Be Dard Piya By Umme Hania Readelle50176 Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
ارے آو آو احد بیٹا کیسے ہو تم اس بار کافی دیر بعد چکر لگایا تم نے احد کے سلام کرنے پر مسز جابر صوفے سے اٹھتی کافی خوشدلی سے احد سے ملیں۔۔۔۔ بس آنٹی کچھ مصروفیات تھیں جن کی وجہ سے میں نہیں آ سکا۔۔۔۔ ابھی بھی بہت ضروری میٹنگ چھوڑ کر آیا ہوں شاہان پچھلے تین دن سے یونیورسٹی نہیں آ رہا فون بھی اسکا بند پڑا ہے۔۔۔ اس لئے اسکی فکر ہو رہی تھی مجھے ٹھیک تو ہے نہ وہ۔۔۔۔ احد بھی انکے پاس ہی لاوئنج میں پڑے سنگل صوفے پر بیٹھ چکا تھا فکر مندی اسکے ہر انداز سے ہوادیدا تھی۔۔۔۔۔ بس بیٹا اب کیا بتاؤں تمہیں مجھے تو خود کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔۔۔۔۔ تین دن سے کمرا نشین ہوا بیٹھا ہے نہ ہی باہر آتا ہے اور نہ ہی دروازہ کھولتا ہے۔۔۔۔ پہلے تو اسکی پھپو آئی ہوئی تھی تو تب تو اسکا گریز سمجھ بھی آتا تھا پر اب تو وہ بھی جا چکی ہے اب تو اسکی حرکتیں سمجھ سے باہر ہیں۔۔۔۔ بہت اچھا کیا بیٹا تم نے خود ہی چکر لگا لیا ورنہ میں تمہیں ہی فون کرنے والی تھی۔۔۔۔ اب تم ہی اس سے بات کرو اور پوچھو کہ اسے مسلہ کیا ہے۔۔۔۔۔ مسز جابر بہت دل گرفتہ تھیں۔۔۔۔ جی آنٹی آپ فکر نہ کریں میں دیکھتا ہوں اسے۔۔۔۔ وہ انہیں تسلی دیتا خود سیڑھیاں چڑھ کر شاہان کے کمرے کی طرف گیا۔۔۔۔ اس نے کئ ایک بار شاہان کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا پر جواب ندارد۔۔۔۔ دیکھو شاہان اب اگر تم نے دروازہ نہ کھولا نہ تو میں دروازہ توڑ دوں گا اور تم جانتے ہو کہ میں ایسا کر سکتا ہوں۔۔۔۔ کافی دیر تک جب شاہان نے دروازہ نہ کھولا تو احد نے آخری ہربے کے طور پر اسے دھمکی دے ڈالی کیونکہ اب وہ حقیقتاً شاہان کیوجہ سے پریشان ہو چکا تھا۔۔۔۔ دھمکی کارآمد ثابت ہوئی تھی ن اور تھوڑی ہی دیر بعد کلک کی آواز سے دروازہ کھل گیا تھا۔۔۔۔ احد نے خدا کا شکر ادا کیا اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔۔۔۔ پر اندر آتے ہی اسے چارسوچالیس والٹ کا جھٹکا لگا۔۔۔۔ کمرا نیم تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔۔۔۔۔ کھڑکیوں کے آگے بھاری دبیز پردے گرے تھے جو کہ دوپہر کے وقت بھی رات کا سماں پیش کر رہے تھے۔۔۔۔ کمرے میں ہر طرف سگریٹ کا دھواں اور بدبو پھیلی تھی۔۔۔۔ احد کھانستا ہوا اندر داخل ہوا اور اس نے سب سے پہلے کھڑکیوں کے آگے سے پردے ہٹا کر روشنی کو اندر داخل ہونے کا راستہ دیا۔۔۔۔ یکدم ہی کمرا روشنی سے نہا گیا۔۔۔۔۔ پھر اس نے ایک طائرانہ نگاہ کمرے پر ڈالی کمرے کا سارا سامان بکھرا پڑا تھا۔۔۔۔ جگہ جگہ سگریٹ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے پڑے ہوئے تھے اور وہ خود بیڈ کی پائنتی کیساتھ ٹیک لگائے سر گھٹنوں میں چھپائے زمین پر بیٹھا تھا۔۔۔ شاہان احد نے اسکے پاس بیٹھ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔ شاہان نے احد کیطرف دیکھا تو اسکی حالت دیکھ کر ایک پل کے لئے احد ہل کے رہ گیا۔۔۔۔ بڑھی ہوئی شیو اور کئی دنوں کے کنگھی کئے بال شکن آلود لباس آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے۔۔۔۔۔ وہ اسے کہیں سے بھی اسکا زندہ دل دوست شاہان نہ لگا۔۔۔۔ یہ سب کیا ہے شاہان یہ کیا حالت بنا رکھی ہے تم نے اپنی۔۔۔۔ احد کی حیرت تھی کہ کسی طور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔ شاہان اسکے کندھے لگ کر بچوں کیطرح پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔۔۔۔یہ دیکھ احد کی تو روح فنا ہونے لگی کہاں دیکھی تھی اسنے شاہان کی ایسی حالت وہ تو اچھے اچھوں کی بینڈ بجا دیتا تھا تو پھر آج اسے کیا ہوا تھا۔۔۔۔۔ دیکھ شاہان جب تک تو مجھے کچھ بتائے گا نہیں تو مجھے کیسے پتا چلے گا اور اور پھر میں کیسے تمہاری مدد کروں گا دیکھ میرے بھائی مجھ سے کچھ مت چھپا۔۔۔۔ احد مجھے مس ہادیہ چاہیے۔۔۔ ہر حال میں۔۔۔۔ میں انکے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔۔ میں کسی صورت ان کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔۔۔ مجھے کچھ نہیں پتہ مجھے بس مس ہادیہ چاہیے۔۔۔۔ وہ روتے ہوئے احد کے دونوں ہاتھ پکڑے کسی چھوٹے سے بچے کی طرح فریاد کر رہا تھا۔۔۔ اور احد اس انکشاف کے بعد تو جیسے اسے سانپ سونگھ گیا تھا۔۔۔۔۔ تو جانتا ہے شاہان تو کیا کہہ رہا ہے۔۔۔۔۔ تو ہوش میں تو ہے۔۔۔۔ مس ہادیہ بالکل بھی کوئی ایسی ویسی لڑکی نہیں ہے۔۔۔۔ احد کچھ دیر بعد اپنے حواس بحال کرتا کہنے لگا۔۔۔ جانتا ہوں احد سب جانتا ہوں اسی لئے تو انہیں اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔ کیا تو ان سے محبت کرنے لگا ہے شاہان۔۔۔۔ احد سنجیدگی سے گویا ہوا۔۔۔۔۔ پتہ نہیں احد۔۔۔۔ پر میں شائید انکا عادی ہو چکا ہوں۔۔۔۔ مجھے ان سے باتیں کرنا اچھا لگتا ہے انہیں سننا اچھا لگتا ہے۔۔۔۔ انہیں بار بار تنگ کر کے انہیں زچ کر کے ان سے ڈانٹ کھانا اچھا لگتا ہے۔۔۔۔ دل ہمیشہ کے لئے انکی قربت کا تمنائی بنا بیٹھا ہے۔۔۔۔۔ مجھے وہ ہر حال میں چاہیے۔۔۔۔ وہ مضطرب سا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا کمرے میں دائیں سے بائیں چکر کاٹ رہا تھا۔۔۔۔ شاہان تو سیریس ہے۔۔۔۔ سٹامپ پیپر پر لکھ کر دوں اب تجھے۔۔۔۔ اب وہ احد کی جرح سے اکتا چکا تھا اس لئے خونخوار تیور لئے اسکی طرف پلٹا۔۔۔ پر تجھے کیوں لگتا ہے کہ مس ہادیہ تیرا پرپوزل ایکسیپٹ کریں گئ وہ بھی تب جب انکی شادی میں بھی محض چند ایک دن رہ گئے ہیں۔۔۔۔ احد اب ہر طرف سے حالات کا جائزہ لے رہا تھا یہ ہی تو بات ہے احد جو سکون نہیں لینے دیتی کہ وہ بھلا میرا پرپوزل کیوں ایکسیپٹ کرنے لگی۔۔۔ وہ ایک دم سے مایوس ہوتا بیڈ پر بیٹھ کر سر ہاتھوں میں گرا گیا۔۔۔۔ احد کو اس پر جی بھر کر ترس آیا۔۔۔ اچھا تو فکر نہ کر بات کرنے سے ہی مسلے حل ہوتے ہیں تو ان سے بات تو کر کے دیکھ۔۔۔۔ احد نے اسے حل بتایا۔۔۔۔ اور اگر انہوں نے مجھے منع کر دیا تو۔۔۔۔۔ تو یہ بعد کی بات ہے۔۔۔۔ آگے کا لائحہ عمل بعد میں سیٹ کریں گے۔۔۔۔ پر ایک بات یاد رکھنا شاہان تو ہر جگہ ہر حالات میں مجھے اپنے ساتھ پائے گا۔۔۔۔۔ تھینک یو یار تھینک یو ویری مچ۔۔۔۔ شاہان نے مسکراتے ہوئے احد کو گلے سے لگا لیا۔۔۔۔ اچھا بس بس اب زیادہ ایموشنل ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ پرسوں میرا نکاح ہے اور میں تجھے انوائیٹ کرنے آیا تھا کہ تمہارے بغیر آخر میرا نکاح کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔ احد کی بات پر شاہان کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔۔۔۔ بےغیرت۔۔۔ چھپے رستم ۔۔۔۔۔ کمینے ذلیل انسان۔۔۔۔ سب کچھ بالا ہی بالا طے کر کے تو مجھے نکاح کے لئے انوائیٹ کرنے آیا ہے۔۔۔۔ صدمے سے نکلتے ہی شاہان اسکی طرف لپکا تھا جبکہ احد آگے آگے اور شاہان اسکے پیچھے پیچھے تھا۔۔۔ کچھ ہی دیر میں کمرا انکی ہسی کی جھنکار سے گونج اٹھا تھا۔۔۔۔۔
مصطفی کمرے کو باہر سے کھول کر اندر داخل ہوا تو سامنے ہی ندا فرش پر اوندھے منہ گری پڑی تھی۔۔۔ اوہ میرے خدا۔۔۔ مصطفی کے ہاتھ سے دوائیوں والے شاپر چھوٹ گئے تھے وہ تیر کی سی تیزی سے ندا کیطرف لپکا اور اسکا سر اٹھا کر اپنی گود میں رکھ کر اسکا چہرا تھپتھپانے لگا۔۔۔۔ ندا آنکھیں کھولو۔۔۔۔ آنکھیں کھولو ندا۔۔۔ جب کافی دیر کی کوشش کے بعد بھی ندا نے آنکھیں نہ کھولیں تو وہ فکرمندی سے ادھر ادھر دیکھ کر ندا کو ہوش میں لانے کے لئے کچھ تلاشنے لگا۔۔۔ پھر جلدی سے سائیڈ ٹیبل سے پانی کا جگ اٹھا ک
کر اسکا پانی گلاس میں انڈیل کر لایا اور آ کر اسکے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارنے لگا۔۔۔۔ کچھ دیر بعد ندا نے ہلکی سی آنکھیں کھول کر مصطفی کو دیکھا اور پھر سے آنکھیں مونڈ لیں۔۔۔۔ مصطفی نے جلدی سے گلاس سائیڈ پر رکھا اور ندا کا سر اٹھا کر تھوڑا سا اونچا کر کے وہی پانی اسکے منہ کو لگانا چاہا جیسے شدید پیاس ہونے کے باوجود ندا نے اپنے ہونٹوں سے دور کر دیا۔۔۔۔ مصطفی نے نا سمجھی سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔۔ کیا ہوا ندا۔۔۔ مم میرا رو۔۔۔۔ روزہ ہے۔۔۔ اور ساتھ ہی مصطفی کے ہاتھ سے پانی کا گلاس چھوٹ گیا۔۔۔ بے شک رمضان کا مہینہ چل رہا تھا پر انکے گھر کوئی خاص روزوں کا احتمام نہیں کیا جاتا تھا۔۔۔۔ پر روزے کیساتھ ندا کی اتنی بری حالت کی گئ تھی اب مصطفی کو وردہ پر رہ رہ کر تاو آ رہا تھا۔۔۔۔ وہ اسوقت ضبط کے کڑے مراحل میں تھا بہت مشکل سے خود کو کمپوز کر کے وہ ندا کیطرف متوجہ ہوا۔۔۔۔ اچھا چلو اٹھنے کی کوشش کرو اٹھ کر بیڈ پر لیٹو۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ ندا نے بے بسی سے گردن نفی میں ہلا کر جواب دیا۔۔۔۔۔ بے آواز آنسو پلکوں کی بار پھیلانگ کر بہے جا رہے تھے۔۔۔۔ نہیں اٹھ سکتی میں۔۔۔۔ ندا کی حالت مصطفی کے دل پر آرے چلا رہی تھی بہت مشکل سے وہ اپنی آنکھوں کی نمی کو چھلکنے سے روکے ہوئے تھا۔۔۔۔ ندا یک ٹک اسے دیکھے جا رہی تھی۔۔۔ پلیز ندا تھوڑی سی ہمت کرو۔۔۔۔ مصطفی نے اسے پھر سے سہارا دے کر اٹھانا چاہا پر اسنے ایک بار پھر سے نفی میں گردن ہلا دی۔۔۔۔ بلآخر مصطفی نے اسے اپنی بانہوں میں بھر کر اٹھایا اور اختیاط سے بیڈ پر لٹا کر اس پر لحاف اوڑھایا اور ریمورٹ اٹھا کر اے سی کی کولنگ مزید بڑھا دی۔۔۔ ندا ابھی روزہ افطار ہونے میں کافی وقت ہے تب تک تم تھوڑا سو لو وہ اسکے ماتھے پر آئے بالوں کو اپنے ہاتھوں سے پیچھے کرتا واپس پلٹا اور ڈریسنگ کے پاس پڑا اپنا بلیک کیس اٹھا کر جاتا ہوا کمرے کی لائٹ آف کر کے اختیاط سے دروازہ بند کر کے باہر نکل گیا۔۔۔
وہ وہاں سے سیدھا اپنے آفس آیا تھا۔۔۔۔ سارے راستے اسکے ذہن میں صرف ندا ہی گردش کرتی رہی تھی۔۔۔۔ آفس پہنچ کر اسنے اپنا کیس کھولا جس میں اسکی چند ایک ضروری فائلز تھیں پر کیس کھولنے پر سب سے اوپر ایک گولدن کلر کی ڈائری جھگمگا رہی تھی۔۔۔۔ مصطفی نے ناسمجھی سے اس دائری کو دیکھا اور اسکا پہلا صفحہ کھولا سامنے ہی ندا کی ایک خوبصورت تصویر جگھمگا رہی تھی۔۔۔۔ میری زندگی کی کہانی۔۔۔۔ اس تصویر کے نیچے یہ بڑے بڑے الفاظوں میں درج تھا۔۔۔۔ ندا کی ڈائری۔۔۔۔ پر یہ میرے کیس میں کیا کر رہی ہے۔۔۔۔ وہ الجھا تھا۔۔۔۔ پر پھر تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر ڈائری کا پہلا صفحہ پلٹنے لگا۔۔۔۔
میرا نام ندا خان ہے۔۔۔۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ کبھی ڈائری لکھوں گی۔۔۔۔ پر ہم جو سوچتے ہیں وہی حقیقت میں ہو یہ ضروری تو نہیں۔۔۔۔ اسی طرح آج مجھے اس ڈائری کی اشد ضروت محسوس ہو رہی ہے۔۔۔۔
میں ندا خان اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہوں۔۔۔ امی کی پیاری اور ابا کی دلاری اور آنکھوں کا تارا ہوں ۔۔۔۔ پہلی لائن پڑھتے ہی مصطفی یوں اچھلا جیسے اسے بچھو نے ڈس لیا ہو۔۔۔۔ ڈائری اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر زمیں بوس ہوگئ تھی۔۔۔۔ اکلوتی اولاد اکلوتی اولاد کے الفاظ مصطفی کے دماغ میں گردش کرنے لگے تھے۔۔۔۔ اگر ندا اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہے تو پھر وہ اپنے بھائی کے جرم میں ونی ہو کر یہاں کیسے آئی جبکہ اسکا تو کوئی بھائی ہے ہی نہیں۔۔۔۔ پھر۔۔۔۔ کون تھی ندا اس حویلی تک کیسے پہنچی۔۔۔۔ کہیں کچھ مسنگ تھا۔۔۔۔ عجیب و غریب سوالوں سے اسکا دماغ پھٹنے کے قریب تھا۔۔۔۔ تو کیا ندا واقع بے قصور تھی۔۔۔ کیا وہ ابھی تک ایک بے قصور لڑکی پر ظلم ڈھاتا آیا تھا۔۔۔ مصطفی کو لگ رہا تھا جیسے اسکے دماغ کی کوئی شریان پھٹ جائے گئ۔۔۔ آگے کی کہانی جاننے کے لئے اسنے کپکپاتے ہاتھوں سے نیچے گری ڈائری کو اٹھایا۔۔۔۔
(جاری ہے)۔
