64.9K
56

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 32

احد کینٹین میں داخل ہوا تو اسکی پہلی نظر ہی سامنے بیٹھی بے حد کنفیوز انگلیاں مروڑتی حجاب پر پڑی ۔۔۔ حجاب بھی احد کو دیکھ چکی تھی پر وہ اسے دیکھ کر پھر سے نظریں جھکا گئ۔۔۔۔ اسلام و علیکم۔۔۔۔ احد سلام کرتا ہوا کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔۔۔ حجاب نے سر کے اشارے سے اسکے سلام کا جواب دیا۔۔۔۔۔ احد سنجیدہ سا بیٹھا ہر چیز کا بغور جائزہ لے رہا تھا سوائے اسکے۔۔۔۔ حجاب کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ بات کا اغاز کیسے کرے۔۔۔۔ یہ وعدے کے مطابق اگلے مہینے کی میری انسٹالمنٹ ہے۔۔۔ بلآخر جھجھکتے ہوئے وہ بنا کوئی اور بات کیے مدعے کی بات پر آئی۔۔۔۔ اور احد جانتا تھا کہ وہ خود دار اور قول کی پکی بندی جتنا مرضی اس سے چھپ لے وہ وعدے کے مطابق پانچ تاریخ کو اس سے اپنی اگلی انسٹالمنٹ کے حوالے سے ضرور ملے گئ مگر اب وہ اس سے پیسے واپس نہیں لینا چاہتا تھا۔۔۔۔ پہلے بھی اس نے حجاب سے پہلی انسٹالمنٹ اسی لئے لی تھی تا کہ اسکی عزت نفس مجروح نہ ہو پر اب تو اسکے پاس پیسے نہ لینے کا مضبوط جواز بھی موجود تھا۔۔۔۔ یہ پیسے تم اپنے پاس رکھو حجاب اور اس سے اپنے لئے شاپنگ کر لینا۔۔۔۔۔ اور سنجیدگی سے ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولا۔۔۔۔ کیااااا۔۔۔ حجاب بے یقین ہوئی۔۔۔۔۔ ایسے کیسے یہ پیسے تو آپ سے لیا ہوا قرض ہیں۔۔۔۔ ہاں ہے قرض پر تم نے مجھے دے دیا اب اسے میں تمہیں دے رہا ہوں کہ ان سے تم اپنی شاپنگ کر لینا احد نے پیسوں والا لفافہ ہاتھ سے حجاب کیطرف کھسکایا ۔۔۔۔ آپکا بہت بہت شکریہ پر مجھے کوئی شاپنگ نہیں کرنی آپ رکھیں یہ اپنے پاس حجاب نے واپس وہ پیسے احد کی طرف دھکیلے ۔۔۔ اسکے ماتھے پر ان گنت شکنوں کا اضافہ ہوا تھا۔۔۔۔ ٹھیک ہے اگر نہیں رکھنے پیسے تو پھر چلو میرے ساتھ مجھے تمہیں شاپنگ کروانی ہے۔۔۔۔ احد اپنے سن گلاسز لگاتا ہوا کھڑا ہوا۔۔۔۔ پر کیوں۔۔۔۔ وہ الجھی۔۔۔۔ کیونکہ نکاح کے بعد سے میں نے تمہیں ایک بار بھی شاپنگ نہیں کروائی۔۔۔۔۔ وہ پرسکون تھا۔۔۔۔ لیکن یہ ضروری تو نہیں ہے۔۔۔۔ ویسے بھی ابھی صرف نکاح ہوا ہے رخصتی نہیں۔۔۔۔ یہ چونچلے رخصتی کے بعد ہی اچھے لگتے ہیں۔۔۔۔ اپنی طرف سے حجاب نے مضبوط دلیل دی تھی پر اگے بھی احد تھا۔۔۔ اگر تمہاری ڈیمانڈ رخصتی ہی ہے تو یہ کوئی بڑا مسلہ نہیں میں اج ہی دادو سے بات کرتا ہوں اگلے ہی ہفتے تک یہ کار خیر بھی انجام دے دیا جائے وہ جھک کر ٹیبل پر دونوں ہاتھ رکھے حجاب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولا۔۔۔۔ تو تم ایک کام کرو پھر آج اپنا برائیڈل ڈریس سلیکٹ کر کے لے کو۔۔۔ حجاب کا رنگ پل میں فق ہوا تھا۔۔۔۔ وہ ساکت سی اسے دیکھے گئ۔۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ اگر ایک بار احد نے دادی سے اس بارے میں بات کر لی تو پھر اسکی ایک نہیں چلے گئ نکاح کی طرح دادی اسکی رخصتی بھی کروا کر ہی چھوڑیں گئ۔۔۔۔ آپ ایسا نہیں کر سکتے ابھی تو میری سٹڈیز بھی کمپلیٹ نہیں ہوئی۔۔۔ وہ نم آنکھوں اور بھرائے ہوئے لہجے میں بولی۔۔۔۔ مائنڈ اٹ حجاب یہ میری نہیں تمہاری ڈیمانڈ ہے ورنہ میں نے تو صرف شاپنگ کی بات کی تھی۔۔۔۔ وہ کندھے اچکاتا بولا۔۔۔۔ ٹھیک ہے میں خود ہی شاپنگ کر لوں گئ اس نے جھپٹنے کے سے انداز میں پیسوں والا لفافہ ٹیبل سے اٹھا کر اپنے پرس میں پھینکا اور جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی کہ مبادا وہ اپنا ارادہ بدل ہی نہ دے۔۔۔ گڈ۔۔ اب ہر مہینے کی انسٹالمنٹ سے تم نے شاپنگ ہی کرنی ہے۔۔۔۔ حجاب نے بے بسی سے اسے دیکھا پر مصلحت کا تقاضہ تھا کہ ابھی خاموش ہی رہا جائے ۔۔۔۔۔۔ جی۔۔۔ اسنے اہستگی سے ہاں میں سر ہلایا اور جلدی سے جلدی سے واپس چلے گئ۔۔۔ احد کے ہونٹوں کو ایک مدہم سی مسکان چھو گئ کہ بلآخر وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا تھا ۔۔۔۔


رات ساری میری مصطفی کے رویے کی وجہ سے آنکھوں میں کٹی تھی اور صبح چار بجے ہی وہ خرانٹ سی عورت پھر وہاں میرے کمرے میں موجود تھی۔۔۔۔ اٹھیے ملکہ عالیہ صبح ہو گئ ہے اٹھ کر اپنا کام سمبھالئے۔۔۔۔ وہ عورت میرے سر پر کھڑی طنزیہ بول رہی تھی۔۔۔ میں نے گھٹنوں سے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا۔۔۔ ارے واہ لگتا ہے مصطفی نے رات کچھ زیادہ ہی محبت نچھاور کر دی تم پر۔۔۔ وہ میرے پاس ہی زمین پر بیٹھ کر میرے چہرے پر موجود زخموں پر ہاتھ پھیر کر مسکرا کر طنزیہ بولی۔۔۔۔ میں بس گم صم سی اسے دیکھی جا رہی تھی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر یہ سب ہو کیا رہا۔۔۔ ماجرا کیا ہے۔۔۔ چلو جلدی کرو یہ ہار سنگار اتارو اور یہ کپڑے پہن کر باہر آو جلدی اس عورت نے کھڑے ہو کر ایک لان کا پرانا سا سوٹ مجھ پر پھینکا اور چٹکیاں بجا کر مجھے جلدی کرنے کو کہنے لگی۔۔۔ میرے نہ اٹھنے پر اسنے مجھے جھٹکے سے بازو پکڑ کر اٹھایا اور واش روم میں دھکیل کر دروازہ بند کر دیا۔۔۔ مجھے اپنے گھر فون کرنا ہے اور چاچا سے بات کرنی ہے۔۔۔۔۔ کپڑے بدل کر باہر آ کر میں نے بہت ہمت جمع کر کے متوازن لہجے میں کہا پر میرا یہ کہنا ہے غلط ٹھہرا۔۔۔۔ وہ عورت ایڑیوں کے بل گھومی اور مجھے پے در پے تین ٹھپر لگا کر بولی۔۔۔۔ باپ کی شادی پر آئی ہو۔۔۔۔ ونی ہو کر آئی ہو یہاں اور تجھے اپنے پچھلوں سے باتیں کرنا سوجھ رہی ہے۔۔۔۔ اس عورت نے میرے بالوں کو پکڑ کر کئ ایک جھٹکے دیئے۔۔۔۔ ونی کی بات سنتے ہی گویا مجھ پر ساتوں آسمان ٹوٹ پرے ہوں۔۔۔ میرے کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے۔۔۔۔۔ یہ سب جھوٹ ہے آپکو کوئی غلط فہمی۔۔۔۔ الفاظ میرے حلق میں ہی دم توڑ رہے تھے بڑی مشکل سے میں بول رہی تھی جب میری آواز کا گلہ ایک زوردار تمانچے نے گھونٹا۔۔۔۔ جھوٹ ہے یہ سب ہاں۔۔۔۔ میرا شوہر مرا ہے میں بیوہ ہوگئ میرے بچے یتیم ہو گئے تجھے یہ جھوٹ لگتا ہے میرے شوہر کے قاتل کی بہن ہے تو۔۔۔ دل تو چاہ رہا ہے تجھے زندہ درگو کر دوں پر ۔۔۔۔ وہ مٹھیاں بھینچے ضبط کرتی بولی۔۔۔۔ چلو تم وہ مجھے کھینچتی ہوئی ساتھ لے کر جا رہی تھی۔۔۔ جبکہ پے در پے جھٹکوں اور رات بھر کی بے سکونی کے بعد اب میرے اعصاب مفلوج ہو کر رہ گئے تھے۔۔۔۔ ایک گھنٹے میں مجھے یہ لش پش دیکھائی دے وہ مجھے کچن میں چھوڑ کر خود چلی گئی۔۔۔۔ وہ کچن کم اور گندگی کا ڈھیر زیادہ لگ رہا تھا۔۔۔۔ میں قسمت کی اس ستم ظریفی پر کھل کر ماتم بھی نہ کر پائی۔۔۔۔ کیا یتیموں کا کوئی والی وارث نہیں ہوتا میرے مولا۔۔۔۔ باپ کیا مرا دنیا نے تو ٹھوکروں پر ہی رکھ لیا مجھے ہر کسی نے ہی مجھے اپنے مطلب کیلئے استعمال کیا پہلے زہرا امی اور شہباز۔۔۔۔۔۔ اور اب چاچا کی فیملی۔۔۔۔۔ آہ۔۔۔۔


آج گھر میں ایک الگ ہی رونق لگی ہوئی تھی۔۔۔ ہر طرف عورتیں اور لڑکیاں اپنی اپنی تیاری میں مگن تھی۔۔۔۔ شور اتنا تھا کہ کان پڑی سنائی نہ دے رہی تھی۔۔۔۔ ارحمہ تتلی بنی ادھر سے ادھر گھوم رہی تھی۔۔۔۔ اندر کمرے میں ہادیہ پیلے اور سبز امتزاج کے سوٹ میں پھولوں کا ہار سنگھار کئے افسردگئ کا منہ بولتا مجسمہ بنی ہوئی تھی۔۔۔۔ جیسے جیسے وقت قریب آتا جا رہا تھا ہادیہ کو اپنے دل کی دھڑکن کم ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔ فرار کی کوئی راہ نہیں مل رہی تھی۔۔۔۔ اس نے کئ بار سوچا کہ جا کر ابا کو سب سچ سچ بتا دے۔۔۔۔ اور کوئی یقین کرے نہ کرے پر اسکے ابا ضرور اسکا یقین کرتے۔۔۔ لیکن آگے کی صورتحال سوچ کر وہ ایک بار پھر سے تھرا جاتی۔۔۔۔ لوگوں کو ایک دن پہلے بارات نہ لانے کا کیا جواز پیش کیا جاتا۔۔۔۔ لوگوں کے طعنے انکی باتیں تمسخرانہ نظریں۔۔۔۔۔ ابا کا جھکا ہوا سر۔۔۔۔ اسکی ہمت ٹوٹنے لگتی۔۔۔ ابھی وہ اسی ادھیڑ پن میں الجھی ہوئی تھی جب اسکا فون بج اٹھا۔۔۔۔ اس نے ایک گہری سانس خارج کر کے فون اٹھایا کیونکہ جانتی تھی کہ اس شخص سے بات کرنے کے لئے اسے بہت حوصلے کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔ ہیلو سویٹ ہارٹ کیسی ہو۔۔۔ اسکی مسکراتی ہوئی زندگی سے بھرپور آواز ایئر پیس سے سنائی دی۔۔۔۔۔ افف کتنا بے فکرا ہے یہ شخص۔۔۔ جیسے کسی چیز کی کوئی پرواہ نہیں اپنے حال میں مست۔۔۔۔۔ ہادیہ کو اسکی بے فکری پر رشک آیا۔۔۔ زندہ ہوں۔۔۔۔ وہ مایوس سے لہجے میں آہستہ آواز میں بولی۔۔۔۔۔ اف ہو ہادیہ میں نے ایک دن فون نہیں کیا تو اتنی مایوسی یار ناٹ فیئر۔۔۔۔۔ مصروف تھا اس لئے فون نہیں کر پایا۔۔۔ پر اگر تم اتنا ہی مجھے مس کر رہی تھی تو سویٹ ہارٹ تم خود فون کر لیتی۔۔۔ ہادیہ نے اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں۔۔۔۔ جانتی تھی کہ وہ شخص اسے جان بوجھ کر زچ کر رہا ہے۔۔۔۔ ہوگئ بکواس ختم اب میں فون رکھو۔۔۔ وہ خود کو کمپوز کرتی ہوئئ بولی۔۔۔۔۔ ارے نہیں یار ابھی کہاں۔۔۔۔ اچھا چھوڑو ان سب باتوں کو ایک بات تو بتاو آج تو تمہارے گھر میں اچھی خاصی رونق لگی ہے تمہاری نہ ہونے والی شادی کی رسمیں ہو رہی ہیں تو یقیناً تم بھی تیار ہوئی ہو گئ تو یار کچھ سیلفیز ہی سینڈ کر دو۔۔۔۔ تف ہے تم پر شاہان۔۔۔۔ تم ایک جذبات سے عاری بے حس انسان ہو جیسے دوسرے کی فیلنگز کی کوئی پرواہ نہیں۔۔۔۔ بلآخر وہ پھٹ پڑی تھی۔۔۔ کیوں اتنی ٹینشن لے رہی ہو یار نکاح پر نکاح تو ہو نہیں سکتا پھر پریشانی کس بات کی ہے۔۔۔۔ ہادیہ کو اس پر جی بھر کر غصہ آیا کہ جس بات کو لے کر اسکی جان سولی پر لٹکی ہوئی تھی اس بات کی اسکی نظر میں اہمیت ہی کوئی نہیں تھی۔۔۔۔ ڈھرلے سے کل نکاح سے منع کر دینا۔۔۔ جتنا لوگوں کی پرواہ کرو گئ اتنا ہی وہ مزید تمہارے سر پر سوار ہوں گئے سو چل یار۔۔۔۔ اور ہاں ایک بات یاد رکھنا آج سے لے کر کل تک تم صرف میرے نام پر اور صرف میرے لئے ہی سجو گئ مائنڈ اٹ ہادیہ۔۔۔۔ اور تمہارے ہاتھوں پر صرف اور صرف میرے ہی نام کی مہندی لگے گئ باقی تو سب دنیا دکھاوا ہے۔۔۔۔ ہادیہ نے چپکے سے موبائل کان سے ہٹا کر بند کیا اور پھر اسے پاور آف ہی کر دیا۔۔۔۔ وہ اب مزید اس مشکل کے وقت پر اس شخص کی مطلبی باتیں نہیں سن سکتی تھی۔۔۔۔۔


دو گھنٹوں کی جان توڑ محنت کے بعد میں نے بلآخر وہ کچن صاف کیا اب تو میرا انگ انگ دکھ رہا تھا مزید کھڑے ہونے کی ہمت بلکل مفقود تھی۔۔۔۔ پر جس جگہ میں پھنس چکی تھی وہاں سے رہائی بھی بھلا ممکن تھی۔۔۔ چھے بجے مجھے اگلا حکم ناشتہ تیار کرنے کا ملا ناشتہ بناتے ہوئے کئ بار میرے آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا۔۔۔۔ سر چکرانے کی وجہ سے میں گرنے والی تھی جب دو مشفق ہاتھوں نے مجھے تھام لیا۔۔۔۔ دھیان سے بیٹا۔۔۔۔ وہ ایک ادھیر عمر مشفق سی خاتون تھیں۔۔۔۔ آپ۔۔۔۔ میں اس حویلی کی پرانی ملازمہ ہوں بیٹا۔۔۔۔ سب مجھے خالہ بی کہتے ہیں۔۔۔۔ تم بھی مجھے خالہ بی ہی کہہ سکتی ہو۔۔۔ انہون نے مجھے پکڑ کر پاس پڑے سٹول پر بیٹھایا۔۔۔۔ مجھے تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی بیٹا تم رہنے دو میں ناشتہ بناتی ہوں۔۔۔ پر ۔۔۔۔ پر ور کچھ نہیں بچے تم بس یہان سے باہر نظر رکھنا اگر تمہیں چھوٹی بہو کے کچن میں آنے کے کوئی آثار نظر آئے تو فوراً سے مجھے بتا دینا۔۔۔ اگر چھوٹی بہو کو پتہ لگ گیا نہ کہ میں تمہا تمہاری مدد کر رہی ہوں تو وہ قیامت کھڑی کر دیں گئ۔۔۔۔ ان کی باتیں سن کر مجھے نئے سرے سے رونا آنے لگا۔۔۔۔ خالہ بی مجھے گھر فون کرنا ہے پلیز میری چاچا سے بات کروا دیں۔۔۔۔۔ اجنبیوں بھرے اس گھر میں جیسے ہی مجھے کوئی سہارا میسر ہوا میں پھر سے سسک اٹھی۔۔۔۔ بیٹا بہت مشکل ہے یہ بہت مشکل۔۔۔ پر میں پھر بھی کوشش کر کے دیکھتی ہوں۔۔۔۔ انہیں شائید میرے حال پر رحم آیا تھا اسی لئے وہ نیم رضا مند ہو گئ۔۔۔ اب مجھے صرف چاچا سے بات کر کے اصل بات کنفرم کرنا تھی۔۔۔۔۔


آج ہادیہ کو پور پور سجایا گیا تھا۔۔۔۔ اپنا یوں سجا سنورا روپ آئینے میں دیکھ کر اسے خود یقین نہ آیا کہ یہ وہی ہے۔۔۔ ہمیشہ سے سادا سی رہنے والی لڑکی پر آج ٹوٹ کر روپ آیا تھا۔۔۔ پر دل کو کسی طور چین نہ تھا۔۔۔۔ اس پر کپکپی طاری ہونے لگی تھی۔۔۔۔ یکدم ہی باہر سے بارات آنے کا شور بلند ہونے لگا تو سب لوگ باہر بارات دیکھنے چلے گئے۔۔۔۔ یا اللہ میری مدد فرما۔۔۔۔ مجھے رسوا ہونے سے بچالے میرے مالک۔۔۔۔ میرے باپ کا سر جھکنے سے بچالے۔۔۔ یا اللہ مجھ گنہگار کو معاف کر دے میرے مالک۔۔۔۔ تنہائی میسر آتے ہی وہ اپنے رب کے سامنے گرگرانے لگی تھی۔۔۔۔۔۔ کچھ ہی پلوں بعد نکاح خواں ابا اور گواہوں کے ساتھ کمرے میں آیا تھا۔۔۔۔ ہادیہ کو اپنا سانس بند ہوتا محسوس ہوا۔۔۔۔ اسے لگا وہ کبھی بول نہیں پائے گئ کبھی ہل نہیں پائے گئ۔۔۔۔ اسکا سر چکرانے لگا تھا۔۔۔۔ یا اللہ اس ذلت کی جگہ مجھے موت دے دے میرے مالک۔۔۔۔ میں اتنی مضبوط نہیں ہوں میں لوگوں سے نہیں لڑ سکتی میرے مالک بس اب میرے سانس چلنا بند ہو جائیں۔۔۔ قاضی نکاح کے مندرجات پڑھ کر اسکے قبول ہے کہنے کے انتظار میں تھا پر وہ تھی کہ پتھر کا مجسمہ بنی بیٹھی تھی سوائے ایک آنسوں کے کوئی چیز ایسی نہ تھی جو کہ اسکے زندہ ہونے کی نشاندہی کرتی۔۔۔۔ لوگ اب حیرت سے اسے دیکھنا شروع ہو گئے تھے۔۔۔۔
) (جاری ہے)