر کا غصہ ساتویں آسمان کو چھو رہا تھا اور وہ بول نہیں پھنکار رہی تھی۔۔۔۔ ارے کول ڈاوں میم۔۔۔۔۔۔ آپکے ایئر رنگز ابھی مل جائیں گے۔۔۔۔ جینیفر کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہی وردہ نے چینخ چینخ کر سارا گھر سر پر اکھٹا کر لیا تھا۔۔۔۔ آنٹی۔۔۔۔ بھابھی۔۔۔۔ کہاں ہیں آپ۔۔۔۔ اس کی گرجدار آواز پر امی اور بھابی تو کیا سارے ملازمیں بھی تھر تھر کانپتے ہاتھ باندھے وہاں آ موجود ہوئے تھے۔۔۔ سوائے ندا کے جو کہ اتنے ہنگامے کے باوجود بھی اپنے کمرے سے نہ نکلی تھی۔۔۔۔ آنٹی بھابھی۔۔۔۔ ابھی ابھی یہاں سے جینیفر میم کے ایئر رنگز چوری ہوئے ہیں۔۔۔ یہ ہماری بہت قابل احترام مہمان ہیں۔۔۔ میری موجودگی میں اگر ان کیساتھ ایسی اوچھی حرکت ہو جائے تو پھر لعنت ہے میری یہاں موجودگئ پر۔۔۔۔ ہمارے یہاں پر آ کر بیٹھنے کے بعد یہاں پر جو جو بھی آیا ہے اسکے ساماں اسکے کمرے اور خود اسکی تلاشی لی جائے گئ ابھی وردہ غصے میں بولتے ہویے حکم جاری کر رہی تھی۔۔۔۔ اس لے کہنے کی دیر تھی اور گھر میں ایمرجنسی نافذ ہو گئ تھی۔۔۔۔ سب ملازموں کو قطار میں ایک طرف کھڑا کر دیا گیا تھا۔۔۔۔ ویاں اس کمرے میں وردہ اور جینیفر کی موجودگی میں صفائی والی اور چائے والی ملازمہ ہی آئی تھی ان دونوں کی رہائش گاہ اور باقاعدہ سامان کی اچھی طرح تلاشی لئ گئ۔۔۔۔ وہ دونوں وہیں کھڑی تھرتھر کانپتی ہوئی ہاتھ جورے روتے ہوئے اپنی بے گناہی کی گواہی دے رہی تھی۔۔۔۔ ان دونوں کے سامان سے انہیں کچھ نہیں ملا تھا۔۔۔۔۔ ارے اس گھر کی نئ دلہن مس ندا بھی تو وہاں چائے سرو کرنے آئی تھی چلیں اسکی بھی تلاشی لے ہی لیتے ہیں۔۔۔۔ وردہ حقارت سے کہتے ہوئے اسکے کمرے کی طرچ چل پڑی۔۔۔۔ ان لوگوں کے ندا کے کمرے کیطرف جاتے پی ملازمیں کی قطار میں ہاتھ باندھے کھڑی خالہ بی نے موقع دیکھتے ہی مصطفی کو فون کیا اور اسے جلد از جلد گھر واپس آنے کو کہا۔۔۔ کیونکہ انہیں اس سارے عمل سے سازش اور خطرے کی بو آ رہی تھی۔۔۔۔
ندا اپنے کمرے میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی کچھ کر رہی تھی جب دروازے کے پاس اسے قدموں کی آہٹ سنائی دی ساتھ ہی کسی نے دروازے کے ہینڈل پر دباو ڈال کر اسے کھولنے کی کوشش کی ندا نے جلدی سے ہاتھ میں موجود چیز کو ڈریسنگ ٹیبل کے دائیں جانب دھلیکا جو کہ ڈریسنگ ٹیبل کر عین نیچے موجود ایک بلیک کیس میں جا کر گری اور اس چیز کے کیس میں گرتے ہی یکدم ایک کلک کیساتھ اس کیس کا ڈھکن اس کیس پر گرا اور لاک ہو گیا۔۔۔
عیں اسی وقت سب سے پہلے وردہ اور پھر جینیفر بھابھی اور مصطفی کی امی اس کمرے میں داخل ہوئیں۔۔۔۔ وردہ اور بھابھی ئے کمرے میں آتے ہی اسے نظرانداز کئے کمرے کی تلاشی شروع کر دی۔۔۔۔ ندا ہونق بنی کمرے کے وسط میں کھڑی خود کو بہت بے بس محسوس کر رہی تھی۔۔۔ کچھ ہی پلوں میں کمرا میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا۔۔۔۔ کہیں یہ تو نہیں وہ ایئر رنگ۔۔۔ بھابھی نے پورے کمرے کی تلاشی لینے کے بعد ایک طرف سے میٹرس اٹھایا تو نیچے ایک ایئررنگ پڑا جگمگا رہا تھا۔۔۔۔ ہاں یہ ہی ہے اور دوسرا۔۔۔۔ جینیفر نے بھاگ کر جا کر ایئررنگ پکڑا۔۔۔۔ دوسرا تو ادھر نہیں۔۔۔۔ بھابھی نے کندھے اچکائے۔۔۔۔۔۔ بھابھی کے کہنے کی دیر تھی کہ وردہ ندا پر پل پڑی۔۔۔۔ ابھی تو اسکے بہت سے حساب نکلتے تھے اس لڑکی کی طرف قسمت نے اسے موقع دیا تھا تو وہ کیوں دل کی تسکین حاصل نہ کرتی۔۔
۔۔ بے حیا بے غیرت عورت اس نے ایک جھٹکے سے ندا کے بال اپنے ہاتھوں میں جھکڑے تھے۔۔۔۔ ( یہ وہ بال ہیں نہ جس نے مصطفی کو اپنا اسیر بنایا ہوا ہے ) اس نے ندا کے بالوں کو کئ جھٹکے دیئے کہ جیسے انہیں جڑ سے اکھیڑنے کا ارادہ ہو۔۔۔۔ ( یہ ہی وہ چہرا ہے نہ جسکے سامنے مصطفی کو کچھ دیکھائی نہیں دیتا جسکی وجہ سے اسنے سارے خاندان کی مخالفت مول لے کر تمہاری سزا ختم کی) وردہ پے در پے تھپڑ اسکے چہرے پر رسید کرنے کے بعد اب بڑی مہارت سے اپنے خوبصورت تراشیدہ ناخنوں سے ندا کے چہرے کا حشر کر رہی تھی۔۔۔۔ ندا کی چینخوں سے حویلی کے درودیوار لرز رہے تھے۔۔۔۔ پر وردہ پر اثر نہ تھا۔۔۔۔ اس پر جنونیت طاری تھی وہ اب وحشیانہ ندا کے پیٹ پر ٹانگیں رسید کر رہی تھی۔۔۔۔ ندا کی آنکھیں ابل کر باہر آنے والی تھی وہ درد سے کراہتی دوہری ہوتی اپنے دفاع میں کچھ بھی نہ کر پا رہی تھی۔۔۔۔ اتنے میں جینیفر کے ساتھ آئے دونوں گورے مائیکل اور ہیکل دونوں بھی وہاں آ گئے تھے انہیں جینیفر نے فون پر ساری بات بتا کر یہاں آنے کو کہا تھا۔۔۔۔ یہ لڑکی ایسے نہیں بولے گی کہ دوسرا ایئر رنگ کہاں ہے میں پولیس کو فون کر چکا ہوں وہ آتی ہی ہوگئ وہ آ کر اس سے دریافت کرے گئ۔۔۔۔ مائیکل نے حقارت سے ندا کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔ عین اسی وقت مصطفی کی گاڑی حویلی آ کر رکی تھی۔۔۔۔ ندا کی دل دہلوز اور دلخراش چینخیں سن کر وہ دیوانہ وار اسکے کمرے کیطرف بھاگا تھا۔۔۔۔ سامنے کا منظر اسکے قدموں تلے سے زمیں نکالنے کو کافی تھا ندا کی حالت دیکھ کر مصطفی کی آنکھوں میں شرارے بھر گئے اس نے بھاگ کر جا کر بنا کسی کی پروا کئے درد سے بلبلا کر زمین بوس ہوتی اس لڑکی کو کسی متاع جان کی طرح اپنی بانہوں میں سمیٹا اور سینے سے لگا لیا۔۔۔۔ یہ لڑکی ایک نمبر کی چور۔۔۔۔ یہ منظر وردہ کے دل پر آڑے چلانے کو کافی تھا۔۔۔۔ اس لئے وہ ایک بار پھر سے اپنے دل کی بھراس نکالنے کے لئے آگے آئی۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ مصطفی کی مضبوط پناہوں کے حصار میں قید ندا تک پہنچتی مصطفی نے پورے زور سے اپنے ایک ہاتھ سے اسے ندا سے دور دھکیلا۔۔۔۔ وہ لڑکھڑاتی ہوئی دیوار سے جا لگی۔۔۔۔ وہ بے یقینی سے مصطفی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ ندا چور ہے یا نہیں اس کا فیصلہ کرنے کا حق تمہیں کس نے دیا۔۔۔۔ وہ رکھائی سے اتنا گرج کر بولا کہ وردہ کی تو سٹی گم ہو گئ۔۔۔۔ تبھی اسے حویلی کے باہر پولیس سائرن سنلائی دیئے وہ تعداد میں کوئی ایک دو نہیں بلکہ زیادہ گاڑیاں تھیں جو کہ غیر ملکی گروہ کو تحفظ فراہم کرنے آئیں تھیں۔۔۔۔ تب سے پہلی بار مصطفی کو معلاملے کی گھمبیرتا کا احساس ہوا۔۔۔۔۔۔
(جاری ہے)
