64.9K
56

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 54

ہادیہ یونیورسٹی سے واپس آئی تو مغرب کی آذانیں ہو رہی تھی۔۔۔۔ اسے یونیورسٹی سے آتے آتے خاصی دیر ہو گئ تھی۔۔۔۔
گھر میں بالکل خاموشی کا راج تھا۔۔۔۔
جینی۔۔۔۔
یس میم۔۔۔۔ سب کہاں ہیں۔۔۔۔۔۔
وہ اپنا ہینڈ بیگ گلاس ٹیبل پر رکھ کر خود نرم و گداز صوفے پر بیٹھ گئ۔۔۔۔
میم مسٹر اینڈ مسز خان تو ہسپتال گئے ہیں ڈاکٹرز نے اذہان سر کی کندیش کافی تشویشناک بتائی ہے۔۔۔۔
بائیک وہیلنگ کرتے انکی بائیک پیچھے کو الٹ گئ تھی جس کی وجہ سے انکے سر پر چوٹ لگی ہے۔۔۔۔ وہ ابھی تک آئی سی یو میں ہے۔۔۔۔
اور شاہان۔۔۔۔ اس نے کھانا کھایا۔۔۔۔
نو میم۔۔۔۔ وہ تب سے باہر نہیں آئے اور
انہوں نے کسی کو بھی اپنے کمرے میں آنے سے سختی سے منع کیا ہے۔۔۔۔ وہ مودب سی کہہ کر ہاتھ باندھے کھڑی تھی۔۔۔۔
چلو ٹھیک ہے میں خود دیکھ لیتی ہوں۔۔۔۔


وہ آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی پر اسے پہلے ہی قدم پر ٹھٹھک کر رکنا پڑا۔۔۔۔۔
کمرا کسی میدان جنگ کا سا سماں پیش کر رہا تھا۔۔۔۔۔
سائیڈ لیمپ وال پیسز۔۔۔ ڈریسنگ ٹیبل کا شیشا دیوار گیر ایل ای ڈی غرض ہر چیز فرش پر ٹوتی بکھری اپنی قسمت کی ستم ظریفی پر نوحہ کناں تھی۔۔۔۔
ہادیہ نے کمرے میں چاروں طرف نظر دوڑائی۔۔۔۔۔ شاہان گلاس ٹیبل کے قریب فرش پر بیٹھا ٹیبل پر سر ٹکائے سو رہا تھا۔۔۔۔ یا یہ کہنا مناسب تھا کہ وہ بے ہوش ہو چکا تھا۔۔۔
پاس ہی وہ ڈائری اوندھے منہ گری پڑی تُھی۔۔۔۔
شاہان۔۔۔۔ وہ ایک ہی جست میں بھاگتی ہوئی اس تک پہنچی۔۔۔
شاہان آنکھیں کھولو۔۔۔۔ وہ اس کے قریب گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسکا چہرا تھپتھپانے لگی۔۔۔۔۔۔
اسنے فوراں سے جگ میں سے پانی گلاس میں انڈیلا اور اسکے چہرے پر چھینٹے مارنے لگی۔۔۔۔۔
وہ ہربرا کر اٹھا تھا۔۔۔۔
ہادیہ کوئی اتنا ظلم کیسے کر سکتا ہے کسی پر۔۔۔۔ ہوش میں آتے ہی وہ ہادیہ کو جھنجھور کر استفسار کرنے لگا تھا۔۔۔
کون۔۔۔تھی وہ۔۔۔ کیا وہ انسان نہ تھی۔۔۔۔۔ ماں تھی وہ میری۔۔۔ اور آج تک مجھے ہی اس بات سے بے خبر رکھا گیا۔۔۔۔۔۔
کس نے دیا ان لوگوں کو یہ حق کہ ایک ماں سے اسکے بچے کو چھین لیا جائے۔۔۔۔ اسکی گود اجاڑ دی جائے۔۔۔۔
کس نے دیا انہیں یہ حق کہ ایک بچے کو اسکی ماں کے لمس سے محروم رکھا جائے۔۔۔۔ اس سے اسکی شناخت تک چھپائی جائے۔۔۔ وہ چیختے ہوئے کمرے میں بچ جانے والی اشیاء کو بھی اٹھا اٹھا کر پھینک رہا تھا۔۔۔۔
ہادیہ بس نم آنکھوں سے اسے دیکھے جا رہی تھی۔۔۔۔
میری ماں میرے حصول کے لئے ترپتی رہی مجھے دیکھنے کے لئے مچلتی رہی پر کسی کو اس پر ترس نہ آیا ہادیہ۔۔۔۔۔
میں نے ان چند گھنٹوں میں ان پر گزری ایک ایک اذیت کو خود پر گزرتے محسوس کیا ہے۔۔۔۔ میرا دل پھٹ رہا ہے دل چاہ رہا ہے کہ ان کے گنہگاروں کو قطار میں کھڑا کر کے ایک ہی گولی سے اڑا دوں۔۔۔۔
اتنا صبر ہادیہ۔۔۔۔ اتنا صبر۔۔۔۔۔ کیسے کرتی تھیں وہ۔۔۔۔ مجھ سے پڑھ کر برداشت نہیں ہو پارہا دل چاہتا پے کہ کاش ۔۔۔۔ کسی طرح وقت کا پہیا موڑ دوں اور انکی ہر اذیت لا مداوا کر دوں۔۔۔۔
مجھ سے برداشت نہیں ہو پا رہا۔۔۔ وہ سب سہتی تھیں۔۔۔۔ برداشت کرتی تھیں۔۔۔۔۔ کیسے کرتی تھیں ۔۔۔۔۔ کہاں سے لاتیں تھیں اتنا حوصلہ وہ۔۔۔۔۔۔
وہ پاغل ہونے کے قریب تھا۔۔۔۔ اسے لگ رہا تھا کہ اسکے دماغ کی شریان پھٹ جائے گئ۔۔۔۔۔
پوری زندگی میں محرومیوں بھری زندگی بسر کرتا رہا۔۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ ڈیڈ کا رویہ میرے ساتھ اتنا روڈ کیوں ہے اذہان پر وہ اتنی جان کیوں چھڑکتے ہیں۔۔۔۔۔
کیوں مام ڈیڈ کے سامنے مجھ سے دور دور رہتی ہے۔۔۔۔ کیوں موم ڈیڈ بچپن میں اذہان کو اپنے ساتھ سلاتے تھے جبکہ مجھے آیا کے پاس چھوڑا ہوتا تھا۔۔۔۔
کیوں ڈیڈ مجھے آفس جوائن کرنے نہیں دیتے تھے۔۔۔۔ اب سمجھ میں آیا کہ وہ تو میرے ڈیڈ ہی نہیں۔۔۔۔۔
اور انہیں اپنے تحفظات تھے کہ کہیں آفس جوائن کرنے کے بعد مجھے سچائی کی بھنک نہ پڑ جائے۔۔۔۔
مجھے محرومیوں بھری زندگی دینے والا کوئی اور نہیں بلکہ میرا اپنا باپ مصطفی احمد ہے۔۔۔۔
نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔ کاش کہ مجھے میری زندگی میں ایک بار نثار علی مل جائے تو اسے ایسی کتے کی موت ماروں گا نہ کہ وہ پچھتاتا رہ جائے گا کہ کاش اس وقت ونی کی بجائے خون بہا میں خود کو پیش کر دیتا تو آج اتنی پر اذیت موت نہ مرنا پرتا۔۔۔۔
پر اس سے بھی پہلے مصطفی احمد کو مجھے ایک ایک چیز کا حساب دینا ہو گا۔۔۔ وہ طیش میں بولتا کمرے سے باہر جانے لگا تھا جب ہانپتی ہوئی ہادیہ اسکے راستے میں حائل ہوئی۔۔۔۔
ابھی کہیں مت جاو شاہان تمہاری طبعت ٹھیک نہیں۔۔۔۔ ہادیہ نے اسکے ماتھے سے بال پیچھے ہٹائے ۔۔۔۔ مجھے۔۔ مت روکنا ہادیہ مجھے جانے دو ورنہ میں پاغل ہو جاوں گا۔۔۔۔ وہ ہادیہ کے ہاتھ جھٹکتا لال انگارہ ہوتی آنکھوں سے بولتا لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔


ارے میرا شہزادہ آیا ہے۔۔۔۔ کیسے ہو شاہان بیٹا۔۔۔شاہان دندناتا ہوا انکے گھر آیا تھا اور ملازم کے بتانے پر اسکی لائبریری میں گیا تھا جہاں وہ اس وقت چشمہ آنکھوں پر لگائے کسی کتاب کے مطالعے مکں مصروف تھے۔۔۔۔
جب شاہان کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر وہ والہانہ اسکی طرف بڑھے تھے۔۔۔
آپ ۔ کو زیب نہیں دیتا بیٹا لفظ میرے لئے ادا کرنا مصطفی احمد۔۔ وہ سرخ انگارہ ہوتی آنکھوں سے چبا چبا کر بولا
احمد صاحب کو اس کے لہجے سے کچھ غیر معمولی ہونے کا شدت سے احساس ہوا تھا۔۔۔۔
شاہان کی طرف بڑھتے انکے قدم ٹھٹھک کر رکے تھے۔۔۔۔
کس نے آپکو یہ حق دیا تھا اپنی بہن کا گھر بچانے کے لئے میری ماں کی گود اجارنے کا مصطفی احمد۔۔۔۔ شاہان نے جارحانہ انکی طرف بڑھتے ہوئے انہیں ایک زور دار دھکا دیا۔۔۔۔۔
وہ دو قدم لڑکھڑا کر یچھے ہٹے۔۔۔۔
وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھی جا رہے تھے۔۔۔۔۔
آپ کی بہن بہت عزیز تھی آپکو پر میری ماں کو آپ نے انسان بھی نہ سمجھا جو اتنا برا رویہ رکھا انکے ساتھ۔۔۔۔
وہ ماں تھی میری مجھے پیدا کیا ہے انہوں نے آپ نے اس عظیم عورت کو میری شکل دیکھنے تک سے محروم کر دیا۔۔۔۔
ہوتے کون ہیں آپ ایسا فیصلہ کرنے والے۔۔۔۔ مجھے میری ماں کے لمس سے دور رکھنے والے۔۔۔۔۔
اس نے طیش میں آتے مصطفی کا گریبان ۔پکڑ کر دو تین جھٹکے دیئے۔۔۔۔
اور مصطفی احمد۔۔۔ اسے تو کچھ سوجھ ہی نہیں رہا تھا ۔۔۔ کب سوچا تھا اس نے کہ کوئی اتنے برسوں بعد بھی اسکی اس نا انصافی پر اسکا گریبان پکڑے کھڑا ہو گا۔۔۔
کیا کہا تھا آپ نے میری ماں سے کہ یہ میرا بیٹا ہے۔۔۔۔ میں جو چاہوں اس کے بارے میں فیصلہ ۔۔کروں۔۔۔۔۔
تو سنیں آپ ۔۔۔۔ نہیں ہوں میں آپکا بیٹا۔۔۔۔۔ میں آپ کو اپنا باپ ماننے سے انکار کرتا ہوں۔۔۔۔۔ آپ اس قابل ہی نہیں کہ اس رتبے پر فائز ہو سکیں۔۔۔۔
آپ ایک خود غرض اور بزدل انسان ہیں۔۔۔۔
مت کہو ایسا بیٹا۔۔۔۔ میں پہلے ہی پچھلے اکیس سالوں سے پچھتاوے اور بے سکونی کی آگ میں جل رہا ہوں۔۔۔۔ میرا یہ بوجھ مزید مت بڑھاو۔۔۔ میری جان اپنے باپ کو معاف کردو۔۔۔ ورنہ۔ میں مر جاوں گا۔۔۔۔۔۔ وہ سسک۔۔۔ہی تو اٹھے تھے اسکی بے اعتنائی پر۔۔۔۔
آپ کو جلنا بھی چاہیے تھا۔۔۔۔ جو کچھ میری ماں نے برداشت کیا یہ سب تو اسکے سامنے کچھ بھی نہیں جو آپ برداشت کرتے رہے ہیں۔۔۔۔
وہ تڑپتی رہیں مجھے دیکھنے کے لئے مجھے چھونے کے لئے۔۔۔ میرے لمس سے اپنی تشنگیوں کا ازالہ کرنے کے لئے پر آپکو ترس نہ آیا ان پر۔۔۔ اب آپکو پچھتاوں کی آگ میں جلنا ہی چاہیے۔۔۔۔
کوئی کم ظلم کے پہار نہیں تورے آپ نے ان پر۔۔۔۔
کبھی مرے ہوئے بھائی کے لئے تو کبھی زندہ بہن کا گھر بچانے کے لئے۔۔۔۔ اب آپکو بے سکون رہنا ہی چاہیے۔۔۔۔۔۔
پوری زندگی میں نے محرومیوں بھری گزاری۔۔۔ ترس گیا میں ماں باپ کی محبت کو۔۔۔۔ یہ سب آپ کی عطا تھی۔۔۔۔ مجھے ۔ان سب چیزوں سے آپ نے محروم رکھا مصطفی احمد۔۔۔
کبھی معاف نہیں کروں گا میں آپکو۔۔۔۔
وہ ضبط کے کڑے مراحل میں سے گزرتا ہاتھ کی پشت سے بہہ جانے والے آنسوں کو صاف کرتا الٹے قدم اٹھا رہا تھا۔۔۔۔
نہیں شاہان ایسا مت کہو بیٹا۔۔۔۔۔ مصطفی احمد بے بسی کی تصویر بنے کھڑے تھے انکے پورے جسم پر لرزا طاری تھا آنکھوں سے ایک نہ رکنے والا سیاب امڈ رہا تھا۔۔۔۔
ماضی کسی فلم کی مانند انکی آنکھوں کے سامنے سے گزر رہا تھا۔۔۔۔
میں نے نو مہینے اسکے تصور کے احساس سے گزارے مصطفی اور آپ نے اسے میرے لئے ایک تصور ہی بنا دیا۔۔۔۔۔
میں کیا کروں مصطفی مجھے میرا بیٹا کسی طور نہیں بھولتا۔۔۔۔ اسکے چھوٹے چھوٹے سے ہاتھ ۔۔۔ روئی کے گالوں جیسے گال۔۔۔۔
وہ کیسے ہستا ہوگا ۔ کیسے روتا ہوگا مجھے کسی طور نہیں بھولتا وہ۔۔۔۔
مصطفی خدا کے لئے مجھے میرا بیٹا لوٹادیں۔۔۔۔
ایک قابل ۔۔فہم درد مصطفی کے پہلو سے اٹھنے لگا تھا۔۔۔۔
مجھے میرا بیٹا چاہیے مصطفی۔۔۔۔
نہیں ہیں آپ۔ میرے باپ۔۔۔۔ میں آپکو اپنا باپ ماننے سے اانکار کرتا ہوں۔۔۔۔
وہ اپنے سینے پر ہاتھ رکتے ہوئے نیچے بیٹھتے چلے گئے۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔