64.9K
56

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

ارحمہ ابھی تک شش و پنج کی کیفیت میں مبتلا تھی کہ آیا اسے ان ڈریسز میں ارسلان کو فوٹوز بھیجنی چاہیے یا نہیں۔۔۔ اندر سے کوئی بے نام سی چیز تھی جو اسے ایسا کرنے سے روک رہی تھی۔۔۔ ایک ایسا احساس جو اسے اندر ہی اندر چٹکیاں کاٹ رہا تھا۔۔۔۔ نہیں یار وہ زیادہ سے زیادہ کیا کر لے گا یا تو دیکھ کر ڈیلیٹ کر دے گا یا پھر اپنے پاس محفوظ کر لے گا۔۔۔ اگر وہ جھوٹا ہوتا تو کیا وہ اتنی آسانی سے اسکی باتوں پر راضی ہوتا۔۔۔ اندر کی بے چینی سے گھبرا کر ارحمہ نے خود کو وضاحت دی۔۔۔۔ نہیں میں اسکی ناراضگی افورڈ نہیں کر سکتی۔۔۔ وہ مجھ پر اتنا مہربان ہے تو کیا میں اسے اپنی چند ایک فوٹوز سینڈ نہیں کر سکتی اور ویسے بھی محبت کی پہلی سیڑھی اعتماد ہوتی ہے اور مجھے اس پر خود سے بھی بڑھ کر یقین ہے۔۔۔۔ ایک منٹ لگا تھا اسے فیصلہ کرنے میں۔۔۔۔ ابھی تک ہادیہ گھر نہیں آئی تھی اور یہ ہی درست وقت تھا اسکے پاس اپنے لائحہ عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا۔۔۔۔۔ اس نے سب سے پہلے جلدی سے کمرے کی کنڈی لگائی اور شاپنگ بیگ سے ایک ڈریس نکال کر تبدیل کرنے لگی۔۔۔۔ کپڑے تبدیل کرنے کے بعد اس نے ایک نظر اپنے آئینے میں نظر آتے عکس پر ڈالی اور اسکی نظر خودبخود ہی شرم سے جھک گئ۔۔۔ وہ خود ہی اپنے عکس سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی۔۔۔۔ مینی سکرٹ پر سلیولیس اور بلیک لیس ناف تک آتی ٹائٹ شرٹ اسکے جسم کے ابھاروں کو مزید نمایاں کر رہی تھی۔۔۔۔ اسنے اپنے شہد رنگ سیدھے سلکی بالوں کا جوڑا کھول کر بال بکھرا کر خود کو ڈھانپنے کی ناکام کوشش کی۔۔۔۔۔ اور جلدی سے بال آگے شانوں پر ڈال کر دو تین سیلفیز لے کر ارسلان کے نمبر پر سینڈ کر دی۔۔۔ اس سارے عمل کے دوران اسکے ہاتھوں میں واضح لرزش تھی۔۔۔۔ دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔۔۔۔۔ تانگیں کپکپا رہی تھیں۔۔۔۔ وہ اس شخص سے جتنی بھی کلوز تھی چاہیے اسنے اب تک اسے اپنی کئ ایک فوٹوز سینڈ کی تھی۔۔۔۔ پر آج تک اس نے کبھی اپنی یوں نیم برہنہ فوٹوز ارسلان کو سینڈ نہیں کی تھی۔۔۔۔ پتہ نہیں کیوں پر دل سختی سے کچھ غلط ہونے کا اشارہ کر رہا تھا۔۔۔ ابھی وہ اسی شش و پنج میں مبتلا تھی جب اسکے موبائل پر دوبارہ سے رنگ ٹیون بجنے لگی اسنے بے دلی سے فون اٹھا کر دیکھا ارسلان کالنگ کے الفاظ موبائل پر نظر آتے ہی اسنے گم صم سی حالت میں فون آ ٹھا کر کان سے لگایا۔۔۔۔ اوہ تھینک گاڈ ارحمہ تم نے پکس سینڈ کر دیں مطلب تمہیں مجھ پر اور میری محبت پر یقین ہے تم نہیں جانتی ارحمہ تمہارے آج کے فیصلے نے مجھے آج اپنی ہی نظروں میں کس قدر معتبر کر دیا ہے۔۔۔ میری محبت کو تم نے آج ایک مقام دے دیا ہے۔۔۔۔ تھینک یو ارحمہ تھینک یو ویری مچ ۔۔۔۔ لو یو آ لوٹ۔۔۔۔ وہ لفظوں کا کھلاری آہستہ آہستہ اسکے گرد لفظوں کا جھال بنتا جا رہا تھا۔۔۔۔۔ ارحمہ کو کچھ دیر پہلے محسوس کی جانے والی بے چینی اس لفظوں کے جادوگر کی باتیں سن کر ختم ہوتی محسوس ہوئی۔۔۔۔۔ میں ایویں خوامخواہ ہی پریشان ہو رہی تھی۔۔۔۔ کتنا خوش ہے ارسلان میرے فیصلے سے۔۔۔ اگر میرے وجود سے اسے کوئی خوشی حاصل ہوتی ہے تو یہ تو میرے لئے اعزاز کی بات ہوئی نہ آخر کو وہ بھی تو میرے لئے اتنا کچھ کر رہا اور پھر وہ میرا ہونے والا شوہر بھی تو ہے۔۔۔۔ وہ دل ہی دل میں خوش ہوتی خود سے ہی مخاطب تھی۔۔۔۔ مانا کہ تمہارے بال بہت خوبصورت ہیں ارحمہ پر اس وقت تو یہ مجھے رقیب روسیا لگ رہے ہیں جو کہ مجھے پوری طرح دیدا دیدار یار سے ہی محروم رکھ رہے ہیں۔۔۔۔ اس کی بات سن کر مسمرائز ہوتی ارحمہ جی جان سے مسکرا کر اپنے بال سمیٹنے لگی۔۔۔۔ اور پھر اس کی باتوں میں مدہوش ارحمہ اپنا آپ بھی بھول گئ اور جیسے جیسے وہ جادوگر کہتا گیا ویسے ویسے ہی وہ کرتی گئ مختلف پوز بنا بنا کر اسے اپنی سیلفیز سینڈ کرتی خود ہی اپنی نسوانیت کی دھجیاں اڑاتی رہی۔۔۔۔ اور یہ سب کرنے کے بعد بھی اسے کوئی پشیمانی نہیں تھی بلکہ وہ مطمعیں تھی کہ وہ محبت کے اس امتحان میں سرخرو ٹھہری۔۔۔۔۔


اس روز نجمہ آپا کی وجہ سے گھر میں ہونے والے ہنگامے کی وجہ سے مصطفی بہت گم صم اور خاموش ہو گیا تھا۔۔۔۔ ہر وقت کچھ سوچتا ہوا اور آگے کا لائحہ عمل تیار کرتا ہوا۔۔۔۔۔ بات ٹھیک تھی اگر اسکی وجہ سے نجمہ آپا کا گھر خراب ہوتا تو وہ کبھی خود کو معاف نہ کر پاتا۔۔۔۔ آخر اس سارے معاملے میں انکا کیا قصور تھا۔۔۔۔ وہ تو پہلے ہی شادی کے اتنے سالوں بعد تک بے اولادی کی وجہ سے بہت گم صم سی تھیں۔۔۔۔ مزید وہ اپنی وجہ سے اپنی بہن کو کسی مسلے سے دوچار نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔ پر وردہ کی جو شرط تھی وہ اسے مر کر بھی پورا نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔ کوئی بھی باپ اپنی اولاد کو اپنے ہاتھوں سے ختم کرنے کے بارے میں نہیں سوچ سکتا۔۔۔۔ خاص کر کے تب جب اولاد بھی پہلی ہو۔۔۔۔ مصطفی کچھ بہت گہرا سوچ رہا تھا کچھ ایسا جس سے اسکی بہن کا گھر بھی خراب نہ ہو۔۔۔۔ اور کوئی اسکی اولاد کو نقصان بھی نہ پہنچا پائے۔۔۔۔ پر اپنی سوچ کے مطابق عمل کرنا مصطفی کو بہت کھٹن مرحلہ لگ رہا تھا۔۔۔ ایک بار پھر شائید ناانصافی ندا کے ساتھ ہو جاتی اور اس بار شائید ناانصافی کرنے والا وہ خود ہوتا۔۔۔۔۔ ندا کے بارے میں سوچ کر اسکا دل پھٹتا کہ جو وہ اسکے ساتھ کرنے جا رہا ہے۔۔۔۔۔ اسکے بعد بھلا وہ کیسے زندہ رہتی۔۔۔۔ وہ خود کو عجیب دوراہے پر کھڑا محسوس کرتا۔۔۔۔ جس کے آگے کھائی اور پیچھے کنواں تھا۔۔۔۔۔ عجیب بے بسی ہی بے بسی تھی۔۔۔۔ ونی میں آئی لڑکیوں کیساتھ اس سے بھی برا ہوتا ہے۔۔۔ ان سے جینے تک کا حق چھین لیا جاتا ہے۔۔۔۔ اندر کی بے چینی سے گھبرا کر دماغ نے تاویلیں گھڑنی شروع کی تھیں۔۔۔۔۔ پر دل کسی تاویل کو ماننے کو راضی نہ تھا۔۔۔ مصطفی کو ابھی سے اس لڑکی کا دکھ اپنے دل پر محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ ناجانے وہ جو ندا کیساتھ کرنے جا رہا تھا اسکے بعد وہ ندا سے نظریں ملا بھی پاتا یا نہ۔۔۔۔ یہں پر آکر اسکے دل کی بے چینی حد سے سوا ہو جاتی تھی۔۔۔۔ اسی لئے شائید وہ پہلے سے بھی زیادہ ندا کا خیال رکھنے لگا تھا۔۔۔۔۔ وقت پر یاد سے اسے اپنے سامنے دوائی کھانے کا کہتا۔۔۔۔ اپنے سامنے بیٹھا کر اسے ناشتہ اور ڈنر کرنے کو کہتا۔۔۔۔ جب تک خود گھر میں رہتا اسے کمرے میں ریسٹ کرنے کی سختی سے تلقین کرتا۔۔۔۔ بالکل جیسے قربانئ سے پہلے قربانی کے بکرے کی دیکھ بھال کی جاتی ہے ویسے ہی مصطفی ندا کی دیکھ بھال کر رہا تھا۔۔۔۔ مصطفی کی ماں اور بھابھی مصطفئ کی ندا کے لئے اسقدر کئیر سے جل بن جاتی تھی یہ سمجھے بغیر کہ وہ ایسا کس مقصد کے تحت کر رہا ہے یا اسکے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔۔۔۔ اب مصطفی کو محض صحیح وقت کا انتظار تھا جب وہ اپنے لائحہ عمل کو عملی جامہ پہنا کر سب کچھ فکس کرنے کی کوشش کرتا۔۔۔۔۔۔


اسلام و علیکم میرے عزیز ساتھیو۔۔۔۔ آج میں آپ سب سے کچھ باتیں کرنا چاہتی ہوں جو کہ بہت عرصے سے میرے دل میں ہیں پر ابھی تک مجھے کوئی بہترین پلیٹ فارم میسر نہیں ہوا تھا اپنے اظ اظہار خیال کے لئے کیونکہ میں مخاطب صرف چند ایک اسٹودینٹس سے نہیں بلکہ اپنی اس یونیورسٹی کی سینکڑوں طلبہ و طالبات سے ہونا چاہتی تھی۔۔۔ اسی مقصد کے حصول کے تحت میں نے آج سپورٹس ویک کے پہلے دن کا انتخاب کیا ہے۔۔۔۔
قرآن پاک کی ایک آیت ہے جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ روز محشر خدا اپنے بندوں سے مخاطب ہو کر پوچھے گا کہ اے بندے تیرے سامنے میری امت مسلمہ کا فلان طبقہ بے راہ روی کا شکار ہوا اپنے اصل سے ہٹ گیا انہوں نے اندھیروں کو اپنا ساتھی چن لیا اور تو سب دیکھتا رہا تو نے انکے لئے کچھ نہ کیا۔۔۔۔ اور مجھے اس وقت سے بہت خوف محسوس ہوتا ہے جب اس روز مجھ سے یہ سوال کیا جائے اور میرے پاس اسکا کوئی جواب نہ ہو۔۔۔۔ اس لئے اس کار خیر میں میں اپنی بساط بھر اپنا حصہ ڈالنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔
دراصل بات کچھ یوں ہے کہ جب کوئی چیز بغیر کسی محنت یا بغیر کسی کوشش اور جدوجہد کے مل جائے تو وہ چیز اپنی قدر کھو دیتی ہے اس کی کشش ماند پر جاتی ہے۔۔۔۔ پھر ہمیں اس چیز کا کوئی متبادل بہت پسند آتا ہے پھر چاہے وہ ہماری اصل چیز کے مقابلے میں بہت کم تر ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔ اسکی کشش ہمیں اپنی طرف کھینچتی ہے۔۔۔۔ پھر ہم اپنی اصل قیمتی چیز سے اکتا جاتے ہیں اور اس دوسری کھوٹی چیز کے حصول کے لئے تڑپنے لگتے ہیں یہاں تک کہ ہر نفع و نقصان سے بے نیاز ہو کر ہر حد کو پار کر کے ہم اس چیز کے حصول کے لئے جٹ جاتے ہیں۔۔۔۔ اور پھر جب ہم وہ کھوٹی چیز حاصل کر لیتے ہیں تب جا کر ہمیں سمجھ آتی ہے واقعی دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں پاس جا کر دیکھنے میں ہی اصلیت کھلتی ہے۔۔۔۔ کاش میں نے اس چیز کے حصول کے لیے اپنے اصل کو نہ کھویا ہوتا۔۔۔۔ آخر میری چیز ہی کھڑی تھی۔۔۔ باقی سب دھوکہ تھا پر افسوس تب وقت گزر چکا ہوتا ہے اور ہمارے ہاتھ سوائے پچھتاوں کے کچھ نہیں رہتا۔۔۔۔ یہ ہی حال ہماری آج کی نوجوان نسل کا ہے انہیں اپنی تہذیب اچھی نہیں لگتی بیک ورڈ اور دقیانوسی لگتی ہے۔۔۔۔ وہ مغرب کی اندھی تقلید میں جٹے ہیں۔۔۔۔
1972 میں ایک عورت جسکا نام ابھی مجھے یاد نہیں آ رہا ہادیہ نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر ذہن میں کچھ سوچ کر بولا۔۔۔۔۔ اس عورت نے سب سے پہلے امریکہ میں عورت کی آزادی کے لئے آواز اٹھائی۔۔۔۔ اور آزادی کے نام پر عورت کو ننگا کر دیا۔۔۔۔ اب 1992 کے سروے کے مطابق مطلب دو سو سال بعد جب ان عورتوں سے پوچھا گیا کہ کیا آپ اپنی اس آزادی سے مطمعیں ہیں۔۔۔۔ کیا یہ زندگی آپکو پسند ہے تو ان میں سے نوے فیصد عورتوں کا جواب تھا کہ ہم بھی گھر بسانا چاہتی ہیں چاہتی ہیں کہ ہمارا بھی گھر ہو شوہر ہو اور بچے ہوں پر افسوس ہمیں شوہر میسر نہیں ہوتے جو ہماری ذمہ داری اٹھائیں بلکہ ہمیں بوائے فرینڈز میسر ہوتے ہیں جو ہمیں ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتے ہیں اور پھینک دیتے ہیں۔۔۔۔ وہ لوگ گندگی میں گر چکے ہیں دلدل میں بری طرح پھنس چکے انہیں وہاں سے نکلنے کا کوئی روزن دیکھائی نہیں دیتا کوئی راستہ نہیں ملتا۔۔۔۔ انہیں اس گندگی سے نکلنے کا طریقہ کس نے بتانا تھا صحیح راستے کا تعین کس نے کرنا تھا۔۔۔۔ ہم نے ہادیہ نے اپنی طرف اشارہ کر کے پورے ہال میں نظریں ڈورا کر کہا۔۔۔۔۔ پر افسوس کہ ہم نے خود اسی راستے کو چن لیا۔۔۔۔ ہم خود اسی دلدل میں بخوشی اترنے کو تیار ہیں۔۔۔۔
آج یہاں پر کتنی ہی لڑکیاں موجود ہیں جن کے ماں باپ نے ان کے حوالے سے کتنے ہی خواب آنکھوں میں سجائے کتنے مان اور بھروسے سے انہیں یہاں اس یونیورسٹی میں پڑھنے بھیجا ہے۔۔۔۔۔ پر یہاں آ کر ہم ہم کرتے کیا ہیں۔۔۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صنف مخالف کی کشش آپکو اپنی طرف کھینچتی ہے پر اپنے آپ پر قابو پانا ماں باپ کی عزت کی خاطر خدا کے سامنے سرخرو ہونے کی نیت سے اپنے دل کو مار دینا نفسی خواہشات کا گلہ گھونٹ دینا ہی مشرقی لڑکی کی پہچان ہے۔۔۔۔ پر اب ہم یہاں کرتے کیا ہیں۔۔۔ ہم صنف مخالف کو اپنے کلاس میٹ کی حیثیت سے لیتے ہیں اس سے بات چیت کرتے ہیں پڑھائی پر دسکشن کرتے ہیں پھر آہستہ آہستہ ہیلو ہائے بڑھتی ہے پھر ایک دوسرے کے فون نمبرز کا تبادلہ ہوتا ہے اور یہاں سے ہم اس دلدل میں دھنسے کی تیاری پکڑتے ہیں۔۔۔۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ ہمیں ہمارے اس کئے پر کوئی شرمندگی نہیں ہوتی کیونکہ ہم بار بار یہ کہہ کر اپنے ضمیر کو تھپکیاں دیتے ہیں کہ وہ بس ہمارا کلاس فیلو ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔۔۔ اور ہم ایسا کچھ غلط نہیں کر رہے جس پر ہمیں کوئی شرمندگی ہو۔۔۔۔۔۔ لیکن ایے اسلام کی شہزادیوں ذرا سوچ کر یہ تو بتاو کہ کیا ہمارے اسلام میں اس طرح کے کسی رشتے کی کوئی گنجائش ہے۔۔۔۔۔۔ ہمارا اسلام تو یہاں تک کہتا ہے کہ سگے بہن بھائی تنہائی میں ایک ساتھ ایک کمرے میں زیادہ دیر تک نہ رہیں کیونکہ کہ ان دونوں کے درمیان تیسرا شیطان ہوتا ہے۔۔۔ اور شیطان کا تو کام ہی بہکانا ہے۔ تو پھر تم کس بھرتے پر یہ کہتی پھرتی ہو کہ وہ بس تمہارا کلاس فیلو ہے۔۔۔۔ کس چیز کا تمہیں اپنے اوپر اتنا اعتماد ہے کہ تم بہک نہیں سکتی
یہ تو انسانی فطرت ہے کہ کوئی انسان اگر کوئی جانور کتا یا بلی ہی اگر پالنے لگ جائے اس کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے لگ جائے تو اس سے انسیت ہو جاتی ہے محبت ہو جاتی ہے۔۔ پھر اسی جانور کے خود سے دور ہونے کہ بارے میں سوچ کر ہی ہم اداس ہو جاتے ہیں۔۔۔۔ پھر ہم ایک صنف مخالف کے بارے میں کیسے پر اعتماد ہو کر کہہ سکتے ہیں کہ وہ بس ہمارا کلاس فیلو ہے اور کچھ نہیں۔۔۔۔ ہمارے درمیان ایسا کوئی رشتہ نہیں۔۔۔۔ ایسا کر کے ہم کسے دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں خود کو یا اپنے عزیزوں کو۔۔۔۔۔
پھر ایک مقام ایسا آتا ہے جب ہمیں یہ لگتا ہے کہ ہم اس شخص کے بغیر نہیں رہ سکتے اور ہم اپنے ماں باپ کے سامنے تن کر کھڑے ہو جاتے ہیں کہ شادی وہیں کرنی ہیں۔۔۔ لیکن ہمارے ماں باپ جہاندیدہ ہوتے ہیں۔۔۔ وہ ہمارے لئے بہتر جانتے ہیں جانتے ہیں کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔۔۔۔ شادی کے لئے محض چار دن کی محبت نہیں اور بھی بہت سے حقائق کو مد نظر رکھنا پڑتا ہے۔۔۔۔ اور انکی طرف سے انکار کے بعد بہت سی صورتیں نکلتی ہیں۔۔۔۔ کچھ خود سر لڑکیاں جنہیں لگتا ہے کہ وہ اس چار دن کی محبت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتیں وہ رات کے اندھیرے میں باپ کی برسوں کی عزت کو مٹی میں ملیامیٹ کرتیں اپنے دامن میں رسوائیوں اور بدنامیوں کو سمیٹے باپ کی دہلیز پار کر جاتیں ہیں۔۔۔۔ جبکہ کچھ لڑکیاں دلبرداشتہ ہو کر حرام موت کو گلے لگا لیتی ہیں۔۔۔۔ جبکہ کچھ لڑکیاں اپنی محبت کو پانے کے لئے خدا کے سامنے سر جھکائے سجدے میں جا کر گر گرا کر دن رات اپنی محبت کو پانے کی دعا کرتی ہیں۔۔۔ اور جب وہ دعا قبول نہیں ہوتی انہیں ان کی وہ چار دن کی چکا چونڈ والی محبت نہیں ملتی تو وہ مایوس ہو کر اپنے رب سے بدگمان ہو جاتی ہیں۔۔۔۔ حالانکہ ہمارے مذہب میں مایوسی کفر ہے۔۔۔۔
اس دنیا میں ماں کی محبت جیسی مخلص محبت کوئی نہیں۔۔۔۔ اللہ تعالئ نے اس محبت کو کسی تشبیہ یا مثال سے ثابت نہیں کیا بلکہ خود اپنے بارے میں کہہ دیا دیا کہ ایے بندے میں تجھ پر ستر ماوں سے زیادہ مہربان ہوں۔۔۔۔ اب کبھی آپ نے کسی ماں کی تڑپ دیکھی ہے۔۔۔۔ جب اسکا بچہ تکلیف میں ہو بیمار ہو تو وہ کیسے تڑپ اٹھتی ہے۔۔۔۔۔ اپنے بیمار بچے کے لئے ڈاکٹر سے دوائی لاتی ہے اب وہ وہی دوائی اس بچے کو کھلاتی ہے لیکن دوائی کڑوی ہے بچہ نہیں کھاتا وہ روتا ہے بلکتا ہے ہاتھ پاوں مارتا ہے کہ مجھے یہ کڑوی دوائی نہیں کھانی۔۔۔۔ پر یہاں وہ صدا کی نرم دل ماں اپنے بچے کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ اٹھنے والی ماں کو اس مقام پر اپنے بچے کا تڑپنا رونا ہاتھ پاوں مارنا کچھ بھی نظر نہیں آتا۔۔۔ وہ بچے کے ساتھ زبردستی کرتی ہے اسکے ہاتھ پاوں جکڑ کر اسے زبردستی دوائی کھلاتی ہے۔۔۔۔ اور جیسے جیسے وہ دوائی اس بچے کے اندر جاتی ہے اس ماں کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہونا شروع ہو جاتی ہے کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اس بچے کا رونا بلکنا عارضی ہے اب تھوڑی دیر تک اسے آرام آ جائے گا۔۔۔۔۔ یہ ایک ماں کا حال ہے تو ہم کیسے اس ہستی سے بدگمان ہو سکتے ہیں جو ایک ماں سے ستر گنا زیادہ اپنے بندوں پر مہربان ہوتا ہے۔۔۔۔ وہ سب دیکھ رہا ہوتا ہے ہمارا رونا بلکنا تڑپنا سب لیکن وہ پھر بھی ہمیں ہماری مطلوبہ اشیاء فراہم نہیں کرتا کیونکہ وہ ہمارے حق میں بہتر نہیں ہوتی اور وہ جانتا ہے کہ ہمارا یہ رونا بلکنا تڑپنا سب عارضی ہے آگے ایک خوشیوں بھری زندگی ہماری منتظر کھڑی ہے۔۔۔۔ جس کے بارے میں ابھی ہم نہیں جانتے ہوتے لیکن وہ رب ہے نہ وہ سب جانتا ہے۔۔۔۔
یہ جو انسانی دل ہے نہ یہ کبھی خالی نہیں رہ سکتا اس میں کسی نہ کسی کی محبت رہتی ہے۔۔۔ اس سے پہلے کہ اس میں کسی نا محرم کی محبت آ بسے اسے اپنے رب کی محبت سے آباد کر لیں۔۔۔۔ کیونکہ اس دنیا میں جتنی جلدی رب راضی ہوتا ہے اتنی جلدی کوئی راضی نہیں ہوتا۔۔۔۔ ایے اسلام کی شہزادیوں اپنے رب کو راضی کر لو۔۔۔۔۔ کیونکہ جس نے رب کو پا لیا اس نے سب کچھ پالیا جس نے رب کو نا پایا اس نے کچھ نہ پایا زندگی بے مقصد گزار دی۔۔۔۔ جس نے رب کو پا لیا وہ مر کر بھی غازی ٹھہرا۔۔۔۔ دنیا بھی اسکی آخرت بھی اسکی۔۔۔۔۔
یہ دنیا عارضی ہے چار دن کا میلہ اس چار دن کی زندگی میں خدارا اپنی آخرت کو خراب نہ کرو۔۔۔۔ گھاٹے کا سودا نہ کرو۔۔۔۔
اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ ایے انسان آخر تیری اوقات ہے ہی کیا۔۔۔۔ اگر تم نے اپنی اوقات دیکھنی ہے تو جاو جا کر کھنڈر ہوئے قبرستانوں کو دیکھو مسمار ہوئی قبروں کو دیکھو تباہ اور برباد ہوئی خستہ حال قبروں کو دیکھو وہاں تم سے بھی برے سورما ہیں جو کہتے تھے کہ ہم سے ہی یہ دنیا چلتی ہے۔۔۔۔ ہمارے سوا یہاں کو نظام کوئی نہیں چلا سکتا۔۔۔۔ قسم خدا کی انکے اس دنیا سے چلے جانے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑا ۔۔۔۔ یہ ہی انسان کی اوقات ہے مٹی کے بندے نے مٹی میں ہی مل جانا ہے۔۔۔۔۔
میں اپنی بہنوں سے ہاتھ جوڑ کر التجا کرتی ہوں کہ تھوڑی سی چکا چونڈ اور چند میٹھے بولوں کے پیچھے خود کو اتنا ارازاں نہ کرو کہ کوئی تمہاری عزت و ناموس کی دھجیاں اڑا کر تمہیں بے مول کر جائے۔۔۔۔ اپنے رب سے رابطہ جوڑ لو وہ کہیں پر بھی تمہیں رسوا نہیں ہونے دے گا۔۔۔ خدا کی رضا کی خاطر آج ابھی اور اسی وقت ہر اس تعلق کو بغیر کسی اطلاع کے توڑ دو۔۔۔ ہر اس ذریعہ کو ختم کر دو جو تمہیں کسی نا محرم سے جوڑے ہوئے ہے۔۔۔۔ ٹیلی فونک رابطہ ہے تو سمیں توڑ دو۔۔۔۔ رب کی رضا کے لئے دل پر پتھر رکھ کر یہ کر گزرو ۔۔۔۔ یہ وعدہ ہے ہے رب کا وہ کسی کا ادھار نہیں رکھتا بلکہ اسے دس گنا بڑھا کر واپس کر دیتا ہے۔۔۔۔ وہ تمہارے حق میں ایسا بہتریں فیصلہ کرے گا تمہیں وہاں تک نوازے گا جہاں تک کبھی تمہاری سوچ بھی نہ جا سکے۔۔۔۔ بولتے بولتے ہادیہ کا حلق خشک ہو گیا تھا اس نے سائیڈ پر پڑا پانی کا گلاس اٹھا کر منہ سے لگا لیا۔۔۔۔ یکدم ہی سارا ہال تالیوں کی گونج سے گونج اٹھا تھا۔۔۔۔۔ ہادیہ اپنے حصے کا کام مکمل کر چکی تھی پر اب دیکھنا یہ تھا کہ اس کا اثر کتنے دل قبول کرتے ہیں اور کتنے ان باتوں کو چٹکیوں میں اڑاتے ہیں کیونکہ قفل زدہ دل پر جتنی بھی دستک دو اسکے کوار کبھی نہیں کھلتے اثر صرف وہی دل قبول کرتے ہیں جن میں اچھائی کی کوئی رمق موجود ہو۔۔۔۔۔..
جاری ہے