Be Dard Piya By Umme Hania Readelle50176 Episode 16
No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
گاڑی تنگ سے محلے کے سرے پر آ کر رکی تھی۔۔۔۔ کیونکہ گاڑی اس تنگ سے محلے میں آگے تک نہ جا سکتی تھی۔۔۔۔ احد نے پھرتی سے گاڑی سے نکل کر گاڑی کی ڈیگئ سے فولڈنگ وہیل چیئر نکالی جو کہ وہ ہسپتال سے گھر آنے سے پہلے خرید کر لایا تھا۔۔۔ اور حجاب کے استفسار پر احد نے اسے یہ کہہ کر مطمعیں کیا تھا کہ وہ اس وہیل چیئر کے پیسے بھی اس بل کی رقم میں شامل کر چکا ہے جو حجاب کی طرف واجب الادا ہیں۔۔۔۔ اور یہیں پر حجاب خاموش ہوگئ تھی۔۔۔۔۔ وہ حجاب کی مدد بھی اس طریقہ سے کر رہا تھا کہ اسکی عزت نفس بھی مجروح نہ ہو اور وہ اسکی مدد بھی بخوشی قبول کر لے۔۔۔۔
وہیل چیئر سیٹ کرنے کے بعد اس نے کار کا پچھلا دروازہ کھولا جہاں حجاب کے ساتھ اسکے ابا موجود تھے۔۔۔۔۔ احد نے اختیاط کیساتھ انہیں گاڑی سے نکال کر وہیل چیئر پر بیٹھایا اور انہیں گھر چھوڑنے کیلئے آگے بڑھ گیا۔۔۔۔ ٹھیک ہے دادی پھر میں چلتا ہوں۔۔۔۔۔۔ حجاب اور اسکے ابا کو گھر پہنچا کر اس نے دادی سے اجازت لینا چاہی تو وہ ڈپٹ کر بولی۔۔۔۔ ارے بیٹا کیسی باتیں کر رہے ہو۔۔۔۔ رات سے ہمارے ساتھ ہسپتال میں خوار ہو رہے ہو۔۔۔۔۔ میں تو پھر بھی ہسپتال سے گھر آ گئ تھی پر تم نے تو ایک منٹ کے لئے بھی حجاب کو اس مشکل وقت میں اکیلا نہیں چھوڑا۔۔۔۔۔ اب تم کھانا کھائے بغیر نہیں جا سکتے۔۔۔۔۔ کھانا بس تیار ہے میں لگانے والی ہوں۔۔۔۔ چلو شاباش اندر چلو۔دادو نے اپنائیت سے کہا۔۔۔۔ پر دادو میرا یہاں رکنا شائید مس حجاب کو پسند نہ آئے۔۔۔۔۔ ارے بیٹا وہ کیوں بھلا۔۔۔۔ دادی نے حیرانگی سے استفسار کیا۔۔۔۔ چونک تو حجاب خود بھی گئ تھی کہ بھلا اسکی کونسی حرکت سے احد کو ایسا محسوس ہوا۔۔۔۔۔ یہ تو آپکی مروت ہے دادو جو آپ نے کھانے پر روک لیا۔۔۔۔ پر حجاب نے تو خالی پانی کا بھی نہیں پوچھا حالانکہ آپ جانتی ہیں۔۔۔۔ انکل کو گاڑی سے نکال کر گھر تک لانا کس قدر محنت طلب کام ہے دادو۔۔۔۔ کوئی بات نہیں میں گھر جا کر کھانا کھا لوں گا۔۔۔۔ وہ آنکھوں میں ناچتی شرارت لئے مخاطب تھا۔۔۔ پر حجاب پر گھروں پانی پر گیا۔۔۔۔ حجاب دادی کی تنبیہی آواز پر وہ مزید بوکھلا گئ۔۔۔۔ نہیں دادی وہ میں ابھی پوچھنے ہی والی تھی۔۔۔۔ آپ پلیز تشریف رکھیں میں ابھی پانی لاتی ہوں۔۔۔۔۔ بوکھلاہٹ میں اپنی صفائی پیش کرتی وہ چھپاک سے اندر غائب ہو گئ۔۔۔۔ آو بیٹا بیٹھو۔۔۔۔دادی اسے لے کر اپنے گھر کی چھوٹی سی بیٹھک میں آ گئ تھیں۔۔۔۔ ارے بیٹا حجاب ابھی نادان ہے نا سمجھ ہے اتنی عقل نہیں نہ اس لئے۔۔۔۔ تم اسکی باتوں کو دل پر نہ لینا۔۔۔۔ دادی اپنے تور احد کا دل حجاب کیطرف سے صاف کر رہی تھی۔۔۔۔ وہ ہلکے سے مسکرا دیا۔۔۔۔ کہ حجاب کی باتوں کو تو نہیں ہاں البتہ وہ اسے ضرور دل پر لے بیٹھا تھا۔۔۔۔۔
آئیں ادھر بیٹھیں آپ شاہان۔۔۔ ہادیہ نے لائیبریری میں پہنچ کر خود ایک کرسی پر بیٹھ کر شاہان کو اپنے سامنے والی کرسی پر بیٹھنے کو کہا۔۔۔۔۔ شاہان مرتے کیا نہ کرتے کہ مصداق کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔۔ جی تو کیا ٹاپک ہے آپکی اسائمنٹ کا۔۔۔ ہادیہ نے اپنا ہینڈ بیگ اور موبائل ٹیبل پر رکھا اور دونوں ہاتھ باہم ملا کر پوری فرصت سے شاہان پر فوکس کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔ آ آ آ آ۔۔۔ ٹااااا پککککک وہ ٹاپک کو لمبا کھینچتا ہوا بولا۔۔۔ اس سے پہلے کہ ہادیہ کچھ کہتی دو لڑکیاں اس سے ملنے آ گئ وہ کھڑی ہو کر ان سے ملنے لگئ۔۔۔۔ اور شاہان کو کچھ وقت مل گیا آگے کی پلاننگ کے لئے۔۔۔۔ پہلے اس نے سوچا کہ چپ چپ کر کے یہاں سے کھسک جائے۔۔۔ جب دوبارہ ہادیہ سے سامنا ہوا تو وہ کہہ دے گا کہ اسے کوئی ضروری کام یاد آ گیا تھا۔۔۔ پر پھر خود ہی اپنا ارادہ بدل دیا کیونکہ میدان چھوڑ کر بھاگنا شاہان کی فطرت کے خلاف تھا۔۔۔۔ لیکن ابھی تو وہ برا پھنسا تھا۔۔۔۔ وہ جلدی سے اپنا دماغ چلانے لگا کہ ایسی سچویشن میں کیا کیا جائے۔۔۔۔ جلد ہی اسے کچھ سوجا اور اس نے جلدی سے اپنی جیب سے موبائل نکال کر میسج ٹائپ کیا۔۔۔۔
احد جلدی سے مس ہادیہ نے جو اسائمنٹ بنانے کے لئے ٹاپک دیا ہے وہ سینڈ کرو ۔۔۔۔
میسج سینڈ کر کے وہ بے تابی سے ٹیبل کی سطح کو اپنی انگلیوں سے بجاتا احد کے ریپلائے کے انتظار میں تھا۔۔۔۔ اس نے ایک چور نظر ہادیہ کی طرف دیکھا جو ابھی تک ان لڑکیوں سے بات کر رہی تھی۔۔۔۔
میسج کے الفاظوں نے ہوا کے دوش پر سفر کرتے ہوئے لمحے کے دسویں حصے میں حجاب کے گھر اس چھوٹی سی بیٹھک میں بیٹھے احد کو اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھا۔۔۔۔ اس نے فوراً سے اپنا موبائل نکال کر میسج چیک کیا۔۔۔
خیر یار آج یہ سورج کدھر سے نکل آیا۔۔۔۔
میسج پڑھتے ہی شاہان دانت پیس کر رہ گیا۔۔۔ وہ جتنی جلدی کر رہا تھا احد اتنا ہی بات کو طول دے رہا تھا۔۔۔۔ شاہان نے ایک نظر پھر سے ہادیہ کو دیکھا جو کہ اب ان لڑکیوں سے الوادعی مصافحہ کر رہی تھی۔۔۔۔ شاہان تیزی سے میسج ٹائپ کرنے لگا۔۔۔۔
الو کے پٹھے۔۔۔ لفنگے۔۔۔۔ کمینے تو میرے سامنے آ میں تیرا سر پھاڑوں۔۔۔ یہاں وہ شیرنی ننگی تلوار لئے میرے سر پر سوار ہے اور تجھے مستیاں سوجھ رہی ہے۔۔۔ ٹاپک بتاو۔۔۔۔
میسج پڑھ کر احد کی ہسی چھوٹ گئ۔۔۔۔
ویسے یار کس کی اسائمنٹ کا ٹاپک پوچھ رہے ہو شاہان میری کا یا اپنی کا کیونکہ مس ہادیہ نے پوری کلاس کو الگ الگ ٹاپک پر اسائمنٹ بنانے کو کہا ہے۔۔۔۔
میسج پڑھ کر شاہان اپنا سر تھام کر بیٹھ 0 گیا۔۔۔۔ مرو تم احد اور دیکھنا تمہارے مرنے کی سب سے زیادہ بریانی میں نے ہی کھانی ہے۔۔۔۔ کمینا خبیث۔۔۔۔ جی شاہان تو کہاں تھے ہم۔۔۔۔ ہادیہ اب ان لڑکیوں سے فارغ ہو کر مکمل تور پر شاہان کیطرف متوجہ تھی۔۔۔۔ اور شاہان ہونق بنا ہادیہ کیطرف دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ وہ وہ وہ مس ہادیہ۔۔۔۔ میرا۔۔۔ ٹاااا پکککک۔۔۔۔
عین اسی وقت اسکے موبائل کی بپ بجی اس نے وہیں ٹیبل پر پڑے موبائل پر اپنی شہادت کی انگلی سے میسج آن کیا۔۔۔
اور میسج پڑھتے ہی شاہان کھل اٹھا۔۔۔۔ کیونکہ احد نے اسکی اسائمنٹ کا ٹاپک سینڈ کیا تھا۔۔۔۔ شاہان کی حالت ایسی تھی جیسے اسے ہفت اکلیم کی دولت مل گئ ہو۔۔۔۔ جی تو مس ہادیہ میرا ٹاپک ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ خوشی سے چہکتا ہوا اپنا ٹاپک بتا رہا جیسا کوئی بہت بڑا کارنامہ سر انجام دے دیا ہو۔۔۔۔۔ اچھا تو کیا پوائنٹس ہیں اس ٹاپک سے ریلیٹڈ جو کہ آپکے کلئیر نہیں ہیں۔۔۔ پوائنٹس۔۔۔۔ وہ پوائنٹس کو لمبا کھینچتا ہوا بولا۔ یکدم ہی بھرے ہوئے غبارے میں سے ہوا نکلی تھی اور وہ بیٹھے کا بیٹھا رہ گیا تھا۔۔۔۔
جی وہ پوائنٹس میں نے موبائل میں سیو کئے ہیں ابھی آپکو دیکھ کر بتاتا ہوں۔۔۔۔ بروقت اسے بہانہ سوجھا تھا۔۔۔۔ اوکے جلدی کریں۔۔۔۔ ہادیہ اسے کہتے ہی اپنی کتاب کی طرف متوجہ ہو گئ۔۔۔۔ احد اب اس ٹاپک سے ریلیٹڈ کچھ اہم پوائنٹس سینڈ کرو جلدی۔۔۔۔۔ میسج سینڈ کر کے وہ بے تابی سے ریپلائے کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔ موبائل کی بپ بجتے ہی اس نے احد کے سینڈ کئے پوائنٹس پڑھ کر ہادیہ کو سنانے شروع کر دیئے۔۔۔۔۔ پوائنٹس نوٹ کر کے ہادیہ اسے پوائنٹس سمجھانے لگی۔۔۔۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد شاہان کے پوائنتس کلئیر ہوئے تھے۔۔۔۔ شاہان کل سب سے پہلے میں آپکی اسائمنٹ کی منتظر رہوں گئ۔۔۔۔ ہادیہ نے اسے سارے
سارے پوائنٹس سمجھا کر کہا۔۔۔۔ جی مس ہادیہ۔۔۔۔ ہادیہ کی بات سنتے ہی وہ پیپر پنسل سمبھالتے یوں لائبریری سے نکلا جیسے دفا 203 کے تحت گیا قیدی رہائی پانے کے بعد باہر نکلتا ہے۔۔۔۔ کہ ہادیہ سے کچھ بعید نہ تھا کہ پھر کوئی پینڈورا باکس کھول دیتی۔۔۔۔ لائبریری کی حدود سے نکل کر شاہان نے کھلی فضا میں کھل کر سانس لیا۔۔۔۔۔ اسکے کانوں سے ابھی تک دھواں نکل رہا تھا۔۔۔۔ آج کا تجربہ اس کے لئے خاصہ تلخ تھا۔۔۔۔۔۔۔
مصطفی کی گاڑی پورچ میں جا کر رکی تو اس وقت دن کے نو بج رہے تھے۔۔۔۔ وہ بچے کو اختیاط سے اٹھاتا ساتھ میں چھوٹا سا پیپر بیگ اٹھاتا اندر کیطرف بڑھ گیا۔۔۔۔ اندر سامنے ہی پوری فیملی ڈائینینگ ٹیبل پر بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی۔۔۔۔ ان میں نجمہ آپا اور مرتضی بھی شامل تھے جو کہ غالباً صبح ہی آئے تھے۔۔۔۔ نجمہ کا چہرا سوجھا ہوا تھا۔جیسے وہ کل ساری رات روتی رہی ہو۔۔۔۔ جبکہ مرتضی کے چہرے پر چھائی کرختگی نما سنجیدگی ماحول کو مزید گھمبیر بنا رہی تھی۔۔۔۔ اسے ایک منٹ لگا تھا بات سمجھنے میں یقیناً وردہ نے پھر سے کوئی ہنگامہ کیا تھا اور موضوع نجمہ آپا کا بے اولاد ہونا بنا تھا۔ اس لئے آج وہ یہ قصہ ہی ختم کر دینا چاہتا تھا۔ ہر کوئی کھانے سے ہاتھ روکے اسے ہی دیکھ رہا تھا وجہ اسکے ہاتھ میں موجود وہ ننھا سا وجود تھا۔۔۔۔ مصطفی دل کڑا کرتا مرتضی کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔
مرتضی بھائی یہ میرا بیٹا ہے آج سے یہ آپکا ہوا۔۔۔۔ مصطفی نے وہ بچہ جا کر مرتضی کی گود میں ڈال دیا۔۔۔۔۔ ہر کوئی حیران پریشان سا صورتحال سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔ یہ تم کیا کہہ رہے ہو مصطفی۔۔۔۔ مرتضی پریشانی سے بولا۔۔۔۔۔ مصطفی جانتا تھا کہ آگے وہ کیا کہنے والے ہیں۔۔۔۔ وہ کسی کا بھی بچہ اڈاپٹ کرنے کے حق میں نہیں تھے۔۔۔۔ ان کے خیال میں اولاد صرف وہی ہوتی ہے جو کہ اپنی ہو۔۔۔۔۔ اسی بات کو لے کر نجمہ آپا اور ان میں بہت بار جھگڑا بھی ہوا پر ہر بار فتح یاب وہ ہی ٹھہرے۔۔۔۔ اس لئے اس بار مصطفی اپنا ہوم ورک مکمل کر کے آیا تھا۔۔۔۔ وہ اس وقت کسی بھی قسم کے ہنگامے کا متحمل نہیں تھا۔۔۔۔۔ اور یہ ہیں پراپرٹی کے کچھ پیپرز۔۔۔۔۔ میں نے اپنی آدھی جائیداد اپنے بیٹے کے نام کر دی ہے۔۔۔۔ اور جب تک وہ اکیس سال کا نہیں ہو جاتا اس کے کیئر ٹیکر آپ ہونگے۔۔۔۔ مصطفی کی بات سن کر مرتضی کی آنکھی پھٹی کی پھٹی رہ گئ۔۔۔۔۔ مصطفی نے انہیں کچھ بھی کہنے کا موقع دیئے بغیر جائیداد کے پیپرز انہیں تھمائے تھے۔۔۔۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ واحد ایک یہ ہی طریقہ تھا جس کے باعث وہ مرتضی کا منہ بند کر سکتا تھا۔۔۔۔ کیونکہ آج کل اسے پیسوں کی اشد ضرورت تھی اور گھر آئی دولت کیسے منظور نہیں ہوتی۔۔۔۔
ارے مصطفی کیسی باتیں کر رہے ہو۔۔۔۔ آج سے یہ میرا ہی بیٹا ہے۔۔۔۔ تمہارا بہت بہت شکریہ تم نے ہماری یہ محرومی بھی دور کر دی۔۔۔۔ وہ پراپرٹی کے پیپرز کو پکڑے خوشامدی لہجے میں بولا۔۔۔۔ یکدم بچے کے رونے کی آواز پر مرتضی نے بچہ نجمہ کی گود میں ڈالا۔۔۔۔ اسکی آنکھوں میں بھی احساس تشکر کے آنسو تھے۔۔۔۔ وہ تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ مرتضی اتنی جلدی مان جائے گا۔۔۔۔۔ اس نے بے ساختہ بچے کو اپنے اندر بھینچا۔۔۔۔۔۔۔ دو آنسو ٹوٹ کر اسکی آنکھوں سے گرے۔۔۔۔ اس کی ماں کہاں ہے مصطفی۔۔۔۔۔ مصطفی کی ماں نے اس سے پوچھا۔۔۔۔ بیٹی کو خوش دیکھ کر وہ بھی اب مطمعیں تھی۔۔۔۔ اس کی ماں نجمہ آپا ہے جو کہ آپکے سامنے بیٹھی ہے۔۔۔۔ ہاں اگر آپ ندا کی بات کر رہی ہیں تو وہ ہسپتال میں ہے۔۔۔۔ اسے تین دن بعد چھٹی ہو گئ۔۔۔۔۔ وہ انہیں کہہ کر وہیں کھڑے کھڑے جوس پینے لگا تھا۔۔۔۔۔۔ مصطفی میرے بھائی تمہارا بہت بہت شکریہ کہ تم نے ہماری یہ محرومی بھی ختم کر دی۔۔۔۔۔ نجمہ آپا روتے ہوئے اس کے سامنے آ کر کہہ رہی تھی۔۔۔۔ بس آپا کیا پو گیا ہے آپکو۔۔۔۔۔ بھائی ہوں میں آپکا اور بھائی اپنی بہنوں کے لئے کیا کیا کچھ نہیں کرتے ہیں ایک میں نے بھی آپ کے لئے کچھ کر دیا تو کچھ انوکھا تو نہ کیا۔۔۔۔ مصطفی نے بے ساختہ انہیں اپنے ساتھ لگا کر محبت اور عقیدت سے انکے آنسو صاف کئے۔۔۔۔۔ وہاں ہر کسی کے چہرے پر خوشیاں تھی پر پھر بھی پتہ نہیں کیوں مصطفی کے دل پر بوجھ بڑھتا جا رہا تھا۔۔۔۔ ٹھیک ہے امی میں کمرے میں جا رہا ہوں کچھ دیر ریسٹ کروں گا بہت تھک چکا ہوں۔۔۔ ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔۔ وہ جلد از جلد اس ماحول سے بھی چھٹکارا چاہتا تھا اس لئے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔۔ڈائینینگ ٹیبل سے کچھ فاصلے پر کھڑی اس دس گیارہ سالہ لڑکی نے یہ سارا منظر دیکھا تھا اور دیکھ کر ذہن کی سکرین پر محفوظ بھی کر لیا تھا۔۔۔۔۔ اسکی آنکھوں مین فیل وقت یہ منظر دیکھ کر محض غصہ اور تنفر تھا۔۔۔۔۔
(جاری ہے)
