64.9K
56

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 37

یہ کیسی نفرت ہے میرے مولا جو کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی۔۔۔۔ مصطفی کی ماں اور بھابھی کو نجانے کیا بیڑ ہے مجھ سے جو وہ آتے جاتے مجھ پر طنز کے تیر چلانے سے باز نہیں آتیں۔۔۔۔ جانے وہ کونسی آگ ہے جس میں مجھے جلا کر خاکستر کر کے انہیں سکون ملتا ہے۔۔۔۔ مانا کہ انہوں نے بیٹا کھویا ہے انکا دکھ بہت بڑا ہے۔۔۔۔ پر بیٹا تو میں نے بھی کھویا ہے۔۔۔۔ دکھ تو میرا بھی اتنا ہی ہے پھر بھلا ایسے میں کونسی ونی کی رسم رہ جاتی ہے۔۔۔۔ کہتے ہیں کہ مرنے والوں پر صبر آ جاتا ہے لیکن جو زندہ بچھڑ جائے ان پر صبر نہیں آتا۔۔۔۔ پھر کس کا دکھ زیادہ ہوا میرا یا مصطفی کی ماں کا پر پھر وہ کیوں یہ بات نہیں سمجھتی میرے دکھی دل کو کیوں زخمی کرتی ہیں۔۔۔۔
میری طبیعت اب بہت خراب رہنے لگی ہے۔۔۔۔
دائیں سائیڈ پر گردے کی جگہ پر ناقابل برداشت درد اٹھتا ہے۔۔۔۔
پہلے پہل یہ درد کم ہوتا تھا تو خالہ مجھے کوئی نہ کوئی درد کی گولی دے دیتں اور آفاقہ ہو جاتا۔۔۔ پر اب تو کوئی دوائی بھی اثر نہیں کرتی پتہ نہیں خدا کو کیا منظور ہے۔۔۔۔۔۔


ندا خالہ۔۔۔۔۔ یہ دیکھیں میں کسے لائی ہوں۔۔۔۔ میری طبیعت آج بھی بہت خراب تھی اس لئے جلدی جلدی اپنے کام نپٹا رہی تھی پر خالہ بی نے مجھے میری طبیعت کے پیش نظر کمرے میں بھیج دیا۔۔۔۔۔ میں کمرے میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے سر گھٹنوں میں چھپائے بیٹھی تھی۔۔۔ جب میں نے گڑیا کی آواز پر سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔ ندا خالہ آپ کا بیٹا۔۔۔۔۔ وہ ایک ننھے سے بچے کو اپنی گود میں اٹھائے میرے سامنے دوزانو بیٹھ گئ۔۔۔۔ گڑیا میرا بیٹا۔ میری نظر اس روئی کے گالے سے ہٹنے کو تیار ہی نہ تھی۔۔۔۔ میں نے ایک بار پھر سے گڑیا سے کنفرم کیا۔۔۔ اور اسکے ہان میں سر ہلانے پر میں اپنا ضبط کھو بیٹھی۔۔۔۔ کہاں سوچا تھا میں نے کہ میں کبھی اپنے بیٹے کو دیکھ پاوں گئ۔۔۔۔ پر وہ اللہ ہے نہ۔۔۔ میں اس سے اپنے بچے کو لے کر دیوانہ وار چوم رہی تھی کبھی اسکے روئی کے گالوں جیسے رخسار کبھی اسکے ننھے ننھے ہاتھ تو کبھی اسکی چمکدار معصومیت بھری آنکھیں۔۔۔۔ ایک روحانی سکون تھا جو مجھے اسکو گلے سے لگائے محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔ میرا بچہ۔۔۔ میری جان۔۔۔۔ میرا شہزادہ۔۔۔۔ میرے ہونٹ کپکپا رہے تھے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا تھا۔۔۔۔ ندا خالہ اب اسے مجھے دے دیں میں اسے واپس چھوڑ آوں۔۔۔ ناجانے کتنا عرصہ گزر گیا تھا مجھے یوں بے خودی کے عالم میں جب گڑیا نے مجھے ہلا کر اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔۔ نہیں گڑیا میں اسے واپس نہیں دوں گئ۔۔۔ کسی کو بھی نہیں۔۔۔۔ گڑیا کی بات سن کر میرے دل پر جیسے نشتر چل گئے تھے۔۔۔ بلبلا ہی تو اٹھی تھی میں۔۔۔ میں اپنی کل کائنات کو اپنی بازوں میں سمیٹ کر خود سے لگائے پیچھے کو کھسکتی جا رہی تھی ۔۔۔ نہیں ندا خالہ ایسا مت کہیں پلیز اسے مجھے واپس دے دیں۔۔۔۔ اسکی میڈ فون پر بات کر رہی تھی اور یہ رونے لگا تھا اس لئے میں اسے وہاں سے اٹھا لائی۔۔۔ اب تو کافی دیر ہو گئ ہے اگر ان لوگوں پتہ لگ گیا کہ میں اسے یہاں آپکے پاس لے کر آئی ہوں تو وہ تو میرا حشر کر دیں گے۔۔۔۔گڑیا میرے سامنے منت کر رہی تھی۔۔۔۔ جبکہ مجھے اس وقت سوائے اپنی متاع جان کے کسی کی بھی پرواہ نہ تھی۔۔۔ دور رہو مجھ سے میں اسے کسی کو نہیں دوں گئ۔۔۔ میں نے اسکا ہاتھ بری طرح جھٹکا تھا۔۔۔۔ وہ کچھ دیر وہیں کھڑی رہی پھر کچھ سوچتی ہوئی باہر چلے گئ۔۔۔
اور میں اسکے جانے کے بعد یہ سوچ رہی تھی کہ۔۔۔ میں اپنے شہزادے کو کہاں پر چھپ
چھپاوں جہاں سے کوئی اسے ڈھونڈ نہ سکے۔۔۔۔ کچھ دیر بعد گڑیا خالہ بی کو لے کر واپس آئی تھی اور خالہ بی نے آتے ہی مجھ سے بچہ پکڑ کر گڑیا کو پکڑایا تھا جیسے وہ ایک منٹ کی تاخیر کئے بنا لے گئ۔۔۔۔ پیچھے میں ٹرپتی بلکتی رہ گئ پر وہ واپس نہ آئی۔۔۔۔ صبر کر میرے بچے صبر۔۔۔ خدا بڑا کار ساز ہے۔۔۔۔۔ خالہ بی مجھے گلے سے لگائے دلاسے دے رہی تھی پر مجھے لگ رہا تھا کہ جیسے گڑیا جاتے ہوئے میری رح تک کو لے گئ۔۔۔۔


اپنے بچے سے مل لینے کے بعد اسکو دیکھ لینے کے بعد میرے دل کو ایک پل کے لئے بھی سکون میسر نہیں تھا۔۔۔۔ اس لئے میں سب چیزیں بلائے طاق رکھتے ہوئے خود مصطفی کی طرف بڑھی۔۔۔۔ غلظ فہمیوں کی دیواریں ہمارے بھیچ مٹتی گئیں۔۔۔۔ مصطفی نے آج مجھے معاف کر کے ونی کی رسم سے آزاد کر دیا۔۔۔۔ انہوں نے فیصلے کا اختیار مجھے دے دیا کہ جو چاہے فیصلہ لوں چاہے تو یہاں رہ لوں چاہے تو واپس چلی جاوں پر کیا واقعی فیصلے کا اختیار میرے پاس ہے۔۔۔۔
میں یہاں سے چلے جاوں تو کہاں جاوں۔۔۔۔
اس بے رحم دنیا جس میں جگہ جگہ بھیریے گھاٹ لگائے بیٹھے ہیں۔۔۔
وہاں بھلا مجھ جیسی تنہا لڑکی کیا کر سکتی ہے۔۔۔۔۔ میں بھلا کیوں اپنی محفوظ پناہ گاہ چھوڑ کر کہیں جاوں۔۔۔۔۔
مصطفی نے مجھے صبح ڈاکٹر کے پاس جانے کی اجازت دے دی ہے۔۔۔۔
میں خود اپنی ہی حالت سے بہت پریشان ہوں۔۔۔۔ کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کروں۔۔۔۔
میری تو عبادتوں میں بھی وہ شدت نہیں رہی۔۔۔ کبھی روزہ رکھ کر یاد بھول جاتا ہے اور کھانے پینے لگتی ہوں تو کبھی روزہ افطار ہونے کے کئ گھنٹے بعد تک بھی کچھ کھانا یاد نہیں رہتا۔۔۔ حد تو یہ ہے کہ اب نماز پڑھنے کے بعد یہ تک یاد بھول جاتا ہے کہ میں نماز پڑھ چکی ہوں یا نہیں۔۔۔۔۔


آج میں ڈاکٹر کے پاس گئ تھی۔۔۔۔
سمجھ نہیں آتا کہ ڈاکٹر کی بات سن کر مجھے خوش ہونا چاہیے یا افسردہ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر کہتی ہے کہ رپورٹس کے مطابق اپنی صحت سے لا پرواہی کے باعث میرا دوسرا گردہ بھی ختم ہو چکا ہے۔۔۔۔
مجھے جلد از جلد کڈنی ٹرانسپلانٹ کروانی ہوگئ۔۔۔
لیکن اگر میں یہ افورڈ نہیں کر سکتی تو دوسری صورت مجھے ڈائیلاسز کروانے ہوں گے۔۔۔۔ اور میرا پہلا ڈائیلاسز آج سے شروع ہو گا کیونکہ اس میں مزید تا خیر میرے حق میں بہتر نہیں۔۔۔۔ اسکا سیدھا سا اثر میرے دماغ پر پڑے گا۔۔۔۔ شائید اسی لئے میں اپنی میموری لوس کرتی جا رہی ہوں۔۔۔۔


آج پھر سے وردہ میرے پاس آئی تھی۔۔۔۔ جب سے اسے پتہ چلا ہے کہ فیصلے کا اختیار مصطفی نے مجھے دیا ہے وہ آئے دن آ کر مجھے دھمکاتی ہے کہ میں مصطفی کو چھوڑ کر واپس چلی جاوں یہ ہی میرے حق میں بہتر ہے۔۔۔۔ پر میں کہاں چلی جاوں۔۔۔۔ کاش یہ لوگ زندگی کے کسی موڑ پر ہی مجھے سمجھ سکتے۔۔۔۔۔ اور آج تو وہ مجھے صبح تک کا وقت دے کر گی ہے کہ اگر میں صبح تک مصطفی کی زندگی سے نہ گئ تو وہ میرا وہ حال کرے گئ کہ لوگ میرے حال سے عبرت پکڑیں گے۔۔۔۔ خدا جانے کہ وہ ایسا کیا کرنے والی ہے۔۔۔۔۔


آج صبح سے ہی میرا دل بہت گھبرا رہا ہے نجانے کیا ہونے والا ہے۔۔۔۔ آج گھر میں وردہ کے کچھ فارن مہمان آئے ہیں۔۔۔ اور وردہ کی آنکھوں کی شاطرانہ چمک اور طنزیہ مسکراہٹ مجھے کچھ غلط ہونے کا سگنل دے رہی ہے۔۔۔۔۔ آج تو مصطفی بھی گھر نہیں ہیں۔۔۔۔ اللہ جی پلیز مصطفی کو جلدی گھر بھیج دے۔۔۔۔ مجھے باہر سے وردہ کی چیخ چیخ کر ملازموں کو ڈانٹنے کی آوازیں آ رہی ہیں۔۔۔ نجانے وہ کیا کر رہی ہے یا کیا کرنے والی ہے۔۔۔۔ مجھے اپنے کمرے کی طرف لوگوں کے قدموں کی آواز سنائی دے رہی ہے۔۔۔ پت۔۔۔۔ آگے ایک لمبی لائن تھی جیسے کچھ لکھتے لکھتے اچانک سے ڈائری کھینچ لی گئ ہو یا خود ہی دائڑی کو جلدی سے کہیں پھینک دیا ہو۔۔۔۔
ود
ڈائری مصطفی کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے جا گری تھی۔۔۔۔
وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے ڈائری کو تکے جا رہا تھا ۔۔۔۔ ایے سی کی کولنگ کے باوجود اسکے ماتھے پر پسینے کے ننھے ننھے قطرے نمودار ہونے لگے تھی۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔نہیں
ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔
اتنا ظلم۔۔۔۔۔ اتنا ظلم میں کرتا رہا ایک بے گناہ پر۔۔۔۔
مصطفی اپنے دونوں ہاتھوں کو بے یقینی سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔
مجھے کئ بار اسکی آنکھوں میں معصومیت اور سچائی نظر آئی پر ہر بار میری آنکھوں پر بدلے کی پٹی چڑھتی گئ ۔۔۔۔
کیسے وہ معصوم میرے ظلم سہتی رہی۔۔۔۔
یا اللہ۔۔۔۔ کیا کیا کچھ نہیں کیا میں نے اسکے ساتھ۔۔۔۔
اپنے انہیں ہاتھوں سے۔۔۔۔
مصطفی نے اپنے دونوں ہاتھ زور سے اپنے سامنے پری ٹیبل پر مارے۔۔۔۔
ضبط سے اسکی انکھیں لال انگارا ہو چکی تھی۔۔۔ کئ مناطر اسکی آنکھوں کے سامنے سے گھوم گئے۔۔۔۔
مم مجھے بھوک لگی ہے۔۔۔ کھانے کو کچھ دے دیں پلیز۔۔۔۔ اسکے کپکپاتے ہونٹ اور لرزتی پلکیں مصطفی کی روح پر تازیانے کی طرح لگ رہی تھی۔۔۔۔
ساتھ ہی ایک اور منطر اسکی آنکھوں کیسامنے لہرایا۔۔۔۔ سوکھی ہوئی روٹی اور پتلی دال کو فرش پر پھینکتا ہوا وہ خود۔۔۔۔
مصطفی نے زور سے اپنی انکھیں میچ لیں۔۔۔۔
مصطفی پلیز مجھے معاف کردیں۔۔۔۔ خدا کے لئے میرے لئے کوئی آسان موت تجویز کر دیں۔۔۔ وہ اسکے گھٹنوں پر سر رکھے سسک اٹھی تھی۔۔۔۔
نہیں ندا۔۔۔۔ نہیں
ایک چانس۔۔۔۔ بس ایک چانس دے دو۔۔۔۔
میں سب کچھ ٹھیک کر دوں گا۔۔ تمہاری سبھی تشنگیوں کو مٹا دوں گا۔۔۔۔
تمہارے سبھی دکھوں کا مداوا کر دوں گا۔۔۔۔۔۔۔
میں تمہارا علاج کرواں گا۔۔۔ یہاں ممکن نہ ہوا تو امریکہ لے جاوں گا۔۔۔۔ وہ خود سے بڑبڑاتا ہوا بھاگ کر پارکنگ لاٹ تک پہنچا تھا۔۔۔ رات کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔۔۔۔۔
وہ صبح سے بیٹھا تھا اور اب رات کے سائے گہرے ہو رہے تھے لیکن وہ ڈائری پڑھنے میں اتنا مگن تھا کہ اسے گرد و پیش کا ہوش تک نہ رہا تھا۔۔۔۔
ڈائری پڑھنے سے پہلے تک وہ نہیں جانتا تھا کہ اس ڈائری میں کیا کیا راز دفن ہیں۔۔۔۔
صحیح کہا تھا ندا نے کہ اگر مصطفی کے گھر والوں نے بیٹا کھویا تھا تو بیٹا تو اسنے بھی کھویا تھا پھر بھلا کیسی رسم۔۔۔۔
اتنا صبر ندا اتنا صبر۔۔۔۔ یا اللہ۔۔۔ اس نے اسٹیرنگ گھماتے ہوئے کہنی کار کے دروازے پر ٹکا کر ہاتھ اپنے بالوں پر پھیرا
۔۔۔۔ ہونٹوں کو چباتا وہ ضبط کی آخری حدود میں تھا۔۔۔۔
میں تمہیں تمہارا بیٹا واپس دلواوں گا ندا۔۔۔۔ بس بہت سہہ لیا تم نے بہت صبر کر لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب مزید نہیں۔۔۔۔
تم خود پالو گئ اپنے بیٹے کو۔۔۔۔
وہ بہت ریش ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔۔۔
کئ بار اسنے راستے میں سگنل توڑے۔۔۔۔۔
اسکے جسم پر کپکی طاری تھی۔۔۔ بس وہ جلد از جلد ندا کے پاس پہنچ جانا چاہتا تھا۔۔۔۔
خواہش بس اتنی سی پے میرے مولا کہ میرے جنازے کو کندھا میرا محرم دے۔۔۔۔۔
میری میت کو لہر میں بھی میرا محرم ہی اتارے۔۔۔۔
یا رب مجھے نا محروں کے حوالے مت کرنا۔۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔ یکدم سے مصطفی کی آنکھوں کیسامنے اندھیرا چھایا تھا۔۔۔۔
یکدم ہی اسنے گاڑی کو بریک لگائی تھی۔۔۔۔
سامنے ہی حویلی کا آہنی گیٹ تھا۔۔۔۔
مصطفی نے جھٹکے سے گاڑی کا دروازہ کھولا اور بھاگتا ہوا اندر کی طرف گیا۔۔۔۔


پھر کیا سوچا تم نے ارحمہ۔۔۔۔ ایک بار پھر سے وہ شخص اسے فون پر کائل کرنے کی کوشش میں ہلکان تھا۔۔۔۔۔
ارحمہ گم صم سی چھت کی مندیر سے ٹیک لگائے فون کان کو لگائے آسمانوں کی وسعتوں پر پرواز کرتے پرندوں کو واپس اپنے گھروں کو لوٹتے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
کل رات جو پکس ارسلا ارسلان کی بہن نے ارحمہ کو سینڈ کی تھیں انہیں دیکھ کر ارحمہ کی سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحیتں مفلوج ہو گئیں تھیں۔۔۔۔
تم نے ایسا کیوں کیا ارسلان۔۔۔۔۔۔
کوئی اپنی زندگی کے ساتھ ایسا بھی کرتا ہے۔۔۔۔۔۔
کیا فائدہ ایسی زندگی کا۔۔۔۔۔ جس میں محبت پاس نہ ہو۔۔۔۔۔۔
وعدہ کرو ارسلان کہ دوبارہ کبھی ایسی حرکت نہ کرو گئے۔۔۔۔۔
خود کشی تو بزدلوں کا شیوا ہے۔۔۔۔
ارحمہ دکھ سے بول رہی تھی۔۔۔۔۔
اگر اس زندگی میں تم پاس ہوئی تو وعدہ کبھی ایسی حرکت نہیں کروں گا۔۔۔۔۔
اسکی اواز میں حسرتیں بول رہی تھیں۔۔۔۔
ارحمہ نے ایک پل کو آنکھیں بند کر کے سوچا۔۔۔۔۔
آگے ایک پر آسائش زندگی اسکی منتظر تھی۔۔۔۔
بالکل ایسی زندگی جس کے اسنے خواب دیکھے تھے۔۔۔۔۔
ایک پل لگا تھا اسے فیصلہ کرنے میں ۔۔۔۔۔
چار دن کی محبت پر وہ زندگی کی انمول تریں محبت کو قربان کرنے کا فیصلہ کر چکی تھی۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔