64.9K
56

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

اور اسکی باتوں کو سنا ان سنا کرتی باہر نکل گئ۔۔۔۔


آج سارا دن ہی وہ بہت مضطرب رہا تھا۔۔۔۔ بار بار اسکی خالی ویران آنکھیں اسکے تخیل کے پردے پر لہرا کر اسے احساس جرم میں مبتلا کر جاتی تھیں۔۔۔۔۔ تھک ہار کر اس نے کلب کا رخ کیا تھا جہاں جانے کے بعد وہ شراب اور شباب کے نشے میں کھو کر اپنا ہر دکھ ہر غم بھول جاتا تھا۔۔۔۔ پر آج تو اسکی بے سکونی یہاں آ کر بھی ختم نہیں ہوئی تھی وہ بے زار سا ایک سائیڈ پر پڑی کرسیوں پر بیٹھا ڈانسنگ فلور پر تھرکتے نیم برہنہ بدنوں کو دیکھنے لگا۔۔۔۔ ہائے شاہان ۔۔۔۔ ایک منی سکرٹ اور شارٹ شرٹ میں ملبوس لڑکی نے آکر اس پر جھک کر باری باری اسکے دونوں گال چومے۔۔۔۔
لٹس کم وڈ می فور آ ڈانس۔۔ وہ وہیں اس کے ساتھ جڑ کر بیٹھ کر ایک ادا سے اسکے چہرے پر انگلیاں چلانے لگی۔۔۔۔۔ نو۔۔۔۔ آج موڈ نہیں ہے۔۔۔۔ تم کوئی دوسرا پارٹنر دھونڈ لو۔۔۔۔ شاہان نے بیزاری سے کہا۔۔۔ اوکے سویٹ ہارٹ وہ لڑکی اسے آنکھ مارتے ایک بار پھر سے اسکی گال کا بوسہ لیتے ہوئے لڑکھراتے قدموں سے ڈانسنگ فلور کی طرف بڑھ گئ۔۔۔۔۔ شاہان اسے ہی دیکھ رہا تھا جب اسکے فون کی بیل نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔۔۔۔ سکریں پر چمکتے نام کو دیکھ کر وہ کھل کر مسکرایا۔۔۔۔ اور سناو کیسی چل رہی پاڑتی۔۔۔۔ وہ بہت فریش اواز میں بول رہا تھا جب آگے سے آنے والی آواز سن کر ایک پل کو ٹھٹھکا۔۔۔۔ یار ادھر ہمارا بھرتہ بنا پڑا ہے اور تجھے پاڑتی کی سوجھ رہی ہے۔۔۔۔ ایئر پیس سے غصے سے جھنجھلائی آواز برآمد ہوئی۔۔۔۔ کیا مطلب میں کچھ سمجھا نہیں۔۔۔۔ کس چیز کا بدلہ لیا ہے تو نے ہم سے شاہان۔۔۔۔ کون تھی وہ کل والی چالاک لومڑی۔۔۔۔ اسے تمہاری لیکچرار نہیں سیکریٹ ایجنٹ ہونا چاہیے تھا۔۔۔۔ وہ لومڑی اتنی کریٹیکل سچویشن میں بھی اسنے کمال ہوشیاری سے ہماری ویڈیو بنا لی اور اب پورے ملک کے سامنے اپنی مظلومیت کا رونہ رو کر انصاف مانگ رہی ہے۔۔۔۔ اور ویسی ہی جذباتئ گھٹیا عوام مارنے مرانے پر تلی ہوئی ہے۔۔۔۔ اوپر سے ہماری ہی کلاس کے چھپے ہوئے بلیک شیپ اس معاملے کو اور ہوا دے رہے ہیں۔۔۔۔ انہیں میں سے ایک نے اپروچ کروا کر ویڈیو میڈیا تک پہنچا دی ہے۔۔۔۔۔ اور ہم صدا کے بے وقوف اس لڑکی کو ہر مڈل کلاس دبو سی لڑکی کی طرح سمجھ کر بغیر ماسک پہنے اسے ہراس کرنے چلے گئے اور ہماری یہ ہی غلطی ہمارا بیرا تباہ کر رہی ہے ہر کوئی ہمیں لعنت ملامت کر رہا۔۔۔۔ اور بات بڑھ صرف ہمارے ڈیڈز کے عہدوں کی وجہ سے رہی ہے۔۔ ( ان میں سے ایک کا باپ ایک نامور سیاست دان تھا اور دوسرے کا ششن کورٹ کا جج) اور اب لوگ یہ ہی بات کہہ کر اس معاملے کو زیادہ ہوا دے رہے تھے۔۔۔۔ کہ جب انصاف کے ایوانوں پر بیٹھے منصب کے گھروں سے ہی ایسی حرکتیں ہوں گئ تو پھر تو ہم انصاف کی توقع ہی چھوڑ دیں۔۔۔۔۔۔ وہ لڑکا نان سٹاپ مشین کی طرح بولی جا رہا تھا۔۔۔۔ جبکہ اسکی باتیں سن کر شاہان کا قہقہ فضا میں بلند ہوا۔۔۔۔۔ واٹ۔۔۔۔ تم ہس رہے ہو شاہان ہم اس مشکل میں تمہاری وجہ سے پھنسے ہیں اور تو اتنا ریلیکس ہے۔۔۔۔ تجھے پتہ ہے کہ الیکشن سر پر ہے اور عوام ڈیڈ کے خلاف جا رہی ہے اس وقت تو میرا سگا باپ ہی میرا جانی دشمن بنا ہوا ہے اسکا بس چلے تو مجھے زندہ درگو ہی کردے۔۔۔۔۔ اوپر سے وہ چالاک لومڑی سب کو کہہ رہی ہے کہ میرے پچاس ہزار چھینے گئے حالانکہ کہ بیگ میں صرف سینتیس ہزار تھے۔۔۔۔ اسکی باتوں پر ایک بار پھر سے شاہان کا قہقہ بلند ہوا جیسے وہ اس گفتگو سے بہت لطف اٹھا ر اٹھا رہا ہو۔۔۔۔ مرو تم شاہان۔۔۔۔ وہ لڑکا بھنا کر بولا۔۔۔۔ ریلیکس یار میں پہلے وہ ویڈیو دیکھتا ہوں پھر کچھ حل نکالتا ہوں۔۔۔ شاہان کچھ سوچتے ہوئے بولا۔۔۔۔ دیکھ لے یار فیس بک واٹس ایپ ٹویٹر بلکہ ہر نیوز چینل پر بھی صرف وہی ویڈیو ہے۔۔۔ اچھا ٹھیک ہے دیکھتا ہوں۔۔۔۔
شاہان فون بند کر کے موبائل سے وہ ویڈیو سرچ کر کے دیکھنے لگا۔۔۔۔ جیسے جیسے وہ ویڈیو اور کیپشن پڑھ رہا تھا اسکے چہرے کی مسکراہٹ گہری ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ آہ مس ہادیہ آپ تو میری سوچ سے بھی بہت آگے کی چیز ہیں۔۔۔ ہر بار مجھے منہ کے بل گرا کر جاتی ہیں۔۔۔۔ پر اب تو لگتا ہے کہ آپکی شاگردی میں آنا ہی پڑے گا۔۔۔۔ وہ مسکراتا ہوا خود سے ہی مخاطب تھا۔۔۔۔۔۔


صبح فجر کی اذانوں کیساتھ ہی اس کی آنکھ کھل گئ تھی اور نیند سے ابھرتے ہی رات کے تمام مناظر اسکی نگاہوں کے سامنے گھوم گئے تھے۔۔۔۔ اس نے بے ساختہ ہی ادھر ادھر ندا کی تلاش میں نگاہیں گھمائیں پر وہ شائید کمرے میں نہیں تھی۔۔۔۔ اور یہ بات مصطفی کے حق میں بہت بہتر تھی کیونکہ وہ اس وقت کسی بھی صورت ندا کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔ اسے رہ رہ کر اپنی رات کی بے خودی پر تاو آ رہا تھا کہ کیوں وہ اتنا بے خود ہو گیا تھا کہ اپنے ہوش و حواس ہی کھو بیٹھا تھا۔۔۔۔ کیا سوچتی ہو گئ ندا اسکے بارے میں کہ ایک طرف تو وہ اسکی ذات کو اتنی بری طرح دھتکارتا ہے اور دوسری طرف خود اسی کے وجود سے سکون تلاشتہ ہے۔۔۔۔ اس نے غصے سے کئ ایک مکے زور زور سے دیوار پر برسا کر اپنی اندر کی کھولن کم کرنا چاہی۔۔۔۔ یہ بھی بہتر تھا کہ ابھی تھوڑی دیر بعد اسکی فلائیٹ تھی کیونکہ وہ ابھی کسی بھی صورت اس لڑکی کا سامنا کرنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔ یہ ہی سوچ کر کچھ مطمعیں ہوتا وہ اپنا سامان چیک کرنے لگا۔۔۔۔۔۔


الو کے پٹھے یہ دن دیکھنے کے لئے میں نے تمہیں اس قدر آزادی دی تھی۔۔۔۔ الیکشن سر پر ہے اور تم لوگوں کی وجہ سے عوام میرے خلاف جا رہی ہے۔۔۔۔ ناک میں دم کر رکھا ہے ان ٹکے ٹکے کے رپوٹروں نے۔۔۔۔ وحید صاحب لاونج میں ہاتھ پیچھے کمر پر باندھے ادھر سے ادھر چکر کاٹتے غیض و غضب کی تصویر بنے ان تینوں پر ڈھار رہے تھے جو کہ ایک سائیڈ پر سر جھکائے کھڑے تھے۔۔۔۔
ہم عام عوام انصاف کی اپیل کہاں کریں گے جب ششن جج وجدان اختر کا بیٹا خود ایسی حرکتیں کرئے گا۔۔۔۔ اب عوام دیکھنا یہ چاہتی ہے کہ وجدان اختر کیا ہمیشہ کی طرح اب بھی انصاف کر پاتے ہیں وہ بھلا اس بار اپنے بیٹے کی اس حرکت پر کیا فیصلہ کرتے ہیں۔۔۔ عوام انکے فیصلے کی منتظر ہے۔۔۔۔ چرب زبانی سے بولتی وہ اینکر اس وقت وجدان اختر کے بارے میں زہر گھول رہی تھی۔۔۔۔ سامنے لاوئنج کے صوفے پر بیٹھے وجدان صاحب کی گرفت ہاتھ میں موجود گلاس پر مزید سخت ہوئی تھی اور انہوں نے انتہائی طیش کے عالم میں کھڑے ہو کر وہ گلاس سامنے دیوار پر نصب ایل ای ڈی کی سکرین پر مارا تھا۔۔۔۔ جس سے اسکی سکریں چکنا چور ہو گئ تھی۔۔۔ ان کی اس حرکت سے وہاں کھڑے ان تینوں افراد کا سر مزید جھک گیا تھا۔۔۔۔ یہ لڑکی انہیں ناکوں چنے چبوا رہی تھی۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں ہر اچینل پر مورنینگ شو شروع ہو گئے تھے اور اچینل کے مورنینگ شو پر بھی صرف اسی بات کا تزکرہ تھا۔۔۔۔ سب اس لڑکی کی ہمت کو سراہ رہے تھے جس نے اتنی بہادری کا کام کیا تھا۔۔۔۔ اور اپنے اپنے طریقوں سے اس کیساتھ یکجہتی کا اعلان کر رہے تھے۔۔۔۔ بس بہت ہو گیا ولید تم ان نیوز رپورٹرز کو سمبھالو میں ابھی ان ان تینوں کو لے کر اس لڑکی کی یونیورسٹی جا رہا ہوں جلد ہی اس مسلے کا کوئی حل نکالنا پڑے گا۔۔۔۔۔ ورنہ یہ تو ہماری برسوں کی ساکھ کو لے ڈوبیں گئے۔۔۔۔ وجدان صاحب یکدم ہئ جیسے کسی نتیجے پر پہنچے تھے۔۔۔۔


اسلام و علیکم احمد انکل۔۔۔۔ وہ اس وقت ایک پرتعیش آفس میں موجود تھا جس کی ہر چیز خود اپنا منہ بولتا ثبوت تھی۔۔۔ پر اس آفس کی ایک بات کی اسکو کبھی سمجھ نہیں آئی تھی کہ اس آفس کی ہر چیز بلیک اینڈ وائٹ تھی۔۔۔۔ اور ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ آفس نیم تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔۔ اس کی آواز پر احمد صاحب نے اپنی کرسی کا رخ اسکی طرف موڑا۔۔۔۔ واعلیکم اسلام احد کیسے ہو۔۔۔۔ وہ خوشدلی سے مخاطب ہوئے۔۔۔۔ شکر اللہ کا انکل۔۔۔۔ بیٹھو احد تمہارا اپنا ہی آفس ہے۔۔۔ انہوں نے اسے ہاتھ کے اشارے سے بیٹھنے کو کہا۔۔۔ جی انکل۔۔۔۔ اور سناو کیسی گزر رہی۔۔۔ دعائیں ہیں بس آپکئ انکل۔۔۔ سعدیہ اور سونیا ٹھیک ہیں۔۔۔۔ جی انکل دونوں ماشاءاللہ سے اپنے گھروں میں خوش باش ہیں۔۔۔۔ آپ نے جتنی اس معاملے میں میری مدد کی ہے شائید ہی کوئی اپنا کر پاتا۔۔۔۔ میں آپکا اسقدر مقروض ہوں انکل کہ اپنی جان دے کر بھی آپکا قرض نہیں ادا کر سکتا۔۔۔۔۔ وہ جذباتی ہو رہا تھا۔۔۔۔ نہیں احد ایسی باتیں مت کرو تم میرے لئے بالکل میرے بیٹے جیسے ہو۔۔۔۔ بس شاہان کا خیال رکھا کرو۔۔۔۔ اگر ہو سکے تو اسے اپنا بزنس جوائیں کرنے پر راضی کرو۔۔۔۔ انشاءاللہ انکل۔۔۔۔ پر ایک بات آپکی میری سمجھ میں نہیں آتی کہ اتنی تو اسکی فکر اسکے سگے باپ کو نہیں جتنی اسکی فکر آپکو اسکا ماموں ہو کر ہے۔۔۔ بس بیٹا پیار پیار کی بات ہے۔۔۔۔ احد کی بات پر ایک مجروح مسکراہٹ نے انکے چہرے کا احاطہ کیا تھا۔۔۔۔۔ یہ لو احد یہ کچھ رقم ہے رکھ لو تمہارے کام آئے گئ۔۔۔۔ انہوں نے ایک خطیر رقم نکال کر اسے دی۔۔۔۔ ارے نہیں انکل اب تو اللہ کے فضل اور آپکی سپورٹ سے الحمدللہ اچھا کمانے لگ گیا ہوں باقی مکمل طور پر انشاءاللہ ایم بی اے کی ڈگری مکمل ہونے کے بعد پریکٹیکل لائف کیطرف آوں گا۔۔۔۔ پر پھر بھی اللہ کا شکر ہے کہ اچھا گزر بسر ہو رہا ہے۔۔۔۔ ارے نہیں احد اس سب میں میرا کوئی کمال نہیں ماشاءاللہ سے تم جیسے محنتی لوگوں کی ویسے بھی کامیابی قدم چومتی ہے۔۔۔ جانتا ہوں کہ تمہیں ان پیسوں کی کوئی ضرورت نہیں لیکن ان سے تم میری طرف سے شزا بیٹی کو شاپنگ کروا دینا۔۔۔ کافی عرصہ ہو گیا اس سے بھی ملے۔۔۔۔ جی انکل وہ بھی آپکو بہت مس کرتی ہے۔۔۔۔ ہوں۔۔۔۔ تو پھر اس کے لئے بھی کوئی مناسب رشتہ دھونڈو اس کے فرض سے سبکدوش ہو کر پھر اپنے بارے میں بھی سوچو۔۔۔۔ ان کی بات پر دو ہراساں آنکھیں یکدم سے اسکی نظروں کے سامنے سے گزری تھیں اور وہ زیر لب مسکرا دیا۔۔۔۔۔
احد کے جانے کے بعد ایک بار پھر سے یاسیت ان پر چھانے لگی تھی۔۔۔۔ میں صرف اسکا ہی نہیں تمہارا بھی گنہگار ہوں شاہان وہ تو معافی دینے سے پہلے ہی چلے گئ پر پتہ نہیں تم بھی سچائی جاننے کے بعد مجھے معاف کرو گئے کہ تم بھی مجھے دھتکار دو گئے۔۔۔۔ دو آنسو آہستگئ سے انکی آنکھوں سے گر کر ٹوٹے تھے۔۔۔ پتہ نہیں اس بے سکونی نے کب تک انکا پیچھا کرنا تھا۔۔۔۔۔


وہ اپنے کیمپس سے نکل کر کینٹین کی طرف جا رہا تھا جب وہ اسے عجلت میں کینٹین سے نکلتے ہوئے دیکھائی دی۔۔۔۔ اسکی نظر بھی غالباً اس پر پر چکی تھی تبھی وہ اپنی رفتار آہستہ کر چکی تھی۔۔۔۔ اسلام و علیکم۔۔۔۔ احد کے پاس پہنچ کر وہ دھیمی آواز میں مخاطب ہوئی۔۔۔ واعلیکم اسلام ۔۔۔ کیسی ہو۔۔۔۔ جی ٹھیک وہ مختصر جواب دے کر پھر خاموش ہو گئ تھی۔۔۔۔ وہ کئ دنوں دنوں سے اسکا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی پر خود سے اسکو مخاطب کرنے کی ہمت خود میں مفقود پاتی تھی۔۔۔۔ کئ بار سوچا کہ اسے فون کر کے ہی اسکا شکریہ ادا کر دے کہ فون نمبر تو وہ کارڈ کی صورت اسے دے ہی چکا تھا۔۔۔۔۔ پر ہر بار ایک جھجک آڑے آ جاتی۔۔۔۔ اور اب بھی ایسا ہی ہوا تھا کہ بہت کچھ کہنے کی خواہش میں بھی اسکے سامنے آنے سے زبان کو تالا لگ گیا تھا۔۔۔۔ جاب کیسی چل رہی ہے۔۔۔۔ احد نے خود ہی بات آگے بڑھائی تھی۔۔ کوئی مسلہ تو نہیں پیش آ رہا۔۔۔ جی نہیں۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔۔ بلکہ آپکا بہت بہت شکریہ کہ آپکی وجہ سے مجھے اتنی اچھی جاب ملی۔۔۔۔ ارے یہ تو کوئی بات نہیں ہوئی شکریہ ایسے تھوڑی نہ ادا کرتے ہیں یہ تو بائے چانس میں نے آپ سے آپکی جاب کا پوچھ لیا تو آپ شکریہ ادا کرنے لگی ورنہ پچھلے پندرہ دنوں سے آپکو شکریہ ادا کرنے کا یاد ہی نہیں تھا سو سیڈ۔۔۔۔۔ چچ چچ چچ۔۔۔۔ وہ مسکراتی نظروں سے اسے مضنوعی تاسف سے دیکھتا کہہ رہا تھا۔۔۔۔ ایسی تو کوئی بات نہیں۔۔۔۔ حجاب نے شرمندگی سے مزید اپنا سر نیچے جھکا دیا۔۔۔۔ تو پھر کیسی بات ہے۔۔۔۔ اسے شائید حجاب کو تنگ کر کے مزا آ رہا تھا۔۔۔۔ وہ میری کلاس ہے مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔۔۔ وہ اسکی بولتی نظروں سے گھبرا کر جلدی سے بھاگ گی۔۔۔۔ جبکہ احد مسکراتے ہوئے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔۔۔۔۔۔


وجدان صاحب ان تینوں کو لے کر یونیورسٹی کے ہیڈ آفس آئے تھے اور وہیں بیٹھ کر انہوں نے تمام معاملات طے کرنے پائے تھے جس کے تحت انہوں نے ہادیہ کو وہاں بلا کر نقد پچاس ہزار روپے دیئے تھے اور اسکے ساتھ ہی ان تینوں نے ہادیہ سے معافی مانگی تھی جس کی باقاعدہ تصویریں کھینچ کر ہادیہ کے منظور معافی نامے کے تحریری بیان کے ساتھ ہر سوشل نیٹ ورک اور میڈیا تک پہنچایا گیا تھا۔۔۔ یہ سب کر کے وجدان صاحب کے سر سے ایک بوجھ اترا تھا کہ انہوں نے اپنی ساکھ دوبارہ سے بحال کر لی۔۔۔۔ کیونکہ انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے غلطی چاہے وجدان اختر کا بیٹا ہی کیوں نہ کرے انصاف کے پیمانوں کو مدنظر رکھتے ہی فیصلہ کیا جائے گا۔۔۔۔ اور ہادیہ اس نے بھی کھلے دل کا ثبوت دیتے ہوئے معافی نامہ سائن کیا تھا کیونکہ ایک تو اسکی رقم اسے واپس مل رہی تھی دوسرا اتنا بڑا عہدیدار اس کے پاس خود چل کر آیا تھا۔۔۔۔ اور یہ تو ہمارا دین بھی کہتا ہے کہ اگر دشمن بھی خود چل کر آپ کے آ کر معافی مانگے تو دل سے تمام میل اور کدورت کو دھو دینا چاہیے۔۔۔۔ اور ہادیہ نے بھی اسی نظریے پر عمل کیا تھا۔۔۔۔


اس وقت اسکا کوئی پیریڈ نہیں تھا اس لئے وہ اس وقت لائبریری میں بیٹھی کسی کتاب کے مطالعے میں بری طرح غرق تھی۔۔۔۔ جب کھٹکے کی آواز پر اس نے کتاب سے سر اٹھا کر اوپر دیکھا اور سامنے کھڑی ہستی کو دیکھ کر اسکے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔۔
کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں مس ہادیہ۔۔۔۔۔
وہ نہایت مہذبانہ انداز میں دریافت کر رہ تھا۔۔۔۔ مسٹر شاہان نہ تو یہ لائبریری میرے باپ کی ہے اور نہ ہی یہ جگہ میری ذاتی ملکیت ہے اس لئے آپکو یہاں پر بیٹھنے سے پہلے میری اجازت درکار نہیں۔۔۔۔ افف یہ حاضر جوابی۔۔۔۔۔ شاہان اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔۔۔۔ دل تو چاہا اچھی اچھی سنا دے کیونکہ وہ بھی شاہان تھا لیکن اس سے حالات مزید کشیدہ ہو سکتے تھے اور وہ فلحال ایسا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔ مس ہادیہ دراصل مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔ وہ کرسی پر اسکے سامنے بیٹھتا ہوا مخاطب ہوا۔۔۔۔ ویسے تو آپکو مجھ سے بات کرتے ہوئے ہوئے کبھی اجازت کی ضرورت نہیں پڑی لیکن خیر بولیں کیا کہنا چاہتے ہیں۔۔۔ وہ کتاب سے نظریں ہٹائے بغیر بولی۔۔۔۔ مس ہادیہ ایم سوری۔۔۔۔ وہ سر جھکا کر آہستہ آواز میں جیسے بہت مشکل سے گویا ہوا۔۔۔۔ اس کی بات پر ہادیہ نے جھٹکے سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔۔ اسکا جھکا سر اور چہرے پر شرمندگی اسے بہت کچھ باور کروا چکی تھی۔۔۔۔ اور اگر میں آپکا ایکسکیوز ایکسیپٹ نہ کروں تو۔۔۔۔ وہ جانچتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ اسکی باتوں پر ایک پل کے لیے شاہان کے چہرے کا رنگ بدلا تھا ایک مجروح سی مسکراہٹ اسکے چہرے کو چھو گئ۔۔۔۔ ہونا تو یہ ہی چاہیے پر آپ ایسا کریں گئ نہیں۔۔۔۔ کیوں تمہیں ایسا کیوں لگا۔۔۔۔۔
کیونکہ آپ میرے جیسی نہیں۔۔۔ ہوتی تو شائید کبھی مجھے معاف نہ کرتی۔۔۔۔۔۔ ہوں۔۔۔ تمھیں پتہ ہے شاہان تمہیں یوں اس طرح یہاں بیٹھے دیکھ کر مجھے کوئی تعجب نہیں ہوا کیونکہ میں جانتی تھی کہ تم جلد یا بدیر آو گئے میرے پاس۔۔۔۔ اسکی اس بات پر شاہان نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔۔۔ جانتے ہو کیوں۔۔۔۔ شاہاں نے ہونق بنے چہرا اوپر سے نیچے کر کے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔ کیونکہ میں نے دن رات خدا سے تمہاری ہدایت کی دعائیں کی ہیں ۔۔۔۔ اور بے شک سچے دل کی دعا کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔۔۔۔۔ تم میرے لئے بالکل میرے چھوٹے بھائی کی طرح ہو۔۔۔ اپنے دل سے ہر طرح کا بوجھ اتار پھینکو کیونکہ میں اب خفا نہیں ہوں تم سے۔۔۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے ہادیہ کی باتوں سے اسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئ ہو۔۔۔ تھینک یو مس ہادیہ تھینک یو سو مچ۔۔۔ فرط جذبات سے بولتے اسنے ہادیہ کیطرف اپنا ہاتھ بڑھایا ورنہ دل تو چاہ رہا تھا کہ گلے سے لگا لے۔۔۔ ہادیہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور دوسری نظر اسکے ہاتھ کیطرف اور پھر کتاب پر نظریں جماتے ہوئے بولی۔۔۔۔ ویلکم۔۔۔۔ شاہان اپنا وہی بڑھایا ہوا ہاتھ خفت سے اپنے بالوں میں پھیر کر رہ گیا۔۔۔۔
(جاری ہے)