Be Dard Piya By Umme Hania Readelle50176 Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
ہادیہ آج دو دن بعد یونیورسٹی آئی تھی اور جب سے آئی تھی یکے بعد دیگرے کلاسز دے رہی تھی اب اسکا ایک پیریڈ فری تھا تو وہ کچھ ریلیکس تھی۔۔۔۔ تبھی کچھ لڑکیاں اسے منگنی کی مبارکباد دینے آئی تھیں۔۔۔۔ اسنے یونیورسٹی چھٹی اپلائی کرنے کے لئے اپنی ریزن یہ ہی بتائی تھی جس وجہ سے اسٹودینٹس کو اسکی منگنی کا علم تھا۔۔۔ کیا واقعی آپکی منگنی ہو گئ ہے مس ہادیہ۔۔۔۔ ان لڑکیوں کے جاتے ہی شاہان ہادیہ کے پاس آیا تھا اور بغیر کسی سلام دعا کے اصل بات کیطرف آیا تھا۔۔۔۔ اسے ابھی ابھی اس بات کی خبر ہوئی تھی اور وہ خبر سنتے ہی سیدھا ہادیہ کے سر پر پہنچا تھا۔۔۔۔ کیون کیا میری منگنی نہیں ہو سکتی۔۔۔۔ ہادیہ نے اسکے سوال کا جواب دینے کی بجائے الٹا شرارت سے اس سے سوال پوچھا۔۔۔۔ پلیز آپ بتائیے نہ مس ہادیہ۔۔۔۔ ہادیہ کو آج وہ بہت سنجیدہ اور بجھا بجھا لگا نہ کوئی شرارت اور نہ ہی کوئی اسے چیڑانے اور غصہ دلانے کے لئے کوئی الٹی سیدھی حرکت۔۔۔۔۔ بلکہ ایک اور بات جو ہادیہ نے اسکے آتے ہی نوٹ کی وہ اسکا لڑکوں والے حلیے میں ہونا تھا جسکو دیکھ کر ہادیہ کو بہت خوشی ہوئی تھی جیسے وہ کمال۔۔ مہارت سے چھپا گئ تھی۔۔۔۔ پر اب شاہان کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے ہادیہ کو بھی سنجیدہ ہونا پڑا تھا۔۔۔۔ نہ صرف منگنی ہوئی ہے بلکہ اگلے مہینے میری شادی ہے ہادیہ نے اسے اپنے ہاتھ میں پہنی اپنی منگنی کی انگوٹھی دیکھا کر کہا۔۔۔۔ اور یہ بات سن کر شاہان کے اندر تک سناٹے اتر گئے۔۔۔۔ وہ اسوقت خود ہی اپنی فیلنگز سمجھے میں ناکام تھا۔۔۔ ہادیہ اس سے عمر میں اتنی بڑی تھی اسکی ٹیچر تھی اس کے لئے قابل احترام تھی وہ ہادیہ کے بارے میں کوئی غلط سوچ اپنے دماغ میں لانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔۔ پھر اسکی شادی کا سن کر کیوں وہ اندر تک ویران ہو گیا تھا۔۔۔۔ وہ ہادیہ کی مزید کسی بھی بات کا جواب دیئے بغیر واپس چل دیا تھا۔۔۔۔۔ جبکہ پیچھے ہادیہ اسے آوازیں دیتی رہ گئ۔۔۔۔ پر وہ اپنے حواسوں میں ہوتا تو اسکی کسی پکار کا جواب دیتا۔۔۔۔۔۔
حجاب بیٹا کھانا کھا لو۔۔۔۔ دادی نے حجاب کے سامنے بیڈ پر کھانا رکھ کر اسے پیار سے پکارا۔۔۔۔ وہ جو بیڈ کراون سے ٹیک لگائے بازوں دونوں گھٹنوں کے گرد لپیٹے سر گھٹنوں پر ٹکائے بیٹھی تھی نے آواز پر بھرائی آنکھوں سے دادی کی طرف دیکھا اور پھر سے نظریں جھکا لیں۔۔۔۔ آپ نے مجھ سے پوچھے بغیر ہی جمعہ کے دن میرا نکاح رکھ دیا۔۔۔۔۔ ایک آنسو اسکی آنکھ سے لڑھک کر گال پر پھسلا۔۔۔۔ کیا آپ نے ابا اور پھوپھو کی شادی کا انجام نہیں دیکھا۔۔۔۔ آپکو کیوں سمجھ نہیں آتی کہ شادی ہمارے خاندان کو راس نہیں۔۔۔۔ اب وہ باقائدہ رو رہی تھی۔۔۔۔ دادی کا دل اسکی حالت دیکھ کر کٹنے تھا پر وہ اس وقت کسی قسم کی بھی حمدردی کے موڈ میں نہیں تھی۔۔۔۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ انکی زرا سی نرمی اس کو مزید شہہ دے گئ۔۔۔۔۔ دیکھو حجاب یہ سب تمہارے دماغ کا احتراز ہے ان دونوں کے ساتھ جو بھی ہوا وہ ان کی تقدیر تھی ضروری نہیں ہر کسی کے ساتھ ایسا ہی ہو۔۔۔۔ احد اچھا لڑکا ہے وہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے گا۔۔۔۔۔ دادی پر میری شادی کے بعد یہ گھر کیسے چلے گا ابا کی دوائیاں گھر کا راشن گھر کے بلز۔۔۔۔ آپ سمجھ کیوں نہیں رہی دادی۔۔۔۔۔۔ وہ اب غصہ ختم کئے دادی کے دونوں ہاتھ تھامے التجا کر رہی تھی۔۔۔۔۔ اللہ مالک ہے ہمارا حجاب جس نے پیدا کیا وہ زندگی گزارنے کا بھی کوئی نہ کوئی سبب بنا ہی دے دے گا۔۔۔۔ آپ مجھے کوئی بھی دلیل دے لیں مگر آپ مجھے قائل نہیں کر پائیں گئ دادی مجھے کسی صورت یہ شادی نہیں کرنی۔۔۔۔ اور آپ میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتیں۔۔۔۔۔ ہر حربہ استعمال کر لینے کے بعد بھی جب دادی قائل نہ ہوئی تو وہ ہٹ دھرمی سے بولی۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے حجاب میں کون ہوتی ہوں تمہارے ساتھ زبردستی کرنے والی پر ایک بات یاد رکھنا کہ اس جمعہ یا تو تمہارا احد سے نکاح ہو گا یا پھر اس روز اس گھر سے میرا جنازہ اٹھے گا۔۔۔۔۔ دادی۔۔۔۔۔ دادی کی بات پر حجاب نے دہل کر دادی کو دیکھا۔۔۔۔۔ یہ تم پر منحصر ہے حجاب یا تو اس روز نکاح کا سرخ جوڑا پہن لینا نہیں تو پھر سوگ کا جوڑا پہن پر میری میت پر بیٹھ کو ماتم کر لیا۔۔۔۔۔ وہ غصے سے اسے کہتی اسے بے یقینی کی اتھاہ گہرائیوں میں چھوڑے بنا اسے کچھ بولنے کا موقع دیئے کمرے سے نکل گئیں۔۔۔۔۔
پولیس سائرن کی آواز پر مصطفی کو صحیح معنوں میں صورتحال کی گھمبیرتا کا اندازہ ہوا تھا۔۔۔۔ ایک طرف اسکا پورا خاندان۔۔۔۔۔ فارن ڈیلیگیشن۔۔۔ اور پولیس کی بھاری نفری اور دوسری طرف وہ اکیلا۔۔۔۔۔ اور اب اسے اکیلے کو ہی ندا کو پروٹیکٹ کرنا تھا۔۔۔۔ اس نے چوری کی تھی یا نہیں یہ الگ بات تھی۔۔ پر ایک بات طے تھی کہ وہ اسے وہاں سے پولیس کیساتھ کبھی نہ جانے دیتا۔۔۔۔۔ ہر گزرتے لمحے کیساتھ پولیس کے قدموں کی آواز انکی طرف بڑھ رہی تھی پریشر تھا کہ مصطفی پر بڑھتا ہی جا رہا تھا۔۔۔۔ اس کا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا۔۔۔۔ ندا نے مصطفی کے حصار میں اسکی شرٹ کو یوں مضبوطی سے جھکڑا ہوا تھا جیسے اسکی کل کائنات وہی ہو۔۔۔۔ مصطفی نے ایک نظر ندا پر ڈالی اور دوسری کمرے پر۔۔۔۔ وردہ اور بھابی اب کمرے میں نہ تھی۔۔۔ کمرے میں دروازے کے پاس صرف مائیکل اور ہیکل موجود تھے جبکہ جینیفر بھی دروازے کی چوکھٹ سے باہر کھڑی تھی۔۔۔۔ پولیس لمحہ بہ لمحہ انکی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔۔ مصطفی نے تیزی سے ندا کو خود سے جدا کر کے بیڈ کے اوپر دھکیلا اور خود اپنے دونوں ہاتھوں سے مائیکل اور ہیکل دونوں کو تھامے اپنا پورا زور لگا کر کمرے سے باہر کھینچ لایا اور باہر آتے ہی ایک جھٹکے سے ندا کے کمرے کا دروازہ بند کر کے باہر سے لاک کر دیا۔۔۔۔ اپنی جلد بازی پر وہ یہ بھی نہ دیکھ پایا کہ جیسے اس نے بیڈ پر دھکیلا تھا وہ کتنی زور سے منہ کے بل زمین بوس ہوئی تھی۔۔۔۔۔ پولیس اب بالکل انکے پاس آ چکی تھی۔۔۔۔۔
یہ کیا بد تمیزی ہے مسٹر مصطفی۔۔۔۔۔ مائیکل غصے سے مصطفی پر ڈھارا۔۔ سوری۔۔۔۔ مس جینیفر ہمارے بہت اچھے تعلقات رہے ہیں یہاں جو بھی کچھ ابھی ہوا اس کے لئے میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں۔۔۔ پر کیا ہم پولیس کو بھیچ میں لائے بغیر دو منٹ کے لئے بات کرسکتے ہیں۔۔۔ مائیکل کو یک لفظی جواب دے کر مصطفی جینیفر کو التجائیہ انداز میں کہنے لگا۔۔۔۔۔ شیور مسٹر مصطفی۔۔۔۔۔ وہ کچھ دیر تک سوچنے کے بعد مصطفی کو ہاں کرکے پولیس کو تھوڑی دیر انتظار کرنے کو کہہ کر مصطفی کیساتھ ایک کونے میں آ گئ۔۔۔۔ ہیکل اور مائیکل بھی اسکے ساتھ ہی تھے۔۔۔۔
سب سے پہلے تو مس جینیفر میں آپ سے بہت معذرت خواہ ہوں کہ آپکو ہمارے یہاں ہماری مہمان نوازی کے دوران یوں تکلیف پیش آئی۔۔۔۔ پر ہمارا اور آپکا تعلق بہت پرانا ہے۔۔۔۔ اور اسی بات سے حوصلہ پکڑ کر میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ آپ مجھے پلیز ایک گھنٹے کو ٹائم دے دیں اس ایک گھنٹے میں آپکا ایئررنگ آپکے پاس ہو گا۔۔۔۔۔ اگر میں ایسا نہ کر پایا تو جیسا آپ چاہیں گئ ویسا میں خود آپکے ساتھ تعاون تعاون کروں گا۔۔۔۔ ٹھیک ہے مسٹر مصطفی ایک گھنٹہ مطلب صرف ایک گھنٹا ۔۔۔۔۔ جینیفر کچھ ہیل و حجت کے بعد مانتی ہوئی اسے وارن کرتی واپس پلٹ گی۔۔۔۔۔ جبکہ مصطفی اس نے اپنا کب کا رکا ہوا سانس بحال کیا۔۔۔۔ ایک گھنٹہ بہت تھا اس کے لئے سب کچھ فکس کرنے کے لئے۔۔۔۔ اس نے اپنے ہاتھ سے اپنے چہرے پر آیا پسینہ صاف کیا۔۔۔۔۔۔
اس ایک گھنٹے میں ایئررنگ ملنا مشکل تھا اور مصطفی اسے ڈھونڈنے میں ایک گھنٹے کی مہلت کو بھی ختم نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔۔ اور ندا کی حالت ایسی نہ تھی کہ وہ اس سے ابھی اس ایئررنگ کے بارے میں کوئی بات کرتا۔۔۔۔ اس نے کچھ سوچتے ہوئے اس ایئر رنگ کیساتھ کا دوسرا ایئررنگ بنوانے کا سوچا۔۔۔۔ گو کہ ایک گھنٹے میں ایسا ہونا ایک مشکل امر تھا لیکن اسکے پاس اس کے علاوہ دوسرا کوئی آپشن بھی نہ تھا۔۔۔۔۔ اس لیے اللہ کا نام لے کر وہ گھر سے نکلا لیکن آنے سے پہلے وہ جینیفر سے کاپی کروانے کے لیے اسکا پہلا ایئررنگ اپنے ساتھ لانا نہ بھولا تھا۔۔۔۔ سب سے پہلے وہ اپنے خاندانی جیولر کے پاس گیا تھا اس نے ایئررنگ پکڑ کر اچھے سے اسکا معائنہ کیا تھا۔۔۔۔ مصطفی بیٹا یہ بہت قیمتی ہیروں سے جڑا ہوا ہے۔۔۔۔ میں ہوبہو اس کے جیسا بنا تو دوں پر اس کے لئے مجھے ایک ہفتہ درکار ہے۔۔۔۔ افف چچا ایک ہفتہ نہیں میرے پاس صرف ایک گھنٹہ ہے۔۔۔۔۔ مصطفی نے پریشانی سے اپنی پیشانی بری طرح مسلی بیٹا پھر میں آپ سے معذرت خواہ ہوں کیونکہ اس میں جو ہیرے استعمال ہوئے ہیں وہ ابھی میرے پاس نہیں مجھے انہیں آرڈر پر منگوانا پڑے گا۔۔۔۔۔ مصطفی بہت مایوسی کے علالم میں وہاں سے نکلا تھا اور اس کے بعد اسنے یکے بعد دیگرے کئ جیولری شاپس دیکھ لی پر کہیں بھی اسکی بات نہ بنی۔۔۔ یا اللہ میری مدد کر ۔۔۔۔ آخری جیولری شاپ پر جاتے ہوئے وہ کئ طرح کے وسوسوں میں گرا ہوا تھا۔۔۔۔ حسب سابق آخری دکان سے بھی اسے پہلی دوکان والا ہی جواب موصول ہوا تھا۔۔۔۔ وہ کتنی دیر تک خالی خالی نظروں سے جیولر اور سیل مینز کو دیکھتا رہا۔۔۔۔۔ اسکا ذہن ماعوف ہو رہا تھا۔۔۔ ایک گھنٹہ ختم ہونے میں محض کچھ ہی منٹ باقی تھے اور وہ جانتا تھا کہ گورے وقت کے کتنے پابند ہیں وقت ختم ہونے کے بعد وہاں اس گھر میں ندا کیساتھ کیا ہوگا وہ یہ بات سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔
سر۔۔۔۔ وہ شکستہ قدم اٹھاتا ہوا شاپ سے باہر نکلنے کو تھا جب ایک سیل مین نے اسے آواز دے کر روکا۔۔۔۔ جی ۔۔۔۔ سر ہم یوں کسی کو اپنے کسٹمرز کی انفارمیشن دیتے تو نہیں پر۔۔۔۔ وہ سیل مین بار بار اپنے بونٹوں کو زبان پھیر کر تر کرتا ادھر ادھر دیکھ کر مصطفی کو رازدرانہ انداز میں کچھ بتا رہا تھا۔۔۔ پر مجھے لگا کہ آپکو اسکی زیادہ ضرورت ہے۔۔۔۔ یہ ایئر رنگز آپکے والے ایئر رنگز سے بہت ملتے ہیں۔۔۔ اس نے مصطفی کو ایئر رنگز دیکھائے جس میں اور مصطفی کے ایئررنگ میں انیس بیس کا ہی فرق تھا۔۔۔۔ یہ ان میڈم کے ہے اس نے ایک کاوئنٹر کی طرف اشارہ کیا جہاں پر ایک طرحدار لڑکی شیشے کے پار کچھ اور جیولری دیکھ رہی تھی۔۔۔ انہوں نے ان ایئررنگز کو آرڈر پر بنوایا ہے اور آج اسکی ڈیلیوری ہے اگر آپ ان کو قائل کر لیتے ہیں تو میں اپکو ان ائیررنگز میں معمولی ردوبدل کے بعد آپکے ڈیزان کا ایئررنگ بنا دوں گا۔۔۔ اس سیل مین کی بات سنتے ہی مصطفی اس لڑکی کیطرف بڑھا تھا اور تقریباً دس منٹ کی محنت کے بعد مصطفی اس لڑکی کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔۔۔۔ آگے کے مرحلے آسان تھے۔۔۔۔ اور اب وہ اپنا مطلوبہ ایئررنگ لے کر اپنے مطلوبہ وقت سے کچھ دیر پہلے ہی گھر کی طرف روان روانہ تھا اسے بار بار ندا کا خیال آ رہا تھا جیسے اسقدر نازک حالت میں وہ کمرے میں چھوڑ آیا تھا۔۔۔۔ دروازہ باہر سے لاک تھا اور چابی مصطفی کے پاس تھی نہ تو وہ باہر آ سکتی تھی اور نہ ہی کوئی باہر سے اندر جا سکتا تھا۔۔۔۔ اس چیز کا اطمینان تھا اسے۔۔۔۔ راستے میں سے اس نے ندا کی چوٹوں کے پیش نظر دوائیاں خریدی تھیں اور اب وہ سنجیدگی سے ندا کے بارے میں کچھ سوچ رہا تھا۔۔۔ اب وہ ندا کے لئے کسی اور رہائش گاہ کے بارے میں سوچ رہا تھا کیونکہ آج کے واقعہ کے بعد وہ اسے مزید حویلی میں رکھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔۔
گھر آ کر اسنے جینیفر کو اسکے دونوں ایئررنگ دیئے اور ایک بار پھر سے معذرت کی وردہ ہونک بنی کبھی مصطفی کو تو کبھی اپنے ہاتھ میں موجود اپنے کلچ کو دیکھتی جس میں اس وقت جینیفر کا دوسرا ایئررنگ موجود تھا۔۔۔۔
مصطفی تم۔۔۔۔ مصطفی اپنے کمرے میں جا رہا تھا جب وردہ کی آواز پر پلٹا اور ہاتھ اٹھا کر اسے کچھ بھی بولنے سے روکا۔۔۔۔ سب کچھ اپنی جگہ وردہ۔۔۔۔ پر تم نے آج جو ندا کیساتھ کیا ہے نہ اس کے لئے میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔۔۔۔ تم ایک پڑھی لکھی گوار لڑکی ہو۔۔۔۔ مصطفی تنفر سے کہتا آگے بڑھ گیا۔۔۔۔ تم جانتے ہو مصطفی میں کیا کر سکتی ہوں۔۔۔ وہ شعلے اڑاتی آنکھوں سے غضبناک ہو کر دھاڑی تھی۔۔۔۔ اسکا ارادہ نجمہ کی طرف تھا۔۔۔۔۔ وہی وٹہ سٹہ کی رشتے داریاں۔۔۔۔۔ میں منتظر رہوں گا تمہارا کیا دیکھنے کے لئے۔۔۔۔ مصطفی اپنی بات کہہ کر اسے غصے میں کھولتا چھوڑ کر آگے بڑھ گیا۔۔۔۔۔
( جاری ہے)
