64.9K
56

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 49

احد کدھر ہو یار ابھی تک نہیں پہنچے۔ ۔۔ بارات بس نکلنے ہی والی ہے۔ ۔۔۔
شاہان اپنے کمرے میں ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا میرون اور سکن کلر کی شیروانی پہنے بال خوبصورتی سے سیٹ کئے اپنا جائزہ لیتے ہوئے ایک ہاتھ سے فون کان کو لگائے احد سے بات کر رہا تھا۔ ۔۔۔
بس یار راستے میں ہوں۔ ۔۔۔۔ حجاب کو پک کرنے چلا گیا تھا اس لئے تھوڑی دیر ہو گئ۔ ۔۔ ایئر پیس سے آواز ابھری۔ ۔۔۔۔
تھوڑی دیر۔ ۔۔ کمینے انسان صرف تمہاری وجہ سے ابھی تک بارات رکی ہوئی ہے۔ ۔۔۔ کہ میں تمہارے بغیر نکلنے والا نہیں اور تو مجھے لیٹ کروا رہا ہے۔ ۔۔۔
بیٹا یاد رکھنا تیری شادی پر میں گن گن کر بدلے لینے والا ہوں۔ ۔۔۔ شاہان دانٹ پیستا ہوا کمرے میں میں دائیں سے بائیں چکر کاٹ رہا تھا۔ ۔۔
اسکا بس نہ چل رہا تھا کہ وہ اڑ کر ہادیہ کہ پاس پہنچ جائے۔ ۔۔۔
ایک تو وہ اسکے کسی میسج کا بھی ریپلائے نہیں کر رہی تھی اور نہ ہی اسکی کال اٹھا رہی تھی۔ ۔۔۔۔
ہاہاہاہا۔ ۔۔۔ احد کے قہقے پر شاہان نے موبائل کان۔ سے ہٹا کر اسے گھورا۔ ۔۔۔۔
اتنی بے صبری شہزادے۔ ۔۔۔ حوصلہ رکھو آج تو ہم باقاعدہ اسے تمہارے نام کر رہے ہیں۔ ۔۔ ۔۔۔
احد کی بات پر وہ دھیرے سے مسکرا دیا۔ ۔۔۔
تیار ہو چکی ہو تو اپنی ایک تصویر ہی سینڈ کر دو ۔۔۔
اس نے مسکراتے ہوئے ہادیہ کو میسج سینڈ کیا


واو میم۔ ۔۔ یو لکنگ سو بیوٹیفل
Wow madem you looking so beautiful
بیوٹیشن ابھی ابھی ہادیہ کو تیار کر کے پیچھے ہٹی تھی اور اب اسکے پیچھے کھڑی اسکے عکس کو آئینے میں سے دیکھتی تعریفی کلمات کہہ رہی تھی۔ ۔۔
اس کے کہنے پر ہادیہ نے اپنی جھکی پلکیں اٹھا کر آئینے میں نظر آتے اپنے عکس کو دیکھا۔ ۔۔۔۔
کئ پلوں تک وہ خود ہی اپنے عکس سے نظریں نہ ہٹا پائی۔ ۔ ڈیپ ریڈ اور گولڈن کلر کے روایٹی برائیڈل دریس میں ڈائمنڈ جیولری کی ہمراہ وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ ۔۔۔
وہ ہمیشہ سے ہی سادگی پسند تھی اور سادہ ہی رہی تھی اس لئے آج اس پر دلنہاپے کا ٹوٹ کر روپ آیا تھا۔ ۔۔ آج اسکے چہرے پر ایک الوہی سی چمک تھی۔ ۔۔۔
بیٹا کبھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا۔ ۔۔۔ سب سہہ جانا ۔۔۔۔ برداشت کر جانا۔ ۔۔ کبھی دکھ دینے والے کو پلٹ کر دکھ نہ دینا۔ ۔۔ تمہارا رب تمہیں تمہارے صبر کا اجر دینے والا ہے۔ ۔۔۔۔ اور بے شک صبر کرنے والوں کے لئے اسکے رب کے پاس بہت بڑا انعام ہے۔ ۔۔
جس کائنات میں درخت کا ایک پتہ بھی اسکے رب کی اجازت کے بغیر نہیں ہلتا وہاں کیسے ممکن ہے کہ وہ رب تمہارے حال سے ناواقف ہو۔ ۔۔ وہ سب جانتا ہے اور یقیناں اس نے تمہارے لئے کچھ اچھا ہی سوچ رکھا ہے۔ ۔۔۔
ایک آواز ہادیہ کے کان سے ٹکرائی تھی، ۔۔۔۔۔
ضبط کرتے کرتے بھی ایک آنسو ہادیہ کی آنکھ سے ٹوٹ کر رخسار پر پھسل گیا تھا۔ ۔۔۔
آہ۔ ۔۔ خالہ۔ ۔۔
بے آواز اسکے ہونٹوں سے ادا ہوا تھا۔ ۔۔ تبھی اسکے موبائل پر میسج بپ ہوئی تھی اور شاہان کا میسج پڑھ کر وہ مسکرا دی تھی۔ ۔۔۔


آپو آپ تیار۔ ۔۔۔۔
کمرے کا دروازہ کھول کر ارحمہ اندر داخل ہوئی تھی جب ہادیہ کو دیکھتے ہوئے باقی کے الفاظ اسکے منہ میں ہی رہ گئے تھے۔ ۔۔۔
ماشااللہ۔ ۔۔۔ آپو۔ ۔۔۔کہیں آپکو میری ہی نظر نہ لگ جائے۔ ۔۔ وہ بے ساختہ ہادیہ کیطرف بڑھی تھی اور اس کے گلے سے لگ گئ تھی۔ ۔۔
شاہان نے برائیڈل ڈریس اور جیولری کی ایک ایک چیز خود خرید کر بھیجی تھی۔ ۔۔۔ اور اسکی ایک ایک چیز دیکھنے والوں کی آنکھوں کو خیراہ کر رہی تھی۔ ۔۔۔
اب بھی ہادیہ کو اس روپ میں نازک سی ڈائمنڈ جولری میں دیکھ کر اسے بے ساختہ ہادیہ کی قسمت پر رشک آ رہا تھا۔ ۔۔
آپ ہیں نہ ابا کی فرماں براد بیٹی تبھی اسی چوکھٹ پر بیٹھی ہیں اور نہ جانے کب تک بیٹھی رہیں گئ۔ ۔۔۔کبھی کے اپنے ہی کہے گئے الفظ ارحمہ کے کانوں سے ٹکرا کر اسے شرمندگی کی اٹھاہ گہرائیوں میں دھکیل گئے تھے۔ ۔۔۔
تبھی باہر بارات آگئ کا شور اٹھا تھا۔ ۔۔۔ وہ بھی خود کو کمپوز کرنے کی خاطر بارات کا بہانہ بنا کر باہر نکل گئ۔ ۔۔۔
شاہان روایتی اندازمیں گھوڑی چڑھ کرآیا تھا۔ ۔۔۔ احمد صاحب اسکی شادی پر کوئی کسر چھورنا نہیں چاہتے تھے۔ ۔۔ اسی لئے اپنے دل کے سبھی ارمان نکال رہے تھے۔ ۔۔ گھوڑی پر بیٹھا وہ اپنے کھڑے نقوش اور اجلی رنگت کے باعث کسی سلطنت کا شہزادہ معلوم ہوتا تھا۔ ۔۔۔۔
ہادیہ کی بری میں موجود تمام اشاء اس قدر عمدہ اور ایک سے بڑھ کر ایک تھیں کہ وہاں موجود تمام عورتوں نے اپنی انگلیاں دانتوں تلے داب لیں تھیں کہ ایک ایسی لڑکی جس کی بارات عین نکاح کے وقت واپس لوٹ گئ تھی اسکی اتنی اچھی قسمت ۔ ۔۔۔۔
آپ ہیں نہ آپو اپنی اقدار اور ان تمام اصول و قواعد کو تھام کر رکھنے والی تو کیا چاہتی ہیں آپ میں بھی یہ سب کر کے بیٹھی رہوں یہاں پر کسی رندوا یا چار بچوں کے باپ سے شادی کے انتظار میں۔ ۔۔ سوری آپکی یہ چیزیں آپ ہی کو مبارک۔ ۔۔۔
ہادیہ کی ایک ایک چیز کو دیکھتے ہوئے۔ ۔۔ اور ہادیہ کے لئے ہر آنکھ میں رشک دیکھتے ہوئے ارحمہ کا ضمیر اسے بار بار کچوکے لگا رہا تھا۔ ۔۔۔
وہ ایک کونے میں جا کر اپنے بہہ جانے والے آنسو کو صاف کرنے لگی


ہادیہ کو لا کر اسٹیج پر شاہان کے پہلو میں بیٹھایا گیا تو شاہان کی نظریں اس سے ہٹنے کو انکاری ہو گئی تھیں۔ ۔۔۔ کب دیکھا تھا اس نے ہادیہ کا یوں سجا سنورا روپ۔ ۔۔۔۔ اور آج تو وہ پور پور اس کے لئے سجائی گئ تھی یہ احساس ہی اس کے لئے بہت روح افزا تھا۔ ۔۔
آہم آہم۔ ۔۔ بس کر دیں بھیو۔ ۔۔۔ سب کیا کہیں گئے کہ کس قدر بے صبرا دلہا ہے۔ ۔۔۔ ہادی کے شاہان کے کان کے قریب جھک کر سرگوشی کرنے پر شاہان نے اسے گھور کر دیکھا۔ ۔۔۔
تبھی ارحمہ دودھ پلائی کی۔ رسم کے لئے دودھ کا گلاس لے کر اسٹیج پر آئی پر شاہان کیساتھ بیٹھے ہس ہس کر باتیں کرتے ہادی ملک کو دیکھ کر ایک پل کو ارحمہ کا ہاتھ کا نپا تھا۔ ۔۔
آرام سے محترمہ۔ ۔۔۔ آپ غالباں یہ دودھ بھیو کو پلانے کے لئے لائی ہیں نہ کہ ان پر گرانے کے لئے۔ ۔۔۔اس سے پہلے کہ دودھ کا گلاس شاہان پر چھلکتا ہادی نے آگے بڑھ کر ارحمہ کے ہاتھ سے گلاس پکڑ لیا۔ ۔۔۔
شاہان نے دودھ پلائی میں ارحمہ کو ڈائمنڈ ایئررنگ دیئے تھے۔ ۔۔۔۔
کچھ ضروری رسموں کے بعد رخصتی کا شور بلند ہوا تھا اور ہادیہ اپنے باپ کے گلے لگ کر اسقدر ٹوٹ کر روئی تھی کہ وہاں موجود ہر آنکھ نم ہوگئ تھی۔ ۔۔۔


شاہان پوری شن و شوکت سے ہادیہ کو رخصت کروا کر کے اپنے فلٹ میں لایا تھا۔ ۔۔۔
وہاں کے سارے ارینجمینٹس احد اور حجاب نے ہی سمبھالے تھے۔ ۔۔ شادی کی پوری تقریب میں احد کی بے اختیارانہ نظریں خود پر مرکوز دیکھ کر حجاب بار بار کنفیوز ہو رہی تھی۔ ۔۔۔
پر آج تو احد کے رنگ دھنگ ہی بدلے ہوئے تھے۔ ۔۔۔
افف یار شاہان کی شادی کے بعد اب مجھے شدت سے احساس ہو رہا ہے کہ اب مجھے بھی رخصتی کروا ہی لینی چاہیے۔ ۔۔۔
سبھی مہمان رفتہ رفتہ جانے شروع ہو گئے تھے اب وہاں اکا دکا مہمان ہی موجود تھے جب احد حجاب کے پاس آ کر اسکے چہرے پر ہوا کے دوش سے اڑ کر آتے بالوں کو ہٹاتا ہوا بولا۔ ۔۔۔
اس سے پہلے کہ حجاب ہچکچا کر پیچھے ہٹتی احد کا موبائل بج اٹھا۔ ۔۔۔ وہ جھنجھلا کر فون اٹھاٹا باہر چلا گیا۔ ۔۔۔
ارے احد یار وہ۔ ۔۔۔ تبھی عجلت میں احد کو بلاتا شاہان وہاں داخل ہوا تھا۔ ۔۔ پر وہاں احد کی جگہ پر حجاب کو دیکھ کر چپ کر گیا۔ ۔۔ اسے وہاں دیکھ کر حجاب بھی یک دم گھبرا اٹھی تھی۔۔۔۔
کیسی ہیں آپ بھابھی۔ ۔۔۔ شاہان ہونٹوں پر مچلتی شرارتی مسکراہٹ کو روکتا اس کی طرف بڑھا۔ ۔۔۔
حجاب نظریں نیچی جھکائے ماتھے پر شکنوں کا ایک جال بچھائے دوپٹے کو زور سے مٹھی سے بھینچے دو قدم دور ہٹی۔ ۔۔ حجاب کو احد کے فرینڈز میں سے سب سے زیادہ الجھن شاہان ہی سے ہوتی تھی۔ ۔۔۔ وجہ انکی پہلی ملاقات تھی جس کی بدولت وہ اسکے سامنے سے بھی کتراتی تھی۔ آج بھی وہ احد کے بہت اصرار پر یہاں آئی تھی۔ ۔۔
کیا ہو رہا ہے یہاں۔ ۔۔ کیوں میری معصوم سی بیوی کو ڈرایا جا رہا ہے۔ ۔۔۔ تبھی احد اندر آیا تھا اور موبائل کو جیب میں ڈالتا حجاب کے ساتھ کھڑا ہو کر اسنے اپنی بازو حجاب کے کندھے کے گرد پھیلا کر اپنے ساتھ لگاتے ہوئے اسے اپنے حصار میں لے چکا تھا۔ ۔۔۔ حجاب بھی اسکے ساتھ چپک کر اسکی شڑٹ کو دونوں مٹھوں سے زور سے دبوچ چکی تھی۔ ۔۔۔
یار میں تو غلط فہمی دور کرنے آیا تھا۔ ۔۔۔ بھابھی غالباں ہماری پہلی ملاقات کی وجہ سے ڈپریسڈ ہیں۔ ۔۔۔
ایم سوری بھابھی فار ڈیٹ۔ ۔۔
وہ سب ایک مذاق تھا۔ ۔۔ نیو کمرز کے ساتھ ایک شرارت ورنہ میں بالکل بھی ایسا لڑکا نہیں۔ ۔۔ اور پھر آپ اس واقعہ کو پازیٹولی بھی تو لے سکتی ہیں نہ کہ اسی واقعہ کی وجہ سے اس ڈفر کی نظر خاص آپ پر پڑی اور یہ آپکے عشق میں گوڈے گوڈے ڈوب گیا۔ ۔۔۔
شاہان کی بات پر احد قہقہ لگاتے ہوئے اسے گھور کر رہ گیا اور تب سے پہلی بار حجاب بھی ہلکا سا مسکرائی کہ احد کا یہ دوست دراصل اتنا برا تھا نہیں جتنا کہ اسے پہلی ملاقات میں لگا تھا۔ ۔۔۔


جاری ہے۔ ۔۔۔۔